Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 36

سنایا خان

ایک بات پوچھوں تم سے

ماہی اپنے اور روشنی کے لیے کافی لے کر بالکنی میں آئی تو روشنی نے اپنا کپ تھامتے ہوۓ کہا ماہی نے اسے سر ہلا کر ہاں کہا

کیا تمہیں نہیں لگتا کہ سہان کو اس کے پاپا کہ ضرورت ہے

وہ کافی میں چمچ چلاتے ہوۓ بولی ماہی اس کی جانب دیکھنے لگی

نہیں… اسے کسی کی ضرورت نہیں ہم ہے نا اس کے پاس ہم ہی اس کی ماں ہے اور ہم ہی اس کے پاپا

وہ کہہ کر کافی پینے لگی

زمہ داریاں نبھالینے سے تم اس کے پاپا کی جگہ نہیں لے سکتی اب وہ بڑا ہورہا ہے اسے بھی اور بچوں کی طرح دونوں کی ضرورت ہے

روشنی نے پرسوچ لہجے میں کہا

فرض کرو وہ آج بھی تمہارا انتظار کررہے ہو تمہیں ڈھونڈ لیں اور تم دونوں کو ہمیشہ کے لیے لینے اجاے تو

وہ اس کی جانب دیکھ کر بولی ماہی اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی

ایسا کچھ نہیں ہوگا ہم. جانتے ہیں اب تک تو وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہونگے بھول چکے ہوگے ہمیں اور اگر کبھی بھولے سے بھی ہم یاد اجاتے ہونگے تو وہ صرف ہم سے نفرت ہی کرتے ہونگے

وہ باہر آسمان کی جانب دیکھ کر بولی

اگر تمہیں اتنا یقین ہے تو تم کیوں اپنی لائف میں آگے نہیں بڑھ جاتی…. کب تک یوں اکیلی زندگی گزارتی رہوگی. …اپنے لیے نا سہی سہان کے لیے… کتنے سارے پرپوزلس آتے ہیں تم کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر سیٹل ہوجاؤ

ہم ایسا نہیں کرسکتے….ہم تو ہمیشہ ہمیشہ سے بس اہل جی کے تھے اور ان ہی رہے گے… اہل جی کا نام اور وہ خود ہمارے ساتھ جڑے ہوۓ ہیں چاہے وہ ہمارے پاس نا ہو لیکن اب بھی ہم صرف انہیں کے ہیں ہم ان کی جگہ کبھی کسی کو نہیں دے سکتے نا اپنی زندگی میں نا اپنے دل میں….اور جہاں تک سہان کا سوال ہے ہم جانتے ہیں وہ بھی ایک دن سمجھ ہی جائگا

وہ اس کی صلاح سے نفی کرتے ہوے بولی

کیسے سمجھے گا وہ…… تم نے تو اسے حقیقت نہیں بتائی بلکہ جھوٹی امیدیں دے دی اسے پورا یقین ہے کہ اس کے پاپا ائینگے اور وقت کے ساتھ وہ یقین مضبوط ہوتا جا رہا ہے تم نے کبھی سوچا ہے جب اس کی امیدیں ٹوٹیں گی تب کیا ہوگا جب اسے سچ پتہ چلے گا تب کیا ہوگا

ماہی نے آنکھیں بند کرلی اور چند سیکنڈ بعد کھولی تو ان میں انسو تھے

تو ہم کیا کریں روشنی…… اگر ہم اسے سچ بتاتے تو کیا وہ رہ پاتا بنا ان سے ملے کیا ہم سے ضد نہیں کرتا ان کے پاس جانے کی

اٹس اوکے ….سوری یار مجھے یہ ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا تمہیں پریشان کردیا …..بس کبھی کبھی پتہ نہیں کیوں سہان کو دیکھ کر یہ سب سوچنے لگتی ہوں میں…..

وہ اسے روتے دیکھ کر شرمندہ ہوگئی

ہم جانتے ہیں لیکن ہم خود بھی بہت مجبور ہے دونوں طرف سے نقصان تو ہمارا ہی ہے

وہ مایوسی سے بولی

یو نو واٹ ماہی…… ہمیں ہمیشہ ایسا لگتا کہ مشکل راستہ ہمارے لہے بہتر ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کبھی کبھی آسان راستہ بھی چن لینا چاہیے

روشنی نے بنا اسکی جانب دیکھے کہا

مام…….

سہان وہاں آیا لیکن ماہی. کو دیکھ کر کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگیا

مام کیوں رو رہی ہے

وہ روشنی کی جانب دیکھ کر بولا

تم جو اتنے بدتمیز ہو روۓ نہیں تو کیا کریں

روشنی کی بات پر اس نے اسے گھورا

مام آۓ ایم سوری….

سہان نے سنجیدگی سے ماہی سے کہا ماہی نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا

یو نو نا ……کہ سہان کسی کو سوری نہیں کہتا اس لیے دے رہا ہوں تو رکھ لو

ماہی کی خاموشی پر وہ سنجیدگی سے بولا ماہی اسے غور سے دیکھنے لگی وہ بلکل اہل جیسی باتیں کرتا تھا باتیث ہی نہیں اس کی پسند نا پسند رنگ روپ سب کچھ اہلےسے ملتا تھ

واؤ…. احسان کررہے ہو

روشنی نے اس کی بات پر انکھیں بڑی کرکے کہا

Roshni please stay away… This is a serious meter

وہ سنجیدگی سے بولا تو روشنی کی انکھیں مزید بڑی ہوگئی

الرائٹ آج کے بعد آپ کو تنگ نہیں کرونگا…. اور مام بھی نہیں کہونگا

تو پھر کیا کہوگے..امی

سوال روشنی نے کیا

نو…..

پھر….
وہ. حیران ہوکر بولی

اے ایم… AM
سہان نے جواب دیا

اے ایم…

ماہی اور روشنی نے ایک ساتھ کہا

Yes…. A for… Ammi..

M for… Mom

Isn’t it great

وہ روشنی کو دیکھ کر بولا

Fantastic my love

روشنی نے خوش ہوتے ہوۓ کہا ماہی نے ہنستے ہوۓ اسے خود سے لگا لیا

چاہے تم کچھ بھی کہو ہمیں سب کچھ پیارا لگتا ہے

وہ. اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوۓ بولی

Roshni is right you are so imotional
………. اموشنلی بلیک میل کرکے اپنے کام نکلوانا آتا ہے آپ کو

وہ اس کی گود میں سیدھے بیٹھتے ہوۓ بولا ماہی نے روشنی کو حیرت سے دیکھا

ہی اس رائٹ پتا نہیں انڈین گرلس اتنی اموشنل. کیوں ہوتی ہے

روشنی نے اس کی حیرانی کو دور کیا

او ہیلو… تم بھی انڈین ہی ہو

ماہی نے ہاتھ دکھا کر کہا

ہاں بٹ تھینک گاڈ.. میں وہاں زیادہ رہی نہیں ہوں ورنہ میں بھی تمہاری طرح ہو جاتی روتوں….

روشنی…..
ماہی نے اسے گھورتے ہوۓ کہا

مام… اۓ مین… اے ایم…… شی اس رائٹ… کم سے کم میری امیج کا تو خیال کیجیے… کوئی دیکھ لیا تو کیا سوچے گا سہان کی مام اور روتو

سہان نے رخ موڈ کر اس کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی روشنی نے مشکل سے اپنی ہنسی روکی

ہم دنیا کی پہلی ماں ہے جس کا بیٹا اسے یہ کہہ رہا ہے ورنہ یہ بات ماں کہتی ہے اکثر…

اب کیا کریں جب ماں ہی روتو ہے تو بیٹے کو ہی سمارٹ بننا پڑے گا نا

روشنی نے سہان کا ساتھ دیا

روشنی……. اور تم ہوم ورک کیا تم نے

وہ روشنی کو گھر کر دوبارہ سہان سے مخاطب ہوئی تو اس نے سر نفی میں ہلا دیا

اپنی عمر والے کام بھی کرلیا کروں کبھی چلو اٹھو…….

وہ اسے اتار کر خود بھی اٹھ گئی
.
ماہی…..

وہ جانے لگی تو روشنی نے اسے روکا

کل دادی صاحب آرہی ہے…….

وہ یاد انے پر بولی

What….

ماہی سے پہلے سہان نے ری ایکٹ کیا

سہان ……
ماہی اسے اتنا شاکڈ دیکھ کر حیرت سے بولی

Mom… She is so irritating

وہ اوپر سر کر ماہی کو بولا

سہان ایسے نہیں کہتے بیٹا سوری بولو ….
ماہی جلدی سے بولی

نو مام…. روشنی سے پوچھ لو آپ

ماہی نے حیرت سے روشنی کو دیکھا

میں نے ایسا کچھ نہیں کہا

وہ صاف مکر گئی

تم کیوں ایسے بول رہے ہو بیٹا نانو تو تمہیں بہت پیار کرتی ہیں

پیار…. مجھے گڈو بلاتی ہے وہ ہاؤ ٹیکی…… دن بھر گال کھینچتی رہتی ہے کس کرتی رہتی ہے. ….گیمس کھیلنے نہیں دیتی . بس آل ٹائم یہ مت کرو وہ مت کرو…نو مام انہیں مت بلایے

اس نء ساری چجایتیں ایک ساتھ کردی

وہ بلانے سے نہیں اپنی مرضی سے آتی ہیں اور کل تمہیں بھی ائیرپورٹ پے ساتھ لانے کو کہا ہے

روشنی نے اس کی. مشکل. مزید بڑھائی

نو وے… میں کبھی نہیں جاؤنگا

وہ غسہ سے کہہ کر باہر بھاگا ماہی اسے آواز دینی رہ گئی

سہان…..دن پہ دن بہت ہی بدتمیز ہوتا جارہا یہ

وہ روشنی کی جانب دیکھ کر بولی

اور سمجھدار بھی……

روشنی نے ایک گہری سانس لے کر کہا تو ماہی نے اسے گھورا

روشنی……..

سوری….
روشنی مسکراتے ہوۓ کہا ماہی اسے گھورتی ہوئی باہر نکل گی
ی