Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 14
سنایا خان

صبح ہونے کو تھی اجالا پھیلنا شروع ہوگیا تھا آہل مسلسل اس کی ہتھیلیاں رگڑتا رہا وہ ارام سے اس کے سینے پر سر رکھےسوئی تھی کپڑے تو خود بخود سوکھ چکے تھے لیکن بخار سے بدن تپ رہا تھا آہل کو بھی اب ٹینشن ہونے لگی تھی اس نے دور سے ہی کوئی گاڑی آتی دیکھی تو ماہی کا سر سیٹ پر رکھتے ہوے اسے لٹایا اور خود باہر آکر گاڑی کو روکا سامنے سے شرٹ لیکر پہنتےہوے وہ گاڑی کے پاس آیا.
کیا ہوا بھائی جان کیا مسئلہ ہے

میری گاڑی خراب ہوگئی ہے فون میں نیٹورک نہیں ہے کین آے میک آ کال

جی جی بلکل یہ لیجیے بلکہ آئے میں آپ کو گھر تک چھوڑ دیتا ہوں
اس نے اپنا موبائل دیتے ہوے کہا

تھینکس بٹ نو نیڈ آۓ ول مینیج

اہل نے اپنے فون سے دیکھ کر ڈرائیور کا نمبر ڈایل کرتے ہوے کہا

تھوڑی ہی دیر میں ڈرائیور دوسری گاڑی لے آیا آہل نے ماہی کو دوپٹہ اچھی طرح سے اوڑھاکر اسے اٹھاکر گاڑی میں بٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر اسے سہارا دیا



اس نے ڈاکٹر کو فون کرکے گھر آنے کا کہا گاڑی گھر کے سامنے پہنچی تو جلدی سے اتر کر ماہی کو باہوں میں اٹھاے اندر لے آیا دادی اور ثریا بیگم وہیں موجود تھے لیکن وہ بنا رکے اسے کمرے میں لے آیا اور بیڈ پر لٹا کر اسے اچھے سے بلینکٹ اوڑھایا

ثریا بیگم بھی پریشان سی اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں آئی
کیا ہوا آہل ماہی کو کہاں تھے تم لوگ اور فون کیوں بند تھا
.ریلیکس مام………..

انھیں پریشان دیکھ کر بولا اور انھیں گاڑی خراب ہونے والی بات بتایے لیکن ماہی کے بارے میں بس اتنا ہی کہا کہ اسے ٹھنڈ لگ گئی ہے

اسے ہاسپٹل لے چلو آہل
میں نے ڈاکٹر کو یہی بلوایا ہے آتے ہی ہونگے

کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے آکر اس کا معائنہ کیا اور اسے انجکشن اور دوائی کے ساتھ آہل کو کچھ ہدایات دیتے ہوے چلا گیا


رات ہو چکی تھی لیکن وہ اسی طرح سوئی تھی آہل نے اسے کسی طرح جوس پلا کر دوائی دے دی تھی جس کے بعد اس کا بخار کافی کم ہوگیا تھا اس نے ایک دو دفعہ اٹھنے کی کوشش کی تھی لیکن پلکیں بہت بھاری محسوس ہو رہی تھی ثریا بیگم اور رائمہ اب تک اس کے پاس ہی تھے لیکن رات ہوئی تو آہل کے آرام کا خیال کرتے ہوے دونوں نیچے آگے آہل نے اسے سہارا دے کر بٹھاتے ہوے زبردستی تھوڑا سا دودھ پلا یا اور رات کی دوائی دے کر واپس لٹا دیا اور خود آکر صوفے پر لیٹ گیا وہ بھی کل رات سے نہیں سو پایا تھا اس لیے سر درد سا کرنے لگا تھا اور اب صوفے پر بھی اسے سونے میں بہت مشکل ہو رہی تھی بار بار کروٹ بدلتا کبھی پیر سمیٹے کبھی لمبے کیے سونے کی کوشش کرتا لیکن عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی تھی پھر کچھ سوچ کر وہ اٹھا اور آکر بیڈ پر ایک سائڈ میں لیٹ گیا ماہی سے دوری پر اور آنکھیں بند کردی

اسے اپنی کمر پر کچھ بھاری بھاری سا محسوس ہوا تو اس نے آنکھیں کھولیں انکھیں کھولتے ہی اس کے سامنے آہل کا چہرہ تھا اور وہ اس کے بہت قریب تھا اس کا ہاتھ ماہی کے اوپر تھا ماہی کو کچھ سمجھ نہیں آیا اس کے منہ سے ایکدم سے چینخ نکل گئی آہل گھبرا کر اٹھا اور اس کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی آواز بند کی

آر یو میڈ…. چلا کیوں رہی ہو…..
آہل نے غصے سے کہا ماہی اسے پریشان نظروں سے دیکھنےلگی آہل نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور پیچھے ہوا وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور ایک گہری سانس لی

ہم یہاں کیسے…. اور …….اور….. اپ کیا……… کیا کر رہے تھے

اس نے بلینکٹ کو سینے تک کھینچتے ہوے کہا

جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے الرائٹ
آہل نے اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر اس کے اوپر سے بلینکٹ کھنچتے ہوے غصے سے کہا

تم ہوش میں نہیں تھی اس لیے میں نے تمہیں یہاں سلادیا تھا

ماہی بے یقین نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس پر آہل تپ گیا

ایسے کیا دیکھ رہی ہو تم مجھے

اس نے غصے کہا ماہی نے نطریں پھیر لیں اہل نے اس کی تھوڈی پکڑ کر چہرہ اپنی جانب کیا

کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں…
اس نے سوال بھی سختی سے کیا

کچھ نہیں ……
اس نے آہل کا ہاتھ ہٹا کر کہا

دھیٹس گڈ کیونکہ اگر کچھ بھی فضول سوچا نا میرے بارے میں تو جان لے لوں گا میں اتنا گرا ہوا نہیں ہو کہ کسی لڑکی کی بے ہوشی کا فائدہ اٹھاؤں
وہ غصے سے بولا ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا آہل بیڈ سے نیچے اترا

کیسا فیل کر رہی ہو اب
وہ لہجہ نرم کرتے ہوے بولا ماہی نے اسے حیرت زدہ نظروں سے دیکھا

تم کل رات سے بے ہوش تھی اس لیے پوچھ رہا ہوں

ماہی کا یوں دیکھنا آہل کو برا لگا اس لیے دوبارہ سختی سے بولا

آپ کی مہربانی سے

ماہی نے بنا اس کی جانب دیکھے کہا

غلطی تمہاری تھی….
اہل نے غصہ کنٹرول کرتے ہوے کہا

واقعی غلطی ہماری طرح تھی ہم بھول گئے تھے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے

تم کیا چاہتی ہو میں اب تمہیں اس روم سے باہر کردوں

کر سکتے ہیں اپ ہم آپ کے غلام ہے آپ نے ہمیں خریدا ہے جو چاہے کر سکتے ہیں جو چاہے کہہ سکتے ہیں جتنا چاہے ہمارا دل دکھا سکتے ہیں جتنا چاہے ہمیں زلیل کرسکتے ہیں

ماہی نے سنجیدگی سے کہا اہل نے دوسری جانب رخ کرکے سر پر یاتھ پھیرا چند لمحے یوں ہی کھڑا رہا پھر فون کان سے لگا کر ملازم سے کھانا منگوایا

تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا اس لیے میں نے تمہارے لیے کھانا منگوایا ہے فریش ہوکر اجاؤ تب تک
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولا

ہمارا پیٹ تو اپکی باتوں سے ہی بھر گیا تھا اب مزید گنجائش نہیں ہے

ماہی بیڈ سے اترتے ہوے بولی اور واش روم میں جانے لگی آہل نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا

ہر بات کا الٹا جواب دینا بند کرو میں تمہاری طبیعت کا خیال کر رہا ہوں اس لیے چپ ہوں اور بہتر ہے کہ تم بھی چپ رہو

ماہی بس اسے دیکھنے لگی اہل نے اسے آزاد کیا تو واش روم میں چلی گئی
وہ کپڑے چینج کرکے فریش ہوے واپس آئی تو ملازم کھانے کی ٹرالی لے کر اچکا تھا

کھاؤ کھانا………
اہل بیڈ پر بیٹھا موبائل میں لگا تھا اسے آتے دیکھ کر بولا

ہمیں بھوک نہیں ہے

جتنا کھا سکتی ہو اتنا کھا لو

کچھ بھی بھوک نہیں ہے

وہ بے نیازی سے بولی آہل بیڈ سے اتر کر اس کے پاس آیا

اگر ابھی کے ابھی تم نے کھانا شروع نہیں کیا تو میں تمہیں خود سے کھلاؤنگا
وہ وارننگ دیتے ہوے بولا ماہی بنا کچھ بولے بیٹھ کر کھانا کھانے لگی
دھیٹس گڈ……
اہل اسے دیکھتے ہوے

اب تو ہم کھا رہے ہیں پھر کیوں آپ ہمیں گھور رہے ہیں
وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا تو زچ ہوکر بولی

کیونکہ یہ آنکھیں میری ہے اور میں جو چاہے کر سکتا ہوں
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوے بولا
کھانے سے فارغ ہوکر وہ اٹھ کر جانے لگی تو آہل سامنے آگیا
دوائی……..

نہیں ہمیں دوائی کی ضرورت نہیں ہم ٹھیک ہی
وہ بے نیازی سے کہہ کر باہر جانے لگی
اہل نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا اور اس کے دونوں گالوں کو دباکر اس کے منہ میں ٹیبلیٹ ڈالی اور ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے لبوں سے لگایا

اہل کی اس حرکت پر اس نے زور سے اہل کا ہاتھ جھٹک کر اسے دور کیا اور غصے سے دیکھنے لگی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تو وہ سلایڈ ڈور کھولنے لگی

اب کہاں جا رہی ہوں
آہل نے پھر ٹوکا

سونے….

یہی سوجاؤ……
وہ سر سے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوے بولا

نہیں ہم اپنی جگہ پر سو جایگے……

کبھی کوئی بات بنا ارگیومنٹس کے بھی مان لیا کرو چپ چاپ سو جاؤ الریڈی کل سے اپنی خدمت کروارہی ہو وہاں سو کر اور بیمار ہوگئی تو میری ٹینشن بڑھ جایگی

ہم نے آپ سے نہیں کہا تھا ہماری خدمت کریں اور نا آپ کو ہماری فکر کرنے کی ضرورت ہے
اسے آہل کا ایسا کہنا بہت برا لگا

میں نے کہا نا تم یہاں سوؤگی
آہل اس کی کلائی پکڑ کر بولا ماہی نے غصے سے اپنی کلائی چھڑوائی

ہم آپ کے ساتھ نہیں سونا چاہتے بس
اس نے اپ کے پر زور دیتے ہوے کہا

سونا پڑے گا……
اس نے بھی اٹل لہجے میں کہا اور ماہی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے آیا اور گرانے کے انداز میں بیڈ پر بِٹھایا وہ ہار مان کر خاموش ہوگئی پھر کچھ سوچ کر بیڈ پر رکھے کشن کو لائن میں رکھتے ہوے دیوار سی بنا دی اپنے اور آہل کے درمیان اور وہ بیڈ کے دوسری سائڈ پر بیٹھتے ہوے بہت سنجیدگی سے اس کی سرگرمیاں دیکھنے لگا

اب تو ہم یہاں سو رہے ہیں نا تو کیوں اپ ہمیں گھور رہے ہیں اب یہ مت کہیے گا کہ آپ کی آنکھیں ہے

وہ آہل کے مسلسل دیکھنےپر بولی

تم لڑکیاں اتنی بیوقوف ہوتی ہو
تمہیں کیا لگتا ہے یہ چار کشن کراس کرنا مشکل ہے اگر کسی کے ارادےغلط ہو تو

ہیں صرف یہ لگتا ہے کہ ہمیں سو جانا چاہیے ورنہ اج آپ ہمیں پاگل بنا کر ہی چھوڑیں گے

اس نے رخ دوسری جانب کرتے ہوے کہا نا چاہتے ہوے بھی اہل کے چہرے پر ایک خوبصورت سی سمائل اگئی وہ لیٹ گیا اور سائڈ لیمپ بند جرکے سونے لگا ماہی نے چند منٹ کی خاموشی کے بعد رخ اس کی جانب کیا اور مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگی

مجھے گھورنا بند کرو اور چپ چاپ سو جاؤ
آہل نے بنا آنکھیں کھولے ہی جواب دیا تو ماہی نے اپنی چوری پکڑی جانے پر برق رفتاری سے آنکھیں میچ لی تب آہل نے اسے دیکھا اور اس کی اس حرکت پر محظوظ ہوکر مسکرایا پھر سنجیدگی سے بس اسے دیکھنے لگا ماہی کے سامنے کے طرف کے بال چھوٹے تھے جو بار بار اس کے چہرے پر ارہے تھے

آہل نے بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر ان بالوں کو پیچھے کیا ماہی سو چکی تھی اسے کچھ محسوس نہیں ہوا لیکن آہل بہت دیر تک بس اسے دیکھتا رہا