No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
قسط 6
جدید اور خوبصورت سازوسامان سے سیٹ کمرہ گلابوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا تین دیواروں پر آف وھائٹ کلر پینٹ تھا ایک طرف شیشے کی دیوار تھی جو کہ دراصل سلائیڈ ڈور تھا جو سوئمنگ پول کی جانب جاتا تھا اس پر لایٹ گرین اور سفید جالی کے شاندار پردے لگے تھے دوسری دیوار پر کئی ساری تصویریں لگی تھی نیچرس کی ہر ایک چیز اعلی اور قیمتی تھی پھولوں سے سجے بیڈ پر گلاب کی پنکھڑیوں کی چادر بچھی ہوئی تھی ہارٹ شیپ کے جھومر اور غباروں سے سارے کمرے کو سجایا ہوا تھا
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ذہن نا جانے کتنی ہی سوچوں میں گم تھا سرخ گرارے میں گولڈن دوپٹہ سر پر اوڈھے دلہن کے روپ میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی لیکن عام لڑکیوں کی طرح وہ خوش نہیں تھی کوئی امنگ کوئی خوشی کوئی امید اس کے دل میں نہیں تھی اس نے جو فیصلہ کیا تھا اس میں سب کچھ ختم ہو چکا تھا وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا انجام کیا ہوگا اس کے اس فیصلے سے اس کی اگلی زندگی کس طرح متاثر ہوگی اس کے اپنوں کو کتنی تکلیف ہوگی لیکن کبھی کبھی سب کچھ جانتے ہوئے ہمیں ایسے فیصلے کینے پڑتے ہیں جس میں نا ہماری رضا شامل ہوتی ہے نا خوشی …..
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ کھلنے کی اواز پر سیدھی ہوکر آنسو صاف کیے کیونکہ وہ کسی کے اگے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتی تھی
اہل اندر داخل ہوا سفید سلوار قمیص پر کالا صافہ باندھے وہ ہمیشہ سے کافی مختلف لگ رہا تھا آہل نے اسے پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے واشروم کی جانب بڑھا
ماہی نے ایک گہری سانس لی اور اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی بھاری بھرکم گھونگھٹ اور زیورات نکالے بالوں کو جوڑے سے آزاد کرکے سکون کی سانس لی
تم اب تک یہیں ہو…….
آہل چینج کرکے باہر آیا بلیک ٹی شرٹ پر گرے ٹریک پینٹ پہنے گیلے بالوں کو ٹاول سے خشک کرتے ہوئے بولا ماہی نے اسے حیرانی سے دیکھا
کیا مطلب ..……یہاں نہیں تو اور کہا ہونگے ہم
کہیں بھی…………. لیکن جب تک میں یہاں موجود رہوں تم اس روم میں نظر نہیں آوگی..………. دھیٹس اٹ
اس نے ایک سانس میں کہہ کر پلٹ گیا
اچھا ٹھیک ہے..………… تو ہم باہر جاکر ہال میں سو جاتے ہیں ………….کوئی پوچھےگا تو بتادینگے چھ مہینے والے کانٹریکٹ کے بارے میں
اس نے غصے سے کہا اور باہر جانے کے لیے دروازہ کھولنے لگی لیکن اس کے پہلے ہی آہل نے اس کی کلائی پکڑ کر کھینچا اس سے بری طرح ٹکرائی
تم ایسا کچھ نہیں کروگی
وہ اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوے دانت پیس کر بولا
تو آپ ہی بتائیے کیا کریں ہم… اگر ہم یہاں نہیں رہ سکتے تو ہمیں باہر جانا پڑے گا اور باہر گئے جو تو سب کے سوالوں کا جواب بھی دینا پڑےگا نا اور معاف کیجیے گا ہم سب سے جھوٹ نہیں کہینگے
شٹ اپ………… زیادہ ہوشیاری مت دکھاؤ…………… اور کانٹریک والی بات اگر اس روم کے باہر گئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھی تم
اس نے ماہی کو ہاتھ کھینچتے ہوئے سلائڈنگ ڈور کی دوسری جانب لے آیا
یہ ہے تمہاری پرابلم کا سولیوشن …….
اہل نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا ماہی کو کچھ وقت لگا اس کی بات سمجھنے
کیا… یہاں… ہم یہاں کیسے رہ سکتے ہیں
وہ پریشان ہوکر بولی
دھیٹ اس یور پرابلم..………..
اتنا کہہ کر وہ واپس روم میں چلا گیا اور ڈور بند کر دیا
چاروں طرف سے دیواروں سے گھرا بڑا سا ائیریا تھا اوپر سے کھلا ہوا ایک طرف سفید شفاف پانی سے بھرا چھوٹا سا سوئمنگ پول تھا اسی کے آگے ایک کونے میں چھت پر جانےکے لیۓ سیڑھیاں تھی اور دوسری طرف الگ الگ قسم کے کئی سارے پودے رکھے ہوئے تھے
پول کے سامنے روم کی دیوار سے ایک صوفہ اور ٹیبل رکھا ہوا تھا اسی دیوار کے آخری کونے میں جم سائکل اور ورزش کرنے ڈمبلس وغیرہ رکھے تھے
ماہی پریشان ہوکر سوچنے لگی کہ کہاں سوئے پھر اکر سوفے پر لیٹ گئی کیونکہ بہت تھکان محسوس ہو رہی تھی اور فی الحال وہ بھی ارام کرنےکے لیے بیت تھا
یا اللہ ہم تو شہزادے کے خواب دیکھا کرتے تھے آپ نے تو ہماری زندگی میں جن بھیج دیا ……….جن بھی ایسا ویسا نہیں جلاد جن ہے…. کوئی ایسا کرتا ہے بھلا کسی کے ساتھ چھوڑیں گے نہیں ہم انھیں
اس نے غصے سے کہا اور آنکھیں موند لی
.
ماہی نے سلائڈ ڈور کر تھوڑا سا کھول کر جھانک کر دیکھا تو وہ سویا ہوا تھا کسی چور کی طرح دھیرے سے دروازہ کھولا اور دبے قدموں سے چلتی ہوئی واش روم تک پہنچی نہا کر اس نے یلو اور گرین کانٹراسٹ کا خوبصورت ڈریس پہنا جو اس کے گورے رنگ پر بہت کھل رہا تھا لمبے گھنے بالوں کو رگڑتے ہوۓ وہ باہر آئی سامنے سے آتے آہل پر نظر پڑی تو گھبرا کر لڑکھڑاگئی گرتی اس سے پہلے ہی آہل نے فوراً آگے بڑھ کر اسے تھام لیا
ماہی نے آنکھیں سختی سے بند کرلی تھی آہل نے پہلی دفعہ اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا میک اپ سے بے نیاز نکھرا نکھرا سا چہرا جس پہ بلا کی معصومیت تھی دلکش نقوش بڑی بڑی کالی انکھیں اور کالے ہے لمبے گھنے بال گلاب کی طرح نرم و نازک ہونٹ وہ بے ارادہ اسے دیکھتا ہی رہا ماہی کی آنکھیں اب تک بند تھی جیسے ہی آنکھیں کھولی آہل نے نظریں ہٹائی ماہی سنبھل کر کھڑی ہوئی آہل دوبارہ اسے دیکھ رہا تھا لیکن غصے سے
آ… آ… آپ ہمیں ایسے……. گھور کیوں رہے ہیں
اس نےترچھی نظروں سے دیکھتے ہوے کہا
کیونکہ یہ آنکھیں میری ہے میں جو چاہوں کر سکتا ہوں
تو اپنی ان آنکھوں سے اس الماری کو گھوریے اس شیشے کو گھویے اس پینٹنگ کو گھوریے ہمیں کیوں گھور رہے ہیں
اس نے غصے سے کہا
یہ تمہاری طرح گرتے پڑتے نہیں رہتے نا اسلیے
سپاٹ لہجے میں بولا
آپ اگر جن کی طرح ایدم سے سامنے اجائنگے تو سامنے والا انسان تو گھبرا ہی جایگا نا
اس نے بنا سوچے سمجھے کہہ دیا
کیا…. کیا کہا تم نے… کیا بلایا مجھے
وہ غصے سے کہتا اس کی جانب بڑھا
ک… ک…. کچھ نہیں ہمارا مطلب تھا کہ……
شٹ اپ…. اپنی حد میں رہو سمجھی
وہ غصے سے کہتا ہو واش روم میں گھس گیا
اپنی حد میں رہو سمجھی
ماہی نے منہ بناتے ہوئے اس کی نکل اتاری
جلاد جن کہیں کے
