Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط13
سنایا خان
ثریا بیگم… دادی اور رائمہ ایک گاڑی میں پہلے ہی نکل گیے تھے ماہی اور آہل کچھ دیر اور رک گیے سب کے اصرار پر عائشہ کی شادی کا ٹاپک چلتا رہا کیونکہ اس کے سسرال والے اب جلد سے جلد شادی کا ارادہ رکھتے تھے اور بہت جلد تاریخ طے کرنے آنے والے تھے رات کافی زیادہ ہونے لگی تو وہ دونوں سب سے مل کر گاڑی میں آکر بیٹھے
آہل خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا جب کہ ماہی مسلسل کچھ گنگنارہی تھی جس سے اہل کو شدید کوفت محسوس ہورہی تھی باہر کا موسم بارش کا ہورہا تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھوکر گزر رہی تھی اس کے کھلے بالوں کو فرحت بخش رہی تھی اس لیے اس کا موڈ بھی اچھا تھا وہ بلیک لانگ کرتی اور ٹراوزر پر بلیک ہی خوبصورت سا دوپٹہ کاندھے پر پھیلایے ہلکے سے میک اپ میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی
ول یو پلیز کیپ کوائٹ…..
آہل پہلے ہی کسی وجہ سے پریشان تھا ماہی کا گنگنانا جب اس کے براداشت کے باہر ہوگیا تو سختی سے بولا
لیجیے اب ہم نے کیا کردیا…….
اس نے حیرت و معصومیت سے پوچھا جب کہ آہل نے کوئی جواب دینے کی بجاے اسے گھور کر دیکھا
آپ کی تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی…….. آپ کو ہمارے بولنے سے پرابلم ہے تو چلیں ٹھیک ہے اب آپ کو ہمارے گنگنانے سے بھی تکلیف ہے…..
وہ غصے سے بولی
ہاں ….کیوں کہ مجھے خاموشی پسند ہے ……تنہائی پسند ہے…. سکون پسند ہے شور شرابا نہیں
وہ اسے دیکھ کر بولا
جسے آپ خاموشی.. تنہائی اور سکون کہہ رہے نا اسے سناٹا تاریکی اور ادسی کہتے ہے جو شیطان اور بھوتوں کو پسند ہوتا ہے
ماہی کی اصلاح پر آہل نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
اور جسے اپ شور شرابا کہہ رہے نا اسے زندہ دلی کہتے ہیں جو زندہ دل لوگوں کی پسند ہے اس نے بڑے فخر سے اپنی جانب اشارہ کرکے کہا
آہل نے غصے سے اسکی جانب دیکھتے ہوے گاڑی کی سپیڈ بڑھا کر بہت تیز کر دی اور مسلسل بس اسے دیکھنے لگا وہ گھبرا کر کبھی اسے تو کبھی سامنے دیکھنےلگی
آہل جی یہ کیا کر رہے آپ…….. سامنے دیکھیے
اس نے گھبرای آواز میں کہا لیکن آہل پر کوئی اثر نہیں ہوا
آپ پاگل ہوگیے ہیں…… ہم مر جاینگے…… آہل جی پلیز سامنے دیکھیے ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے
اب کے وہ رو دینے کو تھی
اچھا ہے کہ مر جائیں کم سے کم تمہاری بکواس سننے سے تو بچ جاینگے
آہل نے اس کے ڈر کا مزید فائدہ اٹھایا
نہیں اہل جی پلیز…….. اب ہم کوئی بات نہیں کرینگے…… پکا ……..پلیز سامنے دیکھیے آپ
وہ ہار مانتے ہوے بولی آہل نے گاڑی کی اسپیڈ کم کرتے ہوے سامنے دیکھا ویسے بھی وہ ایک سائڈ سے گاڑی لے جا رہاتھا یہ تو بس ماہی کو ڈرانے کی ایک کوشش تھی جس میں وہ کامیاب رہا تھا لیکن اچانک سامنے کوئی جانور دیکھتے ہی اس نے فورا بریک لگایا ماہی کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا
آہل نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کرنی چاہی لیکن ناکام رہا اس نے دو تین بار ٹراے کیا لیکن گاڑی سٹارٹ نہیں ہوئی ماہی پریشان ہوکر بس اسے دیکھنے لگی
کیا ہوا…….
جب آہل باہر نکل کر بونٹ کھولنے لگا تو وہ بھی گاڑی سے باہر آئی اور پوچھا
پتا نہیں کیا پرابلم ہے ….
اس نے جانچتی نظروں سے اندر دیکھا پھر جیب سے موبائل نکال کر کسی کو کال ملانے لگا لیکن نو سگنل کا سائن دیکھ کر جھلاتے ہوے ہاتھ جھٹکا
تمہارےفون میں نیٹورک ہے….
اس نے ماہی کی جانب دیکھ کر کہا جس پر ماہی نے اپنا فون ان کرکے اس کے سامنے کیا لیکن اس میں بھی نیٹورک نہیں تھا
اب ہم کیا کرے گے …. .
ماہی نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
جب تک کوئی لفٹ نہیں مل جاتی ویٹ کرینگے
وہ لوگ کافی دوری پر آگیے تھے اور گھر کا راستہ بھی کافی دور تھا اس لیے آہل کو بس یہی راستہ نظر آیا کہ کچھ دوری تک ہی انھیں لفٹ مل جایے تاکہ کم سے کم وہ کسی کو مدد کے لیے کال تو کر سکے یہ علاقہ جنگل کا تھا اس لیے یہاں نیٹورک ملنا بہت مشکل تھا..
کتنا اندھیرا ہے یہاں ……..ہم نے سنا ہے جنگل میں بھوت ہوتے ہیں اگر کوئی بھ.بھ…بھوت آگیا تو
ماہی نے اطراف میں نظر گھماتے ہوئے کہا گھنا جنگل کا علاقہ تھا اسلیے بہت اندھیرا تھا
.ڈونٹ وری تمہیں دیکھ کر وہ بھی بھاگ جائگا
آہل گاڑی سے پیٹھ ٹکا کر کھڑے ہوتے ہوے بولانظریں سڑک کے اس پار تھی
.کیا مطلب……..ہ.. ہ. ہم اپ کو بھوت دکھائی دیتے ہیں جو ایک بھوت ہم سے ًڈرے گا
وہ صدمے سے بولی
چڑیل……
آہل نے اس کی جانب دیکھ کر اصلاح کی
چڑیل…..کس وجہ سے ہم آپ کو چڑیل لگتے ہیں ہمارے کیا الٹے پیر ہیں… یا ہمارے لمبے لمبے ناخون ہے اس کی طرح …..
ماہی اپنے ہاتھ آگے کرتے ہوے بولی
خوبصورت تو ہو نا….
آہل سامنے دیکھتے ہوے بے ساختہ کہہ گیا پھر خود بھی سوچ میں پڑ گیا کہ بے دھیانی میں کیا کہہ دیا
آپ کو کیسے پتا چڑیل خوبصورت ہوتی ہے آپ نے کبھی دیکھا اسے…..
ماہی نے حیرت سے پوچھا
تمہیں دیکھ لیا کافی ہے… . اندر بیٹھو
اسے کہنے کے ساتھ ہی آہل دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا
مجھے نہیں لگتا کہ اس وقت یہاں کوئ لفٹ ملے گی اس لیے فیلحال گاڑی میں رات بھر رہنا پڑے گا
اہل نے سر سیٹ سے ٹکاتے ہوے کہا
کیا…… ہم رات بھر یہاں رہےگے …..اس جنگل میں …….بلکل نہیں ہم نہیں رہ سکتے
وہ گھبرا کر بولی
اوکے…. اگر تمہارے پاس کوئی اور سالیوشن ہے تو بتا سکتی ہو
اہل نے انکھیں موند لی
ہم کیا بتائیں ……یہ سب آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے آپ کو ہی بڑا شوق تھا نا گاڑی بھگانے کا اس لیے گاڑی خراب ہو گئی اور ہم یہاں پھنس گہے سب اپ کی وجہ سے…..
وہ غصے سے بولی
شٹ اپ. ……
اہل نے اس کی جانب دیکھ کر کہا
ہاں…. اپنی غلطی تو آپ سے سنی نہیں جائنگی…… آپ کو تو بس غلطیاں نکالنا آتا ہے اور دوسروں کی غلطیوں پر انھیں سنانا آتا ہے
وہ چپ نہیں ہوئی
اگر تم ابھی کہ ابھی چپ نہیں ہوئی تو میں تمہیں اٹھا کر جنگل میں پھینک دونگا اس کے بعد بھوت پریت یا جنگلی جانور تمہارے ساتھ کیا کرتے ہے آئے ڈونٹ کییر
آہل نے اسے دیکھ کر کہا
آپ سے اور امید بھی کیا کر سکتے ہیں آہل جی ہمیں تو حیرت ہوتی ہے کوئی اتنا خودگرض کیسے ہوسکتا جسے سواے اپنے اور کسی کی پرواہ نہیں بس اسے لوگوں کو تکلیف دے کر سکون ملتا ہے
وہ سنجیدگی اور دکھ سے بولی اور رخ باہر کی جانب کرلیا
میں جیسا بھی ہوں نا سامنے ہوں دکھتا ہوں تمہاری طرح نہیں اندر سے کچھ اور اور باہر سے کچھ اور
اہل نے اس کا رخ اپنی جانب کرکے کہا
کیا مطلب ہے آپ کا ایسا کیا کیا ہم نے جو اپ اتنی نفرت کی سوچ رکھتے ہیں ہمارے لیے ایسا کون سا دکھاوا کیا ہم نے جو اپ ہمیں طعنہ دے رہے ہیں
زیادہ بھولی بننے کی کوشش مت کرو میرے ساتھ ……جتنی اچھی تم دکھتی ہو نا اتنی اچھی تم ہو نہیں پیسے کی لالچ میں اگر مجھ سے شادی کر سکتی ہو توکیا بھروسہ کچھ بھی کر سکتی ہو.
آہل نے پھر اسے جگہ چوٹ کی جو سہی جگہ لگی اور ماہی کی انکھیں بھر آئیں
بس کیجیے آہل جی….. ہم سن رہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپ ایسی گھٹیا باتیں کرتے رہیں اور اگر ہم نے اپ سے پیسے کے لیے شادی کی ہے تو اپ نے بھی ہمیں پیسے دے کر شادی کروائی ہے بلکہ آپ نے تو اپنے گھر والوں تک سے دھوکہ کیا کم سے کم ہم ایسے تو نہیں ہے
تم کیسی ہو اور کیسی نہیں یہ تو میں بہت اچھی طرح سے جان چکا ہوں
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا
غلطی ہماری ہی ہے ہم اس شخص سے اچھائی کی امید کر رہے ہے جو خود اپنے ابو سے تمیز سے بات کرنا نہیں جانتے
اس نے انسو صاف کرتے ہوئے آہل کو کچھ دن والی بات پر طعنہ دیا آہل نے اسے انکھوں میں غصہ اور نفرت لیے دیکھا
جسٹ گیٹ آؤٹ……….
اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا ماہی نے اسے دیکھ کر دوبارہ منہ پھیر لیا
ابھی کے ابھی میری گاڑی سے باہر نکلو …..
آہل نے دوبارہ کہا لیکن ماہی نے جیسے سنا ہی نہیں بھلا اتنی رات میں وہ کیسے باہر اکیلی جا سکتی تھی آہل خود گاڑی سے اترا اور اس کی. جانب کا ڈور کھول کر اسے بازو سے پکڑتے ہوے باہر نکالا اور زور سے دروازہ بند کیا پھر اسے کھنچ کر گاڑی سے لگایا اور اس کے قریب ہوا
میں جس سے چاہوں جیسے بات کروں تمہیں کوئی حق نہیں ہے میرے کسی بھی معاملے میں انٹیرفیر کرنے کا تمہاری اوقات بس اتنی سی ہے بہتر ہے کہ اوقات میں رہو اور ہاں اپنی زبان کو لگام دینے کے لیے جتنی قیمت چاہے مانگ لو مجھ سے مل جایگی ورنہ کسی دن میرے برداشت کے باہر ہوگیا تو بہت برا کرونگا تمہارے ساتھ تم نے ابھی آہل رضا ابراہیم کا ایک ہی روپ دیکھا ہے مجھے مجبور مت کرنا کہ دوسرا روپ بھی دکھادوں
وہ غصے سے بولا اور ایک جھٹکے سے ماہی کا ہاتھ چھوڑ کر دوسری جانب آیا اور گاڈی میں بیٹھ گیا ماہی نے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر اپنے دل کا غبار نکالا
آہل نے سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لی
ماہی وہیں کھڑی رہی اس وقت اسے ڈر سے زیادہ دکھ ہورہا تھا آہل کی ایک ایک بات نے اس کے معصوم دل کو بکھیر کر رکھ دیا تھا اس نے رونا بند کر دیا اور آنسو صاف کرکے آہل کو غصے سے دیکھا جو سکون سے سو رہا تھا
شیطان بھوت بھی آپ سے بہتر ہی ہوگے
اس نے یہ بات خود کو ہمت دینے کے لیے کہی جس پر آہل نے اسے نفرت سے دیکھا اور شیشے اوپر کرکے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر دوبارہ آنکھیں موند لی تاکہ ماہی کی کوئی بھی بات اب اس تک نا پہنچے
اتنے اندھیرے میں سنسان جگی اکیلے کھڑے ہونا کسی بھی مضبوط سے مضبوط انسان کے لیے مشکل تھا پھر وہ تو معصوم سی ڈرپوک سی لڑکی کیسے رہتی ٹھنڈی ہواؤں سے اس کے وجود میں کپکہاہٹ شروع ہو گئی تھی اس نے اپنا دوپٹہ اپنے گرد اچھی طرح پھیلا لیا تاکہ ٹھنڈ کم لگے لیکن ٹھنڈ کی شدت اتنی تھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا اور وہ باقائدہ کانپ رہی تھی
نا جانے کتنے ہی برے برے خیالات اس کے من میں ارہے تھے اسے بہت ڈر لگ رہا تھا بجلی کی زور دار آواز نے اس کے رہی سہی ہمت بھی ختم کردی اب وہ خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی دوبارہ بجلی کی اواز ہوئی تو اس نے اپنی دونوں مٹھیاں سختیاں سے بند کی لب بھینچے دل آیت الکرسی پڑھنے لگی ایک نظر پھر آہل کو دیکھا کہ شاید وہ اندر بلا لیں
کتنی ہی دیر وہ اس طرح کھڑی رہی زہن میں بس آہل کی تیر جیسی چھبتی باتیں گردش کر رہی تھی
بجلی اور اندھیرے کے ساتھ ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی تھی وہ مسلسل روے جا رہی تھی بارش کی ٹھنڈی بوندیں اسے بھگو رہی تھی اس نے دونوں ہاتھ اپنے گرد باندھ کر سردی کو برداشت کرنے کی کوشش کی لیکن مسلسل بارش سے وہ بھیگ چکی تھی اس لیے سردی کی وجہ سے وہ تھر تھر کانپ رہی تھی اس نے ایک بار پھر اہل کو دیکھا اب اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہاں زیادہ دیر کھڑی رہتی اس لیے اس نے گاڑی کے شیشے کو ہلکا سا بجایا
آہل جی…… ہمیں اندر آنا ہے دروازہ کھولیے
اس نے جھک کر کہا لیکن آہل نے سنا ہی نہیں کچھ دیر رک کر اس نے دوبارہ شیشہ بجایا
آہل جی پلیز دروازہ کھولیے….. ہم بھیگ رہے ہے…… ہم وعدہ کرتے ہیں اب آپ کو پریشان نہیں کرینگے
بارش اور ٹھنڈ کے ساتھ اس کے ڈر میں بھی شدت اگئ تھی اس لیے اس نے زور کی اواز میں کہا لیکن آہل تک اس کی اواز نہیں پہنچی کیوں کہ اس کے کانوں میں ہینڈ فری اور آنکھیں بند تھی ماہی نے ہار کر کوشش ترک کر دی اور سیدھے کھڑی ہوگی وہ دل ہی دل میں اللہ کو یاد کر کے مدد کی فریاد کر رہی تھی اتنی اندھیری سنسان جگی بارش میں پوری طرح بھیگی ٹھنڈ سے کانپتی ہوئی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی بجلی کی ایک زور دار کڑک پر وہ پھر سے خوفزدہ ہوئی اور دوڈ کر گاڑی کی دوسری طرف آہل کی سائڈ پر آئی کہ شاید قریب سے اس کی اواز سن لے اور کافی زور سے شیشہ بجایا
آہل جی دروازہ کھولیے پلیز………
ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے خدا کے لیے دروازہ کھولیے
وہ روتے ہوئے زور سے بولی سنسان سڑک پر اس کی اواز دور تک پہنچی ہوگی لیکن آہل تک نہیں پہنچ پائی ماہی مسلسل شیشہ بجاتی رہی ٹھنڈ اور خوف سے اب اس کی انکھیں بند ہونے لگی تھی وہ بول بھی نہیں پارہی تھی بس لب ہل رہے تھے اس کے جسم میں کوئی قوت نہیں بچی تھی وہ گاڑی سے ٹیک لگایے کھڑی تھی اس کا پورا وجود سن ہو چکا تھا لیکن وہ بند ہوتی انکھوں کے ساتھ بھی شیشے کو بجانے اور آہل کو پکارنے کی کوشش کر رہی تھی
وہ کانوں میں ہینڈ فری لگایے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا لیکن جانے کب اسے نیند لگ گئی تھی اس لیے اسے اپنے اطراف کا کچھ احساس نہیں تھا اچانک اس کی انکھ کھلی تو سامنے بارش ہوتی دیکھی نظر بجلی کی تیزی سے اس طرف گئی جہاں ماہی کھڑی ہوئی تھی لیکن وہ اسے وہاں نظر نہیں آئی وہ گھبرا کر اسے ڈھونڈتے ہوئے اسی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور ماہی کو دیکھنے لگا لیکن وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی
ماہی……..
آہل نے پریشان ہوکر اسے اواز دیتے ہوئے سڑک کی جانب آیا جہاں اس کی نظر ماہی پر پڑی جو گاڑی سے لگی ہوئی انکھیں بند کیے زمیں پر نیم بیہوش پڑی تھی
ماہی……..
آہل گھبرا کر اسے آواز دیتا اس کے پاس آیا اور اسے اپنے پاس لے کر اس کا چہرا تھپتھپایا
ماہی آنکھیں کھولو…….
اس نے پریشان ہوکر کہا بارش سے اب وہ بھی پوری طرح بھیگ چکا تھا ماہی کے لب اب بھی ہل رہے تھے لیکن بے آواز اہل نے پچھلی طرف کر ڈور کھولا اور اسے اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا وہ سیٹ سے سر لگایے بے جان سی لڑھک کر دروازے سے ٹکراتی اس کے پہلے ہی آہل نے اسے تھام لیا اور خود بھی اس کے قریب بیٹھ کر اسے سیدھا کیا ایک ہاتھ اس کے گرد پھیلا کر اسے اپنے بازو سے لگایے سہارا دیا
ماہی…….
آہل نے ایک بار پھر اس کا چہرہ تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا پھر کچھ سوچتے ہویے ماہی کو غور سے دیکھا اسے افسوس ہو رہا تھا اپنی حرکت پر لیکن اس نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا تھا اس نے ماہی کا دوپٹہ جو پوری طرح اسکے اوپر پھیلا ہوا تھا نکالا اور سامنے والی سیٹ پر پھینک دیا اپنی جیب سے رومال نکالنے لگا تو ماہی پر اس کے گرفت ڈھیلی پڑی جس سے وہ اسکے سینے پر آگری اہل نے دوبارہ اسے سیدھا کیا اور رومال سے اس کا چہرہ صاف کیا جو بھیگا ہوا تھا اس کے چہرے اور گلے پر رومال سے پانی کو جزب کیا چہرے سے بالوں کو ہٹاکر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا وہ خود بھی بری طرح بھیگ چکا تھا اس نے ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور ماہی کو سنبھالتے ہویے شرٹ اتار کر سامنے والی سیٹ پر ڈالی یہ بھی اس نے ماہی کے خیال سے ہی کیا تھا اس نے ماہی کو اپنے حصار میں قید کیے اس کا ہاتھ تھاما اور اس کی ہتھیلی دھیرے دھیرے کو سہلانے لگا ماہی کا چہرہ اس کے بے حد قریب تھا اور وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا
کیوں ایسا کیا تم نے….. کیوں مجھے اپنی جانب کھینچ رہی ہو….. میں نفرت کرتا ہو تم سے….میں نفرت کرنا چاہتا ہوں تم سے اور تم مجھے کس راستے پر لے جارہی ہوں….. جتنا دور جانے کی کوشش کر رہا ہوں اتنا مجھے قریب آنے پر مجبور کر رہی ہو…… جتنا تم سے بے پرواہی برتنا چاہتا ہوں اتنی ہی پرواہ ہوتی ہے ………جتنا تم سے غصہ کرتا ہوں اس سے زیادہ….
کیوں مجھے اپنا آپ تمہارے آگے کمزور لگ رہا ہے…… کیوں تم میری زندگی میں اس طرح آئی کہ میں چاہ کر بھی تمہیں اپنا نہیں سکتا ……….تمہارے لیے اپنے دل میں کسی بھی احساس کو جگہ نہیں دے سکتا میں……….. کیونکہ تم اس لائق نہیں ہو تم اہل کی محبت کے لائق نہیں ہو……. تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جن کے لیے پیسا ہی ہر جزبے اور ہر رشتہ سے بڑا ہوتا ہے…….. میں نفرت کرتا ہوں تم سے …………آئے ہیٹ یو
اس نےسوچتے ہوے سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرلی


ہیلو…..
فون کی رنگ بجی تو رائمہ نیند سے جاگی اس نے سوچا رات کے اس وقت شاید آہل اور ماہی کا فون ہوگا اس لیے بنا دیکھے فون اٹھایا
کیسی ہو میری جان…….
اواز سنتے ہی اس کی ساری نیند اڑ گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
ک… ک.. کیوں فون کیا ہے آپ نے
اس نے بہت ہمت کرکے یہ سوال پوچھا تھا
تو کیا کرو……… تم ہی بتاؤ ……تم تو ارام سے سو جاتی ہو میرے بغیر………. لیکن میں چاہ کر بھی سو نہیں پاتا……… اپنی بیوی کی کمی محسوس ہوتی ہے مجھے
اس کی اواز سے ہی اس کی مدہوش حالت کا اندازہ ہورہا تھا
ہ…ہم آپ کی ب… ببیوی نہیں ہے ہمارا آپ سے ط… طلاق ہو چکا ہے پھر کیوں آپ ہمیں تنگ کرتے ہیں
وہ روتے ہوے بولی
میں نہیں مانتا اس طلاق کو………. تمہارے بھائی نے زبردستی ہم دونوں کو مجبور کیا تھا الگ ہونے پر………. لیکن میں اب بھی تمہیں اپنی بیوی سمجھتا ہوں اور بہت جلد تمہیں اپنا بناکر رہونگا
وہ زور کی آواز میں بولا
ہمارے بھائی نے کچھ غلط نہیں کیا…….. ہم آپ جیسے غلیظ انسان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ………ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں اور آئیندہ آپ نے ہمیں پریشان کیا تو ہم پولیس میں رپورٹ کر دینگے
رائمہ نے بہت ہمت سے کہا
واہ…….. تمہارے منہ میں تو زبان بھی ہے ……….پہلے تو کبھی اتنی ہمت نہیں ہوئی اب کیا کوئی ہمت دینے والا مل گیا ہے تمہیں……….. یاد رکھنا تم صرف میری ہو اور……..
اس کے پہلے کہ وہ آگے کچھ کہتا رائمہ نے فون کاٹ دیا اس نے ہمت کرکے کہہ تو دیا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ کتنی ڈری ہوئی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی
ہمیں یہ بات آہل کو بتا دینی چاہیے
اس نے سوچا کہیں واقعی وہ کوئی ایسا قدم نا اٹھالیں جس سے رائمہ کی مشکلیں مزید بڑھ جائیں اس لیے اس نے آہل سے بات کرنے کا فیصلہ کیا