Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 8)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

وہ حویلی سے باہر نکلا تو اسکا فون بج اُٹھا۔ اس نے ایک پل کو رُک کر ہاتھ میں پکڑا فون نگاہوں کے سامنے کیا اور پھر نمبر دیکھ کر اسکے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔ سپاٹ سے چہرے پر شناساٸ اُبھری اور پھر وہ شناساٸ دھیرے سے مسکراہٹ میں ڈھلتی گٸ۔ وہ اب تک حویلی کے سرسبز سے دالان میں کھڑا تھا اور خنک سی ہوا سے اسکے بال ہلکے ہلکے اُڑ رہے تھے۔ اس نے مسکراتے ہوۓ کال کاٹ کر دوبارہ سے رابطہ ملایا اور پھر دور تک خاموشی میں ڈوبے لان کو دیکھتے دوسری طرف جاتے فون کو سنے گیا۔۔ ایک گھنٹی کے بعد ہی فون اُٹھا لیا گیا تھا۔

“تو پھر کیا فیصلہ کیا ہے تم نے۔۔؟”

اس نے بہت نرمی سے پوچھا تھا۔۔ اور پھر لبوں کو دانتوں تلے دباۓ اس نے آگے والے کی بات سُنی۔۔

“میں آپکو جنازہ دونگا ولی۔ میں کبھی آپ کو ڈس اون نہیں کرونگا۔ میں کبھی بھی آپ کو پہچاننے سے انکار نہیں کرونگا۔۔ کیونکہ ساری دنیا آپ کو چھوڑ سکتی ہے مگر زین۔۔ زین آپ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔۔”

معصوم آواز میں کہے گۓ چند جملوں نے جیسے اس پر جمی سالوں کی کثافت کو ایک ہاتھ مار کر جھاڑ دیا تھا۔ یہ احساس کہ کوٸ اسے بھی جنازہ دے گا۔۔ کوٸ ہوگا جو اس کے مرجانے پر اسکی لاش کو اون کرے گا۔۔ بھلے ہی وہ ایک چھوٹا سا بچّہ ہی کیوں نہ ہو اسے اس بات کا کوٸ تردد نہیں تھا۔۔ مہیب تاریکی میں ڈوبے دالان کو یاسیت سے دیکھتے وہ مسکرایا تھا۔۔

“تھینک یو زین۔۔ “

اور پھر فون کان سے ہٹا کر باہر کی جانب بڑھا۔ ڈیرہ اب تک بند ہوچکا ہوگا مگر وہ ایک نظر ادھر کے معاملات دیکھنا چاہتا تھا۔ ان تین دنوں کی مستقل غیر حاضری کے بعد پتہ نہیں اسے کیوں احساس ہورہا تھا کہ کوٸ اسکے پیچھے ہے۔ کوٸ اسے کھوج رہا ہے۔۔ اور کوٸ اسے کھودنے نکلا ہوا ہے۔۔ چلو جو بھی ہوگا وہ جا کر دیکھ لے گا۔ اسی پل اسے سامنے ہاشم کی اکارڈ اپنی جانب بڑھتی ہوٸ نظر آٸ۔ تیز ہیڈ لاٸٹس کے باعث اس نے آنکھیں چُندھیا کر اس پر ہاتھ کا چھجّا بنایا اور آنے والے کو بغور دیکھا۔ ہیڈ لاٸٹس ذرا مدھم ہوٸیں تو اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہاشم نظر آیا۔ اس نے گہرا سانس لے کر بیزاریت سے اسکی گاڑی کو دیکھا اور اپنی کار کی جانب بڑھ گیا۔۔ مگر اس سے پہلے ہی ہاشم کار کا دروازہ کھولتا اسکی جانب آچکا تھا۔۔

”کیا لینے آۓ تھے تم ہمارے گھر۔۔؟“

بغیر کسی تمہید کے اس نے درشتی سے پوچھا تو ولی کا دروازہ کھولتا ہاتھ رُکا۔۔ اونچے سے ہاشم کا قد بالکل اسکے برابر تھا۔۔

”یہ جاکر تم اپنے باپ سے پُوچھو۔۔ لیکن رُکو۔۔ تم نے یقیناً پوچھا ہوگا مگر تمہارے باپ نے تمہیں نہیں بتایا۔“

محظوظ ہو کر کہتا جیسے وہ اسکے موڈ سے حظ اُٹھا رہا تھا۔ ہاشم نے بمشکل اپنے اندر اُٹھتے غصّے کے اُبال کو دبایا تھا۔۔ پھر ذرا قریب آیا۔۔ اسکی نسواری آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھیں گاڑیں۔ ایک پل کی بھی جنبش نہیں تھی دونوں نظروں میں۔۔ وہ آگ اور کہر کا لمحہ تھا۔۔ بچپن سے جو آگ ان کے درمیان پک رہی تھی وہ اب بھی دونوں نگاہوں میں بخوبی دیکھی جاسکتی تھی۔

”میرے گھر آنے کی دوبارہ ہمّت مت کرنا نہیں تو اپنی ٹانگوں پر کبھی واپس نہیں جاسکو گے۔۔“

ولی نے مسکرا کر سر جھٹکا اور پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ اسکے لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی مگر آنکھیں۔۔ آنکھیں ہر گز بھی نہیں مسکرا رہی تھیں۔۔ ان سے ہر قسم کا تبسم مفقود تھا۔۔

”میں آٶنگا۔۔ اور ہر دفعہ کی طرح تم اسی طرح ہاتھ مسلتے رہ جاٶگے۔ کیونکہ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ جو کیا ہے تمہارے باپ نے کیا ہے۔ اور وہ اس سب کا خمیازہ بُھگت کر رہے گا۔ میں اس بات کو یقینی بناٶنگا کہ وہ ہر چیز کا انجام بُھگتے۔۔ اس سے پہلے تو اسے میں بھی مرنے نہیں دونگا۔۔“

”اور اسکے بعد کیا تم بچ جاٶگے۔۔؟“

ہاشم کا تیز تنفّس اور بگڑتے تاثرات۔۔ ولی کو اسے ایسے دیکھ کر بہت سکون ملا تھا۔۔

”میں تو سالوں سے اپنی موت کا انتظار کررہا ہوں ہاشم۔۔ تم بھی کس چیز سے ڈرا رہے ہر مجھے۔۔!“

ہوا کا ایک سرسراتا جھونکا ان کے درمیان سے گزرا تھا مگر وہاں اس خنکی کی پرواہ کسے تھی۔۔؟ وہاں تو آگ تھی۔۔ ہر جانب بھڑکتے الاٶ تھے۔۔ پیچھے کھڑی حویلی میں روشن قمقمے ان دونوں کے چہروں کو روشن کررہے تھے۔۔

”تو ایک بات تم بھی یاد رکھو ولی۔۔ کہ سکون سے تو تمہیں مرنے میں بھی نہیں دونگا۔۔ میں بھی اس بات کو یقینی بناٶنگا کہ جب تم مرو تو کوٸ بھی تمہیں پہچاننے سے انکار کردے۔۔ تمہارا جنازہ ۔۔ وہ کوٸ بھی پڑھنے نہیں آۓ گا۔۔ کوٸ تمہیں اون نہیں کرے گا۔۔ اور میں اس بات کو یقینی بناٶنگا کہ تمہاری موت بھی تمہاری زندگی جتنی ہی بھیانک اور تلخ ہو۔۔“

ایک دم سے منظر بدل گیا تھا۔۔ ہرطرف تنگ و تاریک کال کوٹھڑی چھاگٸ۔ وہی تاریک کوٹھڑی جس کے پار اس کی بچپن کی بہت سی تلخ یادیں تھیں۔ جس کے پار اس کا ایک قتل لکھا تھا۔۔ اور جس کے پار اس نے اپنے اندر موجود بہت کچھ کھو دیا تھا۔۔ ہاں وہ سب اتنا ہی تو اذیت ناک تھا۔۔ اتنا ہی تاریک۔۔

اسکے چہرے پر سایہ سا آٹھرا۔۔ لب بھِنچ گۓ اور جبڑے تن گۓ۔۔ کچھ اسکے اندر ڈوب کر اُبھرنے لگا تھا۔۔

”مجھے لگتا ہے کہ اب کوٸ بھی آگ مجھے واقعی نہیں جلا سکتی۔۔ کیونکہ میں خود آگ بن گیا ہوں۔۔ مجھے کوٸ عذاب اب عذاب نہیں دے گا ہاشم کیونکہ میں خود ایک عذاب ہوں اور عذاب۔۔“

وہ رکا تھا۔۔ بس لمحے بھر کے لیۓ۔۔ اسکی ساکت پتلیوں کے آس پاس اب سُرخ ڈورے اُبھرنے لگے تھے۔

”عذاب کو نہیں کاٹا کرتا۔۔“

ایک جھٹکے سے اس نے کہہ کر کار کا دروازہ کھولا اور پھر اس پر دوسری نظر ڈالے بغیر زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔ دُھول اُڑاتی گاڑی کے پار پھیلی دُھول میں ہاشم بہت دُھندلا سا دکھاٸ دیتا تھا۔۔ حویلی کے زرد قمقمے اب تک روشن تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

امل کا آخری پیپر تھا اور آج پھر سے فرید نہیں آیا تھا۔ اتفاق سے دوسری حویلی کا ڈراٸیور بھی نہیں آیا تھا اور ناجیہ صبح صبح اسکے گھر آگٸ تھی کہ فرید کے ساتھ جاسکے مگر پھر یہاں بھی اسے مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔

”اب کیا کرینگے دیر ہوجاٸیگی پیپر کی۔۔“

وہ پریشانی سے داخلی دروازے میں کھڑی کہہ رہی تھی۔ امل نے بھی بیزاری سے آس پاس دیکھا۔ ان پیپرز اور فرید کی مسلسل غیر موجودگی نے اسے سخت کبیدہ خاطر کردیا تھا۔ اس نے جُھلّا کر بی جان کو آواز دی۔۔

”بی جان اب کیا کریں ہم۔۔؟ دیر ہورہی ہے ہمیں کالج کی۔۔“

”میں ولی کو کہتی ہوں چھوڑ دیگا تم لوگوں کو۔۔“

بی جان کو بس اب آخری حل یہی نظر آرہا تھا سو کہہ دیا مگر امل کی کومل پیشانی شکن آلود ہوٸ تھی۔۔

”جی چچی ہم۔۔۔“

”ہم ان کے ساتھ ہر گز بھی نہیں جارہے۔۔“

اس نے ناجیہ کے پیر پر پیر رکھا اور جلدی سے اسکا ادھورا فقرا مکمل کیا۔ ناجیہ نے اسے برا سا منہ بنا کر دیکھا تھا مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔ البتّہ بی جان نے اسے سر اُٹھا کر ضرور دیکھا تھا۔۔ کیونکہ وہ کبھی بھی ولی کے بارے میں ایسا نہیں بولی تھی۔

”اس کے ساتھ جانے میں کیا مسٸلہ ہے۔۔؟“

ان کے حیران سے استفسار پر اس نے نگاہ چرا کر قد آدم کھڑکی سے گرتی دھوپ کو دیکھا۔۔ نہیں وہ اس کے ساتھ نہیں جاٸیگی۔۔ وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔ کوٸ ایسے بے قدری کرتا ہے کسی کی پرواہ کی۔۔ کسی کی چاہت کی۔۔ ہنہہ اس نے سر جھٹکا۔۔

”وہ اس وقت ڈیرے پر جاتے ہیں خواہ مخواہ ہماری وجہ سے پریشان ہونگے۔۔“

اس نے بات بناٸ تو بی جان کی حیرت کو مسکراہٹ نے چُھوا۔۔

”ولی کبھی میرے کسی بھی کام سے پریشان نہیں ہوتا۔۔ رکو میں اسے بلاتی ہوں لے جاۓ گا تم دونوں کو۔ اور ویسے بھی آج آخری پرچہ ہے پھر کونسا تم نے اس کے ساتھ جانا ہے۔۔“

وہ کہتے ہی نوراں کو آوازیں دینے لگیں۔۔

”جا ولی کو بلا کر لا۔۔“

اور پھر کچھ دیر بعد نوراں کے پیچھے قدم قدم چلتا وہ ان تک پہنچا۔ امل نے آنکھیں گُھما کر دوسری جانب دیکھا۔ ولی نے اسے ایسے کرتے دیکھ لیا تھا اسی لیۓ اس نے اُبھرتی مسکراہٹ کو دبایا۔۔

”جی بی جان۔۔؟“

ناجیہ کی ساری ہٹ دھرمی ایک طرف مگر اس سے بات کرنا آسان نہیں تھا۔ وہ ہر کسی سے گُھلنے ملنے والا انسان نہیں تھا۔ اور یہی رویہ بہت لوگوں کو تِیر کی طرح سیدھا رکھتا تھا۔۔

”فرید آج پھر سے نہیں آیا ہے ولی اور ان دونوں کو کالج لے کر جانا ہے انکا آج آخری پرچہ ہے۔۔ تم لے جاٶگے۔؟“

”جی بی جان۔۔“

وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔

”لے جاٶنگا۔“

پھر ان دونوں کی جانب گُھوما۔۔ جس میں سیاہ چادر والی لڑکی بہت سی فاٸلز کو سینے سے لگاۓ اس سنہری سی دھوپ کے عکس میں دمکتی ہوٸ خاصی لا تعلقی سے کھڑی تھی اور دوسری اسکے برعکس دبے دبے جوش سے ولی کو دیکھ رہی تھی۔

”چلٸیے۔۔“ اس نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔۔ براٶن رنگ کے شلوار قمیص میں اسکی چوڑی پُشت کو دیکھتے اس نے خفگی سے سر جھٹکا اور ناجیہ کے ساتھ ہی باہر نکلی۔۔ وہ اب نظروں پر چشمہ لگاتا گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ رہا تھا۔۔ اس کے ساتھ سفر۔۔ امل نے خفت سے سوچا۔۔ اسے اس رات کی کوٸ بات نہیں بُھولی تھی۔

کھیتوں کے درمیان بنے کچّے راستوں پر ان کی گاڑی ایک بار پھر رواں تھی۔ مگر اس بار ان کے اندر موجوں لوگوں کے جذبات میں زمین و آسمان کا فرق وارد ہوا تھا۔۔ جس میں صرف محبت مشترکہ تھی۔۔ ہاں بس وہ اسے ہی نہیں ختم کرسکتے تھے۔۔

”چُھٹی بارہ بجے ہی ہے آپ لوگوں کی۔۔؟“

اس نے سامنے دیکھتے نہ جانے ان میں سے کسے مخاطب کیا تھا مگر جواب ناجیہ ہی نے دیا۔ امل کا اسے جواب دینے کا کوٸ ارادہ نہیں تھا۔۔

”جی۔۔ مگر آپ کو کیسے پتہ۔۔؟“

اس نے پوچھا تو ولی کی نظر بے ساختہ پیچھے کو جھانکتے شیشے پر پھسلی۔ امل لا تعلقی سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔

”سردار بابا نے بتایا تھا۔۔“

”اوہ اچھا۔۔ میں سمجھی آپ امل کو لے کر گۓ تھے پیپر کے لیۓ۔۔“

”میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ انہیں لاتا لے جاتا رہوں۔۔“

اس کے بہت آرام سے کہنے پر امل نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ اس کے یوں دیکھنے پر ناجیہ نے بمشکل اپنی ہنسی دباٸ۔

”اور ہمیں بھی کوٸ شوق نہیں ہے آپ سے فیور لینے کا مگر مجبوری ہے ہماری۔ مجبوری تو سمجھتے ہیں ناں آپ۔؟“

بہت دھڑاک سے اس نے چہرہ دوبارہ کھڑکی کی جانب پھیرتے کہا تھا۔ اس کی ہمّت بھی کیسے ہوٸ امل کو ایسے کہنے کی۔ مگر دوسری جانب ولی جیسے محظوظ ہوا تھا۔ اس نے مسکراہٹ چُھپانے کے لیۓ نچلا لب دانتوں تلے دبایا۔۔ پھر موڑ کاٹتے ہوۓ سرسری سی نگاہ خفا خفا سی لڑکی پر ڈالی جو ضبط کے باعث سُرخ ہوٸ کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی۔۔

”لینے بھی آپ ہی آٸنگے۔۔؟“

ناجیہ کے پوچھنے پر اس نے شانے اُچکاۓ اور اس سے پہلے کہ کوٸ جواب دیتا امل بول پڑی۔۔

”ان کے پاس بالکل بھی فالتو وقت نہیں ہے ہمیں لانے لے جانے کا اسی لیۓ میں بی جان کو فون کرکے منع کردونگی کہ کسی اور کو بھیج دیں۔۔ کہیں انکا کوٸ ضروری کام نہ رہ جاۓ۔۔“

اس نے جل کر اسے اسکے الفاظ لوٹاۓ تو وہ یکد ہنس دیا۔ کار میں ایک دل فریب سا قہقہہ گونجا تھا۔۔

”معافی بی بی اگر آپ کو بُرا لگا ہو تو۔۔“

کتنی سہولت سے معافی مانگ رہا تھا۔۔ امل کا دل کیا ہاتھ میں پکڑی فاٸل اسکے سر پر دے مارے۔۔

”قدیم وقتوں کی شہزادیوں کے قصّے تو سُن ہی رکھے ہونگے آپ نے۔۔ کہ وہ کسی کی ذرا سی غلطی پر معافی دینے کے بجاۓ اُلٹا کڑی سزاٸیں دیا کرتی تھیں اور لوگوں کو عبرت کا نشان بناتی تھیں تاکہ دوبارہ کوٸ گستاخی کرنے کی جرّأت نہ کرسکے۔۔ افسوس کے میں نے ان کے اس عمل کی ہمیشہ مذمّت کی۔۔ بالکل ٹھیک کرتی تھیں وہ۔۔ انہیں اندازہ تھا کہ لوگوں کو قابو کیسے کیا جاتا ہے۔۔ مگر خیر۔۔“

وہ ٹھہری اور پھر شہد رنگ جگمگاتی آنکھوں کو کسی امر ہوٸ خوبصورت شہزادی کی طرح بے نیازی سے گُھمایا۔۔

”ہم آپ کو معاف کردیتے ہیں آپ کی ہر گستاخی پر۔۔“

کیا ادا تھی۔۔ اور انداز کو تو رہنے دیجٸے۔۔ سیاہ چادر کے ہالے میں دُھلی چاندنی دن کی روشنی میں سنہری دُھوپ لگ رہی تھی۔۔ ولی نے اس سے زیادہ خوبصورت کوٸ شہزادی نہیں دیکھی تھی۔۔ کوٸ اس سے خوبصورت تھی ہی کہاں۔۔!

”مجھے کڑی سزاٶں سے ڈر لگتا ہے اسی لیۓ میں بہت شرافت سے آپ کو لینے آجاٶنگا۔۔ یقیناً پھر تو معافی سہل ہو ہی جاٸیگی۔۔“

ایک تو جب وہ نرم ہوتا تھا تو اس جیسا کوٸ نہ ہوتا۔۔ اور جب رُکھاٸ برتتا تو۔۔ امل نے جُھرجُھری لی تھی۔۔

”جی آپ ہی آٸیے گا۔۔ ہمیں بہت اچھا لگے گا۔۔“

ناجیہ نے اپنے ساتھ اسے بھی گھسیٹا تھا۔ اس نے اسے دانت پیس کر گُھورا۔۔ کالج کے باہر ان کو چھوڑ کر وہ سیدھا ڈیرے پر آگیا۔۔ آفس کا نظام ویسا ہی تھا۔ مخصوص چہل پہل۔۔ کام کرتے گاٶں کے لوگ۔۔ اپنی اپنی نگرانی میں زمینوں کی کٹاٸ کا حساب دیتے کسان۔۔ اس نے سنجیدگی سے قدم آگے بڑھاۓ۔ آفس کا دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ اندر آیا تو اندر شاہ نواز پہلے سے موجود تھا۔۔ اسے دیکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔۔ اسے ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کرتا وہ سن گلاسس آنکھوں سے ہٹاتا کرسی کھینچ بیٹھا۔۔

”ولی سر اسی مہینے بختیار اور نثار صاحب کی شادی ہے اور تمام وہ کام جو درمیان میں لٹکے تھے وہ مکمل ہوچکے ہیں۔ اب کیا ارادہ ہے آپ کا۔۔“

”محسن میرا ماضی کھود رہا ہے نواز۔۔؟“

اس نے ایک دم اسکی بات کاٹ کر کہا مگر لہجہ بالکل ہموار تھا۔۔ نہ طیش نہ کچھ اور۔۔ شاہ نواز بے اختیار خاموش ہوا تھا۔۔

”جی سر۔ وہ بس تجسس کے مارے پوچھ گچھ کررہا تھا اور صرف مجھ سے ہی کی ہے۔ اتفاق ہوگا سر لیکن۔۔“

”تم بھی اور میں بھی۔۔ ہم دونوں جانتے ہیں کہ اس دنیا میں اتفاق نام کی کوٸ چیز نہیں ہوتی۔ سب طے شدہ ہوتا ہے۔ پری پلینڈ۔۔“

اس نے سنجیدہ سا ابرو اُٹھا کر اسے دیکھا تو نواز نے تھوک نگلا۔۔ ولی کی اندر تک اُترتی گہری نظریں اسے بوکھلاۓ دے رہی تھی۔۔

”سر میں دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے۔۔“

”اور جتنی جلدی تم دیکھ لوگے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ مجھے صرف یہ بتاٶ کہ وہ کس کے کہنے پر یہ سب کررہا ہے۔۔؟ اور یہ الٰہی بخش باہر کیا کررہا ہے۔۔؟ اسکے بیٹے کا مسٸلہ اب تک سیدھا نہیں ہوا۔۔؟“

اس نے بیک وقت سوال کیۓ تو شاہ نواز پل میں سنبھلا۔۔

”وہ چاہتا ہے کہ آپ ایک دفعہ اے ایس پی صاحب سے بات کرلیں تو وہ ان کے بیٹے کو رہا کردے گا“

”ٹھیک ہے۔۔ تم جاٶ میں کرتا ہوں کچھ۔“

اس کا بیٹا زمینی مسٸلے میں اقدام قتل کے جُرم میں جیل کے اندر تھا مگر کم عمری کے باعث اسے یوں اس طرح سلاخوں کے پیچھے قید رکھنا بھی قانوناً درست نہیں تھا۔ مگر وہ اے ایس پی۔۔ الٰہی بخش سے کوٸ پرانی کھار اُتارتا اسے تکلیف دینے کے لیۓ اس کے بیٹے کو اندر کیۓ ہوۓ تھا۔۔ اس نے فون کان سے لگا کر دوسری طرف کو جاتی گھنٹی سنجیدگی سے سُنی۔۔ اگلے ہی لمحے فون اُٹھا لیا گیا۔۔

”وعلیکم سلام۔۔“

اس نے سر کو خم دے کر جواب دیا

”میں نے یہ کہنے کے لیۓ فون کیا ہے کہ اور کتنا تم کرم بخش کو لاک اپ میں رکھو گے۔۔ اسکا باپ پریشان ہے اسے رہا کردو محمود شاہ۔۔“

اس نے اچھے جاننے والوں کی طرح اسے کہا تو وہ فوراً مان گیا مگر پھر اس کی اگلی بات سن کر جیسے وہ ساکت ہوا تھا۔۔

”تو تم کہہ رہے ہو کہ۔۔ وہ لڑکا بھلے ہی کم عمر ہے لیکن وہ مہارت رکھتا ہے اس قسم کے کاموں میں۔۔ یعنی قتل اور اقدامِ قتل میں۔۔۔؟ “

اسے حیرت نہیں ہوٸ تھی۔۔ مگر اتنے شریف باپ کی اولاد کا سن کر اسے ضرور حیرت ہوٸ تھی۔۔

”کس کی قیادت میں کام کرتا رہا ہے وہ۔۔؟“

اس نے اندھیرے میں ایک تِیر چلایا اور جس طرح تِیر نشانے پر لگا تھا اس نے اسے محظوظ کیا۔۔

”تو ہاشم محترم کا ہاتھ ہے اسے ایسا بنانے میں۔۔ ٹھیک ہے۔۔ تم رہا کردو اسے۔۔ لیکن اسے سیدھا میرے پاس بھیجو۔ میں اس سے ایک آدھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔“

اس نے فون رکھا اور چند پل سوچتی نظروں سے کسی غیر مرّٸ نقطے کو دیکھے گیا۔۔ ہاشم بھلا کیوں اس لڑکے کی ایسی تربیت کرنے لگا۔۔؟ اور وہ بھی اتنا کم عمر لڑکا۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ لوگوں کی مفلسی و لاچاری سے کھیل کر ہاشم نے بہت سے ایسے لوگ اپنی طرف کر رکھے تھے۔ اور ان کو ایک خاص قسم کی تربیت دینے کے بعد اس نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔۔ وہ جو کراۓ کے قاتلوں کی بات کرتا تھا۔۔ تو وہ لوگ انہی لوگوں میں سے ہوا کرتے تھے۔۔ جنہیں عرصے تک ہاشم نے پالا ہوتا اور تراش کر اپنے قریب رکھا ہوا تھا۔۔ مگر الٰہی بخش کا بیٹا ہی کیوں۔۔؟ وہ تو اس کے علاقے کا تھا ہی نہیں۔۔ وہ تو تھا بھی شیخ زمان کے علاقے کا۔۔ کہیں کچھ غلط تھا۔۔ اسکی چھٹی حِس اسے آگاہی دے رہی تھی۔۔ مگر کیا غلط تھا اسے ابھی یہ جاننا تھا۔۔

کچھ پل چند زمینی معاملات کو نپٹاتے نپٹاتے اسے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔ بارہ بجے امل کی چُھٹی تھی اور ابھی سوا گیارہ بجے تھے۔ اسے ساڑھے گیارہ تک نکلنا تھا۔۔ سو اس نے اطمینان سے گھڑی دیکھ کر اپنا کام جاری رکھا۔۔ دفعتاً کرم بخش نے دروازے میں داخل ہوکر اجازت چاہی تو اس نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔ وہ سترہ سال کا دُبلہ پتلا سا لڑکا تھا جس کی پیشانی پر بال نوعمر لڑکوں کی مانند بکھرے پڑے تھے۔۔ مگر وہ اپنی عمر کے لڑکوں کی طرح ہنستا مسکراتا نہیں تھا۔۔ اسکے چہرے پر ایک خاص قسم کا تناٶ ولی نے ہمیشہ دیکھا تھا۔۔

”آٶ۔۔۔“

اس نے ٹیک لگا کر اسے اجازت دی تو وہ سلام کرتا اندر آکر کرسی کھینچ بیٹھا۔۔ ولی نے آنکھیں سُکیڑ کر گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔

”کب سے کام کررہے ہو تم ہاشم کے لیۓ۔۔۔؟“

”چودہ سال کی عُمر سے۔۔“

اس کا جواب بہت سپاٹ تھا۔۔ وہ جیسے ہنسنا جانتا ہی نہیں تھا۔۔

”کیوں کرتے ہو اس کے پاس کام۔۔؟ تمہارے والد کو معلوم ہے اس بارے میں۔۔۔؟“

بہت محتاط سوال کررہا تھا ولی۔۔ کچھ غلط تھا۔۔ کہیں کچھ بہت غلط تھا۔۔

”جانتے ہیں وہ۔۔۔“

”وہ کام کرنے دیتے ہیں تمہیں۔۔۔۔؟“

”نہیں انہیں بالکل نہیں پسند میرا وہاں کام کرنا لیکن مجھے ان کی پسند نا پسند سے کوٸ غرض نہیں ہے۔۔“

اس کے لہجے کی بغاوت اور آنکھوں میں چھاٸ ویرانی۔۔! ولی کو بہت کچھ ایک ساتھ یاد آیا تھا۔۔

”تم کیوں کام کرتے ہو اس کے پاس۔۔؟ کیا جانتے نہیں ہو کہ زمانے بھر کا بد معاش آدی ہے وہ۔۔ اچھے لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا نہیں ہے۔ اور جس کام کے لیۓ اب تمہیں استعمال کررہا ہے جانتے بھی ہو کتنا خطرناک کام ہے وہ۔۔“

اس نے اب کہ ذرا درشتی سے اسے جھاڑا تو اس نے ذرا کی ذرا نظر اس پر اُٹھاٸ۔۔

”کون جانے کہ کون کس کو استعمال کررہا ہے۔۔“

اس کی عجیب سی مسکراہٹ پر ولی نے سامنے بیٹھے لڑکے کو بہت غور سے دیکھا۔۔

”مطلب۔۔۔؟“

”اگر آپ نے مجھے اس سب کے لیۓ بُلایا ہے تو بہتر یہی ہے کہ میں واپس چلا جاٶں۔۔“

”بیٹھو واپس۔۔۔“

اس نے اتنی درشتی سے کہا کہ لڑکا اگرچہ کسی کا اثر نہیں لیتا تھا پھر بھی اُٹھتے اُٹھتے بیٹھ گیا۔۔

”میری بات ابھی ختم نہیں ہوٸ ہے۔۔ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ تم اسکے پاس بغیر کسی مقصد کے کام نہیں کررہے۔ کوٸ وجہ ضرور ہے۔ اگر تم مجھے وجہ بتادوگے تو شاید میں تمہاری کوٸ مدد کرسکوں۔۔“

سخت لہجے کو اس نے حتی الوسع ہموار رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔ لڑکے نے اسے زخمی آنکھوں سے دیکھا۔۔

”میں وجہ بتانے کا آپ کو پابند نہیں ہوں۔۔“

”اگر تم نہیں بھی بتاٶ گے تو میرے لیۓ سب کچھ کھود نکالنا کوٸ مشکل کام نہیں۔ یہ دنیا بہت چھوٹی ہے کرم۔ اس میں کسی کا راز، راز نہیں ہوتا۔۔ تم نہیں بتاٶگے تو کوٸ تمہیں کھوجتا وہ سب جان لے گا جو اسے نہیں جاننا چاہیۓ اسی لیۓ جتنی آسانی سے تم مجھے بتادوگے اتنی ہی آسانی سے میں جانے دونگا۔۔“

کرم کی بےتاثر آنکھوں میں پل بھر کے لیۓ ایسا کرب ابھرا تھا کہ ولی ساکت رہ گیا۔۔ اسے اس لڑکے کو دیکھ کر نہ جانے کیوں سیاہ کوٹھڑی میں قید درد سے بلکتا لڑکا یاد آیا تھا۔۔

”میں تمہاری مدد کرونگا۔۔ بتاٶ مجھے۔۔ کیا مسٸلہ ہے۔۔؟ اگر تو تم پیسوں کے لیۓ اسکے پاس کام کررہے ہو تو ابھی کے ابھی چھوڑ دو۔ یہاں اس ڈیرے پر بہت سے کام ہیں جو تم کر سکتے ہو مگر وہ کام مت کرو۔۔“

اب کے اس نے تحمّل سے بات مکمل کی تو لڑکا آنکھوں میں پانی لیۓ مسکرایا۔۔

”کاش کے بات صرف پیسوں کی ہوتی سرکار۔۔ کاش کے صرف یہی بات ہوتی۔۔ مگر نہیں۔۔ میں اس کی تلوار سے اسکو ذبح کرونگا۔۔ یہ قسم کھاٸ تھی کرم نے اپنی بہن کو دفناتے۔۔ اور اب قسم کے ساتھ ہی میری زندگی وابستہ ہے۔ “

اس کی مبہم باتیں نتیجہ خیز نہیں تھیں۔ ولی ناسمجھی سے اسے دیکھے گیا۔۔

”جا سکتے ہو تم۔۔۔“

چند پل اسے چانچنے کے بعد اس نے اسے کہا تو وہ اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔مڑنے ہی لگا تھا کہ ولی کی آواز نے اسکے قدموں کو زنجیر کردیا۔۔

”میں کسی کو بھی اپنے رازوں میں شریک کرنے کا ہامی نہیں ہوں کرم۔۔ مگر آپ کے دُشمن کا دُشمن آپ کا دوست ہوتا ہے۔۔ اور ہاشم میرا سب سے بڑا دُشمن ہے۔۔ اگر کبھی کسی بھی قسم کی ضرورت پڑے تو مجھے بتانا۔۔ اور اکیلے کسی خوفناک سفر پر مت نکلنا۔۔ یہ دنیا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ ظالم ہے۔۔“

ساکت فضا میں صرف دو نفوس کے سانس کی آواز باقی رہ گٸ تھی۔ وہ کچھ لمحے سن کھڑا رہا اور پھر اسکے آفس سے تیزی کے ساتھ نکلا۔۔ کرم کے اندر کچھ بہت اُتھل پُتھل ہورہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے چھٹی پر ناجیہ اور امل دونوں کو لیا اور گاڑی حویلی کے راستے پر ڈال دی۔ وہ دونوں پیپرز ختم ہونے کی خوشی میں قدرے پُرجوش سی آج کے پیپر کو ڈسکس کررہی تھیں۔ اور ساتھ ساتھ اس سخت سی انویجیلیڑ کو بھی کوس رہی تھیں کہ جس کی موجودگی میں ان کا سانس خشک ہوا پڑا تھا۔۔

”توبہ۔۔۔ انہیں تو دیکھ کر ہی خوف آرہا تھا مجھے۔ ایک تو انتی بڑی ساری۔۔ اور پھر اوپر سے ان کا غصّہ۔۔“

ناجیہ نے کہہ کر جُھرجھری لی تھی اور اس نے سن کر۔۔

”شکر جان چھوٹی ہماری پیپرز سے۔۔ سُولی پر لٹکا رکھا تھا مجھے تو جب سے شروع ہوۓ تھے۔۔ مگر آج میں نے صرف اور صرف سونا ہے۔ اور کچھ بھی نہیں کرونگی میں۔۔“

جواباً فاٸلز کو اکھٹا کرکے ساتھ گود میں رکھتے ہوۓ اس نے بھی دبی دبی سی خوشی سے کہا تھا۔ آخری پیپر کے بعد کی خوشی سے بھی زیادہ اس دنیا میں کوٸ آسودہ لمحہ ہوتا ہے بھلا۔۔۔؟ اس کا چہرہ بھی خوشی سے چمک رہا تھا۔۔ گاڑی ڈراٸیو کرتے ہوۓ سنجیدگی سے باہر دیکھتا ولی کسی سوچ میں ڈُوبا ہوا تھا۔ سوچ کی لکیریں اسکی پیشانی پر بخوبی دیکھی جاسکتی تھیں۔ ان دونوں کی باتوں سے لا تعلق اسے ابھی تک کرم کا پُراسرار رویہ اُلھجاۓ ہوۓ تھا۔ کیا تھا جسے وہ چُھپا رہا تھا۔۔؟ کیا ہوسکتا تھا بھلا۔۔۔؟ اتنا تو اسے بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ جو تھا وہ بہت بھیانک تھا مگر کیا۔۔۔؟ ہر ممکنہ بات سوچ کر وہ خود ہی اپنے تخیلات کی تردید کرتا عجیب مخمصے میں پھنسا تھا۔۔ ایک دم سے ناجیہ اور امل کی ہنسی پر چونکا۔ وہ دونوں کسی بات سے لطف اندوز ہوتیں ابھی تک ہنس رہی تھیں۔ اس نے سر جھٹک کر دھیان ڈراٸیونگ کی طرف لگایا۔۔

حویلی کے باہر اس نے کار روکی تو ناجیہ اور امل دونوں گاڑی سے اُتر کر حویلی کے جہازی گیٹ کے اندر داخل ہوتی نظر آٸیں۔ وہ بے دیھانی میں ان کو جاتا دیکھ رہا تھا۔۔ کیا وجہ ہوسکتی ہے۔۔۔؟ کیا کرم سے کچھ ایسا ہوگیا تھا جو اسے نہیں کرنا چاہیۓ تھا اور اب ہاشم اسے اس سب کی وجہ سے بلیک میل کرکے اپنے پاس رکھے ہوۓ ہے۔۔۔؟ اوں ہوں۔۔ ایسا ہوتا تو کرم کب کا اعتراف کرچکا ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ انڈر ایج (کم عمر) ہے۔۔ اس نے گہرا سانس لے کر جیسے بہت سی سوچوں کو جھٹکا تھا اسی پل حویلی کے داخلی دروازے کے اندر جاتی ناجیہ مڑی اسے مسکرا کر دیکھا اور آگے بڑھ گٸ۔ امل نے اسکی یہ حرکت نہیں دیکھی تھی وہ اندر جاچکی تھی۔۔

ااف۔۔۔۔ ولی نے کوفت سے گہری سانس لی اور گاڑی ڈیرے کی جانب بڑھاٸ۔۔ یہ لڑکی ناں اسے مرواۓ گی کسی دن۔۔۔ ناجیہ کی حرکت پر سخت کوفت کا شکار ہوتا وہ اب پھر سے ذہن جھٹک رہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”محسن۔۔۔۔ کیا کرتے پِھر رہے ہو تم آج کل۔۔۔؟“

شاہ نواز نے اس کے سر پر پہنچ کر کہا تو لمحے بھر کو وہ ہڑبڑا سا گیا۔۔ اسے اتنی براہِ راست پوچھ گچھ کی اُمید نہیں تھی۔۔

”میں۔۔۔ میں کیا کررہا ہوں۔۔“

فوراً لڑکھڑاتی زبان کو سنبھالا۔۔

”بس فطری تجسس مجھے یہاں تک لے آیا۔ ایک ایسا بندہ جس کا نہ خاندان نہ کوٸ فیملی بیگ گراٶنڈ نہ کوٸ آگے نہ پیچھے۔۔ وہ یا تو آسمان سے ٹپکا ہے یا پھر زمین سے اُگا ہے۔۔ میں ان سب باتوں پر مزید صبر نہیں کرسکتا تھا اسی لیۓ چھان پھٹک کے لیۓ نکل کھڑا ہوا۔۔“

کندھے اُچکا کر کہا تو شاہ نواز کے ابرو تنے۔۔

”ولی سر کو تمہاری چھان پھٹک کا پتہ چل گیا ہے اور اگر انہیں غصّہ آگیا ناں تو تمہیں پھٹک کر رسّی پر ڈال دینگے۔۔“

نواز کے خبردار کرنے پر اس نےناک سے مکھی اُڑاٸ تھی۔۔

”مجھے کونسا کسی ایجنسی نے ہاٸیر کیا ہے یہ سب کرنے کے لیۓ۔۔ میں تو خود کی تسکین کے لیۓ یہ سب کررہا ہوں۔۔ اور کچھ نہیں۔۔“

اس نے صاف گوٸ سے بتادیا تھا۔۔ وہ چند پل اسے مشکوک نظروں سے دیکھتا رہا۔۔

”کیا ملا تمہیں اب تک ان کے بارے میں۔۔؟“

بہت تاک کر سوال کیا تھا نواز نے۔۔ محسن لمحے بھر کو ٹھہرا۔۔ اسے سوال سے زیادہ اسکا انداز عجیب لگا تھا۔۔

”یہی کے وہ سردار بابا کے سگّے بیٹے نہیں۔۔“

”بس یا کچھ اور۔۔ مجھ سے کچھ بھی مت چھپانا۔۔“

اس کی سُکڑی ہوٸ تیکھی نظریں۔۔! محسن کو اب پیشانی پر پسینہ آنے لگا تھا۔۔

”میں نہیں کررہا کچھ بھی شاہ سر۔ آپ ڈرا کیوں رہے ہیں مجھے۔۔۔؟ میں کچھ نہیں چھپا رہا آپ سے۔ سیدھے سبھاٶ پوچھا تھا کہ بتا دیں آپ ولی سر کے بارے میں اب بتا بھی نہیں رہے ہیں اور پھر ایسے شک بھی کررہے ہیں۔۔“

اس نے ذرا خفگی سے نوعمر لڑکوں کی طرح ناک سکوڑ کر کہا تو نواز کے پیشانی کے بل ڈھیلے پڑے۔۔ گہرا سانس لے کر محسن کو دیکھا۔۔

”کسی کی زندگی کو یوں بلاوجہ نہیں کھودتے محسن۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ کیونکہ انسان بہت سے دروازوں کو خود پر عرصے سے بند کرچکا ہوتا ہے۔۔ پھر کوٸ انہیں یوں جا کر کھول دے یہ درست نہیں۔۔ بند دروازوں کے پار اکثر بھیانک راز ہوا کرتے ہیں۔ جن کا جان لینا کسی بھی طور بھلاٸ کے زمرے میں نہیں آتا۔۔ محتاط رہو۔۔ اور کوٸ ایسی ویسی حرکت مت کرنا۔۔ چلتا ہوں۔۔“

وہ اُٹھ کر گیا تو محسن دروازے کو ہی دیکھتا رہا۔۔ اس کے سامنے بہت کچھ ایسا چل رہا تھا کہ جن کے دروازے وہ خود پر بند نہیں کرسکا تھا۔۔ اسے ولی کی زندگی سے نہیں اس کے ساتھ سے دلچسپی تھی مگر کیا کرتا۔۔ وہ مجبور تھا اسے کھنگالنے پر۔۔ کیونکہ جس کی ضرورت اسے تھی اگر ولی وہ نہ نکلا تو پھر بہت بڑا جھول ہوجانا تھا۔۔ مگر ابھی یہ بات شاہ نواز کو بتانا سراسر بے وقوفی ہوگی۔۔ اسے خود سے سب کچھ جان کر ولی کے پاس جانا تھا اور بہت جلد جانا تھا۔۔ کیونکہ قبروں میں دفن اسکے گھرانے کے لوگ اب بھی انصاف کے لیۓ سسک رہے تھے۔ اور اسے ان کو انصاف دلانا تھا۔۔ چاہے پھر جیسے بھی۔۔ قدرت نے اسے زندہ رکھا تھا تو اس کا صرف ایک مقصد تھا اور وہ تھا انتقام۔۔۔ حسین احمد سے انتقام۔۔۔! جس نے اس کے گھر کو اُجاڑ کر رکھ دیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

رات کی سیاہی میں چمکتی حویلی شان سے سر اُٹھاۓ کھڑی تھی۔ ایسے کہ اسے دیکھنے کے لیۓ انسان کو اپنی آنکھیں چُندھیانی پڑتی۔۔ اسکا حسن ویسے ہی نظروں کو خیرہ کیا کرتا تھا۔ زرد قمقموں سے روشن حویلی میں آج پھر سے ڈھولکی تھی اور اس دفعہ بختیار، نثار، نفیس غرض کے گھر کے سارے لڑکے اکھٹے تھے۔ وہ سب مردانے میں براجمان تھے اور اس طرف لاٶنج میں دوشیزاٶں نے خوب رونق لگا رکھی تھی۔۔ امل نے مسکرا کر ریلنگ سے نیچے جھانکا۔۔ اسکے اطراف سے گرتے سلکی بال کُھلے ہونے کے باعث نیچے جھول رہے تھے۔ ناجیہ نے اسے مسکرا کر نیچے آنے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتی واپس مُڑی۔۔ سُرخ چوڑی دار پجامے اور سُرخ ہی رنگ کی لمبی قمیص زیب تن کیۓ اس نے گویا ساری حویلی میں روشن قمقموں کی روشنی خود میں سمو لی تھی۔۔ کانوں سے لٹکتے سِلور جُھمکے اسکے سر کی ذرا سی جنبش پر جھوم رہے تھے مگر وہ پرواہ کیۓ بغیر سلکی بالوں کو ہاتھ سے سمیٹتی نیچے اُترنے لگی۔ سہج سہج کر اترتی امل نے بہت سی گردنوں کو اپنی جانب گھومتے دیکھا تھا۔۔ وہ تھی ہی اتنی خوبصورت۔۔

اسی پل وہ حویلی میں داخل ہوا تھا۔۔ صبح والے کتّھٸ قمیص شلوار میں ملبوس سیاہ شال کو گردن کے گرد لپیٹے۔۔ ہمیشہ کی طرح عام سے حُلیے میں۔۔وہ فون کان سے لگاۓ شاید کسی سے بات کررہا تھا۔۔ وہی مصروف سا ولی۔۔

”جی باقر صاحب دین صاحب کی بیٹی کا کیس۔۔۔“

اس کی نظر بے ساختہ امل پر پڑی۔ سلکی بالوں کو ہاتھ سے روکے وہ جُھک کر کسی عمر رسیدہ خاتوں سے مل رہی تھی۔ اسکے چہرے پر پڑتے سُرخ عکس نے اسکے چہرے کا رنگ آتشی کردیا تھا۔۔ گویا۔۔ دُھلی ہوٸ سُرخ چاندنی ہو۔۔ ایک پل لگا تھا اسے سنبھلنے میں۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے چہرہ پھیرا۔۔ کبھی کبھی امل اسے ایسے ہی بے بس کردیا کرتی تھی۔۔

”جی باقر صاحب۔۔ جی ان کے کیس کا فصلہ آچکا ہے آپ بس معاملات آگے بڑھاٸیے۔۔ جی۔۔ “

اس نے قدم زینوں کی جانب پھیرے۔۔ اسے سردار بابا نے بلایا تھا۔ نہیں تو اس وقت ایسے لڑکیوں کے رش میں وہ کبھی نہ آتا۔۔ اسے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتی لڑکیوں سے سخت ایلرجی تھی۔۔ امل نے اسے نہیں دیکھا وہ ابھی تک خاتون سے باتیں کررہی تھی۔۔

اس نے دروازے پر دستک دی اور پھر بی جان کی آواز پر اندر داخل ہوا۔۔ زمان ایک طرف کرسی پر بیٹھے تھے اور بی جان بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ ہوۓ تھیں۔۔ دونوں کو ایک نظر دیکھ کر وہ مسکراتا ہوا دروازہ بند کرتا صوفے پر آ بیٹھا۔

”اسّلام علیکم ۔۔ سردار بابا باقر صاحب نے مجھ سے فون پر ابھی بات کی ہے وہ۔۔۔ “

”اس وقت کام کی کوٸ بات نہیں ہوگی۔۔“

بی جان نے اسے ٹوکا ۔۔۔ اس نے چونک کر سردار بابا کو دیکھا۔۔ جواباً انہوں نے مسکراہٹ دبا کر کندھے اُچکاۓ۔۔ (جیسے میں کچھ نہیں کرسکتا)

”کہیں آغا جان۔۔۔“

بی جان کے کہنے پر زمان ذرا کرسی پر آگے کو ہوۓ۔۔ وہ اب تک سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔

”تم جانتے ہو کہ بختیار اور نثار دونوں کی شادی ہورہی ہے۔۔ ہم دونوں چاہتے ہیں کہ۔۔“

انہوں نے بی جان کی جانب دیکھا تو وہ مسکراٸیں۔۔

”کہ تمہاری بھی اب شادی ہوجانی چاہیۓ۔۔“

اب کہ وہ بہت زور سے چونکا تھا۔۔

”شادی۔۔“

اس نے پلکیں جھپکاٸیں۔۔

”مگر میرا تو ایسا کوٸ ارادہ نہیں ہے سردار بابا شادی کرنے کا۔۔“

اس نے صاف گوٸ سے کہا تو بی جان نے خفگی سے دیکھا۔۔

”یہ کیا بات ہوٸ بھلا۔۔ شادی اب نہیں کروگے تو کب کروگے۔۔۔؟“

وہ ان کی بات پر ہنس پڑا۔۔

”بی جان میں۔۔ مجھے نہیں کرنی شادی۔۔ میں کیا کرونگا شادی کرکے؟۔“

اب کے ہنسنے کی باری زمان کی تھی۔۔ اس کے بھونڈے سے سوال پر بی جان بھی ہنسی تھیں۔۔ وہ جھینپ گیا۔۔ دفاع کرنے کے چکر میں پتہ نہیں کیا بول دیا تھا اس نے۔۔

”میں۔۔ میرا مطلب ہے کہ ابھی آپ صرف ان دونوں کی شادی نپٹاٸیں۔ میرا تو ویسے بھی شادی کا ابھی کوٸ ارادہ نہیں ہے۔ “

جلدی سے تصحیح کی۔۔ (اسکا شادی کبھی بھی کرنے کا خیر سے ارادہ نہیں تھا)

”ہم بس یہ پوچھ رہے ہیں کہ کوٸ پسند ہے تو ہمیں بتاٶ ہم رشتہ لے کر جاٸیں ان کے گھر۔۔ ظاہر ہے شادی ابھی نہیں ہوگی مگر بات تو پکّی ہوسکتی ہے ناں۔۔ وہ ہمیں اب کر لینی چاہیۓ۔۔“

سردار بابا کی بات پر وہ زخمی سا مسکرایا۔۔ آنکھوں کے پار سُرخ جوڑے والی لڑکی لہراٸ تھی۔۔ بار بار سلکی بالوں کو سمیٹتی۔۔ اپنی ساری خوبصورتی سے بے خبر۔۔ معصومیت سے کسی بات پر ہنستی ہوٸ۔۔

”مجھے کوٸ بھی نہیں پسند اور میں واقعی شادی نہیں کرنا چاہتا سردار بابا۔۔ کیا کسی اور ولی کو آپ اس معاشرے میں بڑے ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔۔؟ اس گاٶں کا کوٸ بھی باعزت باپ مجھے اپنی بیٹی نہیں دے گا۔۔ مجھے کوٸ خواہش نہیں ہے سردار بابا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔“

اس کی سنجیدگی اور دوٹوک سے انداز پر زمان اور بی جان نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔

”ولی وہ تو پرانی باتیں تھیں۔۔ اب لوگ سمجھدار ہوگۓ ہیں۔ ایسی باتوں پر ہرگز کان نہیں دھرتے۔۔ تم کہو تو ہم دیکھیں تمہارے لیۓ لڑکی۔۔؟“

زمان بھی سنجیدہ ہوچکے تھے۔۔ مگر وہ نفی میں سر ہلاتا ایک دم ہی اُٹھا۔۔ اس کا زخم پھر سے اُدھڑنے لگا تھا۔۔

”مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی سردار بابا۔۔ نہ آج نہ کبھی۔۔ میں کبھی بھی اپنے ساتھ کسی کو جوڑ کر اسے رُسوا نہیں کرسکتا۔۔ اس معاملے میں مجھے معاف کردیں۔۔“

اور پھر بی جان کی آوازوں پر بھی وہ نہیں رُکا۔۔ زمان نے گہرا سانس لیا تھا۔۔

”جانے دو زمانی۔۔ وہ اتنی آسانی سے راضی نہیں ہوگا۔۔ جو اس نے گزارہ ہے وہ بہت بھیانک تھا۔۔ “

بی جان دل مسوس کر رہ گٸ تھیں۔۔ وہ اسے بھی بسے ہوۓ دیکھنا چاہتی تھیں۔ مگر اب یہ ناممکن سی بات لگ رہی تھی۔۔

زینے اُترتا ولی بہت تیزی سے باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ یکدم ٹھہر گیا۔۔ مردانے کے دروازے میں ایستادہ نفیس لاٶنج میں بیٹھی امل کو بہت محویت سے دیکھ رہا تھا۔ امل ذرا غیر آرام دہ ہوٸ رُخ تِرچھا کیۓ بیٹھی تھی۔۔ شاید اس نے نفیس کو دیکھ لیا تھا۔۔ اور اب بوکھلا رہی تھی۔۔

ولی کی آنکھوں میں غصّہ دہکا ابرو تن گۓ اور دانت بِھنچ گۓ۔ اس نے کچن میں جاکر کام کرتی نوراں سے امل کو بلانے کا کہا اور پھر سُلگتا ہوا وہیں کھڑا رہا۔ نوراں سر ہلا کر پلٹ گٸ تھی۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ذرا بے چین سی آٸ۔۔

”کیا ہوا ولی۔۔۔؟“

”آپ لاٶنج میں اس وقت کیا کررہی ہیں۔۔؟ اوپر جاکر بی جان کے ساتھ بیٹھیں۔۔“

اس نے لہجے کو بہت ہموار رکھنے کی کوشش کی مگر پھر بھی آخری لفظ تُرش سے ہوگۓ۔۔ وہ جو بے چین تھی یکدم سیدھی ہوٸ۔ ابرو تان کر اسے دیکھا۔۔

”اور کیوں مانونگی میں آپ کی بات۔۔۔؟“

”امل۔۔ میں جو کہہ رہا ہوں اسے سمجھیں اور جب تک نفیس حویلی میں ہے نیچے مت آٸیے گا۔۔“

اس نے زندگی میں پہلی بار۔۔ ہاں پہلی بار اسے ”امل“ کہا تھا۔۔ صرف امل۔۔ وہ ذرا حیران ہوٸ۔ مگر پھر چھوٹی سی ناک سکیڑی۔۔

”کیوں آپ وہی نہیں ہیں جو اس دن کہہ رہے تھے کہ مجھے بھی سب کی طرح ڈِیل کرتے ہیں۔۔ تو جاٸیں لاٶنج میں بہت سی لڑکیاں بیٹھی ہیں۔۔ انہیں بھی اوپر جانے کا کہیں۔۔“

ولی نے بمشکل گہرا سانس لیا تھا۔۔

”امل بی بی۔۔ “

اس نے بہت ضبط سے کہا۔۔

”جی ولی احمد۔۔“

اس نے بھی اسی کے انداز میں کہا تو وہ ذرا ٹھنڈا ہوا۔۔

”آپ اوپر جاٸیں بی جان کے ساتھ آٸیے گا نیچے۔۔“

”اور اگر میں نہ جاٶں تو کیا کرینگے آپ۔۔۔؟“

اپنی ساری جھجھک بُھلاۓ وہ اپنا بدلہ لے رہی تھی اس سے۔۔ ولی کچھ دیر چپ سا ہوا۔۔

”آپ اچھی بچّی ہیں۔۔ مجھے پتہ ہے آپ میری بات ضرور مانیں گی۔۔“

وہ بے ساختہ ہنس دی۔۔ پھر چہرہ اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔ نسواری آنکھوں کے کانچ میں گلابی ڈورے اب ہر وقت کا قصّہ تھے۔۔ اسکا دل دھڑکا۔۔

”مجھے پتہ ہے کہ میں اچھی بچّی ہوں اور یہ بھی کہ آپ بھی بہت اچھے ہیں لیکن میں آپ کی کوٸ بھی بات نہیں مانونگی۔ یہ سیاسی کھیل کسی اور کے ساتھ کھیلیں۔ کہ جب مخالف بات نہ مانے تو اس کی تعریف کی جاۓ اور اس سے اپنی باتیں منواٸ جاٸیں۔۔ سوری جی میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے لگی۔۔“

وہ کہہ کر پلٹنے لگی تو اس کی آواز نے اسے بے ساختہ روک لیا۔۔

”نوراں مردانے کا دروازہ بند کردو جاکر اور اگر کوٸ کچھ کہے تو اس سے کہنا کہ لاٶنج میں بیٹھی لڑکیاں غیر آرام دہ ہورہی ہیں۔۔“

اس نے اس کی پشت پر نظر جماۓ نوراں سے کہا تو وہ پلٹ گٸ۔ امل سُن سی ہوٸ ویسے ہی رُخ پھیرے کھڑی رہی تھی۔۔

”اگر کسی بات سے آپ کو منع کروں تو مان جایا کریں۔ اور رہی بات لاٶنج میں بیٹھی ہر لڑکی کی تو۔۔“

وہ گھوم کر اس کے سامنے آیا۔۔ اس نے شہد رنگ آنکھیں اُٹھاٸیں۔۔

”ہر لڑکی امل نہیں ہوتی۔ اور نہ ولی کو کسی اور سے کچھ لینا دینا ہے۔۔“

اس نے سنجیدگی سے کہا اور اسے حیران چھوڑ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ وہ وہیں کچن میں رُکی رہی۔ جب تک نوراں نے اسے آکر بتا نہیں دیا کہ وہ مردانے کا دروازہ بند کرواچکی ہے وہ تب تک وہیں کھڑی رہی۔۔ دل اب تک کانوں میں دھک دھک کررہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نورآباد کا حسن شاہ الیکشن جیت چکا تھا اور اب گاٶں میں ہر جانب جشن کا سماں تھا۔ کچے صحن میں زرد قمقمے رسیوں سے باندھ کر روشن کیۓ گۓ تھے جیسے کہ عموماً شادیوں پر کیۓ جاتے تھے۔ ایک جانب کھانے کا انتظام تھا تو دوسری جانب کھلّے سے کچے صحن میں چارپاٸیوں پر بہت سے مرد براجمان حسن شاہ کی اس تقریب میں شرکت کے لیۓ آۓ بیٹھے تھے۔ ہاشم بھی حسن شاہ کے برابر میں بیٹھا کسی بات پر ہنس رہا تھا۔ وہی اپنے مخصوص حُلیے میں۔۔ چھوٹی آستینوں والی قمیص پر چادر پہنے کندھے تک آتے بالوں میں تیل لگاۓ ہوۓ۔۔

کھانا شروع ہوا اور رش ذرا چھٹا تو وہ حسن کی جانب گُھوما۔۔

”اپنا وعدہ یاد ہے تمہیں۔۔۔؟“

حسن اسکی بے صبری پر مسکرا کر سیدھا ہوا۔۔ کلف لگے سفید کڑک سے لباس میں اُٹھی مونچھوں کے ساتھ وہ خاصہ بارعب لگتا تھا۔۔

”اور جو کام میں نے تم سے کہا تھا وہ کیا تم نے۔۔؟“

ہاشم نے گہرا سانس لے کر بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کیا۔۔

”مجھے کچھ وقت لگے گا اسے جانچنے میں۔ ویسے لگایا تو ہے میں نے کام ایک کے ذمّے جیسے ہی کچھ پتہ چلے گا تمہیں اطلاع کرونگا ضرور۔۔“

”کوٸ قابلِ بھروسہ انسان ہے ناں جسے سُونگھ کر جانچنے پر مامور کیا ہے تم نے۔۔۔؟“

حسن کے سوال پر اس نے گردن ہلاٸ۔۔

”بے فکر رہو۔۔ جلد ہی ہمیں کچھ نہ کچھ تو ایسا مل ہی جاۓ گا اس کے خلاف ۔۔جسے ہم استعمال کرسکیں۔۔“

”ٹھیک ہے چلو آٶ اب کھانا کھاتے ہیں۔۔“

اس کی پِیٹ تھپتھپا کر وہ اُٹھا تو ہاشم بھی اسکے ساتھ ہی اُٹھا تھا۔۔

دوسری جانب رات کی مہیب تاریکی میں کوٸ ڈیرے میں آہستہ سے داخل ہوا اور پھر اسی آہستگی سے دروازہ بند کرتا اندر چلا آیا۔۔ جانے پہچانے راستوں پر قدم اُٹھاتا وہ آفس کے اندرونی حصّے میں چلا آیا تھا۔۔

”ماں ولی کیوں کہتا ہے کہ میں اسے جنازہ دوں۔۔؟ کیا وہ اس دنیا میں بالکل اکیلا ہے۔۔؟ کیا کوٸ بھی نہیں ہے جو اسے مرنے کے بعد اون کرے۔۔۔؟“

وہ معصومیت سے چہرہ اُٹھاۓ قانتہ کو دیکھتا سوال کررہا تھا۔۔ اس نے زخمی سا مسکرا کر زین کو دیکھا۔۔

”نہیں کوٸ نہیں ہے جو اسے own کرسکے اسی لیۓ تو تمہیں کہہ کر گیا ہے۔۔ اسی لیۓ تو وعدہ لیا ہے اس نے تم سے۔۔“

ولی اسی وقت حویلی کے گیٹ سے باہر نکلا تھا۔ کہنیوں تک آستینیں چڑھاۓ باہر برستے کہر سے بےنیاز۔۔

”مگر وہ تو اتنا اچھا ہے۔۔ کوٸ اسے کیوں ڈس اون کرے گا۔۔۔؟“

اس کے سوال میں اب کے بے چینی تھی۔۔

اس نے باریک بنی پگڈنڈی پر قدم بڑھاۓ۔ دور دور تک سرسوں کے کھیت پھیلے تھے۔ دور کہیں مکّٸ بھی پک چکی تھی۔

امل اب تک سُن سی بیٹھی لاٶنج میں لڑکیوں کے گیت سن رہی تھی۔۔

”وہ اچھا ہے زین۔۔ بہت اچھا ہے۔۔ لیکن اس کے آس پاس لوگ اچھے نہیں ہیں۔۔“

اسکے آفس کی لاٸٹ بند تھی اور سیاہ ہُڈ سر پر گراۓ شخص اب جُھک کر ٹیبل سے کوٸ فاٸل نکال رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ٹارچ تھی اور اب کے اس نے ٹارچ منہ میں دباٸ اور سامنے کاغذ کھولنے لگا۔۔

وہ سرسوں کے کھیت کو دیکھتا آہستہ آہستہ کچے راستے پر قدم اُٹھا رہا تھا۔

”جانتے ہو موت کیا ہوتی ہے۔۔ وہ جو تم نے اس کتّے کو دی ہے۔۔ موت وہ ہوتی ہے۔۔ اور دیکھنا ولی کسی دن کوٸ تمہیں بھی اسی طرح مار کر کسی کونے میں ڈال دے گا اور تم۔۔ تم بھی اس کتّے کی طرح بے سُدھ ایک جانب پڑے رہوگے۔ کوٸ نہیں ہوگا جو تمہیں دفناۓ گا۔۔ کوٸ تمہیں جنازہ نہیں دے گا۔۔“

چودہ سالہ لڑکا دیوار کے ساتھ سہما سا لگا بیٹھا تھا۔ اس کے جسم پر جابجا تشدد کے نشانات تھے۔۔ نیلے اور گہرے جامنی سے۔۔ کچھ جگہوں سے نکلا خون وہیں پر جم گیا تھا اور زخم خشک ہونے کی وجہ سے تکلیف دینے لگے تھے۔۔

اس نے سر جھٹکا۔۔ نہ جانے کب یہ سب اس کا پیچھا چھوڑے گا۔۔

اس کے آفس کا دروازہ بند کر کے باہر نکلتا لڑکا اب تک ہڈی سے سر ڈھکے ہوۓ تھا۔ اس طرح سے کہ اس کا چہرہ واضح نہ تھا۔۔

”ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم بہت اچھے ہوتے ہیں مگر ہمیں لوگ اچھے نہیں ملتے۔۔؟“

بھوک اور درد کی شدت سے بلبلاتا لڑکا بار بار تاریک کباڑ خانے کا دروازہ بجا رہا تھا۔۔

”کھولو۔۔ کوٸ تو کھولو۔۔ مجھے بھوک لگی ہے۔۔ مجھے کھانا دو۔۔“

اسکی آواز لرز رہی تھی۔۔ سخت سردی اوپر سے بھوک کی شدت۔۔ اس کے آنسو مسلسل گالوں سے لڑھک رہے تھے اور وہ انہیں صاف کیۓ بنا دروازہ پیٹ رہا تھا۔

”کھولو مجے بھوک لگی ہے۔۔“

اس نے لاک کو زور زور سے گھمایا مگر وہ مقفل تھا۔۔

”اللّہ اپنے اچھے بندوں ہی کا امتحان لیتا ہے زین۔۔ وہ اچھے لوگوں کو ہی آزماتا ہے۔۔“

لڑکا اب دروازے کا لاک پکڑے بیٹھا رورہا تھا۔ اس کا لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ اس پر خون کے چند چھینٹے بھی لگے تھے جو اس کتّے کے تھے جس کو اس نے مارا تھا۔

”کھولو۔۔ مجھے بھوک لگی ہے۔۔“

أس نے گہرا سانس لے کر سب کچھ پیچھے دھکیلنا چاہا۔ مگر وہ بلکتا لڑکا آج بھی اس کے اندر زندہ تھا۔ بس وہ ہی مر گیا تھا۔

”اور اگر کوٸ سخت ٹیسٹ کی وجہ سے مرجاۓ پھر۔۔؟“

قانتہ اسے چند پل خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہی۔۔ اس سوال کا جواب تو اس کے پاس بھی نہیں تھا۔۔

ہڈی والا لڑکا اب ڈیرے سے باہر نکل کر دور ہوتا جارہا تھا۔۔ تاریکی میں قدم اُٹھاتا وہ بھی اسی تاریکی کا حصّہ لگ رہا تھا۔۔

امل کی نظریں بار بار دروازے کی جانب اٹھ رہی تھیں۔۔ کاش کے وہ آجاۓ۔۔ شاید کہ وہ آجاۓ۔۔ اسے بس ایک نظر دیکھنا تھا۔۔

اسکی آنکھوں میں چھاٸ ویرانی اس اندھیر ہوتی رات میں بھی محسوس کی جاسکتی تھی۔ لوگوں نے اسے مارنے کی بہت کوشش کی تھی۔ اسے ہر طرح سے اذیت دی تاکہ وہ خاموشی سے دم دے دے۔ مگر وہ پھر بھی زندہ رہا۔۔ کون جانتا تھا کہ مسجد کے باہر ڈلا بچّہ بچ جاۓ گا۔۔ لیکن وہ بچ گیا تھا۔۔

وہ بچّہ زندہ تھا۔۔

اور آج تک زندگی کو کاٹتا وہ اسی مسجد کے باہر پڑا تھا جہاں سے اسے اُٹھایا گیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *