Ishq De Rang Rangjawan By Sanaya Khan Readelle50082

Ishq De Rang Rangjawan By Sanaya Khan Readelle50082 Last updated: 20 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq De Rang Rangjawan By Sanaya Khan

نکاح کا دن قریب اگیا تھا آہل بہت کم ہی گھر پر ہوتا تھا اس کا زیادہ تر وقت باہر ہی گزرتا تھا دیر رات کو وہ گھر واپس آیا تو ثریا بیگم اس کا انتظار کر رہی تھی

رائمہ سے بات کی میں نے وہ راضی ہے بیٹا اسے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے اب تم بھی مان جاؤ پلیز

وہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوے بولیں آہل نے جیسے سنا ہی نا ہو

کب تک میری غلطی کی سزا خود کو دیتے رہوگے تم.......... کیا میں نہیں جانتی کہ تم اندر سے کتنے ٹوٹ چکے ہو........... کاش کے میرے بس میں ہوتا کہ میں سب کچھ بدل دوں میری وجہ سے جو کچھ..........

وہ. روتے ہوے کہنے لگی تو آہل نے ان کی بات کاٹ دی

مام پلیز... آپ کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا ہے خود کو ہر بات کے لیے بلیم کرنا بند کردیں

نہیں .....میں جانتی ہوں اس سب کی زمہ دار میں ہی ہوں میں نے تم سے تمہارا بچپن چھین لیا تمہاری مسکراہٹ تمہارا سکون سب کچھ میری وجہ سے ہی.........

میں ماں کہلانے لائق نہیں ہوں.....

وہ سر نفی ہلاتے ہوے بولیں

اگر آپ نہیں ہوتی تو آج میں زندہ نہیں ہوتا آپ نے مجھے زندگی دی ہے اور زندگی دینے والی ماں ہی ہوتی ہے

وہ ان کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوے بولا

میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر سکتی بیٹا......... کم. سے کم تم مجھے معاف کردینا ...

وہ روتے روتے بول رہی تھی

اگر آپ نے ایسی باتیں کی نا تو........

اہل نے بات ادھوری چھوڑی اور ان کے گلے سے لگ گیا

اۓ لو یو مام..... میری لائف کے سب سے برے وقت میں اگر کچھ بات بہت اچھی ہوئی ہے تو وہ یہ کہ مجھے آپ مل گئی........ اللہ نے مجھ سے بہت کچھ لیا ہے لیکن بدلے میں آپ کو دیا ہے اور آپ جانتی ہے نا مجھے آپ کے انسوو بلکل پسند نہیں اگر اب آپ روئی تو میں آپ سے ناراض ہوجاؤنگا

وہ خفگی سے بولا

تم مجھ سے کبھی ناراض مت ہونا میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر پاؤنگی اب .........

انہوں نے اس سے الگ ہوتے ہوے کہا آہل نے سر نفی میں ہلادیا

**********

ڈارک بلیو لانگ کرتی اور ریڈ چوڑی دار پر ریڈ ہی بڑا سا دوپٹیہ سر پر اوڑھے سفید ہتھیلیاں مہندی سے سجی تھی اور کلائیاں چوڑیوں سے بھری تھی وہ دنیا کی سب سے معصوم دلہن لگ رہی تھی بس چہرے پر ایک اداسی تھی انکھوں میں کچھ امیدیں اور دل میں ڈر

نکاح خواہ نے جب نکاح کے کلمات ادا کرکے اس سے اجازت چاہی تو اس نے بنا کچھ کہے سر اٹھا کر کچھ دوری پر کھڑے آہل کو دیکھا جو دیوار سے ٹیک لگاے نظر جھکاے کھڑا تھا وہ رائمہ کی نظروں کو محسوس تو کر چکا تھا لیکن اس کی جانب دیکھا نہیں ثریا بیگم نے رائمہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ انہیں دیکھنے لگی اس کا بھائی اس سے ناراض تھا تو وہ کیسے اس نئی زندگی میں خوش رہ پاتی ثریا بیگم اس کی نظروں کا مفہوم تو سمجھ رہی تھیں لیکن اسے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھیں تب رائمہ نے اپنے ہاتھ پر کسی کا ہاتھ محسوس کیا وہ آہل ہی تھا آہل نے اسے انکھوں ہی انکھوں میں حوصلہ دیا تو اس کی انکھ سے آنسو اور لبوں پر مسکراہٹ ایک ساتھ آئی اور تب اس نے کہا