No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 38
سنایا خان
اچھا ہوا جو تم نے جانا کینسل کردیا مجھے تم سے کام تھا
اس کا دوست اسے وہیں مل گیا تو وہ اس کے ساتھ ہی چلا آیا
کیوں کیا ہوا….
کافی پرابلمس آرہی ہے کانٹریکٹ کے بیچ اسلیےمیں چاہوں گا کہ تم ہی. اس مسلیے کو حل. کرو
وہ پریشانی سے بولا
ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں….پہلے زرا گھر فون کرکے بتادوں ورنہ وہ لوگ پریشان ہوگے
وہ. موبائیل. نکالتے ہوۓ بولا
اوکے… میں بھی چلتا ہوں رات کافی ہو رہی ہے …تم کل افس اجانا میں ویٹ کرونگا
اس نے کھڑے ہوکر کہا اور باہر نکل گیا آہل نے نمبر ڈائل کرکے فون کان سے لگا لیا
سہان…..
ماہی نے اسے گلے لگا کر سختی سختی سے بھینچ لیا
پھر اموشنل ہوگئی اپ…..
سہان جوفت سے بولا
میں ڈر گئی تھی….
اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے میں کوئی بچہ ہوں کیا جو کھو جاؤنگا
وہ الگ ہوکر بولا
کیا کریں تمہارے سوا ہمارے پاس ہے ہی کیا تم نہیں ملتے تو ہم تو مر ہی جاتے …ہماری زندگی ہو تم
ماہی یار تم بھی نا بس نیگیٹیو سوچتی ہو مل گیا نا وہ اب کیوں پرہشان ہو رہی ہو
روشنی نے اسے ٹوکا
یس… روشنی اس رائٹ اپ چھوٹی سی بات کے لیے اتنی پریشان ہونا چھوڑ دو کیونکہ اپ سہان کی مام ہے……. بی سٹرونگ
وہ سمجھاتے ہوۓ بولا
اینڈ یو نو… میں نے ایک فرینڈ بھی بنا لیا…. اور انھوں نے مجھے بہت ساری ائس کریم بھی کھلائی
اس نے ماہی کو بتایا اتو ماہی حیران ہوکر دیکھنے لگی
کس نے
سہان ان کی ہی بات کررہا ہے جو اسے ہمارے پاس لے کر اۓ مجھے پورا یقین ہے بہت تنگ کیا ہوا اس نے انہیں
روشنی نے جواب دے کر سہان کو دیکھا
نہیں وہ مجھ سے بلکل تنگ نہیں ہوۓ وہ اچھے تھے تمہاری طرح نہیں تھے
سہان نے چڑ کر کہا اور اسے منہ چڑایا بدلے میں روشنی نے بھی منہ چڑایا
اففف… چلو سو جاؤ اب بہت رات ہوگئی ہے
ماہی ان کی لڑائی شروع ہوتے دیکھ کر بولی.
ہاں یار مجھے بھی صبح آفس جانا ہے…. اوکے باۓ گڈ نائٹ…..
روشنی بھی کرنٹ کھاکر وہاں سے اٹھ گئی
ہم اس بار خاص تم دونوں سے کوئ بات کرنے اۓ ہیں
ماہی ابھی ابھی سہان کو سکول چھوڑ کر گھر لوٹی تھی روشنی دادی اور اپنے لیے ناشتہ. لگا رہی تھی وی بھی اکر وہاں بیٹھ گئی تو دادی نے اپنی بات شروع کی
ہم نے ایک بہت اچھا لڑکا دیکھا ہے گھر کا بھی اچھا ہے تعلیم یافتہ ہے اور خاندانی لوگ ہے
ان کی بات پر ماہی کا بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا وہ انہیں بےیقینی سے دیکھنے لگی وہ انکار کر رککے تھک چکی تھی لیکن انھوں نے اپنی ضد نہیں چھوڑی تھی
لیکن دادی صاحب آپ جانتی ہے نا ماہی….
ماہی کے لیے نہیں…. ہم آپ کی بات کررہے ہیں
روشنی کرسی پر. بیٹھتے ہوۓ بولی تو انہوں نے اس کی بات کاٹ کر کہا
میں….
روشنی کو مزید شاک لگا
اور نہیں تو کیا… آپ کب تک یہ پڑھائی اور جاب ہی کرتی رہے گی اب وقت اگیا ہے کہ آپ شادی کرلے اس سے پہلے کے عمر نکل. جاۓ… لڑکا ہمیں بہت پسند ہے لیکن ہمارے لہے آپ کی پسند زیادہ معنی رکھتی ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں وہاں اس لڑکے سے مل. لیں پھر فیصلہ. کریں
لیکن دادی صاحب یوں اچانک…….
ماہی نے روشنی کو دیکھ کر کہا
کچھ اچانک نہیں کافی دن سے ہم سوچ رہے ہیں اب جب اچھا رشتہ آیا یے تو ہم نے دیر کرنا مناسب نہیں سمجھا اس لیے جلد سے جلد آپ فیصلہ کرلیں
انہوں نے اپنی بات ختم کردی وہ دونوں خوموش ہوگئی
گڈو کہاں ہے کب سے دکھائی نہیں دیا
وہ دھیان انے پر بولی
وہ اسکول گیا ہے نانی صاحب….. آپ کچھ دیر آرام کرلیجے وہ ابھی کچھ ہی دیر میں اجائگا
ٹھیک ہے ویسے بھی سفر کرکے ہماری طبیعت بگڑ جاتی ہے….
وہ اٹھ کر اپنی کمرے میں چلی گئی
ماہی……
روشنی نے ان کے. جاتے ہی ماہی کو دیکھا
ڈونٹ وری روشنی تم پریشان مت ہو
کیسے پریشان نا ہوں تم جانتی ہو نا دادی صاحب کو کچھ سوچ لیا تو پھر کسی کی نہیں مانتی… اب میں کیا کروں
وہ سر تھام کر بولی ماہی اٹھ کر اسکے پاس والی کرسی پر ائی
روشنی….. تم روہان سے بات کرو اسے بتاؤ دیکھو کہ وہ کہتا ہے اس کے بعد نانی صاحب کو سب کچھ بتادو اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجاۓ تم انہیں بتاؤگی تو بات آگے نہیں بڑھے گی
وہ سمجھاتے ہوۓ بولی لیکن روشنی اسء طرح بیٹھی رہی ماہی نے اس کے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں
ڈونٹ وری ہم خود بات کریں گے نانی صاحب سے تم بس روہان سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتا ہے
روشنی نے بس سر ہلا دیا
دادی صاحب چلیے
ماہی دادی صاحب کو وہاں کے ایک ڈاکٹر سے چیک اپ کرونے لیجا رہی تھی ان کے پیروں کے درد کے لیے روشنی افس میں تھی اس لیے وہ سہان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی سہان ان کے ساتھ جانے پر بہت چڑا ہوا تھا منہ پھلاۓ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ماہی اسے دیکھتے ہوۓ ڈرائونگ سیٹ پر. بیٹھنے لگی سہان مے اسے غصے سے گھورا اور اس کا موبائیل لے کر روشنی کا نمبر لگایا
روشنی تم بھی چلو نا ساتھ
وہ فون کرتے ہی بولا
نو بے بی میرا آنا پوسبل نہیں ہے مجھے کام ہے تم انجوۓ کرو
روشنی نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا
روشبی آر یو سیریس… انجوۓ اور مام کے ساتھ ناٹ پوسبل
ڈونٹ وری میں اسے کہتی ہوں کہ تمہیں تمہاری فیورٹ چاکلیٹ کھاۓ اینڈ ڈونٹ وری ہم بعد میں پارک جاۓ گی اوکے
وہ اسے لالچ دے کر منانے لگی
اوکے…
اس نے مایوس ہوکر فون کاٹ دیا اور ماہی کی جانب بڑھادیا
بس کرو سہان….. ہم تمہیں تمہاری فیوریٹ ائس کریم بھی کھلائنگے اور چاکلیٹ بھی اور پھر جاکر آپ کے لیے ٹائز بھی لینگے لیکم فی الحال آپ اپنا منہ ٹھیک کرو
ماہی اس کے پھولےنہ کو دیکھ کر بولی
آپ صرف کہتی ہے لیتی نہیں
آج پکا لینگے پرومس….ناؤ اسمائل
ماہی نے یقین دلایا تو وہ اس کی جانب دیکھ کر خوبصورتی سے ہنس دیا
