Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 12) Part - 1

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

میں سانس روکے

دیکھ رہی ہوں تمہیں

ایسے جیسے دنیا رُک سی گٸ ہو

ایسے جیسے کوٸ بہتی ہوا ہو

اگر تم نہ بھی دیکھو مجھے

تب بھی میرا دل تمہاری جانب ہمکتا ہے

محبت کرنا تم سے

بہت تکلیف دہ ہے

احساسات جو کبھی خالی نہیں کیۓ جاسکتے

بہت تکلیف دہ ہے

میری محبت

نہ تم بھولنا

میرا ہر پل بڑھتا پیار

تمہاری آنکھیں جو دیکھتی ہیں مجھے۔۔

ایسے جیسے۔

وہ جانتی ہوں میرے دل کا حال

اگر میں دور بھی جانا چاہوں تب بھی

یادیں ہمیں کھینچ لاتی ہیں

چاہے ہم کتنے بھی دُور ہوں

محبت کرنا تم سے

بہت تکلیف دہ ہے

احساسات جو کبھی خالی نہیں کیۓ جاسکتے

بہت تکلیف دہ ہے

میری محبت

نہ تم بھولنا

میرا ہر پل بڑھتا پیار

کوٸ بات نہیں

جو ذرا دیر ہوگٸ

اگر یہی قسمت ہے

تو ہم ملیں گے دوبارہ

بُھلا دینا تمہیں

بہت مشکل ہے

یہ میں ہوں جو رُخ موڑ کر رو رہی ہوں

اے میرے اداس خواب

کسی دن

میں امید کرتی ہوں کہ

محبت کروں تم سے جتنی میں چاہتی ہوں

(ایک گیت Moon Lovers سے)

……

وہ اس آواز پر ایک جھٹکے سے مُڑی تھی۔ پیچھے کھڑا نفیس مسکراتی نگاہوں سے اسکے سراپے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی صبیح پیشانی پر ناگواری سے لکیریں نمودار ہوٸیں۔۔

“میں جانتی ہوں کہ ہر رنگ جچتا ہے مجھ پر اسی لیۓ آپ کی آگاہی کی کوٸ ضرورت نہیں ہے۔۔”

رُکھاٸ سے کہہ کر اس نے چہر پھیرا مگر اس نے تو جیسے سُنا ہی نہیں تھا۔ آگے بڑھ کر اس کی غلافی آنکھوں میں جھانکا۔ شہد رنگ آنکھیں ناگواری سے چمک اُٹھی تھیں۔

“اتنا نخرہ۔۔ اتنا غصّہ صرف میرے لیۓ اور جب دوسروں سے بات کرتی ہو تب تو منہ سے پھول جھڑ رہے ہوتے ہیں۔۔ کیوں۔۔؟ اتنا ظلم صرف مجھ پر کیوں۔۔؟ کوٸ گستاخی کردی کیا میں نے۔۔؟”

مسکراتے لہجے میں کہتا وہ مسلسل اس کے چہرے کا نظروں سے طواف کررہا تھا۔

اسے دیکھتے امل کے چہرے پر مسکراہٹ اُبھری تھی۔۔

“گستاخی کرنے والوں کو میں صرف لفظوں کی مار نہیں مارتی۔ ان کے لیۓ ہمیشہ کڑی سزاٶں کا بندوبست کیۓ رہتی ہوں میں اور جہاں تک بات ہے آپ کی۔۔”

ایک ناقدانہ نگاہ اس پر ڈالی۔۔

“تو آپ کا شمار نہ تو میں نے کبھی قرابت داروں میں کیا ہے اور نہ ہی میرا آٸندہ ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔ آپ میرے لیۓ صرف میرے تایا کے بیٹے ہیں جن سے بات کرنا مجھے سخت ناپسند ہے کیونکہ میں ہر کسی کو نہیں پسند کر لیتی۔۔”

بہت کرارہ سا جواب دے کر اس نے نفیس کے بدلتے تاثرات دیکھے۔ اس کے چہرے پر یکدم ہتک نمودار ہوٸ تھی۔۔

“بہت غرور ہے ناں خود پر تمہیں۔۔؟”

“جی ہے تو۔ آپ کو کوٸ مسٸلہ ہے۔۔؟”

رک کر ایک دم برہمی سے پوچھا تو نفیس نے دانت پیسے۔۔

“ویسے تو بڑی تمیز دار ہو، لوگ تو کہتے ہیں امل کو بات کرنے نہیں آتی کسی سے۔ کچھ پوچھو تو جواب دینا نہیں آتا اور اگر جو انہوں نے تمہاری یہ شعلہ بیانی سن لی تو ساری غلط فہمی دور ہوجاۓ گی ان کی۔۔”

اس نے کندھے اچکاۓ۔۔

“غلط فہمی کا شکار وہ ہیں تو رہیں۔ میں نے نہیں کہا تھا لوگوں کو کہ میرے بارے میں اندازے قاٸم کریں۔ میں جو ہوں جیسی ہوں اگر انہیں یا کسی اور کو بھی”

ایک پل کو اسے دیکھ کر آنکھیں گُھماٸ تھیں۔

“مجھ سے مسٸلہ ہے تو نہ آیا کریں میرے گھر۔۔ نہ کیا کریں مجھ سے بات۔ میں تو کسی کے پیر نہیں پڑی جاکر کہ آٸیں مجھ سے بات کریں۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں دماغ خراب کرنے۔۔”

“ہونہہ” سر جھٹکا۔۔

“آج بڑی غلط فہمی دُور ہوگٸ ہے میری ویسے۔۔”

اسے چُبھتی ہوٸ نظروں سے دیکھ کر وہ بولا تو امل نے سیاہ لٹ کان کے پیچھے اڑسی، چاندی کی بالی ایک لمحے کو چمکی تھی۔۔

“ہوگٸ ناں۔۔ آٸندہ مجھ سے بات مت کیجٸے گا اور اگر آپ کو کوٸ پرابلم ہے تو وہ رہا دروازہ۔۔”

ہاتھ لمبا کرکے اسے داخلی دروازہ دکھایا۔۔

“آپ جاسکتے ہیں۔۔”

تنے تاثرات لیۓ وہ اس کے منہ پر دروازہ گویا بند کرکے پلٹی تھی۔ کمر پر گرتے ریشمی سے بال لہرا گۓ تھے۔ کُھلے ٹراٶزرز میں اسکا قد اور دراز لگ رہا تھا۔ چاندی کی بالیاں اس کی چال پر ہلکورے لے رہی تھیں۔ اسی وقت ارجمند کچن سے نکلیں تو اسے ناگواری سے دیکھا۔ امل جو پہلے ہی گُھومے ہوۓ دماغ کے ساتھ کچن کی جانب بڑھ رہی تھی۔ نوٹس لیۓ بغیر آگے بڑھی۔

ارجمند نے کلس کر اسے آواز دی تھی۔

“امل۔۔ !”

اس نے بس چہرہ گُھمایا تھا۔ کچھ اور عورتیں بھی دونوں کی جانب متوجہ ہوگٸ تھیں۔۔ دور سے شاید وہ نفیس کو اس کے ساتھ بات کرتا دیکھ چکی تھیں اور اسی بات پر انہیں بے طرح غصّہ چڑھا تھا۔

“یہ کیا تم نے بال کھول رکھے ہیں اپنے ہاں۔۔؟ تمہیں تھوڑے دنوں پہلے سمجھایا نہیں تھا میں نے کہ یوں اس طرح مت گھوما کرو۔ لوگوں کا ایمان خراب کرنے پر تُلی ہوٸ ہے یہ لڑکی۔”

ایک پل کو سب کچھ رُک سا گیا۔ لاٶنج میں براجمان سارے مہمان اب ان دونوں کی جانب پوری طرح سے متوجہ تھے۔ داخلی دروازے سے اندر آتا ولی بھی ٹھہر سا گیا تھا۔

وہ “اچھا” والے انداز میں ان کی جانب مُڑی تھی۔ پھر ہاتھ باندھ کر انہیں سرد نظروں سے دیکھا۔۔

امل غصّے میں تھی۔۔ سخت غصّے میں۔۔

پہلے بیٹا اور اب یہ اس کی ماں۔۔!

“کوٸ پرابلم ہے آپکو۔۔۔؟ کوٸ مسٸلہ۔۔۔؟”

اس کی آواز برف ہورہی تھی۔ ارجمند اس کے انداز پر گڑبڑا سی گٸیں۔۔

“میں تمہیں اچھی بات سمجھا رہی ہوں اور تم اُلٹا مجھ سے بدتمیزی کررہی ہو۔۔ ارے دیکھو تو ذرا اس ٹانگ جتنی لڑکی کو۔۔”

وہ اب اونچا بول کر سب کو متوجہ کررہی تھیں۔۔ بی جان بھی کچن کے دروازے میں چلی آٸیں۔ مگر امل ویسے ہی کھڑی رہی۔

“یہ اچھی بات جا کر اپنی بیٹی کو سمجھاٸیں تاٸ جان کیونکہ مجھے تو میرے بابا نے کبھی بھی بال کھولنے سے منع نہیں کیا۔ نہ ہی میری بی جان کو اس سے کوٸ مسٸلہ ہے۔ اگر مسٸلہ ہے تو آپ کو یا آپ کے بیٹے کو ہے۔ لیکن میں نے آپ لوگوں کو خوش کرنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے کہ جیسے آپ چاہیں گے میں خود کو ویسے ویسے ڈھالتی جاٶں۔ مجھے کھلے بال اچھے لگتے ہیں۔ اور میں انہیں ایسے ہی کھول کر رکھونگی۔ آپ کی بیٹی بال اسی لیۓ نہیں کولتی کیونکہ اس کے بال کھولنے لاٸق ہیں ہی نہیں۔۔ سو۔۔”

وہ رُکی۔۔ آنکھیں اب تک ویسے ہی سپاٹ تھیں اور لہجہ سرد۔ ارجمند کی آنکھیں پوری کی پوری کُھل گٸ تھیں۔۔

“مجھے آٸندہ اس طرح مت کہیٸے گا تاٸ جی۔ میں بہت عزت کرتی ہوں آپ کی اور میں نہیں چاہتی کہ مجھ سے کوٸ گستاخی سرزد ہوجاۓ۔ کیونکہ میری زبان کا ذاٸقہ تو اب تک آپ چکھ ہی چکی ہونگی۔۔”

آخر میں مسکرا کر پلٹی تو ولی ہلکا سا مسکرایا۔۔

ارجمند نے کھنکھار کر جیسے آس پاس جمی بے عزتی کو ختم کیا تھا۔ زمانی نے کچن میں داخل ہوتی امل کو خفگی سے دیکھا تو اس نے شانے اُچکاۓ۔۔

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکراتا ہوا باہر کی جانب بڑھا تھا۔

“واقعی۔۔ کیا تیکھا ذاٸقہ ہے آپ کی زبان کا بی بی۔۔”

لان کے دوسری طرف جاتے ہوۓ وہ بڑبڑایا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

نگار بیگم اور ہاشم بہت سے مہمانوں کو لے کر رسم کے لیۓ حویلی کے اندر داخل ہوۓ تو بے اختیار شور سا اُٹھا۔ لڑکیاں داخلی دروازے پر جمیں ہاتھوں میں گلاب کی پتیوں سے بھری پلیٹیں اُٹھاۓ ہوٸ تھیں۔ اس نے بھی ایک پلیٹ پکڑ رکھی تھی اور ساتھ ہی ناجیہ بھی کھڑی تھی۔ رونے کے باعث جو میک اپ خراب ہوگیا تھا وہ پھر سے ٹھیک کر کے اب وہ پژ مردگی سے پلیٹ اُٹھاۓ ہوۓ تھی۔۔ اس کے ساتھ کھڑی امل کا مُوڈ بھی کافی حد تک آف ہوچکا تھا۔۔ اگر جو شادی اس کے بھاٸیوں کی نہ ہوتی تو وہ کمرے میں سورہی ہوتی اس وقت۔

بیزاری سے مہمانوں کو دیکھتے وہ سوچ رہی تھی۔۔

گھر میں لڑکی والے داخل ہوۓ تو ان پر پھول برساۓ گۓ۔ نگار بیگم اور بی جان دروازے میں کھڑیں ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں۔ مبارک بادوں اور حال چال کے بعد سب کو سجے سجاۓ ٹی وی ہال میں لا بٹھایا گیا۔ پھر کچھ دیر بعد نثار اور بختیار کو بھی جُھولے پر بٹھایا گیا۔ سفید کُرتوں میں ملبوس اس کے دونوں بھاٸ بھرپور انداز میں مسکرا رہے تھے۔

اس نے پلیٹ رکھ کر ہاتھ آپس میں رگڑے۔۔ ٹھنڈ بڑھ گٸ تھی۔ ناجیہ نے بھی اس وقت ہاتھ رگڑے تھے۔۔

“ٹھنڈ کتنی بڑھ گٸ ہے ایک دم سے۔۔”

ناجیہ نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔ پھر گردن گھما کر ولی کو تلاشا۔۔ وہ نظر نہیں آیا تو نگاہیں مایوس سی پلٹ آٸیں۔۔ کچھ دیر بعد اس نے بھی آگے بڑھ کر دونوں بھاٸیوں کے سر سے پیسے وار کر رسم کی اور ایک پتے پر ملی ہلدی میں سے ذرا سی لے کر دونوں کے چہروں پر لگاٸ۔۔ بختیار مسکرا رہا تھا البتہ نثار جھنجھلایا تھا۔۔ مگر اس نے شرارت سے ذرا سی ہلدی لے کر اس کی ناک پر لگاٸ تو بہت سے قہقہے بلند ہوۓ۔ رسم ہوٸ تو کھانا شروع کردیا گیا۔ اب لوگ چھٹ کر ادھر ادھر ٹولیوں میں بٹے کھانا کھا رہے تھے۔۔

اس نے بھی اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے چاول لیۓ اور بھوک بالکل نہ ہونے کی وجہ سے چمچ ادھر ادھر کرنے لگی۔ بار بار نظریں داخلی دروازے تک جا کر پلٹ آتی تھیں۔۔ پتہ نہیں کہاں رہ گیا تھا وہ۔۔۔؟ جب دل بے چین ہونے لگا تو وہ اُٹھ کر دروازے کے پاس چلی آٸ۔۔ پتھریلی روش پر ذرا آگے کو قدم بڑھاۓ اور لان کی جانب دیکھا تو وہ اسے نظر آ ہی گیا۔۔ دور بچھی چارپاٸیوں پر وہ ڈیرے کے بہت سے ملازمین کے ساتھ بیٹھا تھا۔ کسی ملازم کی بات سنجیدگی سے سُنتا۔۔ اس نے کبھی بھی خود کو اس گھر کا فرد بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس وقت بھی ملازموں کے درمیان بیٹھے اس نے خود کو واقعی اس گھر کا ملازم سمجھا تھا۔۔ نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم۔۔

ولی نے بات سُنتے سُنتے ذرا سا رُخ روش کی اس جانب کیا جیسے کسی کو دیکھتا پاکر وہ اس طرف متوجہ ہوا تھا۔۔ امل بے اختیار اطراف میں بنی جھاڑیوں کی اوٹ میں ہوگٸ۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے کی بات اسے بالکل بھی نہیں بُھولی تھی۔۔

بے دلی سے پلیٹ پکڑے وہ اندر آٸ۔ کچن میں آ کر پلیٹ رکھی اور پھر لاٶنج میں بیٹھیں بی جان کی طرف آٸ۔۔

“بی جان میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں کمرے میں جارہی ہوں اپنے۔۔”

کہہ کر وہ زینے چڑھتی اپنے کمرے میں آگٸ۔۔ اور پھر دوپٹہ ایک جانب کو ڈال کر لیٹ گٸ۔ دل بہت بوجھل ہورہا تھا اور ولی احمد بے طرح یاد آرہا تھا۔

لان میں بیٹھے ولی نے گردن ذرا اُٹھا کر اس کے کمرے کی جلی لاٸٹ کو دیکھا اور پھر گہرا سانس لیتا دوبارہ سے ملازمین کی طرف متوجہ ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔

“توبہ بھٸ۔۔ توبہ ہے اس لڑکی کی زبان سے۔ ایک ذرا سی بات کیا کردی میں نے وہاں پچاس لوگوں کے درمیان رگڑ کر رکھ دیا اس نے مجھے۔ ارے میں کہتی ہوں کہ ایسی زبان دراز لڑکی کو کیوں بناٶں اپنے گھر کی بہو۔۔ غضب خدا کا۔۔۔ نہ کوٸ تمیز تہذیب نہ بڑوں سے بات کرنے کا سلیقہ ہے اسے۔۔ توبہ۔۔”

غصّے سے مرچیاں چباتی ارجمند کا بس نہ چلتا تھا کہ امل کی گردن کُچل کر رکھ دے۔ رہ رہ کر انہیں اپنی بھرے مہمانوں کے گھر میں ہوٸ بے عزتی یاد آرہی تھی۔۔ ایک جانب صوفے پر تھکی تھکی سی بیٹھی ناجیہ نے بیزاری سے دیکھا تھا انہیں۔۔

“تو کیا ضرورت تھی آپ کو اتنے لوگوں میں اسے کچھ بولنے کی۔۔؟ اس دن بھی وہ آٸ تو آپ نے کہیں کا غصّہ کہیں اتار دیا ظاہر ہے پھر کون برداشت کرتا ہے اتنا۔۔ وہ بال کھولے یا پھر باندھے اس سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔؟”

اس پر ولی کے رویے کی کثافت چڑھی تھی اسی لیۓ بیزاری سے ماں کو کہہ دیا۔ کوٸ اور وقت ہوتا تو وہ بہت لطف اندوز ہوتی اس ساری گپ شپ سے مگر ابھی۔۔ ابھی دل پر بہت کچھ جما ہوا تھا۔ اسی وقت نذیر اور نفیس لاٶنج میں آکر بیٹھے۔۔

“ہاں تو میں تمہارے لیۓ ہی بول رہی تھی عقل سے پیدل۔۔”

انہوں نے ہاتھ نچا کر کہا تو اس نے صوفے کی پشت پر گرا سر اٹھایا۔۔

“کیا مطلب۔۔؟”

“مطلب یہ کہ سارے لوگ اسے دیکھ رہے تھے، چہ مگوٸیاں کررہے تھے کہ کیسی حسین لڑکی ہے، ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ کس کی بیٹی ہے، کہیں رشتہ ہوا ہے اس کا یا نہیں اور ایک تم ہو۔۔!

ہم عمر ہو تم اس کی مگر مجال ہے جو کسی نے تمہاری طرف ذرّہ بھر بھی توجہ دی ہو۔ سب اسے ہی دیکھ رہے تھے اسے ہی سراہ رہے تھے۔ میں نہیں برداشت کرسکتی تھی اس سے زیادہ۔۔ اور یہ جو بھاٸ ہے تمہارا۔۔”

ایک سخت نظر نفیس پر ڈالی تو وہ خفیف سا ہو کر نظریں چُرا گیا۔۔

“کیسے پیچھے پڑا ہوا ہے اس کے۔۔ دیکھ لیا ناں کہ کتنی عزت کی ہے اس نے تمہاری اور میری اس بھرے مجمعے میں۔۔ کل ہی کہونگی حسن سے کہ یہ رشتہ واپس لیں۔ ہمیں نہیں کرنی ہے ایسی بدزبان لڑکی۔۔”

غصّے سے کھولتیں وہ دُکھتے پیر اوپر کو چڑھا کر بیٹھیں تو نفیس اور ناجیہ بیک وقت سیدھے ہوۓ۔۔ نذیر البتہ سب کچھ انتہاٸ غیر دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔

“میرا اور امل کا کیا مقابلہ بھلا۔۔”

ناجیہ نے بگڑ کر کہا مگر نفیس اپنی ہی کہہ رہا تھا۔۔

“کیوں لیں گی آپ رشتہ واپس۔۔۔؟ کوٸ ضرورت نہیں ہے ایسا کچھ بھی کرنے کی۔ میں اسی سے شادی کرونگا اور اس گھر کی بہو بھی وہ ہی بنے گی بس۔۔”

ہاتھ اُٹھا کر کہتا وہ ایک دم ہی بہت مدبّرانہ سا نظر آنے کی کوشش کررہا تھا مگر آگے سے ارجمند چمک کر بولیں۔۔

“اور ابھی کچھ دیر پہلے جو تمہاری عزت افزاٸ کی ہے اس نے وہ۔ کیا وہ بھول گۓ ہو۔۔؟”

اس کے کان سُرخ ہوۓ۔۔

“میں نکال دونگا سارے کس بل اس کے اندر سے مگر پہلے اسے اس گھر میں آنے دیں۔۔ سارے بدلے لونگا اس سے میں۔ مگر اب دوبارہ رشتہ واپس لینے کی بات نہیں کرینگی آپ”

“تم نے دیکھا کیا ہے اس میں آخر۔۔؟”

نذیر نے پہلی دفعہ بہت بیزاری سے کہا تو نفیس مسکرایا۔۔

“ایک بات ہے نذیر۔۔ وہ جو بھی ہو جیسی بھی زبان کی ہو مگر اس جیسی خوبصورت اس پورے گاٶں میں کوٸ نہیں ہے۔ وہ میری ہے اور میری ہی رہے گی۔۔”

نذیر پھر سے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا تھا۔ ارجمند نے آنکھیں نکال کر اسے دیکھا۔۔

“دیکھو تو ذرا کیسی بے شرمی سے ذکر کررہا ہے اسکی خوبصورتیوں کا۔۔۔! اسی لیۓ بری لگتی ہے وہ مجھے کہ کسی بھی مرد کو لُبھانے سے باز نہیں آتی۔۔ ایک ذرا سی شکل کیا اچھی مل گٸ ہے ہمارے لیۓ مصیبت ہوگٸ ہے۔۔”

وہ اب تک غصّے میں اسے جلی کٹی سُنا رہی تھیں مگر وہ کسی بھی بات کی پرواہ کیۓ بغیر اُٹھ گیا۔ نذیر بھی اس کے ساتھ ہی اُٹھا تھا۔۔

“دیکھو تو نفیس کو۔۔! کیسے ماں کے منہ پر بول کر گیا ہے۔ ارے بیڑا غرق ہو اس امل کا۔۔ میرا بیٹا مجھ سے جُدا کردیا اس نے۔۔”

بلند آواز میں امل کو غاٸبانہ کوسنے دیتیں وہ ابلتے غصّے کو باہر نکال رہی تھیں۔۔ ناجیہ بھی بے دلی سے اُٹھ گٸ تو وہ کچھ دیر بڑبڑا کر چُپ ہوگٸیں۔۔ زرد روشنیاں ویسے ہی لاٶنج کو منور کیۓ ہوۓ تھیں۔۔

دوسری جانب بی جان نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوٸیں تو ایک پل کو انہیں کچھ دِکھاٸ ہی نہ دیا۔ ٹٹول کر دیوار پر بٹن تلاشا اور پھر ایک دم سے بٹن پر ہاتھ لگتے ہی کمرہ جیسے روشنیوں میں نہا گیا۔ وہ بیڈ پر لیٹی بازو آنکھوں پر رکھے ہوۓ تھی۔ ایک پل کو بازو ہٹایا اور پھر سے رکھ لیا۔

“لاٸٹ بند کردیں بی جان۔۔”

اس کی کمزور سی آواز سناٸ دی تو بی جان کمرے میں چلی آٸیں۔۔ پیچھے ہی زمان داخل ہوۓ تھے۔ کھنکھارے تو وہ بے ساختہ اُٹھ بیٹھی اور بیڈ پر گرا دوپٹہ اُٹھا کر شانوں پر پھیلایا۔۔ گلابی لباس ملگجا سا ہوگیا تھا اور بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔

“کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی ہاں۔۔؟ اور یہ کیا تھا کچھ دیر پہلے ۔۔؟”

بی جان کی خفگی پر اس نے انجان بنتے ہوۓ انہیں دیکھا۔

“کیا۔۔۔؟ کیا کیا ہے میں نے۔۔۔؟”

زمان بھی سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ چکے تھے اور اب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔

“انجان مت بنو۔۔ ابھی جو ارجمند بھابھی کے ساتھ تم نے کیا وہ کیا تھا۔۔؟ کتنی بُری بات ہے ایسے سب کے سامنے انہیں جواب دینا۔۔”

ابرو باہم ملاۓ وہ بہت خفگی سے بول کر زمان کے ساتھ ہی بیٹھ گٸیں۔۔

“تو کیا اکیلے میں کہتی ان سے یہ سب؟”

معصومیت سے پوچھا۔ زمان نے بے اختیار مسکراہٹ دباٸ تھی۔۔

“چہ۔۔ میں کیا پوچھ رہی ہوں تم کیا جواب دے رہی ہو۔”

ان کی خفگی سوا ہونے لگی۔۔

“تمہیں عادت کا پتہ نہیں ہے کیا ارجمند بھابھی کی۔۔؟ کسی بات پر غصّے میں آجاٸیں تو بہت بُری طرح پیش آتی ہیں وہ۔۔”

“جی اور جس طرح تھوڑی دیر پہلے میرے ساتھ پیش آٸیں تھیں شہد تو وہ بھی نہیں تھا۔۔ میں کیا کوٸ دیوار ہوں یا گھر میں رکھا کوٸ پودا ہوں جسے جو دل چاہے بول دو۔ انہوں نے بھی سب کے بیچ میں بہت نازیبہ طریقے سے بہت غلط بات کہی تھی مجھے۔۔ اگر عزت اتنی ہی پیاری ہے تو نہ کہیں اُلٹی سیدھی باتیں۔۔ اور بی جان۔۔ میں نے بالکل بھی کوٸ بدتمیزی نہیں کی ان سے۔ کیا میں چلّاٸ تھی ان پر۔۔؟ یا میں نے کوٸ ایسی بات کہی جو مجھے نہیں کہنی چاہیۓ تھی۔۔۔؟ نہیں ناں۔۔ میں نے صرف ان کے الفاظ ان کو لوٹاۓ تھے تاکہ ذرا انہیں بھی معلوم ہو کہ ان کے لفظ کتنے کڑوے کسیلے ہوتے ہیں۔۔”

وہ ایک سانس میں بول کر خاموش ہوٸ تو چند پل بی جان کچھ بول ہی نہ سکیں۔۔ زمان بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔

“لیکن پھر بھی امل۔۔ تمہیں نہیں بات کرنی تھی ایسے ان سے۔۔ وہ بڑی ہیں۔۔ نہ صرف مجھ سے رشتے میں بڑی ہیں بلکہ خاندانی لحاظ سے بھی ان کا رُتبہ بلند ہے۔ ہمیں آگے والے کو دیکھ کر بات کرنی ہوتی ہے بچے۔۔”

ان کا لہجہ نرم ہوا تھا اب کے۔ مگر امل نے نفی میں سر ہلایا۔۔ جیسے ان کی بات سے اختلاف ہو۔۔

“بی جان بڑا ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔؟ بڑا ہونے کا مطلب ہوتا ہے بڑی قربانیاں دینا۔۔ بڑا ہونے کا مطلب ہوتا ہے چھوٹوں کی غلطیوں پر ان کو سبھاٶ سے سمجھانا۔۔ بڑا ہونے کا مطلب ہوتا ہے بہت بہت برداشت کرنا۔۔ بڑا ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ دوسروں کو معاف کرنا ۔۔ یہ جو ہمارے بڑے ہیں، رُتبے اور عمر کے فرق کی وجہ سے خود کو اتنا اعلیٰ گردانتے ہیں کہ گویا چھوٹے تو قدموں کی دُھول ہوں۔۔ انہیں جو بھی کہیں یہ سر جھکا کر اچھا بُرا پی جاٸیں۔۔ جواباً بات غلط ہو یا صحیح اف تک نہ کریں۔ یہ ہے ان کا بڑا پن۔۔ لیکن بی جان میں ایسی ہرگز بھی نہیں ہوں۔ میں اکیسویں صدی کی لڑکی ہوں،انیس سو پینسٹھ کی کوٸ دوشیزہ نہیں ہوں جسے سو باتیں بھی سُنا دو تو وہ گُونگی بہری بن کر سُنتی رہے، یا پھر غلط صحیح کی پہچان کیۓ بغیر ہاں جی ہاں جی کرتی رہے۔۔ احترام اگر انہی باتوں کا نام ہے پھر تو مجھے واقعی یہ سب کرنا نہیں آتا۔۔ اور رہی بات یہ کہ آگے والے کو دیکھ کر بات کرنی چاہیۓ تو بی جان میں نے بھی آج انہیں سمجھا دیا کہ میں کوٸ بے زبان پودا یا کونے میں پڑا کاٹھ کباڑ نہیں ہوں جسے وہ جو کہیں گی کہتی رہیں۔۔ آج کے رویے کے بعد وہ مجھے آٸندہ کچھ بھی کہنے سے پہلے سو دفعہ سوچیں گی۔۔”

بنا سانس لیۓ بہت روانی سے نرم مگر مضبوط لہجے میں بول کر وہ چپ ہوٸ تو زمان نے گردن ذرا ترچھی کر کے گلابی جوڑے میں کِھلتی سی امل کو دیکھا۔۔ بی جان تو سکتے میں ہی چلی گٸ تھیں۔۔

“امل۔۔۔۔”

بے یقینی سے بس یہی نکلا تھا ان کے منہ سے۔۔

“میں نے تمہیں یہ سب تو نہیں سکھایا تھا۔۔”

بہت صدمے سے انہوں نے کہا تو امل ان کی معصومیت پر مسکراٸ۔۔

“بالکل۔۔ آپ نے مجھے نہیں سِکھایا یہ سب، حالانکہ آپ کو سِکھانا چاہیۓ تھا۔ یہ سب میں نے خود سیکھا ہے بی جان اپنی محنت سے۔۔ اسے آپ میرے تجربے کا نچوڑ سمجھ لیں۔۔”

اب کے اس نے زمان کو دیکھا تو وہ کھل کر مسکراۓ۔۔

“وہ کہہ تو رہی ہے زمانی کے اس نے بدتمیزی نہیں کی بھابھی سے پھر تم کیوں پریشان ہورہی ہو۔۔؟ بھابھی نے جو بھی کہا نہیں کہنا چاہیۓ تھا انہیں۔ اب تم چھوڑو اس قصّے کو اور چل کر سوجاٶ۔ میں تو سمجھا پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے۔۔ لیکن اب میری بیٹی کی بات سننے کے بعد مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ اپنے مسٸلے خود سُلجھانے کی اہلیت رکھتی ہے۔”

چہرہ پھیر کر ایک نظر اسے دیکھا تو اس کے دل سے اندیکھا سا بوجھ ہٹا۔۔ چلو کم از کم آغا جان تو اسے سمجھتے تھے۔۔

بی جان مان گٸیں مگر اب بھی اس سے خفا ضرور تھیں۔۔

“آٸندہ ایسا کچھ بھی ہو تو خود نہ سارے حساب کتاب برابر کرنے کھڑی ہوجانا۔ مجھے بتانا میں خود بات کرونگی۔۔”

“ہاں جی۔۔ آپ کو بتادوں تو آپ جی جی میں سر ہلاتی رہیں۔۔”

“اب زیادہ نہ بولو ماں کے سامنے۔۔ چند کتابیں پڑھ کر بولنا آگیا ہے بڑا۔”

خفگی سے اسے دیکھتیں وہ کمرے سے باہر نکلیں تو زمان بھی مسکراتے ہوۓ اُٹھے۔۔ پھر اس تک آۓ۔۔ سر پر ہاتھ رکھا۔۔ وہ ان کی شفقت پر مسکراٸ تھی۔۔

“میری بیٹی بہت سمجھدار ہوگٸ ہے۔ معاملات کو سمجھتی ہے اور انہیں حل کرنا بھی جانتی ہے۔۔ لیکن اگر کوٸ تمہارے اس حق بجانب ہونے پر تم سے بدلہ لے تو تم اپنے بابا کے پاس آٶ گی۔۔ اور اگر بابا کے پاس نہ آسکو تو ولی کے پاس جانا۔ ہم دونوں برابر ہیں تمہارے لیۓ۔۔”

آخری بات پر اس کے چہرے پر کھیلتی مسکراہٹ غاٸب ہوٸ تھی۔۔ زمان اس کا گال تھپتھپا کر باہر کی جانب بڑھے مگر وہ بیٹھی رہ گٸ۔۔

“ہم دونوں برابر ہیں تمہارے لیۓ۔۔”

آغا جان کے جملے کی بازگشت اب تک سماعت میں اتر رہی تھی۔۔ پھر گہرا سانس لے کر اُٹھ گٸ۔۔ عشاء کی نماز ابھی پڑھنی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

تین راتیں قبل۔۔

ہاشم اپنے کمرے کی جانب اُلٹے قدموں دوڑا تھا۔ چہرے پر عجیب سی بے چینی تھی اور دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ کمزوری۔۔ ولی احمد کی کمزوری تھی جو اس کے ہاتھ لگ گٸ تھی۔۔ ایسا لگ رہا تھا گویا ہفتِ اقلیم ہاتھ آگیا ہو۔۔ کمرے کا دروازہ احتیاط سے مقفل کر کے وہ اندر آیا اور پھر موباٸل قمیض کی جیب سے نکال کر جلدی جلدی کوٸ نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔۔ اس کے چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا اور ہاتھوں میں اندیکھی سی لرزش تھی۔۔

“حسن۔۔ حسن شاہ، تم نے کہا تھا کہ ولی کی کوٸ کمزوری چاہیۓ تمہیں۔۔ یہی ناں۔۔ حسن اس کی کمزوری میرے ہاتھ لگ گٸ ہے۔ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے جسے پانے کی اوقات تک نہیں ہے اس کی۔ اور جانتے ہو صرف میں دُشمن نہیں ہوں اسکا۔۔ اس معاملے میں تو اس لڑکی کے بھاٸ بھی خون کے پیاسے ہوجاٸیں گے اس کے۔۔ “

تیز تیز دھیمی آواز میں بولتا وہ بہت پُرجوش سا لگ رہا تھا۔۔ بار بار ہاتھ کی پشت سے پیشانی پر آیا پسینہ بھی صاف کرلیتا اور مُڑ کر محتاط سا دروازے کو بھی دیکھ لیتا۔۔

“ہاں آٶنگا کل میں تمہارے ڈیرے پر۔۔ مجھ سے تو یہ رات ہی نہیں گزاری جاٸیگی۔۔”

پھولی سانس کے ساتھ ایک کمینی سی مسرت میں بولتا وہ ذہنی مریض لگ رہا تھا۔ پھر الوداعی کلمات کہہ کر فون رکھتا جیسے ہی پلٹا اس کا موباٸل دوبارہ بج اُٹھا۔۔

اچھنبے سے آنکھیں چھوٹی کرکے اس نے نمبر کو دیکھا اور پھر کال اُٹھا کر موباٸل کان سے لگایا۔۔

دوسری جانب کی بات سُن کر بے اختیار تیوری چڑھی اور دانت جم گۓ۔۔

“اس کرم کا کچھ کرنا پڑے گا حفیظ۔۔ میں آتا ہوں صبح ڈیرے پر پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔”

فون رکھ کر موباٸل بیڈ پر ڈالا اور تنے چہرے کے ساتھ کمرے میں داٸیں سے باٸیں اور پھر باٸیں سے داٸیں ٹہلنے لگا۔۔ گھڑکی کی ٹِک ٹِک ویسے ہی جاری تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

اسے لا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پٹخا گیا تو وہ بلبلا کر دوبارہ سلاخوں تک بھاگتا آیا۔۔ آفیسر اب جھک کر سخت چہرے کے ساتھ تالا لگا رہا تھا۔۔ اس نے سلاخوں کو زور سے جھٹکا دیا۔۔

“مجھے نکالو باہر یہاں سے۔ میں بے قصور ہوں میں نے اس لڑکی کے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے۔ جھوٹ بول رہی ہے وہ۔ میری بات سُنو کھولو یہ تالا۔۔”

اپنی بات پر کوٸ بھی ردِعمل نہ پاکر اس کا دماغ بھنّا اٹھا تھا۔۔ ایک بار پھر سلاخوں کو جھٹکا دیا مگر وہ زمین میں اسی طرح گڑھی رہیں۔۔ البتہ جھک کر تالا لگاتے آفیسر نے کرخت سا چہرہ اٹھا کر اسے ضرور دیکھا تھا۔۔

“مجرم کے یہ بول دینے سے کہ اس نے کچھ نہیں کیا وہ بے گناہ نہیں ہوجاتا۔ اگر تُو نے وہ سب نہیں کیا تو پھر کیا اس لڑکی نے شوقیہ نام لیا ہے تیرا۔۔؟ چپ کر کے پڑا رہ اندر۔۔”

ناگواری سے کہہ کر وہ آگے بڑھا تو اس کی آنکھیں غصّے سے نم ہو گٸیں۔۔ دانت پر دانت اتنی زور سے جماۓ کہ کنپٹی کی رگ تک پھڑک اُٹھی۔۔

“تم سب جانتے ہو کہ میں بے قصور ہوں۔۔ بے گناہ ہوں میں۔۔ سب پتہ ہے تم لوگوں کو مگر ہاشم کی مریدی میں ایک لفظ تک منہ سے نکالنا حرام ہے تم جیسے حرام زادوں کا۔۔”

بہت بلند پھٹتی آواز میں اس نے کہا تو ٹیبل کے پیچھے کُرسی پر بیٹھا تھانے کا اے ایس پی تپ کر اس کی جانب گُھوما۔۔

“اے لڑکے ۔۔۔ زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمارے سامنے سمجھا۔۔ ایک طرف اس مولوی نے دماغ خراب کر رکھا ہے اور دوسری طرف تو اپنی کسر نکال کر اب سارا نزلہ بھی ہم ہی پر گِرا رہا ہے۔۔ چپ کر کے پڑا رہ اندر نہیں تو یہ جو ڈنڈا ہے ناں۔۔ بہت زور سے لگتا ہے۔۔”

اپنا مخصوص ڈنڈا اسے دکھا کر گویا دھمکایا مگر ولی کو اب کوٸ چیز نہیں ڈراتی تھی۔۔ سلاخیں زور سے پکڑے وہ آگے کو ہوا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر غرّایا۔۔

“میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے سمجھ لو تم سب بھی۔۔ اور رہا وہ ہاشم۔۔ اسے تو میں دیکھ لونگا۔۔ بلکہ باہر نکل کر میں تم سب کو دیکھ لونگا۔ ایک ایک کو اگر میں نے قبر کی مٹی نہ چٹاٸ تو میرا نام بھی ولی نہیں۔۔”

“اچھا۔۔ تو تمہیں لگتا ہے تم بہت طاقتور ہو ہاں۔۔ بہت زبردست ہو تم کہ اکیلے سب کا مقابلہ کرلوگے۔۔ ہم سب کا۔۔ اور ساتھ میں اس ہاشم کا بھی۔۔۔! وہ جسے ایک دنیا اب جانور کے نام سے یاد کرتی ہے اس سے بدلہ لوگے تم۔۔۔؟ بیٹا ہوش کے ناخن لو اور جو بھی ہم کہیں خاموشی سے اس کا اعتراف کرلینا نہیں تو تم نہیں جانتے کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔ یہ تھانے بہت سے کیسس کو عدالتوں تک جانے ہی نہیں دیتے۔۔ ان کے فیصلے یہ بڑے بڑے ہاشم جیسے کمینے لوگ کیا کرتے ہیں۔۔ یہاں کے جج، جیوری اور جلّاد یہی لوگ ہوتے ہیں اور اگر جو بھی ان کے کسی بھی حکم کی روگردانی کرتا ہے تو انجام بہت بھیانک، بہت ہولناک ہوتا ہے۔۔”

وہ اس کے سامنے کھڑا اب کے اسے بہت ہمدردی سے سمجھا رہا تھا مگر ولی نے خون آشام نظریں اس پر گاڑھیں۔۔ سلاخوں کے قریب چہرہ لا کر جب وہ بولا تو آواز میں عجیب سی لرزش تھی۔۔ ایسی جیسے شدید طیش کے وقت ہوتی ہے۔۔ ایسی جیسے بہت کچھ سہہ لینے کے بعد بے خوفی کے وقت ہوتی ہے۔۔

“وہ ایسا اسی لیۓ بن گیا صاحب کیونکہ آپ اپنی ڈیوٹی کے وقت سو رہے تھے۔ آپ اور آپ جیسا ہر عوامی خدمت گار اگر اپنی ذمّہ داری کے ساتھ ایسے مجرموں کے ہاتھ روکیں تو نوبت کبھی بھی یہاں تک نہ آۓ۔ وہ ان فیصلوں کے جج، جیوری اور جلّاد صرف اس لیۓ بن جاتے ہیں کیونکہ آپ۔۔۔ آپ لوگ ان کو اتنی اجازت دیتے ہیں۔۔ اگر آپ یہ ڈنڈا۔۔”

اس کے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔

“اگر اسے مجھ جیسوں کو دکھانے کے بجاۓ انہیں دکھاتے تو آج میں نہیں وہ ان سلاخوں کے پیچھے ہوتا۔۔ مگر آپ کی بزدلی نے سب کچھ تباہ کردیا۔۔ اس معاشرے کے ہر تیسرے فرد کی تباہی کے ذمّے دار آپ جیسے لوگ ہیں لیکن سر۔۔ آپ لوگ ان بڑے لوگوں کو نوازتے نوازتے کیوں بُھول جاتے ہیں کہ جو بچ جاتے ہیں وہ ان سے بھی بڑے جانور بن جاتے ہیں۔۔ اور میں۔۔”

اپنے سینے کو بجایا۔۔

“جلد یا بدیر مگر ضرور۔۔ ایک دن ان سب سے بڑا جانور بن جاٶنگا اور ان کو کچّا نگلتے ہوۓ میرے حلق میں ایک دفعہ بھی پھندا نہیں لگے گا۔۔”

ایک جھٹکے سے سلاخیں چھوڑتا وہ دیوار سے لگ کر جابیٹھا مگر اے ایس پی اب تک جما ہوا تھا۔۔ بنا پلک جھپکے وہ اس نوعمر سے لڑکے کو دیکھے گیا جس کے لہجے کی تپش اور آنکھوں سے برستی آگ نے گویا اس کے اندر سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا تھا۔۔

دوسری جانب وہ گٹھنوں میں سر دیۓ مسلسل ایک ہی بات بڑبڑاۓ جارہا تھا۔۔

“میں ان سے بڑا جانور ہوں۔۔”

“میں ان سے بڑا جانور بن کر دکھاٶنگا”

اور یہ ہی وقت تھا کہ جب اس نے انتقام کے سفر پر نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس گاٶں کو چھوڑ کر، پڑھ لکھ کر کچھ بننے کی خواہش جیسے ان سلاخوں کے پار دم توڑ گٸ تھی اور اگر کچھ باقی رہ گیا تھا تو وہ چنگاری جو ہر پل اسے اندر ہی اندر سُلگا رہی تھی۔

“میں ان سے بڑا جانور بن کر دکھاٶنگا۔۔”

اسکی سرگوشی اب بہت سرد سی دھیمی آواز میں بدلتی جارہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

ہاشم تھانے میں دندناتا ہوا داخل ہوا تو ایک دم سے تھانے میں ہلچل سی مچ گٸ۔۔ کرسیاں بچھاٸ گٸیں، بے ساختگی سے سلام جھاڑے گۓ مگر وہ تو جیسے ادھر صرف ولی سے ملنے آیا تھا۔۔

“کچھ اعتراف کیا اس نے۔۔۔؟”

اے ایس پی نے اسے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ چارو ناچار بیٹھ ہی گیا۔۔

“کیا اس کے ساتھ یہ سب کرنا ضروری ہے۔۔؟”

ہاشم کی تیوری بے اختیار چڑھی تھی، آنکھوں میں اترتی ناسمجھی نے جیسے ہی ادراک کا لمحہ پار کیا اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ ٹیبل پر مار کر اے ایس پی کو گویا جگایا۔۔

“تو کیا تم ہمدردی کرنے لگے ہو اس سے۔۔؟ یا میری مدد کرنے کا ارادہ بدل لیا ہے تم نے۔۔ بولو۔۔ کیا ہوا ہے۔۔؟”

سرسراتے انداز پر اے ایس پی عبید کے ماتھے پر بل پڑے۔

“میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ اس کے ساتھ یہ سب کرنا کیا ضروری ہے۔۔؟ اگر اسےاپنی زندگیوں سے نکال باہر کرنا چاہتے ہو تو کسی اذیت کسی ذلت کے بغیر بھی کرسکتے ہو پھر اس سارے تماشے کی بھلا کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔۔؟”

اوہ۔۔ ہاشم بہت کچھ سمجھتا سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ پھر نفرت سے پُر لہجے میں گویا ہوا۔۔

“اس کا مطلب ہے کہ میں اس سے شدید نفرت کرتا ہوں اور اسے وہ موت دینا چاہتا ہوں جس میں اس کی سانس باقی رہے اور اندر سے اس کا وجود مر جاۓ۔ اس کی جان لے کر میں اسے ان عذابوں سے آزاد نہیں کرنا چاہتا۔۔ تم اس سے اعتراف کرواٶ اور مجھے زیادہ درس دینے کی ضرورت نہیں ہے، جیسے مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ تم خود کتنے نیک ہو۔”

ایک کٹیلی نگاہ اس پر ڈال کر وہ غرّایا تو اب کے اے ایس پی کی پیشانی لکیر کے جالوں سے بھر گٸ۔۔

“میں اس سے اسکی مرضی کے خلاف کیسے اعتراف کروا سکتا ہوں۔۔۔؟”

“ہاں جیسے تمہیں تو پتہ ہی نہیں ہے کہ کسی سے جبری اعتراف کس طرح کروایا جاتا ہے۔۔ دیکھو عبید۔۔”

اس نے ہاتھ اُٹھایا۔۔

“مجھے اس کا اعتراف چاہیۓ کسی بھی قیمت پر اور تم مجھے اس کا اعتراف لا کر دوگے۔۔ اگر تم یہ کام نہیں کرسکتے تو مجھے چھوڑ دو ایک گھنٹہ اس کے ساتھ اندر، اس سے میں خود سب کچھ کہلوا لونگا۔۔”

“مگر ہاشم وہ ایک نوعمر بچہ ہے۔۔ اس کے آگے زندگی پڑی ہے اور جسمانی تشدد کے بعد تو اچھے اچھے انسان ذہنی مریض بن جاتے ہیں، کوٸ اور راستہ دیکھ لو، ہزار طریقے ہیں معاملات سُلجھانے کے، اس طرح کا ظلم مت کرو جو تم آگے افورڈ نہ کرسکو کیونکہ انتقام کبھی ختم نہیں ہوتا۔۔ آج تم اسے جانور بن کر دکھا رہے ہو کل کو وہ بھی تمہیں جانور بن کر دکھاۓ گا اور یہ مت بھولنا کہ کارما بھی اسی کاٸنات کی ایک بہت واضح حقیقت ہے۔۔”

عبید کسی بھی طرح بس اسے قاٸل کرنا چاہ رہا تھا مگر ہاشم پر تو گویا کوٸ جنونی سی کیفیت سوار تھی بدلہ لینے کی۔۔ کوٸ آگ تھی اس کے اندر جو بجھاۓ نہ بجھتی تھی۔۔

“مجھے کچھ نہیں پتہ عبید اس سے اعتراف کرواٶ اور اگر اب تم اس قدر نرم دل کے ہوگۓ ہو کہ کسی پر تشدد نہیں کرسکتے تو میں بھیج دیتا ہوں اپنے آدمیوں کو، انہیں کسی پر رحم نہیں آتا۔۔ بولو۔۔۔ بتاٶ۔۔”

اے ایس پی چند پل ٹھنڈے تاثرات سے اس کا چہرہ تکتا رہا پھر اثبات میں سر ہلاتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔

“ٹھیک ہے میں کرواتا ہوں اس سے اعتراف مگر اس کے بعد کیا ارادہ ہے تمہارا۔۔۔؟ کیا کروگے اس بچے کے ساتھ۔۔۔؟”

ہاشم اس سوال پر مسکرایا تھا اور وہ ایسی مسکراہٹ تھی کہ عبید کی پیشانی پر ابھرا ہل بل ڈھیلا پڑ گیا۔۔

“اس کے بعد میں معافی تلافی کروا کر اسے واپس گھر لے جاٶنگا مگر تب تک ولی کے اندر موجود سب کچھ ختم ہوگیا ہوگا۔۔ ہاں بالکل ایسا ہی ہوگا۔۔ بالکل ایسا ہی ہونا چاہیۓ۔۔”

آخری جملے جیسے وہ خود سے بول رہا تھا بہت مدھم آواز میں۔۔ پھر چہرہ اُٹھا کر اے ایس پی کو دیکھا۔۔

“کوٸ رحم نہیں کرنا اس پر، اعتراف نہ کرے تو چمڑی اُدھیڑ کر رکھ دینا اس کی، کھال کھینچ لینا جسم سے مگر میں نہ نہیں سُنوں تمہارے منہ سے اب۔۔”

کہتے کے ساتھ ہی وہ اُٹھا اور کسی کی بھی جانب دیکھے بغیر جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا۔۔ اے ایس پی اب تک اپنی جگہ پر ساکت سا بیٹھا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *