No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 15
سنایا خان
آہل……… آہل رک جاؤ…….. آہل
گھر کے بڑے سے صحن میں وہ گول گول چکر لگا رہا تھا اور رائمہ اس کے پیچھے پیچھے دوڈ کر اسے آوازیں دے رہی تھی اس کی عمر تقریباً نو دس سال ہوگی لیمن یلو اور بلیک لایننگ والی ٹی شرٹ میں بلیک شارٹس پہنے سفید دودھ جیسا گول مٹول..
آہل رک جائیں…… کب سے تنگ کر رہے ہیں آپ ہمیں
وہ رک کر زور کہ سانسیں لیتے ہوۓ بولی آہل بھی رک گیا
چلیں اب آپ کہ مستی ختم ہو گئی ہو تو چل کر کھانا کھا لیجیے
رائمہ اس کی جانب بڑھی
نہیں مجھے اپ کے ہاتھ سے نہیں کھانا مجھے مما کے ہاتھ سے کھانا ہے
وہ زور زور سے گردن ہلاتا ہوا بولا رائمہ چل کر اس کے پاس آئی
آہل….. مما کی طبیعت خراب ہے نا وہ سو رہیں ہے…….. ابھی آپ ہمارے ہاتھوں سے کھالیں کل مما سے کھا لینا
رائمہ اسے سمجھاتے ہوے بولی
نہیں مجھے ابھی مما کے ہاتھ سے کھانا ہے
اس نے رائمہ کا بڑھتا ہوا ہاتھ جھٹک کر کہا
آہل ….آپ دن بدن بہت ضد کرنے لگے ہیں اگر اب اپ نے ضد کی نا تو ہم اپ سے بات نہیں کرینگے
رائمہ نے خفگی سے کہا
لیکن مما کہتی ہے بات نہیں کرنے والے گندے بچے ہوتے ہیں
وہ بہت گہرائی سے بولا
تو کیا شرارت کرنے والے بچے گندے نہیں ہوتے
رائمہ نے اس کی بات پر کہا
مجھے مما کے پاس جانا ہے……..
وہ رونی صورت بناے بولا
آہل مما کو ڈاکٹر نے دوائی دے کر سلایا ہے کیا آپ چاہتے ہیں آپ انھیں جگائیں اور ان کی طبیعت خراب ہو جاے
رائمہ نے جھک کر کہا آہل نے سر نفی میں ہلا دیا
تو پھر ہماری بات مانے گے اچھے بچوں کی طرح
اس نے سوال کیا آہل نے سر اثبات میں ہلا دیا
دھیٹس لائک آ گڈ باۓ
رائمہ اس کے گال پر کس کرتے ہوے بولی
دروازے پر دستک ہوئی تو رائمہ نے گیٹ کھولا اس کہ سہیلی آئی تھی اسے باتوں میں لگتا دیکھ کر آہل خاموشی سے اندر چلا آیا یہ دو مرحلوں کا چھوٹا سا مگر بہت خوبصورت بنا ہوا گھر تھا وہ اندر آیا اور رائمہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی اوپر اپنی امی سے ملنے جانے لگا کل رات کے بعد اس نے امی کو نہیں دیکھا شاید اس لیے اتنا بے چین ہو رہا تھا جیسے ہی اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھنا چاہا زوردار اواز کے ساتھ ایک وجود سیڑھیوں سے پھسلتے ہوے زمیں پر ٹھیک اس کے پیروں میں اگرا اہل نے ایک زور دار چینخ ماری
وہ ہڑبڑا کر بستر سے اٹھ کر بیٹھ گیا سانسیں بے ترتیب چل رہی تھی سارا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھااور چہرے پر خوف و گھبراہٹ کے تا ثرات تھے اس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی
آہل جی……
ماہی وہیں کھڑی کچھ کر رہی تھی آہل کی کیفیت دیکھ کر گھبرا کر اس کے پاس آئی
آہل جی آپ ٹھیک تو ہے نا کیا ہوا آپ کو……..
. وہ پریشان ہوکر بولی اس نے آہل کو اس طرح پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا
کوئی برا خواب دیکھ لیا کیا آپ نے
وہ اس کا شولڈر ہلا کر جھنجھوڑتے ہوے بولی لیکن آہل پر کوئہ اثر نہیں ہوا وہ گہری سانس لیتے ہوے منہ پر ہاتھ پھیر رہا تھا
ماہی نے گلاس میں پانی ڈال کر اس کے آگے کیا
آہل جی… پانی پی لیجیے….. آپ کو اچھا لگے گا
آہل نے بنا اس کی جانب دیکھے پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لیکر زور سے دوسری جانب کی دیوار پر دے مارا ماہی نے اس کے اس اچانک ردعمل پر سہم کر دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے
جسٹ لیو می… مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے سمجھی تم اسلیے اپنی ہمدری اپنے پاس رکھو اور مجھ سے دور رہو
وہ غصے سے دہاڑتا ہوا بولا اور جھٹکے سے بلینکٹ خود سے ہٹایا اور اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھ گیا ماہی نے کانوں سے ہاتھ ہٹا کر منہ پر رکھے اور زاروقطار رودی اہل کا اس طرح اس پر برس جانا وہ بھی بغیر کسی وجہ کے ماہی کو بہت برا لگا
ہم کیوں رو رہے ہیں….. انھوں نے اج پہلی دفعہ تو ایسے بات نہہں کی ہم سے پھر اج کیوں ہمیں اتنا برا لگ رہا ہے
اس نے دونوں گالوں کو صاف کرتے ہوے سوچا اور بیڈ کی دوسری جانب آکر کانچ کے ٹکڑے سمیٹنے لگی جو پورے کمرے میں بکھرے ہوے تھے گلاس کے ادھے ٹوٹے حصے میں وہ ایک ایک ٹکڑے کو رکھنے لگی بے دھیانی میں اس کا پیر ایک کانچ کے ٹکڑے پر چلا گیا اور اس کے منہ سے ایک زور کی آہ ہ نکلی وہ پیر اٹھا کر دیوار کے سہارے سے چلتی ہوئی بیڈ تک آئی اور بیڈ پر بیٹھ کر اپنے پیر کو دیکھنے لگی اس کے رونے میں اب روانی اگیی تھی اس نے ہمت جمع کرکے کانچ نکالا اور ٹیبل سے باکس نکال کر خود ہی ڈریسنگ کی اس کا رونا بند ہو چکا تھا لیکن اس نے کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اسے بہت درد ہوا کانچ سامنے کی طرف چبھا تھا اس لیےوہ درد کی وجہ سے چل بھی نہیں پا رہی تھی اس نے بارہ باری کر کے باقی کے سارے کانچ بھی اٹھائے
آہل باہر آیا تو اس نے ماہی کو جھک کر کانچ اٹھاتے ہوے دیکھا اس کی نظر زمین پر جا بجا لگے خون کے ساتھ ماہی کے پٹی بندھے ہوے پیر پر پڑی وہ ٹاول صوفے پر پھینکتے ہوے اس کی جانب بڑھا
تمہارے پیر کو کیا ہو ا
اسے معلوم تھا پھر بھی سوال کیا لیکن ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا
تم رہنے دو یہ…..
اس نے جھک کر ماہی کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا لیکن ماہی نے اپنے دوسرے ہاتھ سے دھیرے سے اس کا ہاتھ ہٹا دیا آہل نے اسکی ناراضگی کو محسوس کرکے کوئی زبردستی نہیں کی ماہی نے کانچ کے ٹکڑے ڈسٹبن میں ڈالے اور وہاں سےجانے لگی پول کی جانب.. آہل نے اسے لڑکھڑاکر چلتے ہوے دیکھا تو آگے بڑھ کر اسے باہوں میں اٹھا لیا اور بیڈ پر لے ایا ماہی نے کوئی تردد نہیں کیا نا کچھ بولی بس اس سے نظریں پھیرے رکھی جب کہ آہل مسلسل سنجیدگی سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا
ماہی کو بیڈ پر لٹا کر اس نے ماہی کا پیر دیکھنا چاہا لیکن اس کا ارادہ بھانپ کر ماہی نے اپنے دونوں پہر سمیٹ لیے آہل نے پہلے اس کے پیروں اور پھر اس کی جانب دیکھا جو پوری طرح سے دوسری جانب رخ کیے اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی اس کے پہلے کہ وہ کچھ کہتا اس کا فون بجنے لگا تو وہ فون کان سے لگاتا ہوا باہر نکل گیا
.
اسلام علیکم کیسی ہے آپ
دانش ماہی سے ملنے آیا ہوا تھا لیکن سب سے پہلے اس کا سامنا رائمہ سے ہی ہوگیا جو ڈرائنگ روم کے صوفے پر خاموش بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی دادی اور ثریا بیگم گھر پر موجود نہیں تھے اور آہل بھی افس گیا ہوا تھا دانش کی آواز پر چونک کر اٹھ گئی اور اس کے سلام کا جواب دیا
میں نے پوچھا کیسی ہیں آپ
جی ہم ٹھیک ہےبیٹھیے نا
اسے دانش سے بات کرنے میں بھی جھجھک محسوس ہوتی تھی کیونکہ اس نے اس کی نظروں میں کچھ الگ محسوس کیا تھا جو نارمل نہیں تھے
ہم ماہی کو بلاتے ہیں
وہ وہاں سے جانے لگی تو ماہی کو سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھ کر وہیں رک گئی ماہی نیچے آکر دانش سے ملی
کیسی ہو تم
ہم بلکل ٹھیک ہے بھائی
یہ پیر میں کیا ہوا
کچھ نہہں بس معمولی سا زخم ہے
آپ لوگ باتیں کیجیے ہم ابھی آتے ہیں
رائمہ اٹھ کر باہر لان میں چلی آئی نرم نرم گھاس پر ٹہلتے ہوے نا چاہتے ہوے بھی وہ دانش کے متعلق سوچنے لگی وہ جن نظروں سے اسے دیکھتا جس طرح بات کرتا اسے سمجھاتا تھا وہ رائمہ کے لیے کچھ عجیب اور نیا سا تھا اس نے دانش کی نظروں میں اپنے لئے پسندیدگی محسوس کی تھی لیکن وہ دانش سے بات کرنا تو دور اس کے سامنے آنے سے بھی کنفیوز ہوجاتی تھی
سادہ سے بلیک اینڈ وہائٹ پرنٹڈ کرتی پر بلیک ٹراؤزر اور بلیک دوپٹہ اوڈھے سادہ سے حلیہ میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی وہ تھی بھی بہت خوبصورت کہ اسے کسی مصنوعی سجاوٹ کی ضرورت ہی نہیں تھی
سفید رنگت براؤن آنکھیں براؤن سلکی بال اور سب سے زیادہ اس کے چہرے کی معصومیت جو ہر کسی کو اسکی جانب متوجہ کرتی تھی
دانش جانے لگا تو لان میں ایک بار پھر اس کا سامنہ رائمہ سے ہوا
آپ جا بھی رہے ہیں ابھی تو آۓ ہیں
تو اور کیا کروں آپ تو مجھ سے بات کر نہیں رہی.
نہیں معاف کیجہے وہ ہم
.جی میں جانتا ہوں اپ ایسا کیوں کر رہی ہیں
کیوںکہ آپ کو محھ سے ڈر لگ رہا ہے
ن… ن… نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں
ایسی ہی بات ہے آپ ڈرتی ہے آپ سوچتی ہیں کہ کون بات کرے اس بندے سے جو شروع ہوتا ہے تو ختم ہی نہیں ہوتا بور کرکے رکھ دیتا ہے
اس کے انداز پر رائمہ کو ہنسی آگئ دانش بھی مبہوت سا اس کی خوبصورت ہنسی کو دیکھتا رہا
ہنستے ہوے بہت اچھی لگتی ہے اپ
اس نے سنجیدگی سے کہا تو رائمہ کی ہنسی رک گئی وہ سنجیدہ سی ہوگئی کہ واقعی وہ کس طرح اس کہ بات پر ہنس رہی تھی جب کہ ہنسنا تو دور وہ مسکرانا بھی چھوڈ چکی تھی
لیجیے پھر کچھ سوچنے لگ گئی سمجھ نہیں آتا آپ اتنا سوچتی کیسے ہیں میں تو بچپن سے لیکر اب تک سال میں بس ایک بار ہی سوچتا ہوں وہ بھی ایکزام کے وقت کہ پڑھا تو کچھ ہے نہیں اب لکھونگا کیا
اس نے معصوم شکل بناے کہا رائمہ مسکرادی
بس ہمیشہ ایسی مسکراتی رہا کرے
آہل……..
وہ بلوٹوتھ کان میں لگاۓ کسی سے بات کرتے ہوے باہر جارہا تھا رائمہ کی آواز پر رک کر کال بند کی
جی…….
اگر آپ بزی نہیں ہیں تو ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی تھی
جی میں بس پانچ منٹ میں آیا
وہ کان کی جانب اشارہ کرتے ہوے بولا
کیا ہوا آپی آپ کو مجھ سے کیا بات کرنی تھی کیا کوئی پرابلم ہے
وہ رائمہ کے کمرے مین اکر فکرمندی سے بولا
کیا یہ ضروری ہے کہ ہم بس کسی پرابلم کے وقت ہی تم سے بات کرے بلاوجہ بات نہیں کر سکتے
اس نے شکوہ کناں لہجے میں کہا آہل اکر بیڈ کے ایک سائڈ پر بیٹھ گیا
.آپ ہمیں پریشان لگ رہے ہیں کیا بات ہے
آہل کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات دیکھ کر بولی
نہیں کوئی بات نہیں بس کام کا پریشر ہے تھوڑا
اس نے بے نیازی سے کہا
اب وہ اسے کیا بتاتا کہ پچھلے چار دنوں سے کسی کی خاموشی اسے بری طرح محسوس ہو رہی تھی جو وہ خود بھی ماننا نہیں چاہتا تھا
ہر وقت آپ کو کام کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے کبھی اپنی نجی زندگی کو بھی وقت دیا کریں اب آپ اکیلے نہیں ہے کوئی اور بھی جڑا ہے آپ سے جس کی خوشیوں کا دارومدار صرف آپ پر ہے
رائمہ نے اسکے جھکے ہوے سر کو فیکھتے ہوے کہا اس مے اہل کو احد کے بارے مین بتانے کا فیصلہکیا تھا لیکن اس وقت اسے پریشان دیکھ کر اپنا ارادہ بدل دیا
ایک بات پوچھوں آپ سے
آہل بنا اس کی جانب دیکھے بولا
اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جاے جس کا ہمیں احساس بھی ہو لیکن ہم اسے ماننا نہیں چاہتے یا مان نہیں سکتے مگر ہم سامنے والے کو ہرٹ ہوتا دیکھ کر گلٹی بھی فیل. کر رہے ہو تو کیا کریں
وہ کہتے کہتے اا کی جانب دہکھنے لگا رائمہ نے اسے حیران نطروں سے دیکھا کیونکہ اس سے اس طرح کی باتوں کی توقع نہیں تھی
میں بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا ……
اسے خاموش دیکھ کر وہ بولا
سوری کہہ دیں …….دنیا کی آدھی سے زیادہ پرابلمس کا سولیوشن سوری ہے.
جب احساس ہے کہ غلطی کی ہے تو اسے صحیح بھی تو کرنا چاہیے نا
سوری کہنا کیا اتنا آسان ہوتا ہے
وہ. اسے جانچتے ہوے بولا
نہیں ……….مشکل ہوتا ہے کیونکہ انا بیچ میں آتی ہے جو ہم سے لڑتی ہے ایسا کرنے سے روکتی ہے لیکن ہم جیسے اپنوں کے لیے سب سے لڑ جاتے ہیں اسی طرح انا سے بھی لڑنا چاہیے اگر ایک سوری کہنے سے کسی کو اچھا لگتا ہے کچھ پرابلمس سولو ہوتے ہیں سامنے والے کو اپنے پن کا احساس ہوتا ہے تو ہرج کیا ہے اور آپ کا گلٹ بھی تو ختم ہو جاتا ہے کہ ہاں غلطی کی تو سوری بھی کہہ دیا
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوے کچھ سوچنے لگا پھر دوبارہ سر جھکا لیا
بہت دیر ہو رہی ہے جا کر آرام کرلیں آہل
رائمہ اسے الجھا الجھا سا دیکھ کر بولی
اس دن ہوٹیل میں احد آیا ہوں تھا
وہ بنا سر اٹھاے بولا رائمہ حہران نظروں سے اسے دیکھنے لگی
یہ سوچ رہی ہیں کہ مجھے کیسے پتا چلا
بھائی ہوں آپ کا اتنا لاپرواہ بھی نہیں کہ اپنی بہن کی خبر نا رکھ سکوں لیکن مجھے معلوم ہوتے تھوڑی دیر لگ گئی ورنہ…………
اہل……..
رائمہ نے اسے روک کر کچھ کہنا چاہا
آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی
بھروسہ نہیں آپ کو مجھ پر
اس نے خفگی سے کہا
ایسی بات نہیں ہے اہل ہم نے سوچا کہ بات کیوں بڑھاے
آہل چپ رہا کچھ نہیں بولا
کچھ دن پہلے انھوں نے ہمیں فون بھی کیا تھا
کیا………….
وہ حیرت سے بولا رائمہ شرمندہ سی نظر جھکا گئی
کیا کہا اس نے…….
وہ غصے سے بولا
یہ پوچھوں ہم نے کیا کہا ان سے
پہلی بار ہم نے بنا گھبراے ان کی باتوں کا جواب دیا ان سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جس سے ہم اب تک ڈرتے تھے
آہل اسے غور سے دیکھنے لگا
لگتا ہے اس کا کچھ کرنا پڑے گا
وہ سوچتے ہوۓ بولا
نہیں آہل نے پلیز آپ پریشان ان سے نا الجھیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں مت بھولیے اب آپ کی اکیلے نہیں ماہی کی زمہ داری بھی آپ پر ہے
آپ ہر بات میں ماہی ماہی کرنا بند کریں ماہی کے آنے سے میں اپنی بہن کو اس کے حال چھوڑ سکتا اور وہ بڑی ذمہ دار بن کر ساتھ لے گئی تھی آپ کو تو آپ کا خیال کیون نہین رکھا اور کیوں مجھ سے یہ بات چھپائی
اہل ہم نے ہی منع کیا تھا انہیں تاکہ آپ غصے میں کوئی غلط فیصلہ نا کر لیں
جو بھی ہے اگر آیندہ اپ نے مجھ سے کوئی بات چھپائی تو میں آپ سے کوئی بات نہیں کرونگا
وہ کہہ کر بنا رکے باہر کی جانب بڑھا
