No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
قسط 8
کیا ہوا ماہی……….. آپ کچھ پریشان لگ رہی ہے.………
.
وہ خاموشی سے سب کے درمیان بیٹھی تھی پھر اٹھ کر کچن میں اگئ تو رائمہ بھی اس کے پیچھے آئی
نہیں آپی………….. ایسی کوئی بات نہیں ہے
ماہی ہم جانتے ہے آہل زرا سخت مزاج ہے ……..چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ کر جاتے ہیں.……. لیکن وہ دل کے برے نہیں ہے اسلیے اپ ان کی کسی بھی بات کو دل سے لگا کر اداس نا ہوں
رائمہ سمجھاتے ہوئے بولی
نہیں آپی …….ایسی کوئ بھی بات نہیں ہے..…… آپ پریشان نا ہو
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی
.
ٹھیک ہے..……… لیکن اگر ایسی کوئی بات ہو بھی تو اپ ہمیں بتائیں ہم ان کی خبر لینگے
اس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ماہی ہنس دی
اپ بہت اچھی ہے آپی……
ماہی اس کے گلے لگتے ہوئے بولی
ہم جانتے ہیں وہ آپ کے بھائی ہے آپ کو ان میں اچھائی ہی نظر ائے گی لیکن آپ کو نہیں پتا وہ تو اپ سب کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں
وہ بس سوچ کر رہ گئی
……………………………
.
وہ روم میں ہی صوفے پر بیٹھا تھا ملازم نے اس کے آگے ناشتہ رکھا
وھاٹ دا ہیل ……..
اس نے سینڈوچ لینے ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب اس پے لگی پودینے کی چٹنی دیکھ کر غصے سے بولا
کیا ہے یہ سب نانسینس.………
اس نے ملازم کو ڈانٹا
سر اج ناشتہ ماہی میڈم نے بنایا ہے…..
اس نے نظریں جھکاے صفائی دی
وھاٹ……. بلاؤ اسے
ملازم نے ماہی کو بلایا
جی کہیے…..کیوں بلایا ہمیں
اس نے بنا اس کی جانب دیکھے دوسری طرف رخ کیے کہا یہ صبح والی بات پر ناراضگی کا اظہار تھا
کیا ہے یہ.………
اس نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے دبے غصے سے کہا
پودینے کی چٹنی ہے………….
سیدھا سا جواب ملا
آہل نے جھلا کر انکھیں بند کی
کیوں ڈالی ہے اس پر …..
کھانے کے لیے………..
بڑی معصومیت سے جواب دیا
آہل نے اٹھ کر کھڑا ہوا
تمہیں کیا ضرورت تھی میرے لیے ناشتہ بنانے کی…………… سینڈوچ کے ساتھ کون پودینے کی چٹنی کھاتا ہے.…………. اتنی بھی سمجھ نہیں ہی تمہیں….
اگر آپ کو نہیں کھانا تو نا کھائے ..……..ہم نے تو سب کے لئے ناشتہ بنایا تھا اس لیے آپ کے لئے بھی بنا لیا تاکہ کسی کو ایسا نا لگے کہ ہمارے درمیان کوئی پریشانی ہے…………… لیکن اگر آپ کو نہیں پسند تو ٹھیک ہے آج کے بعد نہیں بناینگے آپ کے لیے
دھیٹس گڈ …………آئیندہ ایسا بیوقوفانہ ناشتہ میرے لیے نا ہی بناؤ تو بہتر ہے
اہل دوبارہ بیٹھتے ہوئے کہا
ایک بار پھر سوچ لیجیے ہمارے ہاتھ کا کھانا قسمت والوں کو ہی ملتا ہے
اس کی بات پر آہل نے اسے حیرت سے دیکھا
جسٹ گوووووو……..
وہ دانت پیستے ہوئے بولا دھیرے سے بولا
ہائے آہل……….
ماہی. پلٹ کر جانے لگی تھی جب تنوی اندر داخل ہوئی نیوی بلیو رنگ کا گھٹنے کے اور تک ٹاپ جس کی آستین نہیں تھی اور بلیو ہی جینس پہنے کھلے بالوں کو نیچے سے کرل کیا ہو میک اپ اور بڑے بڑے ایئر نگ پہنے اندر داخل ہوئی
ہائے تنوی…..
ماہی پر ایک نظر ڈال کر اس کی جانب بڑھا
تم یہاں……
ہاں وہ میں کچھ دن کے لیے مام ڈیڈ کے پاس جا رہی تھا شام کی فلائٹ ہے سوچا مل لوں تم سے…..
اس نے ماہی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا
تنوی جی…… آئیے نا ہم اپ کو اپنے ہاتھوں کو بنا ناشتہ کھلاتے ہیں
وہ خود ہی بولی آہل اور تنوی دونوں نے حیرت سے دیکھا
نہیں میں ناشتہ کرکے آئی ہوں
ارے آپ ایک بار ہمارے ہاتھ کا بنا کھا کر تو دیکھیے ا………نگلیاں چاٹتی رہ جائنگی آپ
وہ چٹکی بجاتے ہویے بولی آہل نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا
جانتی ہو یہ کون ہے
اتنا تو پتا ہے کہ آپ کی دوست ہے اور اپ کی دوست مطلب ہماری دوست
ماہی نے خوشدلی سے کہا
میں اور تنوی بہت جلد شادی کرنے والے ہیں
وہ بولا تنوی ہلکا سا مسکرائی
ارے واہ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے تب تو یہ ہماری پکی والی دوست ہوئی جو ہماری مصیبت اپنے سر لے گی
وھاٹ…..
آہل نے حیرت سے بولا
وہ دانت زبان تلے دبا گئی
ائے نا تنوی جی…… ناشتہ کرتے ہیں
وہ تقریباً کھینچتی ہوئی اسے اپنے ساتھ لے گئی
آہل حیرت سے اسے دیکھتا رہا
عجیب لڑکی ہے …….
اس نے دل میں سوچا
…..
…………………..
اچھی لڑکی ہے…….
آہل خود تنوی کو چھوڑنے جارہا تھا اپنی گاڑی میں
کیا…….
وہ سمجھ نہیں پایا
ماہی………. اچھی لڑکی ہے وہ…….. حیرت کی بات ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اس بات سے جب تم نے مجھ سے شادی کی بات کی اس کے برتاؤ میں کوئی بیزارگی کوئی ناراضگی نہیں
وہ سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی
ایسا اسلیے کیونکہ اسے مجھ سے کوئی مطلب نہیں……………. اسے پیسے سے مطلب تھا جو اسے مل چکے ہیں..…… اس کے بعد میں کچھ بھی کروں اسے فرق نہیں پڑتا
وہ سنجیدگی سے بولا کہیں نا کہیں اسے ماہی کی اتنی بے پرواہی بری لگی تھی لیکن وہ مجسوس نہیں کرنا چاہتا تھا
آہل ……. پیسے کے لیے یہ سب کرنا ..………مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایسی ہے مطلب مجھے نہیں لگتا کہ پیسے کے لالچ میں اس نے شادی کی ہوگی ہو سکتا ہے کوئی وجہ ہوگی اتنی سینس ایبل نہیں لگتی وہ……….
وہ سوچتے ہویے بولی
جو جیسا نظر آتا ہے ویسا ہوتا نہیں تنوی… یہ تو حقیقت ہے کہ اس نے ہیسے کے لیے ہی مجھ سے شادی کی ہے اب وہ معصوم ہے یا خود کو معصوم دکھا رہی ہے میں نہیں جانتا
.
وہ بولا
شاید….. خیر جو بھی ہے کم سے کم آگے جا کر کوئی مشکل تو نہیں ہوگی
تنوی نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا
ہاں…. ویسے فی الحال تم یوں اچانک کیوں جارہی ہو
اس نے بات بدلی
وہ مام اینڈ کافی دن سے کہہ رہے ہے آنے کے لیے اسلیے سوچا کچھ دن ….
اس نے بات ادھودی چھوڈ دی
رائٹ…….. تم ریلیکس ہو جاؤ گی
وہ بولا تنوی کو لگا تھا اسے روکے گا وہ اداس ہوگئی
…….……….
…………………..……
………………….………………
……………………………..…………..…..
واقعی بہت لزیز کھانا بنایا ہے بیٹا تم نے خوش رہو
ثریا بیگم نے پیار سے کہا اج پہلی بار اس نے سب کے لیے ناشتہ اور لنچ بنایا تھا سب نے ہی بے حد پسند کیا اور اس کی تعریف کی
آپی ……… آپ کو کیسا لگا
رائمہ اب تک خاموش بیٹھی تھی ماہی نے خود سے پوچھ لیا
بہت ہی ٹیسٹی…… ہم نے تو پہلی بار اتنا اچھا کھانا کھایا
وہ مسکراتے ہوئے بولی
یہ. لو بیٹا تمہارا انعام…….
دادی نے ایک باکس ملازم سے منگوایا تھا اس کی جانب بڑھاتے ہوۓ بولیں
نہیں دادی جی…….. اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے
وہ انکار کرتے ہوۓ بولی
ہمارے یہاں بہو پہلی دفعہ کچھ بناتی ہے تو اسے کوئی تحفہ دیا رکھ لیجیے
انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ماہی منع نہیں کر پائی
………………………
آہل گھر آیا تو وہ روم میں موجود تھی صوفے پر بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی
کیا ضرورت تھی تمہیں تنوی کے آگے اتنا ڈرامہ کرنے کی
کیا مطلب……. ہم نے کون سا ڈرامہ کیا آہل جی
وہ کھڑی ہوکر معصومیت سے بولی
میں اس سے شادی کرنے والا ہوں اس بات سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا
وہ سنجیدگی سے بولا
آہل جی پہلی بات ہماری بڑی امی کہتی ہے مہمان اللّہ کی رحمت بن کر آتے ہیں تو چاہے وہ دشمن کیوں نا ہو ہم انھیں پریشان کرکے اللّہ کو تو ناراض نہیں کر سکتے نا دوسری بات ہمیں کیوں فرق پڑے گا اس بات سے بھلا ہماری ان سے کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ ہمیں تو ان کی فکر ہے کہ وہ آپ کو ساری زندگی کیسے برداشت کر پائیگی
اخری جملہ وہ بے ساختہ کہہ گئی
وھاٹ …..کیا کہا تم نے
آہل غصے سے اس کی جانب بڑھا
ک…. ک… ک.. کچھ نہیں
وہ گھبرا کر پیچھے پیچھے ہوتی گئی
تم اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھو سمجھی ورنہ اگر میں کنٹرول کے باہر ہو گیا نا تو بہت پچھتاؤگی
وہ غصے سے کہہ کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا
جلاد جن….
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہوئی دوبارہ مطالعہ کرنے لگی
وھاٹ دا ہیل …….
آہل نے کپڑے نکالنے کے لیے وارڑروب کھولی تو اسے غصہ آگیا کیونکہ اس کے کپڑوں کی ترتیب پوری طرح سے بدل دی گئی تھی اور ایک سائڈ میں ماہی کے کپڑے رکھے تھے
ماہی……
اس کی ایک آواز ہی کافی تھی ماہی اپنی جگہ گھبرا کر کھڑی ہوئی اور اندر ائی
کیا ہوا……
کیا ہے یہ سب….
وہ زور سے وارڈروب کا ڈور سلائڈ کرکے کھولتے ہوئے بولا
یہ ہمارے کپڑے ہیں..….
معصوم سا جواب آ یا جس نے آہل کو مزید تپا دیا
تم نے اپنے کپڑے یہاں کیوں رکھے میرے کپڑوں کے ساتھ…….
اب ہم اس روم میں رہتے ہیں تو ہمارے کپڑے بھی یہیں رہے گے باہر تو رکھ نہیں سکتے….
جسٹ شٹ اپ ماہی …..ہٹاؤ یہ سب
وہ غصے سے بولا
ہم نہیں ہٹائیں گے……… آپ بھول رہے ہیں ہم اب آپ کی بیوی ہے……. ماہی شیخ رضا ابراہیم ..……….چھ مہینے کے لیے ہی سہی لیکن اس روم پر ہمارا بھی پورا حق ہے ..……..اور اگر آپ نے ہمیں ایسے ہر چیز کے لئے پریشان کرنا اور دانٹنا بند نہیں کیا تو ہم سب سے جاکر کہہ دینگے کانٹریکٹ کے بارے میں…
وہ ساری ہمت کرکے پہلی بار اس طرح بولی تھی آہل اسے مسلسل دیکھتا رہا اس کی آنکھوں میں غصہ تھا…. حیرت تھی……اندازہ لگانا مشکل تھا
آہل نے پہلے دھیرے سے اسکا ہاتھ پکڑا اور پھر ایکدم سے پیچھے موڑ دیا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا اچانک حملے پر ماہی درد سے چینخ پڑی
مجھے یہ کانٹریکِ والی دھمکی آیندہ مت دینا بس عمل کرکے دیکھنا کہ اس کہ بعد میں کیا کرتا ہوں اور یاد رکھنا میں یا مجھ سے جڑی کسی بھی چیز پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے تم یہاں ہو جس کے لیے میں نے تمہیں پے کیا ہے تمہاری منہ مانگی رقم دی ہے ہاں پیسے میں کمی محسوس ہو بتا دینا بس اور مل جاینگے بس اتنا حق ہے تمہیں …….لیکن یہ رشتے …حق..… ادھیکار کی باتیں مجھ سے مت کرنا
وہ اس کے چہرے پر نظریں گڑائے نفرت سے بولا ماہی کے چہرے پر درد کے واضح تاثرات تھے آہل کی باتوں سے اس کا دل ریزہ ریزہ ہو رہا تھا وہ بھیگی پلکوں سے اسے خفا ہوکر دیکھ رہی تھی
آہل جی ہمیں درد ہورہا ہے
جانے کیا تھا اس کے لہجے میں جو آہل کو چونکا گیا اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی پھر اس کا ہاتھ آزاد کرکے وہاں سے باہر نکل گیا
کاش کے ہم اپ کو آپ کی باتوں کو جواب دے سکتے بتا سکتے کہ ہم مجبور ہے…
