No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 11
سنایا خان
رائمہ نے زبردستی اسے بھی کافی ساری شاپنگ کروائی تھی ماہی منع کرتی رہی لیکن رائمہ نے اس کی ایک نہیں سنی
وہ دونوں شاپنگ کے بعد ڈنر ختم کرکے پارکنگ کی طرف جانے لگی تب اچانک سے ایک شخص سامنے آگیا وہ رائمہ کا شوہر تھا جو نشے میں چور لڑکھڑاتے ہوئے چل رہا تھا
دونوں کی ڈر کے مارے چینخ نکل گئی
کیا ہوا رائمہ….. تم مجھے دیکھ کر ڈر کیوں رہی ہو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے
رائمہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی
آپ کیوں ائے ہیں یہاں….. چلے جائیں یہاں سے
ماہی نے ہمت کرکے سختی سے کہا
ہم اپنی محبت کو لینے ائے ہیں اپنی شہزادی کو
وہ رائمہ کی جانب دیکھ کر بولا
آپی آپ کے ساتھ کہیں نہیں جائنگی
ماہی نے رائمہ کو اپنی جانب کھینچنا
بہت زمانے کی سن لی ….. اب کوئی روک نہیں سکتا مجھے اپنی شہزادی کو لے جانے سے
اس نے رائمہ کا ہاتھ پکڑ لیا وہ جیسے اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھی بس ڈر تھا چہرے پر
چھوڑیے… ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دینگے آپ جیسے جانور کا ہماری آپی سے کوئی تعلق نہیں ہےدور رہیے آپ ان سے
ماہی نے جھٹکے سے رائمہ کا ہاتھ چھڑایا اور غصے سے بولی
تم بیچ میں نا ہی اؤ تو بہتر ہے..چلو رائمہ
ماہی کو دھمکاکر وہ دوبارہ اسے ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا لے جانے لگا لیکن جیسے ہی پلٹا پیچھے سے کوئی سامنے آکر اس کا راستہ روک گیا
چھوڑو انھیں……….
سامنے دانش تھا ماہی کی جان میں جان آئی
کون ہو تم ہٹو میرے راستے سے…..
میں نے کہا ان کا ہاتھ چھوڑو….
اب کے دانش نے اسے زور دار دھکا دیا تو وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا
خبردار جو آیندہ انھیں ہاتھ لگانے کی یا کوئی زبردستی کرنے کی کوشش کی مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
دانش اس کی کالر پکڑ کر غصے سے بولا
کون ہے تو…. جانتا ہے میری بیوی ہے وہ …….ہٹ جا میرے راستے سے
وہ دوبارہ رائمہ کی جانب بڑھا اسے ٹچ کرتا اس کے پہلے دانش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دھکا دیا
وہ تمہاری بیوی تھی …..اب نہیں ہے ……اس لیے تم ان سے دور رہو تو بہتر ہے تمہارے لیے
وہ انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوئے بولا
چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں…… یاد رکھنا
وہ دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا
رائمہ اب بھی بے سدھ سی وہیں کھڑی تھی ماہی نے اسے گاڑی میں بٹھایا دانش بھی سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا
پانی………
دانش نے پانی کی بوٹل اس کی جانب بڑھائی ماہی نے بوٹل لے کر خود اسے پانی پلایا
ریلیکس……..
ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی دانش پریشان ماہی کو دیکھ کر بولا
اچھا ہوا بھائی آپ آگیے ……ورنہ وہ آدمی پتا نہیں آپی کے ساتھ کیا کرتا
ماہی نے پریشانی سے کہا
ڈونٹ وری ماہی اب سب ٹھیک ہے……
ساری غلطی ہماری ہی ہے……. ہمیں گھر سے باہر نکلنا ہی چاہیے تھا
رائمہ جیسے خود سے بات کر رہی تھی
بلکل سہی کہہ رہی ہیں آپ…… آپ کو گھر سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے تھا…….. اور اگر وہ گھر آکر پریشان کریں تو آپ کو کہیں اور جاکر چھپ جانا چاہیے………. ساری زندگی ایسے ہی چھپ چھپ کر ڈر کر گزارنی چاہیے
……… جہاں وہ آ سکتا ہے وہاں سے بھاگ جانا چاہیے……. بجائے اس سے مقابلہ کرنے کہ بس آپ کو مرتے دم تک اس کے خوف سے جینا چاہیے
دانش نے طنزیہ کہا رائمہ نے اسے حیرت سے دیکھا پھر سر جھکا گئی
رائمہ جی آپ کیوں نہیں سمجھ رہی وہ شخص یہی چاہتا ہے کہ آپ خود کو قید کر دیں اس کے خوف سے جیے اور آپ وہی سب کر رہی ہے……….. کیوں آپ ڈرتی ہے اس سے ……..ایسی سیچویشن سے……. ایسے ڈرنے کی بجائے کیوں آپ اس کا سا منہ نہیں کرتی….وہ شخص اپ کی زندگی سے جا کر بھی آپ کہ زندگی پر قابض ہے جب چاہے ڈراتا ہے جب چاہے رلاتا ہے کیوںکہ آپ اسے ایسا کرنے دے رہی ہے …….. بس ایک بار آپ نے اس کی مخالفت کی نا بنا ڈرے…….. اسکا سامنہ کرکے اس کی اوقات دیکھائی تو وہ اگلی دفعہ ایسا کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا
دانش نے سمجھاتے ہوے کہا
بھائی بلکل ٹھیک کہہ رہے آپی…..
ماہی نے بھی دانش کی بات سے اتفاق کرتے ہوے کہا رائمہ بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی
وہ لوگ گھر پہنچے تو کافی دیر ہو چکی تھی ڈرائیور نے گاڑی گیٹ کے باہر روکی دانش وہیں اتر گیا
بھائی اندر آئیے نا…
نہیں ماہی ابھی بہت دیر ہو چکی ہے میں کل آتا ہوں امی پریشان ہوجائگی
وہ گھڑی پر نظر ڈالتے ہوے بولا
آپ بھی ریلیکس ہوجاییے …….پریشان ہونے کی ضرورت نہیں….. ایوری تھنگ اس اوکے…اور میری کوئی بات بری لگی ہو تو سوری
اس نے رائمہ کی جانب دیکھ کر کہا اس نے اثبات میں ہلکا سا سر ہلایا
دانش کے جانے کے بعد وہ دونوں بھی اندر کی جانب بڑھی
ماہی ………آہل کو اس سب کے بارے میں کچھ مت بتائیں گا…….. ورنہ وہ پتا نہیں کیا کرینگے کہیں بات بڑھ نا جائے
وہ ماہی کو روک کر بولی
ٹھیک ہے آپی……. ہم نہیں بتائنگے آپ پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوگا
ماہی نے اسے تسلی دی
.
وہ روم میں ائی تو آہل وہاں موجود نہیں تھا وہ پول سائڈ کا ڈور کھول کر باہر نکلی تو آہل وہاں زمین سے مٹی سمیٹ کر صاف کر رہا تھا ڈارک بلیو ٹریک پینٹ پر وھائٹ شرٹ کی آستین کہنی تک فولڈ کیے ارد گرد سے بے نیاز …….اب تک وہ کسی افس کے کام میں بزی تھا اور اب فری ہو کر اس کام سے لگا تھا
لائیے ہم کرتے ہیں…….
ماہی نےاس کے مقابل نیچے بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں رہنے دو میں کر رہا ہوں ……
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بے نیازی سے بولا
نہیں یہ ہم نے کیا تھا تو صاف بھی ہم ہی کریں گے…….ہٹیے آپ
عجیب لڑکی ہو تم ……پہلے بار بار نا کر رہی تھی اور اب جب میں کر رہا ہوں تو ضد پر اڑی ہو
آہل اس کی جانب دیکھ کر بولا
عجیب ہم نہیں آپ ہیں ……پہلے ہم اس لئے انکار کر رہے تھے کیونکہ ہمیں جانا تھا اور اب اس لیے ضد کر رہیں کیونکہ ہم نے وعدہ کیا تھا واپس آکر کرینگے
اس نے خلاصہ کیا
آہل نے تاسف سے سر ہلایا اور اٹھ کر دونوں ہاتھوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اندر جانے لگا ہوا کا رخ اسی جانب تھا اس لیے مٹی اڑ کر ماہی کہ انکھ میں چلی گئی وہ چینختے ہوئے کھڑی ہوئی اس کے اپنے ہاتھ بھی مٹی میں تھے
آہل گھبرا کر اس کی جانب بڑھا دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر باری باری دونوں آنکھوں میں پھونک ماری
بہت جلن ہو رہی ہیں ……
وہ تڑپتے ہوئی بولی آہل نے دوبارہ وہی عمل دہرایا کافی دیر تک کوشش کے بعد ماہی نے چین کی سانس لی
اب ٹھیک ہے…….
ماہی نے اس کے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوے کہا
اپ نے جان بوجھ کر کیا نا یہ……
ماہی نے کہا جس پر آہل نے پہلے حیرت اور پھر غصے سے اسے دیکھا
جسٹ شٹ اپ…..
آہل نے غصے سے کہا ایک تو اس کی مدد کی اس پر یہ الزام آہل کو جلا گیا
ہم جانتے ہیں آپ کو بہت سکون ملتا ہے ہمیں تکلیف دے کر……. لیکن یاد رکھیے ہمیں ان چھوٹی موٹی تکلیفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ……
بکواس ختم ہوگئی ہو تو جاکر اپنا کام کرو
اس کی بات کاٹ کر جواب دیا اور پلٹ کر جانے لگا
جلاد جن کہیں کے…..
ماہی کی دھیمی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رک گئے پلٹ کر اس کی جانب بڑھا
کیا کہا تم نے……
ماہی گھبرا کر پیچھے ہوئی
ک.. ک… کچھ نہیں
آہل غصے سے اسکی جانب بڑھا اس کے دنوں بازوں کو اپنی گرفت میں لے کر اسے اپنے قریب کیا
کیا بلایا تم نے مجھے…
وہ….. وہ… وہ ہم تو…..
آہل نے اپنی گرفت کو مزید سخت کیا
چھوڑیے ہمیں……
ماہی نے تڑپتے ہوے کہا
پہلے میری بات کا جواب دو.
وہ بھی بضد تھا
آہل جی چھوڑیے ہمیں……
اس نے پورا زور لگا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے آہل کو پیچھے دھکیلا اس کا بیلینس بگڑا وہ پیچھے پول میں جا گرا ماہی کی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے زور زور سے ہنسنے لگی
جسٹ شٹ اپ یو ایڈیٹ…….
اس کی ہنسی سے آہل کا تو پارہ جیسے ہائی ہو گیا
اسے کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی…..
وہ ہنستے ہوئے بولی آہل نے ایک دم سے ہاتھ بڑھا کر اسکا پیر کھینچتے ہوئے اسے بھی پول میں گرا دیا اس اچانک افت پر ماہی کی چینخ نکل گئی اور وہ سیدھے آہل کے اوپرگری
ہم ڈوب جاینگے آہل جی ہمیں بچائے …….
وہ زور زور سے ہاتھ مارنے لگی جب کہ وہ پوری طرح سے آہل کی گرفت میں تھی اور خود مضبوطی سے اسکا بازو پکڑا ہوا تھا
تم نے اگر اپنی بکواسیں بند نہیں کی نا تو ایسا ضرور ہوگا
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوے بولا
کیا کیا ہم نے…
بڑی معصومیت سے پوچھا لیکن آہل نے کوئی جواب نہیں دیا بس اس کے گھبراے چہرے کو دیکھتا رہا بے ارادہ سا….
آپ ….. پھر ہمیں…… گھور رہے ہیں…
ماہی اس کی نظروں سے کنفیوز ہوکر دھیمے سے بولی آہل نے ایک انگلی سے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا
کیونکہ یہ آنکھیں میری ہے اور میں جو چاہوں کر سکتا ہوں
آہل نے دوبارہ وہی جواب دیا
نظریں اب بھی پوری طرح سے ماہی کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ماہی نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کیا اور خود ہی باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن کامیاب نہیں ہوئی
آہل اسے لئے پول سے باہر آیا اور بنا رکے اندر کی جانب بڑھ گیا ماہی نے پریشان ہوکر اپنے بھیگے وجود کو دیکھا
.
وہ بیڈ پر دوسری جانب رخ کیے لیٹی تھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی زہن نا جانے کن کن خیالوں میں تھا پلکیں بھیگی ہوئی تھی آہل نے ہلکی سی دستک دی اور اندر آیا
رائمہ نے اپنا چہرہ صاف کیا کہ کہیں آہل اسے روتا دیکھ نا لیں اور اٹھ کر بمشکل مسکرائی
آہل…… آپ اب تک سوئے نہیں
آہل بیڈ کے کنارے پر بیٹھا اسے بغور دیکھا
آپ رو رہی تھی…..
اسے جانچتی نظروں سے دیکھ کر بولا
نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ہم کیوں روئیں گے بھلا
وہ نظریں چرا کر بولی
اب میں بچہ نہیں ہوں…
اس نے سنجیدگی سے نظریں جھکائے کہا
ہم ٹھیک ہے آہل…… بس عادت سی ہوگئی ہے ان آنکھوں کو.. ….
اس نے درد بھرے لہجے میں کہا
آج ہم نے بہت انجواے کیا اپنے لیے بہت ساری شاپنگ کی اور آپ کے لیے بھی …..
اس نے بات بدل دی الماری سے کچھ بیگس نکال کر اہل کو دیے
ہم جانتے ہیں آپ کسی کی پسند کی چیزیں نہیں استعمال کرتے لیکن ہمارا دل کیا تو ہم نے لے لیا
تھینکیو…. آپ خوش ہے یہ میرے سب سے بڑی بات ہے
رائمہ ہلکا سا مسکرائی
ماہی شاور لیکر باہر آئی اپنے لمبے بالوں کو تولیے سے خشک کرتے ہو پول کی طرف جانے لگی تب ہی آہل بھی کمرے میں داخل ہوا
ماہی……
آہل کی آواز پر رک گئی اور پلٹ کر دیکھا
جی کہیے اب کیا کر دیا ہم نے……
اس نے خفگی سے پوچھا آہل خاموشی سے چل کر اس کے پاس آیا
تم آپی کو باہر لے گئی انھیں بہت اچھا لگا اس کے لیے……. تھینکس
وہ ایک پل کو رک کر بولا
ارے واہ کیا بات ہے… آہل رضا ابراہیم تھینکس کہہ رہے ہیں….. وہ بھی ہمیں ……ماہی شیخ کو………
اس نے طنزیہ کہا اہل نے اسے گھور کر دیکھا
میں صرف اپنی بہن کی وجہ سے کہہ رہا ہوں سمجھی
اسے غصہ آگیا
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے …….کیونکہ سواے اپ کے ہم اس گھر کے ہر فرد کو اپنا سمجھتے ہے اور ان کے لیے کچھ بھی کرنے پر ہمیں آپ کے شکریہ کی ضرورت نہیں ہے اس لیے آپ اسے اپنے پاس ہی رکھیے
ْ
ماہی نے جواب دیا اور ڈورکھول کر دوسری جانب چلی گئی آہل نے تاسف سے دیکھا
