No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 30
سنایا خان
کیا بات ہے آپ کیوں پریشان ہے
حارث صاحب کو مسلسل خاموش دیکھ کر ثریا بیگم نے فکر مندی سے کہا
کیا بتاؤ آپ کو….. میں ایک بہت ہی خودغرض انسان ہوں جسے کسی کی پرواہ نہیں میں نے یہ تک نہیں سوچا کبھی کہ میری یہ خودسری میرے اپنوں کے لیے سزا بن گئی ہے میں نے ہمیشہ اپنے بارے میں سوچا کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میرے بچے کس حال میں ہے میں کبھی ان کا اچھا باپ نہیں بن پایا نا ہی ایک اچھا بیٹا نا ہی ایک اچھا شوہر میں کوئی رشتہ نبھا نہیں پایا… آج جب مجھے اپنے بیٹے کے دور جانے کا ڈر محسوس ہورہا تب مجھے محسوس ہورہا کہ کسی اپنے کی کمی کیا ہوتی ہے جب کہ وہ ابھی میری نظر کے سامنے ہے لیکن اس کے جانے کا سوچ کر ہی میرا دل بند ہونے لگتا ہے شاید اسلیے کیونکہ اب مجھے اس کی ضرورت ہے لیکن کبھی اسے بھی میری ضرورت تھی تب میں نے اس کا نہیں سوچا تو اب کس منہ سے اسے روکوں میں
وہ اداسی سے بولے
آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہ بہت بڑی بات ہے بیٹا ہے وہ آپ کا باپ بن کر روکیے اسے میں جانتی ہوں وہ کبھی انکار نہیں کریگا
ثریا نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے ہوے کہا
وہ نہیں مانے گا وہ. مجھ سے نفرت کرتا ہے
وہ ان کی جانب دیکھ کر بےبسی سے بولے
نہیں پاپا وہ آپ سے نفرت نہیں کرتے بس ناراض ہے لیکن اگر اپ انہیں منائنگے تو وہ مان جائنگے
ماہی نے ان کی بات سن لی تھی انہیں اتنا بےبس دیکھ کر خود کو کہنے سے روک نہیں پائی
میں نے بہت گناہ کیے ہے اپنی زندگی میں آج ایک ایک کرکے سب میرے سامنے آرہا ہے میں نے آپ کے ساتھ بھی ……..
پاپا جانے دیجیے نا پچھلی سب باتیں بھول جایئے
وہ کچھ کہنے لگے تو ماہی نے ان کی بات کاٹ دی وہ جانتی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں
نہیں بیٹا تم نہیں جانتی میں نے کیا کیا ہے جان جاؤگی تو تم بھی مجھے کبھی معاف نہیں کروگی
ہم وہ بات جاننا بھی نہیں چاہتے بس ہم کہہ رہے ہیں نا کہ سب بھول جائیں وہ سب پچھلی باتیں تھی ان کا ذکر کرکے کچھ حاصل نہیں ہے اور آپ فکر مت کیجیے آہل جی کبھی بھی آپ کو یا اس گھر کو چھوڑ نہیں جائنگے ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں
وہ انھیں دلاسا دیتے ہوۓ پریقین لہجے میں انہوں نے کھڑے ہوکر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنے کمرے کی جانب چل دہے
ماہی اور اس کے درمیان کی دوریاں تو ختم ہوگئی تھی لیکن ایک اجنبیت تھی جو آہل کی وجہ سے دونوں کے درمیان اگئی تھی آہل کی خاموشی نے ماہی کے زہن میں کئی سوال پیدا کردیے تھے لیکن اس کی ہمت نہیں تھی کہ کچھ پوچھ سکے ابھی ابھی تو رشتہ شروع ہوا تھا وہ کوئی بھی ایسی بات نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے دونوں کے درمیان تلخیاں پیدا ہو وہ بس ایسا کچھ کرنا چاہتی جس سے اہل خوش ہو
آہل کا زہن سوچ سوچ کر ماؤف ہوچکا تھا لیکن کوئی راستہ نظر نہیں ارہا تھا ٹینشن کی وجہ سے نا وہ ٹھیک سے کوئی کام کرپارہا تھا نا ہی سو پارہا تھا اس وقت بھی وہ افس چئیر سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب تنوی اندر آئی
کیا ہوا آہل کیوں پریشان ہو تم
اس نے آہل کو اس طرح دیکھا تو بنا پوچھے نا رہ سکی آہل نے انکھین کھول کر اسے دیکھا اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا
نتھنگ
وہ بس اتنا ہی کہ کر چپ ہوگیا تنوی ہلکا سا ہنسی
.پہلے تو بنا ہوچھے ہر بات بتا دیتے تھے اب تو پوچھنے پر بھی کچھ شئیر نہیں کرتے …
وہ اا کے مقابل والی کرسی پر بیٹھتے ہوے پرشکوہ لہجے میں بولی
میں جانتی ہوں اہل تمہاری پریشانی کی اہم وجہ شاید میں ہی ہوں
آہل خاموش اسے دیکھتا رہا وہ رخ دوسری جانب کرکے بولی
ایسی کوئ بات نہیں ہے تنوی….
آہل نے اس کی نفی کی
تو کیا بات ہے اہل جو بھی ہے کہہ دو…. اس طرح خاموش مت رہو
وہ دوبارہ اس کی جانب مڑی آہل سوچنے لگا کہ کیسے شروعات کرے
یہ سوچ رہے ہو کہ مجھے برا لگے گا ……….نہیں لگے گا آج تک تمہاری کوئی بات بری نہیں لگی مجھے…
اسے ہنوز خاموش دیکھ کر بولی
میں….. میں اسے نہیں چھوڑ سکتا تنوی…..
وہ نیچے دیکھتے ہوۓ بولا
میں جانتی ہوں…
وہ اہل کے چہرے پر نظریں جماۓ سنجیدگی سے بولی
پلیز تنوی مجھے غلط مت سمجھو… تم ہمیشہ سے میری اچھی دوست رہی ہو سب سے سپیشل لیکن میں تم سے پیار نہیں کرتا
میں جانتی ہوں….
اب بھی اس نے اسی انداز اور لہجے میں کہا آہل اٹھ کر اس کی جانب آیا
تنوی …
اس نے تنوی کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑے کیا
تم جانتی ہو مجھے کسی سے دوستی کرنا پسند نہیں تھا اس لیے میں جان بوجھ کر ہر کسی کو اگنور کرتا رہتا تھ لوگوں کی میٹھی میٹھی باتیں اور زہریلی سوچ سے نفرت تھی مجھے…. اور تمہارے ساتھ بھی میں نے یہی کیا تھا تمہیں بھی اگنور کیا بلکہ انسلٹ بھی کیا بار بار تم دوستی کے لیے کہتی میں انکار کرتا رہا تمہیں ہیٹ کرتا رہا لیکن تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا مجھے محسوس ہوا کہ تم ان دوستوں میں سے نہیں ہو جو ضرورت کے وقت آتے ہیں تم ان میں سے ہو جو اس وقت آتے ہیں جب ضرورت ہوتی ہے تم نے ہر وقت میں میری ہیلپ کی مجھے راستہ دکھایا میں نے صرف تمہیں اپنی دوست سمجھا سچے دل سے…… میں جانتا تھا تم مجھے صرف دوست نہیں سمجھتی بلکہ مجھ سے کچھ زیادہ ایسپیکٹ کرتی ہو حالانکہ تم نے کبھی کہا نہیں لیکن میں نے اندازہ لگا لیا تھا میری کوئی پسند یا محبت والی بات نہیں تھی تو میں نے سوچا کہ کیوں نا دوست کو ہی لائف پاٹنر بنا لیا جاۓ ماہی کے آنے کے بعد بھی میں نے کبھی اس ارادے سے ہٹنے کا سوچا بھی نہیں لیکن…. میں کیا کروں تنوی میں نے بہت کوشش کی لیکن خود کو روک نہین ہایا اس سے محبت کرنے سے اسے اگنور کیا اس سے نفرت کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کا الٹا ہوتا گیا پتہ نہیں یہ قسمت کی بات تھی یا اس رشتے کی طاقت جو مجھے اس کے قریب سے قریب کرتی گئی
میں اگر تمہیں دیا ہوا پرامس پورا کرنے کے لیے تم سے شادی کر بھی لوں تو کبھی تم سے پیار نہیں کرپاؤنگا نا ہی کبھی ماہی کو دل سے نکال پاؤنگا بس ایک سمجھوتہ ہوگا وہ…….. کوئی خوشی نہیں ہوگی اس میں …. میں یہ نا انصافی نہیں کرسکتا نا اپنے ساتھ نا تمہارے ساتھ… اۓ ایم سوری
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سنجیدگی سے بولا تنوی خاموشی سے اسے سنتی رہی
تم نے کیسے سوچ لیا اہل کہ تمہیں اتنا مجبور کرکے میں تم سے شادی کرونگی اپنے لیے میں تمہیں تمہاری محبت سے دور کرونگی کیا اتنی خود غرض سمجھتے ہو مجھے دوست ہو تم میرے اور دوستی میں کسی جسٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہوتی تمہیں مجھے کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہوں تم ماہی کے اور ماہی تمہارے لیے پرفیکٹ ہے اب بیچ میں آکر مجھے ولن بننے کا کوئی شوق نہیں
وہ صاف دل سے بولی آہل نے ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھا
اور ویسے بھی میں تم سے کونسا عشق کرتی ہوں جو تم نہیں ملے تو مرجاؤنگی وہ تو اچھے خاصے ہینڈسم ڈیشنگ ہو نا اسلیے تھوڑا افسوس تو ہوتا ہی ہے……لیکن چاہے جیسے بھی ہو مجھے سیکینڈ ہینڈ مال پسند نہیں ہے اس لیے تم جاؤ اپنی ماہی کے پاس
وہ اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے شرارتا بولی
آہل جانتا تھا وہ جھوٹ بول رہی ہے خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے اہل نے آگے بڑھ کر اسکے پاس آیا وہ اب بھی ہنس رہی تھی اہل نے اسے گلے لگالیا تو وہ بے آواز رونے لگی
دروازہ دھیرے سے کھول کر ماہی اندر آئی تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے کتنے لمحے تو وہ یونہی ساقت کھڑی رہی خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتی رہی کہ یہ سچ ہے یا خواب
آے لو یو
آہل کی آواز اس کے کانوں میں تیزاب کی مانند محسوس ہوئی بدلے میں تنوی نے بھی آہل کی بات کا جواب دیا ماہی جس طرف کھڑی تھی صرف آہل کا چہرہ دیکھ سکتی تھی وہ آہل کو بے یقینی اور صدمے سے دیکھنے لگی اس کا مزید وہاں کھڑے رہنا ناممکن تھا اس لیے وہ بنا مڑے دھیرے دھیرے پیچھے چلتی ہوئی دروازے سے باہر نکلی اور پھر جلدی جلدی قدم بڑھاتی ہوے وہاں سے باہر آئی گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے ڈرائیور کو گھر چلنے کو کہا وہ اہنے انسو روکنے کی بہت کوشش کرتی رہی لیکن روک نہیں پارہی تھی لیکن وہ کسی کو دکھانا بھی نہیں چاہتی تھی آہل صبح بنا ناشتہ کیے آفس اگیا تھا اس لیے وہ اس کے لیے خود ناشتہ بنا کر لے ائی تھی وہ تو اس رشتے کو مضبوط کرنا چاہتی تھی لیکن آج اسے وہ رشتہ نظر ہی نہیں آیا آج تو اسے حقیقت نظر ائی تھی گھر کے اندر اتے ہی وہ دوڑتے ہوۓ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں ائی اور دروازہ بند کرکے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی آج اس کا دل کررہا تھا کہ چینخ چینخ کر روے اور نا جانے کتنے امتحان باقی تھے اس کے وہ سوچ سوچ کر مرنے لگی تھی آہل کے الفاظ اسکا تنوی کو گلے لگانا سب کچھ فلم کی طرح انکھوں کے سامنے چل رہا تھا وہ وہیں زمیں پر بیٹھ گئی
آیسا کیوں کیا آہل جی آپ نے ہمارے ساتھ….. اگر آپ کو ہمیں اپنانا ہی نہیں تھا اگر آپ کو تنوی جی کے ساتھ ہی رہنا تھا تو کیوں اۓ ہمارے قریب کیوں ہمیں جھوٹی امید دی ..اگر سچ وہ ہے جق آج ہم نے دیکھا تو وہ کیا تھا جو ہم نے ہمیشہ محسوس کیا آپ کی انکھوں میں جو دیکھا وہ کیا تھا آہل جی یمیں اپنا بنا کر ہمارے بن کر آپ کسی اور کے ساتھ……. کیوں کیا آپ نے ایسا آہل جی
وہ اپنی سوچوں میں ہی اہل سے مخاطب تھی
غلطی تو ہماری ہی ہے ہم کیسے بھول گئے کہ یہ شادی تو بس ایک کانٹریکٹ ہے ہم نے اسے اہمیت دی تو کیا وہ بھی دینگے ……نہیں کبھی نہیں…….. ہم نے یہ بات جانتے ہوۓ بھی کہ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں ان کے لیے یہ رشتہ معنی نہیں رکھتا انہیں اتنا بسالیا اپنے دل میں …..لیکن اگر ان کے لیے یہ سب معنی نہیں رکھتا اگر انہیں ہم سے رشتہ نہیں رکھنا تھا تو یہ سب ناٹک کیوں کیا… ہاں ہم تو بھول ہی گئے یہ سب تو ان کے لیے وقت گزاری ہے انھوں نے ہی کہا تھا کہ یہ سب ان کے لیے کچھ معنی نہیں رکھتا ہم کیسے بھول گئے تھے یہ سب ………کیسے ہم نے سوچ لیا کہ یہ ان کی محبت ہے کہ یہ ان کی جانب سے نئی شروعات ہے
روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھی اب آنسو صاف کرکے ایک ایک بات کو سوچنے لگی سمجھنے لگی آہل کے ساتھ گزرا ہوا وقت اس کی باتیں اس کی نفرت اس کی چاہت سب کچھ اس کے زہن میں گردش کرنے لگا
انہوں نے تو ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ تنوی جی سے شادی کرنا چاہتے ہیں ان کے ابو نے ان کی شادی زبردستی ہم سے کروائی وہ مجبور ہوکر شادی کرسکتے ہیں لیکن ہم سے محبت تو نہیں کرسکتے نا نا تنوی جی کو بھول سکتے ہے وہ ہمارے درمیان نہیں آئی بلکہ ہم ہی ان دونوں کے درمیان آگئے تھے انھوں نے تو کوئی بات چھپائی بھی نہیں ہم سے……ل تو ہم کیسے انہیں قصوروار ٹہرا سکتے ہیں غلطی ان کی نہیں ہے یہ تو ہمارا نصیب ہے جو ہم نے خود چنا ہے اب کیوں ہم اس نصیب پر رورہے ہیں….. ہم تو ان سے پیار کرتے ہیں تو ہمیں ان کی خوشی میں خوش ہونا ہے اور ان کی خوشی ہم سے نہیں تنوی جی سے ہے
آہل روم میں آیا تو لائٹس بند تھی اور لیمپ کی ہلکی سی روشنی کا اجالا پھیلا ہوا تھا ماہی بیڈ پے انکھیں بند کیے لیٹی تھی وہ اس وقت آہل کا بلکل بھی سامنہ نہیں کرنا چاہتی تھی
ماہی…
آہل بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ اس پر جھک کر بولا ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا آہل نے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا اور اس کے گال پر پیار کیا
آج اتنی جلدی سو گئی کچھ دیر تو اور انتظار کرتی آج میں تم. سے اپنے دل کی بات کہنا چاہتا تھا تم سے اپنی محبت کا اطہار کرنا چاہتاتھا جانتا ہوں تم پریشان ہو…الجھن میں ہو لیکن اب تمہاری ہر الجھن دور کردوں گا میں…. بنا اظہار کے پیار تو کرلیا اب اس پیار کو نام بھی تو دینا ہے تمہیں بتانا ہے کہ تم کتنی سپیشل ہو میرے لیے…
وہ ماہی کو دیکھتے ہوۓ سوچنے لگا ماہی نے آنکھیں نہیں کھولیں آہل نے اسکے پیشانی پر پیار کیا اور سیدھا ہوکر لیٹ گیا اب اسے صبح کا انتظار تھا وہ. ماہی کو دیکھتے ہوۓ چند ہی لمحوں میں پرسکون ہوکر سوگیا لیکن ماہی ساری رات نہیں سو پائی جانے کیا ہونا تھا اب کیا رخ لینے والی تھی اس کی زندگی
