Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 23

سنایا خان

اہل………

آہل آفس میں بیٹھا تھا انکھیں بند کیے کچھ سوچ رہا تھا تنوی اندر آئی اور آہل کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے اسے مخاطب کیا آہل سیدھا ہوکر بیٹھ گیا لیکن بولا کچھ نہیں

اۓ نو تم بہت پریشان ہو بٹ تمہیں اس طرح غصے میں آکر کوئی بھی فیصلہ نہیں لینا چاہیے آہل

آہل نے ہی اسے ساری بات بتائی تھی اور اب وہ اسی وجہ سے اس سے ملنے ائی تھی

یہ سوال تمہاری بہن کی لائف کا ہے اس لیے زیادہ امپورٹینٹ یہ ہے کہ وہ کیا چاہتی ہیں

آہل نے اس کی جانب دیکھا

تمہیں پہلے ان سے بات کرنی چاہیے آہل

آہل نے سر اثبات میں ہلا دیا

اینڈ ڈونٹ وری سب ٹھیک ہو جاے گا اوکے

وہ اسکے گلے لگتے ہوے بولی


اۓ تھنک مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے

مہیر کی بات پر ماہی نے اسے حیرت سے دیکھا وہ دونوں ابھی ابھی رائمہ کے کمرے سے باہر اۓ تھے اور اس وقت ڈراونگ روم میں بیٹھے تھے

گھر میں اتنا ٹینشن کا ماحول چل رہا ہے میرا یہاں رکنا سہی نہیں ہے

وہ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر بولا

ٹینشن کے وقت جانے کی بات نہیں کرتے بلکہ اس ٹینشن کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں مہیر جی

وہ اس کی جانب دیکھ کر بولا

لیکن میں کیا کرسکتا ہوں ماہی بھابھی آہل اور ماما جی کے بیچ میں تو کوئ نہیں بول سکتا تو میں کیسے……

اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ماہی خاموش رہی

بول نہیں سکتے لیکن آپ ہماری مدد تو کر سکتے ہیں نا
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولی

کیسی مدد …..

مہیر نے حیرت سے پوچھا

مہیر جی ہمیں لگتا ہے کہ آہل جی کسی وجہ سے ڈیڈ سے ناراض ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ وہ وجہ کیا ہے کیا آپ جانتے ہیں …..

وہ کچھ پل.رک کر بولی

مجھے تو ایسی کوئی بات نہیں معلوم کیونکہ ہم لوگوں کا یہاں آنا جانا بہت کم ہی رہا ہے شروع سے اور مام سے جو سنا اس سے تو ایسا لگتا نہیں کہ ماما جی نے کچھ غلط کیا ہوگا

وہ پرسوچ لہجے میں بولا

مہیر جی کیا آپ ہماری. مدد کرینگی سچ معلوم کرنے میں….

بلکل….ایک بات اور ہے….

وہ دھیان آنے پر بولا

کیا….

مامی جی آہل کی ریئل مدر نہیں ہے

اس نے دھیرے سے کہا ماہی حیرت اور بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی

ماماجی نے سیکنڈ میریج کی کیونکہ آہل کی مام کی ایک ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوگئی تھی

اس نے اپنی بات پوری کی

کیا ہوا تھا انہیں….

وہ تو مجھے نہیں پتا لیکن کافی وقت پہلے مام سے سنا تھا کہ جب آہل کی مام کی ڈیتھ ہوئی اور آپی اور آہل اکیلے ہوگیے تب ماما جی سیکنڈ میریج کرلی لیکن مامی جی نے کبھی کوئی مس بیہیو نہیں کیا بلکہ وہ تو ان دونوں کو بہت پیار کرتی ہیں اور آہل بھی…..

مہیر نے اسے تفصیل سے کہا

ہماری تو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ اصل بات کیا ہے اگر آہل جی کو ڈیڈ کی یہ بات پسند نہیں ہوتی تو وہ مام سے ناراض ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو ان سے بہت پیار کرتے ہیں اور پھر انھیں کے لیے تو یہ شادی کی تھی ڈیڈ نے تو وہ کیوں ناراض ہونگے بھلا اس بات پر

وہ سوچتے ہوے بولی

نو آئیڈیا….کیوں نا ہم لوگ آپی سے پوچھ لیں انھیں تو سب پتہ ہی ہوگا

مہیر نے کندھے اچکا کر کہا

پتہ تو ہوگا لیکن ہم انھیں اس وقت کچھ نہیں پوچھ سکتے جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بعد وہ خود بہت ٹینس ہے ایسے میں ہم ان سے سوال جواب کرکے انہیں مزید پریشان نہیں کر سکتے

یو آر رائٹ….بٹ ڈونٹ وری سب ٹھیک ہوجاے گا
مہیر نے اسے تسلی دی تو اس نے اثبات مین سر ہلا دیا


میں نہیں چاہتا کہ اپ کی شادی اس لڑکے سے ہو

آہل کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا رائمہ کے پاس اس سے بات کرنے آیا تھا لیکن سمجھ نہین پا رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے اخر کو ہمت کرکے بول پڑا اس کی بات پر رائمہ نے اسے سنجیدگی سے دیکھا

یہ بات صرف ہم جانتے ہیں آہل وجہ صرف اتنی ہے کہ یہ ڈیڈ کا فیصلہ ہے

وہ بنا اس کی جانب دیکھے سنجیدگی سے بولی

کب تک یہ سب چلے گا آہل کب تک اس طرح اپنی نفرت کا اطہار کرتے رہے گے آپ کب تک ایسے ہر وہ چیز کرینگے جو ڈیڈ نہیں چاہتے

اب کے وہ اس کی جانب دیکھ کر بولی

ہمیشہ
اہل نے سنجیدگی سے کہا

لیکن کیوں…… آپ یہ ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتے آہل ……….آپ کوکیا لگتا ہے آپ ایسا کرکے صرف ڈیڈ کو پریشان کرتے ہیں ………نہیں آہل بلکہ اس کا اثر سب پر پڑتا ہے سپیشلی مام وہ ہر بات کے لیے خود کو ذمہ دار سمجھتی ہیں دیکھا ہے ہم نے انہیں صبح سے روے جا رہی ہیں وہ اور دادی ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا اس سب کا .. سب کی کیا غلطی ہے آہل اس میں کب تک یہ سب ہوتا رہے گا پچھلی باتوں کو بھول کیوں نہیں جاتے آپ

وہ بھیگی آواز میں بولی

نہیں بھول سکتا میں…….

وہ اس کی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے بولا

بھول سکتے ہے اگر آپ چاہے تو ………کچھ حاصل نہیں ہوگا آہل ……بس بگڑتا جاےگا سب کچھ ……پلیز بھول جاؤ وہ سب

وہ پر امید لہجے میں بولی

کیا آپ بھول سکتی ہے…

آہل نے اس سے سوال کیا وہ بس اسے دیکھتی رہی پھر نظریں پھیر لیں

نہیں بھول سکتی آپ …. میں جانتا ہوں…….. لیکن آپ کا دل بہت بڑا ہے آپ سب کچھ چھپا سکتی برداشت کرسکتی ہے کسی کو بھی آسانی سے معاف کرسکتی ہے لیکن میں نہیں کرسکتا یہ

رائمہ خاموش رہی آہل کچھ دیر رک کر بولا

کیا آپ کو لگتاہے ڈیڈ کا یہ فیصلہ سہی ہے

غلط بھی تو نہیں ہے آہل

غلط ہے آپی…. ایسے کیسے وہ آکر کہہ سکتے ہے کہ نکاح طے کر دیا ایک بار آپ سے پوچھا تک نہیں
انھوں نے جب کے پہلے بھی ایک بار ان کی وجہ سی اپکی زندگی برباد ہوچکی ہے اپ نے اتنی پرابلمس فیس کی لیکن انہیں کوئی احساس نہیں ان کی یہی لاپرواہی میری نفرت کی وجہ کی…..

اس نے ایک گہری سانس لی

پھر بھی کسی بھی نفرت کسی بھی غصے سے بڑھ کر میرے لیے آپ ہے اور جو آپ کے لیے سہی ہوگا وہ ہی ہوگا

وہ کچھ دیر رکا پھر اسی جانب دیکھ کر بولا

کیا آپ یہ نکاح کرنا چاہتی ہیں

رائمہ نے اسے سنجیدگی سے دیکھا اور پھیر نظر پھیر لی وہ اسے کیا جواب دیتی بھلا

ویسے وہ لڑکا اچھا ہے اس میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں جو آپ کا دل چاہتا ہے …..جو آپ نے چاہے گی وہی ہوگا

وہ جانے کے لیے اٹھتے ہوے بولا رائمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور خود بھی کھڑی ہوئی

ہم ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے آہل جس سے ہمارا ایک بھی اپنا ہرٹ ہو چاہے وہ ڈیڈ ہو یا آپ

وہ اسے اداسی سے دیکھتے ہوے بولی اہل نے اس کے انسو صاف کیے

اور میری انا میری نفرت سب کچھ وہاں آکر ختم ہو جاتی ہے جہاں سے آپ کی خوشیاں شروع ہو

آہل نے اسے دیکھتے ہوے کہا اور اسکا سر اپنے سینے سے لگا لیا