Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 16
از سنایا خان

بیڈ پر پیر لمبے کیے لیپ ٹاپ گود میں رکھے کچھ چیک کر رہا تھا نظر سامنے پڑی تو شیشےکی دوسری جانب ماہی کو دیکھا جو اپنے گرد ہاتھ باندھے پول کی ایک سائڈ پر خاموش کھڑی پانی میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی سفید ٹراوزر اور ڈارک گرین کرتی پر سفید ہی بڑا سا دوپٹہ ایک شولڈر پر پھیلا ہوا بالوں کو کیچر میں کید کیے کسی گہری سوچ میں گم تھی پچھلے کچھ دن میں اس نے آہل کے سامنے ایک بات تک نہیں کی تھی بلکہ اس کے سامنے آنے سے بھی گریز کرنے لگی تھی اگر اہل سے اس کا سامنا ہو بھی جاتا تو ایسے رہتی جیسے اسے دیکھاہی نا ہو آہل اس کی خفگی کو بری طرح محسوس کر رہا تھا لیکن وہ اپنے دل کی بات ماننا نہیں چاہتا تھا

آہل اٹھ کر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے دھیمے قدموں سے چل کر وہاں آیا ماہی نے اسے آتے دیکھا تو دوسری جانب رخ کرکے آگے بڑھنے لگی لیکن آہل نے پیچھے سے اس کی کلائی پکڑ لی تو وہ رک گئی لیکن پلٹی نہیں
آہل نے خود اس کا ہاتھ اپنی جانب کھینچتے ہوے اس کا رخ اپنی جانب کیا لیکن ماہی نےکوئی احتجاج نہیں کیا بس نظریں جھکاے کھڑی رہی آہل چند سیکنڈ خاموش رہا پھر بولا

آے ایم سوری

اس نے دھیمی آواز میں کہا ماہی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی

میں نے کچھ کہا سنا نہیں تم نے

وہ اسے دیکھتے ہوے بولا

آہل جی پلیز ہمارا ہاتھ چھوڑیے……….

اس نے کوشش ترک کر کے التجا کی
اہل ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے قریب ہوا

اس دن میں تھوڈا اپسیٹ تھا اس لیے غصے میں کچھ ذیادہ ہی کہہ دیا مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا

وہ اس کے خفا چہرے کو دیکھتے ہوے دھیرے سے بولا

کوئی بات نہیں آہل جی پہلی بار تو ایسا نہیں ہوا جو آپ اتنا گلٹی فیل کر رہے ہیں ہم جانتے ہیں آپ کسی سے سوری نہیں کہتے اور آپ کو ہم سے بھی کہنے ضرورت نہیں ہم ہی آپ کو ہر وقت پرہشان کرتے ہیں لیکن اب ہم ایسا نہیں کرینگے آپ کو تنگ نہیں کرینگے اب…… آپ کو ہماری باتوں پر غصہ آتا ہے تو ٹھیک ہے ہم آپ کے سامنے کوئی بات نہیں کرینگے
اس نے اپنے انسوں کو روکتے ہوے کہا

مطلب تم اب بھی مجھ سے ناراض ہو

آہل اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولا

ہمیں آپ سے ناراض ہونے کا حق ہے ہی کہا آہل جی

وہ سر اٹھا کر بولی آہل نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اسے دیکھنے لگا ماہی نے ایک نظر ااے دیکھا اور واپس جانے لگی آہل بس اسے جاتے دیکھتا رہا

اسی نے تو ماہی کو بار بار یہ احساس دلایا تھا کہ اس پہ ماہی کا کوئی حق نہیں ہے وہ اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی اور اب اسے ماہی کی ناراضگی سے اتنا فرق پڑڑہا تھا کہ وہ سوری تک کہنے کو تیار ہوگیا وہ خود حیران تھا

///

رائمہ اپنے روم میں تھی گھر میں کوئی نہیں تھا ماہی دادی اور ثریا بیگم کے ساتھ کہیں باہر گئی ہوئی تھی اور اہل اور حارث صاحب آفسملازم. نے آکر اسے اطلاع دی کہ دانش آیا ہے وہ حیران ہوتے ہوۓ باہر آئی سامنے دانش کے سلام کا جواب دیا

آپ بیٹھیے ہم فون کرکے ماہی کو بلاتے ہیں

اس نے سوچا شاید کوئی ضروری کام ہو اسی لیے کہا

نہیں میں آپ سے ملنے آیا ہوں
دانش نے اسے روکتے ہوے کہا

ہم سے…..
وہ حیران ہوکر بولی

جی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے

اس نے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوے کہارائمہ بیٹھ کر سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگی

ہوسکتا ہے جو بات میں آپ سے کرنے جا رہا ہوں اسے سن کر آپ میرا سر پھوڑ دیں یا میری جان لے لیں

دانش مسکراتے ہوے بول

آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں ……ہم ایسا کیوں کرینگے بھلا

اس نے حیران ہوتے کہا

کیونکہ میں بات ہی ایسی کرنے والا ہوں لیکن اج میں بھی سر پر کفن باندھ کہ آیا ہوں کہ بات تو کرنی ہی ہے

رائمہ اسکی عجیب باتیں سن کر مسکراے بنا نہین رہ سکی

آپ مجھ سے شادی کریں گی

رائمہ کی ہنسی ایکدم رک گئی وہ حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی

آپ کو پورا حق ہے اپنی زندگی کا ہر فیصلہ. لینےکا میں بس اپ کو اپنی خواہش بتانا چاہتا تھا رائمہ میں اپ کو عیش و آرام کی زندگی تو شاید نا دے پاوں لیکن ہاں زندگی کے ہر موڈ پہ آپ کی مجھے اپنے ساتھ پائنگی وقت چاہے کتنا بھی بدلے میری محبت نہیں بدلیں گی آپ کے لیے میں آپ کو اداس نہیں دیکھ پاتا روتے ہوےنہیں دیکھ سکتا کیا آپ مجھے ایک موقع دینگی کہ میں آپ کہ زندگی سے ہر اداسی دور کر دوں اپ کے ہر انسو کو خوشی کے انسومیں بدل دوں اور بدلے میں صرف آپ کا ساتھ چاہے مجھے کیا آپ میری زندگی مین شامل ہوکر مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینگی

اس نے بڑے آسان لفظوں میں اپنی محبت کا اظہار کردیا تھا رائمہ اسے بس دیکھتے رہی

ہمارے بارے میں سب کچھ جانتے ہوے بھی یہ جانتے ہوے کہ ہم طلاق شدہ ہے عمر میں اپ سے بڑے ہیں آپ یہ بات کیسے کر سکتے ہیں

وہ. حیرانی سے بولی

جو بھی تھا وہ آپ کا گزرا کل تھا جس میں اپ کی کوئ غلطی نہیں تھی میں آپ کا آنے والا کل بننا چاہتا ہوں اور عمر کوئی معنی نہیں رکھتی جزبات معنی رکھتے ہیں اور میرے دل. میں اپکے لیے جو جزبات ہے وہ اتنے گہرے ہیں کہ ان چھوٹے موٹی وجوہات کے کوئی معنی نہیں

نہیں یہ بس ایک وقتی جزبہ ہے جس پر آپ کو ایک دن پچھتاوا ہوگا کیونکہ آپ کی پرفیکٹ ہے اور اچھے سے اچھا زیزرو کرتے ہیں

میں کوئی بچہ نہیں ہوں جو مجھے محبت اور اٹریکشن میں فرق نا محسوس ہو آپ کی سوچ غلط ہے ایسا کچھ نہیں ہے اور اپ خود کو کم مت سمجھیے آپ میرے لیے پرفیکٹ سے کہیں زیادہ ہے یہ بس میں جانتا ہوں

رائمہ کچھ نہیں بولی

مجھے آپ کا جواب چاہیے رائمہ ایک موقع دے دیں مجھے پلیز

وہ رک کر بولا
نہیں……

وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی

کیوں……

کیونکہ ہم نہیں چاہتے ……

رائمہ نے اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا

ٹھیک ہے…….. جیسے آپ کی مرضی زبردستی کرنا تو مجھے آتا نہیں ورنہ وہ بھی کر لیتا اگر آپ کو میں غلط لگتا ہوں میری باتیں جھوٹ لگتی ہیں تو ٹھیک ہے نا کریں مجھ پر بھروسہ.

وہ گہری سانس لے کر بول

ہم نے ایسا تو نہیں کہا ہم بس اپنی بات کر رہے ہیں ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اپنی زندگی سے اب رشتوں سے دور رہنا چاہتے ہیں یہ رشتے بہت کمزور کر دیتے ہیں ہمیں

وہ اب اس کی طرف دیکھ کر بولی

ضروری نہیں ہے کہ ایک بار جو ہوا ہر بار وہی ہوگا اور رشتے انسان کو کمزور نہیں مضبوط بناتے ہیں اتنا کہ انسان ہر حالات سے لڑجاے ان رشتوں لے لیے لیکن ٹھیک ہے آپ کی مرضی آپ کی زندگی آپ کا فیصلہ
چلتا ہوں میں خدا حافظ

وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولا اور چلا گیا رائمہ نے ا سے جاتے ہوے دیکھا

وہ یہ تو محسوس کرتی تھی کہ دانش اسے پسند کرتا ہے لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اتنی بڑی بات کردے گا اب تک تو وہ پچھلی باتوں سے نکل نہیں پائ تھی تو اب کیسے اتنی جلدی کسی اور پر بھروسہ کر لیتی پھر دانش عمر میں بھی اس سے تقریبا دو سال چھوٹا تھا یہ فرق دانش کہ لیے نا سہی لیکن لوگوں کے لیے باتیں بنانے کا بہت بڑا بہانہ تھا اور اب اس میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ کچھ بھی سن سکے یا سہہ سکے
.
//////////*