Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 40

سنایا خان

روشنی کسی کے آواز دینے پر اس طرف چلی گئی جہاں اس کے سب ہی فرینڈس پہلے سے موجود تھے ماہی اکیلی ہی وہاں کھڑی رہی کسی کو تو وہ جانتی نہیں تھی جس سے بات کرتی نا ہی کوئ اسے جانتا تھا بہت ہی خوبصورتی سے اس ہال کو سجایا گیا تھا مدھم روشنی اور میوزک کی آواز نے ماحول کو مزید پرفشاں بنا یا ہوا تھا وہ بے دھیانی میں آگے کی جانب بڑھنے لگی نظر کہیں اور زہن کہیں اور تھا اس کا ہاتھ ایک فلاور پاٹ سے ٹچ ہوا تو وہ فلاور پاٹ ٹیبل سے گر گیا لیکن زمین پر گرنے سے پہلے ہی کسی کے ہاتھ نے اسے تھام لیا ماہی نے سکون کی سانس لی اور سیدھی ہوئی

دھیان سے…..
کبھی کبھی ہماری غلطیوں سے کچھ ایسی چیزیں ٹوٹ جاتی ہے جو دوبارہ نہیں جڑتی

آہل نے فلاور پاٹ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا ماہی اسے حیرت اور بے یقینی سے دیکھنے لگی ابھی تو پہلی بار کا ملنا اسے ہضم نہیں ہوا تھا اور دوبارہ اس سے سامنہ ہوگیا تھا بلیک ڈنر سوٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح سنجیدہ چہرہ لیے اسے دیکھ رہا تھا نا اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ تھا نا ماہی کہ پاس …. آہل اسے دیکھتے ہوۓ اس کے سائڈ سے ہوکر آگے بڑھ گیا

ماہی نے رخ دوسری جانب کرلیا تاکہ کوئی اسے روتے ہوۓ نا دیکھ سکے

یا اللہ ……یہ سب کیوں ہورہا ہے ہمارے ساتھ…. ہم اتنی مشکل سے ان سے دور اۓ تھے آپ نے دوبارہ انہیں ہماری زندگی میں بھیج دیا. اب ہم کیا کریں کیسے انکا سامنہ کریں کیسے ان کے سوالوں کا جواب دیں کیا کریں ہم…

ایک دم سے ایک خیال اس کے زہن مین آیا تو وہ گھبرا کر سیدھی ہوئی

اگر انہیں سہان کے بارے میں پتہ چل گیا تو ….نہیں.. چاہے جو بھی ہو انہیں سہان کے بارے میں پتہ نہیں چلنے دینگے ہم

وہ پلٹ کر روشنی کو ڈھونڈنے لگی



ماہی روشنی کو ڈھونڈرہی تھی تب وہ اسے سامنے ہی آہل سے بات کرتی ہوئی دکھائی دی دونوں فورملی ایک دوسرے سے بات کررہے تھے

سہان کیسا ہے

ٹھیک ہےکل سے بار بار پوچھ رہا ہے کہ آپ کب ائینگے اب آپ کو آنا ہی ہوگا

اہل اس کی بات پر مسکرایا

بہت پیارا بیٹا آپ کا

اہل نے جواب دیا تو روشی حیران ہوکر اسے دیکھنے لگی

میرا………… نہیں سر آپ کو. کوئی غلط فہمی ہوئی ہے وہ…..

روشنی…….

وہ آہل کو کچھ کہتی اس کے پہلے ہی ماہی نے اسے آواز دے کر روکا

یہاں آؤ ہمیں تم سے بات کرنی ہے

وہ آہل کو دیکھتے ہوۓ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی

کیا ہوا ماہی…….

روشنی نے حیرت سے پوچھا

روشنی..

.وہ دوسری جانب دیکھنے لگی

کیا ہوا کیوں پریشان ہو تم

روشنی اسے پریشان دیکھ کر بولی

وہ…. اہل جی…..

آہل…. یہاں کہاں ہے

روشنی نے اس کی بات کاٹ کر کہا تو ماہی نے پہلء اسے پھر اہل کی جانب دیکھنے لگی روشنی کچھ سیکنڈ میں ہی اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ گئی

وہ آہل ہے سہان کے فادر……
روشنی نے حیرت سے کہا تو ماہی نے اثبات میں سر ہلا دیا

ماہی یہ. تم کیا کہہ رہی ہو

ہم سچ کہہ رہے ہیں روشنی ہم نے لاکھ کوشش کی لیکن ان سے ہمارا دوبارہ سامنا ہو ہی گیا ہم اتنی دور اگۓ لیکن قسمت نے ہمیں یہاں بھی ان سے ملا دیا… ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا

شاید یہ خدا کی مرضی ہے اسلیے تو تمہارے لاکھ چاہنے کے باوجود وہ واپس اگئے تیری لائف میں …تونے لاکھ کوشش کی ان سے دور رہنے کی لیکن دیکھ قسمت بار بار انہیں تجھ سے جوڑتی رہی بار بار سہان سے ملواتی رہی

روشنی نے رک کر کہا

سہان……

روشنی…. ہم نہیں چاہتے کہ آہل جی کو سہان کہ بارے میں پتہ چلے …وہ سوچتے ہیں سہان تمہارا بیٹا ہے… انہیں مت بتانا کہ سچ کیا ہے

ماہی نے سہان کا نام آتے ہی جلدی سے کہا

لیکن ماہی یہ سہی نہیں ہے وہ ان کا بیٹا تم کیسے ان سے چھپا سکتی ہو ان کا حق ہے سہان پہ یہ غلط ہوگا

نہیں روشنی اگر انہیں یہ بات پتہ چل گئی تو….. تو وہ سہان کو ہم. سے چھین لے گے……… ہم سہان کے بغیرنہیں رہ سکتے روشنی ہم مر جاۓ گے اس کے بغیر ہم اپنا بیٹا انہیں نہیں دے سکتے

وہ روشنی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولی

اوکے اوکے… ڈونٹ وری میں انہیں نہیں پتہ چلنے دونگی ٹھیک ہے

اس سے پہلے کہ وہ رونے لگی روشنی نے اس کی بات ماننا سہی سمجھا

روشنی ہم اور یہاں رہنا چاہتے کیا ہم جائیں گھر

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولی

ہاں چلو میں بھی چلتی ہوں…..

تم کیوں…

میرا بھی دل نہیں کررہا رکنے کو چلو چلتے ہیں

روشنی بھی اسے اداس لگی تو اس نے مزید کچھ نہیں کہا اور اس کے ساتھ باہر نکل گئی آہل نے دور سے ہی دونوں کو جاتے ہوۓ دیکھا

کمال کی بات ہے تمہیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا….اپنی زندگی میں خوش ہو انجوۓ کررہی ہوں پارٹیز اٹینڈ کررہی ہو اور یہاں میں ایک ایک پل صرف تمہیں بھولنے کی کوشش کررہا ہوں… میری لائف میں اندھیرا کرکے مجھے تنہا بےسکون کرکے کتنے سکون سے جی رہی ہو تم ایک بار بھی تمہیں خیال نہیں آیا میرا کہ میں کس حال میں ہوں تمہارے بنا…. لیکن اب میری باری ہے اب میں تمہیں سکون سے نہیں رہنے دونگا مجھ سے دور ہوکر تم نے مجھے بےسکون کیا اور تمہاری زندگی میں دخل اندازی کرکے میں تمہیں بے سکون کرونگا

آہل اسے دیکھ کر نفرت سے سوچنے لگا


*/

کافی دیر سے دروازے کی بیل. بج رہی تھی ماہی باتھروم میں نہا رہی تھی جلدی سے باہر آئ بلیک لیگن اور شارٹ سی ٹی شرٹ پہنے ہوۓ وہ جانتی تھی ملازمہ ہی ہوگی جو مارکیٹ سے واپس ائی ہوگی اسلیے جلدی سے باہر نکل کر اسی حالت میں دروازہ کھول دیا لیکن دروازہ کھولتے ہی اسے بری طرح کرنٹ لگا سامنے آہل کھڑا تھا اور اسے اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھ رہا تھا ماہی نے جھٹ سے دروازہ بند کرلیا اور اپنی بیوقوفی پر خود کو کوسا جلدی سے روم میں ائی اور اس کا اوپری جیکٹ کم کرتی پہن کر دوپٹہ لیا اور آکر دروازہ. کھولا اتنی دیر. میں آہل نے ایک بار بھی بیل نہیں بجائی وہ شرمندہ سی ہوکر دروازہ کھول کر سائڈ میں ہوگئی آہل اندر آیا تو اس نے دروازہ بند کیا گھر میں کوئی نہیں تھا سوا اس کے روشنی دادی کے ساتھ چلی گئی تھی اور سہان سکول میں تھا ماہی اس کے سکولمکی وجہ سے ہی ان لوگوں کے ساتھ نہیں گئی تھی

آپ یہاں…….

آہل نے کوئی بات نہیں کی تو اسے ہی بات شروع کرنی پڑی

تم سے ملنے نہیں آیا ہوں…… سہان سے ملنا ہے مجھے

وہ. صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا

کیوں….

تم کون ہو کیوں پوچھنے والی….

وہ. اس کی جانب دیکھ کر بولا

ہم اس کی…… ہم اس کی انٹی ہے اور جب تک روشنی انڈیا سے نہیں اجاتی تب تک وہ ہماری زمہ داری ہے

آے تھنک سہان بیٹر جانتا ہے اسے کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں وہ تم سے زیادہ سمجھدار ہے

اا کی بات پر. ماہی خاموش ہوگئی

سہان گھر پر نہیں ہے…….. اور اسے آنے میں دیر لگے گی

اس نے کچھ دیر رک کر کہا تب ہی سہان اندر آیا اور آہل کو دیکھ کر ماہی کینبجاۓ اس کی پاس اکر اس کے گلے لگ گیا

آپ کب آۓ…….

بس ابھی ابھی.اینڈ آۓ ہیو سمتھنگ فور یو…
آہل نے اہمی جیب سے چاکلیٹ نکال کر کہا

واؤ چاکلیٹس..تھینکیو بڈی

سہان نے خوش ہوکر اس کا گال. پر پیار کیا

سہان چلو پہلے کپڑے چینج کرلو ….

ماہی نے جلدی سے کہا تو آہل نے اس کی جانب دیکھا

اوکے…. بڈی میں ابھی کپڑے چینج کرکے آتا ہوں پھر ہم دونوں ساتھ میں لنچ کرینگے اور بہت سارے گیمس کھیلینگے

سہان نے آہل سے کہا اور ماہی کے ساتھ اندر چلا. گیا

سہان ہماری بات سنو بیٹا

ماہی نے اس کے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوۓ کہا وہ اس کی جانب غور سے دیکھنے لگا

تم نے ہم سے کہا تھا کہ تم ہمیں اے ایم بلاؤ گے

ہاں لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کو کچھ بھی اچھا لگتا ہے

ہاں لیکن اب ہم ایک گیم کھیلینگے جس میں تم ہمیں کبھی مام نہیں بلاؤگے صرف اے ایم بلاؤ گے کسی کے بھی سامنے…… اور اگر تم نے ہمیں مام بلایا تو تم ہار جاؤگے…..

ماہی کو اور کوئی راستی سجھائی نہیں دیا تو اس نے یہ راستہ. نکالا

اوکے….

سہان نے معصومیت سے کہا

اور ہمارا سیکریٹ ہے آپ کسی کو نہیں بتاؤگے اوکے

ماہی نے اسے سمجھا کر کہا

اوکے….

//////