Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 35
سنایا خان

پانچ سال بعد……………………………

ایک نیا وقت….
ایک نئی جگہ….
ایک نئی شروعات….. 😊😊😊

آہل اپنے موبائیل میں کسی کا نمبر ڈھونڈتے ہوۓ بے دھیانی میں چلا جارہا تھا جب اچانک کسی سے ٹکرا گیا اس کے ہاتھ سے موبائیل اور سامنے والی لڑکی کے ہاتھوں سے پھولوں کا گلدستہ گرگیا آہل اوہ نو کہتے ہوۓ زمین سے اپنا موبائل اٹھانے لگا

موبائل میں نہیں سامنے دیکھتے ہوۓ چلنا چاہیے

آہل نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ بچہ ہاتھ پیچھے باندھے بڑے رعب سے اسے بتا رہا تھا آہل اسے دیکھتے ہوۓ سیدھا ہوا روشنی نے اسے اشارے سے چپ کروایا

آۓ ایم سوری سر ایکچولی اسی نے مجھے دھکا دیا تھا آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے

روشنی سارا الزام اس پر ڈال دیا وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا

نو اٹس اوکے…… کوئی بات نہیں….

اٹس اوکے کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا غلطی کی ہے تو سوری بھی بولو

اہل کی بات کاٹ کر بولا آہل انکھیں بڑی کرکے اسے دیکھا

Suhaan….
سہان…… چلو یہاں سے…

روشنی شرمندہ ہوکر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانے لگی

نیکسٹ زرا سنبھل کر چلیے گا….

جاتے جاتے بھی وہ اسے انگلی دکھاتے ہوۓ وارننگ دینا نہیں بھولا آہل کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اتنے چھوٹے سے بچے کے منہ سے اتنی بڑی باتیں سن کر کوئی بھی حیران ہوجاۓ روشنی نے اسے جلدی سے اسے کھینچ کر آگے بڑھی آہل چند پل اسے جاتے ہوۓ دیکھتا رہا پھر خود بھی آگے بڑھ گیا

سہان… بدتمیز کہیں کے….

روشنی اسے ڈانٹتے ہوۓ اپنے ساتھ پارکنگ ایریا تک لے آئی

میں نے تمہاری ہیلپ کی اور تم مجھے سنا رہی ہو …ویسے آج تم اتنی تمیزدار کیوں بن رہی ہو جب کہ تمہیں تو خود اس کی کلاس لےلینی چاہیے تھی اب تک
وہ حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بولا

وہ ہمارے باس کے دوست ہے ناراض ہوکر مجھے جاب سے نکال دیا تو

روشنی نے اس کے مقابل کھڑے ہوکت کہا

ڈونٹ وری. میرے ہوتے ہوۓ تمہیں کوئی جاب سے نہیں نکال سکتا

وہ ہاتھ دکھا کر اسٹائیل سے بولا روشنی نے اسے گھور کر دیکھ

ڈائلاگ بازیاں بند کرو…. تمہیں کوئی جاب سے نہیں نکال سکتا …اپنی ہائٹ دیکھی تم نے اتنے سے ہو اور باتیں دیکھو جناب کی

وہ اس کی نقل اتارتے ہوۓ بولی

روشنی انسان اپنی عمر سے نہیں سوچ سے بڑا ہوتا ہے

اس نے روشنی کی معلومات میں اضافہ کیا

اپنی سوچ کو تم اپنے پاس رکھو اور چپ چاپ چل کر گاڑی میں بیٹھو… میری ہی مت ماری گئی تھی جو تمہیں ساتھ لے آئی….

وہ چڑ کر بولی اور سامان گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھا سہان اسے گھورتے ہوۓ کھڑا رہا

گھور کیا رہے ہو…

وہ سامنے کا ڈور کھول کر اس کی جانب مڑی اور اس کے انداز پر بولی

تم میری انسلٹ کررہی ہو…..میں نے تمہاری شاپنگ کے لیے اپنا اتنا قیمتی وقت دیا اور تم……

سہان چپ کرکے نا اب گاڑی میں بیٹھ جاؤ تم ورنہ میں نے یہاں کے چینجینگ روم میں تمہیں بند کرکے چلے جان ہے

وہ اس کی بات کاٹ کر گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولی وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گیا روشنی دروازہ لاک کیا اور خود ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ کر اس کا سیٹ بیلٹ باندھنے لگی

وقت وقت کی بات ہے ایک بار میرے ڈیڈ واپس اجاۓ پھر دیکھ لونگا سب کو…..

سہان نے اپنی بھڑاس نکالی روشنی اپنا سیٹ بیلٹ لگاتے ہوۓ اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرادی


آہل آفس میں داخل ہوا تو میٹینگ روم میں سب ہی اس کے منتظر تھے اس کے آتے ہی میٹینگ سٹارٹ ہوئی اس نے اپنی پریسینٹیشن سب کے سامنے پیش کی سب بہت ہی غور و فکر سے اس کی بات کو سن رہے تھے بس تین لوگ ہی انڈین تھے باقی سب انگریز تھے اس نے بہت ہی اچھے سے اپنا ہر خیال ان سب کے سامنے رکھا اس کی بات ختم ہوئی تو سب نے تالیان بجائی اور باری باری اس سے ہاتھ ملایا اس نے پارٹنرشپ میں یہ پراجیکٹ شروع کیا تھا اس لیے خاص وہ لنڈن آیا تھا اور کل اسے واپس جانا تھا اس لیے وہ جلد سے جلد سب کام کمپلیٹ کرلینا چاہتا تھا

کانگریچیولیشنس آہل… یور آل ائیڈیاس آر گریٹ

وہ باہر نکلا تب اس کمپنی کا اونر جو انڈین تھا ہاتھ ملاتے ہوۓ بولا

تھینکیو سو مچ

آہل اگر تم خود اپنی نگرانی میں یہ کام کرواؤگے تو زیادہ بہتر ہوگا

اس نے اپنی راۓ دیتے ہوۓ کہا

نو آۓ کانٹ اتنے ٹائم تک میرا یہاں رہ پانا ہوسبل نہیں ہے ..لیکن میں سب کو انسٹرکشنس دے دونگا ڈعنٹ وری کوئی پرابلم نہیں اۓ گی

آہل نے اس کی الجھن دور کرتے ہوۓ کہا

اوکے بیسٹ آف لک

آہل نے ہلکا سا سر ہلا کر اس کا شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھا


سہان…..رک جاؤ سہان…

ماہی اسے پکارتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہی تھی اور وہ ہاتھ آنے کے بلکل موڈ میں نہیں تھا اس نے اپنے پینٹنگ کلرس سے دیواروں پر اچھی خاصی پینٹنگ بنائی ہوئی تھی اس لیے ماہی اس پر بھڑکی ہوئی تھی سہان کے دھکا لگنے سے ٹیبل پر رکھا پانی کا جگ گر گیا اور زمین پر. پانی پانی ہوگیا تھا ماہی کا پیر اس پر پڑا تو وہ بری طرح پھسل گئی اسے کوئی چوٹ تو نہیں ائی لیکن وہ بری طرح بھیگ گئی سہان اسے دیکھ کر ہنسنے لگا تو وہ مزید آگ بگولہ ہوگئی

تمہیں تو ہم چھوڑے گے نہیں بہت شرارتی ہو گے ہو تم

وہ. غصے سے بولی اور اٹھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی

ریلیکس مام……

چپ خبردار جو ہمیں مام بلایا کتنی بار کہا ہے امی کہا کرو

وہ. اس کی بات کاٹ کر. بولی

امی اس ویری بورنگ….. مام اس سو کوول

وہ اسٹائیل. سے بولا

رک. جاؤ ہم ابھی تمہارا سارا کوول ختم. کرتے ہیں

وہ اٹھ کر دوبارہ اس کے پیچھے دوڑی

نو مام پلیز…….
وہ پھر سے بھاگنے لگا

وہ ایک بار پھر پھسل کر گری تب ہی روشنی اندر داخل ہوئی اور جلدی سے اسے زمین سے اٹھایا

ماہی کیا کررہی ہو تم اس عمر میں بھاگنا دوڑنا ٹھیک نہیں ہے تمہارے لیے ہڑی ٹوٹ گئی تو..

اسے سیدھی کھڑے کرتے ہوۓ شرارت سے بولی

.. اس عمر سے کیا مطلب ہے تمہارا ہم تمہیں بڈھے نظر آتے ہیں.. مت بھولوں ایک دو سال چھوٹے ہیں تم سے ہم

وہ. جتاتے ہوۓ بولی

ہاں لیکن تم نے اپنے بیٹے کو دیکھا ہے اپنی عمر سے سو سال بڑا ہے اتنے بڑے بیٹے کی ماں بڈھی ہی ہوئی نا
وہ سہان کی جانب دیکھ کر بولی سہان کی ہنسی غصے میں بدل گئی

یہ سب تمہاری وجہ سے تم نے اسے بگاڑا ہے… امی نہیں کہتا ہمیں……. کوئی بات نہیں مانتا ہماری………کپڑے اپنی مرضی سے پہنتا ہے اور بال یہ بال دیکھو زرا ایسا لگتا ہے مور کے پنکھ لگاے ہیں. پتہ نہیں کیون ہر بات میں بس.. کوول. کوول ..کوول

وہ. منہ بناتے ہوۓ بولی

تم تو آج بچو گے نہیں ہمارے ہاتھوں سے یہ جو دیواریں تم نے خراب کی ہے نا اس کے لیے تو پٹوگے تم ہم سے لیکن ابھی ہمیں کپڑے بدلنے ہیں اس لیے تب تک تم اپنی خیر منا لو

وہ دوبارہ سہان کی جانب رخ کرکے بولی اور اندر چلی گئی

روشنی کیا کوئی ٹیکنیک نہیں ہے جس سے مام بدلی جاسکے

وہ بہت سنجیدگی سے بولا

شٹ اپ سہان…. مام یے وہ تمہاری

یو شٹ اپ….. تم بھی تو اپنی مام کے لیے یہ بولتی ہو
وہ اس کی بات کاٹ کر بولا تو وہ چور سی ہوگئی

اوہ ہاں ….سوری
وہ شرمندہ ہوکر بوی

تو….
سہان نے اس کی جانب دیکھا

کیا تو….
وہ آنکھیں سکوڑے پوچھنے لگی

کوئی ٹیکنیک ہے یا نہیں

وہ بہت غور سے دیکھ کر بولا

مجھے پتہ ہوتا تو خود نہیں کرلیتی….

وہ. چڑ کر بولی اور اپنے روم. کی جانب بڑھی سہان نے انکھیں گھمائی