Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 20
سنایا خان

ماہی لان میں ٹہلتے ہوے مسلسل اہل کے بارے میں سوچ رہی تھی آہل اس سے چاہے لاکھ نفرت کرلے لیکن وہ اس سے چاہ کر بھی نفرت نہیں کرسکتی تھی پہلے تو وہ آہل سے بدلہ لیتی تھی اسے جواب دیتی تھی اس سے لڑ لیتی تھی لیکن اب تو ایسا کرنا اس کے لیے مشکل سے زیادہ مشکل تھا

ہیلو سینوریٹا………..

مہیر نے اس کے سامنے اکر کہا تو وہ سوچوں کی دنیا سے باہر ائی اور مسکرائی

آپ اتنی گم سم گم سم کیوں ہے کیا سوچ رہی ہیں……

کچھ نہیں بس ایسے ہی………

چلیے میں ابھی اپ کی ٹینشن کو ختم کردیتا ہوں

اس نے چٹکی بجا کر کہا ماہی ہنستے ہوے اسے دیکھنے لگی

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر جھولے پر لے آیا اور اسے بٹھا کر زور سے جھولا دینا شروع کیا

مہیر جی……… ہمیں جھولے سے بہت ڈر لگتا ہے پلیز رک جایئے

وہ خوف سے آنکھیں پھیلاے بولی

بس تھوڑی دیر کی بات ہے اس کے بعد آپ کے ڈر اور اداسی دونوں ختم

وہ اس کی باتوں کو خاطر میں نا لاتے ہوۓ اسے لگاتار زور سے جھولا دینے لگا ساتھ باتیں بھی کرتا رہا ماہی کچھ دیر تو بہت ڈرتی رہی اسے روکتی رہی پھر ہنستے ہوے جھولے کو انجواے کرنے لگی کتنی ہی دیر تک جب اسے آہل کی گاڑی آتی دکھائی دی تو اس نے مہیر سے جھولا روکنے کو کہا جھولا رکا تو وہ ہنستے ہوۓ اتری لیکن کھڑی نہیں رہ پا رہی تھی مسلسل جھولنے سے اس کا سر چکرا رہا تھا وہ گرنے کوتھی تو مہیر نے اسے سنبھال لیا

آپ ٹھیک تو ہے

مہیر نے اسے دیکھتے ہوے پوچھا

بہت چکر ارہے ہیں ہمیں

وہ اپنا سر تھامے بولی آہل گاڑی سے اتر کر اندر جانے کی بجاے انھیں دیکھ کر ان کی طرف آیا

کیا ہورہا ہے یہ سب……..

ماہی کا ہاتھ مہیر کے شانے پر تھا اور مہیر نے ایک ہاتھ اس کے گرد باندھے اسے سنبھالا ہوا تھا ماہی کو مہیر کے اتنے قریب دیکھ کر وہ ناگواری سے بولا

آہل ….ماہی بھابھی کو جھولے کی وجہ سے چکر ارہے ہیں

وہ آہل کی ناگواری کو محسوس کرکے بولاماہی سنبھل کر سیدھی کھڑی ہوئی

تو کیا ضرورت تھی ایسا کرنے کی بچی ہو کیا چھوٹی سی ……..

وہ ماہی کو دیکھ کر بولا ماہی نے اسے غصے سے دیکھ کر نظریں پھیر لیں

اگر بچکانا حرکتیں ختم ہوگئی ہو تو اب چلو یہاں سے

وہ ماہی کو کہہ کر خود اندر کی جانب بڑھ گیا ماہی نے اسے غصے سے دیکھا

اور اس کے پیچھے چل دی


ہیلو…..
رائمہ نے فون کان سے لگا کر کہا

کیسی ہے آپ…….
دانش کی آواز سن کر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی

ہم. ٹھیک ہے…….

وہ بس اتنا کہہ کر پھر خاموش ہوگئی

میں نے امی کو آپ کے بارے میں بتادیا….

کیا….
رائمہ حیرت سے بولی

ہاں امی نے پوچھا کہ کیا مجھے کوئی لڑکی پسند ہے تو میں نے اپکا نام بتا دیا

پھر کیا کہا امی نے………

بہت خوش ہوئی کہا کی آپ انھیں بھی بہت پسند ہے
اس نے سچ بات بتائی

جھوٹ …ہم جانتے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا

رائمہ. کو اس کی بات پر یقین نا آیا

سچ رائمہ انھیں پہلے حیرت ضرور ہوئی لیکن انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ پاپا کو بھی کوئی اعتراض نہیں اس لیے انھوں نے کہا ہے کہ آپ کہ ڈیڈ سے بات کرینگے لیکن میں انھیں کیسے بتاتا کہ اعتراض تو اپ کو ہے پر کوئی بات نہیں جب آپ سے آپ کی مرضی پوچھی جاے تو آپ انکار کردینا….

اس نے تفصیل. بتائی

اور ہم انکار نا کریں تو

رائمہ دھیرے بولی دانش کچھ پل. خاموش رہا

میں کہیں خوشی سے مر نا جاؤں

وہ گہری آہ بھرتے ہوے بولا

اوہو.. تب تو ہمیں انکار ہی کرنا ہوگا

وہ. ہنسی روکے بولی

ارے نہیں ایسا مت کریے گا میں تو مزاق کر رہا تھا

وہ گھبرا کر بولا رائمہ ہنسی روک نہیں پائی

بڑی مشکل سے تو اس انکار کو اقرار میں بدلہ ہے بس اب جلدی سے میری زندگی میں شامل ہوکر مجھے مکمل کردیں اس کے بعد …..

بس بس بس…. جاگتے میں خواب دیکھنا بند کردیں اور سو جایے

رائمہ. نے بیچ میں ٹوک. کر کہا

چلیے ٹھیک ہے اور کچھ دن انتطار کرلیتے ہییں پھر تو آپ پاس ہی ہونگی جی بھر کے باتیں کرتے رہینگے

دانش اس کی نیند کا خیال. کرکے بولا

رائمہ نے کال. بند کردی اور مسکراتے ہوے لیٹ گئی