Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 16) Part - 1

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

اس نے دور جاتے ولی کو تب تک دیکھا جب تک اس کی ساکت پتلیاں درد نہ کرنے لگ گٸیں۔ اس نے آنکھیں جھپکیں تو دھندلاتے منظر کے پار وہ گم ہوچکا تھا۔ آس پاس اب تک سب ہنس بول رہے تھے۔ اس نے بمشکل مسکرا کر آغا جان کو دیکھا جو بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔ ان کے ایسے دیکھنے پر اب کے اس نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ تھی۔ پلکیں البتہ نم نم سی لگتی تھیں اور دل بے تحاشہ درد کررہا تھا۔۔

خود دور جانا آسان ہوتا ہے، اپنوں کو دور جاتا دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے ایک کڑا وقت گزارا تھا چند ساعتوں پہلے مگر پھر بھی وہ مسکرا رہی تھی۔۔ مسکرانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔۔

“اپنا خیال رکھنا، اب تم ہمارے گھر کی بھابھی بننے جارہی ہو ہاں۔۔”

ناجیہ نے معنی خیزی سے اس کا کومل رخسار چھو کر کہا تو اس نے اسے نظریں اُٹھا کر دیکھا۔ ہاں اب اس کا ہاتھ نیچا ہوگیا تھا اور ناجیہ کا اونچا۔۔ بھلا وہ کیوں ناں اس سب سے لطف اندوز ہوتی۔۔ ولی کی سرد مہری اس نے بھی تو دیکھی تھی اور جو خوشی اس کے اس انداز پر اسے ہوٸ تھی وہ امل با آسانی اس کے چہرے پر دیکھ سکتی تھی۔۔

“جانتی ہوں۔۔ تم بھی اپنا خیال رکھا کرو ناجیہ۔۔ ایک ناں ایک دن تو کسی کے گھر کی تم بھی بھابھی بنو گی۔۔ اور وہ کوٸ بھی ہوگا مگر وہ نہیں ہوگا جس کے خواب تمہاری آنکھوں نے ہمیشہ سجاۓ ہیں۔۔”

مسکرا کر کیا جواب دیا تھا اس نے۔۔ ناجیہ تو گویا پل میں جل کر بھسم ہوگٸ تھی۔۔

“میری فکر چھوڑو بس اپنی فکر کرو تم۔۔ ویسے تمہارے ساتھ بھی تو وہی ہورہا ہے جو تم میرے لیۓ سوچے بیٹھی ہو۔۔”

اس نے زور سے گود میں پڑی مٹھی بھینچی۔۔

“میرے ساتھ جو بھی ہورہا ہے طے شدہ ہے۔۔ اور ویسے بھی قسمتیں پلٹتے وقت ہی کہاں لگتا ہے بھلا۔!”

“اور کبھی کبھی ان قسمتوں کو پلٹنے میں ساری ساری زندگیاں بھی لگ جاتی ہیں امل جانی۔ مگر میں تمہارے لیۓ دعا کرونگی کہ تم ہمیشہ خوش رہو اور ہمیشہ میری بھابھی رہو۔ کیونکہ ہماری تو بہت دوستی ہے ناں۔۔”

ناجیہ کی باتوں سے اسکی بہتی سانسوں تک میں کڑواس پھیل گٸ تھی مگر وہ پھر بھی جم کر بیٹھی رہی۔ وہ لمحات کڑے ضبط کے لمحات تھے۔ ان میں صبر نہیں ہارنا تھا۔۔

“جن فیصلوں پر ہم سر نہ اُٹھا سکیں ان پر سر جھکانا ہی عقل مندی ہوتی ہے ناجیہ۔ اور میں بھی اسی عقل مندی کا مظاہرہ کرونگی۔ میں بھی سر جھکادونگی کیونکہ جو سر اُٹھایا کرتے ہیں ناں۔۔ ان کو اپنا سر کٹوانا پڑتا ہے۔ امید ہے تمہیں سمجھ آگٸ ہوگی میری بات۔۔”

آخر میں بھر پور طریقے سے مسکراتی وہ ناجیہ کو گویا خاکستر کر گٸ تھی۔

“جب کچھ بھی کرنے کے لیۓ ہوگا ہی نہیں تو ظاہر ہے تم سر ہی جھکاٶ گی۔۔ کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوٸ چواٸس ہے۔۔؟”

ایک جتاتی نظر اس پر ڈالی تو امل کے گلابی سے لبوں پر رینگتی مسکراہٹ گہری ہوگٸ۔۔

“انسان کے پاس چواٸس ہمیشہ ہوتی ہے ناجیہ۔۔ اور اس کے پاس کچھ ہو نا یہ ہو مگر اس کے پاس اس کی جان ہوتی ہے۔ جسے وہ جب چاہے، جدھر چاہے اور جیسے چاہے ختم کرسکتا ہے۔ اگر تم اپنے بھاٸ کی زندگی چاہتی ہو تو مجھے مت اُکساٶ۔۔ کیونکہ جس کے پاس جان کے علاوہ کچھ نہ ہو اسے کسی سے ڈر نہیں لگتا۔۔”

اس کے بے خوف سے ارتکاز نے ناجیہ کو دم بخود کردیا تھا۔ وہ جو ہر جواب پر اس کی سانسوں تک کو کڑوا کردینے کی صلاحیت رکھتی تھی ایک پل کو لاجواب ہوٸ تھی۔ اسی اثنا میں بی جان نے امل کو آواز دی تو وہ دونوں اس طرف متوجہ ہوۓ۔

بی جان اسے اُٹھا کر اب حسن کے پاس لے جارہی تھیں۔ وہ چپ چاپ کسی بھی پس و پیش کے بغیر سلام کر کے ان کے ساتھ جا بیٹھی۔ وہ اب اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بہت سے پیسے وارتے ملازموں کو دے رہے تھے۔ وہ اسی طرح سکون سے بیٹھی رہی۔ اس کے چہرے کے تاثرات بہت پرسکون ہوگۓ تھے۔ ایک دم ٹھنڈے اور خاموش سے۔۔

وہ بہت زیادہ مسکرا نہیں رہی تھی مگر اس کے انداز کی پہلے والی بوکھلاہٹ اب کے غاٸب تھی۔ اسے بی جان اور آغا جان دونوں کومطمٸن کرنا تھا کہ وہ خوش تھی۔ بھلے ساری زندگی خود کو وہ یہ یقین نہ دلا پاۓ مگر اسے اس کے والدین کو مطمٸن کرنا تھا۔

کچھ دیر بعد محفل برخاست ہوگٸ تو اس نے بھی اپنا رخ زینوں کی جانب پھیرا۔ ابھی کسی سے کوٸ بھی بات کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ ابھی کمرہ بند کر کے اپنے آنسوٶں کو خود صاف کرنا تھا۔۔ ابھی اسے خود کو سمیٹنا تھا۔۔

شازیہ اسی وقت کچن سے باہر نکلی تو اسے اوپر بڑھتا دیکھ کر اس کے لبوں کی تراش میں ایک طنزیہ سا تبسم ابھرا۔ امل نے ایک بے تاثر نگاہ اس پر ڈالی اور پھر آگے بڑھنے لگی مگر پھر اس کے اگلے لفظوں نے گویا اسے ساکت کردیا۔۔

“چچ چچ۔۔ اگر کسی اچھے بندے کو پسند کرتیں تو ہم اس بارے میں سوچ بھی لیتے مگر ولی۔۔ اوں ہوں۔۔ ہر حال میں مکروہ اور قابلِ نفرت سا انسان ہے وہ تو۔ اب تمہاری بھابھی ہونے کی حیثیت سے تمہیں ایک نصیحت کررہی ہوں کہ جس کے نام کی انگوٹھی تم نے انگلی میں ڈالی ہے اسی کے خواب بھی دیکھنا۔۔ نہیں تو شادی کسی اور کے ساتھ اور یارانہ کسی اور کے ساتھ۔۔ یہ سب ہمارے یہاں نہیں چلتا۔۔”

امل جو اس سے ایک قدم آگے منجمد ہوٸ کھڑی تھی پل بھر میں اس کی جانب گھومی۔ اس کا مومی سا سفید چہرہ لاٶنج کی روشن رونشیوں میں چمک رہا تھا۔ دوپٹہ اب تک سر پر ڈلا تھا اور ہاتھ اپنے مخصوص انداز میں سینے پر باندھتی وہ وہی امل لگ رہی تھی۔۔ آگے والوں کو لفظوں کی ٹھوکروں سے اُڑا دینے والی امل۔۔

“جب کوٸ آپ سے نصیحت طلب کرے تب ہی اسے اپنے بیش قیمت اقوالِ زریں سے نوازا کریں آپ۔۔ کیونکہ مجھے آپ کی کسی بھی قسم کی کھوکھلی سی اپناٸیت میں دلچسپی نہیں ہے بھابھی۔ آٸندہ کبھی مجھ سے اس قسم کی گھٹیا بات مت کیجیۓ گا لیکن۔۔ اوہ۔۔”

اسے جیسے افسوس ہوا تھا۔ شازیہ کے بگڑتے تاثرات کو سرد مسکراتی نگاہوں سے دیکھتی وہ چند قدم چل کر اس کے قریب آٸ تھی۔۔ اس سے ذرا فاصلے پر رک کر اسکی آنکھوں میں جھانکی۔۔

“آپ نے تو ساری زندگی سے سیکھا ہی یہی ہے ناں بھابھی۔۔ ماشااللّہ سے نگار تاٸ نے بہترین تربیت کی ہے آپ کی، ساری زندگی آپ کو انہوں نے یہی تو سکھایا ہے کہ کسی پر بھی طنز کرنے کا۔۔ کسی کو بھی ذلیل کرنے کا۔۔ کسی پر بھی الزام لگانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا۔۔ آپ کریں۔۔ کرتی رہیں۔۔ لیکن مجھ سے دور رہیں سمجھیں آپ۔۔!”

اس کی مسکراتا سا انداز ایک دم سے درشت ہوگیا تھا۔۔ شازیہ تو بے یقینی سے اسکی چلتی زبان کو دیکھ رہی تھی۔۔ آج سے پہلے امل نے کبھی بھی اس سے ایسے بات نہیں کی تھی۔۔

“کیونکہ میں ابھی تک رستم نامی لڑکے کی کہانی نہیں بھولی ہوں بھابھی۔۔ کیوں۔۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ رستم کون تھا۔۔؟؟”

اس نے گویا اس کے سر پر دھماکا کیا تھا۔۔ شازیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کا دمکتا چہرہ دیکھے گٸ۔۔

“گندم سے بھرے کمرے میں اس ماہِ کامل کی رات کیا ہوا تھا کیا میں آپ کو یاد دلاٶں بھابھی۔۔؟”

اسی پل امینہ کچن سے نکلی تھی۔۔ شازیہ کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر وہ وہیں ٹھہر گٸ۔۔

“وہ کیا ہے ناں کہ مجھے چیزیں نہیں بھولتی۔۔ اور کہانیاں تو بالکل بھی نہیں۔۔ آپ نے بھی کوٸ اچھا سا پسند کیا ہوتا تو ہم اس بارے میں سوچتے بھابھی۔۔ مگر خیر اب جو اللّہ کی مرضی۔۔ خیال رکھیں اپنا اور اپنے گھر کا کیونکہ بھاجی کو رستم نامی لڑکے کو ڈھونڈنے میں ایک دن سے بھی کم کا عرصہ لگے گا۔۔ آپ کیا چاہتی ہیں یہ اب آپ طے کرینگی۔۔ میری تو اتنی مجال ہی نہیں۔۔”

ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی اور ماتھے پر ناگواری کے ڈھیروں بل لیۓ زینے چڑھتی اوپر غاٸب ہوگٸ۔۔ شازیہ اب تک لاٶنج کے وسط میں مجسمہ بنی کھڑی تھی۔۔ امینہ اس سے پوچھ رہی تھی کہ اسے کیا ہوا ہے مگر وہ خالی خالی نظروں سے زینوں کو دیکھے جارہی تھی۔۔

تم کون ہو امل۔۔! کون ہو تم۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“جس کام کا میں نے کہا تھا وہ کام ہوا یا نہیں نواز۔۔؟”

تولیۓ سے بالوں کو رگڑتا وہ فون کان سے لگاۓ نواز سے پوچھ رہا تھا۔۔ پھر چند لمحے آگے والے کو سنتا گیا۔۔

“ٹھیک ہے کل کا وقت طے کرو اور مجھے وہ اس وقت اسی جگہ پر چاہیۓ نواز۔۔ کسی بھی قسم کی کوٸ غیر ذمے داری برداشت نہیں کرونگا میں۔۔”

اس نے کہہ کر موباٸل بیڈ پر ڈالا اور بالوں کو تیزی کے ساتھ رگڑنے لگا۔ پھر ایک پل کو اس کا چلتا ہاتھ رک سا گیا۔ کچھ تھا جو اس کی نگاہوں کے سامنے جگمگایا تھا۔۔ بہت آس سے اسے دیکھتیں دو شہد رنگ آنکھیں۔۔۔!

آنکھیں بند کر کے اس نے سر جھٹکا اور پھر سے بالوں کو رگڑنے لگا، جتنا وہ اسے جھٹک رہا تھا اتنا ہی وہ نظروں کے سامنے آرہی تھی۔ اس کی سانسوں میں بے چینی تحلیل ہونے لگی تو وہ اکتا کر شال کو گردن کے گرد لپیٹتا کمرے سے باہر نکل آیا۔ سردار بابا داخلی دروازے میں کھڑے دور آسمان کو تک رہے تھے۔۔

وہ انہیں اس پہر ایسے کھڑا دیکھ کر چونکا تھا۔ انہوں نےگردن پھیر کر اسے دیکھا پھر مسکرادیۓ۔۔ وہ آہستہ سے قدم اُٹھاتا ان تک آیا۔۔

“رات کے اس وقت یہاں ایسے۔۔؟”

اس کے ادھورے سوالات کو وہ بخوبی سمجھتے تھے۔۔ گہرا سانس لے کر نظریں اس سے دور آسمان کی جانب پھیرتے وہ گویا ہوۓ تھے۔۔

“آج امل کی بات طے ہوگٸ ہے ولی۔ اگر چہ وہ مجھ سے بہت دور نہیں جارہی مگر پھر بھی۔۔ ایک دل جو اس کے اچھے گھرانے میں ہونے والے رشتے پر مطمٸن ہے تو دوسری جانب ایک عجیب سا خالی پن بھی ہے جو دل کے اندر اتررہا ہے۔۔ مجھے تو اسے اس گھر میں دیکھنے کی عادت ہوگٸ ہے ولی۔۔ بس یہی سوچ رہا ہوں کہ جب وہ کسی اور گھر جاۓ گی تو میں کیسے رہونگا اس کے بغیر۔۔”

اس کی بے تاثر سی نظریں بکھرے سبزہ زار پر جمی تھیں۔ ہاں وہ کبھی بھی امل کے لیۓ ایک اچھا آپشن نہیں تھا اگر اچھا ہوتا تو سردار بابا کبھی اسے اس معاملے میں نظر انداز نہیں کرتے۔ وہ ان کی تو کیا کسی کی بھی بیٹی کے قابل نہیں تھا۔ جو کوٸ آخری خوش فہمی رہ گٸ تھی اسے وہ بھی اس لمحے دور ہوگٸ۔

“وہ خوش رہینگی تو آپ بھی خوش رہیں گے پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہاں رہتی ہیں۔۔”

اندر چھاٸ ویرانی کے برعکس اس نے بہت پرسکون انداز میں کہہ کر ان کی جانب دیکھا۔ آسمان پر سجی مبھم روشنی میں ان کا چہرہ نیم واضح سا تھا۔۔

“تم باپ نہیں ہو ناں اسی لیۓ نہیں جان سکتے کہ بیٹی کی محبت کیا ہوتی ہے۔”

انہوں نے گہرا سانس لیا۔

“بیٹی کی محبت اس کاٸنات کی سب سے پاکیزہ محبت ہوتی ہے ولی اور انسان، خاص کر باپ اس الفت کا اس قدر عادی ہوجاتا ہے کہ پھر اپنے گھر کے کھلتے گلاب کو کسی اور کے باغ کا پھول بنتے دیکھنا بھی تکلیف دیتا ہے۔ لیکن اگر پھولوں کا ماحول ان کی فطرت کے مطابق نہ بدلا جاۓ تو جانتے ہو کیا ہوتا ہے ولی۔۔؟”

ایک نظر آسمان سے ہٹا کر اسے دیکھا۔ وہ ہاتھ پیچھے باندھے انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔ دور سے اگر کوٸ اسے دیکھتا تو لگتا کوٸ بلند قامت یونانی دیوتا حویلی کے داخلی دروازے میں ایستادہ ہے۔۔ ٹھہرا ہوا۔۔ گہرا اور خاموش سا۔۔ ہاں وہ اتنا ہی خوبصورت تھا۔۔!

“وہ پھول مر جاتا ہے۔۔”

ان کی بات پر اس نے گہرا سانس لے کر ایک بار پھر سے نگاہ سبزہ زار کی جانب پھیری۔۔

“آپ اداس کیوں ہوتے ہیں۔۔؟ یہیں پاس ہی میں۔۔۔ تو جارہی ہیں وہ۔۔”

یہ الفاظ کہنا بھی تکلیف دیتا تھا کہ وہ جارہی تھی۔۔ کسی اور کی ہونے۔۔ اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ دور۔۔ اس نے پیچھے بندھے ہاتھ کی مٹھی ضبط سے بند کی۔۔

” یہی تو ایک دلاسہ ہے کہ وہ نظروں سے کہیں بہت دور نہیں جارہی۔ میں جب چاہونگا مل کر آجاٶنگا یا پھر اسے یہاں بلا لونگا۔۔ ہاں اس معاملے میں، میں بہت خوش قسمت ہوں ولی۔۔ جانتے ہو میں نے ہمیشہ تم دونوں کے حق میں دعاٸیں ایک ساتھ مانگی ہیں۔۔”

یونانی مجسمے نے چونک کر زمان کی جانب دیکھا تھا۔۔

“ایسا نہیں ہے کہ مجھے اپنی باقی دو اولادیں عزیز نہیں۔۔ لیکن جو امل اور تم میرے لیۓ ہو، یہ سچ ہے کہ اس کی جگہ بختیار اور نثار کبھی نہیں لے سکتے۔ میں جب بھی اس کی خوشیوں کی، اس کے نصیب کی دعاٸیں مانگتا ہوں تب تب تمہارے لیۓ بھی بیک وقت میرے دل سے دعاٸیں نکلتی ہیں۔۔ شاید اسی لیۓ کہ تم دونوں مجھے ایک ہی طرح سے عزیز ہو۔۔”

مبھم سے روشنی میں اس کے چہرے پر پھیلتی مسکراہٹ بہت افسردہ تھی۔۔ بے حد اداس اور بے بس۔۔

“آپ کی محبت ہے سردار بابا یہ۔۔ نہیں تو کہاں بی بی اور کہاں میں۔۔”

زمان نے اس کی جانب اب کے اپنا سراپا پھیرا تو وہ انہیں مسکرا کر ناسمجھی سے دیکھنے لگا۔۔

“جانتے ہو۔۔ جب تم یونیورسٹی میں داخلے کے بعد شہر چلے گۓ تھے ناں۔۔ تب امل مجھ سے اکثر ایک بڑا عجیب سا سوال پوچھا کرتی تھی۔”

ان کے چہرے کی معصوم سی شوخی پر ولی نے انہیں مسکراتی نگاہوں سے دیکھا۔۔ سردار بابا میں جان تھی اس کی۔

“وہ مجھ سے پوچھتی تھی کہ یہ جن سے رشتے نہ ہوں اکثر وہ ہی کیوں اپنے لگتے ہیں بابا۔۔؟”

ولی کے چہرے پر رقصاں مسکراہٹ ایک پل میں غاٸب ہوٸ تھی۔۔

“اسے تم ہمیشہ سے اپنے لگتے تھے ولی۔۔ وہ بختیار اور نثار سے کبھی ویسے نہیں جڑ پاٸ جیسے تم سے جڑ گٸ تھی۔ تمہارا ساتھ خوشی دیتا تھا اسے۔۔ یاد ہے تمہیں جب کوٸ تمہیں غلط بات کہا کرتا تھا تو کتنا لڑتی تھی تمہارے لیۓ وہ سب سے۔ ایسا اس لیۓ تھا کہ تم اس کے لیۓ بہت اہم تھے۔۔ تم نے کبھی اسے غیر آرام دہ نہیں ہونے دیا۔۔ اور جو لوگ امل کو ان کمفرٹیبل نہ کریں وہ ان کے لیۓ اپنی جان تک دے سکتی ہے۔۔”

سردار بابا اسکی حالت کے برعکس دھیمے لہجے میں بولتے جارہے تھے۔۔

“لیکن جب تم یونی سے واپس لوٹے تو وہ اپنے خول میں سمٹ گٸ۔ میں اس سے اکثر پوچھتا بھی تھا کہ اب تو ولی آگیا تم کیوں اس کے ساتھ پہلے کی طرح باتیں نہیں کرتی تو جانتے ہو کیا کہا کرتی تھی مجھے۔۔”

وہ بنا پلکیں جھپکے ان کا نیم واضح سا چہرہ دیکھے گیا۔۔ اس پر بہت کچھ آشکار ہورہا تھا۔ اور اسے اندازہ بھی ہورہا تھا کہ محبت چھپاۓ نہیں چھپتی۔۔ اسے جتنا دبانے کی، جتنا پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اتنی ہی تیزی کے ساتھ فضا میں کسی دلفریب خوشبو کی طرح تحلیل ہو کر بکھر جاتی ہے۔۔ محبت نہیں چھپ سکتی۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔

گو کہ سردار بابا کو اس کی محبت کا اندازہ نہیں تھا مگر پھر بھی کچھ تو تھا جو انہیں بھی محسوس ہوا تھا لیکن وہ اس احساس کو دوستی کے رشتے کے ساتھ جوڑ رہے تھے۔۔ اور پھر اتنا احترام تو قدرت بھی کرتی ہے کہ دل کے اندر پلتے جذبوں کو اتنی آسانی سے آشکار نہ ہونے دے۔۔!

“مجھے کہتی تھی کہ بابا میں اب ویسے آرام دہ نہیں ہوتی ولی کے ساتھ بات کرتے وقت۔۔ اور کوٸ بات نہیں مگر مجھے ایسا لگتا ہے بابا کہ فاصلے انسانوں کے درمیان صدیوں کی مسافت کھڑی کردیتے ہیں۔۔ وہ بھی دور گیا تو اب وہ نہیں رہا جو تھا اور شاید وقت کے چلتے دھاروں میں بہہ کر میں بھی کچھ بدل گٸ ہوں۔۔ تب مجھے سمجھ آگیا تھا ولی کے وہ تم سے پہلے کی طرح کیوں بات نہیں کرتی۔۔ اور مجھے اس وقت اس پر فخر بھی ہوا تھا۔۔ کہ میرے اس طرح سے پوچھنے پر بغیر کسی ہچکچاہٹ، بغیر کسی تردد کے وہ آرام سے میرے سامنے تمہاری بات کررہی تھی۔۔ اس کا اندر باہر یونہی شیشے کی طرح ہے، صاف، اجلا اور شفاف سا۔۔ تو پھر اب بتاٶ۔۔ اگر ایسی بیٹی دور جاۓ گی تو کون باپ پھر اداس نہیں ہوگا۔۔۔؟”

ایک پل کو رک کر اس کی جانب مسکراتے ہوۓ دیکھا مگر وہ اب تک ساکت تھا۔۔ اسے لگا اگر اس نے پلک بھی جھپکی تو آس پاس تحلیل ہوٸ رات کہیں غاٸب ہوجاۓ گی۔۔ صدیوں کا سحر لمحوں میں قید ہو کر اڑ جاۓ گا۔۔ وہ آگے نہیں بڑھنا چاہتا تھا۔۔ کیونکہ آگے اس لڑکی کو اسے اپنے ہاتھوں سے کسی اور کو سونپنا تھا اور یہ سوچ کر اس کی چلتی سانسیں تک رُکنے لگتی تھیں۔

” بابا۔۔ “

کسی آواز پر اس کا سکتہ ٹوٹا تھا۔ وہ اور زمان بیک وقت آواز کی سمت گھومے۔۔ وہ سبز لباس میں ملبوس کوٸ اپسرا تھی کہ جس کا سراپا اس مدھم ہوٸ رات میں بھی جگمگا رہا تھا۔۔

اس نے لاٶنج کی بتیاں روشن کیں اور پھر وہ جو اندھیرے میں صرف زمان کی توقع کررہی تھی اسے دیکھ کر ایک پل کو ٹھہر سی گٸ۔۔

“ارے امل۔۔ تم سوٸ نہیں اب تک۔۔؟”

وہ زمان کو دیکھتی قدم قدم چلتی ان تک آرکی۔۔ ایک گھاٸیل ہوٸ نگاہ اس پر ڈالی اور پھر زمان کے بازو کو اپنے نازک ہاتھوں سے تھاما۔۔

“یہ سوال مجھے آپ سے کرنا ہے بابا۔۔ آپ اس وقت یہاں کیا کررہے ہیں اور سوۓ کیوں نہیں اب تک۔۔؟؟”

اسے بھرپور نظر انداز کر کے وہ زمان کا بازو پکڑے بہت لاڈ سے بولی تو زمان اس کی فکر پر ہنس دیۓ۔۔ وہ نہیں ہنس سکا۔۔ آہستہ سے اپنا رخ سبزہ زار کی جانب موڑ گیا۔۔

“مجھے نیند نہیں آرہی تھی بچے اسی لیۓ یہاں آکھڑا ہوا۔۔ پھر ولی بھی آگیا تو میری چاندی ہی ہوگٸ۔ جانتی ہو میں ولی سے ابھی کہہ رہا تھا کہ امل بچپن میں کتنا لڑتی تھی تمہارے لیۓ۔۔”

وہ جو مسکرا کر ان کی جانب دیکھ رہی تھی ایک پل کو سُن سی ہوگٸ۔۔ ولی نے اب کے رخ پورا سبزہ زار کی جانب پھیر لیا تھا۔۔ وہ اس کی حیرت بخوبی محسوس کرسکتا تھا۔۔

“میں کسی کے لیۓ نہیں لڑتی تھی بابا تصحیح کریں، بس مجھے کبھی کبھی بہت غصہ آجایا کرتا تھا اسی لیۓ جو بھی سامنے آتا تھا میرا سارا طیش اس پر اتر جاتا۔۔ میں کبھی کسی کے لیۓ نہیں لڑی۔۔ آپ کو لگتا ہے میں کسی سے لڑ سکتی ہوں۔۔”

فوراً چہرے پر مسکینیت طاری کرلی تو زمان نے اسے شرارتی نظروں سے دیکھا۔۔

“واقعی تم لڑتی تھوڑی تھیں۔۔ جنگیں کیا کرتی تھیں تم تو۔۔”

دوسری جانب رخ کیۓ ولی کے لب مسکراۓ تھے۔۔ مگر امل نے انہیں اتنی ہی خفگی سے دیکھا تھا۔۔

“بابا۔۔ اچھا اب بس۔۔ میرا فی الحال لڑنے کا کوٸ موڈ نہیں ہے۔۔ چلیں آپ چل کر سوٸیں۔۔ نیند کے وقت پر نیند لینا ہی درست ہوتا ہے نہیں تو پھر آپ کی طبیعت خراب ہوجاٸیگی۔۔”

انہوں نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر دوسری جانب رخ کر کے کھڑے ولی کو دیکھا۔۔

“بچے اب سوجاٶ جاکر تم بھی۔۔ سنا نہیں تم نے ابھی کہ نیند کے وقت پر نیند لینا ہی درست ہوتا ہے۔۔”

وہ بمشکل چہرے پر مسکراہٹ لا کر ان کی جانب پلٹا تھا مگر لاکھ حفاظتی بندھ باندھنے کے بعد بھی نسواری نگاہوں نے شہد رنگ نگاہوں کو چھو لیا تھا۔۔ اور ایک لمحہ ۔۔۔ اس ایک لمحے کے تصادم نے دونوں نفوس کی سانسوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا تھا۔۔ اگلے ہی پل اس نے اپنی آنکھیں اس کی شہد رنگ آنکھوں سے چھڑاٸیں تو لگتا تھا گویا درمیان سے صدیاں گزر گٸ ہوں۔۔

“جی سردار بابا بس میں بھی سونے ہی جارہا ہوں”

“آپ چلیں بابا کوٸ اور سوۓ نہ سوۓ یہ اس کا مسٸلہ ہے۔۔ آپ چلیں”

ایک نگاہ اس پر ڈالے بغیر اس نے لاپرواہی سے کہا اور زمان کو کوٸ اور موقع دیۓ بنا انہیں ہاتھ سے پکڑے آگے بڑھ گٸ۔۔ ولی ہمیشہ کی طرح تنہا کھڑا رہ گیا۔ دل جو پہلے ہی بہت بوجھ تلے دبا تھا اب درد کرنے لگا۔

لیکن کیوں۔۔ کیوں تکلیف ہورہی تھی اسے اب۔۔؟ یہی تو چاہا تھا اس نے۔۔ یہی تو اس کی خواہش تھی کہ امل اس سے نفرت کرے۔۔ اسے ہر ایک کی طرح جھڑک دے۔۔ اس سے بھی ویسے ہی ظالم طریقے سے پیش آۓ جیسے ہر ایک کے ساتھ پیش آتی ہے۔۔ اور اب وہ سچ میں ایسا کرنے لگی تھی تو پھر یہ تکلیف۔۔ یہ اذیت۔۔ یہ سب کیا تھا آخر۔۔!!

اس نے اپنے قدموں کو باہر کی جانب بڑھایا۔ ابھی وہ صرف اور صرف ان سنسان پگڈنڈیوں پر چلنا چاہتا تھا کہ جن پر رات کے اس تنہا سے پہر میں کوٸ بھی نہ ہوتا۔۔

اپنے بستر پر لیٹی امل نے کب کے رکے آنسوٶں کو بہنے دیا۔۔ وہ اس کی کنپٹی سے پھسلتے بالوں میں جذب ہورہے تھے۔۔

“نفرت کرتی ہوں میں تم سے ولی۔۔ شدید نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔۔”

دل میں اٹھتی تکلیف کے باعث لرزتے لبوں کو اس نے زور سے دانتوں تلے دبایا۔ دل سے رستا خون اب آنکھوں کے راستے پانی بن کر بہنے لگا تھا۔ سب کچھ جیسے ختم ہوتا جارہا تھا۔۔ ریت کی طرح پھسلتا جارہا تھا۔ ایک دم اس کی ہچکی ابھری تھی۔۔ اور پھر کمرہ دبی دبی سسکیوں سے گونجنے لگا۔

ولی نے گہرا سانس لے کر اندر پلتے درد کو کم کرنا چاہا مگر وہ جانتا تھا کہ یہ اذیت اب کبھی ختم نہیں ہونے والی تھی۔

آسمان پر سجے تارے زمین پر موجود دو محبت کرنے والوں کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگۓ تھے۔۔ مگر۔۔ وقت۔۔ ہاں وقت نے دوسری جانب اداسی سے مسکرا کر سر جھکایا تھا۔۔!

۔۔۔۔۔۔

“تمہیں کیوں اتنی جلدی پڑی ہے نفیس اور امل کی شادی کی۔۔؟ میرا تو پورا ارادہ تھا یہ رشتہ ختم کروانے کا۔۔ فرخندہ سے وعدہ کیا تھا میں نے کہ اس کی بیٹی کی شادی نفیس سے کرواٶنگی میں۔۔ لیکن تمہارے کہنے پر مجھے زبردستی ارجمند کو بھی راضی کرنا پڑا۔۔ ایسی بھی کیا مصیبت پڑ گٸ تھی۔۔؟ اور اب یہ ایک مہینے کے اندر شادی کرنے کا جو شوشہ تم نے چھوڑا ہے بھٸ میری تو سمجھ میں نہیں آرہا کچھ بھی۔۔ آخر چاہتے کیا ہو تم۔۔۔؟ اتنی جلدی کیوں ہے تمہیں ان دونوں کی شادی کی۔۔؟”

نگار بیگم نے آخر میں بہت تپ کر اس سے پوچھا تو وہ جو صوفے پر آرام دہ سے انداز میں بیٹھا تھا سنجیدگی سے سیدھا ہوا۔۔

“ولی اور امل کے چکر کا پتہ ہے نہ آپ کو۔۔؟”

اس کے ایسے سوال پر نگار ایک پل کو گڑبڑا سی گٸ تھیں۔۔

“ہا۔۔ ہاں پتہ ہے۔۔ کسے پتہ نہیں ہوگا بھٸ۔۔ کھلے عام یارانہ کرتے اگر انہیں شرم نہیں آرہی تو پھر لوگوں کو بھلا کیا پرواہ۔۔ وہ تو وہی کہیں گے ناں جو دیکھیں گے۔۔ لیکن۔۔ اس سب کا اس سے کیا لینا دینا۔۔؟”

بہت الجھ کر اس سے پوچھا تو وہ مسکراتا ہوا بالوں میں ہاتھ چلانے لگا۔۔ دل کو نہ جانے کیوں کمینی سی مسرت نے گھیرا تھا۔۔ ولی کی جو حالت آنے والے دنوں میں ہونے والی تھی اسے سوچ کر ہی اس کی رگ رگ میں گویا مستی سی دوڑنے لگی تھی۔۔

“بس آپ سمجھیں کہ ولی کی بربادی شروع ہوچکی ہے۔۔”

نگار ایک پل کو اس کے انداز پر ٹھٹھکی تھیں۔۔

“کیا مطلب۔۔؟”

“جس طرح جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے ناں اسی طرح ولی کی جان امل میں ہے۔۔ میں امل کو اذیت دونگا لیکن تڑپے گا ولی۔۔ میں اس ذرا جتنی لڑکی کو بدنامی کے ایک نا ختم ہونے والے سیلاب کے حوالے کرونگا تو ولی خود کو کبھی معاف نہیں کرپاۓ گا۔۔ اور یہی چاہتا ہوں میں۔۔ کہ وہ زندہ رہے۔ زندہ رہے اور دیکھے کہ ہاشم سے الجھنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔ آپ بس اس شادی کی تاریخ ایک مہینے کے اندر اندر کرواٸیں۔۔ میں اس سے زیادہ صبر نہیں کرسکتا۔۔”

نگار جو سانس روکے اس کی ساری حکمتِ عملی سن رہی تھیں لمحوں میں جاگیں۔۔

“تم کیا کرنے والے ہو ہاشم۔۔؟”

ان کی خوفزدہ سی آواز میں بہت عجیب سی لرزش تھی۔۔

“میں جو کرونگا ناں وہ ساری دنیا دیکھے گی۔۔ آپ انتظار کریں۔۔ ایک بہت دلچسپ سا کھیل شروع ہونے والا ہے۔۔ بس چند دن صبر کر لیں آپ۔۔”

وہ آدھی ادھوری کہانی سنانے کے بعد اُٹھ گیا تو نگار لاٶنج کی زرد رونشنیوں میں بے یقینی سے بیٹھی رہ گٸیں۔۔ ہاشم نہ جانے کون سا موت کا کھیل شروع کرنے جارہا تھا۔۔ رات کی سیاہی میں عجیب سی گھٹن گھلنے لگی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ صبح صبح تیار ہو کر ڈیرے پر پہنچا تو نواز جو اسی کا انتظار کررہا تھا یکدم اُٹھ کھڑا ہوا۔۔

“سر۔۔ آپ کا کام کردیا گیا ہے۔۔”

“ٹھیک ہے۔۔”

اس کا سنجیدہ سا چہرہ پل بھر میں پتھر جیسا سخت سا ہوگیا تھا۔۔ نواز کی پیشانی پر بے اختیار پسینہ پھوٹا۔۔

“کوٸ کوتاہی تو نہیں ہوٸ اس سب میں۔۔؟”

اس نے ٹیبل کے پیچھے لگی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ پوچھا تو نواز جلدی جلدی بتانے لگا۔۔

“جی سر۔۔ کوٸ کوتاہی نہیں کی گٸ ہے۔ سب ویسے ہی ہوا ہے جیسے آپ نے چاہا تھا۔ لیکن۔۔ اگر اس سب کی بھنک بھی سردار بابا تک پہنچ گٸ تو بہت برا ہوگا سر۔۔”

اس نے ایک پل کو سرد نگاہیں نواز پر جماٸیں۔۔

“اگر یہ بات ان کے کان تک پہنچی تو پھر تم اپنی خیر منانا نواز سمجھ گۓ۔۔؟”

اس نے جلدی سے تھوک نگل کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔

“جی۔۔ جی میں سمجھ گیا سر۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔”

“اور کچھ ہونا بھی نہیں چاہیۓ۔۔ باہر سے محسن کو اندر بھیجو۔۔ کام ہے مجھے اس سے۔۔”

اس نے حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ قدم باہر کی جانب بڑھاۓ تو ولی نے جھک کر ٹیبل کے دراز سے ایک خاکی لفافہ نکالا۔۔ نفیس احمد کی زندگی کا کچھا چھٹا۔۔ اس نے لفافے سے بہت سے پیپرز نکال کر سامنے رکھے تو اسی وقت آفس میں محسن داخل ہوا۔۔

رف سی جینز اور ٹی شرٹ پر بھوری جیکٹ پہنے۔۔ اپنے مخصوص لاپرواہ سے حلیے میں۔۔

“کرتار پور والے سکھوں کی بیٹی کا کیس دیکھا تم نے محسن۔۔؟”

“جی دیکھا ہے میں نے۔۔”

اس نے پشت کرسی کے ساتھ ٹکاٸ اور پھر اسے دیکھا۔۔

“کیا لگتا ہے تمہیں ایک بڑی سی مچھلی اس جال میں پھنس جاۓ گی۔۔؟”

“مچھلی۔۔!”

محسن مسکرایا تھا۔۔

“اس جال میں تو مگرمچھ بھی پھنس سکتا ہے ولی سر۔۔”

“گڈ۔۔”

اس نے اس کی محنت کو سراہا تھا۔۔

“وہ لوگ اتنے طاقتور اور اتنے بارسوخ ہیں ناں ولی سر کہ ہمیں تو بس درمیان میں پل کا کام دینا ہے۔۔ باقی کی ساری کسر وہ لوگ خود ہی نکال لیں گے۔ ہم نے بس پزل کے سب ٹکڑوں کو جوڑنا ہے پھر انتقام کی تصویر خود بخود سامنے آجاۓ گی۔۔”

“ایسا ہی ہونا چاہیۓ۔۔”

“ایسا ہی ہوگا۔۔”

محسن نے اس کے بول پر مہر ثبت کی تھی۔۔

“اچھا ایک بات اور۔۔ اپنا بہت خیال رکھنا کام کرتے ہوۓ۔۔ ہاشم کو شک ہوگیا ہے ہم پر۔۔ اور اگر شک کے پیچھے اسے ہم میں سے کسی کی بھی شکل نظر آٸ تو ہم میں سے کوٸ بھی نہیں بچے گا۔۔ ہمیں اس سب سے پہلے اسے تباہ کرنا ہے۔۔ اب سمجھ گۓ ناں۔۔!”

محسن نے مسکراتے ہوۓ پلکیں جھپکا کر اس کی تسلی کرواٸ تو ولی نے بھی گہرا سانس لے کر سامنے رکھے پرچے الٹ کر دیکھے۔۔

زندگی کا ایک بہت بڑا امتحان تو ابھی رہتا ہی تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *