Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 20) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 20) Part - 1
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
“گاڑی ڈیرے کی جانب موڑو نواز۔۔ جلدی کرو”
اس نے تیزی سے کہا تو نواز نے اسی تیزی کے ساتھ گاڑی کچے راستوں کے جانب پھیری۔ اس نے آگے بڑھ کر ڈیش بورڈ سے بلیو ٹوتھ لیا اور اسے کان میں جمایا۔۔
“محسن۔۔ کہاں ہو اس وقت تم۔۔؟”
“میں ابھی ابھی سپر مارکیٹ آیا ہوں۔ کچھ سامان خریدنا تھا۔۔ خیریت۔۔؟”
دوسری جانب جیسے وہ اس کی پریشان آواز سن کر الرٹ ہوا تھا۔۔
“فوراً ڈیرے پر پہنچو محسن۔ فوراً۔۔ ایک بہت بڑا مسٸلہ کھڑا ہوگیا ہے۔۔۔”
محسن نے آدھی ادھوری چیزیں چھوڑیں اور باہر کی جانب بھاگا۔ گاڑی میں بیٹھ کر ایگنیشین میں چابی گھما کر اس نے گاڑی تیزی سے موڑی تھی۔ اس قطار میں ایک تیسری گاڑی بھی شامل ہوگٸ تھی۔ سب سے آگے ولی اور نواز تھے۔ ان سے کچھ پیچھے اصغر اور محسن جو قریب ہی ایک سپر مارکیٹ میں کھڑا چیزیں خرید رہا تھا وہ بھی اب ان دو گاڑیوں کے پیچھے تھا۔۔
“سر آپ کی طبیعت۔۔”
“نواز میں نے کہا گاڑی تیز چلاٶ۔۔”
وہ اس پر ایک بار پھر چلایا تھا۔ راستہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اب کے اس نے گاڑی کی رفتار بہت تیز کردی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی اس کی بات حسن سے ہوٸ تھی۔ انہوں نے اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوۓ گاٶں سے شہر کو جاتے راستوں پر ناکہ بندی کروا دی تھی۔ جس کے باعث نہ تو کوٸ بغیر چیکنگ کے اندر جا سکتا تھا اور نہ ہی گاٶں سے باہر نکل سکتا تھا۔۔ ایک تسلی تو اسے ہوگٸ تھی کہ وہ اب گاٶں سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔۔ جہاں بھی ہونگے وہ گاٶں کے اندر ہی ہونگے۔۔ اور گاٶں کے اندر وہ انہیں ڈھونڈ سکتا تھا۔۔
آدھے گھنٹے بعد ڈیرہ آگیا تھا۔ اس نے تیزی سے قدم اندر کی جانب بڑھاۓ۔ کام کرتے لوگوں نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔ وہ کہیں سے بھی ولی نہیں لگ رہا تھا۔ چہرے پر چڑھا نقاب، بکھرے بال، عجیب حال حلیہ۔۔
نواز نے اندر آتے ہی سب کسانوں اور ملازمین کو اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے کو کہا۔۔ پتہ نہیں اس نے انہیں کیسے مطمٸن کیا ولی نہیں جانتا تھا لیکن اگلے پانچ منٹ میں ڈیرہ خالی پڑا تھا۔۔ اسی پہر باہر گاڑی رکنے کی آواز آٸ۔۔ اصغر تیزی سے اندر بھاگا۔۔ اسی کے پیچھے محسن بھی دوڑتا آرہا تھا۔۔
ولی نے چہرے سے مفلر کو نیچے کیا اور پھر تیزی کے ساتھ انسپیکٹر عبید کے بیٹے عدیل کو فون کرنے لگا۔۔ وہ اس وقت تھانے کا اے ایس پی تھا اور ولی سے اس کی عبید کی وجہ سے اچھی سلام دعا تھی۔۔
بے چینی سے ہونٹ کاٹتا وہ داٸیں سے باٸیں چکر لگاتا دوسری طرف کو جاتا فون سننے لگا تھا۔۔
“خیریت ولی۔۔ کیسے فون کیا آج۔۔؟”
“عدیل مجھے civil لباس میں کچھ پولیس فورس چاہیۓ۔۔”
عدیل اس کا دوست تھا یا نہیں لیکن اس نے اس کے چند ایک کام کر رکھے تھے تاکہ بعد میں وہ اس کے کام کرسکے۔ اس نے احسان اس لیۓ کیا تھا تاکہ اسے احسان کا بدلہ واپس احسان ہی کی صورت میں دیا جاۓ۔۔ یہی اس کا قانون تھا۔ یہی اس کا اصول تھا۔۔
“خیریت ہے ناں۔۔؟”
دوسری جانب موجود عدیل اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے سرچ وارنٹ پر نگاہ دوڑاٸ اور مزید اہلکاروں کو اشارہ کرتا باہر کی جانب بڑھا۔
ادھر اس کے آفس میں داخل ہوتا اصغر اپنی جگہ پر ہی ٹھہر گیا تھا۔۔ اس کے پیچھے آتا محسن بھی رک سا گیا۔۔
“شیخ زمان کی بیٹی اغواء ہوگٸ ہے عدیل۔۔!”
عدیل ایک جھٹکے سے رکا۔۔ آنکھوں میں بے یقینی اتری۔۔اصغر نے بے ساختہ آنکھیں میچیں تھیں۔۔
“شٹ۔۔۔! اور کیا تم بھی وہیں جانے کا سوچ رہے ہو جہاں میں جارہا ہوں۔۔؟”
پولیس اسٹیشن کے باہر civil اور وردی میں ملبوس بہت سی فورس کھڑی تھی۔
“تم کہاں جارہے ہو۔۔؟”
ولی بے طرح چونکا تھا۔۔ عدیل نے سرچ وارنٹ نگاہوں کے سامنے کیا۔۔
“ہاشم کے ہیڈ آٶٹس کا سرچ وارنٹ ہے میرے پاس ولی۔ میں پہنچ رہا ہوں پندرہ منٹ میں تم بھی وہاں پہنچو۔۔”
ولی نے اس کی بات پر پریشانی سے تھوک نگلا تھا۔ سارا ڈیرہ اس کے سر پر گھومنے لگا۔۔ پولیس فورس۔۔ اسے اندازہ تھا کہ سرچ وارنٹ پر پولیس کی بھاری نفری یہ کام سر انجام دینے نکلتی تھی۔۔ لیکن اتنی فورس میں سے وہ امل کو پولیس کی نظروں سے بچا کر کیسے نکال پاۓ گا۔۔ یا خدا۔۔
“عدیل۔۔ بی بی کو اتنی فورس میں سے بچا کر نکالنا میرے لیۓ بہت مشکل ہوگا۔ میں انہیں بہت عزت کے ساتھ رات کے اندھیرے میں، سب کی نظروں سے بچا کر گھر پہنچانا چاہتا ہوں۔۔ یہ مشکل ہوجاۓ گا۔۔ بہت مشکل ہوجاۓ گا۔۔”
“تم دھیرج رکھو ولی۔۔ وہ صرف تمہارے سردار بابا نہیں ہیں۔ ہم نے بھی غلامی اختیار کی ہے ان کی۔ تم پہنچو وہاں۔۔ انہیں کوٸ دیکھ کر بھی نہیں دیکھے گا۔ میں ہوں ان کا ہیڈ۔۔ میرے آگے کوٸ پر نہیں مار سکتا۔۔”
“میں بس پہنچ رہا ہوں۔۔”
دوسری جانب عدیل نے فون رکھا اور پھر گہرا سانس لیا۔۔
“آج آیا ہے اونٹ سہی معنوں میں پہاڑ کے نیچے۔۔ خیر مناٶ ہاشم حسین۔۔”
بڑبڑا کر اب وہ اپنی جِیپ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔ ولی جیسے ہی فون کان سے ہٹا کر پلٹا اصغر کو دیکھ کر چونک گیا۔ اصغر آگے بڑھا۔۔ اسے دونوں ہاتھوں سے تھاما اور اس کے آنکھوں میں دیکھا۔۔ اس کی آنکھیں بے حد سرخ ہورہی تھیں، کندھے میں اٹھتے درد سے ہونٹ سفید پڑنے لگے تھے اور خوف زدہ خیالات سے اس کا سانس خشک ہوا جارہا تھا۔۔ اسے اس وقت ان لفظوں کی بہت ضرورت تھی۔۔ بہت زیادہ۔۔
“ہم۔۔ انہیں۔۔ ڈھونڈ لیں گے ولی۔ یقین کرو ہم انہیں ڈھونڈ لیں گے۔۔”
اس نے بمشکل اثبات میں سرہلایا اور پھر محسن کی جانب متوجہ ہوا۔
“گاٶں میں موجود ہمارے جتنے بھی دوست ہیں، انہیں فوراً ڈیرے پر آنے کا کہو محسن۔ کوٸیک۔”
“تم کیا کرنا چاہتے ہو ولی۔۔؟”
اصغر نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے پوچھا تو وہ چند پل گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگا۔ اس کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔ لگتا تھا کوٸ روح سلب کررہا ہے۔۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کافی حد تک خود پر قابو پانے کے بعد آنکھیں کھولیں تو اصغر، نواز اور محسن کے فکر مند سے چہرے سامنے آۓ۔۔
“میں اس کے ہر خفیہ ڈیرے پر پولیس کے ساتھ مل کر چھاپے مارونگا اصغر۔۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ وہ گاٶں سے باہر نہیں گیا ہوگا۔ دوسری اور سب سے حوصلہ کن بات یہ ہے کہ آج ہی عدیل کو اس کے ہیڈ آٶٹس چھان مارنے کا سرچ وارنٹ ملا ہے۔ جس کے باعث ہمارا آدھا کام تو آسان ہوگیا۔ رہا ہاشم۔۔ تو وہ کبھی بھی اتنی جلدی گاٶں سے باہر جانے کا فیصلہ نہیں کیا کرتا کیونکہ وہ شہری فضا سے مانوس نہیں ہے۔ وہ جس جگہ کا عادی ہے صرف انہی جگہوں پر جرم کرتا یا پھر کرواتا ہے۔”
اس نے پھولتی سانسوں کے درمیان کہا تھا۔ کندھے کا درد تھا کہ کمر کو چیرتا اب پورے جسم میں سرایت کرنے لگا تھا۔
“اچھا۔۔ پھر…؟”
اصغر نے سمجھ کر سر ہلایا تھا۔۔
“لیکن ہمیں بہت سے آدمی چاہیٸں اس کام کے لۓ جو کہ پولیس فورس کی بدولت ہمیں مل رہے ہیں۔۔ ہم ایک ایک کر کے اس کے ڈیرے پر دھاوا نہیں بولیں گے بلکہ ایک ساتھ۔۔ ایک ہی وقت میں ہمیں سب ہیڈ آٶٹس کو نشانے پر رکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو وہ ہمیں چکر دے کر کنفیوژ کرتا رہے گا مسلسل۔۔”
اس نے کہتے کے ساتھ ہی ٹیبل کی دراز سے نقشہ نکالا اور اسے ٹیبل پر پھیلایا۔۔ وہ تینوں اس نقشے پر بیک وقت جھکے تھے۔۔
“یہ دیکھو۔۔ یہاں سے دور لکیر تک۔۔”
اس نے سرخ پتلی سی لکیر پر انگلی رکھ کر انہیں بتایا۔۔
“اس لکیر کی سیدھ میں تم لوگ جتنے بھی سرخ نشان دیکھ رہے ہو یہ اس کے ہیڈ آٶٹس ہیں۔ یہاں ہی اکثر جرم ہوتے ہیں۔ کڈنیپنگ، ریپ یا پھر اسمگلنگ۔ وہ یہ سب انہی جگہوں پر کرتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ انہی پانچ ہیڈ آٶٹس میں سے کسی ایک میں وہ امل بی بی کو لے کر گیا ہوگا۔”
اس نے کہہ کر ان تینوں کی جانب دیکھا تھا۔۔
“اور اکثر مرڈرز کہاں ہوتے ہیں۔۔۔؟”
اصغر نے ایک دفعہ پھر سے نقشہ دیکھا۔
“سرنگ میں۔۔!”
نواز کے بے ساختہ سے جواب پر وہ تینوں چونکے تھے۔ سُرنگ۔۔ ہاں۔۔ وہ اس سب میں سرنگ کو کیسے فراموش کر سکتے تھے۔۔
“ٹھیک۔۔ اس گاٶں میں کتنے ٹنل ہے ٹوٹل۔۔؟”
“بس دو۔۔”
نواز کے جواب پر وہ کچھ دیر سوچتی نگاہوں سے نقشے کو دیکھے گیا۔۔ ایک دم ولی کے کہنے پر اس نے چہرہ اٹھایا تھا۔۔
“کیا تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو میں سوچ رہا ہوں اصغر۔۔؟”
“بالکل۔۔”
اس نے بہت کچھ سمجھ کر سر ہلایا تو نواز اور محسن سوالیہ نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگے۔
“سب سے آخری ٹنل سے پہلے اس کا ایک ہیڈ آٶٹ ہے جو بے حد سنسان رہتا ہے۔ وہ یقینی طور پر بی بی کو یہیں لے کر گیا ہوگا۔ کیونکہ اس کے آگے سرنگ ہے اور اس سرنگ کا راستہ گاٶں سے باہر کو جاتا ہے۔ جہاں تک میں اس کی ساٸیکی سمجھ پایا ہوں، وہ جرم کو اچھے سے کر تو لیتا ہے مگر وہ اسے کور اپ کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیا کرتا۔ ان جیسے لوگ۔۔ جو طاقت اور پیسے کے عادی ہوں۔ انہیں ہمیشہ یہی زعم رہتا ہے کہ انہیں کوٸ پکڑ نہیں سکتا۔ اسی لیۓ یہ کبھی بھی بارکیوں پر توجہ نہیں دیا کرتے۔۔”
اصغر بولتا جارہا تھا۔ اسی دوران ولی نے اپنے ٹیبل کی دراز سے چھوٹا سا پستول نکال کر جیب میں اڑسا۔۔
“اسی لیۓ ہم اسے ایک خاص اسٹریٹجی کے تحت یہ تاثر دینگے کہ ہم اس کے سارے ہیڈ آٶٹس کو چھان رہے ہیں سواۓ اس ہیڈ آٶٹ کے۔ جس کا مطلب ہوگا کہ ہم ابھی اس ہیڈ آٶٹ تک بھی پہنچنے والے ہیں۔۔ وہ یہ سب دیکھ کر ایک دم سے پینک ہوجاۓ گا۔۔ اور پینک میں حکم دے گا کہ بی بی کو لے کر آگے والے سرنگ سے نکل جاٶ۔۔ لیکن اس سرنگ کے اندر ہم میں سے کسی کو پہلے سے موجود ہونا ہوگا۔۔ اور پولیس سے پہلے ہونا ہوگا۔۔”
“آپ کو لگتا ہے کہ یہ سب آسان ہوگا۔۔؟”
محسن نے اب کے ولی سے پوچھا تھا۔۔
“یہ آسان ہے یا نہیں، میں نہیں جانتا۔۔ لیکن اگر یہ ایسے ہے تو پھر ایسے ہی سہی۔۔”
اس نے کہہ کر قدم باہر کی جانب بڑھاۓ تو وہ تینوں بھی اس کے ساتھ ہی باہر نکلے۔ سبزہ زار پر ان کے بہت سے جاننے والے “دوست” پہلے سے موجود تھے۔ چند ایک لمحوں کی بریفنگ دینے کے بعد ولی اور اصغر اپنی اپنی گاڑیوں میں آگے پیچھے تھے اور ان سے پیچھے ایک قطار تھی گاڑیوں کی جو رواں دواں تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔
“کیا۔۔!! تم ابھی تک شہر کے لیۓ نہیں نکلے۔۔! لیکن کیوں۔۔؟”
یہ قریباً کوٸ دو بجے کا وقت تھا جب اسے راجا کی کال موصول ہوٸ تھی۔ اس نے ہی اسے فرید کی جگہ ایک مہینے کی ڈراٸیوری پر بھیجا تھا سفید حویلی۔ تاکہ وہ اس وقت اپنی یہ کاررواٸ کرسکے۔ لیکن ابھی جو اسے راجا نے کہا تھا وہ اسے حواس باختہ کرنے کے لیۓ کافی تھا۔
“میری گاڑی خراب ہوگٸ ہے ہاشم سرکار۔۔ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیا ہوگیا ہے اسے۔ ابھی اس لڑکی کو بھی ہوش آنے والا ہے اور پھر میں بھی سڑک کے عین وسط میں پھنس گیا ہوں۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ اگر کسی نے دیکھ لیا تو بہت مسٸلہ ہوجاۓ گا۔۔”
“ابھی کہ ابھی اسے گاٶں کے آخری سرے پر واقع تہہ خانے کی جانب لے کر جاٶ۔۔ فوراً۔۔ میں آتا ہوں۔۔ جلدی کرو”
وہ اس پر چلایا اور پھر باہر کی جانب بھاگا۔ جس کھیل میں اس نے ہاتھ ڈالا تھا وہ بلاشبہ موت کا کھیل تھا۔۔ لیکن اگر ولی اسپتال میں تھا تو اسے زیادہ پریشانی نہیں تھی۔۔ یہ سوچ آتے ہی اس کے تیز قدم یکدم سست پڑ گۓ۔۔ کیونکہ اسے صرف وہی پکڑ سکتا تھا۔ اس کی دشمنی سے صرف وہی واقف تھا۔۔ اور کسی کا تو شک بھی نہیں پڑنا تھا اس پر۔۔
سب چیزیں پلان کے مطابق ہی جارہی تھیں۔ اس نے دوبارہ سے فون ملا کر راجا کو حکم دیا کہ وہ اسے آخری سنسان سے پڑے ڈیرے پر لے جاۓ اور خود گھر چلا آیا۔ بختیار نے اس سے کوٸ بات کرنی تھی۔ اور ابھی اس کا جانا بھی ضروری تھا۔ کیونکہ اگر وہ ابھی نہ جاتا تو امل کے قتل کے وقت اس کے غاٸب ہونے کو ثبوت بنا کر پیش کرنا ولی کے لیۓ مشکل ہرگز بھی نہیں ہوگا۔۔ اسے جو کرنا ہوگا۔۔ بہت سبھاٶ سے کرنا ہوگا۔۔ ٹھنڈے دماغ سے۔۔
اس نے اپنے مطمٸن سے قدم گھر کی جانب پھیرے۔ لیکن ابھی چار بجے موصول ہوٸ ایک کال نے اس کا جیسے سانس کھینچ لیا تھا۔۔ ولی احمد کو کسی نے گاٶں میں دیکھ لیا تھا اور وہ مستقل اس کے ہر ہیڈ آٶٹس پر civil لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں کے ساتھ چھاپے ماررہا تھا۔ اس نے بے چینی سے راجا کو کال ملاتے ہوۓ گاٶں سے امل کو لے کر نکل جانے کا حکم دیا تو اگلا جواب سن کر اس کے تو گویا چودہ طبق روشن ہوگۓ تھے۔
پولیس کی بھاری ناکہ بندی اور سخت چیکنگ۔۔!!
اس سارے عرصے میں اس کی پیشانی پر پہلی دفعہ پسینہ چمکا ۔۔
“تم لوگ کیا کررہے تھے پھر اتنے وقت سے (گالی)۔۔ اور وہ ولی۔۔ وہ کیسے آیا اسپتال سے باہر۔!!”
مغلظات کا ایک طوفان تھا جو اس کے منہ سے ابل پڑا تھا۔
دوسری جانب بے ہوش ہوٸ امل کو بے ساختہ ہوش آیا تھا۔۔ اس نے چونک کر آس پاس دیکھا ۔۔ کمرہ بے حد خاموش پڑا تھا۔۔ سنسان۔۔ اجاڑ۔۔
اس نے ہاتھوں کو ہلانے کوشش کی مگر ناکام رہی۔۔ اس کے ہاتھ کمر پر بہت سختی کے ساتھ باندھے گۓ تھے۔ ایک ہی زاویے پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے اس کا پورا جسم گویا اکڑ گیا تھا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ایک زور دار چکر آیا۔۔ وہ بے ساختہ گر پڑی تھی۔ نگاہ ایک لمحے کو اپنے گلے پر گٸ تو دھک سے رہ گٸ۔ اس کا دوپٹہ غاٸب تھا۔۔ چادر بھی کہیں کمرے میں پھینکی ہوٸ تھی۔ وہ ابھی بے یقینی میں خوف سے پھیلیں آنکھوں سے اپنی حالت دیکھ ہی رہی تھی کہ یکدم کمرے کا دروازہ کھلنے پر بری طرح چونک کر اس طرف متوجہ ہوٸ۔۔
باہر سے ایک درمیانی عمر کا بندہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وہ پستہ قد سا عجیب مکروہ آنکھوں والا انسان تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تیز دھار چھرا تھا اور آہستہ آہستہ چہرے پر للچاتی مسکراہٹ لے کر وہ اسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس نے خراب ہوتے دل کے ساتھ اپنی کمر دیوار سے چپکا لی تھی۔۔ آنسو لڑھک کر تیزی کے ساتھ رخساروں پر پھسل رہے تھے۔ قدموں سے جیسے کوٸ جان سلب کررہا تھا۔۔
وہ آکر اس کے سامنے۔۔ عین سامنے پنجوں کے بل بیٹھا۔۔
اس نے اپنا چہرہ بالکل پیچھے کرلیا تھا۔ ٹانگیں سمیٹ کر سینے سے چپکا لی تھیں۔ اس کے سارے وجود پر چینٹیاں رینگنے لگی تھیں۔
اس نے مسکراتے ہوۓ اس کی گردن پر تیز دھار چھرے کی نوک رکھی۔۔ اس کی دبی دبی سی چیخ بہت بے ساختہ تھی۔
“شش۔۔ شور کروگی تو گھاٶ گہرا بھی آسکتا ہے۔ مجھے صرف چند۔۔ بس چند بوندیں چاہیٸں تمہارے خون کی بس۔ اس سے زیادہ کی چاہ نہیں ہے۔”
“ن ۔۔ نہیں۔۔ نہیں۔ اللہ کا واسطے نہیں کرو ایسے۔۔ خدا کے لیۓ ایسے نہ کرو۔۔”
وہ ہذیانی انداز میں گردن داٸیں سے باٸیں ہلا رہی تھی۔ لیکن وہ نہیں سن رہا تھا۔۔ اسے بالوں سے جکڑ کر اس کی ہلتی گردن کو دبوچا تو وہ بے اختیار چیخی۔ پھر اس کی چیخوں کی پرواہ کیۓ بغیر اس نے چھرے کی نوک ہلکے سے اس کی کومل گردن پر رکھ کر دباٸ تو اس کی چیخوں سے سنسان پڑا ڈیرہ لرز گیا۔۔ ایک دو بوندیں گردن سے لڑھک کر اس کے سفید لباس کے گلے کو سرخ کررہی تھیں۔۔ دفعتاً جوگی کا فون بجا تو وہ چونک کر پیچھے ہٹا۔۔
امل کی گھٹی گھٹی سی رونے کی آواز سے کمرہ گونجنے لگا تھا۔۔ رگوں میں خوف کی سنسناہٹ سے اس کی آواز ہی دب گٸ تھی۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“جی ہاشم سرکار۔؟
ہاشم۔!!۔ ہاشم کا نام سنتے ہی امل نے بے یقینی سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ بھیگی آنکھوں کے آنسوٶں کے پار کوٸ منظر سا ابھرا تھا اس کی نظروں کے سامنے۔۔
(تم جانتی نہیں کہ میں کیا کیا کرسکتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔!) ہاشم کو اس سے کوٸ مسٸلہ نہیں تھا۔۔ اسکی دشمنی تو ولی سے تھی۔ لیکن وہ ولی کی دکھتی رگ تھی۔ وہ اس کی کمزوری تھی۔۔ اور اسی کے ذریعے وہ ولی کو تکلیف دینا چاہتا تھا۔۔ انکشافات کا ایک پہاڑ اس پر ٹوٹا تو اس کے اعصاب جھنجھنا اٹھے۔۔ پیروں سے چڑھتا خوف اس کے سارے جسم کو جمانے لگا تھا۔۔
“کیا۔۔!! لیکن۔۔ لیکن ابھی تو کام نہیں ہوا ہے سرکار۔”
جوگی نے ایک نظر رک کر اسے دیکھا۔۔ وہ گردن پوری اٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“جی۔۔ جی سرکار جیسا حکم آپ کا۔۔”
اس نے اسے بازو سے دبوچ کر اٹھایا اور اپنے ساتھ باہر گھسیٹنے لگا۔
“مجھے جانے دو۔۔ خدا کے لیۓ مجھے میرے گھر جانے دو۔۔”
وہ روتے ہوۓ مسلسل اس سے یہی التجا کررہی تھی لیکن وہ سختی سے اس کا بازو پکڑے اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا جارہا تھا۔ اس کے ننگے پیروں میں بہت سے باریک پتھر گھسے۔۔ ہاتھوں کی نازک کلاٸیاں مسلسل سخت رسی سے رگڑنے کے باعث زخمی ہونے لگی تھیں۔۔۔ گردن سے بہتی خون کی پتلی سی لکیر اپنا نشان اب تک قاٸم کیۓ ہوۓ تھی۔
ولی بے چینی سے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر اسے ہیڈ آٶٹ میں بنے ہر کمرے میں تلاش کررہا تھا لیکن وہ نہیں تھی۔۔ کہیں نہیں تھی۔۔ خدایا وہ کیا کرے۔۔ یا اللہ وہ کیا کرے۔۔
بی جان نے آنسوٶں سے بھیگا چہرہ رب کی بارگاہ میں جھکایا تو کٸ آنسو لڑھک کر جاۓ نماز میں جذب ہوگۓ۔ سفید حویلی دم سادھے کھڑی تھی۔۔
زمان سفید وجود لیۓ شل ہوتے پیروں کے ساتھ داخلی دروازے کے سامنے ٹہل رہے تھے۔۔ ان کا دل ہر ہر آن لرز رہا تھا۔۔
پچھلے چاروں تہہ خانوں میں سے کہیں پر بھی اس کا سراغ نہیں ملا تھا۔ آخری ہیڈ آٶٹ کے اندر لڑکوں کے ایک ریلے کے ساتھ گھستے اس کے پیر خوف سے کانپ رہے تھے۔ ایک جگہ گھٹنوں کے بل جھک کر اس نے اپنا رکتا سانس بحال کیا۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔ ہر جانب سے ایک ہی جواب آرہا تھا کہ وہ نہیں تھی۔۔ اسے یہیں ہونا چاہیۓ تھا۔۔ انہی کمروں میں سے کسی ایک کمرے میں۔ اس نے ایک بار پھر اندر کی جانب دوڑ لگاٸ۔۔ سیڑیاں تیزی سے پھلانگتے وہ خود سے شاید کچھ بڑابڑا بھی رہا تھا۔۔ شاید یہ کہ وہ اسے ڈھونڈ لے گا۔۔ وہ اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔ ہاں۔۔ ایسا ہی ہوگا۔
ہرکمرے کا دروازہ کھول کر دیکھتے اس کی امیدیں دم توڑنے لگی تھیں۔۔ اسے لگا اس نے امل کو کھو دیا۔ اس نے اسے کھو دیا تھا۔۔ اس کے ہاتھ سے خون کی بوندیں ٹپکنے لگیں۔۔ شاید اس کا زخم کھل گیا تھا۔۔تکلیف سے رگوں میں ٹوٹے کانچ بکھرنے لگے۔۔
“کہیں پر بھی نہیں ہیں ولی سر وہ۔۔”
کان میں جمے آلے میں کسی اہلکار کی آواز گونجی تو اس کی سرخ آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی۔ سب دھول بنتا جارہا تھا۔۔ سب کچھ۔۔
“ڈھونڈو۔۔ وہ یہی کہیں ہونگی۔۔ انہیں یہی کہیں ہونا چاہیۓ۔۔”
اس نے کانپتی آواز میں کہا تھا۔۔ اہلکار ہر جانب آگے پیچھے دوڑ کر اسے تلاش کررہے تھے۔ اس نے اپنے قدموں کا رخ اوپر کی جانب موڑا پھر تیزی سے بھاگ کر زینے عبور کیۓ۔ کندھے کی تکلیف کے باعث اس کی بصارت بار بار دھندلا رہی تھی۔۔ اس نے بھاگ کر سبزہ زار پار کیا اور سیاہ پڑتی سرنگ کی جانب بھاگا۔ گاٶں کے آخری سرے پر لوگوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔۔
“میں تمہیں حکم دیتا ہوں جوگی۔۔ کہ اسے ابھی کہ ابھی اس سرنگ میں لے جا کر قتل کردو۔۔ ہم اسے زندہ رکھنے کا رسک نہیں لے سکتے۔۔”
“جیسا حکم سرکار۔۔”
جوگی نے فون رکھ کر امل کو سرنگ کی دیوار سے لگایا اسی پل ایک زوردار گرج ہوٸ تھی۔۔ آسمان سے تڑاتڑ بارش برسنے لگی۔۔ ایک لرزہ خیز گڑگڑاہٹ ابھری۔۔ لگتا تھا آسمان سر پر آگرے گا۔۔ بارشوں میں قتل کی چاہ کا قاتل ایک لمحے کو بے رحمی سے مسکرایا تھا۔۔ پھر اپنا تیز دھار چمکتا چھرا عجیب سی آواز کے ساتھ خول سے نکالا۔۔ مغرب گہری ہوتی جارہی تھی۔ سارا گاٶں نم سی سیاہی میں ڈوبنے لگا تھا۔ سب کچھ اندھیر ہوتا جارہا تھا۔۔ سب کچھ۔۔ اس کے تیز قدم تاریک سرنگ کی جانب تھے۔
“نہیں۔۔ نہیں خدا کے لیۓ نہیں۔۔”
امل زور زور سے چلا رہی تھی۔ باہر سے اندر کی جانب آتا ولی گویا اس کی آواز پر ساکت ہوا تھا۔۔ ہاں یہ امل ہی کی آواز تھی۔۔ وہ اس آواز کو پہچانتا تھا۔۔ وہ اندر کی جانب بھاگا۔۔
جوگی نے تیز دھار چھرا ایک پل کو پوری قوت سے پیچھے کیا اور پھر امل نے آنکھیں بند کرلیں۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ مرنے والی ہے۔۔ موت یقینی تھی۔۔ موت سر پر کھڑی تھی۔۔ ابھی جوگی کا ہاتھ اس سے چند ہی انچ دور تھا کہ اس نے گن فاٸر ہونے کی آواز سنی۔۔ جوگی کے ہاتھ سے چھرا دور جاگرا تھا۔۔
امل نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ ایک پل کو سرنگ کے داخلی راستے کی جانب دیکھا۔ ہاں وہاں وہ کھڑا تھا۔۔ جسے پہچاننے کے لیۓ اسے کسی روشنی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔۔ جوگی کی دلخراش چیخ بے ساختہ تھی۔ گولی اس کے بازو پر لگی تھی۔ اور وہ ایک ہاتھ سے زخمی بازو کو دباتا نیچے کو جھکا تھا۔ ولی تیزی سے آگے بڑھا لیکن وہ امل کی جانب بڑھنے کے بجاۓ جوگی پر جھپٹا۔۔ اس نے اسکے جھکے چہرے پر پوری قوت سے گھٹنا مارا۔۔ اس کا سر بے اختیار اوپر کو اٹھا تھا۔۔ اس نے اس کے سینے پر لات ماری تو وہ پیچھے کی جانب گرتا ہوا سرنگ کی دیوار سے جالگا۔۔
امل سانس روکے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ کسی جنونی انسان کی طرح آگے والے کو ماررہا تھا۔
“ہاتھ کیسے لگایا بی بی کو ۔۔!!!”
وہ اب اس کا سر مسلسل دیوار پہ ماررہا تھا۔ جوگی نے بھی مڑ کر اس کے جبڑے پر مکا مارا تو وہ لمحے بھر کو پیچھے ہٹا۔ اسی وقت اصغر سرنگ کے اندر داخل ہوا۔۔ اس نے آگے بڑھ کر امل کے ہاتھوں کو رسیوں سے آزاد کیا۔۔
“بی بی کو ہاتھ کیسے لگایا۔۔ کیسے ہاتھ لگایا۔۔!!”
وہ ایک ہی بات دہراتا اب کے اسے زمین پر لٹاۓ اس پر بیٹھا اسکے چہرے پر مکے ماررہا تھا۔ جوگی زخمی ہو کر ہوش کھونے لگا۔۔ بارش اسی تیزی کے ساتھ تڑاتڑ برسنے لگی تھی۔۔
“ولی وہ مرجاۓ گا۔۔”
امل چلاٸ تو اسے جیسے ہوش آیا۔۔ اصغر بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اس نے ولی کو نہیں روکا۔ اچھا ہوتا وہ اپنی فرسٹریشن نکال لیتا۔۔
اس نے اٹھ کر اسے زوردار ٹھوکر ماری اور پھر آستین سے ہونٹ کا خون صاف کرتا امل کی جانب مڑا۔ اسے یوں اس طرح زخمی دیکھ کر اس نے تکلیف سے آنکھیں ایک پل کو بند کر لی تھیں۔۔ پھر تیزی سے آگے بڑھ کر اس نے اپنی جیکٹ اتاری اور اس کے کندھوں پر ڈال دی۔ امل کی نگاہ بے اختیار اس کے بازو پر پڑی۔۔ خون کی لکیریں اس کے پورے ہاتھ پر پھیلی ہوٸ تھیں۔ اس کا زخم کھل گیا تھا اور اب تکلیف سے اس کے ہونٹ سفید پڑنے لگے تھے۔ اسی پل بہت سے پولیس اہلکاروں کی آوازیں آٸیں۔۔ وہ شاید سرنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔
“ولی۔۔ آگے نواز آرہا ہے سرنگ کے اس پار۔ تم جاٶ بی بی کو لے کر۔ میں یہاں پر یہ سب میس سنبھالتا ہوں۔ کوٸیک۔۔ ابھی رات نہیں ہوٸ۔۔ بی بی کو گھر چھوڑ دو۔ سب ٹھیک ہے۔۔ انڈر کنٹرولڈ ہے۔۔”
اس نے امل کو ساتھ لیا اور پھر تیزی کے ساتھ سرنگ سے باہر نکلا۔ باہر نواز کی گاڑی کھڑی تھی۔ اس نے امل کو پیچھے بٹھایا۔۔ نواز گاڑی سے باہر نکل کر سرنگ کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔ اس نے فرنٹ سیٹ سنبھالی اور پھر گاڑی کو تیزی سے آگے بڑھایا۔۔ پیچھے ایک نا معلوم سا شور اٹھا تھا۔۔ ایک ایسا شور جو بہت سے انسانوں کے جمع ہوجانے پر اٹھا کرتا تھا۔۔
اس نے نگاہ اٹھا کر سن سی بیٹھی امل کو شیشے میں دیکھا اور پھر سکون کا سانس لیتا گاڑی کو تیزی سے دوڑانے لگا۔۔
ایک اذیت ختم ہوٸ تھی۔۔
ایک سفر تمام ہوا تھا۔۔!
۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہلتا ہاشم بار بار پسینے سے تر ہوتی پیشانی کو چھو رہا تھا۔۔ اس کے سارے کھاتے کھل گۓ تھے۔۔ ڈیروں کی چھان بین اتنی اچانک اور اتنی تیزی سے ہوٸ تھی کہ اس کا بس نہ چلتا تھا سب کی گردنیں کچل کر رکھ دے۔ ابھی بھی اہلکاروں کا ایک سیلاب تھا جو اس کے ہیڈ آٶٹس کے باہر کھڑا تھا۔۔
یکدم فون بجا تو اس نے آستین سے پسینہ صاف کرتے کال رسیو کی۔
“سرکار وہ لڑکی۔۔ ولی اسے نکال لے گیا ہے۔ اور جوگی کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔۔”
“کیا بکواس ہے یہ۔۔”
وہ چیخا تھا۔ چہرہ طیش سے سیاہ پڑنے لگا۔۔ جیسے کسی شیطان کا سیاہ پڑ جاتا ہے۔۔ اور پھر دھیرے دھیرے اس کا وجود اسی غصے کی حدت سے پگھل کر ختم ہوجایا کرتا ہے۔۔ اس کا جسم بھی جیسے کسی آگ میں دہک رہا تھا۔۔ وہ اسے نکال لے گیا۔۔ وہ اسے بچا لے گیا۔۔ وہ ہمیشہ اس سے ایک ہاتھ آگے ہوا کرتا تھا۔۔ ہمیشہ اسے اس سے مات کھانی پڑتی تھی۔۔ آخر کیا تھا یہ ولی احمد۔۔ کون تھا یہ ولی احمد۔۔!!
اس نے طیش میں آ کر موباٸل زور سے دیوار پر دے مارا۔۔ اس کے پرزے الگ الگ ہو کر یہاں وہاں بکھر گۓ تھے مگر ہاشم۔۔ اسے سکون نصیب نہیں ہورہا تھا۔۔ ایک بار پھر سے اسے اپنے ہاتھوں پر کچھ محسوس ہوا تھا۔۔ کچھ گیلا سا۔۔ اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ نگاہوں کے سامنے کیۓ اور دھک سے رہ گیا۔۔ ان ہاتھوں پر بے تحاشہ خون لگا تھا۔۔ اس نے جلدی جلدی خون آلود ہاتھوں کو اپنے لباس سے رگڑا۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھوں پر خون کا شاٸبہ تک نہ تھا۔۔
اس نے اپنے سر کے بال نوچ ڈالے۔۔ کیا وہ پاگل ہورہا تھا۔۔ اس کا الوژن بڑھتا جارہا تھا۔۔ شاید اسے ہی کارما کہا جاتا ہے۔۔ شاید اسے ہی اعمال کا پلٹ آنا کہا جاتا ہے۔۔ اور کیا میں تمہیں بتاٶں کے قاتل کی عمر کتنی طویل ہوا کرتی ہے۔۔ اتنی طویل کے قابیل کو خدا نے قتل کرنے کے بجاۓ زندگی کی سزا سناٸ تھی۔۔ ہاں نمرہ احمد ٹھیک کہا کرتی تھیں۔۔ ہر قابیل کا مرنا ضروری نہیں ہوتا۔۔ اسے بھی ابھی زندہ رہنا تھا۔۔ ایک طویل عرصے تک۔۔ !
وہ اب واش روم کی جانب تیزی سے ساتھ بھاگا۔۔ اسے پھر سے اپنے ہاتھوں پر خون محسوس ہورہا تھا۔۔ اسے جلد از جلد اپنے ہاتھ پانی سے دھونے تھے۔۔ اس خون سے صاف کرنے تھے۔۔ اور خون۔۔ جو اس کے ہاتھوں پر کٸ سالوں سے تھا۔۔ کٸ معصوم جانوں کا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
زور دار سی گڑ گڑاہٹ ابھری تو پیچھے بیٹھی امل ایک پل کو لرز کر رہ گٸ۔ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیۓ۔ کب سے رکے آنسو آسمان سے گرتی بوچھاڑ کی مانند چہرے پر لڑھکنے لگے تھے۔۔ ولی کو تکلیف ہونے لگی۔۔ زخمی ہوا ہاتھ گویا کٹنے لگا تھا۔۔ خون مسلسل بہہ رہا تھا۔۔ اوپر سے وہ رو رہی تھی۔۔ وہ جانتا تھا کہ امل بارش سے خوفزدہ تھی۔۔ آسمانی گڑگڑاہٹ سے ڈرتی تھی۔۔ بچپن کا ٹراما اب تک اس کے ساتھ تھا۔۔ اس نے گاڑی ایک جانب کو روکی اور پھر سیٹ سے اتر کر پیچھے بیٹھی امل کی جانب کا دروازہ کھولا۔۔۔ امل نے ایک پل کو نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ ولی نے اس سے نظریں چراٸ تھیں۔۔ پتہ نہیں کیوں۔۔ پھر آگے بڑھ کر گاڑی کے پچھلے حصے میں رکھی اپنی سیاہ شال اٹھاٸ اور اسی خاموشی کے ساتھ اسے امل کے گرد لپیٹنے لگا۔۔ امل شہد رنگ آنکھیں اٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ ولی کے چہرے سے گرتی پانی کی بوندیں اس کے لباس میں جذب ہونے لگیں۔۔ ماتھے پر بکھرے گیلے بال اور جھکی نسواری آنکھیں لیۓ وہ تیزی کے ساتھ اس کے گرد چادر لپیٹ رہا تھا۔۔ ایک دم آسمان گرجا تو امل نے بے اختیار سہم کر اس کی شرٹ کو مٹھی میں بھینچا۔۔ وہ بے ساختہ رکا۔ سانس تک رک گیا تھا۔۔ اور پہلی دفعہ نسواری نظروں نے بہت قریب سے چھوا تھا اس کی بھیگی آنکھوں کو۔۔ چند لمحوں کے لۓ گویا ساری کاٸنات ساکن ہوگٸ تھی۔۔
پھر اس نے آہستگی سے نظریں جھکا کر اس کا ہاتھ نرمی سے ہٹایا اور باہر نکل کر بھاگتا ہوا اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔ امل سن سی بیٹھی تھی۔۔ اس کی قربت اسے یوں ہی سن کردیا کرتی تھی۔ ولی نے درد کرتے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا تو خون سے اس کا ہاتھ بھر گیا۔۔ اس نے آنکھیں میچ کر کھولی تھیں۔۔ تکلیف اب حد سے بڑھنے لگی تھی۔۔
حویلی بس کچھ ہی فاصلے پر تھی۔ امل نے حویلی کو دیکھا تو جمے آنسو بہنے لگے۔ ایک بدنامی۔۔ ایک بہت بڑی بدنامی اس کا انتظار کررہی تھی۔۔ اس کا دل اندد سے بند ہونے لگا تھا۔ آنکھوں سے بہتے آنسوٶں میں تیزی آگٸ تھی مگر اس کی آواز نہ نکلی۔۔ گھٹ گھٹ کر رونے کے علاوہ اس میں کسی چیز کی ہمت نہیں تھی۔۔ ولی نے گاڑی تیزی سے پورچ میں لا کر روکی تو کب سے دروازے پر جمے بختیار اور زمان دوڑتے ہوۓ ان دونوں تک آۓ۔۔ امل سیاہ چادر سے ڈھکی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔ بختیار نے اس کی جانب کا دروازہ کھولا تو وہ روتی ہوٸ اس کے گلے لگ گٸ۔۔ گھر والوں کو دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ چیخیں مار مار کر روۓ۔ بارش میں بھیگتے زمان نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا کر بھینچا تھا۔۔ خشک ہوا سانس جیسے بحال ہوا تھا ان کا۔۔ بی جان بھی دوڑتی ہوٸ آرہی تھیں پیچھے سے۔۔ وہ بی جان کے گلے لگی تو زمان اس کی جانب متوجہ ہوۓ۔۔ اس نے صرف شیشہ نیچے کیا۔۔
“باہر آٶ ولی۔۔ زخمی ہو تم۔۔ “
وہ کھڑکی میں کھڑے اس سے کہہ رہے تھے۔۔ ماتھے پر گہری فکر لیۓ۔۔ اس کے ادھڑے زخم کو پریشانی سے دیکھتے۔۔ مگر اندر بیٹھے ولی نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔
“مجھے کچھ کام ہے سردار بابا۔ میں آجاٶنگا کچھ دنوں میں۔ آپ بس بی بی کا خیال رکھیں اور کوٸ بھی انتہاٸ قدم اٹھانے کی غلطی مت کیجیۓ گا۔۔ چلتا ہوں اب۔۔”
“لیکن ولی۔۔”
ان کی بات سنے بغیر اس نے گاڑی موڑ لی تھی۔ اب تکلیف سے لگتا تھا گویا ہاتھ پھٹ جاۓ گا۔ اس نے تیزی سے گاڑی حویلی سے باہرنکالی تو ان کی چرچراہٹ سے بارش میں بھیگتے زمان کھڑے کے کھڑے رہ گۓ۔۔ امل جو بی جان کے گلے لگی رو رہی تھی اس آواز پر پلٹی۔۔ وہ کار نکال لے گیا تھا۔۔ اس نے تب تک گردن موڑے رکھی جب تک وہ چلا نہ گیا۔۔
“زمان اسے روکیں۔۔ زخمی ہے وہ۔۔”
بی جان نے انہیں پیچھے سے آواز دے کر متوجہ کیا لیکن زمان جانتے تھے کہ ولی نہیں رکے گا۔۔ اسی لیۓ وہ گہرا سانس لے کر ان کی جانب مڑ آۓ۔۔
“آجاۓ گا کچھ دنوں تک وہ۔۔ چلو اندر بارش بہت ہو رہی ہے۔”
امل کو خود کے ساتھ لگایا اور پھر ایک بار دروازے کی جانب دیکھ کر اندر بڑھ گۓ۔۔ انہیں ہر حال میں ولی احمد پر بھروسہ کرنا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اصغر نے جوگی کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور پھر اسے گھسیٹتا ہوا سرنگ سے باہر کی جانب بڑھنے لگا۔ پولیس اہلکار جو اسی سرنگ کی جانب آرہے تھے اسے دیکھ کر رک گۓ۔۔ اس نے جوگی کو ایک جھٹکے سے پولیس اہلکاروں کے قدموں میں پھینکا۔۔
“یہ مجھے اس سرنگ میں ملا ہے۔ ہاشم کا آدمی ہے اور کافی عرصے سے چرس اور دوسری غیر قانونی ادوایات کے کاروبار میں ملوث ہے۔ میں نے اسے بہت دفعہ قتل گاہوں کے آس پاس بھی دیکھا ہے۔ جیسے ایک مشہور کہاوت کے تحت کہا جاتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد قاتل جاۓ وقوعہ پر جا کر ضرور اپنی تسکین کیا کرتے ہیں۔۔ اور ہاں۔۔ کٸ سالوں سے اسمگلنگ کے لیۓ بھی خاصہ مشہور ہے اس کا دھندا۔۔ ہیڈ آٶٹ کے بارے میں انفارمیشن میں آپ کو میل کردونگا اور اسے ایک خاص قسم کی بیماری بھی ہے۔۔”
زمین پر گرا جوگی آنکھیں پھاڑ کر اس اونچے لمبے سے لڑکے کو دیکھ رہا تھا کہ جس کے ورزشی بازو آستین سے نکلتے اپنی طاقت کا پتہ دیتے تھے۔۔ اس نے ذہین آنکھیں اس پر جماٸیں اور لمحے بھر کو مسکرایا۔۔
“اسے انسانی خون کو سونگھنے کی بیماری ہے۔”
“آپ۔۔ آپ کیا انٹیلی جنس آفسر ہیں۔۔؟”
انسپیکشن ٹیم کا بندہ اسکی بریفنگ پر سر سے لے کر پیر تک اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اصغر اس کی بات پر مسکرایا۔۔
“ارے نہیں یار۔۔ میں تو ریسلر ہوں۔ جو رنگ میں اتر کر لوگوں کی چمڑیاں ادھیڑا کرتا ہے۔۔ ٹھیک سے پکڑو اسے بھاگ نہ جاۓ کہیں۔۔”
جیبوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھتے اصغر کی مسکراتی آنکھیں کچے راستوں پر جمی تھیں۔۔ کیا کوٸ تھا اس کے جتنا cool۔۔ اونہوں۔۔!
مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔۔ اور آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔ جوگی اب پیچھے سے چلاتا ہوا ان سے اپنا آپ چھڑانا چاہ رہا تھا مگر جن کا انجام آ پہنچے انہیں کوٸ نہیں بچا سکتا۔۔ اسے بھی اس کے انجام نے آ لیا تھا۔۔
“نواز۔۔ محسن۔۔ چلو اب ہمارا کام ہوگیا ہے۔۔ “
دور سبزہ زار پر کھڑے کسی اہلکار سے بات کرتے محسن اور نواز کو اس نے آواز دی تو وہ سر ہلا کر اس کی جانب بڑھنے لگے۔ باہر اپنی جیپ کے ساتھ لگ کر کھڑے اے ایس پی عدیل کی جانب مڑ کر اس نے مسکراتے ہوۓ شکر گزاری کے ساتھ سر جھکایا تو جواباً اس نے بھی سمجھتے ہوۓ ہاتھ ماتھے تک لے جا کر سلام کیا تھا۔ محسن اور نواز اس تک آۓ تو وہ تینوں اپنی اپنی کار کی جانب بڑھے۔۔
“ولی سر کہاں ہیں۔۔؟”
محسن نے جیب سے چابی نکالتے ہوۓ پوچھا۔۔
“حویلی گۓ ہونگے۔۔”
“نہیں۔۔”
اسکی نفی پر وہ دونوں بیک وقت مڑے تھے۔۔
“جہاں تک میں اسے جانتا ہوں وہ حویلی نہیں گیا ہوگا۔ ہاں۔۔ نہیں گیا ہوگا وہ حویلی۔۔”
آخری بات جیسے اس نے خود سے کہی تھی۔۔ نواز کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔
“آپ کو کیسے پتہ۔۔؟”
اصغر گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے رک گیا تھا۔ پھر باہر نکل کر جیسے ہی اس نے وجہ بتانے کے لیۓ لب کھولے تو یکدم اسے نواز کا پچھلا رُوڈ سا رویہ یاد آیا۔۔ بے اختیار ہی اس کا منہ بگڑ گیا۔۔
“کیونکہ وہ میرا دوست ہے اور میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں۔”
مزے سے کہہ کر گاڑی میں بیٹھا اور تیزی سے کار ریورس کرتا بھگا لے گیا۔۔ نواز نے محسن کی جانب دیکھا۔ وہ خاموشی سے مسکراہٹ دباۓ اپنی کار کا دروازہ کھول رہا تھا۔۔
“ولی سر نے بھی پتہ نہیں کس سے دوستی کرلی ہے۔۔”
جل کر بس اس نے یہی کہا تھا جس پر محسن کا قہقہہ بہت بے ساختہ تھا۔ وہ اب تک منہ میں کچھ بڑبڑاتا سرخ کان لیۓ گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ پھر اس کا انتظار کیۓ بغیر گاڑی نکال لے گیا۔ پیچھے کھڑے محسن نے ایک پل کو اس کی دھول اڑاتی کار کو مسکراتے ہوۓ جاتے دیکھا اور پھر مڑ کر ہاشم کے ہیڈ آٶٹ کی جانب نگاہ گھماٸ۔۔
“قید مبارک ہو ہاشم حسین۔۔”
اور یہ تو قدرت ہی جانتی تھی کہ وہ کس قید کی بات کررہا تھا۔ اس کی دور جاتی گاڑی اب پھر سے کچے راستوں کی دھول کو اڑا رہی تھی۔۔ لیکن اس دھول میں اب کہیں بے چینی کا شاٸبہ نہ تھا۔۔ کیونکہ ایک طویل اور تھکا دینے والی رات کا اختتام ہوچکا تھا اور اگلی صبح بہت امید افزا اور خوش کن تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
