No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 17
سنایا خان
عائشہ کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھی اور ثریا بیگم کے حکم پر آہل بھی چند روز پہلے جانے کے لیے تیار ہوگیا تھا خاص وجہ یہ تھی کہ وہ رائمہ کے لیے جارہا تھا ماہی نے رائمہ کے بنا جانے سے انکار کردیا تھا ضد پر اڑی تھی کہ رائمہ کے بنا نہیں جائگی رائمہ نے بہت سمجھایا اسے لیکن وہ کسی طرح نا مانتی اب رائمہ اسے اصل وجہ تو بتا نہیں سکتی تھی اس لیے تیار ہوئ جانے کو………….. آہل نے سوچا وہ انکار کریگا تو کہں رائمہ بھی منع نا کردے وہ اس کے ساتھ اس لیے بھی رہنا چاہتا تھا تاکہ اس کی غیر موجودگی میں احد اسے پریشان نا کرے
شادی کی رسمیں شروع ہوگئی تھی ہلدی مہندی سنگیت ایک کے بعد ایک سب کچھ زوروں شوروں سے چل. رہا تھا آہل وہاں انکفرٹیبل ضرور تھا لیکن ایسا ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا ماہی نے تو اس سے مکمل طور پر لا تعلقی ظاہر کی تھی براے نام ہی دونوں میں بات ہوتی تھی وہ بھی کسی نا کسی وجہ سے …………
ماہی روم میں تھی ہلدی ختم ہونے پر وہ نہاکر بال تولیے سے صاف کرتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی آہل روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو ماہی نے آئینے میں ہی اسکا جائزہ لیا اس کی ڈارک بلیو شرٹ کے ایک سائڈ ہلدی لگی ہوئ اور چہرے پر بھی ایک سائڈ میں ہلدی لگی تھی اور اس کے چہرے سے اسکی بیزاریت کا اندازہ ہورہا تھا نا چاہتے ہوے بھی وہ مسکرادی اہل نے شرٹ اتارتے ہوۓ اسے آئینے میں دیکھا تو وہ دوستی جانب دیکھ کر ہنسی روکنے کی کوشش کر رہی تھی
کس بات پر اتنی ہنسی آرہی ہے تمہیں
آہل غصے سے بولا کیونکہ عاشی نے اور اس کے کچھ کزن سے زبدستی اسے ہلدی لگائی تھی جس پر وہ الریڈی چڑا ہوا تھا اور ماہی کی ہنسی دیکھ کر مزید جھلا گیا
بس یوں ہی
وہ نظریں پھیر کر بولی
یوں ہی………
وہ اس کے پاس آتے ہوۓ بولا
جی ……کیا ہمیں یوں ہی ہنسی نہیں آسکتی
بلکل نہیں… بند کرو ہنسنا تمہارے کزن بھی تمہارے طرح ہے ….میں کیا کوئی لڑکی ہوں جو ایسے ہلدی لگا دی
ماہی اب کہ ہنسے بنا نہیں رہ سکی اہل نے اسے غصے سے گھورا
جسٹ شٹ اپ ہنسنا بند کرو…….
اب ہم کیا کریں ہنسی رک نہیں رہی تو….
میں روک کر دکھاتا ہوں
اس نے ماہی کے دوپٹے کا ایک سرا ہاتھ میں لے کر اپنے شرٹ سے ہلدی صاف کی ماہی منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی آہل نے اس کی حیرت کو خاطر میں نا لاتے ہوے اس کی کلائی پکڑ کر اسے قریب کھینچا اور اس کے گال سے ہلدی والا گال مس کرتے ہوۓ ہلدی اس کے چہرے پر ملدی ماہی بس ہونک سی ہوکر کھڑی رہی
دیکھا رک گئی ہنسی…….
وہ اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوۓ بولا
ماہی کوئی جواب نا دے پائی
وہ بنا مڑے اسے دیکھتے ہوۓ واشروم کی جکانب جانے لگا
ماہی نےسے غصے سے دیکھتے ہوۓ دوپٹہ سے گال صاف کیا
رائمہ جب سے یہاآئی تھی دانش اس بہت کم بات کرتا تھا پہلی کی طرح ہنسی مزاق تو دور جہاں وہ موجود ہوتی وہاں سے اٹھ کر چلا جاتااس طرح وہ اپنی ناراضگی کا اظہار کررہا رھا لیکن جب اس نے رائمہ کو پریشان دیکھا تو پوچھے بنا رہ نہیں پایا رائمہ عاشی کے ساتھ اس کے کمرے میں رہ رہی تھی فیلحال عاشی باہر تھی اور وہ اپنے کپڑوں کو فولڈ کرتے ہوۓ کچھ سوچ رہی تھی دانش بنا دروزاہ ناک کیے اندر آیا اور بیڈ کے دوسرے سائڈ بیٹھ گیا
کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رپی ہیں آپ………….
وہ اسے جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا
نہیں تو بس یوں ہی…….
ٹھیک ہے مت بتایے اگر آپ مجھے اس لائق بھی نہیں سمجھتی تو
وہ خفگی سے رخ موڈ کر بولا
ایسی بات نہیں ہے…… آپ کیوں ایسا کہہ رہے ہیں
وہ اا کی جانب دیکھ کر بولی
تو اور کیا کہوں ………اتنے دن سے میں آپ سے ناراض ہوں سوچا تھا ایک بار تو منانے کی کوشش کرینگی آپ ……لیکن نہیں آپ کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا
وہ خفگی سے بولا
ہم جانتے ہیں آپ ہم سے ناراض ہیں اور ہمیں برا بھی لگ رہا ہے لیکن ہم کیا کریں ہم وہ نہیں کر سکتے جو آپ چاہتے ہیں….
ٹھیک ہے نا کریں لیکن کم سے کم اتنا تو بتا دیں کہ کیوں پریشان ہے……… آپ کو چاہے فرق پڑے نا پڑے لیکن مجھے بہت فرق پڑتا ہے آپ کی اداسی سے پریشانی سے ناراضگی سے ہر چیز سے
وہ سنجیدگی سے بولا رائمہ اسے دیکھنے لگی کیا واقعی کوئی اس کی اتنی فکر کرتا ہے
ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے اہل اور ماہی کے درمیان کچھ ہوا ہے دونوں ایک دوسرے سے بہت دوری رکھے ہوۓ ہیں بات کرتے بھی نہیں دیکھا انہیں ٹھیک سے
وہ سوچتے ہوۓ بولی
ہوسکتا ہے کسی بات پر ناراضگی چل رہی ہو اس لیے
رائمہ نے اس کی بات پر سنجیدگی سے اسے دیکھا پھر کچھ سوچ کر بولی
ہم کل صبح ماہی کو بلانے کمرے میں گئے تھے اہل نے دروازہ کھولا تھا تو ہم نے دیکھا کہ ماہی زمین پر سوئی ہے
اس کی بات پر دانش چپ رہا
ہو سکتا ہے……. شوہر بیوی میں تھوڑا بہت چلتا رہتا ہے کوئی بڑی بات ہوتی تو ماہی یا اہل آپ کو ضرور بتاتے
نہیں……… ہم اہل کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتے اور چھوٹی سی بات پر ایسے الگ الگ رہنا بات نا کرنا……..
اا نے بات ادھوری چھوڑی
تو آپ کو کیا لگتا ہے ہمیں کیا کرنا چاہیے
وہ اسے غور سے دیکھتے ہوۓ بولا
ایسا کرتے ہیں دونوں کو ملانے کا پلین بناتے ہیں
پھر خود ہی جواب بھی دیا
کیسے…….
رائمہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
دونون کو کسی کمرے میں بند کر دیتے ہیم اور باہر سے لاک لگادیتے ہیں اگر کوئی مسلہ ہوگابھی تو سلجھ جائگا
بہے سنجیدگی سے بولا
کیسی باتیں کر رہے اپ وہ دونوں ایک کمرے میں ساتھ ہی تو رہتے ہیں تو بند کرنے کی کیا ضرورت ہے
وہ اس کی بیوقوفانا بات پر حیرت جتاتے ہوۓ بولی
ہاں یہ بات بھی ہے…….
وہ. معصومیت سے بولا
تو ایسا کریں دونوں کو کہیں باہر بھیج دیں اۓ مین کسی ہل اسٹیشن وغیرہ خوبصورت جگہ ہوگی تو سب ناراضگیاں ختم….
نہیں اہل کو کہیں باہر جانے کے لیے منانا ناممکن ہے
رائمہ نے سوچتے ہوے کہادانش خاموش ہوکر پیشانی پر ہاتھ رکھے سوچنے لگا
ایک اور ائڈیا ہے میرے پاس
کیا……..
دونوں کو کڈنیپ کروالیتے ہیں دونوں ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرینگے تو ناراصگی ختم
اس کے انداز پر رائمہ ہنسے بنا نا رہ سکی
کتنی فلمی باتیں کررہے ہیں آپ ایسا کیسےے………
وہ ہنستے ہوے بولی
رائمہ میں بس آپ کو ایسے ہنستے ہوے دیکھنا چاہتا ہوں پریشان نہیں…. اہل اور ماہی لے درمیان کوئی مسلہ نہیں ہے اور اگر ہوا بھی تو سب ٹھیک ہوجاے گا نکاح کا بندھن بہت مضبوط ہوتا ہے اسے ان چھوٹی موٹی باتوں سے فرق نہیں پڑتا سارے اختلافات دور ہوجاۓ گے اور دونوں کے دل. میں ایک دوسرے کے لیے جو محبت ہے وہ انھیں ہمیشہ جوڑے رکھیں گی اللہ جب اپنی گواہی میں انہیں ایک دوسرے کو سونپتا ہے تو وہ کیسے انھیں الگ ہونے دےگا
وہ سنجیدگی سے بولا رائمہ اس کی بات بہت غور سے سننے لگی
اوکے میں چلتا ہوں مجھے آپ کو ایسے سوچوں کے سمندر میں غوطے لگاتے ہوے دیکھنے کا کوئء شوق نہین سو.. گڈ نائٹ
وہ کہہ کر چلا گیا اور رائمہ دیر تک اسی کے متعلق سوچتی رہی
ماہی کو دیکھا آپ نے…….
رائمہ سامنے گزری تو اہل نے پوچھا کیونکہ کافی دیر سے وہ اسے نظر نہیں آئی تھی جب کہ سب وہیں موجود تھے سواے اس کے
وہ مارکیٹ گئی ہے اہل…….
مارکیٹ کیوں……..
اس نے حیرت سے پوچھا
کیا بتائیں…… ہمارے ڈریس کی میچینگ چوڑیاں نہین ہے ہمارے لاکھ منع کرنے کے باوجود چلی گئی
اس نے پریشان ہوکر کہا
اکیلی گئی ہے
ہاں اکیلی گئی ہے اور اتنی دیر بھی ہوگئی ہے اور اپنا فون بھی یہیں بھول گئی
میں دیکھتا ہوں جاکر…….
وہ اپنی گاڑی لیے گھر سے نکلا چاروں طرف نظر دوڈاتے ہوۓ ماہی کو ڈھونڈتے ہوۓ …..مارکیٹ تک پہنچنے سے تھوڑی دور پہلے ہی وہ اسے سڑک کے کنارے کھڑی نظر آئی وہ اسے دیکھ کر غصے سے بڑبڑایا گاڑی روک کر باہر اترا اور اس کے پاس آیا
آر یو میڈ ماہی………..
اب کیا کیا ہم نے…….
وہ. معصومیت سے بولی اہل نے غصے سے منہ پر ہاتھ پھیرا پھر اسے دیکھ کر بولا
وہاٹ دا ہیل آر یو ڈوئنگ ہئیر …….
ماہی نے اس کے غصے کو دیکھتے ہوۓ کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا
کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے……… ایسی بھی کیا مصیبت آگئی تھی جو اتنی رات کو تم اکیلے گھر سے باہر نکل گئی اور اپنا موبائیل بھی گھر چھوڑ آئی
ہمیں اپی کے لیے چوڑیاں لینی تھی کل شادی کے دن انھیں پہنانی ہے تو ہم کیا کرتے ہمیں اتنی رات کو آنا پڑا
اکیلے آنے کی کیا ضرورت تھی مجھے نہیں
کہہ سکتی تھی
وہ دانت پیستے ہوۓ بولا
آپ کو……. بنا کوئی کام بتاۓ تو آپ اپنا سارا غصہ لیکر ہمارے سر پر سوار رہتے ہیں اور اگر آپ سے مدد کے لیے کہہ دیا تو پتا نہیں کیا کریں گے
وہ. رک کر بولی
جسٹ شٹ اپ ماہی………… بکواس مت کرو وقت دیکھو اور یہ جگہ دیکھو اس دن تو بہت ڈر رہی تھی بھوت اور چڑیل سے اب کیا ہوگیا یہاں اکیلے کھڑے ڈر نہیں لگ رہا
آپ کے ساتھ رہتے رہتے عادت پڑ گئی
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی
ماہی میں اس وقت بلکل بھی تمہاری بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ……
اور ہم بھی آپ کے بے وجہ سے سوالات کا جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہے ….ہم تو بس آپی کے لیے چوڈیاں لینے نکلے تھے اور کب کے گھر بھی پہنچ جاتے لیکن گاڈی خراب ہوگئی اور ہم موبائل گھر بھول گئے جان بوجھ کر نہیں چھوڑ اۓ
وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تو آہل سے خاموش ہونا بہتر سمجھا
اوکے اب چلو ……گاڈی میں بیٹھو
وہ بات ختم کرتے ہوۓ بولا
اور ہماری سکوٹی………
وہ ڈرائیور لے ایگا تم چلو
بلکل نہیں ہم اس طرح اپنی گاڈی چھوڈ کر نہیں جاےگے کوئی لے گیا تو…………. آپ کے لیے چاہے کوئی معنی ہو نا ہو لیکن یہ ہمارے لئے بہت قیمتی ہے ہم نہیں جائنگے آپ کی کے ساتھ
آر یو شیور……..
وہ غصہ کنٹرول. کرکے سنجیدگی سے بولا
ہاں بلکل……
دھین گو ٹو ہیل………
وہ غصے سے کہہ کر پلٹا اور گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی پلٹا کر واپس جانے لگا بیک ویو مرر میں ماہی کو دیکھتے ہوے ماہی اسے چاہ کر بھی روک نہیں سکی
جلاد جن……. سچ میں چلے گئے
وہ گھبراکر بڑبڑائی
کیا ہم آپ کے کی کچھ مدد کرسکتے ہیں میڈم………
چار پانچ لفنگے لڑکے وہاں آکر بولے جنھیں آہل نے بھی مرر میں دیکھا تو فورا گاڑی ٹرن کی
جی نہیں شکریہ ……..
وہ اپنی گھبراہٹ روکتے ہوے بولی
ایسے کیسے جی نہیں ہمیں ایک موقع تو دیجیے شاید آپ کے کام اجاۓ
ایک لڑکا اس کی گاڑی سے ہاتھ ٹکاۓ جھک کر بولا ماہی کچھ بول نہیں پائی آہل فورا گاڑی سے اتر کر اسکے پاس آیا ماہی نے اسے دیکھ کر اس کا بازو پکڑ لیا
ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے جاکر اپنا کام کرو
وہ اس شخص کو دیکھ کر غصے سے بولا آور ماہی کا ہاتھ پکڑ کر اسے غصے سے گھورتے ہوے واپس جانے لگا
اے ہیرو………
ایک شخص سامنے آکر گاڑی بولا
کیا سمجھتا ہے تو خود کو بہت بڑا ہیرو ہے چل لڑکی کا ہاتھ چھوڑ اور اپنا راستہ پکڑ
آہل کچھ نہیں بولا بس اسے غصے سے دیکھنے لگا جب کے ماہی کا گھبراہٹ کے مارے گلا سوکھنے لگا وہ اہل کے پیچھے ہوکر کھڑی ہوگئی
سنا نہیں تونے چل نکل ادھر سے…..
ایک دوسرا لڑکا وہاں اکر بولا باقی دونوں بھی اس کے اشارے پر وہاں اۓ آہل نے باری باری سب کو
دیکھا
اور اگر نا جاؤں تو…….
وہ سنجیدگی سے بولا
کیوں اپنی ہڑیاں تڑوانا چاہتا ہے جا جاکر اپنا کام کر اور اس لڑکی کو ہمارے حوالے کر دے
اس شخص نے کہنے کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ ماہی کی جانب بڑھایا آہل نے نے اس کے منہ پر ایک زور دار گھونسہ مارا جس سے اس کا جبڑا ہل کر رہ گیا اور لڑکھڑاکر زمین پر گرا
خبردار ….اب اگر کوئی بھی آگے بڑھا تو جان سے مار دونگا
وہ انگلی اٹھا کر وارنگ دیتے ہوے بولا
سالے تونے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اب تو دیکھ……..
وہ زمین سے اٹھنے لگا تو آہل بھی اس سے مقابلہ کرنے آگے بڑھا لیکن ماہی نے سختی سے اس کا بازو پکڑ لیا اور اسے پیچھے کھینچا
نہین آہل نے جی…… چلیے یہاں سے
وہ اسے روکتے ہوۓ بولی
آہل نے ماہی کو گھور کر ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی وہ ادمی اٹھ کر دوسرے لڑکوں کو اشارہ کرکے کچھ کہہ رہاتھا جس پر ان میں سے ایک نے اپنی جیب سے چاقو نکالا
آہل جی پلیز آپ کو ہماری قسم ہے چلیے
ماہی… آر یو میڈ
آہل نے ے حیرت سے کہا
ماہی نے اس کا ہاتھ کھینچتے ہوۓ بھاگنے لگی وہ بھی مجبور ہوکر اس کے ساتھ ہوا ان لڑکوں کو اس کی امید نہیں تھی اس لیے ایک پل کو کچھ سمجھ نہیں پاۓ
اے تم لوگ دیکھ کیا رہے ہو پکڑو انہیں
وہ شخص انہیں بھاگتے ہوے دیکھ کر بولا اور خود بھی ان کے ساتھ ہی دوڑا ماہی بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی اب کہ آہل نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور وہ آگے تھا اور ماہی اس کے پیچھے اور وہ لڑکے بھی مسلسل ان کے پیچھے دوڈ رہے تھے ایک طرف دو موڈ اۓ تو وہ ماہی کو لیے ایک موڈ پر مڑا اور ایک بڑے سے پیڑ کے پیچھے آکر چھپ گیا
وہ لڑکے وہیں موڈ کے بیچ میں کھڑے ہوکر اندازہ لگانے لگے کہ وہ دونوں کہاں ہونگے آہل ماہی کو خود سے لگاے پیڑ سے ٹیک لگاکر نیچے جھک گیا تاکہ نظر نا اۓ ماہی انکھوں میں گھبراہٹ لیۓ اسے دیکھنے لگی کچھ کہنے کے لیے لب کھولے تو اہل نے اس کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھ دیا اور ان لڑکوں کی جانب اشارہ کیا کہ وہ سن نا لے کچھ دیر سوچنے کے بعد دو لڑکے دوسری جانب چلے گیے اور دو اس طرف جس طرف ماہی اور اہل گئی تھے لیکن وہ بنا رکے آگے کی طرف بڑھ گئے ماہی نے سکون کی سانس لی اور خدا کا شکر ادا کیا
آہل کو بھی جب ان کے جانے کی تسسلی ہو گئی تو وہ زمین پربیٹھ گیااور نے پیڑ سے سر ٹکایا اور گہری گہری سانس لینے لگا اس کی شرٹ پوری طرح سے پسینےیں بھیگ چکی تھی اوربال ماتھے پر بکھر گئے تھے ماہی اسے دیکھنے لگی تو آہل نے بھی اسکی جانب دیکھا
اس سے پہلے کے آپ ہمیں کچھ کہیں ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں یہ سب ہماری وجہ سے ہوا ہے ہماری بیوقوفی کی وجہ سے…….
وہ شرمندہ ہوکر بولی
تم نے مجھے اسے مارنے کیوں نہیں دیا اس طرح بھاگ کر کیا فائدہ ایسے تو ان لوگوں کی ہمت بڑھتی ہے انھییں ان کی اوقات دکھانا بہت ضروری ہےلیکن تم ………کیوں روکا مجھے ایسے قسم دے کر
وہ سختی سے بولا
ہم نہیں چاہتے تھے کہ وہ لوگ آپ کو کوئی نقصان پہنچاۓ آپ کو کچھ ہو جاتا تو………
وہ آہل کو دیکھتے ہوے سنجیدگی سے بولی اس کے انداز پر آہل حیرت اور سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا ماہی نے بھی نظریں نہیں چرائی آہل نے اس کے چہرے پر اۓ بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوۓ دھیرے سے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا اور اس کی پیشانی سے پیشانی ٹکاتے ہوۓ اسے دیکھنے لگا
ماہی نے اس کے اتنے قریب ہونے پر آنکھیں بند کر لی اہل نے اس کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوۓ اس کے اپنے ہونٹوں کو اسکے ہونٹوں سے ہلکا سا ٹچ کیا اور دھیرے سے چہرہ پیچھے کیا اور اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا ماہی نے آنکھیں کھولی اس کی نظروں سے گھبراتے ہوۓ پھر سے نظر جھکا گئی لیکن اہل مسلسل اسے دیکھتا رہا بنا پلک جھپکاے دیر تک
ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے کہیں وہ لوگ پھر سے نا اجائے
وہ بمشکل اس کی نظروں کا سامنا کرکے بولی تو اہل نے اثبات میں سر ہلا دیا اور اس کا ہاتھ تھامے اسے گاڑی تک لے آیا
اب بھی رکنا ہے گاڑی کے لیے
وہ طنزیہ بولا ماہی نے سر نفی میں ہلا دیا تو وہ ہلکا سا مسکراتے ہوے گاڑی میں بیٹھ گیا
