Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 10
سنایا خان
ثریا بیگم کمرے میں ائی تو وہ بیڈ پر گھٹنوں پر سر دیے رو رہی تھی اہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا پھر بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی ثریا بیگم نے اسے دوبارہ بٹھایا اور خود بھی اس کے قریب بیٹھ گئی
آہل کو آپ سے اس طرح بات نہیں کرنا چاہیے تھا…..لیکن کیا کریں اپنی بہن کے معاملے میں وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے . اس کی طرف سے ہم اپ سے سوری……………
نہیں امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ہمیں ایسے گناہگار مت بنائیں ہمیں
وہ ان کی بات بیچ میں کاٹ کر بولی اور ان کے گلے لگ گئی
غلطی ہماری ہی ہے ہمیں آپی کو ایسے سوال پوچھ کر دکھی کرنا نہیں چاہیے تھا
نہیں بیٹا ہمیں یہ بات آپ کو پہلے ہی بتا دینی چاہیے تھی….. دراصل رائمہ کی شادی اس کے ابو نے اپنے ایک بزنس پاٹنر کے بیٹے احد سے کروانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ انھیں وہ بہت اچھا لگا تھا ہر لحاظ سے لیکن رائمہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن انھوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کردیا یہ کہہہ کر کے شادی کے بعد جو چاہے کر سکتی ہے آہل اس وقت اتنا بڑا نہیں تھا کہ اس کی بات کی کوئی اہمیت ہوتی شادی کے بعد اس آدمی نے ہماری بچی پر بہت ظلم کیا اس نے رائمہ سے صرف پیسے کے لئے شادی کی تھی پیسے کے لیے اس پر بہت ظلم کرتا تھا وہ کسی نا کسی بہانے سے ہم سے پیسے لے جاتی لیکن کبھی اس شخص کی اصلیت ہمیں نہیں بتائی اس نے ظلم کی انتہا کر دی مار پیٹ گالی گلوچ نا جانے کیا کیا سب برداشت کرتی رہی لیکن ایک دن اس خبیث نے میری بچی کو جان سے مارنے کی کوشش کی اسے نیند کی گولیاں کھلادی وہ تو اللہ کے کرم سے بچ گئی لیکن اس وقت اس کے اندر جو ننھی سی جان پل رہی تھی وہ دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی دم توڈ گئی آہل نے رائمہ کا طلاق کروایا لیکن اس کے باوجود وہ شخص اسے پریشان کرتا رہا اتنا کہ اس نے اپنے آپ کو گھر میں قید کرکے رکھ دیا نا کسی سے بات چیت نا کہیں آنا جانا لیکن اگر غلطی سے بھی کوئی پرانی بات کا ذکر ہو تو اس کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں آہل نے بہت کوشش کی اسے اس سب سے نکالنے کے لیے اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے لیکن اب بھی اس کے دل میں اک ڈر سا ہے
ثریا بیگم روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی ماہی بھی روتے روتے ہچکیوں پر اگئ تھی وہ کچھ کہتی اس سے پہلے کمرے کا دروازہ کھلا اور آہل اندر آیا ثریا بیگم اٹھ کر اس کے پاس آئی
اپنے ابو سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی آہل
آہل نے نظریں پھیر لیں
پچھلی باتوں کو بھول جاؤ بیٹا اس میں کچھ نہیں رکھا صرف رشتے بکھر جائگے
انھونے
اہل نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا وہ باہر چلی گیی آہل نے ماہی کو دیکھا جو رخ دوسری جانب کیے کھڑی تھی وہ اگے بڑھا ماہی اسی وقت واشروم میں چلی گئی



آپی ہمیں معاف کر دیجیے ہم نے آپ کا دل دکھایا نا……
وہ دونوں کان پکڑ کر معصومیت سے بولی
نہیں ماہی اس میں اپ کی کوئی غلطی نہیں ہے ہماری قسمت میں ہی یہ سب لکھا تھا جو ہمیں زندگی بھر رلاتا رہےگا
وہ اداسی سے بولی
نہیں آپی اپ ایسا مت کہیے پلیز ……سب بھول جائے اپنی اگلی زندگی کے متعلق سوچیے….
آپی آپ اپنی پڑھائی دوبارہ شرع کیوں نہیں کرتی
رایمہ اس کی بات پر ہلکا سا مسکرائی
بس اب دل نہیں کرتا……
ایسے کیسے دل نہیں کرتا ……..آپ نا ایسے خود کو بند بند مت رکھو باہر نکلو اس قید سے …..
ایسا کرتے ہیں کل ہم دونوں کہیں باہر چلتے ہیں گھومنے
وہ خوشی سے بولی
نہیں ماہی ہمارا دل نہیں………
رائمہ نے انکار کردیا
ہمارے لیے بھی نہیں چلیں گی آپ
وہ رونی صورت بنا کر بولی
ماہی ہم کیا کریں گے باہر جاکر
ٹھیک ہے جیسی اپ کی مرضی ہم جان گئے کہ آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا
وہ خفگی سے کہہ کر اٹھ کے جانے لگی
نہیں ماہی ایسی کوئی بات نہیں……. اچھا ٹھیک ہے ہمیں کچھ چیزیں خریدنی ہے ہم اپ کے ساتھ کل شاپنگ پر چلتے ہیں ٹھیک ہے
رائمہ اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے اور اس کے بعد ہم آپ کو اپنی پسند کے ہوٹل میں ڈنر کروائنگے
رائمہ مسکرئ
ٹھیک ہے…….


وہ کمرے میں ائی اور اپنی جگہ آکر سونے لگی
سنو……….
آہل کی آواز ائی سنجیدہ سا لہجہ تھا
اگر آپ ہم سے معافی مانگنے ائے ہیں تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہم آپ سے اس قسم کی کوئی امید نہیں رکھتے اور جو امید اکھتے ہیں آپ اس پر بلکل قائم ہے آپ کو اپنی غلطی کا احساس تو ہوا یہی بہت بڑی بات ہے ہمارے لیے…..
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی
آر یو میڈ ……کس نے کہا تم سے کہ میں تم سے معافی مانگنے آیا …….. ایک بات یاد رکھنا آہل رضا ابراہیم کسی سے معافی نہیں مانگتا
ماہی اسے حیرت سے دیکھنے لگی
تو ہمیں اواز کیوں دی آپ نے ابھی……
یہ بتانے کہ لیے کہ جب تم روم میں نہیں تھی تب تمہارا فون بج رہا تھا لیکن تمہارے دماغ میں ہر وقت کچھ اور ہی فضول سا چلتا رہتا ہے
وہ اس کا فون آگے کرتے ہوئے بولا
فضول نہیں تھا اہل جی… ہمیں ایسا لگا کہ چاید کتنا ہی گھمنڈی انا پرست انسان ہو اگر اسے اس بات کا احساس ہے کہ اس نے کسی کا دل دکھایا ہے تو وہ بھی معافی مانگ سکتا ہے لیکن ہم غلط تھے ایسا نہیں ہے
وہ سنجیدگی سی بولی آہل نے پہلی بار اسے اس طرح بات کرتے دیکھا تھا اس لئے چونکا ضرور پھر سر جھٹک کر اندر چل دیا


شام کے وقت اسے جانا تھا اس نے لائٹ پنک لانگ کرتی پر وھائٹ کھلے پائنچوں کا ٹراؤزر پہنے وھائٹ ہی دوپٹہ کاندھے پر پہیلایا ہوا تھا بالوں کو آگے سے پن اپ کرکے کھلا چھوڑا تھا ہلکا ہلکا میک اپ اور کانوں میں جھمکے پہنے نوس پن کے ساتھ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی تیار ہوکر کسی کام سے پول سائیڈ کی طرف ائی تھی اہل صوفے پر بیٹھا ٹیبل پر پیر لمبے کیے لیپٹاپ پر کچھ لکھ رہا تھا ماہی وہاں سے جانے لگی تب اچانک سے اس کا پیر لڑکھڑایا وی تو سنبھل گئی لیکن اس کے دھکے سے ایک گملہ نیچے گر گیا جس میں سوکھی مٹی رکھی تھی مٹی بھی زمین پر بکھر گئی اس نے گھبرا کر آہل کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا پھر اٹھ کر اس کے پاس آیا
یہ کیا کیا تم نے…….
وہ دانت پیس کر بولا
ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیا آہل جی وہ تو غلطی سے……….
جسٹ شٹ اپ……. اور ابھی کے ابھی یہ سب ٹھیک کرو
آہل نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی
ابھی ہمیں باہر جانا ہے …….لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں واپس آکر کر دینگے
بلکل نہیں …….جب تک تم میرا گارڈن سہی نہیں کرتی کہیں نہیں جا سکتی
وہ. سختی سے بولا
گارڈن ………آپ اسے گارڈن کہتے ہیں…….. گارڈن وہ ہوتا ہے جہاں رنگ برنگے پھول ہوتے ہے……….. اور یہاں دیکھیے کانٹے ہی کانٹے بھرے ہیں ایک بھی پھول نہیں ہے……. ایک بات کہیں . …. …اپ کی پسند بلکل آپ کے جیسی ہے
شٹ اپ….. اپنی بکواس بند کرو اور جو کہا ہے کرو
اہل مزید غسے سے بولا
آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ہمیں ابھی جانا ہے
آہل اب کے اس کی جانب بڑھنے لگا ماہی گھبرا کر دو قدم پیچھی ہوئی
اچھا ٹھیک ہے …..ہم کر رہے ہیں
وہ گھبرا کر ہار مانتے ہوئے بولی اور اسکی جانب غصے سے دیکھے ہوئے نیچے کو جھکی اور فورا باہر کی جانب دوڈ لگا دی
روم میں آکر وہ باہر کی جانب والا دروازہ کھولنے لگی تب تک آہل اس تک پہنچ گیا وہ پلٹ کر روم میں ہی بیڈ کی طرف بھاگی آہل بھی اس کی جانب آیا تو بیڈ پر چڑھ کر دوسری جانب کود گئی آہل اس طرف آیا تو کود کر دوسری جانب اور اسی طرف کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف …
ماہی سیدھی طرح میری بات مان لو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
ہم کہہ رہے ہیں نا ہم بعد میں کر دینگے انکار تو کر نہیں رہے بس ابھی ہمیں جانے دیں آپ
بلکل نہیں…….
اس کے پہلے کہ وہ دوبارہ دوسری جانب جاتی آہل نے اس کی کلائی سختیی سے پکڑ لی اس کے ہاتھ میں جو چوڑیاں تھی وہ ٹوٹ گئی ماہی کے منہ سےہلکی سی چینخ نکلی اور وہ اپنا ہاتھ تھام کر وہیں بیٹھ گئی آہل بھی اس کے قریب ہی بیٹھ کر اس کا تھامنے لگا لیکن ماہی نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور اسے خفگی سے دیکھا آہل نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا ماہی پھر اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ جھٹک کر دور کیا اہل کی نظریں مسلسل اسکے چہرے پر تھی دوبارہ اس کی کلائی کع اوپر سے پکڑا وہ دوبارہ چھڑانے لگی لیکن اب کی بار اس کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ ہار مان کر رک گئی
اہل نے بغور اس کے ہاتھ کر دیکھا دو تین چوڑیاں ٹوٹی تھی جس میں سے ایک ٹکڑا اسکی کلائی میں چبھا ہواتھا آہل نے آرام سے اس ٹکڑے کو نکالاماہی کی چینخ نکل گئی وہ بے آواز رونے لگی آہل نے ہلکی ہلکی پھونک ماری تاکہ اسے درد کم محسوس ہو پھر ڈراور سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر کوٹن سے پہلے خون صاف کیا پھر اس پر اچھے سے ڈریسنگ کرکے پٹی باندھ دی وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی اس کا یی نیا روپ جع کبھی کبھی ہی نظر آتا تھا ماہی کو حیران پریشان کر دیتا تھا اس کی فکر اس کی کیر…..ڈریسنگ کرنا ختم ہو تو ماہی نے اپنے آنسو صاف کیے اور اٹھ کر دوبارہ باہر جانے لگی لیک. اہل نے اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر روکا
ماہی نے اسے حیرت سے دیکھا وہ اٹھ کر اس کے پاس ایا اور اسکے بے حد قریب ہوا
میں تمہیں اب بھی جانے کی اجازت نہیں دی
وہ اس کی انکھ کے قریب ایک انسو کو انگلی سے صاف کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا
وہ ہمیں……….
ماہی کچھ کہنے لگی تھی آہل نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی
مجھے کچھ نہیں سننا …..بس جو کہا ہے اتنا کرو
وہ پوری طرح سے اسے اپنی نظروں میں قید کرکے بولا اور قریب اتنا تھا کہ اس کی خوشبو سے ماہی کو اپنی دھڑکن بڑھتی محسوس ہو رہی تھی گلا سوکھتا جا رہا تھا دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی آہل کی نظریں کبھی ان کی حیران پریشان انکھوں پر تو کبھی اس کے داہنے گال کے تل پر تو کبھی اس کے گلابی ہونٹوں پر
دروازے پر دستک ہوئی تو جیسے اس کا تسلسل ٹوٹا وہ اے ازاد کرکےپیچھے ہوا ماہی دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھی رائمہ اندر آئی
ماہی آپ اب تک تیار نہیں ہوئی……….
آہل کا رخ دوسری جانب تھا رائمہ کی اواز پر وہ پلٹا
آپ کہیں جا رہی ہیں
اس نے وہیں آکر پوچھا
ہاں آہل …….اج ماہی ہمیں اپنے ساتھ شاپنگ اور ڈنر کے لیے لے جا رہی ہیں
آہل نے ماہی کی جانب دیکھا جو بس نظریں جھکایے خاموش کھڑی تھی خلاف عادت
یہ تو بہت اچھی بات ہے میں ڈرائیور سے کہہ دیتا ہوں بلکہ ایسا کریں اپ اپنے ساتھ کچھ گارڈس کو بھی لے جائیں
نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم شاپنگ کرنے جا رہے ہیں جنگ لڑنے نہیں
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی آہل نے اسے غصے سے دیکھا
ہاں آہل تم پریشان نا ہو ہم خیال رکھے گے
رائمہ بولی
ٹھیک ہے…..
اس نے کہا اور ماہی کی جانب دیکھا جو اب بھی اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی


آگے زندگی رہی تو ضرور پورا کرونگی اسے ورنہ مجھے معاف کریں اور دعاؤں میں یاد رکھے مجھے بہت ضرورت ہے