Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 32

سنایا خان

وہ روم میں آئی تو بیڈ پر ہی ایک گفٹ باکس رکھا ہوا تھا اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں سرخ رنگ کا ڈریس تھا ساتھ ہی ایک کارڈ بھی تھا اس نے نکالا اور پڑھنے لگی

بہت کچھ قیمتی لمحیں ضائع ہوگیے ہماری زندگی کہ ایک دوسرے سے اجنبیت میں لڑنے میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں کیوں نا ایک نئی شروعات کرے ہر لمحہ کو پھر سے جیے ادھوری کہانی کو پورا کریں. اس لیے میں چاہتا ہوں آج تم یہ ڈریس پہن کر ایک بار پھر میری دلہن بنو میرے لیے……

اس نے ڈریس کو ہاتھ میں لیا انکھوں سے لگاکر رونے لگی

نہیں اہل جی یہ کبھی نہیں ہوگا اب……کیونکہ ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کی زندگی سے جارہے ہیں ہم جانتے ہیں آپ کو بہت برا لگے گا بہت ناراض ہونگے آپ لیکن کم سے کم آپ کو آپ کی خوشیاں تو مل جائنگی اپنی مرضی سے اپنی زندگی جی سکے گے آپ ….اج ہم آپ کو اس زبردستی کے رشتے سے آزاد کردینا چاہتے ہیں… ہمیں معاف کردیجیے گا کہ ہم آپ کو بنا بتاے جا رہے ہیں

وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے زاروقطار رونے لگی لیکن رونے سے کچھ حاصل نہیں تھا اسے مضبوط بننا تھا اپنے فیصلے پر عمل کرنا تھا اس نے اپنا چہرہ صاف کیا اور اس باکس کو دوبارہ اسی طرح رکھ دیا

جلدی جلدی تیار ہوکر نیچے آئی تو سب اپنے اپنے کمرے میں تھے اس نے ملازم سے کہہ کر اپنا بیگ گاڑی میں رکھوایا ملازم نے خاموشی سے اس کے حکم پر عمل کیا وہ ثریا بیگم کے کمرے میں آئی وہ کپڑے فولڈ کرکے الماری میں رکھ رہی تھیں

ماہی کہیں جا رہی ہو تم بیٹا……

ثریا بیگم اسے تیار دیکھ کر بولی

جی ہمیں اپنی ایک سہیلی سے ملنے جانا تھا

وہ دھیرے سے بولی

ٹھیک ہے جاؤ لیکن جلدی آجانا آج موسم بہت خراب ہے نا لگتا ہے بارش ہونے والی ہے ڈرائیور سے کہنا دھیان سے گاڑی چلاۓ

ثریا بیگم مصروف سے انداز میں اسے سمجھانے لگی وہ انھیں غور سے دیکھتی رہی اور آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ گئی

ارے… کیا ہوا….. تم ٹھیک تو ہو

ثریا بیگم حیرانی سے بولی

آپ ہماری اتنی فکر کرتی ہے..تب ہمیں لگتا ہے جیسے ہماری امی ہمارے سامنے ہیں ….

میں بھی تو تمہاری امی ہی ہوں نا…

وہ اسکا چہرہ تھامتے ہوے بولی ماہی نے سر اثبات میں ہلا دیا

ٹھیک ہے امی ہم چلتے ہیں دیر ہورہی ہے اور ہمیں آتے ہوۓ بھی شاید دیر ہوجاے ہمارا انتظار مت کیجیے گا

وہ اور زیادہ وہاں کھڑی رہتی تو شاید رو دیتی اس لیے جلدی سے بولی اور باہر نکل گئی دادی کے روم آئی تو وہ سوئی ہوئی تھی اس نے خدا کا شکر ادا کیا ورنہ اسے ایک اور بار جھوٹ بولنا پڑتا اس نے زمین پر بیٹھتے ہوۓ ان کے ہاتھ پر بوسہ کیا اور باہر نکل ائی

باہر نکلنے کے بعد بھی وہ کھڑی اپنے گھر کو دیکھتی رہی کتنی یادیں وابستہ تھی یہاں سے جنہیں وہ کبھی بھول نہیں سکتی تھی

ڈرائیور کے ساتھ وہ بس تھوری دوری تک آئی پھر اتر کر اسے جانے کو کہہ دیا اور وہاں سے ٹیکسی لے لی


وہ آفس سے جلدی سے نکلا تھا لیکن راستے میں گاڑی خراب ہوگئی اسلیے اسے گھر آتے آتے دیر ہوگئی. اس نے ماہی کے لیے ایک خوبصورت سفید پھولوں کا بوکے خریدا تھا باہر بارش ہورہی تھی اسلیے وہ بارش میں بھیگ گیا تھا گھر پہنچا تب تک سب سو چکے تھے وہ سیدھے روم میں آیا روم میں بلکل اندھیرا تھا اس نے بوکے ٹیبل پررکھا اور اپنا اوور کوٹ نکال کر صوفے پر پھینکا اور لائٹ آن کی

ماہی…

وہ نظریں گھماتے ہوے اسے پکارنے لگا اور اپنے گیلے بالوں کو ہاتھ سے جھٹکتے ہوۓ پانی نکالنے لگا

وہ اسے پول کی جانب دیکھنے کے ارادے سے آگے بڑھا تو اس کی نظر بیڈ پر رکھے گفٹ باکس پر پڑی اس نے حیران ہوکر وہ اٹھایا اور کھول کر دیکھا تو وہ بلکل جوں کا توں تھا اس نے باکس بند کرتے ہوۓ ماہی کو دوبارہ آواز دینا چاہا تب اس کی نظر بیڈ پر رکھے انولپ پر پڑی جو باکس کے نیچے رکھا ہوا تھا اس نے باکس بیڈ پر رکھ کر وہ انولپ اٹھالیا اس کی اب تک کی خوشی معدوم ہوچکی تھی اب وہ بس حیران تھا اس نے پیپرس نکاتے تو وہ شادی کے کانٹریکٹ کے پیپرس تھےساتھ ہی ایک چٹھی بھی تھی اس نے پیپرس واپس بیڈ پر ڈالتے ہوۓ وہ چٹھی کھول لی

آج ہمارا کانٹریکٹ ختم ہوگیا….. چھ مہینے پورے ہوگیے اور ہماری شرط بھی…… وعدے کے مطابق اب ہمارا جانے کا وقت ہوگیا ہے اس لیے ہم جارہے ہیں…. ہمیشہ کے لیے……آپ کی زندگی سے بہت دور…….. اللہ سے دعا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہمیشہ خوش رہے اور آپ سے ایک ریکویسٹ ہے کہ یہ کانٹریکٹ والی بات کبھی بھی کسی کو مت بتایے گا آپ کو ہماری قسم ہے یہ بات بس ہمارے ساتھ ہی ختم کردیجیے ہم نہیں چاہتے کہ اس بات کو لیکر دوبارہ گھر میں کوئی مسئلہ ہو پلیز آہل جی ہماری قسم توڑنے سے پہلے ایک بار یہ سوچ لیجیے گا کہ اس کا آپی اور بھائی کی زندگی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے…..ہم جانتے ہیں آپ ہمارے اس طرح جانے پر شاید ہمیں کبھی معاف نا کریں …….لیکن بس ہمیں ایک برا خواب سمجھ کر بھول جایئے گا

اس نے بے آواز چٹھی پڑھی اور ساکت ہوکر اسے دیکھنے لگا

کیسے ……..کیسے بھول جاؤں……….. اس نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ کیسے بھولوں اسے…. کیسے بھولوں گا اسے… …کیسے

وہ ہوش و ہواس سےبےگانہ مسلسل بڑبڑانے لگا پھر چند پل کے لیۓ خاموش ہوگیا اور ایکدم سے چٹھی کے پرزے پرزے کرکے ہوا میں اچھال دیے بیڈ پر رکھے پیپرس اٹھا کر انہیں غور سے دیکھنے لگا پھر ایک جھٹکے سے انھیں پرزے پرزے کردیے

یہ نہیں ہوسکتا….. تم نہیں جا سکتی

اس نے گفٹ باکس کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا

…. ایسا نہیں ہوسکتا… ایسا نہیں ہوسکتا

وہ غصے سے چلاتے ہوۓ روم کی ہر ایک چیز کو تباہ کرتا رہا پھولوں کو بےدردی سے توڑ مروڈ کر زمین پر بکھیر دیے

نو….. ..یو کانٹ ڈو دس ماہی… تم ایسا نہیں کرسکتی

وہ ہر ہر چیزکو زمین یا دیوار پرمارتا اور چکنا چورکردیتا اس کی انکھیں ہلکی سرخ ہوگئی تھی وہ جیسے ہوش میں ہی نہیں تھا بےقابو ہوکر چیزوں پر اپنا غصہ نکال رہا تھا

ثریا بیگم اس کی چینخ پکار سن کر گھبرائی ہوئ اندر آئی

آہل…….
رک جاؤ بیٹا….. کیا ہوا ہے تمہیں…

ثریا بیگم نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اس کی حالت دیکھ کر گھبرا کر پوچھا

مام وہ چلی گئی….. وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی….وہ کیسے جا سکتی ہے اس طرح……ایسا کیسے کرسکتی ہے وہ میرے ساتھ

وہ انھیں دیکھتے ہوۓ دیوانہ وار کہنے لگا

نہیں بیٹا وہ کہیں نہیں گئی ہے واپس اجائگی ابھی

نہیں مام وہ نہیں ائیگی وہ ہمیشہ کے لیے مجھے چھوڑکر چلی گئی میرا پیار ٹھکرا کر چلی گئی بنا غلطی کے مجھے سزا دی اس نے…..

وہ کہتےکہتے کہتے زمین پر بیٹھ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا

نہیں بیٹا ….

وہ اسے اس طرح دیکھ کر خود رونے لگی

مجھے بدل دیا اس نے زندگی کا نیا رخ دکھایا محبت کرنے پر مجبور کردیا مجھے بدلنے پر مجبور کردیا اور اب میرا ساتھ چھوڑ دیا مجھے دوبارہ اندھیرے میں اکیلا چھوڑدیا اس نے

وہ سنجیدگی سے بولا اس کی انکھ سے انسو زمین پر گرا

آہل…..

ثریا بیگم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

اس نے کہا مجھے بھول جاؤ……… اتنی آسانی سے اس نے کہہ دیا……… کیسے بھول سکتا ہوں میں اسے…… خود سے کیسے نکال سکتا ہوں اسے……

وہ ثریا بیگم کی جانب دیکھ کر کہنے لگا اور ان کے گلے لگ گیا

خود کو سنبھالو بیٹا….. سب ٹھیک ہوجاۓگا

وہ خود ٹوٹ گئی تھی لیکن اسے تسسلی دے رہی تھی وہ بنا کچھ بولے ان کے گلے لگا رہا کتنی ہی دیر تک

یا اللہ ہمیشہ میرے بچے کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ابھی ابھی تو اس نے مسکرانا سیکھا تھا تونے دوبارہ اسے غم دے دیے ابھی ابھی تو پچھلے زخموں سے نجات ملی تھی اب کیوں ایسا کیا… یا اللہ رحم کر میرے بچے کے اور امتحان مت لے

وہ اوپر دیکھتے ہوۓ خدا سے شکوہ کرنے لگی


اس نے کانپتے ہاتھوں سے ڈور بیل بجائی ملازم نے دروازہ کھولا اوراسے بیٹھنے کو کہا اور خود اندر چلا گیا وہ زمین کو تکتے ہوۓ کتنی ہی دیر بیٹھی رہی جب اوپر سے کوئی آتا دکھا تو وہ کھڑی ہوگئی

ماہی…..

اسے دیکھ کر وہ لڑکی خوشی سے اسے پکارتی ہوئی نیچے آئی اور جوش کے ساتھ اس کے گلے لگی

تم اور یہاں…. کب …کیسے.. ہاؤ… او مائے گاڈ آے ایم سو ہیپپی ..کیسی ہو تم

ہم بلکل ٹھیک ہے تم کیسی ہو روشنی

ماہی نے اس کی ایکسائٹمنٹ کو دیکھتے ہوۓ خوشی سے کہا

فرسٹ کلاس….. یار میں نے کتنا مس کیا تمہیں اب تو سوچ لیا تھا کہ نیکسٹ ویک تم سے ملنے جانا ہے اور دیکھو تم خود آگئی.. لیکن یہ کیا تم اکیلی ہو… کسی کے ساتھ نہیں آئی

وہ اچانک دھیان آنے پر بولی

نہیں….

ماہی نے اسے ساری بات بتادی جسے سن کر وہ خود بھی پریشان ہوگئی اور کنفیوز بھی کہ کیا کہے کیا نا کہے
..ماہی…. کیا تمہیں نہیں لگتا تمہیں ایک بار اس سے بات کرلینی چاہیے تھی بجاے اس طرح بنا بتاے آنے کے کبھی کبھی وہ سچ نہیں ہوتا جو ہمیں نظر آتا ہے

وہ سوچ کر بولی

نہیں روشنی ہم جانتے ہیں… اگر ہم انہیں بتاتے تو وہ ہمیں نہیں آنے دیتے وہ اس سمجھوتے کے رشتے کو نبھالیتے ہمدردی میں آکر ہمیں اپنا لیتے لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہر کسی نے ہم سے ہمدردی ہی تو کی ہے لیکن اب نہیں… ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہماری وجہ سے اپنی خوشیوں سے محروم رہے اگر ہم ان کی زندگی سے دور نہیں جاتے تو شاید ان کی خوشیاں انہیں کبھی نہیں مل پاتی وہ نا چاہتے تب بھی سب انہیں مجبور کرتے ہمیں اپنانے کے لیے اسلیے ہمارا یہ کرنا ضروری تھی

اور انکل انٹی…..

کسی کو نہیں بتایا ہم نے….. کیونکہ اب ہمیں کسی کی تکلیف کی وجہ نہیں بننا چاہتے…. کچھ وقت تک ہم سے ناراض رہے گے ہم سے نفرت کرینگے اور پھر ہمیں بھول جائنگے لیکن کم سے کم انہیں نجات تو مل جائگی ایک بوجھ تو ہٹ جاۓگا سب کی زندگیوں سے

وہ انکھیں بند کرکے آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی

اوکے اوکے… پلیز ڈونٹ کراے….. جو ہوا سو ہوا اب رونا مت ٹھیک ہے…. ہم سب ہے تمہارے ساتھ

وہ اس کے قریب ہوکر اسکا ہاتھ جکڑتے ہوۓ بولی

وہ نانی صاحب کہاں ہے….

ماہی نے اسے جانچتے ہوے کہا

دادی صاحب اور ممی پاپا کلکٹر صاحب کے گھر پر لنچ کے لیے انوائٹڈ ہے آتے ہی ہونگے

ماہی نے اثبات میں سر ہلایا اور دوسری جانب دیجھنے لگی

تم گھبرا کیوں رہی ہو تمہیں یہاں دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوگی

وہ اسکی حالت نوٹ کرتے ہوے بولی

ہمیں نہیں لگتا… ہمیں تو بہت ڈر لگ رہا کہ ان کا کیا ری ایکشن ہوگا

ڈونٹ وری یار میں ہوں نا میں سب سنبھال لونگی

اس نے ماہی کو تسسلی دیتے ہوے کہا

یہ اس کا ننھیال تھا اس کے نانا صاحب گاؤں کے بہت بڑے زمیندار اور خاندانی رئیس تھے ان کی وفات کئی سال پہلے ہوچکی تھی اس لیے بعد میں نانی صاحب نے ہی کاروبار سنبھالا تھا ان کی دو ہی اولادیں تھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی بیٹے کو انہوں نے اعلی تعلیم دلوائی تھی اس نے بعد میں شہر میں خود کا کاروبار شروع کرکے ترقی حاصل کی تھی جب کہ ان کی بیٹی نے اپنی مرضی سے ایک غریب گھرانے کے لڑکے سے محبت والی شادی کی تھی بدنامی کے ڈر سے شادی تو انہوں نے خود کروادء تھی لیکن اس کے بعد اس سے رشتے توڑ دیے تھے لیکن چنف سالوں بعد ہی اس کی موت پر وہ بری طرح ٹوٹ گئی تھی اولاد چاہے جیسی ہو ہوتی تو اولاد ہی ہے اپنی بیٹی کے گزرنے کے بعد انہوں نے ماہی کو اپنے پاس بلوانے کی کافی کوشش کی تھی لیکن وہ راضی نہیں ہوئی تھی کئی بار وہ اسے لیٹر لکھ کر یا فون پر اپنے پاس انے کا کہتی تھی لیکن ماہی کو وہان جانے سے ڈر لگتا تھا کیونکہ اس نے بڑی امی سے جان لیا تھا کہ اس کی نانی سخت مزاج ہے حالانکہ انھوں نے اسے کبھی روکا نہیں لیکن وہ خود نہیں جاتی تھی اسی ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے کسی کو ماہی کی شادی میں شامل نہیں ہونے دیا تھا روشنی سے اس کی جان پہچان تب ہوئ تھی جب وہ ان کے گھر چند روز رہنے کے لیے ائی تھی اس کے بعد وہ دونوں اکثر ایک دوسرے سے رابتہ کرلیتی تھی لیکن گھر کے کسی فرد سے ملنا تو دور اج تک اس نے بات نہیں کی تھی لیکن آج وہ یہاں ائی تھی کیونکہ اس وقت اس کے پاس کوئی اپشن نہیں تھا