Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 22

سنایا خان

ایک بات پوچھوں آپ سے……..

ماہی ڈائینگ ٹیبل پر اکیلی بیٹھی تھی سب ناشتہ کرکے جاچکے تھے تب مہیر وہاں آیا اور اسے خاموش دیکھ کر بولا

جی کہیے…..
ماہی نے سوالیہ نظروں سے پوچھا

نہیں جانے دو مجھے پتہ ہے آپ نہیں بتائگی….

وہ ماہی کے سامنے والی چیئر پر بیٹھتے ہوے بولا

آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں پوچھیے نا…..

ماہج حیرت سے بولی

آپ اتنی اپسیٹ کیوں ہے کچھ ہوا ہے کیا

نہیں تو ہم کہاں اپسیٹ ہے ہم تو بلکل ٹھیک ہے
وہ مسکرا کر بولی

مجھے معلوم تھا آپ نہیں بتائیگی ……

وہ نظر پھیر کر روٹھتے ہوۓ بولا

سچ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے….

ماہی اس کی حرکت پر مسکرائی

آپ کے اور آہل کے بیچ کوئی ٹینشن چل رہی ہے کیا
مہیر نے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا

اس نے سر نفی میں ہلا دیا

اۓ نو انڈین وائفس تھوڑی شرمیلی ہوتی ہے لیکن اتنی کہ اپنے ہسبینڈ سے بات بھی نا کرے آئے ڈونٹ تھنک سو… ……..ضرور کوئی بات ہے

بلکل…… ہمیں بھی یہی لگتا ہے

رائمہ وہاں آئی تو اس کی بات سن کر بولی

ہے نا سوئٹ ڈش…. سنا آپ نے آپی کو بھی یہی اب دو دو لوگ تو غلط نہیں ہوسکتے نا

رائمہ ماہی کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئی

ہاں ماہی اگر آپ کو کوئی ٹینشن ہے تو آپ ہم. سے شئیر کریں ہم جانتے ہے آپ اس لیے ہم سے ہچکچاتی ہے کیونکہ ہم آہل کی بہن ہے لیکن ہم آپ کی بھی تو بہن ہے نا تو کیا آپ اپنی بہن سے اپنی باتیں شئیر نہیں کرینگی

وہ اسے سمجھاتے ہوے بولی

آپی ہم… …

وہ کچھ کہتی اس کے پہلے مہیر بول پڑا

کہیں ایسا تو نہیں آہل اپنی دوست تنوی سے زیادہ کلوز ہے اس لیے آپ جیلس فیل کررہی ہے..

وہ ابرو اٹھا کر بولا

ہم کسی سے نہیں جلتے ……..

وہ فورا بولی مہیر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی

تو یہ پرابلم ہے ……….آپ کو اہل اور تنوی کی دوستی پسند نہیں ہے شاید……

وہ اس کے انداز سے ہی سمجھ گیا

ہاں وہ لڑکی تو ہمیں بھی کچھ خاص پسند نہیں ہے

رائمہ سوچتے ہوۓ بولی

اگر آپ کو سچ میں اس بات سے پرابلم ہے تو ایسے اپسیٹ رہنے کی بجاے کچھ کرنا چاہیے ….. ہے نا سویٹ ڈش

وہ. ماہی سے کہہ کر رائمہ کی جانب دیکھ کر بولا

ہاں بلکل… ہم خود آہل سے بات کرتے ہیں

نہیں آپی پلیز….
ماہی فورا بول پڑی

بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا دس اس ایکشن ٹائم….
وہ سوچتے ہوے بولا

کیا مطلب..
ماہی نے حیرت سے پوچھا

مطلب یہ کہ آپ بات کرینگی تو وہ ماہی بھابھی سے الٹا جھگڑنے لگے گے ہمیں کچھ ایسا کرنا چاہیے جس سے وہ خود اس تنوی سے دور رہیں اور ماہی بھابھی کو اٹینشن دیں

وہ رائمہ کی جانب دیکھ کر بولا

لیکن یہ کیسے ہوگا…….

رائمہ نے پہلے ماہی کو دیکھا پھر پوچھنے لگی مہیر پوری طرح سے ماہی کی جانب متوجہ ہوا

جیسے کہ آپ جیلس فیل کررہی ہے ویسے آہل کو بھی جلائیں مطلب آپ بھی اس کے سامنے کسی ہندسم ڈیشنگ لڑکے کی تعریفیں کیجیے بے وجہ ہنسیں خوش رہیے اسے سوچنے پر مجبور کردیجیے کہ آخر آپ کی لائف میں چل. کیا رہا ہے وہ سب کچھ چھوڑ کر بس آپ کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجائگا… کیسا لگا میرا پلین

وہ بات ختم کرکے دونوں کو باری باری دیکھ کر بولا ماہی اور رائمہ نے ایک دوسرے کو دیکھا

ایکدم فلمی……

ماہی نے منہ بنا کر کہا

یہ کیا بات ہوئی بھلا کسی کی تعریف کرو خوش رہو جیلس فیل. کراواؤ….. ہمیں نہیں لگتا اس بات سے کوئی فرق پڑے گا انھیں

رائمہ نے بھی اسی کا ساتھ دیا

میری بھولی بھالی لیڑیس آپ دونوں نہیں جانتی بٹ ایس آ مین مجھے بہت اچھی طرح سے پتہ ہے کہ یہ پلین بیسٹ ہے

وہ دونوں کو سمجھاتے ہوۓ بولا

مہیر جی ہم ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتے آپ…….

وہ آہل کی کو سیڑھیاں اترتے دیکھ خاموش ہوگیئی اس کی نظروں کے تعاقب میں دونوں نے بھی آہل کو ہی دیکھا

آہل ……..کم. کم…. ہم لوگ تمہاری ہی بات کر رہے تھے

وہ اسے دیکھ مسکرا کر بولا رائمہ. اور ماہی نے ایک ساتھ اسے گھور کر دیکھا تو اا نے زبان دانتوں تلے دبائی

آئی مین یہی کہ تم. کتنے بزی رہتے ہو ہمیشہ کام. کرتے ہو کبھی کوئی فن نا مستی

اس نے بات کو دوسرا رخ دیا دونوں نے سکون کا سانس لیا

میرے پاس فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ہے

وہ چیئر کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ بے نیازی سے بولا

یار کبھی فضول کام بھی کرکے دیکھو ان کا بھی اپنا ہی مزا ہے ایم ائے رائٹ سینوریٹا

اس نے ماہی سے تائید چاہی ماہی نے سر اثبات میں ہلا دیا اہلےنے دیکھا نہیں لیکن اس کی مسکراہٹ محسوس کی

ویسے تم نے بتایا نہیں تم یہاں کس کام کے لیے آئے ہو

آہل نے گلاس میں جوس ڈالتے ہوے کہا

میں تو بس یونہی تم سب سے ملنے آیا تھا لیکن اب لگ رہا ہے سب سے ملنا تو ایک بہانا تھا اوپر والے کو مجھے ماہی بھابھی کے ہاتھ کا ٹیسٹی ٹیسٹی کھانا کھلوانا تھا

وہ ادا سے بولا رائمہ اور ماہی دونوں ہنس پڑی جب کہ آہل کوئی نے سنجیدگی سے ماہی کو دیکھا

تو اب تک تو کافی ٹائپ کا کھانا کھا لیا ہوگا تم نے….
وہ ناشتہ شروع کرتت ہوے بولا

بلکل آے کانٹ ایکسپلین ایسا کھانا میں نے اپنی لائف میں کبھی نہیں کھایا آلو کے پراٹھے…. حیدرہ بادی بریانی… دہی وڑے. اور اور اور سپیشلی پودینے کی چٹنی واؤ ویری ٹیسٹی

وہ زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوے بولا

ویسے کب جانے والے ہو واپس

وہ بنا تاثر بولا لیکن انداز ایسا تھا کہ رائمہ نے بمشکل اپنی ہنسی روکے رکھی

ابھی تو بلکل نہیں میں سوچ رہا ہوں یہی پر کوئی ماہی بھابھی جیسی لڑکی ڈھونڈ لوں اپنے لیے

وہ ماہی کی جانب دیکھ کر بولا

کسی کے جیسی ہی کیوں الگ کیوں نہیں

آہل نے مہیر کو بنا دیکھت کہا

کسی کے جیسی نہیں اہل بلکل ماہی بھابھی جیسی

Because mahi bhabhi is awesome
Number one in cocking
Number one in looking
Loving
Caring
Beutiful
Smart

وہ کیا کہتے ہیں سرو گن سمپن ……

وہ انگلوں پر اس کی خوبیاں گنواتے ہوے بولا

Your absolutely right maheer

رائمہ نے اپنی ہنسی چھپاے کہا

ہے نا سویٹ ڈش …دیکھا آہل

وہ رائمہ کی تائہد پاکر خوش ہوا

لیکن اگر تم ڈھونڈو تو اس سے بھی بیٹر مل جائگی

وہ اب کہ. مہیر کو دیکھ کر بولا

نو نو نو….. اگر اس سے زیادہ ہوئی تو اٹیٹیوڈ بھی دکھاے گی نا پھر کیا فائدہ ماہی بھابھی کو دیکھو کتنی سوفٹ ہارٹ ہے پرفیکٹ ان ایوری وے
وہ ماہی کی جانب دیکھ کر مسکرا کر بولا بدلے میں وہ ہلکا سا ہنسی .

I m getting late

وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا

تم جا رہے ہو آہل یو نو وھاٹ ابھی ماہی بھابھی مونگ دال کے پکوڑے وتھ پودینہ کی چٹنی بنانے والی ہے بہت مزا آئیگا

مہیر نے اسے جلانے کی ایک اور چال چلی

Whatever……..

وہ بے نیازی سے بولا اور جانے لگا

تو سینوریٹا آج ہم تینوں کوئی اچھی سی مووی دیکھتے ہوۓ انجواۓ کرتے ہیں

وہ جان بوجھ کر زور سے بولا آہل جاتے جاتے رکا

مہیر….
پلٹ کر اسے اواز دی

یس آہل….

وہ وہیں سے رخ موڑ کر بولا

تم میرے ساتھ چلو مجھے تم سے کچھ کام ہے

وہ ماہی کو دیکھ کر پھر اسے دیکھنے لگا

مجھ سے ………

مہیر نے بے یقینی سے کہا

ہاں چلو

وہ کہہ کر باہر نکل گیا رائمہ نے کب کی روکی ہوئی ہنسی کو ازاد کیا اور ہنس ہنس کے سرخ ہوگئی

دیکھا کیسے جل جل. کر ٹوسٹ ہو رہا ہے میں نے آپ سے کہا تھا نا ….ائے نو کوئی بھی بندہ کسی
دوسرے کے منہ سے اپنی والی کی تعریف نہیں سن سکتا

وہ خود کو سراہتے ہوے سٹائل سے بولا

اپنی والی…..

ماہی نے حیرت اور ناگواری سے کہا

اۓ مین گھر والی….
وہ اصلاح کرتے ہوے بولا

اچھا اب میں جاتا ہوں ورنہ وہ واپس ائگا اور مجھے کھینچ کر لے جاےگا سی یو…
وہ جلدی سے اٹھ کر باہر نکلا ماہی رائمہ کو حیرت اور خوشی سے دیکھنے لگی


آہل نے روم میں آیا اور تو ماہی اسے دیکھ کر وہاں سے جانے لگی

ماہی….

اہل کے اواز دینے پر وہ رک گئی لیکن پلٹی نہیں

ہمیں آپ سے کوئی بات نہیں کرنی آہل نے جی

وہ کہہ کر جانے لگی تو آہل نے اس کی کلائی پکڑ لی اور کھینچ کر اپنے قریب کیا

میں نے تم سے کہا تھا نا مجھے تمہارا مہیر سے بات کرنا پسند نہیں…

اس کے لہجے میں سختی نہیں بلکہ سنجیدگی تھی ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا بس نظریں جھکاے کھڑی رہی

کچھ پوچھ رہا ہوں میں……

وہ اسے غور سے دیکھتے ہوۓ بولا

ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو کیا پسند ہے اور کیا نہیں اور ہم. نے تو کبھی آپ کو نہیں روکا کسی سے بات کرنے سے

وہ اس کی جانب دیکھ کر بولی

تنوی کی بات کر رہی ہو تم ……
وہ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر بولا

ہم کسی کی بات نہیں کررہے چھوڑیے

وہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوےبولی

تنوی میری دوست ہے
وہ گرفت مزید سخت کرتے ہوے بولا

مہیرجی بھی ہمارےدوست ہے

اس نے بھءی جواب دیا

تم اب اس سے بات نہیں کروگی
وہ حکمیہ لہجے میں بولا

ہم وہی کرینگے جو ہمیں کرنا ہوگا آپ کون ہوتے ہیں ہمیں روکنے والے
وہ اسے دیکھ کر غصے سے بولی

بتاؤ میں کون ہوں…..
وہ ایک. پل. رکا اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
شایدتم بھول رہی ہو تم میری بیوی ہو

آپ بھول رہے ہیں وہ کانٹریکٹ بس چھ مہینےکا ہے

وہ نظر پھیر کر بولی

اور ابھی تک چھ مہینے ختم نہیں ہوے اس لیے تب تک تم وہی کروگی جو میں چاہونگا مہیر سے دور رہو
وہ ہاتھ سے اس کا چہرہ اوپر کرکے بولا

ماہی اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی اور پوری قوت لگا کر اس کی گرفت سے آزاد ہوئی

کیا فرق پڑتا ہے آپ کو چاہے ہم کچھ بھی کریں.

فرق پڑتا ہے جب تک تم سے رشتہ ہے تب تک….

ماہی کچھ کہتی اس کے پہلے دروازےپر دستک ہوئی آہل دوبارہ نے اجازت دی تو ملازم اندر آیا

بڑے صاحب نے سب کونیچے بلوایا ہے

آہل نے سر اثبات میں ہلایا وہ چلا گیا تو آہل نے ماہی کی جانب دیکھا اور باہر کی جانب بڑھ گیا ماہی بھی اس کے پیچھے چل دی


ہم. نے رائمہ کا رشتہ شیخ صاحب کے بیٹے دانش کے ساتھ طے کر دیا ہےاور اسی جمعے کو دونوں کا نکاح ہوگا…….

انھوں نے گویا سب کے سر پر بم پھوڑا سب ہی حیران کھڑے تھے رائمہ اور مہیر کہیں باہر گئے ہوے تھے

یہ آپ کیا کیا کہہ رہے ہیں یوں اچانک…….. ….

ثریا بیگم نے اس خاموشی کو توڑا

اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے دانش اچھا لڑکا ہے پڑھا لکھا سمجھدار ہر لحاظ سے قابل……… اس لیے میں نے دیر کرنا مناسب نہیں سمجھا اور سب طے کردیا اس جمعے کو نکاح اور اسی مہینے کی پچیس تاریخ کو رخصتی

تمہاری سب باتیں ٹھیک ہے حارث لیکن یوں اچانک کسی سے صلاح مشورہ نا سہی لیکن کم سے کم ایک بار رائمہ سے تو بات لیتے کہ وہ کیا چاہتی ہے

وہ کیوں انکار کریگی اماں…….. اتنا اچھا رشتہ ہے اس کے لیے…….. ہم کیا اس کا برا چاہے گے

میراوہ مطلب نہیں ہے مگر……

یہ نکاح نہیں ہوگا نا جمعے کو نا کبھی……

اہل نے ان کی بات کاٹ کر کہا

اور جانے کے لیے پلٹ گیا سب ہی اسے حیرانی سے دیکھنے لگے

وجہ جان سکتا ہوں تمہارے انکار کی……..

حارث صاحب نے کہا تو وہ رک گیا

مجھے کسی کو کوئی وجہ نہیں بتانی بس یہ رشتہ نہیں ہوگا
وہ بنا مڑے بولا اور آگے بڑھ گیا

رک جاؤ آہل

حارث صاحب نے زوردار آواز دی تو وہ رک کر پلٹا حارث صاحب اس کے پاس اۓ

اپنی بات کرکے چل دینے کی عادت چھوڑ دو کیوں نہیں چاہتے تم کہ یہ رشتہ ہو کیا اپنی بہن کی خوشیاں عزیز نہیں تمہیں کیا تم نہیں چاہتے کہ اس کی زندگی پھر سے شروع ہو

مجھے آپ کو کوئی صفائی نہیں دینی آپ وجہ جاننا چاہتے ہیں تو بس اتنا سن لیجیے کہ جس لڑکے سے آپ چاہے گے اس سے تو آپی کی شادی ہر گز نہیں ہوگی چاہے پھر کسی سے ہو یا نا ہو

اہل…..
حارث صاحب نے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا سب ہی اپنی جگہ دہل کر رہ گئےماہی نے بھی اپنا دل تھام لیا ثریا بیگم جلدی سے وہاں آئی

کاش کہ یہ تھپڑ تمہیں بہت پہلے مار دیا ہوتا
تو آج تم ہم سے اس طرح بات کرنے کی ہمت نہیں کرتے
وہ غصے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ بولے آہل نے ہلکا سا ہنسا

افسوس کے کہ آپ کی کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ آپ مجھے تھپڑ بھی مار سکے

آہل بیٹا…….
ثریا بیگم نے اسے روکنے کی کوشش کی

یہ شادی نہیں ہوگی مام ……میری بہن کی زندگی ایک بار پھر ان کے فیصلے پر قربان نہیں ہوگی……

وہ ثریا بیگم کی جانب دیکھ کر بولا

یہ شادی ہوگی اور نکاح جمعے کو ہی ہوگا اور اسی لڑکے سے ہوگا جس سے میں چاہونگا

وہ اس کی بات نظر انداز کرتے ہوے بولے

اگر ایسا ہوا تو میں اسے اس دن جان سے مار دونگا

وہ آگ اگلتی انکھوں کے ساتھ بولا اور بجلی کی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا

آہل میری بات سنو بیٹا……..

ثریا بیگم اسے روکتی رہ گئی

نکاح کی تیاریان شروع کرو میں بھی دیکھتا ہوں کہ یہ شادی کیسے نہیں ہوتی
حارث صاحب اپنی بات کہہ کر باہر نکل گئے

یا اللہ یہ سب کیا ہو رہا ہے…..

دادی نے پریشانی سے کہا ماہی ان کے پاس آکر گاڑی بیٹھ گئی اور ان کا ہاتھ تھام کر تسلی دی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ جہاں دانش کا نام سن کر خوش ہوئی تھی اس کی ساری خوشی حیرت اور پریشانی میں بدل چکی تھی

بیٹا تم جاکر آہل نے کو دیکھو

ثریا بیگم نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے آتھ گئی اور روم میں ائی

دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سارا کمرہ بکھرا ہوا تھا زمین پر سارا سامان ٹوٹا پڑا تھا سارے کشنس ادھر ادھر بکھرے تھے اس کے اندر قدم رکھتے ہی اس نے دیکھا آہل نے ٹیبل لیمپ اٹھا کر زور سے دیوار پر دے مارا اس کا دل دہل کر رہ گیا وہ سنبھل سنبھل کر قدم رکھتی اندر آئی
اہل جی …..یہ آپ کیا کیا کر رہے ہیں رک جایئے
آہل دیوار پر لگی پیبٹنگ نکال کر پھینکنے لگا تو ماہی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

جسٹ لیو می….
اس نے ماہی کا ہاتھ زور سے جھٹک کر پوری طاقت سے پینٹنگ زمین پر دے ماری ماہی نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا اور خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی آہل نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا سارا سامان ایک ہاتھ مار کر زمین پر پھینک دیا اور پوری طاقت سے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے پر ہاتھ مارا جس سے آئینہ میں لاکھوں دراریں پڑ گئی

آہل جی….

ماہی گھبرا کر آگے بڑھی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اس کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوگیا تھا

یہ کیا کیا آپ نے

وہ گھبرا کر بولی

جسٹ لیو می الون
وہ اپ ہاتھ کھینچ کر بے رخی بولا

بلکل نہیں ہم آپ کو ایسے اکیلے چھوڑکر بلکل نہیں جاینگے دیکھیے کتنا خون بہہ رہا ہے دکھایے ہمیں……

وہ دوبارہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوے آہل نے اس بار کچھ نہیں کہا بس دوسری جانب سامنے دیکھتے ہوے گہرائی سے کچھ سوچنے لگا

ماہی نے اپنے دوپٹے سے دھیرے دھیرے خون صاف کیا

اور جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لاکر اس پر پٹی باندھی آہل بس خاموش کھڑا رہا وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی اور اس کا زخمی ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا

آپ کو اپنی ڈیڈ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی آہل جی ….

وہ دھیرے سے بولی آہل نے نے ایک گہری سانس خارج کی

اخر کیوں آپ ان سے اتنے ناراض ہے کہ ان کی بات ماننا تو دور سننا تک نہیں چاہتے ان سے اس لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کوئی بیٹا نہیں کرتا

وہ ایک پل. کو رکی

ہم نہیں مانتے کہ اپ کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے آپی کے لیے ایک غلط لڑکا چنا تھا کیونکہ یہ بات آپ نے بھی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ہوگا آپ کی ناراضگی کی وجہ کچھ اور ہے جو بہت بڑی ہے

وہ بنا اس کی جانب دیکھے پرسوچ لہجے میں بولی آہل حیرت سے اسے دیکھنے لگا

کیا بات ہے وہ جس وجہ سے آپ ان سے اتنے بدظن ہیں کہ ان کی کوئی بات نہین ماننا چاہتے اسلیے ان کے کہنے پر ہم سے شادی کرنے کی بجاے آپ نے کانٹریکٹ میرج کرنا صحیح سمجھا کیونکہ ہمیں انھوں نے چنا تھا
……………کوئی بہت بڑی وجہ ہی ہے جو آپ اپنے نام کے آگے ان کا نام تک نہیں لگاتے ………کیوں آہل جی

وہ. اس کی جانب دیکھ کر بولی آہل نے اسے غصے سے دیکھا اور اس کا ہاتھ زور سے جھٹک دیا

میں تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا اور نا ہی مجھے پسند ہے کہ کوئی میری پرسنل لائف میں انٹیر فئیر کرے سمجھی تم اپنے کام سے کام رکھو اور جب تک یہاں ہو اپنا منہ بند کرکے رہو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا

وہ سختی سے بولا روم سے باہر نکل گیا ماہی اسے حیرت سے جاتے ہوے دیکھتی رہی

وجہ جو بھی ہو آہل جی ہم پتہ لگا کر رہے گے…….. کیونکہ اس بار سوال آپی کی زندگی کا بھی ہے