No Download Link
Rate this Novel
Episode 41
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 41
سنایا خان
آہل اور سہان کی نزدیکیاں ماہی کے لیے سب سے بڑی ٹینشن کی وجہ تھی لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اس کا کچھ بھی کہنا آہل کے لیے معنی نہیں رکھتا تھا اور روشنی فی الحال کچھ دن کے لیے وہیں رکنے والی تھی ماہی اسے بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی وہ بس ہر طرح سے اصل بات کو چھپانے کی کوشش کرتی تھی آہل بار بار اپنی باتوں اور نظروں سے اس سے اپنی نفرت کا اظہار کرتا تھا اسے دکھانے کی کوشش کرتا تھا کہ وہ اس سے کتنا لا پرواہ ہے کہ ماہی کے بنا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ایسا کرکے وہ اسے غلطی کا احساس دلانے چاہتا تھا پچھتانے پر. مجبور کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے اس عمل سے ماہی پر الٹا اثر پڑا تھا است پچھتاوا نہیں بلکہ یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اس نے جو کیا سہی کیا آہل ہر روز ہی سہان سے ملنے آتا تھا اور کافی وقت اس کے ساتھ گزارتا تھا کبھی خود اسے کہیں باہر لے جاتا بنا ماہی کی پرواہ کیے دونوں کو ایک دوسرے سے کافی اٹیچمینٹ ہوگئی تھی سہان بھی اس کے ساتھ بہت خوش ہوتا تھا
اس وقت بھی وہ آہل کے ساتھ ہی تھا اور اس کے ساتھ گیم کھیلتے ہوۓ خوبصورتی سے ہنس رہا تھا ماہی کچن سے ہی اسے دیکھ رہی تھی اس نے اپنے بیٹے کو اتنا خوش پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا
ہمیں تو لگا تھا ہم اس کی ہر ضرورت کو پورا کررہے ہیں لیکن ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہم ……. سہان کو اتنا خوش ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا لیکن یہ خوشیاں مستقل نہیں ہے ایک نا ایک دن تو آہل جی واپس چلے جائنگے تب کیا ہوگا ہم کیسے سمجھاۓ گے اسے
وہ بے دھیانی میں کام کرتے ہوۓ ان دونوم کو ہی دیکھ رہی تھی اسلیے بنا گلوز پہنے ہی اوون سے برتن نکالنے لگی جس کی وجہ سے اس کا ہاتھ جھلس گیا اس کہ منہ سے زور سے چینخ نکلی تو آہل اور سہان دونوں ہی اس کی طرف متوجہ ہوۓ آہل جلدی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا لیکن ماہی نے فورا اپنا ہاتھ کھینچ لیا
ہاتھ دکھاؤ… کھا نہیں جاؤنگا تمہیں
وہ اس کی حرکت پر غصے سے بولا ماہی نے اپنا کا ہاتھ آگے کردیا اور اس سے نظریں پھیرے کھڑی رہی آہل نے اس کا ہاتھ نل کے نیچے لے کر پانی ڈالا ماہی اسے دیکھنے لگی اور پھر سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا
کیا پرابلم ہے تمہیں مجھ سے…… جو میرے چھونے سے بھی نفرت ہے تمہیں
اس نے غصے سے کہا
.بے وجہ نہیں ہوسکتی یہ نفرت اگر کرتی ہو تو اس کی وجہ بھی بتاؤ
اس کی خاموشی پر وہ مزید سختی سے بولا لیکن ماہی نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا تو آہل نے اس کے دونوں بازوں کو گرفت میں لیتے ہوۓ اس کا رخ اپنی جانب کیا
کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے….. بولو کیوں
کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیے….
وہ اس کے ہاتھ ہٹا کر بولی
تمہاری خاموشی بہت بری لگتی ہے مجھے ویسے تو اتنی باتیں کرتی ہو کہ انسان کو غصہ اجاۓ لیکن جو بات کرنی چاہیے وہ نہیں کرتی تم پہلے بھی ایسا کیا تھا اور اب بھی……… یاد رکھنا تم مجھ سے دور ہوئی ہو صرف…… رشتہ نہیں ٹوٹا ہمارا اور نا کبھی ٹوٹے گا….. زندگی بھر آزاد نہیں کرونگا تمہیں تم ہمیشہ میری ہی رہوگی.چاہے جتنی نفرت کرلو مجھ سے
وہ اب کی بار نرمی سے بولا ماہی اسے دیکھنے لگی
مام آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا ہے…….
سہان کی آواز پر وہ اس کی جانب مڑی آہل وہاں اے جانے لگا لیکن جاتے جاتے چونک کر رک گیا اور پلٹ کر سہان کو دیکھا
کیا کہا تم نے سہان…….
ماہی گھبرا کر سہان کو نفی کا اشارہ کرنے لگی لیکن آہل نے نہیں دیکھا
اے ایم کو کیا ہوا ہے ….
سہان اب کی بار آہل کی جانب دیکھ کر بولا تو آہل نے اپنی غلط فہمی سمجھ کر اس بات کو اگنور کردیا اور ماہی نے سکون کی سانس لی
کچھ نہیں بہت لاپرواہ ہے نا اپنی غلطی سے خود کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے اور دوسرو کو بھی……..
وہ ماہی کی جانب دیکھ کر بولا اور باہر کی جانب بڑھ گیا
//**////
ایک بات پوچھوں تم سے…..
سہان موبائیل میں گیم کھیل رہا اور اہل اس کا ساتھ دے رہا تھا لیکن اس کا دھیان کہیں اور ہی تھا سہان نے اثبات میں سرہلادیا
تم انہیں اے ایم کیوں بلاتے ہوں اس کا مطلب کیا ہے
اس نے سامنے ماہی کی جانب اشارہ کرکے کہا جو اپنے کمرے میں جا رہی تھی
یہ تو سیکریٹ ہے آپ کو نہیں بتا سکتا میں….
وہ مصروف سے انداز میں بولا
بٹ آۓ ایم یور فرینڈ اور فرینڈس سے کوئی سیکریٹ نہیں ہوتا
آۓ نو بٹ اگر میں نے یہ سیکریٹ بتادیا تو میں ہار جاؤنگا نا اسلیے میں یہ کسی کو نہیں بتا سکتا میں نے روشنی کو بھی نہیں بتایا
وہ اب بھی گیم میں بزی تھا آہل نے ہار کر خاموش ہوگیا
اچھا… تم اپنی ماما کو روشنی کیوں بلاتے ہو ماما کیوں کہتے
وہ. کچھ دیر بعد بولا
وہ میری ماما نہیں ہے وہ روشنی ہے اس لیے روشنی بلاتا ہوں
وہ تمہاری ماما نہیں ہے تو تمہاری ماما کون ہے ….اور تمہارے پاپا کیا کرتے ہیں
اس نے حیرت سے ایک ایک بعد ایک سوال کردیے
پاپا ….میرے پاپا بہت بڑے بزنس مین ہے وہ دور کنٹری میں رہ کر بہت کام کرتے ہیں
اس نے آہل کی جانب دیکھ کر کہا
تم سے ملنے نہیں آتے وہ…..
آتے ہیں لیکن میں سویا ہوا ہوتا ہوں نا اور انہیں کام ہوتا ہے تو وہ جلدی چلے جاتے ہیں اس لیے کبھی مجھ سے مل نہیں پاتے لیکن اب میں جلدی جاگتا ہوں اب پاپا ائنگے تو میں ان سے ضرور ملونگا
سہان نے اسے وہ بات بتائی جو اب تک ماہی اسے کہتی آئی تھی آہل کو سمجھ اگیا کہ سب کہانی ہے
کیا نام ہے آپ کے پاپا کا…..
وہ اسے غور سے دیکھ کر. بولا
سہان………
سہان کے کوئی جواب دینے سے پہلے ہی اسے باہر سے روشنی نے پکارا تووہ دوڈتا ہوا اس کی جانب آیا
روشنی…..
وہ خوشی سے اس کے گلے لگ گیا
آۓ مس یو بے بی…
..روشنی نے ایک کے بعد ایک اسے دونوں گالوں پر پیار کرکے کہا
آۓ مس یو ٹو ….
روشنی نے اسے گود میں اٹھالیا تب اسے آہل نظر آیا تو وہ حیران ہوکر اسے دیکھنے لگی
سر آپ…. یہاں
ہاں روشنی اب میں اور بڈی بیسٹ فرینڈ بن گۓ ہیں اس لیے یہ روز مجھ سے ملنے بھی آتے ہیں مجھے چاکلیٹ بھی کھلاتے ہیں اور ہم دونوں بہت مستی کرتے ہیں
سہان نے چہک کر کہا
اچھا میں بہت تھک گئی ہوں ایکسکیوز می
وہ سہان کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولی اور آہل کو سوری کہہ کر اندر اگئی
ماہی یہ آہل یہاں…..
اندر اکر وہ ماہی سے بولی
ہاں روشنی وہ……
ماہی اسے کیا کہتی اس لیے چپ ہوگئی
**//
سہان تمہیں اے ایم کیوں بلاتا ہے
وہ جان بوجھ کر اس وقت آیا تھا جب سہان گھر پر نہیں تھا تاکہ اسے ماہی سے بات کرنے کا موقع ملے ماہی اسے دیکھ کر کچن میں آگئی تو وہ بھی اس کے پیچھے اگیا اس کے سوال پر ماہی کے ہاتھ ساکت ہوگئیے
انٹی… ماہی….
وہ اتنا ہی بول کر چپ ہوگئی
کتنی عجیب بات ہے نا مجھے شروع سے ہی بچے کچھ خاص پسند نہیں ہے لیکن سہان ……..مجھے اس کے ساتھ اتنی اٹیچمینٹ ہوگئی کہ میں خود حیران ہوں …..
وہ ٹیک لگاکر اسے دیکھتے ہوۓ بولا ماہی نے اس کی جانب نہیں دیکھا لیکن وہ اپنی ٹینشن چھپا نہیں پائی اہل جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا
اور تم نے نوٹس کیا کتنا ملتا ہے وہ مجھ سے اس کی باتیں اس کی پسند نا پسند سب کچھ مجھ
جیسا ہے انبلیویبل…..
وہ اس کے پاس آکر بولا
کیا ہوا تم اتنی پریشان کیوں ہو……..
وہ جھک کر اسے دیکھنے لگا ماہی نے سر اٹھا کر نفی میں ہلا دیا
ن…ن… نہیں……..ہم ہمیں جانا ہے
آہل نے اس کے آگے ہوکر اس کا راستہ روکا
جا چکی ہو تم بہت پہلے ………اب اور کتنا بھاگنا چاہتی ہو اور اتنی گھبرائ ہوئی کیوں ہو کچھ غلط کیا ہے کیا تم نے کوئ راز چھپایا ہے مجھ سے جو…….
نہیں ہم نے کوئی راز نہیں چھپایا ہمیں جانے دیجیے…
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولی اور سائڈ سے ہوکر نکل گئی
