No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 39
سنایا خان
زور کی بارش شروع تھی اس لیےاج زیادہ رات ہونے سے پہلے ہی سڑک سنسان ہوگئی تھی روشنی ابھی ابھی گھر پہنچی تھی وہ گیٹ کے باہر ہی تھی جب اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک کار بہت تیز رفتار سے ارہی تھی دوسری طرف سے آنے والی گاڑی نے ایکسیڈنٹ ہونے سے بچانے کے لیے سٹیرنگ گھمایا تو اس کی گاڑی روڑ سے اتر کر ایک بڑے سے پیڑ سے ٹکرائی روشنی جلدی سے آگے بڑھی اس کے ہاتھ میں چھتری تھی وہ گاڑی کے پاس ائی
سر آپ……
آہل کو دیکھتے ہی اس کے منہ سے نکلا آہل کے سر پر چوٹ ائی تھی اور خون بھی بہہ رہا تھا جس سے اس کی آنکھیں بھاری ہورہی تھی
سر آپ ٹھیک تو ہے……. او نو آپ جو چوٹ لگی ہے اور کافی خون بھی بہہ رہا ہے
آہل کے پیشانی سے خون بہہ کر اس کے چہرے سے ہوتے ہوۓ اس کی بلیک شرٹ میں جزب ہورہا تھا اس نے کوئی جواب نہیں دیا پیشانی پر ہاتھ رکھے آنکھیں بند کرلی
سر اپ میرے ساتھ چلیے پلیز بہت خون بہہ رہا ہے
نو اٹس اوکے اۓ ایم فائن
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولا
سر میں اسی بلڈنگ میں رہتی ہوں آپ کو ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے اور ہاسپٹل کافی دور ہے اسلیے پلیز آپ میرے ساتھ ائے
اوکے…..
آہل چند پل. خاموش رہنے کے بعد بولا کیونکہ اس وقت اس کے پاس دوسرا سولیوشن نہیں تھا روشنی نے چھتری اسے دی اور خود اس کے آگے چلتی ہوئ اندر ائی لفٹ بند تھی لیکن ان کا فلیٹ سیکنڈ فلور پر ہی تھا وہ سیڑھیوں سے ہوکر اۓ
ایئے سر……
ملازمہ نے دروازہ کھولا تو وہ آہل کی جانب مڑ کر بولی اوراس کے ہاتھ سے چھتری لے لی
بیٹھیے سر
اسے ڈرائینگ روم میں صوفے کی جانب اشارہ کرکے بولی
خالہ….. زرا فرسٹ ایڈ باکس لے ائیں
وہ آواز دیتی ہوئی بولی ملازمہ فرسٹ ایڈ باکس لے ائی تو روشنی نے اس سے کاٹن نکالا لیکن آہل نے اس کے ہاتھ سے کاٹن لے لیا
اٹس اوکے میں…..
اسے انکار کرکے وہ خود ہی کرنے لگا روشنی نے باکس سے دوائی نکال کر اوپر رکھی اور پانی کا گلاس بھر کر اس کے آگے رکھا
خالہ آپ زرا چاۓ لے ائیے میں چینج کرکے آتی ہوں
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے….
اہل نے فورا کہا
بہت سرد موسم ہے اور آپ بھیگ بھی گئے ہیں چاۓ پیے گے تو آپ کو اچھا لگے گا………. خالہ
وہ ملازمہ کو کہتی ہوئی اپنے روم کی جانب بڑھی اس کے کپڑے بھی کافی بھیگ چکے تھے
چینج کرکے وہ باہر ائی تو آہل چاۓ ختم کرکے کپ ٹیبل پر رکھ رہا تھا
تھینکیو…….
اسے دیکھ کر بولا اور دوسری جانب دیکھنے لگا
آپ سہان کو دیکھ رہے ہیں
روشنی اسکی. نظروں کا. مفہوم سمجھ کر بولی اس نے مسکراتے ہوۓ سر اثبات میں ہلا دیا
وہ گھر میں نہیں ہے… ایکچولی گھر میں کوئی نہیں ہے سب باہر گئے ہے میں بھی بس ابھی ابھی ائی ہوں جب میں نے آپ کو دیکھا باہر….
روشنی نے جواب دیا تو وہ خاموش رہا
اوکے… اب میں چلتا ہوں
اسے سہی نہیں لگا جب روشنی نے اسے بتایا وہ گھر پر اکیلی ہے ویسے بھی رات کافی ہوچکی تھی
لیکن سر باہر بہت بارش ہورہی ہے آپ کیسے جاۓ گے کچھ دیر یہیں ریسٹ کرلیجیے
نہیں کوئی بات نہیں آۓ ول. مینیج
وہ. کہنے کے ساتھ ہی اٹھ گیا
اوکے سر…..
روشنی نے ہار مان کر کہا
یہ بارش شام سے مسلسل جاری ہے پتہ نہیں کب رکے گی
نانی صاحب نے اندر کی جانب آتے ہوۓ کہا وہ لوگ بارش کی وجہ سے کافی لیٹ ہوگئے تھے لیکن بارش اپ
ب تک نہیں تھمی تھی
نانی صاحب سنبھال کر نیچے پانی ہے
جگی جگہ پانی بھر گیا تھا ماہی نے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا دوسرے ہاتھ سے سہان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا وہ لوگ بھی بھیگ گیۓ تھے
او نو ہم تو اپنا فون گاڑی میں ہی بھول گئے سہان تم نانو کو لے کر جاؤ ہم فون لے کر آتے ہیں اوکے
وہ دو چار سیڑھیوں پر ہی پہنچی تھی اچانک یاد انے پر بولی تو سہان نے سر ہلا دیا اور اوپر جانے لگا سامنے سے اسے آہل آتے ہوۓ دکھا آہل نے اسے نہیں دیکھا وہ اپنی دھن جانے لگا
ہاۓ بڈی……
وہ تین چار سیڑھیاں نیچے اترا تب سہان نے زور سے اسے آواز دی وہ مڑا اور سہان کو دیکھ کراس کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ ائی
ہاۓ…..
یہ آپ کہ سر پہ. کیا ہوا
سہان نیچے اتر کر اس کے پاس آیا اس کے سر پر بندھی پٹی دیکھ کر بولا
کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا
وہ جھک کر بولا
زیادہ چوٹ تو نہیں آئی بیٹا
دادی صاحب نے فکر سے کہا
نہیں ..بس معمولی سی ہے
اس نے جواب دیا
آپ سہان کا گھر نہیں دیکھوگے
سہان نے انکھیں بڑی کرکے کہا
دیکھونگا لیکن اس وقت نہیں کیونکہ ابھی بہت دیر ہورہی ہے میں بعد میں اؤنگا
پرامس….
سہان نے فورا ہاتھ آگے بڑھایا
پرامس…اوکے…..
آہل نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا
اوکے.. ٹیک کیئر
سہان نے مسکرا کر کہا اور جلدی سے اس کے گال پر کس کیا وہ خوبصورتی سے ہنسا
اپنا خیال رکھنا بیٹا
دادی صاحب نے کہا تو وہ انہیں جی کہہ کر خدا حافظ کہتا نیچے اتر گیا
ماہی نے گاڑی سے اپنا فون لے کر کوٹ کی جیب میں رکھا بارش تو بہت زوروں کی تھی ہی لیکن بجلی کی کڑک زیادہ خوفزدہ کرنے والی تھی وہ وہی کھڑی رہی چند سیکنڈ ہمت جمع کرتی رہی پھر ایکدم سے بھاگ کر اندر کی جانب جانے لگی تاکہ جلدی سے پورچ کے نیچے پہنچ جاۓ لیکن چند قدموں کی دوری پر کمپاؤنڈ میں ہی وہ آہل سے بری طرح ٹکرائی اس کی تیزی اتنی تھی کہ آہل اپنا بیلینس برقرار نہیں رکھ پایا اور دونوں زمین بوس ہوگئے نیچے گھاس تھی اس لیے اسے چوٹ تو نہیں ائی لیکن اچانک آفت پر شاک ضرور لگا ماہی نے سر اٹھایا تو آہل کا چہرہ دیکھ کر جیسے اسے کوئی ہوش ہی باقی نا رہا آہل کا بھی وہی حال تھا وہ دونوں بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور یقین کرنے کی کوشش کرہے تھے کہ یہ سچ ہے یا وہم زمین پر پانی تو تھا ہی آسمان سے مسلسل رحمت برس رہی تھی لیکن اس وقت دونوں کو کسی چیز کا خیال. نہیں آیا کچھ تھا جو زہن میں چل رہا تو بس یہ کہ یہ خواب ہے یا حقیقت وہ بت بنی پوری طرح سے اس کے اوپر تھی اور آہل بارش کی بوندوں سے لڑتے ہوۓ پلکوں کو جھپکنے سے روک رہا تھا ماہی کا چہرہ اس کے بہت قریب تھا کہ وہ اس کی سانسوں کو بھی محسوس کررہا تھا ماہی کو ایکدم سے کرنٹ لگا اور وہ. اٹھ کر بنا ایک سیکنڈ بھی رکے اندر کی جانب بھاگی آہل اس کی حرکت پر ہوش کی دنیا میں آیا اور اٹھ کر اسی جانب دیکھنے لگا اس نے ہاتھ بڑھایا اسے روکنے کی کوشش میں حالانکہ اب تک اسے یقین نہیں ہورہا تھا اپنا ہاتھ دیکھتے ہوۓ خود کو نفی کرتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا
باہر کا دروازہ کھلا ہی تھا ماہی سیدھے اپنے کمرے میں ائی اور دروازہ بند کرکے اس سے ٹیک لگاکر کھڑی ہوگئی اس کی سانسیں حد سے زیادہ تیز چل رہی تھی اس نے انکھیں بند کی تو وہ منظر اس کی انکھوں کے سامنے اگیا آہل کا بھیگا ہوا دلکش چہرہ ماتھے پر بندھی سفید پٹی اور انکھوں میں وہی سنجیدگی اس نے گھبرا کر فورا انکھیں کھول دی اسے یقین آتا بھی کیسے وہ تو اس سے اتنی دور اچکی تھی کہ چاہ کر بھی امین نہیں کرسکتی تھی کہ کبھی اس سے سامنا ہوگا لیکن ہوتا وہی جو لکھا ہوتا ہے اب اسے خود کو یقین دلانا تھا اس کا پورا وجود اب تک بھیگا ہوا تھا نا صرف بارش میں بلکہ آہل کے احساس میں بھی
مام……….
سہان کی آواز پر اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا
مام……. مجھے بھوک لگی ہے
سہان دوبارہ پکارہ
سہان ہم چینج کرکے آتے ہیں بس ابھیں…….
اس نے بمشکل اتنی بات کہی
اوکے……
یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے ہمارے ساتھ…………..
وہ پریشانی سے خدا کو پکارنے لگی
کیا سوچ رہی ہو ماہی……
ماہی کپڑے فولڈ کررہی تھی لیکن اس کا دھیان کہیں اور تھا روشنی نے پوچھا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگی
کچھ نہیں …..
وہ اپنی پریشانی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھء
کب سے دیکھ رہی ہوں تمہارا دھیان ہی نہیں ہے
ایسا کچھ نہیں ہے ….
روشنی اس کی بات پر. چپ ہوگئی
اچھا سنو آج رات سر نے ایک پارٹی رکھی ہے…..میں کونسی ڈریس پہنوں
روشنی نے اس کا ارادہ نا پاکر بات بدل دی
کیا باتیں ہورہی ہے ….
وہ. کوئی جواب دیتی اس کے پہلے ہی دادی صاحب اندر ائی
دادی صاحب ہمارے آفس میں آج بہت بڑی پارٹی ہے میں ماہی کو وہی بتارہی تھی …
روشنی نے انہیں بتایا
اچھا کب ہے پارٹی …..
وہ سوچتے ہوۓ بولی
آج رات کو آٹھ بجےجانا ہے….
رات کو….. رات کو تم اکیلی جاؤگی پارٹی میں ہرگز نہیں… کوئی ضرورت نہیں ہے جانے کی
وہ انکار کرتے ہوۓ بولیں
میں اکیلی. کہاں ہوں دادی صاحب بہت لوگ ہونگے وہاں
لیکن یہاں سے تم اکیلی ہی جاؤگی نا نہیں ہم تمہیں رات کے وقت اکیلے جانے کی اجازت ہر گز نہیں دینگے ہم جانتے ہیں کس طرح کی محفلیں ہوتی ہے یہ
وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر بولیں
دادی صاحب وہ ایک بزنس پارٹی ہے اور میرے سارے کولیگس ہونگے فرینڈس ہونگے وہاں
روشنی نے انہیں سمجھانے کی ایک اور کوشش کی ماہی کو دیکھا
جو بھی ہو تم اکیلی. نہیں جاؤگی
انہوں نے بات ختم کردی تو وہ پریشان ہوکر انہیں دیکھنے لگی
تو میں ماہی کو لے جاتی ہوں اپنے ساتھ
کیا… نہیں روشنی ہم نہیں اسکتے
ماہی نے جھٹ کہا
ماہی پلیز ….
ہم کیا کریں گے وہاں جاکر… ہمیں بلکل اچھا نہیں لگےگا روشنی
وہ. منہ بناتی بولی
اگر تم نہیں چلوگی تو اور کون چلے گا میرے ساتھ
وہ. مایوسی اے بولی تو ماہی کچھ کہہ نہیں پائی
ماہی تیار ہوکر روشنی کہ کمرے میں ائی اس نے فل سلیوز والی ریڈ لانگ کرتی پر بلیک ٹراؤزر اور بلیک ہی دوپٹہ ایک سائڈ پر پن اپ کیا ہوا تھا بالوں کو ایک سائڈ سے فولڈنگ دیکر دوسری طرف کھلے چھوڑے ہوۓ تھے ہلکے سے میک اپ میں صرف کانوں میں چھوٹے چھوٹے ایرنگ پہنے ہوۓ تھے
ہمارا بلکل. دل. نہیں کررہا چلنے کو….. وہ بھی سہان کے بغیر… اور ہم کسی کو جانتے بھی تو نہیں ہے نا وہاں تو ہم جاکر کیا کیا کریں گے
وہ پریشانی سے بولی
ماہی میں تمہیں کبھی زبردستی ساتھ نہیں لے جاتی لیکن تم جانتی ہو نا دادی صاحب کو اگر تم نہیں چلی تو وہ مجھے بھی نہیں جانے دینگی میں نے اپنے سب فرینڈس کو آنے کا وعدہ کیا ہے اور سب سے خاص بات میں روہان سے بات کرلونگی پھر پتا نہیں دادی صاحب کب اپنے ساتھ چلنے کو کہہ دے اس ہہلے مجھے روہان سے بات کرنی ہوگی
روشنی اس کی جانب رخ کرکے بولی ماہی چپ ہوگئی
ہم اچھے تو لگ رہے ہیں نا…
وہ کچھ دیر بعد بولی
بہت پیاری لگ رہی ہو
روشنی نے مسکرا کر کہا وہ خود بھی وہائٹ گاؤن میں بالوں کا جوڈا بناۓ ہمیشہ سے بے حد الگ لگ رہی تھی
روشنی سہان نانی صاحب کو بہت تنگ کریگا
ماہی نے ایک اور پریشانی بتائی
نہیں کریگا میں نے بات کرلی ہے اس سے اور خالہ سے بھی کہہ دیا ہے کہ اس کا خیال رکھے تم فکر مت کرو
روشنی اس کی ٹینشن دور کی
تھینک یو روشنی
ماہی نے اسے گلے لگا لیا کتنا کچھ وہ اسانی سے حل. کرلیتی تھی اور سہان تو جیسے بس اس کی زمہ داری بن گیا تھا
