No Download Link
Rate this Novel
Episode 42
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 42
سنایا خان
ماہی مجھے لگتا ہے تمہیں انہیں یہ بات بتادینی چاہیے
وہ دونوں سہان کو لینے ا سکول آئی تھی
ہمیں. ڈر لگ رہا ہے روشنی پتہ نہیں کیسے ری ایکٹ کرےگے وہ
کسی اور طرح سے پتہ چلا تو زیادہ ری ایکٹ کرینگے لیکن تم بتاؤگی تو سہی ہوگا
ماہی اس کی بات پر خاموش رہی دونوں اسکول میں داخل ہوئی توسہان سامنے ہی جھولے پر زور زور کی ونگس لے رہا تھا ان دونوں کو دیکھ کر ہنستے ہوۓ ہاتھ ہلانے لگا تو اس کا دوسرا ہاتھ بھی چھوٹ گیا اور وہ بری طرح منہ کہ بل زمین پر گر گیا وہ دونوں ہی گھبرا کر آگے بڑھی سکول کے کچھ لوگ بھی وہاں اۓ
سہان……
ماہی نے اسے پکارتے ہوۓ سیدھا کیا تو اس کے سر پر گہری چوٹ آئی تھی اور وہ بے ہوش ہوگیا تھا ماہی کی چینخ نکل گئی
آہل جلدی جلدی اوپر آیا تو ماہی دروازے کے باہر ہی ادھر سے ادھر سے چکر کاٹ رہی تھی اور روشنی پریشان سی وہیں ایک کونے میں کھڑی تھی ماہی اسے دیکھ کر دوڑ کر اس کے گلے لگ گئی
آہل جی سہان……. اسے بہت گہری چوٹ لگی ہے …….بہت ….وہ ٹھیک نہیں ہے
وہ روتے ہوۓ بولی
ریلیکس… کچھ نہیں ہوگااسے…. ابھی ٹھیک ہوجائگا وہ
آہل نےاسے خود سے الگ کرکے کہا ڈاکٹر باہر آیا تو اس کی جانب بڑھا ماہی بھی جلدی سے اس طرف آئی ڈاکٹر نے انہیں کو بتایا کہ سہان ٹھیک ہے تو دونوں نے سکون کا سانس لیا اور سب ہی اندر آۓ لیکن وہ دوائیوں کے زیر اثر سورہا تھا ماہی اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے دیکھتی رہی اور اہل اسے…..
ایک نرس فارم لیے اندر آئی اور ماہی سے سہان کا پورا نام پوچھا تب ماہی چند پک خاموش ہوگئی تو اس نے دوبارہ پوچھا
سہان…
اس نے صرف اتنا کہہ کر آہل کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
سہان آہل رضا ابراہیم
وہ آہل کی انکھوں میں دیکھ کر بولی اہل حیران نہیں ہوا کیونکہ اندازہ تو اسے پہلے ہی ہو چکا تھا اور ماہی کی پریشانی دیکھ کر یقین بھی اب بس وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
سہان نے انکھیں کھول کر باری باری سب کو دیکھا
سہان….. تم ٹھیک ہو نا بیٹا
ماہی نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا سہان بس نے تاثر نظروں سے دیکھتا رہا
آہل اس کے پاس بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا سہان نے اپنے زخمی سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو آہل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سر نفی میں ہلادیا اور پیار سے اس کے سر پر کس کیا آج پہلی بار اس نے سہان کو اپنے بیٹے کی نظر سے دیکھا تھا اس کے پاس الفاظ نہیں تھے لیکن اس کی انکھیں بتا رہی تھی کہ وہ کتنا خوش ہے
وہ دونوں سہان کو لیے ہاسپٹل سے واپس گھر جارہے تھے اگلے دن ہی اسے ڈسچارج کردیا تھا ماہی سہان کو گود میں لیے بیٹھی تھی جو سو چکا تھا آہل خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا اس نے کل سے اب تک ماہی سے کوئی بات نہیں کی تھی نا کوئی سوال نا شکایت نا غصہ
ہم جانتے ہیں ہم نے آپ سے یہ بات چھپا کر غلط کیا ہے ہمیں آپ سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی
لیکن ہم کیا کرتے ہم ڈر گئے تھے سہان ہمارے جینے کی وجہ ہے ہم اس کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہم ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتے جس سے وہ ہم سے دور ہوجاۓ اس لیے ہمیں جو سہی لگا وہ ہم نے کیا اور ہمیں نہیں لگتا ہم نے کچھ غلط کیا ہے
آہل نے ایکدم سے بریک لگا کر گاڑی روکی اور اس کی جانب دیکھا
جسٹ شٹ اپ….. جب بھی بولتی ہو صرف بکواس کرتی ہو اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی تمہیں لگتا ہے تم نے کچھ غلط نہیں کیا تم خود کو سمجھتی کیا ہو اور مجھے کیا سمجھتی ہو تم انسان سمجھتی ہو یا نہیں مجھے …
وہ غصے سے بولا ماہی حیرت سے دیکھنے لگی کہ اب تک تو کتنا خاموش تھا
میری فیلینگس کے ساتھ کھیلنا بند کرو پہلے بنا بتاۓ مجھے چھوڑ کر چلی آئی ایک بار بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میں کیسا ہوں زندہ بھی ہوں یا مر چکا ہوں کیا اثر پڑا ہے میری زندگی پر تمہاری اس بیوقوفی کا …..یہاں آرام سے زندگی گزارتی رہی تم….. اور میں وہاں پل پل مرتا رہا تمہیں بھولنے کی ناکام کوشش کرتا رہا …….مانا کہ میں نے کبھی کہا نہیں تم سے لیکن کیا محسوس نہیں کیا تم نے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں…… کیا کبھی تمہیں یہ نہیں لگا کہ میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں……. اور…. اور تمہیں لگتا ہے کہ تم نے کچھ غلط نہیں کیا…
مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی تم نے میرے بیٹے کو اتنے سال تک مجھ سےدور رکھا اور جب قسمت نے مجھے اس سے ملایا تو تم نے مجھ سے جھوٹ بولا مجھے پتہ تک نہیں چلنے دیا کہ وہ میرا بیٹا ہے کس نے حق دیا تمہیں کہ تم میرے ساتھ ایسا کرو …….اور تمہیں لگتا ہے تم نے کچھ غلط نہیں کیا
بہت خود غرض ہو ہر بار صرف خود کے بارے میں سوچتی ہو تم کبھی کسی اور کے بارے میں بھی سوچ لیا کرو میرا نہیں تو کم سے کم سہان کا خیال کرلیتی اس کا بھی نہیں سوچا تم نے کہ اسے میری ضرورت ہو سکتی ہے اتنے سال تک باپ کے ہوتے ہوۓ وہ یتیم کی طرح جیتا رہا
تم. نے جو بھی کیا ہے نا شاید تمہارے مطابق وہ سب غلط نا ہو لیکن میں تمہیں اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرونگا
وہ انگلی دکھا کر بولا
نہیں اہل جی ہم خود غرض نہیں ہے ہم نے بس یہ سوچ کر یہ سب کیا کہ آپ کو مجبوری کا رشتہ نا نبھانا پڑے… آپ تنوی جی کے ساتھ ہمیشہ خوش رہ سکے اور سہان کے بارے میں بھی ہم نے اس لیے نہیں بتایا کہ کہیں اپکی زندگی ہم دخل اندازی نا کر بیٹھے….
ماہی نے سفائی دینی چاہی اہل نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا
او گاڈ… جتنا میں سوچتا تھا نا اس سے کئی زیادہ بیوقوف ہو تم تم نے کیسے سوچ لیا کہ میں مجبور ہوکر کچھ کر سکتا ہوں اگر میری مرضی نا ہو تو کوئی چیز مجبور نہیں کر سکتی مجھے اور تنوی. وہ صرف دوست ہے میری اس کے لیے میرے دل میں کوئی فیلینگ نہیں ہے تم نے اتنا سب کرنے کے پہلے مجھ سے پوچھ لیا ہوتا کم سے کم اگر خود کا دماغ استعمال نہیں کرنا جانتی تو……
ماہی اس کی اس قدر سخت لہجے ہر ایکدم سے روپڑی
اب رو کیوں رہی ہو…..
ہمیں بیوقوف کہہ رہے…. باتیں سنا رہے ہیں… ڈانٹ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ ہم رو کیوں رہے ہے
وہ. روتے ہوۓ بولی
تو کیا پیار کروں تمہیں… تم نے کام ہی ایسا کیا ہے میرا بس چلتا تو……
وہ کہتے کہتے رک گیا
مار دیتے ہمیں………
ماہی نے اس کی ادھوری بات کو پوری کی تو اس نے بے نیازی سے سرہلا کر گاڑی سٹارٹ کرلی
***//
