Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 9) Part - 2

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

وہ جب دروازے سے واپس پلٹی تو آنسو روکنے کی کوشش میں بُری طرح ہانپ رہی تھی۔۔ دوپٹہ ڈھلک کر ہاتھوں پر گرا تھا اور آنکھیں۔۔ آنکھیں سرخ متورم ہورہی تھیں۔۔ دور کھڑا ولی بہت بری طرح چونکا۔۔ وہ کیوں رو رہی تھی۔۔؟ کیا نفیس نے کچھ۔۔ اور سوچتے ہی اس کے دانت جم گۓ نظریں سپاٹ ہوگٸیں۔۔ نوراں اب کھڑی اسے سنبھال رہی تھی مگر امل سے سنبھلنا بہت مشکل ہورہا تھا۔۔ اس نے قدم اس کی جانب بڑھاۓ اور پھر کچھ سوچتا رک گیا۔۔ یوں اس کے پاس جانا بالکل بھی درست نہیں تھا۔۔ وہ بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر وہیں کھڑا رہ گیا۔ امل اب گہرے گہرے سانس لیتی خود کو نارمل کر کے اندر کی جانب جارہی تھی۔۔ وہ وہیں کھڑا رہا۔۔ جب تک وہ اندر داخل نہ ہوگٸ تب تک۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”امل۔۔۔ امل۔۔“

زمان اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوۓ تو وہ جیسے جھٹکا کھا کر اُٹھی۔۔ وہ انہی کپڑوں کے ساتھ بیڈ پر آڑی ترچھی لیٹی ہوٸ تھی۔۔ دوپٹہ بھی ایک جانب گرا ہوا تھا۔۔ آنکھیں رو رو کر سوجھی ہوٸ تھیں۔

اس نے جلدی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور بیڈ پر آدھا نیچے کو جھولتا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا۔۔

زمان نے اس کے کمرے کے لاٸٹ بورڈ پر ہاتھ مار کر لاٸٹ جلاٸ تو سارا کمرہ گویا روشنی میں نہا گیا۔ اس نے بے ساختہ آنکھیں چُندھیاٸیں۔۔

”کیا ہوگیا ہے میری بیٹی کو۔۔؟ زمانی کہہ رہی تھی کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسی لیۓ تم کمرے میں چلی آٸیں۔۔ کیا ہوا ہے۔۔؟ کوٸ بات ہوگٸ ہے کیا۔۔؟ کسی نے کچھ کہا ہے۔۔؟“

وہ اس کے ساتھ بیڈ پر آبیٹھے تو وہ جلدی سے مسکراٸ۔۔ پھر انہیں دیکھا۔

”نہیں آغا جان۔۔ بس۔۔ واقعی طبیعت خراب ہوگٸ تھی میری۔۔۔ عجیب لگ رہا تھا تو میں آگٸ کمرے۔۔“

”اچھا اچھا۔۔“ انہوں نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ ”بس سامیہ کو ہی دعوت دینی تھی تم نے۔۔؟ اور کوٸ دوست ہے تمہاری جو رہ گٸ ہو۔۔؟“

”نہیں بس۔۔ سامیہ ہی تھی۔۔“

”بس ایک دوست۔۔۔؟“ انہوں نے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا وہ مسکرا بھی نہیں سکی۔

”بس ایک ہی دوست ہے میری اور ہیں لیکن ان سے ایسا کوٸ رشتہ نہیں ہے۔۔“ اس نے کہا تو آواز کمزور تھی۔۔

”مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔ لیکن جب تم ڈھولکی کے لیۓ تیار ہورہی تھیں تب تو میں نے تمہیں بہت چہکتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔ بی جان میں کونسی بالیاں پہنوں۔۔ بی جان یہ سُوٹ ٹھیک رہے گا۔۔۔ بی جان یہ بی جان وہ۔۔ پھر ایک دم سے۔۔؟ کہیں میری بیٹی کو نظر تو نہیں لگ گٸ۔۔؟“

وہ آخر میں شفقت سے مسکراۓ تو اس کا دل چاہا دھاڑے مار کر رونا شروع کردے۔۔ مگر پھر مسکراتے ہوۓ اس نے چہرہ اٹھایا۔۔ آنکھوں میں آٸ نمی کو ضبط کے باوجود وہ نہیں روک پاٸ تھی۔۔

”آپ کی ہی لگی ہوگی نظر۔۔ آپ مجھے کہہ رہے تھے ناں کہ یہ کتھٸ والا سُوٹ نہ پہنوں کیونکہ میں اس میں بہت پیاری لگونگی۔۔ دیکھیں اب طبیعت خراب ہوگٸ ہے میری۔۔“

”ہو بھی سکتا ہے میری نظر لگی ہو۔۔ یہ رنگ واقعی بہت جچ رہا ہے تم پر میری پری۔۔ دھیان رکھا کرو اپنا۔۔ اب آرام کرو میں گرم دودھ بھجواتا ہوں نوراں کے ہاتھ۔۔ ہوں۔۔“

اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ اٹھے اور کمرے سے باہر نکل گۓ۔۔ اس نے رکے ہوۓ آنسوٶں کو بہنے دیا۔۔ دل بے تحاشہ بھاری ہورہا تھا اور چہرہ۔۔ چہرہ وہ باتیں یاد کر کے پھر سے سفید پڑتا جارہا تھا۔۔

اسے کچھ دن پہلے نگار بیگم کا خشک رویہ بھی یاد آیا۔۔ کیا ہوگیا تھا ایسا۔۔؟ کیا اس سے کچھ غلط ہوگیا تھا۔۔۔؟ لیکن کیا۔۔۔؟ اس نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا پھر کونسی ایسی بات تھی جس پر وہ دونوں اس طرح اس سے برتاٶ کر رہی تھیں۔۔

آنسو خشک ہوچکے تھے اور اب اس کے چہرے پر سوچ کی لکیریں پھیلی ہوٸ تھیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

ولی نے نماز پڑھ کر جاۓ نماز سمیٹا۔۔ ایسی نماز پڑھ کر تو دل پر اور بوجھ بڑھ جایا کرتا تھا جو بے روح ہوا کرتی تھیں۔۔ اس نے بیزاریت سے جاۓ نماز صوفے پر ڈالا اور پھر میکانکی انداز میں سنگھار میز کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔ خاکی پیکٹ اب تک ویسے ہی پڑا تھا۔۔ اس نے شیشی نکال کر اسپرے کیا تو چند لمحوں میں خوشبو نے سارے کمرے کا احاطہ کرلیا۔۔ اس نے پرفیوم واپس رکھ دیا۔۔ عجیب سی گھٹن بڑھنے لگی تھی کمرے میں۔۔ وہ اکتا کر باہر نکل آیا۔۔ رات کے اس ٹھنڈے پہر حویلی سنسان پڑی تھی۔۔ مہمان اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے اور گھر والے اپنے اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے۔ اس نے قدم لان کی جانب پھیرے۔۔ داخلی دروازے کے آگے بنے دو اسٹیپس پر وہ بیٹھی تھی۔۔ اس کی سیاہ چٹیا جھک کر ٹاٸلز کو چُھو رہی تھی۔۔ دوپٹہ کندھے پر لیۓ اس نے وہی کتھٸ سُوٹ پہن رکھا تھا۔۔ ولی اس کے ساتھ آرکا۔۔

”اتنی ٹھنڈ میں رات کے اس وقت کیا کررہی ہیں آپ۔۔؟“

بہت آہستہ سے پوچھا۔۔

ٹھنڈے زینوں پر بیٹھی لڑکی نے چونک کر چہرہ اٹھایا اور اونچے سے لڑکے کو دیکھا۔۔ لڑکا فکر مندی سے چہرہ اسکی جانب جھکاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔

”میں پوچھ رہا ہوں کہ اتنی ٹھنڈ میں کیوں بیٹھی ہیں یہاں۔۔۔؟ ویسے تو بڑی سمجھدار ہیں آپ۔۔ ذرا سی غفلت برتنے پر لوگوں کو بڑا ڈانٹتی ہیں اور اپنی کوٸ پرواہ نہیں ہے۔۔ اتنی ٹھنڈ میں کیا یہاں جمنا ہے آپ نے۔۔۔؟“

امل جو اسے دیکھ رہی تھی پل بھر میں خفا ہوٸ اور نظروں کو سامنے پھیرا۔۔ دُھند میں لپٹا سارا لان گویا دُھندلا گیا تھا۔۔ باقی رہ گۓ تھے تو دو مجسمے۔۔ لڑکی خفا سی سامنے دیکھ رہی تھی اور لڑکا بس ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔

”مجھے ڈسٹرب مت کریں آپ۔۔“

”مجھے لگتا ہے آپ آل ریڈی ڈسٹربڈ ہیں مجھے مزید کرنے کی کوٸ ضرورت نہیں ہے۔۔“

”جب ایسا لگتا ہے تو کیوں میرا سر کھا رہے ہیں جاٸیں۔۔ آپ تو کسی کی پرواہ نہیں کرتے ناں تو میرے لیۓ بھی پریشان نہ ہوں۔۔ میں ٹھنڈ میں جموں یا پھر دوزخ میں جلوں۔۔ آپ کو اس سے کوٸ فرق نہیں پڑنا چاہیۓ۔۔“

اس نے چِڑ کر کہا تو ولی نے چہرہ ذرا آگے کو کیا۔۔ اس کی خفا سی آنکھیں لان پر جمی تھیں۔۔ اور ان آنکھوں میں کچھ چمک رہا تھا۔۔ شاید آنسو۔۔ شاید کچھ اور۔۔

”آپ تو سچ مچ غصّے میں ہیں۔۔“

”ظاہر ہے رات کے اس پہر میں مزاق تو ہرگز نہیں کرونگی۔۔“

تڑخ کر کہا۔۔

”کیا ہوا ہے۔۔؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔؟“

اب کے اس نے سنجیدہ ہو کر کہا تو اس نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔

”کوٸ کچھ کہے گا اور امل سے بچ جاۓ گا ایسا ابھی کسی کتاب میں نہیں لکھا۔ اب آپ میرا مزید دماغ مت گُھماٸیں اور پلیز اکیلا چھوڑ دیں مجھے۔۔“

”چھوڑ دوں اکیلا۔۔؟ کوٸ مسٸلہ تو نہیں ہوگا؟“

سامنے دیکھتی لڑکی کو لگا کہ لڑکا مسکرایا تھا۔۔ اس نے ضبط سے گہرا سانس لے کر آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا۔۔

”نہیں ہوگا کوٸ مسٸلہ۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں اپنے مسٸلے نہیں سُلجھا سکتی۔۔ یا پھر مجھ میں اتنی اہلیت نہیں کہ میں خود کو سنبھال سکوں۔۔ بولیں کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ۔۔؟“

”میں نے کب کہا کہ آپ خود کو نہیں سنبھال سکتیں۔۔ میں تو بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ رہ لیں گی میرے بغیر۔۔۔؟“

”جی رہ لونگی آپ کے بغیر۔۔ ویسے بھی آپ ہوں یا نہ ہوں کیا فرق پڑتا ہے۔۔ جب مجھے اکیلے ہی رونا ہے اکیلے ہی سہنا ہے سب تو آپ کی کوٸ ضرورت ہے بھی نہیں مجھے۔۔ جاسکتے ہیں آپ۔“

لڑکی نے تلخی سے کہہ کر سر جھٹکا تھا۔۔

”آنسو صاف نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا حق نہیں رکھتا میں۔۔ ہاں آنسو دینے والوں کی چمڑی اُدھیڑ سکتا ہوں۔۔ بتاٸیں کس نے رُلایا ہے آپ کو۔۔؟“

”میں نے کب کہا کہ میں رورہی ہوں۔۔؟“

اس نے بہت سے آنسو اندر اتار کر چہرہ اٹھایا تو ولی مسکرایا۔ اف کیوں مسکراتا تھا وہ ایسے۔۔ امل کو لگتا تھا وہ پگھل جاۓ گی۔۔

”کہا تو میں نے بھی نہیں ہے۔۔ رونے کی بات تو آپ نے کی تھی۔۔ ویسے بھی جو آنسو باہر نہیں اندر گرتے ہیں وہ آنکھوں کو سرخ کرجایا کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ کی آنکھیں اس وقت کیسا منظر پیش کررہی ہیں۔۔؟“

وہ پلکیں جھپکاتی اٹھی تھی۔۔ سلک کی قمیص پھسل کر پیروں سے ذرا اوپر تک گر پڑی۔۔ سلور کی سکوں والی بالیاں ہلکورے لینے لگی تھیں۔۔ ولی نے اس کی حشر سامانیوں سے نگاہ چراٸ تھی۔۔

”بالکل ٹھیک ہیں میری آنکھیں۔۔ کیا ہوا ہے انہیں۔۔۔“ اس نے شہد رنگ آنکھیں اس پر جماٸیں تو ولی ہلکا سا ہنس دیا۔۔ پھر نفی میں سر ہلایا۔۔

”میں نے تو جسٹ ایک بات کہی تھی۔۔ کیا واقعی آپ نے اپنے اندر آنسو اتارے ہیں۔؟“

اف۔۔۔ امل کے کانوں سے دُھواں نکلنے لگا۔۔ یہ لڑکا ناں اب مار کھاۓ گا اس سے۔۔۔

”ولی۔۔۔ بہت شکریہ میرا سارا موڈ غارت کرنے کے لیۓ۔۔ اور بہت شکریہ آپ کی مدد کا کہ میں دو گھڑی ٹھیک سے یہاں بیٹھ بھی نہ سکی۔۔ بھاڑ میں جاٸیں آپ اور آپ کی ہمدردی۔۔“

”رو کیوں رہی تھیں آپ۔۔؟“

ولی کی بہت سنجیدہ آواز نے اس کے قدموں کو روک لیا تھا۔۔ اس نے پلٹ کر اس کا چہرہ دیکھا۔۔ وہ بہت غور سے اس کا چہرہ جانچ رہا تھا۔۔

”کب رو رہی تھی میں۔۔۔؟“

”امل۔۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ حویلی سے آنے کے بعد کیوں رو رہی تھیں آپ۔۔؟ کسی نے کہا ہے کچھ آپ سے۔۔۔؟“

اور جب وہ ایسے دیکھتا تھا تو لگتا تھا سب جان ہی لے گا۔۔

”وہ۔۔ وہ تاٸ نے بہت بری طرح بات کی تھی مجھ سے۔۔“

آہستہ سے کہا تو ولی نے اس کے جھکے سر کو افسوس سے دیکھا۔۔ انسان کبھی نہیں بدلا کرتے۔۔ کبھی نہیں۔۔

”تو اس میں رونے کی کیا بات تھی۔۔۔؟“ بہت نرم استفسار کیا۔۔

”انہوں نے کبھی مجھ سے ایسے بات نہیں کی ولی۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ انہوں نے مجھے بہت غلط کہا۔۔ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ انہیں کیا جواب دوں۔۔ اسی لیۓ۔۔“

”اسی لیۓ آپ رونے لگ گٸیں۔۔!“ اس نے اس کی بات کاٹی تو اس کا سر کچھ اور جھک گیا۔

”جاٸیں اپنے کمرے میں۔۔ اور آٸندہ اگر کوٸ آپ سے ایسے بات کرے تو سمجھا کریں کہ آگے ولی ہے اور انہیں سیدھا کردیا کریں۔۔ جیسی خوش اخلاقی کے ساتھ مجھ سے پیش آتی ہیں ان کے ساتھ بھی ذرا پیش آٸیں۔۔ سچ بتا رہا ہوں آٸندہ بھولے سے بھی بات نہیں کریں گے آپ کے سامنے۔۔“

وہ ایک دم زور سے ہنس پڑی تھی۔۔ ولی اسے دیکھتا مسکرایا۔۔

”آپ کو بُرا لگتا ہے میرا ایسے بات کرنا۔۔۔؟“ اب کے ہماری لڑکی آسمان پر دمکتے چاند کی مانند چمک رہی تھی۔۔

”نہیں جی۔۔ میں گھنٹوں گھنٹوں انجواۓ کرتا ہوں ان عزت دار لمحات کو۔۔“ وہ اور ہنس دی۔۔

”آٸندہ خیال رکھونگی۔۔“ اس نے مسکراہٹ دبا کر چہرہ اٹھایا۔۔ وہ اس سے لمبا تھا۔۔

”چلیں میں کوشش کرونگا یقین کرنے کی اس بات پر۔۔ آپ جاٸیں اپنے کمرے میں ٹھنڈ بہت بڑھ گٸ ہے باہر۔۔“

اس نے ہاتھوں کو لپیٹتے ہوۓ کہا تو امل کو سردی کا احساس ہوا۔۔ ولی کی موجودگی نے گویا ہر شے پر پردہ ڈال دیا تھا۔۔ ہر شے پسِ منظر میں چلی گٸ تھی۔۔ کیا کوٸ اتنا خوبصورت بھی ہوسکتا ہے۔۔؟ اس نے اسے اپنی آنکھوں میں قید کرتے ہوۓ سوچا پھر سنبھلی۔۔

”آپ بھی جاٸیں کمرے میں۔۔ باہر بہت ٹھنڈ ہورہی ہے۔۔“ اور پھر پلٹ گٸ۔۔ وہ وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر اس کے کمرے کے پار گم ہوجانے کے بعد اپنے کمرے میں چلا آیا۔۔ کتھٸ جوڑے والی لڑکی چلی گٸ تھی۔۔ مگر وہ اسے بھی اپنے ساتھ لے گٸ تھی۔۔

۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *