Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 31

سنایا خان

آہل گھر آیا تو ماہی روم میں موجود نہیں تھی اس نے اپنا کوٹ اتار کر پوری طاقت سے بیڈ پر پھینکا وہ صبح بھی کتنی کوشش کرتا رہا اس سے بات کرنے کی لیکن وہ اس سے دور بھاگتی رہی اس کے افس جانے تک روم میں نہیں آئی اور جب اس نے ملازم کے زریعےخود ہوکر بلوایا تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ دادی کے ساتھ ہے وہ کافی دیر انتظار کرتا رہا پھر افس چلا گیا اور اب جب وہ واپس آیا تو بھی وہ روم میں نہیں تھی اس لیے اسے غصہ اگیا وہ جلدی جلدی سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تو نیچے سب ہی ساتھ میں بیٹھے تھے مہیر واپس جانے والا تھا اس لیے سب اس کے جانے کی تیاریاں کررہے تھے

ماہی…

اس نے ماہی مخاطب کیا تو سب نے ہی آہل کی جانب دیکھا

مجھے تم سے کچھ کام ہے میرے ساتھ چلو

وہ بنا رکے بولا

ہم مہیر جی کا سامان پیک کرنے میں ان کی ہیلپ کررہے ہیں انہیں جانا ہے اس لیے تھوڑی دیر میں آتے ہیں
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی آہل نے اسے غصے سے گھورا اور اس کا ہاتھ کھینچتے ہوۓ اوپر لے گیا سب ہی حیرانی سے اسے دیکھنے لگی جب کہ وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی اہل نے روم میں لاکر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا

کیا تماشہ لگا رکھا ہے صبح سے تم سے بات کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن تم… تمہارے لیے یہ سب کام مجھ سے بھی زیادہ ضروری ہے کیا… میری کوئی امپورٹینس ہی نہیں

وہ سختی سے بولا ماہی نے نا اس کی جانب دیکھا نا اس کی بات کا جواب دیا آہل کو اپنی سختی کا اندازہ ہوا تو اس نے ایک گہری سانس لےکر اپنا غصہ کنٹرول کیا اور آگے بڑھ کر اس کے قریب ہوتے ہوۓ اس کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے

کیا ہوا… کیوں اگنور کررہی ہو مجھے….. کل سے دیکھ رہا ہوں بہت بدلی ہوئی سی لگ رہی ہو کچھ ہوا ہے کیا….

اس نے سنجیدگی سے پوچھا ماہی نے سر نفی میں ہلا دیا اور اس کے ہاتھ ہٹاکر اس سے الگ ہوئی پیچھے ہوکر رخ دوسری جانب کرلیا آہل نے اس کی پشت سے لگتے ہوۓ اس کے شولڈر پر تھوڑی ٹکاتے ہوۓ اس کے گرد اپنے ہاتھ باندھ دیے

تو پھر کیوں پریشان ہو…… اتنی چپ چپ سی لگ رہی ہو اتنی خاموش تو تم اپنے شادی والے دن بھی نہیں تھی……

وہ شرارت سے بولا ماہی نےاب بھی کوئی جواب نہیں دیا آہل نے اس کا رخ. اپنی جانب کیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا

کچھ چھپا رہی ہو مجھ سے…. بتاؤ کیوں پریشان ہو

اہل جی ہم سچ کہہ رہے ہیں کوئی پریشانی نہیں ہے بس کچھ وقت کی بات ہے پھر سب ٹھیک ہوجاۓگا آپ کا ہر مسئلہ حل ہوجائگا

وہ پرسوچ لہجے میں بولی

میرا…. میری اور تمہاری زندگی الگ تھوڑے ہی ہے ہم ایک ہے ہماری زندگی ایک ہے اور جب تک تم ساتھ ہو تب تک کوئی بھی پرابلم معنی نہیں رکھتی میرے لیے چاہے کتنی بھی بڑی ہو…اور تمہاری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہورہی ہے روئی ہو تم

وہ غور سے اسے جانچتے ہوے بولا

نہیں بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں شاید اسلیے

وہ نظریں چرانے لگی

تب تو تمہیں آرام کرنا چاہیے چلو لیٹ جاؤ

نہیں ابھی ہمیں کام ہے ہم بعد میں……

بلکل نہیں….

اس نے ماہی کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی اور جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور بیڈ پر لٹادیا

اب تم یہاں سے نہیں اٹھوگی سمجھ گئی

وہ وارنگ دیتے ہوے بولا ماہی نے خاموشی میں ہی عافیت جانی


آہل…..

وہ. اوپر جانے لگا تو حارث صاحب کی آواز پر اس کے قدم رک گئے لیکن وہ مڑا نہیں

بیٹا میں اپنی غلطیوں پر بہت شرمندہ ہو میں چاہ کر بھی اس کا بھگتان نہیں کرسکتا لیکن تم مجھے معاف کرسکتے ہو یہ تمہارے اختیار میں ہے

ہم سب کو چھوڑ کر مت جاؤ بیٹا اپنے باپ کو اتنی سخت سزا مت دو ..

سیڑھیاں چھڑھنے کی کوشش میں ان پیر لڑکھڑاگیا

ڈیڈ…….

آہل نے جلدی سے انہیں تھام لیا

میں پچھتاوے کی آگ میں جل رہا ہوں اب اگر تم مجھے چھوڑ کر چلے گے تو شاید زندہ نہ رہ پاؤ زیادہ دن
وہ سنبھلتے ہوۓ بولے

نہیں ڈیڈ آپ کو کچھ نہیں ہوگا میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا

وہ انہیں تسلی دیتے ہوۓ بولا

میں نے بہت گناہ کیے ہے اس کے لیے مجھے جتنی سزا ملے کم ہے لیکن…..

وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے کھڑے تھے آہل نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے

نو ڈیڈ… پلیز….

وہ جلدی سے ان کے گلے لگ گیا


آہل نیند سے جاگا تو ماہی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی اپنے گیلے بالوں کو برش کرتے ہوۓ آہل بہت سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا آئینے میں…….اسے جانچنے کی کوشش کررہا تھا

کیا ہوا آپ ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں

وہ اس کی نظروں سے الجھ کر بولی

آہل ایک گہری سانس لیتے ہوۓ دوسری جانب دیکھنے لگا

کچھ نہیں…..

اس نے بے نیازی سے کہا ماہی اسے حیرت سے دیکھنے لگی

پتہ نہیں کیوں لیکن کل سے تم مجھے بہت بدلی ہوئی سی لگ رہی ہو اتنی خاموش اتنی سیریس میں نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا کچھ تو چل رہا ہے تمہارے دماغ میں

وہ اسکی حیرت پر سنجیدگی سے بولا

ایسی کوئی بات نہیں ہے آہل جی

وہ نظر پھیر کر بولی

پہلے جب مجھے برا لگتا تھا تب ہر وقت باتیں کرتی رہتی تھی اور اب جب میں تمہاری باتیں سننا چاہتا ہوں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں تو خاموش ہوگئی ہو

ماہی اسکی خفگی بھرے لہجے پر اسے دیکھنے لگی اور اٹھ کر اس کے پاس ائی

ہم….. آہل جی ہم جو بھی کرینگے وہ آپ کو تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں کرینگے آپ کی خوشی کے لیے کرینگے آپ کے اچھے کے لیے کرینگے آپ کبھی ہمیں غلط مت سمجھیے گا ہم سے کبھی نفرت مت کیجیے گا

وہ کہتے کہتے ایکدم سے رودی آہل پریشان ہوگیا

ارے….. رو کیوں رہی ہو.. میں نے ایسا تو نہیں کہا….

آہل نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے اس کے انسو صاف کیے اور اسے گلے لگایا

ہمیں معاف کردیجیے آہل جی…

وہ اس پر مضبوط گرفت کیے بولی

چپ… کیسی باتیں کررہی ہو تم……میں تمہیں کیوں غلط سمجھوں گا

آہل نے اسےخود سے الگ کیا
میری زندگی میں میری خوش قسمتی بن کر ائئ ہو تم جب سے تم آئی ہو سب پرابلمس ختم ہو گئی رشتے اور مضبوط ہوگیے میری سوچ بدل گئی میرا دل بدل گیا میں خود بدل گیا تم نے میری زندگی بدل دی …..بے رنگ زندگی کو رنگوں سے بھر دیا اب کوئی کمی نہیں ہے میری لائف میں سب کچھ مکمل ہوچکا ہے ہر رشتہ مکمل ہوچکا ہے سب تمہاری وجہ سے میں تم.سے کبھی نفرت کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا

وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا اور دھیرے سے لبوں سے لگالیا ماہی اسے دیکھنے لگی
اس کی. کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آہل کی باتوں پر یقین کرے یا اپنے انکھوں دیکھے پر کیا کرے کیا نا کرے وہ سوچ سوچ کر پریشان ہوگئی تھی

آہل نے اسے گلے سے لگا کر سختی سے خود میں بھینچ لیا


وہ آج سب کے ساتھ بیٹھا ناشتہ کررہا تھا اس کی خوشی اس کے چہرے پر نظر آرہی تھی جہاں ہمیشہ سنجیدگی ہوتی تھی اب وہ نہیں تھی سب ہی اسے دیکھ کر بہت خوش تھے اور جانتے تھے اس کی وجہ ماہی ہی ہے وہ بار بار مسکرا کر ماہی کو دیکھ رہا تھا ثریا بیگم نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری

آہل….

تنوی کی. آواز پر سب ہی اس جانب متوجہ ہوۓ

تنوی… کم….

اس نے مسکرا کر کہا تو وہ وہاں آئی ماہی آہل کو دیکھنے لگی

بیٹھو بیٹا ناشتہ کرو….

نہیں انٹی میں کرچکی ہوں آہل سے کچھ کام تھا…..

اٹس اوکے یار بیٹھ جاؤ… میں فرسٹ ٹائم سب کے ساتھ بیٹھ کر بریک فاسٹ کررہا ہوں تو تمہارا ہونا تو ضروری ہے نا

اس کی بات پر تنوی انکار نہیں کرپائی

آج بہت خوش لگ رہے ہو کیا بات ہت

جس کے پاس تم ہو اسے خوش ہونے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہے

اس نے ماہی کی جانب دیکھ کر کہا لیکن ماہی کا سر نیچے تھا اس نے دیکھا نہیں پر اسے بہت اندر تک لگی یہ بات سب ہنستے مسکراتے باتیں کرنے لگے صرف ماہی ہی تھی جو ہمیشہ سے زیادہ خاموش تھی کچھ دیر وہ وہاں بیٹھی رہی پھر اٹھ کر کچن میں آگئی وہ سب کے سامنے رو نہیں سکتی تھی کسی کی اہٹ محسوس کی تو اس نے جان بوجھ کر خود کو مصروف دکھاتے ہوۓ فرج سے پانی نکال. کر گلاس میں ڈالنے لگی آہل نے پیچھے سے آکر اسے اپنی گرفت میں لیا

میرے پاس تمہارے لیے ایک سرپرائیز ہے

وہ اسکے کان کے قریب ہوکر بولا وہ مڑکر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی

روم میں ہے…تم دیکھ لینا…….میں چلتا ہوں کچھ کام ہے…….

وہ گھڑی دیکھتے ہوۓ بولا اور اس کے ہونٹوں ہے ہلکے سے کس کرکے جانے کے پلٹ گیا

آہل جی……..

ماہی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا اور اسکے سینے سے لگ گئی وہ اسکے اطراف بازو باندھے اسے خود سے لگاے رہا

اب اگر ایسے کروگی تو کیا میں جا پاؤنگا

کافی دیر یونہی رہی تو آہل کے کہنے پر اس سے الگ ہوئی

ڈونٹ وری میں شام کو جلدی سے واپس اؤنگا اوکے

وہ اس کے ہاتھ پر پیار کرتے ہوۓ بولا اور جانے لگا ماہی کے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ چھؤٹ گیا وہ اسے دیکھتی رہی اور پھر اپنے خالی ہاتھ کو