No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 19
سنایا خان
وہ گھر پہنچ کر کافی دیر گاڑی میں ہی بیٹھا رہا جب کہ ماہی اندر چلی گئی کچھ دیر بعد وہ اندر آیا اور سیڑھیاں چھڑھنے لگا تین چار سیڑھیوں تک ہی پہنچا تھا جب ثریا بیگم نے اسے آواز دی
آہل…….
اس نے وہیں سے پلٹ کر دیکھا
تم اس وقت یہاں کب اۓ
بس ابھی ابھی مجھے کچھ ضروری کام تھا اس لیے
اتنی رات کو ایسے اچانک نہیں آنا چاہیے تھا تمہیں سب کیا سوچیں گے
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سب کیا سوچین گے میں کسی کا پابند نہیں ہوں جو لوگوں کے مطابق کام کرونگا میں وہی کرونگا جو مجھے سہی لگے گا لوگوں کو سوچنا ہے سوچتے رہے
وہ. سختی سے بولا ثریا بیگم اسے سنجیدگی دیکھنے لگی
سوری بیٹا……… شاید میں نے کچھ غلط کہہ دیا
ثریا بیگم نے افسوس سے کہا تو آہل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ فورا ان کے پاس آیا
ایسا مت کہیے مام میرا وہ مطلب نہیں تھا …..آئے ایم ریلی سوری
وہ شرمندہ ہوکر بولا
نہین بیٹا…. غلطی میری ہی ہے میں جانتی ہوں کہ تمہیں اپنی کسی بات میں مداخلت پسند نہیں ہے پھر بھی ہر بار تمہارے بیچ میں بول پڑتی ہوں ویسے بھی سب غلطی میری ہی تو ہے جو تم آج ایسے ہو….. میں ہی زمہ دار ہوں اس سب کی لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی سواۓ شرمندہ ہونے کے یا پچھتانے کے….
مام پلیز آپ ایسا مت کہیے……
وہ کہہ کر ان کے گلے لگا
آپ میری ماں ہے……
پھر ان سے الگ ہوا
آپ میری ماں ہے میرے لیے سب سے بڑھ کر ہے آپ ایسی باتیں مت کیا کریں مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا
وہ ان کے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولا انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
بہت رات ہو رہی تم جا کر آرام کرو…میں رائمہ کو بتا دیتی ہوں کہ تم گھر آگئے ہو
آہل نے اثبات میں سر ہلا کر اوپر جانے لگا
کیا ہوا بیٹا…….
ناشتے کی ٹیبل پر رضیہ بیگم رائمہ اور دانش بیٹھے تھے جب کہ شیخ صاحب آفس کے لیے نکل چکے تھے جب رائمہ نے ثریا بیگم سے فون پر بات کی اس کی بات ختم ہونے پر رضیہ بیگم نے پوچھا
وہ ….اہل کو کوئی ضروری کام تھا اس لیے وہ چلے گئے مام نے ڈرائیور کو بھیجا ہے ہمیں لینے…….
اس نے جواب دیا
خیر ہے وہ کام کی وجہ سے چلے گیے لیکن تم تو کچھ دن رک جاؤ بیٹا سب ایک ساتھ جا رہے ہیں گھر کیسا سونا لگے گا
رضیہ بیگم نے پیار سے کہا
نہین انٹی بہت دن سے رکے ہوۓ ہیں اب ہمیں بھی جانا ہے پھر کبھی اجائنگے
اس کی بات پر دانش نے بنا سر اٹھاے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
ٹھیک ہے بیٹا ویسے بھی تم اتنے دن ہم لوگوں کے ساتھ رہی ہمیں بہت اچھا لگا ……
لیکن تم ڈرائیور کے ساتھ اکیلی کیسے جاؤگی دانش ایسا کرو تم بھی ساتھ چلے جاؤ
انھون نے رائمہ سے بات کرتے ہوے دانش کو حکم دیا
ٹھیک ہے امی………
دانش نے جواب دیا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگا رائمہ نے اسے ایک نظر کسی دیکھا تو وہ اسے ہمیشہ کے مقابلے بہت خاموش بہت اداس لگا
اس نے جلدی جلدی اپنی پیکنگ مکمل کی تب تک ڈرائیور بھی گاڑی لے کر اگیا تو دانش اور وہ وہاں سے نکلے دانش ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا اور رائمہ پیچھے رائمہ نے کئی بار اس کی جانب دیکھا لیکن وہ بلکل لا تعلق سا بیٹھا تھا
کچھ دور ہی پہنچے تھے جب ڈرائیور نے ایکدم سے بریک مار کر گاڑی روکی کیونکہ سامنے کسے نے گاڈی لاکر روک دی تھی اور وہ بریک نا مارتا تو ایکسیڈنٹ ہو جاتا
دانش گاڑی میں ہی بیٹھا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا جب پچھلی کا طرف کا دروازہ کھلا اور احد نے رائمہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے گاڑی سے نکالا وہ زور سے چینخی تو دانش بھی گاڑی سے باہر آیا وہ اور غصے سےاس کی جانب اور پیچھے سے ہی اس جا گریبان پکٰ کر اسے اپنی جانب گھمایا
تیری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی ہاتھ چھوڑ
وہ غصے سے دہاڑ کر بولا احد نے جیب سے گن نکال کر اس کے اوپر تا ن دی رائمہ مزید گھبرا گئی
اگر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ساری گولیاں تیرے بھیجے میں اتار دوں گا
دانش پلیز آپ یہاں سے چلے جاۓ پلیز
وہ تیز سانسوں کے ساتھ بولی
ارے واہ….. بہت فکر ہو رہی ہے .اپنے عاشق کی
وہ طنزیہ ہنسی ہنستے ہوۓ بولا رائمہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی جب کے دانش کا غصے سے برا حال تھا
لیکن میں بھی وہ نہیں جو اتنی اسانی سے تجھے جانے دوں گا تیرے بھائی نے بہت غلط کیا مجھ سے جھگڑا مول. لیکر اب میں تجھے ایسی سزا دوں گا کہ تیرا بھائی سارا غرور بھول کر تیرے لیے مجھ سے بھیک مانگے گا
وہ. نفرت سے بولا
دانش اس کی جانب بڑھنے لگا تو اس نے اس کے سر پر بندوق رکھ دی رائمہ تو جیسے کی سانس رکنے کو تھی
تیری ساری عاشقی ابھی کے ابھی ڈھیر ہوجاے گی اس لیے کہہ رہا ہوں چلا جا یہاں سے
اگر رائمہ کو ایک خراش بھی ائی نا تو میں اس کے بدلے میں تیرے جسم سے خون کی ایک ایک بوند نکال. لوں
وہ سرخ انکھوں سے اسے غصہ سے وارنگ دیکر بولا
کمال کی ہمت ہے تیری لیکن کیا کریں میری بیوی چیز ہی …….
وہ اسے کہہ کر رائمہ کو عجیب نظروں سے گھورتے ہوۓ بولا دانش نے اس کے ہاتھ کو ایک زوردار دھکا مارا جس سے گن چھوٹ کر نیچے گر گئی اسے کوئی بھی موقع دیے بغیر دانش اس پہ منہ پر گھونسوں سے وار پر وار کرتا گیا اتنا کہ وہ نڈھال ہوگیا اور زمین پر گر پڑا اس کے منہ اے خون بہنے لگا تھا دانش نے اسے کالر پکڑ کر اٹھایا اور پھر سے مارنے لگا اس میں زرا بھی قوت نہیں بچی تھی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے رائمہ بس روتی ہوئی انکھوں سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی
دانش نے زمین سے گن اٹھا کر اس کے اوپر تان دی احد بری طرح گھبرا گیا
تیری ہمت کیسے ہوئی رائمہ کو ہاتھ لگانے کی کہا تھا نا جان سے مار دونگا جو مرد ہوتے ہے انھیں اپنی مردانگی ثانت کرنے کے لیے وہ ذلیل حرکتیں کرنے لی ضرورت نہین پڑتی جو تونے کی عورت پر ہاتھ اٹھانے والا اسے پیر کی جوتی سمجھنے والا آدمی شوہر تو کیا انسان کہلانے لائق نہیں ہے اور نا اسے زندہ رہنےکا کوئی حق ہے
وہ غصے سے بولا
نہیں دانش رک جائے…. پلیز جانے دیجیے
نہیں رائمہ اس کمینے کو مرنا ہی ہوگا اج میں اس سے آپ کے ہر انسو کا بدلہ. لے کر رہوں گا
نہیں دانش آپ کو ہماری قسم ہے آپ ایسا نہیں کرے گے
یہ آپ کیا کہہ رہی جس انسان نے آپ کے ساتھ اتنی زیادتی کی آپ کو جان سے مارنے کی کوشش کی آج جب اس سے بدلہ لینے کا وقر آیا ہے آپ اسے بچانا چاہ رہی ہیں
اب وہ اسے کیسے کہہ پاتی کہ وہ اس کے لیے نہیں بلکہ دانش کے لیے ایسا کر رہی کہ کہیں اسے مار کر دانش کی.شکلات نا بڑھ جاے
سزا دینے والی ذات اللہ کی ہے ہم اسی پر چھوڑ دیتے ہیں پلیز آپ ایسا مت کریں
دانش نے اسے سنجیدگی سےدیکھا اور گن غصے سے پھینک دی احد جلدی سے اٹھ کر بھاگا تو دانش نے دوبارہ اسے پکڑ کر اس کی گردن دبوچ لی
تجھے جان سے نہیں مار رہا لیکن یاد رکھنا آگے سے اگر تو مجھے رائمہ. کے ارد گرد بھی نظر اگیا تو وہ تیری زندگی کا اخری دن ہوگا
احد انکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہا تھا دانش نے جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑی تو لڑکھڑایا اور گرتے پڑتے اپنی گاڑی تک پہنچا اور فورا گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھالی
دانش نے گہری. سانسیں لیتے ہوے رائمہ. کو دیکھا وہ. بے اواز رو رہی تھی دانش اس کے قریب آیا اوراس کا سر اپنے سینے پر رکھا
آج اخری دفعہ رو لیجیے جتنا رونا ہے سب کچھ نکال دیجیے دل سے سارا درد ….خوف گھبراہٹ سب کچھ کیونکہ اس کے بعد میں آپ کو کبھی رونے نہیں دونگا
رائمہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اس سے الگ ہوئی
چلیے……
دانش اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی جانب جانے لگا تب ہی آہل کی گاڑی وہاں آکر رکی اور وہ جلدی سے گاڑی سے اتر کر ان کے پاس آیا وہاٹ ااے ڈرائیور نے فون کرکے اطلاع کی تھی
آپ ٹھیک. تو ہے نا………..
وہ رائمہ کو دونوں کاندھوں سے تھام کر بولا
ہم. بلکل ٹھیک ہے آہل…….
آہل نے اسے گلے لگایا
آے ایم سو سوری……. مجھے آپ کو اس طرح اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا
اسے سچ میں افسوس ہورہا تھا
کوئی بات نہیں آہل جی ہم. بلکل ٹھیک ہے
آہل نے اس سے الگ ہوکر دانش کو دیکھا
تھینکیو سو مچ تم نےایک بار پھر میری بہن کو اس خبیث سے بچایا
دانش بس ہلکا سا مسکرایا
چلیں….
اس نے رائمہ کی جانب دیکھ کر کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر دانش کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے جانے تک دیکھتا ہی رہا
ماہی جلدی جلدی سیڑھیاں اترنے کے چکر میں کسی سے بری طرح ٹکرا گئی لیکن گرنے سے پہلے ہی سنبھل. گئی
معاف کیجیے گا ہم نے آپ کو کو دیکھا ہی نہیں
وہ شرمندہ ہوکر بولی
کوئی بات نہیں سینوریٹا بڑے بڑے دیشوں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں
وہ اسٹائل. سے بولا ماہی اس کی بات پر ہنسنے لگی
اس نے بلیک جینس پر وہائٹ ٹی شرٹ اور بلیک ہی جیکٹ پہنی ہوئی تھی بال براؤن اور سلکی کاندھے پر ٹریولنگ بیگ لٹکاے خوش باش سا تقریبا چوبیس پچیس سال کا لڑکا تھا
ہم نے آپ کو پہچانا نہیں کون ہے اپ
وہ. خیال آتے ہی پوچھنے لگی
پہلے بتاو تم کون ہو
اس نے الٹا سوال کیا
ہمارا نام ماہی ہے……اور ہم..
ویٹ……… آہل بھائی کی وائف ماہی بھابھی…….
وہ. انگلی دکھاتے ہوۓ بولاماہی نے اثبات میں سر ہلا دیا
واؤ……بھابھی نائس ٹو میٹ یو…..
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے ہلاتے ہوے بولا
لیکن آپ کون ہے ہم. نے آپ کو پہچانا نہیں
ہم. بتاتے ہیں
رائمہ. ان دونوں لو دیکھ کر وہاں آئی
آپی ……….
وہ رائمہ کی جانب بڑھا اور زور سے گلے لگایا
ہاؤ آر یو سویٹ ڈش… ..
ہم. بلکل ٹھیک. ہے ماہی یہ ہمارے کزن ہے مَہیر…… علی سے تو آپ مل ہی چکی ہے یہ ان کے بھائی ہے
مہیر نہیں……… کال می ایم……
وہ ایک انکھ دبا کر اسٹائل سے بولا اس کے انداز پر ماہی اور رائمہ دونون ہنسنے لگی
ماہی ان سے زرا سنبھل کر رہنا یہ زرا سے پاگل. ہے
رائمہ نے دھیرے سے کہا تو وہ اسے گھورنے لگا
رئیلی سوئٹ ڈش …….
وہ غصے سے بولا رائمہ ہنسنے لگی
سوئٹ ڈش…..
ماہی حیرت سے بولی
یہ ہمیں سوئٹ ڈش بلاتے ہیں
رائمہ نے جواب دیا
کیونکہ رائمہ آپی سچ میں بہت سویٹ ہے……..
وہ رائمہ کے گال. کھینچتے ہوے بولا
بس… چلو سب سے مل. لو تو لو پہلے………
رائمہ زچ ہوکر بولی
وہ جلدی جلدی چلتے ہوے دادی کے کمرے کی جانب بڑھا ماہی عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 19
سنایا خان
وہ گھر پہنچ کر کافی دیر گاڑی میں ہی بیٹھا رہا جب کہ ماہی اندر چلی گئی کچھ دیر بعد وہ اندر آیا اور سیڑھیاں چھڑھنے لگا تین چار سیڑھیوں تک ہی پہنچا تھا جب ثریا بیگم نے اسے آواز دی
آہل…….
اس نے وہیں سے پلٹ کر دیکھا
تم اس وقت یہاں کب اۓ
بس ابھی ابھی مجھے کچھ ضروری کام تھا اس لیے
اتنی رات کو ایسے اچانک نہیں آنا چاہیے تھا تمہیں سب کیا سوچیں گے
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سب کیا سوچین گے میں کسی کا پابند نہیں ہوں جو لوگوں کے مطابق کام کرونگا میں وہی کرونگا جو مجھے سہی لگے گا لوگوں کو سوچنا ہے سوچتے رہے
وہ. سختی سے بولا ثریا بیگم اسے سنجیدگی دیکھنے لگی
سوری بیٹا……… شاید میں نے کچھ غلط کہہ دیا
ثریا بیگم نے افسوس سے کہا تو آہل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ فورا ان کے پاس آیا
ایسا مت کہیے مام میرا وہ مطلب نہیں تھا …..آئے ایم ریلی سوری
وہ شرمندہ ہوکر بولا
نہین بیٹا…. غلطی میری ہی ہے میں جانتی ہوں کہ تمہیں اپنی کسی بات میں مداخلت پسند نہیں ہے پھر بھی ہر بار تمہارے بیچ میں بول پڑتی ہوں ویسے بھی سب غلطی میری ہی تو ہے جو تم آج ایسے ہو….. میں ہی زمہ دار ہوں اس سب کی لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی سواۓ شرمندہ ہونے کے یا پچھتانے کے….
مام پلیز آپ ایسا مت کہیے……
وہ کہہ کر ان کے گلے لگا
آپ میری ماں ہے……
پھر ان سے الگ ہوا
آپ میری ماں ہے میرے لیے سب سے بڑھ کر ہے آپ ایسی باتیں مت کیا کریں مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا
وہ ان کے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولا انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
بہت رات ہو رہی تم جا کر آرام کرو…میں رائمہ کو بتا دیتی ہوں کہ تم گھر آگئے ہو
آہل نے اثبات میں سر ہلا کر اوپر جانے لگا
کیا ہوا بیٹا…….
ناشتے کی ٹیبل پر رضیہ بیگم رائمہ اور دانش بیٹھے تھے جب کہ شیخ صاحب آفس کے لیے نکل چکے تھے جب رائمہ نے ثریا بیگم سے فون پر بات کی اس کی بات ختم ہونے پر رضیہ بیگم نے پوچھا
وہ ….اہل کو کوئی ضروری کام تھا اس لیے وہ چلے گئے مام نے ڈرائیور کو بھیجا ہے ہمیں لینے…….
اس نے جواب دیا
خیر ہے وہ کام کی وجہ سے چلے گیے لیکن تم تو کچھ دن رک جاؤ بیٹا سب ایک ساتھ جا رہے ہیں گھر کیسا سونا لگے گا
رضیہ بیگم نے پیار سے کہا
نہین انٹی بہت دن سے رکے ہوۓ ہیں اب ہمیں بھی جانا ہے پھر کبھی اجائنگے
اس کی بات پر دانش نے بنا سر اٹھاے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
ٹھیک ہے بیٹا ویسے بھی تم اتنے دن ہم لوگوں کے ساتھ رہی ہمیں بہت اچھا لگا ……
لیکن تم ڈرائیور کے ساتھ اکیلی کیسے جاؤگی دانش ایسا کرو تم بھی ساتھ چلے جاؤ
انھون نے رائمہ سے بات کرتے ہوے دانش کو حکم دیا
ٹھیک ہے امی………
دانش نے جواب دیا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگا رائمہ نے اسے ایک نظر کسی دیکھا تو وہ اسے ہمیشہ کے مقابلے بہت خاموش بہت اداس لگا
اس نے جلدی جلدی اپنی پیکنگ مکمل کی تب تک ڈرائیور بھی گاڑی لے کر اگیا تو دانش اور وہ وہاں سے نکلے دانش ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا اور رائمہ پیچھے رائمہ نے کئی بار اس کی جانب دیکھا لیکن وہ بلکل لا تعلق سا بیٹھا تھا
کچھ دور ہی پہنچے تھے جب ڈرائیور نے ایکدم سے بریک مار کر گاڑی روکی کیونکہ سامنے کسے نے گاڈی لاکر روک دی تھی اور وہ بریک نا مارتا تو ایکسیڈنٹ ہو جاتا
دانش گاڑی میں ہی بیٹھا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا جب پچھلی کا طرف کا دروازہ کھلا اور احد نے رائمہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے گاڑی سے نکالا وہ زور سے چینخی تو دانش بھی گاڑی سے باہر آیا وہ اور غصے سےاس کی جانب اور پیچھے سے ہی اس جا گریبان پکٰ کر اسے اپنی جانب گھمایا
تیری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی ہاتھ چھوڑ
وہ غصے سے دہاڑ کر بولا احد نے جیب سے گن نکال کر اس کے اوپر تا ن دی رائمہ مزید گھبرا گئی
اگر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ساری گولیاں تیرے بھیجے میں اتار دوں گا
دانش پلیز آپ یہاں سے چلے جاۓ پلیز
وہ تیز سانسوں کے ساتھ بولی
ارے واہ….. بہت فکر ہو رہی ہے .اپنے عاشق کی
وہ طنزیہ ہنسی ہنستے ہوۓ بولا رائمہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی جب کے دانش کا غصے سے برا حال تھا
لیکن میں بھی وہ نہیں جو اتنی اسانی سے تجھے جانے دوں گا تیرے بھائی نے بہت غلط کیا مجھ سے جھگڑا مول. لیکر اب میں تجھے ایسی سزا دوں گا کہ تیرا بھائی سارا غرور بھول کر تیرے لیے مجھ سے بھیک مانگے گا
وہ. نفرت سے بولا
دانش اس کی جانب بڑھنے لگا تو اس نے اس کے سر پر بندوق رکھ دی رائمہ تو جیسے کی سانس رکنے کو تھی
تیری ساری عاشقی ابھی کے ابھی ڈھیر ہوجاے گی اس لیے کہہ رہا ہوں چلا جا یہاں سے
اگر رائمہ کو ایک خراش بھی ائی نا تو میں اس کے بدلے میں تیرے جسم سے خون کی ایک ایک بوند نکال. لوں
وہ سرخ انکھوں سے اسے غصہ سے وارنگ دیکر بولا
کمال کی ہمت ہے تیری لیکن کیا کریں میری بیوی چیز ہی …….
وہ اسے کہہ کر رائمہ کو عجیب نظروں سے گھورتے ہوۓ بولا دانش نے اس کے ہاتھ کو ایک زوردار دھکا مارا جس سے گن چھوٹ کر نیچے گر گئی اسے کوئی بھی موقع دیے بغیر دانش اس پہ منہ پر گھونسوں سے وار پر وار کرتا گیا اتنا کہ وہ نڈھال ہوگیا اور زمین پر گر پڑا اس کے منہ اے خون بہنے لگا تھا دانش نے اسے کالر پکڑ کر اٹھایا اور پھر سے مارنے لگا اس میں زرا بھی قوت نہیں بچی تھی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے رائمہ بس روتی ہوئی انکھوں سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی
دانش نے زمین سے گن اٹھا کر اس کے اوپر تان دی احد بری طرح گھبرا گیا
تیری ہمت کیسے ہوئی رائمہ کو ہاتھ لگانے کی کہا تھا نا جان سے مار دونگا جو مرد ہوتے ہے انھیں اپنی مردانگی ثانت کرنے کے لیے وہ ذلیل حرکتیں کرنے لی ضرورت نہین پڑتی جو تونے کی عورت پر ہاتھ اٹھانے والا اسے پیر کی جوتی سمجھنے والا آدمی شوہر تو کیا انسان کہلانے لائق نہیں ہے اور نا اسے زندہ رہنےکا کوئی حق ہے
وہ غصے سے بولا
نہیں دانش رک جائے…. پلیز جانے دیجیے
نہیں رائمہ اس کمینے کو مرنا ہی ہوگا اج میں اس سے آپ کے ہر انسو کا بدلہ. لے کر رہوں گا
نہیں دانش آپ کو ہماری قسم ہے آپ ایسا نہیں کرے گے
یہ آپ کیا کہہ رہی جس انسان نے آپ کے ساتھ اتنی زیادتی کی آپ کو جان سے مارنے کی کوشش کی آج جب اس سے بدلہ لینے کا وقر آیا ہے آپ اسے بچانا چاہ رہی ہیں
اب وہ اسے کیسے کہہ پاتی کہ وہ اس کے لیے نہیں بلکہ دانش کے لیے ایسا کر رہی کہ کہیں اسے مار کر دانش کی.شکلات نا بڑھ جاے
سزا دینے والی ذات اللہ کی ہے ہم اسی پر چھوڑ دیتے ہیں پلیز آپ ایسا مت کریں
دانش نے اسے سنجیدگی سےدیکھا اور گن غصے سے پھینک دی احد جلدی سے اٹھ کر بھاگا تو دانش نے دوبارہ اسے پکڑ کر اس کی گردن دبوچ لی
تجھے جان سے نہیں مار رہا لیکن یاد رکھنا آگے سے اگر تو مجھے رائمہ. کے ارد گرد بھی نظر اگیا تو وہ تیری زندگی کا اخری دن ہوگا
احد انکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہا تھا دانش نے جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑی تو لڑکھڑایا اور گرتے پڑتے اپنی گاڑی تک پہنچا اور فورا گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھالی
دانش نے گہری. سانسیں لیتے ہوے رائمہ. کو دیکھا وہ. بے اواز رو رہی تھی دانش اس کے قریب آیا اوراس کا سر اپنے سینے پر رکھا
آج اخری دفعہ رو لیجیے جتنا رونا ہے سب کچھ نکال دیجیے دل سے سارا درد ….خوف گھبراہٹ سب کچھ کیونکہ اس کے بعد میں آپ کو کبھی رونے نہیں دونگا
رائمہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اس سے الگ ہوئی
چلیے……
دانش اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی جانب جانے لگا تب ہی آہل کی گاڑی وہاں آکر رکی اور وہ جلدی سے گاڑی سے اتر کر ان کے پاس آیا وہاٹ ااے ڈرائیور نے فون کرکے اطلاع کی تھی
آپ ٹھیک. تو ہے نا………..
وہ رائمہ کو دونوں کاندھوں سے تھام کر بولا
ہم. بلکل ٹھیک ہے آہل…….
آہل نے اسے گلے لگایا
آے ایم سو سوری……. مجھے آپ کو اس طرح اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا
اسے سچ میں افسوس ہورہا تھا
کوئی بات نہیں آہل جی ہم. بلکل ٹھیک ہے
آہل نے اس سے الگ ہوکر دانش کو دیکھا
تھینکیو سو مچ تم نےایک بار پھر میری بہن کو اس خبیث سے بچایا
دانش بس ہلکا سا مسکرایا
چلیں….
اس نے رائمہ کی جانب دیکھ کر کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر دانش کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے جانے تک دیکھتا ہی رہا
ماہی جلدی جلدی سیڑھیاں اترنے کے چکر میں کسی سے بری طرح ٹکرا گئی لیکن گرنے سے پہلے ہی سنبھل. گئی
معاف کیجیے گا ہم نے آپ کو کو دیکھا ہی نہیں
وہ شرمندہ ہوکر بولی
کوئی بات نہیں سینوریٹا بڑے بڑے دیشوں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں
وہ اسٹائل. سے بولا ماہی اس کی بات پر ہنسنے لگی
اس نے بلیک جینس پر وہائٹ ٹی شرٹ اور بلیک ہی جیکٹ پہنی ہوئی تھی بال براؤن اور سلکی کاندھے پر ٹریولنگ بیگ لٹکاے خوش باش سا تقریبا چوبیس پچیس سال کا لڑکا تھا
ہم نے آپ کو پہچانا نہیں کون ہے اپ
وہ. خیال آتے ہی پوچھنے لگی
پہلے بتاو تم کون ہو
اس نے الٹا سوال کیا
ہمارا نام ماہی ہے……اور ہم..
ویٹ……… آہل بھائی کی وائف ماہی بھابھی…….
وہ. انگلی دکھاتے ہوۓ بولاماہی نے اثبات میں سر ہلا دیا
واؤ……بھابھی نائس ٹو میٹ یو…..
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے ہلاتے ہوے بولا
لیکن آپ کون ہے ہم. نے آپ کو پہچانا نہیں
ہم. بتاتے ہیں
رائمہ. ان دونوں لو دیکھ کر وہاں آئی
آپی ……….
وہ رائمہ کی جانب بڑھا اور زور سے گلے لگایا
ہاؤ آر یو سویٹ ڈش… ..
ہم. بلکل ٹھیک. ہے ماہی یہ ہمارے کزن ہے مَہیر…… علی سے تو آپ مل ہی چکی ہے یہ ان کے بھائی ہے
مہیر نہیں……… کال می ایم……
وہ ایک انکھ دبا کر اسٹائل سے بولا اس کے انداز پر ماہی اور رائمہ دونون ہنسنے لگی
ماہی ان سے زرا سنبھل کر رہنا یہ زرا سے پاگل. ہے
رائمہ نے دھیرے سے کہا تو وہ اسے گھورنے لگا
رئیلی سوئٹ ڈش …….
وہ غصے سے بولا رائمہ ہنسنے لگی
سوئٹ ڈش…..
ماہی حیرت سے بولی
یہ ہمیں سوئٹ ڈش بلاتے ہیں
رائمہ نے جواب دیا
کیونکہ رائمہ آپی سچ میں بہت سویٹ ہے……..
وہ رائمہ کے گال. کھینچتے ہوے بولا
بس… چلو سب سے مل. لو تو لو پہلے………
رائمہ زچ ہوکر بولی
وہ جلدی جلدی چلتے ہوے دادی کے کمرے کی جانب بڑھا ماہی کچن میں آگئی
* میں آگئی
