Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

عشق دے رنگ رنگجاواں

قسط 37
سنایا خان

توبہ تیرا غصہ توبہ تیرا پیار
تیرا اموشنل اتیاچار

روشنی گاڑی چلاتے ہوۓ گانے لگی

Quite roshni…….. I m angry now

وہ. پھولے منہ سے بولا لائٹ گرین ٹی شرٹ اور بلیک شارٹس میں وہ سفید روئ جیسا سوفٹ بہت پیارا لگ رہا تھا

مجھ پر کیوں بھڑک رہے ہو میں نے کیا کیا …….

تم مجھے یہاں کیوں لے کر آئی…کوئی بہانہ بنا کر منا نہیں کرسکتی تھی ……

اپنی ماں کو جاکر سناؤ یہ… میں نے تو کہا تھا لیکن اس نے بھیجا تمہیں

واقعی اسے ماہی نے بھیجا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ نانی اس سے غصہ ہو

مام……..

سہان نے دانت پیستے ہوۓ کہا

اور تم نا ہر بات اپنی ماں کو مت بتادیا کرو ہمارے بیچ کی….. بعد میں دادی صاحب کی ڈانٹ سننی پڑی تو مجھے مت کہنا

روشنی نے اسے دھمکاتے ہوۓ کہا

وہ ائیر پورٹ پر بیٹھے ہوۓ انتظار کررہے تھے فلائٹ دس بجے آنے والی تھی دس بج گئے تھے لیکن اب تک ائی نہیں تھی جس کی وجہ سہان کا پارہ مزید ہائی ہوگیا تھا روشنی اس سے بات کرتی تو اور بھڑک جاتا اس لیے وہ خاموشی سے فون میں لگ گی وہ کبھی اسے گھور کر دیکھتا تو کبھی سامنے دیکھنے لگتا کچھ دوری پر اسے چھوٹا سا پپی نظر آیا تو وہ اسے دیکھنے لگا بہت غور سے اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کرنے لگا وہ پپی ایک عورت کے پاس تھا وہ اٹھ کر جانے لگا تو روشنی نے اسے روکا

کہاں جارہے ہو تم….

سہان نے کوئی جواب نہیں دیا

اچھا تم یہی رکو میں پتہ کرکے آتی ہوں اور کتنا ٹائم ہے کہیں مت جانا اوکے

روشنی نے سامنے ریسیپشن کی جانب دکھاتے ہوۓ کہا

اس نے کوئی جواب نہیں دیا دوبارہ اس پپی کو دیکھنے لگا جو اپنے گلے میں بندھی رسی سے کھیل رہا تھا وہ عورت باہر نکلی تو سہان نے روشنی کی جانب دیکھا وہ سامنے ہی کھڑی کسی سے بات کررہی تھی وہ بھی اس عورت کے پیچھے پیچھے نکل گیا باہر نکلنے کے بعد اسے وہ کہیں نظر نہیں آیا تو وہ ادھر سے ادھر گھومتے ہوۓ اسے ڈھونڈنے لگا کافی دور تک آگے اکر وہ ٹرمینل دو سے ٹرمنل چھ تک پہنچ گیا وہ اند چلا گیا وہاں کافی بھیڑ تھی وہ باہر نکل آیا لیکن پھر اسےسمجھ نہیں ایا کہ اسے کدھر جانا ہے کیونکہ سب حصے باہر سے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں وہ تھوڑی دور تک چلنے کے بعد اندر کی جانب گیا وہاں زیادہ لوگ نہیں تھے وہ وہیں رکھے صوفہ پر بیٹھ گیا اسے یہ جگہ بلکل ویسی لگی جہاں وہ اور روشنی ائے تھے…کافی دیر وہ وہاں بیٹھا رہا وہاں بس چند ہی لوگ تھے وہ روشنی کا انتطار کرنے لگا

روشنی جب بات کرکے واپس اپنی جگہ آئی تو سہان کو نا دیکھ کر اس کی سانس تھم گئی
سہان…..
وہ اسے آواز دیتی ہوئی ادھر ادھر دیکھنے لگی

ایکسکیوز می… یہاں ایک بچہ تھا ابھی ابھی اپ نے دیکھا اسے…..

اس نے سامنے ہی موجود ایک. شخص سے انگریزی میں پوچھا وہ انکار کرکے آگے بڑھ گیا وہ پریشانی سے سر تھام. کر اسے ڈھونڈنے لگی سب سے پہلے خیال یہی آیا کہ سہان واپس جاکر گاڑی میں بیٹھ گیا ہو کیونکہ وہ وہاں نہیں رہنا چاہتا تھا وہ فورا باہر آپ پارکنگ کی جانب بھاگی

/***

آہل چیک اک ان کرنے کے لیے آگے بڑھنے لگا تب اس کی نظر دور بیٹھے سہان پر پڑی وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا اور اطراف میں نظر گھمائی اسے کوئی اس کے ساتھ دکھائی نہیں دیا

سر ٹکٹ پلیز….

سامنے موجود لڑکی نے اسے متوجہ کیا تو وہ اس کی جانب مڑا

جسٹ آ منٹ….

وہ اسے کہ کر جلدی سے سہان کی جانب آیا

تم یہاں کیا کرہے ہو … اور تمہاری مدر کہاں ہے…..کس کے ساتھ اۓ ہو یہاں

اس نے ایک ساتھ ہی سب سوال کردیے سہان پہلے اسے دیکھنے لگا پھر بولا

روشنی…. وہ کہیں کھو گئی ہے مل نہیں رہی

وہاٹ…. کہاں کھو گئی

آہل نے حیرت سے کہا

پتہ نہیں ابھی ابھی تو یہیں تھی اب نہیں ہے

وہ ارام سے بولا

اوکے میرے ساتھ چلو ہم انہیں ڈھونڈتے ہیں
آہل ہاتھ بڑھا کر بولا

نو وہ جہاں بھی گئی ہے واپس آجائیگی

سہان نے سر نفی میں ہلاتے ہوۓ انکار کردیا

سر پلیز آپ کی فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے

ایک لڑکی وہاں آکر بولی آہل نے اسے کوئی جواب نہیں دیا

اوکے..تم یہی بیٹھو میں دیکھتا ہوں انہیں کہیں مت جانا اوکے

آہل اسء سمجھاتے ہوۓجلدی سے باہر نکلا ایک کے بعد ایک ہر جگہ اس نے روشنی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی کچھ لوگوں سے پوچھا بھی لیکن وہ اسے کہیں نہیں ملی… اس نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی سب تلاش لیا کہ کہیں کوئی سہان کو ڈھونڈرہا ہولیکن ایسا کوئی اسے نہیں دکھا تو پھر ہار کر واپس اگیا وہ واپس سہان کے پاس آیا اس کی سانس تیز ہوگئی تھی اور پسینے میں بھیگ گیا تھا

وہ کہیں نہیں ملی مجھے…… میں نے ہر جگہ ڈھونڈ لیا…. تم ایسا کرو میرے ساتھ چلو ہم کمپلینٹ کرتے ہیں

وہ. گہری سانسیں لیتے ہوۓ بولا

نو… اس کی ضرورت نہیں ہے…. اۓ نو روشنی اجاے گی…

سہان نے پھر انکار کیا

تم یہاں کب تک بیٹھے رہو گے ہوسکتا ہے وہ کسی وجہ سے چلی گئی ہو یا تمہیں ڈھونڈرہی ہو…. دیکھو مجھے جانا ہے تم جلدی چلو میرے ساتھ

وہ. گھری پر نظر ڈالتے ہوۓ بولا سہان نے سر نفی میں ہلا دیا آہل اسے حیرت سے دیکھنے لگا

سر پلیز….فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے…..

اس کے نام کے اناؤنسمٹ کے بعد بھی وہ نا آیا تو پھر سے وہ لڑکی اسے بلانے ائی اس نے سر اثبات میں ہلادیا اور سہان کو دیکھنے لگا

اوکے مجھے جانا ہوگا …..تم یہی رکنا اور کسی کے ساتھ مت جانا جب تک تمہاری مدر نہیں اجاتی اوکے….
وہ جھک کر اسے سمجھانے لگا سہان اسے غور سے دیکھنے لگا آہل پلٹ کر جانے لگا تھوڑی دور پہنچ کر وہ پھر سے پلٹ کر سہان کو دیکھنے لگا سہان اسے ہی دیکھ رہا تَھا. جانے کیوں اس کا دل نہیں مانا کہ وہ سہان کو چھوڑ کر جاۓ اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا اس نے ایک گہری سانس لی اور آگے جاکر ایک افیسر سے بات کی اور واپس سہان کی جانب چلا آیا اور اس کے پاس ہی بیٹھ گیا

آپ نے اپنی فلائٹ چھوڑ دی آپ نہیں جارہے

سہان اس کی جانب دیکھ کر معصومیت سے بولا

تمہیں ایسے اکیلے چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں ..اسلیے تم سے کہا کہ کمپلینٹ کردیتے ہیں لیکن تم بہت ضدی ہو تم

آہل نے شکوہ کرتے ہوۓ کہا سہان اسے دیکھتا رہا

ویسے کیا نام ہے تمہارا…..

چند پل کے بریک کے بعد اہل اس سے مخاطب ہوا

سہان….

اس نے مختصر سا جواب دیا

سویٹ نیم. لائک یو

آہل نے مسکرا کر کہا

ڈونٹ کال می دھیٹ…. سویٹ لڑکیاں ہوتی ہے اینڈ اۓ ایم آ مین

وہ اسے ٹوکتے ہوۓ بولا آہل کی انکھیں بڑی ہوگئی

مین…. لیکن تمہاری تو موچھیں بھی نہیں ہے تو تم مین کیسے ہوۓ

وہ. مسکراہٹ چھپاۓ بولا

موچھیں تو آپ کی بھی نہیں ہے تو کیا آپ بھی مین نہیں ہے

اس کے سوال پر وہ چاہ کر بھی اپنی ہنسی روک نہین پایا

تمہارے فادر کیا کرتے ہیں……

آپ کیا کرینگے جان کر… مام کہتی ہے کسی بھی اسٹرینجر کو اپنی پرسنل انفورمیشن نہیں دینی چاہیے

وہ آنکھیں بڑی کرکے بولا

سٹرینجر…….. بیٹا میں پچھلے ایک گھنٹے سے تمہارے ساتھ ہوں تمہارے لیے پورے ایر پورٹ کے چکر لگا چکا ہوں اپنی فلائٹ چھوڑ کر یہاں تمہارے ساتھ باتیں کررہا ہوں اور میں ابَ بھی سٹرینجر ہوں
آہل نے حیرت ظاہر کرتے ہوے کہا

مام کہتی ہے اتنی اسانی سے کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے… اگر آپ نے مجھے کڈنیپ کرلیا تو

اس کی باتیں اہل کو ہنسنے پر. مجبور کرتی رہی

بیٹا تم میرے ساتھ چلو اس طرح کب تک بیٹھے رہے گے شاید تمہاری مام واپس گھر چلی گئی ہو

کافی دیر گزر گئی تو وہ دوبارہ بولا

مام نہیں روشنی…. اور میں آپ کی بات کیوں مانوں کوئی ایک وجہ بتایے

وہ انگلی دکھاتے ہوۓ بولا

میں تمہارا فرینڈ ہوں نا اسلیے

اہل. نے سوچ کر جواب دیا

فرینڈ…. وہ کیسے میں نے تو آپ سے فرنڈشپ کی ہی نہیں

تو اب کرلو….

اہل نے ہاتھ بڑھا کر کہا

نو….. اتنی جلدی نہیں سہان صرف ان لوگوں سے دستی کرتا ہے جو بہت سپیشل ہوتا ہے ہر کسی سے دوستی سہان کو پسند نہیں

ہر کسی سے دوستی تو مجھے بھی پسند نہیں لیکن پتہ نہیں کیوں اپ مجھے سپیشل لگتے ہو….

وہ اسے غور سے دیکھتے بولا سہان نے کوئی جواب نہیں دیا

تمہیں اپنا اڈریس نہیں معلوم ہے

آہل یاد آنے پر بولا

معلوم ہے…

تو ہم لوگ یہاں کیوں بیٹھے چلو سیدھےتمہارے گھر چلتے ہیں

آہل نے حیرت سے کہا

نو…. کیونکہ اگر ہم گھر چلے گیے تو پھر روشنی کی مسنگ رپورٹ لکھوانی پڑے گی

وہ نفینکرتے ہوۓ بولا وہ جانتا تھ اس کے بعد ماہی سیدھے روشنی کی مسنگ کملینٹ کرینگی

اووو….
آہل نے مایوس ہوکر کہا کافی دیر تک وہ وہین بیٹھے رہے

بیٹا بہت رات ہوگئی ہے ہم اور یہاں نہیں رک سکتے وہاں وہ لوگ بھی تمہارے لیے پریشان ہورہے ہوگے اسلیے پلیز تم میرے ساتھ چلو کم سے کم ہم انھیں یہیں کہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں

اہل نے ایک اور کوشش کی

اوکے…. لیٹس گو
اہان اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اہل حیران ہوا کتنی دیر سے وہ اسے منا رہا تھا لیکن اب بنا کسی چوچراں کے مان گیا تھا وہ کاندھے اچکا کر اا کے ساتھ چل دیا

ویٹ….
سہان رک بولا

آپ کو. مجھ سے دوستی کرنی ہے

وہ آہل کو دیکھ کر بولا آہل اسے حیرت سے دیکھتے ہوۓ سر ہلاکر ہاں کہا

ایک راستہ ہے….

مجھے میری فیوریٹ ائس کریم کھلانی پڑے گی

وہ سامنے اشارہ کرتے ہوۓ بولا جہاں ائسکریم پارلر تھا

اوکے ……… تمہاری ماما نے تمہیں شاید یہ نہیں بتایا کہ ائس کریم کے لیے بھی دوستی نہیں کرنی چاہیے
وہ اسے سمجھانے کی غرض سے بولا

مطلب آپ کو مجھ سے دوستی نہیں کرنی

وہ چلتے چلتے رک گیا

میں نے ایسا کب کہا….

تو پھر چانس دے رہاں ہوں فائدہ اٹھالیجیے ورنہ مجھے مت کہیے گا کہ دوستی نہیں کی

وہ سجیدگی سے بولا آہل نے قہقہہ لگایا

ٹھیک ہے…. سیریسلی.. تمہارے جیسا بچہ میں نے اپنی لائف میں کبھی نہیں دیکھا

وہ. ہنسی روک کر بولا

میں بچہ نہیں ہوں ….
سہان ناگواری سے بولا جیاے پتہ نہیں اس نے کیا کہہ دیا ہو

او سوری میں تو بھول ہی گیا تھا تم تو بنا موچھ والے آدمی ہو

آہل مصنوعی سنجیدگی سے بولا اور اسے لیے ائس کریم شاپ میں اگیا وہاں اسے اس کی پسند کی ائس کریم دلائی

آپ نہیں کھائنگے

وہ سہان کو دیکھتا رہا تو سہان بولا

نہیں مجھے ائس کریم پسند نہیں

اگر سہان سے دوستی کرنی ہے تو کھانی پڑے گی سہان جیسا جو بننا ہے

اہل مسکرا کر ویٹر کو اپنے لیے ائس کریم کا کہا اور اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوۓ ائس کریم. کھانے لگا پہلی بار اسے کسی بچے سے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا وہ اس کی باتیں مان رہا تھا اس سے دوستی کرنا چاہ رہا تھا اس کے لیے فکر مند تَھا

تم یہاں آۓ کیوں تھے….

ہم دونوں یہاں نانو کو لینے اۓ تھے وہ انڈیا سے ارہی ہے نا …

سہان اس کی بات کا جواب دیا ائس کریم اس کے چہرے پر بھی لگ گئی تھی آہل نے ٹشو پیپر سے اس کے چہرے سے ائس کریم صاف کی

اچھا… چلو میرے ساتھ

وہ اسے لے کر دوبارہ اندر ایا

کہاں……
سہان نے سوال کیا

تمہاری نانو یہاں نہیں کہیں اور ائی ہے وہاں چلنا ہے ہمیں

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانے لگا
/****

کہاں دھیان رہتا آپ کا.. ضرور اس موبائیل میں مصروف ہوگی اور اس پر دھیان نہیں دیا ہوگا…پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہمارا گڈو

دادی کافی دیر پہلے پہنچ گئی تھی انہیں جب پتہ چلا تو وہ روشنی پر برس پڑی اور خود بھی اسے ڈھونڈنے لگی لیکن ہر طرف دیکھنے کے باوجود اسے نہیں ملا تو اس نے وہاں کے افسر سے بات کی

ڈونٹ وری میڈم ہم ابھی پتہ کرتے ہیں اگر وہ یہام ہوگا تو ضرور مل جائگا

اس افسر نے انگلش میں کہا

وہ اندر ہی ہے میں نے بہت ڈھونڈا اسے باہر سب طرف دیکھ لیا لیکن کہیں نہیں ملا

روشنی نے اسے بتایا تو وہ اسے یقین دلاتا وہاں سے چلا گیا

پہلے اگر اس پر دھیان دیتی تو کھوتا ہی کیوں اتنا سا تو ہے چار سال پتہ نہیں کہاں بھٹک رہا ہوگا

دادی نے پریشانی سے کہا

روشنی……

سہان نے دور اے اسے آواز دی اور دوڑتے ہوۓ اس کے پاس اکریاس سے لپٹ گیا

سہان……

سہان کہاں چلے گئے تم میں کب سے تمہیں ڈھونڈرہی ہوں کہاں تھے تم

وہ نیچے جھک کر فکر سے بولی دادی نے سکھ کر سانس لیا

یہ میرے ساتھ تھا……..یہ غلطی سے دوسری طرف چلا آیا تھا اور کافی دیر سے آپ کا ویٹ کررہا تھ میں نے آپ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن آپ مجھے کہیں نہیں ملی

اہل نے آگے بڑھ کر کہا

خدا کا شکر ہے ہمارا گڈو بلکل ٹھیک ہے…. اور آپ کا بھی شکریہ بیٹا جو آپ نے اسے سہی سلامت ہم تک پہنچایا

دادی نے سہان کے بالوں میں ہاتھ گما کر کہا

تھینکیو سر

روشنی نے بھی شکریہ ادا کیا

نو اٹس اوکے……… اچھا سہان ٹیک کیئر ائیندہ ایسے نہیں کرنا اوکے.. باۓ

وہ سہان کی جانب دیکھ کر بولا

باۓ بڈی…..

سہان نے مسکرا کر کہا آہل نے بدلے میں مسکرا کر اسے باۓ کہا اور باہر نکل گیا

چلو اب جلدی جلدی گھر چلو…. ماہی وہاں پریشان ہورہی ہوگی…….

دادی صاحب نے روشنی کو مخاطب کیا

جی دادی صاحب ……..
روشنی انھیں جواب دے کر ریسپشن کی جانب بڑغی

ہمارا بچہ…. کتنا یاد کیا ہم نے تمہیں… ہمارا تو من ہی نہیں لگتا تمہارے بغیر…..

دادی نے اس کے گالوں پر پیار کرتے ہوۓ کہا اس نے برا سا منہ بنایا