No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 21
سنایا خان
آہل روم میں آکر غصے سے ماہی کی جانب بڑھا
کیا ہو رہا ہے یہ سب ….
وہ کچھ دیر پہلے جب گھر آیا تو تو ماہی کو دانش کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا اور جب سے مہیر آیا تھا ماہی کو اس سے کلوز ہوتے دیکھ کر آہل سے برداشت نہین ہوتا تھا
کس بارے میں بات کر رہے ہیں آپ
وہ. جان بوجھ کر انجان بنتے ہوے بولی
تم اچھی طرح سے جانتی ہو. کس بارے میں بات کررہا ہوں میں………… کیا ضرورت ہے مہیر سے اتنا کلوز ہونے کی
آپ کوکیا …………ہم جو چاہے کریں …………..آپ کون ہوتے ہیں ہمیں روکنے والے
وہ رخ دوسری جانب کرکے بولی
مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی ہے ماہی
آئیندہ اگر میں نے تمہیں اس کے آس پاس دیکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
وہ. اس کا رخ دوبارہ اپنی جانب موڈ کر بولا
ہمیں بھی کوئی شوق نہیں اپ سے بحث کرنے کا ………..اور آپ کو بھی کوئی حق نہیں ہم پر حکم چلانے کا …………… اب تک آپ اپنی منمانی کرتے رہے ….آپ کی کے جو دل میں آیا آپ کرتے رہے ……..جب چاہا دل لگی کرلی جب چاہا دل توڑ دیا …………جب چاہا ہمارے جزبات کے ساتھ کھیلتے رہے جب چاہا کہہ دیا کہ آپ کے لیے یہ سب کچھ معنی نہیں رکھتا ………..ایک بار بھی سوچا آپ نے کہ آپ کہ ایسا کرنے سے ہمارے دل کو کتنی ٹھیس پہنچی ہوگی ……….کیا فرق پڑتا ہے آپ کو چاہے ہم کچھ بھی محسوس کرے…….. آپ نے ہمیں اپنی بیوی تو کیا ایک انسان تک نہیں سمجھا بس کھلونا سمجھا ہے…… لیکن بس اب نہیں ………….آپ کو کوئی حق نہیں ہے اس طرح ہمیں بار بار تکلیف پہنچانے کا اب ہم آپ کو آپ کی منمانی نہیں کرنے دینگے بار بار اپنے دل سے نہیں کھیلنے دینگے اب آپ ہم پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے ہمارے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے……… ہم جو چاہے کریں جس سے مرضی بات کریں اپ کچھ نہیں کر سکتے
وہ اپنے انسو روکتے ہوے سختی سے بولی آہل بس سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا
میں کیا کر سکتا ہوں اور کیا نہیں کرسکتا یہ میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں……..
آہل اسے غصے سے دیکھتے ہوۓ اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا ماہی اسے حیرت سے دیکھنے لگی آہل شرٹ بیڈ پر پھینک کر اس کی جانب بڑھا ماہی گھبرا کر دو قدم پیچھے ہوئی لیکن آہل تب بھی اس کی جانب ہی بڑھتا رہا
کیا کررہے ہے آپ ……
وہ اپنی گھبراہٹ روکتے ہوے بولی آہل نے بنا کچھ کہے اس کا دوپٹہ کھینچ کر زمین پر پھینک دیا ماہی مزید پیچھے ہوتی گئی
رک جایئے آہل…. جی کیا کر رہے ہیں آپ
وہ پیچھے پیچھے ہوتے ہوۓ بولی
تم ہی نے کہا نا میں کچھ نہیں کر سکتا بس دکھا رہا ہوں کہ میں کیا کرسکتا ہوں اور کیا نہیں
وہ پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے ٹکرا گئی آہل نے اس کے دونوں ہاتھ جکڑ کر دیوار پر رکھے
تم یہی چاہتی ہو نا کہ میں تمہیں اپنی بیوی سمجھوں تمہارے ساتھ شوہر بن کر رہوں
آہل جی ہمارا ہاتھ چھوڑۓ ……
وہ روتے ہوے بولی
مجھے کوئی چیلینج کرے اور میں اسے جواب نا دوں ایسا نا ممکن ہے
وہ ماہی کے بہت قریب ہوا دونوں کے چہرے کے درمیان بس دو انچ کا فاصلہ تھا
ایک بات اچھی طرح سے سن لو ……..میں نے تمہارے ساتھ کوئی دل لگی نہیں کی نا کبھی تمہارے جزبات کے ساتھ کھیلا ہے کیونکہ کسی کو دھوکہ دیکر اپنا مقصد پورا کرنا میری فطرت میں نہیں اور اگر میں ایسا کچھ کرنا چاہوں بھی تو مجھے تمہارے ساتھ زبردستی یا کوئی ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں جو لڑکی پیسے کے لیے مجھ سے شادی کر سکتی ہے وہ کچھ اور پیسوں کے لیے میرے ساتھ سو بھی سکتی ہے
وہ نفرت سے بولا ماہی نے پہلے اسے بے یقینی سے دیکھا پھر زور لگاکر اپنا ایک ہاتھ چھڑایا اور پوری طاقت سے آہل کو تھپڑ مارا آہل اس اچانک حملے پر غصے کے ساتھ ساتھ حیرت زدہ بھی رہ گیا اس نے ماہی کا وہ ہاتھ جو اب تک اس کی گرفت میں تھا مروڑ کر پیچھے کیا ماہی نے درد کے مارے انکھیں بند کرلی
اہل رضا ابراہیم پر کسی نے اج تک انگلی اٹھانے کی ہمت نہیں کی اور تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا
وہ بے دردی سے اس کے ہاتھ کو تکلیف پہنچاتا رہا ماہی نے جیسے آج برداشت کی حدیں پار کرنے کی ٹھانی تھی
جو گھٹیا بات آپ نے ابھی ابھی ہمارے لیے کہی ہے اگر آپ سچ میں ہمیں ویسا سمجھتے ہیں تو ہمیں کوئی افسوس نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر ہاتھ اٹھایا
وہ اسے غصے سے دیکھتے ہوے بولی
کیا غلط کہا میں نے…. پیسے کے لیے مجھ سے شادی کی تھی نا تم نے ……میری ہر شرط ماننے کو تیار ہوگئی تھی…….. تو کیا غلط ہے اگر میں یہ سمجھوں کہ تم کچھ بھی کرسکتی ہوپیسے کے لیے
وہ اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوے بولا
اگر ہم مجبور نہیں ہوتے تو آپ کی شرطیں کبھی نہیں ماننتے ہم اتنے گرے ہوے نہیں آہل جی جتنا آپ سمجھتے ہیں اس وقت ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا اس لیے ہمیں آپ کی بات ماننی پڑی…..
اس نے کہتے کہتے انکھیں بند کرلی آہل نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر بولا
آج تو راستہ ہے نا تمہارے پاس آج بتادو مجھے کیا مجبوری تھی تمہاری ………کیوں کیا ایسا………. تم نہیں جانتی کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے یہ سوچ سوچ کر… کتنا بے سکون ہو جاتا ہوں میں……… اپنے اپ سے لڑتا ہوں کہ میں غلط ہوں میں غلط ہوں…….میں چاہتا ہوں کہ تم مجھےغلط ثابت کرو میرے کہے ہوے پر مجھے شرمندہ کرو……. مجھے بتاؤ ماہی کیوں کیا تھا ایسا کیا وجہ تھی جو تم میری ہر شرط پر راضی ہوگئی وہ بھی صرف پچیس لاکھ روپیے کے لیے ………
اس کے لہجے سے اس کا دکھ صاف واضح ہو رہا تھا ماہی نے اس کے دونوں ہاتھ ہٹاے اور اسے سنجیدگی اے دیکھنے لگی
کیوں کہ وہ پچیس لاکھ روپیے ہمارے لیے ہماری زندگی سے زیادہ ضروری تھے ………….جب ہمیں پتا چلا کہ بڑے پاپا نے کچھ سال پہلے بینک سے لون لیا تھا لیکن وہ اس قرض کو نہیں چکا پاۓ تو بینک نے نوٹس جاری کر دیا پچیس لاکھ روپیے کی رقم ادا کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ورنہ وہ ہمارا گھر ضبط کر لیتے…………. ہم اچھی طرح جانتے تھے بڑے پاپا اتنی جلدی پیسے کا انتظام نہیں کرپائنگے اور یہ بات جب انھیں پتہ چلے گی تو انہیں بہت صدمہ پہنچے گا ……………بھائی نے تو تب ہی جاب سٹارٹ کی تھی خود بہت پریشان تھے کسی بات پر اس لیے ہم انہیں بھی نہیں کہہ پاۓ ………..وہ گھر صرف ایک مکان نہیں ہے ہمارے بڑے پاپا کی زندگی بھر کی محنت ہے ہماری یادوں کا بسیرا ہے ہم کیسے اسے جانے دیتے کیسے اسے بچانے کی کوشش نہیں کرتے..لیکن کیسے ……..ہمارے پاس کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا……. تب ہم آپ سے ملے …..کوئی اور وقت ہوتا تو آپ کی کانٹریکٹ والی بات پر ہم آپ کو بہت سناتے… لیکن اس وقت ہمارا ذہن صرف ایک بات سوچ رہا تھا کہ کسی بھی طرح ہمارا گھر بچانے کا راستہ ہمیں مل جاے اور سواے آپ کی بات ماننے کے کوئی اپشن نظر نہیں آیا …………ہم جانتے تھے کہ اس کے بعد ہماری مشکلیں کتنی بڑھ جائینگی جب یہ بات سامنے اۓگی تو ہمارے لیے سب سے سامنہ کرنا کتنا مشکل ہوجاے گا لیکن ہم اس وقت کچھ نہیں سوچنا چاہتے تھے
ہمیں اپنے امی ابو تو یاد نہیں لیکن بڑے پاپا اور بڑی امی نے کبھی ہمیں یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہم. یتیم ہے……….. ہماری ہر خواہش پوری کی ہمیں اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر چاہا اور جب ہماری باری ائی کہ ہم ان کے لیے کچھ کر سکیں تو ہم کیسے پیچھے ہٹ جاتے…… اس لیے ہم نے آپ کی بات مان لی اور آپ سے پیسے لے کر بینک کا قرض ادا کردیا اور وکیل انکل سے کہا کہ وہ یہ بات کسی کو نا بتاے اور بڑے پاپا سے کہہ دیں کے بینک نے قرض معاف کردیا ہے ہم. نہیں چاہتے تھے انہیں یہ کانٹریکٹ والی کا پتہ چلے ورنہ وہ معاف نہیں کرتے
وہ اخری بات کہہ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر رودی
تم نے یہ بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی ماہی
آہل نے اس کا بازو پکڑ کر قری کرتے ہوے غصے سے پوچھا ماہی نے چہرے سے ہاتھ ہٹاکر اسے دیکھا
کیسے بتاتے….. کیا آپ نے کبھی جاننے کی کوشش کی….. کیا ہم پر الزام لگاتے وقت ہمیں بار بار ذلیل کرتے وقت آپ نے ایک بار بھی سوچا کہ شاید کوئی وجہ ہوسکتی ہے ……..اگر ہم. مجبور تھے تو کیا آپ نے ہماری مجبوری کا کم فائدہ اٹھایا آہل جی ……..آپ نے بار بار اس بات کے حوالے سے ہمارے دل. کو چوٹ پہنچائی ہمیں لالچی کہا خودغرض کہا طعنے دیتے رہے…. شاید آپ کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا وہی سب سوچتا ……….لیکن اج جو آپ نے ہمارے لیے اتنی گھٹیا بات کی ہے کہ ہم پیسے کے لیے………….. اس کے لیے ہم آپ کو کبھی معاف نہیں کرینگے ….کبھی معاف نہیں کرینگے ہم آپ کو……….
اس کے پہلے کہ آہل کوئی جواب دیتا وہ اپنا بازو آزاد کروا کر دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کرکے روم. کے باہر نکل کر پول. سائڈ کی جانب چلی آئی
ماہی سٹول پر کھڑی کچن شیلف سے کچھ نکالنے کی کوشش کررہی تھی باہر جاتے ہوے آہل کی نظر اس پر پڑی تو وہ اس کی جانب آیا کہ کہیں وہ گر نا جاے وہ اسے کچھ کہتا اس کے پہلے ہی سٹول ڈگمگایا اور ماہی کا بیلینس بگڑا لیکن گرنے سے پہلے ہی آہل نے اسے سنبھال لیا اس نے انکھیں سختی سے بند کرلی آہل اس کے خوفزدہ چہرے اور سختی بند کی ہوئی آنکھوں کو دیکھنے لگا ماہی نے دھیرے سے انکھیں کھولی آہل کو دیکھتے ہی خوف کی جگہ اداسی اور ناراضگی نے لے لی وہ اس کی گرفت سے نکل. کر دوبارہ سٹول پر چڑھنے لگی لیکن چڑھنے سے پہلے سے ہی لڑکھڑا گئی اور دوبارہ اس کے اوپر اگری
آہل… ..
تنوی اسے پکارتی ہوئی اندر آئی لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے باقی الفاظ اندر ہی رہ گئے اور چہرے پر ہنسی کی جگہ حیرت اور غصےماہی آہل کے بے حد قریب تھی اور اس کا ہاتھ اہل کے شانے پر تھا وہ تو آہل کو سرپرائیز دینے ائی تھی اور اب خود سرپرائیز ہوکر کھڑی تھی
تنوی…..
آہل نے اسے دیکھ کر زیر لب کہا تنوی اسے ناگواری سے دیکھ کر واپس جانے کے لیے پلٹ گئی
تنوی میری بات سنو……..
آہل ماہی کا ہاتھ اپنے شانے سے ہٹا کر اس کے پیچھے گیا ماہی اسے جاتے دیکھ کر انکھیں بند کیے اپنے انسو روکنے لگی….
تنوی رک جاؤ….
لان تک پہنچ کر آہل اس کے سامنے اگیا…
مجھے جانے دو آہل…. پلیز
وہ اس کی جانب دیکھے بغیر بولہ
دیکھو تنوی میری بات سنو….
کیا سنو آہل اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا اب کچھ سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں تمہیں یہاں سرپرائیز دینے آئی تھی تم نے تو مجھے سرپرائیز کردیا
وہ اس کی بات کاٹ کر بولی
تنوی پلیز لیٹ می ایکسپلین……..
وہ زچ ہوکر بولا
کیا ایکسپلینیشنس دوگے آہل اپنی انکھوں سے تمہیں اس کے اتنے قریب دیکھا ہے میں نے ..اتنی بیوقوف نہیں ہوں کہ اتنی بسی بات نہیں سمجھ سکوں جو تم اسے ایکسپلین کرنا چاہتے ہو …..یو ہرٹ می آ لوٹ …..میں نے تو سوچا تھا تم کمزور نہیں ہو تم ایسا کچھ نہیں کروگے لیکن میں غلط تھی تم بھی اور مردوں جیسے ہو ایک خوبصورت لڑکی کے آگے تمہاری ساری انا سیلف ریسپیکٹ سب کچھ کمزور پڑ گی یہاں تک کہ تم اپنا پرومس تک بھول گئے آہل…….
کچھ نہیں بھولا ہوں میں اور ناہی کمزور پڑا ہوں جیسا تم سوچ رہی ہو میرے بارے میں ویسے کچھ نہیں ہے اور میں اپنی زبان سے پلٹنے والوں میں سے نہیں ہوں اس لیے مجھ پر الزام لگا نا بند کرو…….
وہ اس کی بات کاٹ کر غصے سے کہتا اندر چلا گیا اور تنوی اسے جاتے دیکھ کر باہر کی جانب بڑھ گئی
………….م……
