Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 19) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 19) Part - 1
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
فجر کی پاکیزہ سی ٹھنڈک میں صبح کی نماز ادا کر کے اس نے سلام پھیرا اور پھر چند لمحے جاۓ نماز پر ہی بیٹھی رہی۔ وہ اللہ سے بات کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس سے بہت سی باتیں کرنا چاہتی تھی۔ اپنی، ولی کی، اپنے اندر جمع ہوتی گھٹن کی، اس سیاہ رات کی جو ابھی تک ختم نہیں ہوٸ تھی، اس سرنگ کی جس کے پار نور کی چاندی پگھل کر گرا کرتی تھی، اس چاہ کی جو اس کے دل پر اب ہر دم رقم رہنے لگی تھی، اس محبت کی جو غلطی سے ہوگٸ تھی، اور اس خواب کی جو اس نے ابھی چند لمحے پہلے دیکھا تھا۔۔ ایک انتہاٸ بھیانک اور درد ناک خواب۔۔
اس نے اپنے رخسار کو بے ساختہ چھوا تو احساس ہوا کہ وہ گیلا تھا۔ اتنے دن سے اس نے مضبوط بن کر زمان اور بی جان کو سنبھالا تھا۔ وہ انہیں یا پھر خود کو یہی دلاسہ دیتی رہی تھی کہ وہ ٹھیک ہوجاۓ گا۔ اسے ٹھیک ہونا ہی ہوگا۔ وہ اسے دیکھ کر جیا کرتے تھے۔ اسے کچھ بھلا کیسے ہوسکتا تھا۔ اس نے آنسو صاف کیۓ مگر پھر گویا کوٸ اندیکھی سی درد کی ٹیس نے دل کو جکڑ لیا۔ آنسو روکنے کے باوجود بھی رخساروں پر پوری شدت کے ساتھ پھسلنے لگے۔ آج تین دن ہوگۓ تھے اسے دیکھے۔ اور یہ تین دن، تین صدی سے کم کا عرصہ نہیں تھے۔ ان تین دنوں کی اذیت، تین دہاٸیوں کے برابر تھی۔ بے ساختہ اس کی ہچکی ابھری۔۔
ایسا ہی ہوتا ہے۔۔
بہت آنسو روکنے کی کوشش میں سانسیں شور کرنے لگتی ہیں۔ اس نے بھی آنسو روکنے کی کوشش ترک کردی۔ یہ ایسے تھا تو پھر ایسے ہی سہی۔ ایک دم اندر جمے آنسو آنکھوں سے گرتے رخساروں کو بھگوتے اس کے دوپٹے میں جذب ہونے لگے۔ اس کے چہرے کے گرد گلابی رنگ کا دوپٹہ بالکل اس کی سرخ ہوٸ ناک کے ہم رنگ ہوچکا تھا۔
“مت رویا کریں، تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔”
اس کے کانوں میں ولی کی آواز گونجی تھی۔ وہ یکدم چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ رو پڑی۔ وہ نہیں رونا چاہتی تھی کیونکہ اس سے ولی کو تکلیف ہوتی تھی مگر وہ خود کو روک نہیں پارہی تھی۔ اس کے چھپے چہرے پر جابجا آنسوٶں کے نشان جمع ہونے لگے تھے۔
“آنسو صاف نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا حق نہیں رکھتا میں۔ ہاں آنسو دینے والوں کی چمڑیاں اُدھیڑ سکتا ہوں۔ بتاٸیں کس نے رُلایا ہے آپ کو۔۔؟”
اس نے گھٹنے سمیٹ کر سینے سے لگاۓ۔ وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر اس آواز کو روکنا چاہتی تھی مگر وہ اس آواز کو روک نہیں پارہی تھی۔ وہ اسے بھول جانا چاہتی تھی مگر وہ اسے نہیں بھول پارہی تھی۔ بے بسی سی بے بسی تھی۔۔
“تو یہ طے ہے کہ آپ صرف تب ہی بولیں گی جب آپ کو غصہ آۓ گا۔۔”
اس نے آنسوٶں کو مخروطی انگلیوں سے صاف کیا اور پھر خود میں کچھ اور سمٹ کر رونے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کی آواز بلند ہونے لگی تھی۔ سانسیں شدید تکلیف کے باعث بوجھل ہو کر بے ترتیب ہورہی تھیں۔ ہونٹ لرز رہے تھے اور سارا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ ولی یاد آرہا تھا۔۔ آۓ جارہا تھا۔۔ دل کی اذیت سوا ہونے لگی تھی۔۔ آنکھوں میں بے انتہا سی جلن ہورہی تھی۔۔ مگر یادیں۔۔ یادیں کبھی ساتھ نہیں چھوڑا کرتیں۔ صدا انسان کے وجود میں بسیرا کیۓ رہتی ہیں اور کسی جذباتی لمحے کے زیرِ اثر یوں باہر نکل کر جسم سے جان کھینچا کرتی ہیں۔۔ یادیں جان لیوا ہوتی ہیں۔۔ بے حد۔۔ بے حساب۔۔!
“مجھے کڑی سزاٶں سے ڈر لگتا ہے اسی لیۓ میں بہت شرافت سے آپ کو لینے آجاٶنگا۔۔ یقیناً پھر تو معافی سہل ہو ہی جاٸیگی۔۔”
بہت برا تھا وہ۔۔ نفرت تھی اسے اس سے۔۔ بدتمیز تھا وہ بہت۔۔ تکلیف دیا کرتا تھا اسے۔۔ اذیت دیتا تھا۔۔
ہاں وہ اسے پسند نہیں کرتی۔۔ وہ اسے کبھی پسند نہیں کرسکتی۔۔ وہ اسے کبھی بھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ اسے یاد کررہی تھی۔۔
“چھوڑ دوں اکیلا۔۔؟ کوٸ مسٸلہ تو نہیں ہوگا؟”
نہیں ولی مجھے اکیلا مت چھوڑیں۔۔ میں نہیں رہ سکونگی آپ کے بغیر۔۔ مجھے نہیں کرنی کسی سے بھی شادی۔۔ میں کبھی بھی کسی کی دلہن نہیں بننا چاہتی۔ پلٹ آٸیں ولی۔۔ میں آپ کے لیۓ بہت دعاٸیں کرونگی۔۔ میں ہر پل دعاٸیں کرتی ہوں ولی۔۔ میں آپ سے کبھی غافل نہیں ہوں گی۔۔
اس کا دوپٹہ آنسوٶں سے بھیگنے لگا تھا۔۔
“کیوں اتنے مشکل سوال کرتی ہیں آپ۔۔؟”
وہ تو صرف مشکل سوال کیا کرتی تھی اور ولی۔۔ وہ کتنی مشکل باتیں کرجایا کرتا تھا۔ اپنی موت کی باتیں۔۔ زندگی کے اختتام اور انجام کی باتیں۔۔ اذیت اور تکلیف دہ باتیں۔۔ بے اختیار کچھ یاد آنے پر اس نے سر اٹھایا تھا۔۔ ایک پل کو ساری دنیا گویا ٹھہر گٸ تھی۔ پھر ایک لمحے کی بھی دیر کیۓ بغیر وہ اٹھی اور کمرے سے باہر کی جانب دوڑی۔۔ زینوں سے اترتے وقت اس کی لمبی گلابی قمیض ٹھنڈے زینوں کو چھو رہی تھی۔ سفید رنگ کا چوڑی دار پجامہ بھی اس کی جنبش پر جھلک رہا تھا۔۔ گلابی دوپٹہ جو چہرہ کے گرد بندھا تھا وہ اب کھل کر گلے میں جھول رہا تھا۔
“رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔؟”
اس نے خاموش پڑی حویلی کو نظر انداز کیا اور زینے پار کر کے جلدی جلدی اس کے کمرے کی جانب بھاگی۔ کھلے بال اب کے پیچھے کی جانب اڑ رہے تھے اور دوپٹہ پورا جھول کر اس کے ہاتھوں پر گر رہا تھا۔ اس نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا اور پھر تیزی سے اندر آ کر سنگھار میز پر رکھی چیزوں کو آگے پیچھے کر کے کچھ تلاشا۔۔ اس کے آنسو سوکھ چکے تھے اور ان کے خشک نشان کوٸ بھی اس کے رخساروں پر محسوس کرسکتا تھا۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کی الماری کا پٹ وا کیا۔ دوپٹہ اب کے نیچے قالین پر گرا تھا اور وہ کسی بھی چیز کی پرواہ کیۓ بغیر کچھ تلاش کررہی تھی۔۔
“غلط فہمی ہوٸ ہے آپ کو قانتہ جی۔۔ سزاٸیں دینا میرا کام ہے ہی نہیں۔ ۔ بھلا کسی اور کا کام میں کیسے کرسکتا ہوں۔ آپ ان سے پوچھ لیں کہ کیا میں نے کبھی سزا دی ہے انہیں۔۔؟”
سب جگہ تلاش کرنے کے باوجود بھی وہ کہیں نہیں تھا۔ وہ کی چین جو اس نے ولی کو اس پرفیوم کے ساتھ تحفے میں دیا تھا۔ وہ اب کہیں پر بھی نہیں تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔۔ ولی نے اس کا دیا پرفیوم کچرے میں پھینک دیا تھا مگر وہ اس کی چین کو نہیں پھینک سکا۔۔ وہ ایسا نہیں کرسکا تھا۔۔!
اس کے قدموں سے یکدم جان ختم ہوٸ تھی۔۔ کیوں۔۔؟ کیوں وہ اسے تکلیف دیتا رہا۔۔! وہ جانتا تھا کہ امل کو اس کے اس انداز س تکلیف ہوا کرتی تھی جبھی تو وہ ہر موڑ پر اس کی بے قدری کیا کرتا تھا تاکہ وہ اس سے دور ہوجاۓ۔۔ اس سے دور چلی جاۓ۔۔
اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھاما اور الماری کے بند پٹ سے لگ کر بیٹھتی چلی گٸ۔۔ کوٸ انکشاف تھا جو اس پر اس فجر میں ہورہا تھا۔۔
“کریں۔۔ شوق سے کریں نفرت۔۔ محبت کرنے کو میں نے آپ سے کبھی کہا بھی نہیں تھا۔۔”
ولی احمد اس سے محبت کرتا تھا۔۔ وہ اس سے بیزار نہیں تھا ناں ہی اس نے کبھی اسے دل سے جھٹکا تھا۔ جبھی تو اس کا وہ تحفہ وہ پھینک نہیں سکا تھا۔۔ وہ کرنا چاہتا تھا مگر وہ یہ نہیں کرسکا تھا۔۔
اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔۔ گلابی سی دھندلی نمی میں اس کا منظر دھندلانے لگا تھا۔۔
“آپ اچھی بچّی ہیں۔۔ مجھے پتہ ہے آپ میری بات ضرور مانیں گی۔۔”
اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپایا۔۔ مگر سب کچھ بکھر کر سامنے پڑا تھا۔۔ سب کچھ بکھرتا جارہا تھا۔۔ ختم ہوتا جارہا تھا۔۔ دوسری جانب ولی نے سوٸیوں سے جکڑے ہاتھ میں کی چین کو ایک نظر دیکھنے کے بعد قید کیا تھا۔ اس کی چین میں جان تھی اس کی۔۔
“ہر لڑکی امل نہیں ہوتی۔ اور نہ ولی کو کسی اور سے کچھ لینا دینا ہے۔۔”
وہ اب تک چہرہ گھٹنوں میں دیۓ رورہی تھی اور ولی بھیگی آنکھوں سے مٹھی میں قید کی چین کو دیکھ رہا تھا، جس کی باریک سی زنجیریں اس کی مٹھی سے نکل کر نیچے کو گر رہی تھیں۔ امل کی ہچکیاں اب کے ساری حویلی میں سناٸ دینے لگی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس نے چند پل کو بوجھل پلکیں موندیں رکھیں پھر کسی آواز پر اس کی آنکھیں کھلی۔ ڈاکٹرز اس کے کمرے میں داخل ہورہے تھے۔ اس نے آس پاس نگاہ گھما کر اصغر کو تلاشا مگر وہ شاید کچھ ہی لمحوں پہلے روم سے باہر گیا تھا۔ بے داغ سے سفید کوٹ میں ملبوس ڈاکٹر اسفر ینگ سا تھا اور ان کے ساتھ ڈاکٹر ارحم ان کے سینٸر تھے۔ دونوں کی خوشگوار سی مسکراہٹ پر اس کے چہرے پر نرم سا تاثر بکھر گیا تھا البتہ مسکراہٹ اب بھی غاٸب تھی۔
“اسلام علیکم۔۔ کیسے ہو ینگ مین۔۔؟”
ارحم اس کے بیڈ کے ساتھ کھڑے ہوگۓ تھے جب کہ دوسری جانب موجود اسفر اب کے اس کے چارٹ پر نگاہ دوڑا رہا تھا۔
“وعلیکم سلام۔۔ بہتر ہوں پہلے سے۔۔ پیٹ پر موجود زخم اتنی تکلیف نہیں دیتا لیکن کندھے کا زخم بہت درد کرتا ہے۔”
“ہوں۔۔”
انہوں نے جھک کر اس کے دونوں زخموں کا بغور معاٸنہ کیا اور پھر سیدھے ہوتے ہوۓ اسے بتانے لگے۔۔
“یہ ایسے اس لیۓ ہے کیونکہ جو گولی تمہارے پیٹ پر لگی تھی اس کا نشانہ چُوک گیا تھا۔ جس کے باعث زخم زیادہ گہرا نہیں ہے۔ لیکن تمہارے کندھے پر لگی گولی بہت اندر تک اتری تھی۔ اسے ریکور کرنے میں ٹاٸم لگے گا تمہیں۔۔”
“کتنا ٹاٸم۔۔؟”
“کم از کم ایک مہینے کا عرصہ۔ اس سے پہلے اگر تم نے اس ک ساتھ لاپرواہی برتی تو یہ زخم خراب ہوجاۓ گا۔ احتیاط کرنی ہوگی تمہیں۔۔”
“مجھے ڈسچارج کب تک کردیا جاۓ گا۔۔؟”
وہ اب اس کی فاٸل پر نگاہ دوڑا رہے تھے۔ اس کی بات پر جھکا سر اٹھاۓ بغیر جواب دیا۔۔
“میرے اندازے سے زیادہ تیزی کے ساتھ ریکور کررہے ہو تم۔ زیادہ سے زیادہ دس دن میں ڈسچارج کردیۓ جاٶگے۔۔”
اس نے مایوسی سے سر واپس تکیۓ پر رکھ دیا تھا۔۔ دس دن۔۔ اتنے دن اسے اس اسپتال میں رہنا تھا۔ کام ادھورے تھے اور اس طرح اسپتال میں رہنا بہت مشکل۔۔ اس کے اندر بیزاریت سوا ہونے لگی تھی۔۔
ڈاکٹرز اس کا معاٸنہ کر کے پلٹے تو اسی سمے قانتہ زین کو لیۓ روم میں داخل ہوٸ۔ نفیس سے سوٹ میں ملبوس ہمشہ کی طرح باوقار اور ٹھہری ہوٸ۔۔ لیکن اس وقت ولی کو ایسے بستر پر دراز دیکھ کر اس کا سارا ٹھہراٶ گویا بہہ گیا تھا۔۔ زین بھی اس کے پاس بھاگ کر آیا تو اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔۔ انہیں دیکھ کر وہ ایک لمحے کو حیران ہوا تھا۔۔
“کیسے ہو ولی۔۔؟ اور۔۔ اور یہ سب کیسے ہوا۔۔۔؟ تم کیا کررہے تھے۔۔؟ خیال کیوں نہیں رکھتے تم اپنا۔۔؟؟!”
وہ نجانے کیوں بولتے بولتے یکدم رونے لگیں تو ولی پریشان ہی ہوگیا۔۔ ایک تو جن عورتوں سے اسے محبت تھی وہ رویا بہت کرتی تھیں۔ بی جان، قانتہ اور پھر امل کو کیسے بھلایا جاسکتا تھا۔۔! وہ تو رونے اور رلانے۔۔ دونوں میں کٸ ہاتھ آگے تھی۔۔
“میں ٹھیک ہوں قانتہ۔۔ بس ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا۔۔”
اس نے ہلکے پھلکے سے انداز میں کہہ کر ساتھ کھڑے زین کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔ وہ اس ہاتھ کا پکڑے کھڑا تھا۔۔
“چھوٹا سا ایکسیڈینٹ۔! تمہارے اس چھوٹے سے ایکسیڈینٹ نے کٸ لوگوں کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں ولی اور تم کتنے آرام سے کہہ رہے ہو کہ یہ ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہے۔ کتنے ظالم ہو تم۔۔ ہر وقت اپنی موت کی باتیں کیا کرتے تھے ناں۔ دیکھ لو اب کس حالت میں ہو تم۔۔”
انہوں نے کہہ کر دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپایا۔۔ وہ اس کے سامنے یوں کمزور پڑ کر رونا نہیں چاہتی تھی مگر وہ رو رہی تھیں۔۔ ولی نے نفی میں سر ہلا کر اسے دیکھا تھا۔۔ پھر رازداری سے ذرا آگے کو جھک کر زین کے قریب ہوا۔۔
” تمہاری ماما کو کیا ہوا ہے۔۔؟”
“ماما بہت غصہ ہیں آپ پر۔۔ انہیں بی جان نے بتایا تھا کہ آپ ہاسپٹل میں ہیں اور انجرڈ بھی ہیں۔۔ ماما تب ہی سے پریشان تھیں۔ اب آپ سامنے ہیں تو غصے میں رورہی ہیں کیونکہ مار نہیں سکتی ناں آپ کو۔۔”
اس کی دھیمی سی آواز کے جواب پر ولی بے ساختہ ہنسا تھا۔۔ قانتہ نے چہرہ ہاتھوں سے رگڑ کر صاف کیا اور پھر اس کے ہنستے چہرے کو پریشانی سے دیکھا۔۔
“میں ڈر گٸ تھی ولی۔ بہت بدتمیز ہو تم۔ بہت ڈر گٸ تھی میں لیکن خدا کا شکر ہے کہ تم ٹھیک ہو۔۔ زندہ ہو۔۔ سلامت ہو۔۔ اللہ کا شکر ہے۔۔”
انہوں نے آگے بڑھ کر ساٸیڈ ٹیبل پر ایک ٹفن رکھا اور پھر ساتھ لگے صوفے پر جابیٹھیں۔ ولی اب زین کے بکھرے بالوں کو مزید بکھیر رہا تھا۔۔
“وہ کیسی ہے۔۔؟”
وہ جو اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا چونک گیا۔۔ جانتا تھا کہ قانتہ کا اشارہ کس جانب تھا۔ ایک لمحے کے ٹھہراٶ کے بعد اس نے زین کو اپنے ساتھ ہی بیڈ پر بٹھالیا۔۔
“نہیں جانتا۔۔”
“جب سے اسپتال آۓ ہو کیا ایک بار بھی دیکھنے نہیں آٸ تمہیں۔۔؟”
اس نے گہرا سانس لے کر اندر جمع ہوتی مایوسی کو باہر نکالا تھا۔۔
“نہیں۔۔ بہت سمجھدار ہے وہ۔۔ پتہ ہے اسے کہ کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں۔۔”
“سمجھدار ہے یا نہیں لیکن سماج کی بیڑیاں بہت بھاری ہیں اس کے پیروں میں۔۔ وہ ان بیڑیوں سے ایسے ہی آزادی حاصل نہیں کرسکتی ولی۔۔”
وہ ایک پل کو مسکرایا تھا۔۔ کچھ یاد آگیا تھا اسے۔۔
“سماج۔۔ ساری دنیا بھی اکھٹی ہوجاۓ ناں تو بھی اسے وہ کرنے سے روک نہیں سکتی جو وہ کرنا چاہتی ہے۔ مہمانوں سے بھرے گھر میں اگر وہ اپنے سے بڑے عمر کے لوگوں کو بڑے جملے ٹھنڈے سے انداز میں بول کر ابال سکتی ہے تو وہ لڑکی کچھ بھی کرسکتی ہے قانتہ۔۔ آپ جانتی نہیں ہیں اسے ابھی۔۔ اگر وہ آنا چاہتی تو آجاتی۔۔ کسی تیسرے بندے کے ساتھ نہیں۔۔ اپنے بابا کے ساتھ ہی آتی۔۔ لیکن وہ جانتی ہے کہ کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں۔۔”
اس نے آرام سے کہہ کر ان کی جانب دیکھا تھا۔
“منگنی ہوگٸ ہے ناں اس کی۔۔؟”
قانتہ کی بات پر کچھ بہت بری طرح چبھا تھا اسے اندر۔۔ اندر کہیں بہت اندر۔۔ مگر وہ بنا تاثر دیۓ یوں ہی چند پل انہیں دیکھے گیا اور پھر آہستہ سے اثبات میں سرہلایا۔۔
“جی۔۔”
“تم نے کھودیا اسے۔۔”
“پایا ہی کب تھا۔۔”
بہت بے ساختگی سے کہہ کر اس نے قانتہ کو لاجواب کردیا تھا۔۔ وہ چند لمحے اس لڑکے کو دیکھے گٸیں۔۔ جو اسپتال کے لباس میں ملبوس پہلے سے خاصہ مضمحل لگ رہا تھا۔۔ تھکا تھکا اور آخری حد تک بیزار۔۔ اسے خود سے محبت نہیں تھی لیکن جن لوگوں کو تھی وہ انصاف ان کے ساتھ بھی نہیں کرپاتا تھا۔۔ خود کو کسی اذیت کے گڑھے میں ڈالتے وہ کبھی سوچتا جو نہیں تھا ان کے بارے میں۔ کتنا برا تھا وہ۔۔
“اچھا اب ریکور کر کے خدا کے لیۓ اپنا خیال رکھنا ولی۔ تمہیں اپنی زندگی نہیں عزیز لیکن جو لوگ تمہارے آس پاس رہتے ہیں انہیں تم بے حد عزیز ہو۔ بی جان مجھ سے فون پر بات کرتے ہوۓ بہت رورہی تھیں تمہارے لیۓ۔ آغا جان بھی اپنی پوری کوششیں کررہے ہیں تمہاری ایسی حالت کرنے والے انسان کو ڈھونڈنے کی۔۔ اور امل۔۔ اس کا کیا حال ہوگا شاید میں اندازہ بھی نہ کرسکوں۔۔ خدارا اب ختم کرو اس سب کو۔۔”
قانتہ نے جیسے اپنی آخری کوشش کی تھی اسے سمجھانے کی۔۔ اس نے کسی بہت ذمہ دار اور با ادب بچے کی طرح گردن ہلاٸ۔۔
“بالکل۔۔ بہت خیال رکھونگا اپنا میں۔۔ آپ فکر مت کریں۔۔ اسکول کیسا جارہا ہے آپ کا۔۔؟”
اس نے قانتہ سے چند ایک باتیں کیں۔۔ وہ بھی اسے مختصر جواب دیتی رہی۔۔ ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ پریشانی سے وہ کہہ اٹھتی یا پھر اسے ڈانٹ دیتی تو ولی مسکرا دیتا۔۔ کتنی مضبوط اور کتنی کمزور ہوا کرتی ہیں یہ عورتیں۔۔! کچھ دیر بعد جب وہ اس سے مل کر چلی گٸیں تو اسی پہر کمرے میں اصغر داخل ہوا۔ شاپنگ بیگز سے لدا پھندا۔۔ اپنی ہی دھن میں مست کوٸ گیت گنگناتا ہوا۔ اس نے سر سے لے کر پیر تک اسے دیکھا۔۔ رف جینز، ماتھے پر بکھرے بال اور جیکٹ۔۔ وہ بلاشبہ اصغر ہی تھا۔۔ ہاٸ اسکول کی لڑکیوں کا مشترکہ کرش۔۔ اصغر شاہ۔۔
“کیسے ہو۔۔؟”
اس نے بیگز ایک طرف صوفے پر رکھے پھر رخ موڑ کر ساتھ لاۓ تازہ پھولوں کو ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا۔ ایک پل کو اس کی نظر ٹفن پر بھی پڑی تھی۔۔
“یہ کون لایا۔؟”
“قانتہ لاٸ تھیں۔۔”
“اوہ۔۔ وہ کب آٸیں۔۔۔؟”
ساتھ ہی جھک کر صوفے پر بیٹھتے اپنے جوگرز کے تسمے بند کرنے لگا۔۔ صدا کا لاپرواہ سا انسان۔۔
“تھوڑی دیر پہلے آٸ تھیں۔۔”
“تم کب سے جاگ رہے ہو۔۔؟”
“فجر سے۔۔؟”
“کیوں۔۔۔ نیند نہیں آرہی۔۔۔؟”
ایک لمحے کو چہرہ اٹھا کر بغور اسے دیکھا۔۔
“ظاہر ہے نیند آرہی ہوتی تو جاگتا کیوں۔۔”
“سڑتے ہی رہنا ہر وقت۔۔”
اس نے ناک سے مکھی اڑا کر ساتھ رکھے شاپنگ بیگز ایک ایک کر کے ایک جانب کو طریقے سے رکھے۔
“یہ میں نے تمہارے لیۓ تھوڑی سی شاپنگ کی ہے۔ دس پندرہ دن میں ٹھیک ہوجاٶ گے تم۔ پھر پہن لے ناں ان کپڑوں میں سے کچھ۔۔ پہلے ہی اتنے بد صورت ہو اوپر سے اس ہاسپٹل کے کپڑوں میں تو عجیب ہی لگ رہے ہو۔۔”
اس نے مزے سے کہہ کر اسے دیکھا تو ولی نے اسے “ہوگیا تمہارا” والی نظروں سے دیکھا۔
“کیا ہوا۔۔؟ پریشان ہو کیا کسی بات پر۔۔؟”
اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“نہیں۔۔۔”
کہتے ہی اس نے چہرہ دوسری جانب پھیر کر آنکھیں موند لیں۔ اصغر جانتا تھا کہ اس سے زیادہ اس سے پوچھنا بے کار تھا اسی لیۓ پھر مزید کوٸ بات کیۓ بغیر ہی وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ اس کے جاتے ہی ولی نے اپنی موندی آنکھیں کھولی تھیں۔۔ اسپتال کی سفید پینٹ سے رنگی بے رنگ سی چھت کو تکتے اس کی نظروں کے پار امل زمان سفید لباس میں جگمگا رہی تھی۔۔ لیکن پھر تازہ سرخ خون کے دھبے۔۔ اپنے لباس پر لگا خون۔۔ وہ کیوں اس کے خون سے داغدار ہورہی تھی۔۔؟ کیا اس پر کچھ ایسا آنے والا تھا جس کی وجہ ولی ہوگا۔۔!؟
گھبرا کر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ پھر دونوں ہاتھوں پر زور دے کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔ تکلیف بڑھنے لگی۔۔ سانس پھول گیا۔۔ لیکن وہ اٹھ نہیں سکا۔۔ تکلیف بہت زیادہ تھی۔۔ بے بسی سے سر تکیۓ پر ٹکاتے اسے بہت سے وسوسوں نے آگھیرا تھا۔ اگر ہاشم نے اس کے پیچھے امل کو کوٸ تکلیف پہنچاٸ تو۔۔ اور اگر شازیہ نے اس پر کوٸ بدنامی کا داغ لگانے کی کوشش کی تو۔۔ ااف۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیر کر اس نے بڑھتی بے چینی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن تنہا راستوں کے مسافر اکثر یوں ہی بے چین رہا کرتے تھے۔ اسی پل کہیں دور مسجد سے ظہر کی اذان گونجی تو وہ چونکا۔۔ نماز۔۔! ایک عرصہ ہوگیا تھا اسے نماز پڑھے۔۔ ایک عرصہ ہوگیا تھا اسے مسجد کی شکل دیکھے۔۔ لیکن پھر بھی اس کا دل۔۔ اس کے سخت سے دل میں کوٸ نرمی پیدا نہیں ہوٸ۔۔ اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔ نہ ہی نماز پڑھنے کا دل چاہ رہا تھا اور نہ ہی کسی سے شکوہ کرنے کے لیۓ اس نے سر اٹھایا تھا۔۔ خاموشی سے بستر پر لیٹے ولی احمد کے سپاٹ سے خول میں دراڑیں پڑنے لگی تھیں۔۔ اذان کی آواز اب کے واضح طور پر سناٸ دینے لگی تھی۔۔ ایسی آواز جو نجات کی جانب بلایا کرتی تھی۔۔ ایسی آواز جو کامیابی کی جانب دعوت دیتی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سر منہ لپیٹ کر بستر پکڑ لیا تھا۔ نہ ہی کسی سے بولنے کا دل چاہتا تھا اور نہ ہی کسی کی سننے کا دل چاہتا تھا۔۔ صبح سے اپنے کمرے میں بند ہونے کی وجہ سے اب اسے وقت کا بھی اندازہ نہیں تھا کہ کیا وقت ہورہا ہے۔۔ دوپہر ڈھل رہی تھی یا شام اپنے پر پھیلا رہی تھی۔۔ اسے کچھ ادراک نہ ہوسکا۔۔ کمرے میں تحلیل اندھیرے نے سب کچھ گویا نگل لیا تھا۔۔ کسی کے دروازہ بجانے پر اس نے دروازے کی جانب دیکھا۔۔ وہاں نوراں کے ساتھ ہی ناجیہ کھڑی تھی۔ مسکراتی ہوٸ۔۔ نک سک سے تیار ہوٸ۔۔ وہ یکدم اٹھ بیٹھی۔۔ اس کا یوں اس طرح آنا کبھی بھی اچھاٸ لے کر نہیں آیا تھا۔۔
“بھابھی جان کمرے میں اندھیرا کیۓ کیوں لیٹی ہیں۔۔؟”
وہ دھڑلے سے آگے بڑھی اور ایک ساتھ ہاتھ مار کر ساری بتیاں روشن کیں تو اس کی آنکھیں لمحے بھر کو چندھیا گٸیں۔۔ نوراں نے آگے بڑھ کر چند تحاٸف اس کے بیڈ پر رکھے اور پھر ادب سے دروازہ بند کرتی پلٹ گٸ۔۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے پہلے بیڈ پر رکھے تحاٸف کو دیکھا اور پھر نظریں ناجیہ پر اٹھاٸیں۔۔
“یہ سب کیا ہے۔۔؟”
ناجیہ نے مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر اسی تکلف سے اس کے سامنے صوفے پر جابیٹھی۔۔
“تحفے ہیں تمہارے لیۓ۔۔ ماں جی لے کر آٸ ہیں۔۔ اگلے مہینے کی تاریخ رکھیں گے تمہاری اور نفیس کی شادی کی۔۔”
اس نے اسے خبر نامہ سنا کر اس کا سفید پڑتا چہرہ محظوظ ہو کر دیکھا تھا۔۔ امل کا رنگ ایک پل کو نچڑ کر رہ گیا تھا۔۔
“کیا بکواس ہے یہ۔۔!! ابھی تایا جان کی حالت دیکھی ہے تم نے اور اوپر سے ولی کو بھی گولیاں لگی ہیں۔ اسپتال میں ہے وہ۔۔ موت کے منہ سے بچ کر نکلے ہیں دونوں لوگ ہمارے گھر کے۔ تمہاری ماں جی کو کیا اندازہ نہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔۔!!”
اس نے دھاڑ کر کہا تھا مگر ناجیہ کو کوٸ فرق نہیں پڑا۔ وہ ویسے ہی مسکراتی نظروں سے اس کی بکھرتی شخصیت کو دیکھ رہی تھی۔۔ پھر ذرا آگے کو ہو کر بیٹھی۔ اسکی آنکھوں میں جھانکی۔۔
“کیا تمہیں یاد ہے امل جب ارشد بھاجی کو زمینی مسٸلے میں گولیاں لگی تھیں۔۔ تب ہم اور ہمارا پورا خاندان۔۔ پوری حویلی ایک تباہ کن صورتحال تک پہنچ گٸ تھی۔ ہم سب زندہ ہوتے ہوۓ بھی مر گۓ تھے لیکن کسی نے بھی ہماری پرواہ نہیں کی۔ نگار تاٸ نے انہی دنوں ہاشم کی شادی رکھ دی تھی۔ کتنے لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ خاندان میں ایک بہت بڑا غم آیا ہے۔ آپ کو ابھی کسی بھی قسم کی دعوتوں سے پرہیز کرنا چاہیۓ۔۔ جانتی ہو کیا جواب دیا تھا انہوں نے۔۔؟”
وہ ایک پل کو مسکراٸ تھی۔۔ امل دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“انہوں نے کہا تھا کہ ارشد کو گولیاں انہوں نے نہیں مرواٸیں اور نہ ہی یہ ان کا مسٸلہ ہے۔ یہ تو ارشد ہی کا کوٸ کیا دھرا ہوگا جو یوں اس کے سامنے آگیا۔۔ ہم بھی کچھ غلط نہیں کررہے امل۔۔ حسین تایا کو اس حالت تک ہم نے تھوڑی پہنچایا ہے۔ یقیناً ان کا کوٸ کیا دھرا ہوگا جو یوں ان کے سامنے آگیا۔۔”
مضبوطی سے کھڑی حویلیوں کی بنیادیں اندر سے دیمک زدہ تھیں۔ کون تھے وہ لوگ جو کہا کرتے تھے کہ حویلیوں، کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہنے والے عیش کیا کرتے ہیں۔ انہیں کوٸ بتاۓ کہ اندر پلتی زہریلی سیاستیں ہر ایک زندگی کو سولی پر چڑھا رہی ہوتی ہیں۔۔
امل کی جھلملاتی آنکھیں برس پڑی تھیں۔ کیسے جانوروں کے درمیان رہ رہی تھی وہ۔! یہاں کوٸ کسی کا نہیں تھا۔۔ ہر ایک بس گھات لگاۓ بیٹھا تھا کہ کب اگلا چُوکے اور ہم اسے دھر لیں۔۔ یہ انسانوں کی بستی تو نہیں لگتی تھی۔۔ یہ تو جانوروں کی بستی کا قانون تھا۔۔ اس کا ایک دم سے دم گھٹنے لگا تھا۔۔
“اب ہمارا وقت ہے امل۔۔ ہم بھی نفیس کی شادی کر کے دکھاٸیں گے انہیں اور ساتھ ہی ایک زندگی کا سبق بھی دینگے کہ دکھ، دکھ ہوتا ہے۔۔ اس کے پیچھے چلتی وجوہات کی بنا پر آس پاس کے لوگوں کو تکلیف نہیں دیا کرتے اور جو ایسے کرتے ہیں وہ ایک دن بھگتتے بھی ہیں۔۔”
آرام سے کہہ کر وہ پیچھے ہو کر بیٹھی۔۔
“یہ بہت بڑا ظلم ہوگا ناجیہ۔۔ تم اپنی ماں جی کو سمجھاٶ۔ ایسا نہ کریں۔۔ ابھی تایا اور ان کے گھر والے بہت بڑے غم کے زیرِ اثر ہیں۔ ابھی یہ سب کرنا انسانیت کے درجے سے گرنے والی بات ہے۔۔ پلیز ناجیہ۔۔! ارجمند تاٸ کو سمجھاٶ۔ کچھ وقت گزر جاۓ پھر ہو جاۓ گی۔ شادی کا کیا ہے۔۔”
اس نے اس سے التجا کی تھی۔ وہ اس سب پر خاموش نہیں رہ سکتی تھی۔ یہ بہت گری ہوٸ حرکت تھی۔ انتہاٸ گھٹیا اور نیچ۔۔ ایسے وقت میں وہ دلہن بن کر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔۔ نہیں ہر گز بھی نہیں۔۔
“یہ ظلم نہیں ہے امل۔۔ یہ ظلم کا بدلہ ہے۔ ہم بھی اسی طرح ٹوٹی بکھری حالتوں میں تھے جب ان کے یہاں سے آتی شہناٸیوں کی آواز سے ہمارے دل کٹ جایا کرتے تھے مگر کسی کو پرواہ نہیں تھی۔ اب ہمارا وقت ہے۔ تم یہ کپڑے دیکھ لو ماں جی نے بھجواۓ ہیں اور خود کو ذہنی طور پر تیار بھی کر لو کیونکہ تمہاری شادی اگلے مہینے۔۔ ہی۔۔ ہوگی۔۔”
آخری لفظوں پر زور دے کر کہتی وہ اٹھی اور سخت سا چہرہ لیۓ باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ دروازہ ادھ کھلا تھا۔۔ اسے نیچے لاٶنج میں ہوتی باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔ آغاجان، حسن تایا سے بحث کررہے تھے کہ وہ ایسے وقت میں ہر گز بھی شادی نہیں کرسکتے لیکن وہاں سننے کو بھلا تیار ہی کون تھا۔۔ اس نے آہستہ سے اٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور پھر قدم قدم چلتی شیشے سے ڈھکی کھڑکی کی جانب چلی آٸ۔۔ باہر سبزہ زار پر ہر طرف رات اترنے لگی تھی۔۔ اس کے اندر بھی خاموشی سوا ہونے لگی۔۔ لفظ سمٹنے لگے اور التجاٸیں دم توڑنے لگیں۔۔ تھک کر ماتھا شیشے سے ٹکاتے اسے ولی یاد آیا تھا۔۔ یکایک گرم گرم آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔ کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔ ایک ولی تھا کہ جس کی موجودگی تقویت کا باعث تھی لیکن اب تو وہ بھی چلا گیا تھا۔۔ ایک آس تھی کہ وہ ہوگا تو سب سنبھال لے گا مگر اب وہ نہیں تھا۔ کہیں بھی نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
“ابھی حسین تایا کی حالت بہت خراب ہے بابا۔۔ ہم اس عرصے میں شادی نہیں کرسکتے۔ حسن تایا ایسی بات کیسے کرسکتے ہیں۔۔؟ کیا انہیں اپنے بھاٸ کے دکھ کا کوٸ اندازہ نہیں ہے۔۔؟”
بختیار لاٶنج میں بیٹھا بلند آواز میں بول رہا تھا۔ ایک جانب کو بی جان پریشان سی بیٹھی تھیں اور دوسری جانب آغاجان کا سنجیدہ سا چہرہ دکھاٸ دے رہا تھا۔۔
“میں خود جا کر بات کرتا ہوں ان سے۔۔ ایسے کیسے وہ اپنی من مانی کرسکتے ہیں۔ ٹھیک ہے تاریخ لڑکے والے ہی طے کرتے ہیں ہمارے یہاں، لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ اس اختیار کا ناجاٸز فاٸدہ اٹھاتے پھریں۔۔ میں جا کر بات کرونگا ان سے۔۔”
“رک جاٶ بختیار۔۔”
وہ برہمی سے اٹھ کر باہر کی جانب بڑھنے لگا تو زمان نے بے ساختہ اسے روک لیا۔۔
“میں ہاں کہہ چکا ہوں بھاٸ صاحب کو۔۔”
“کیا۔۔!!”
اسے جھٹکا لگا تھا۔ اسے آغاجان پر ایک منٹ کے لیۓ یقین ہی نہیں آیا۔ وہ جو درحقیقت ہر ایک کا درد رکھنے والے تھے اس وقت اپنے بھاٸ کے درد سے یوں غافل ہورہے تھے۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔۔
“لیکن اتنی جلدی کیا ہے آغا جان۔۔؟”
سنبھل کر بس اس نے اتنا ہی پوچھا تھا۔۔ زمانی نے گہرا سانس لے کر زرد پڑتا چہرہ اٹھایا۔۔
“مجھے ہاں کہنا ہی تھا بختیار۔ کیونکہ میں بیٹی والا ہوں اور میرا ہاتھ ہمیشہ سے نیچا تھا۔ حسن بھاٸ اس رشتے کے لیۓ چند شراٸط پر مان کر گۓ ہیں اور میرے خیال سے میرے لیۓ اتنا ہی کافی ہے۔ اب اس بارے میں کوٸ بات کر کے معاملے کو مزید مت الجھاٶ۔۔ میں پہلے ہی پریشان ہوں اس سب کو لے کر۔۔”
زمان بہت تھکے تھکے لگتے تھے۔ ایک جانب کاروبار تھا کہ جس کی خبر تک نہ ہوتی تھی انہیں ولی کی موجودگی میں لیکن اب۔۔ انہوں نے سر صوفے کی پشت سے ٹکایا۔۔ اب وہ خود کو بہت تنہا، بہت اکیلا محسوس کررہے تھے۔۔ ان کے ناتواں کندھوں پر بہت سا بوجھ آن گرا تھا۔۔
“کیسی شراٸط۔۔؟”
بختیار واپس بیٹھ گیا تھا اور اب کہ وہ آغا جان اور بی جان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔ اس کے والدین دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بوڑھے لگنے لگے تھے۔۔
“شادی انتہاٸ سادگی سے کی جاۓ گی۔ وہ اپنی طرف بھلے جو بھی کرنا چاہیں کرسکتے ہیں لیکن ہمارے یہاں سے کسی بھی طرح کی کوٸ رسم نہیں ہوگی۔ ہم امل کو سادگی سے رخصت کرینگے۔۔ اس پر انہیں کوٸ اعتراض نہیں اور جہاں تک میرا خیال ہے درست بھی یہی ہے کہ ان کی بات مان لی جاۓ۔ ارجمند بھابھی کا بنتا بگڑتا مزاج کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔۔ خواہ مخواہ کسی انتہاٸ فیصلے سے بہتر ہے کہ بات طریقے کے ساتھ بن جاۓ۔۔”
انہوں نے کہہ کر ایک لمبا سا سانس لیا تھا۔ دروازے کے پیچھے سے سنتی شازیہ کے دل پر ہاتھ پڑا۔۔ آج اس کا باپ چارپاٸ پر آگیا تھا مگر یہاں تو کسی کو کوٸ فکر ہی نہیں۔ سب اپنے ہی چکروں میں لگے ہوۓ تھے۔۔ کسی کو اسکے باپ کا دکھ نہیں تھا۔
“مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ آخر اتنی جلدی انہیں ہے کس بات کی۔۔؟”
ان کی ساری باتیں سننے کے بعد بھی بختیار بے سکون ہی تھا۔۔ آغا جان نے ایک نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“انہیں جلدی اسی بات کی ہے بختیار، جتنی جلدی نگار بھابھی کو ارشد کے وقت ہاشم کی شادی کرنے کی تھی۔۔”
دروازے کے پیچھے کھڑی شازیہ کا چہرہ ایک لمحے کو سفید پڑا تھا۔۔
“اس میں ہم قصوروار نہیں ہیں۔ مجھے اس شادی کی کوٸ جلدی نہیں لیکن ارجمند بھابھی کو اس شادی کی جلدی اسی لیۓ ہے کیونکہ ان کے دل پر لگا وہ زخم آج بھی تازہ ہے۔ جب نگار بھابھی نے ان کا خیال اتنے نازک وقت میں نہیں کیا تو اب ارجمند بھابھی کیوں اپنا دل ان کی جانب سے نرم کرینگی۔ یہ دنیا لین دین کے قانون پر چلتی ہے بختیار۔ آج جو تم دوگے کل وہی تم لوگے۔ آج جو تم بو گے وہی کل تم کاٹوگے۔ کڑوے پھل لگا کر میٹھے درختوں کی تمنا کرنے والوں کو کبھی بھی میٹھے پھل نہیں ملا کرتے۔ سحراٶں میں چشمے صرف ان کے لیۓ ابلتے ہیں جنہوں نے قربانیاں دی ہوں۔ جنہوں نے ننگے پیر چل کر صحراٶں کو صبر کے ساتھ عبور کیا ہو۔ آج نگار بھابھی، حسین بھاجی اور ان جیسا ہر بندہ وہی کاٹ رہا ہے جو انہوں نے ایک عرصہ پہلے بویا تھا۔ اور اس کٹاٸ میں، میرا کہیں بھی کوٸ عمل دخل نہیں۔۔”
اپنی آخری بات کر کے۔ اپنے آخری فیصلے سنا کر زمان ہمیشہ یوں ہی اٹھ جایا کرتے تھے۔ ابھی بھی وہ آہستہ سے اٹھے اور لاٶنج عبور کر کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گۓ۔ بختیار چند پل خاموشی سے بیٹھا رہا پھر وہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ شازیہ دروازے سے لگی مجسمہ بنی ہوٸ تھی۔ اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر گہرا سانس بھرتا بیڈ پر جا بیٹھا۔۔ کسی کو بھی کسی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جو وضاحتیں وقت دیا کرتا تھا۔۔ انسان کی مجال ہی کیا جو ان سے نظر پھیر سکے۔۔ شازیہ بھی اپنے کیۓ گۓ اعمال سے نظر نہیں پھیر پا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
اس کی حالت اب کے پہلے سے بہت بہتر تھی۔ ایک ہفتہ ہوگیا تھا قریباً اسے ہاسپٹل میں اور اب وہ کافی حد تک ریکور کرچکا تھا۔ پیٹ کا زخم خشک ہونے لگا تھا البتہ کندھے کے زخم کی تکلیف کم تھی مگر تھی ضرور۔۔ وہ ابھی بستر پر اٹھ کر بیٹھا ہی تھا کہ زمان روم میں داخل ہوۓ۔ اتنے دنوں کی غیر حاضری کے بعد وہ آج اس سے ملنے آۓ تھے۔۔
“اسلام علیکم۔۔ کیسے ہو بچے۔۔ ؟ اب طبیعت کیسی ہے تمہاری۔۔؟”
پاس آ کر شفقت سے مسکراۓ اور پھر اس کے بالوں سے بھرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔
“ٹھیک ہوں بلکہ کافی بہتر ہوں پہلے سے۔۔ آپ بیٹھیں ناں۔۔”
اس نے ٹانگیں ذرا پرے کیں اور پھر انہیں اپنے پاس بیٹھنے کے لیۓ کہا تو ایک پل کو ٹھہرنے کے بعد زمان آہستہ سے اس کے پاس بیٹھ گۓ۔۔
“جلدی ٹھیک ہوجاٶ ولی۔۔”
“آپ پریشان ہیں کسی بات پر۔۔؟”
ایک لمحہ لگا تھا اسے سمجھنے میں۔ زمان نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔
“تھکا ہوا ہوں۔ تم جو یہاں پر ہو تو ظاہر ہے میرا تھکنا تو بنتا ہی ہے۔ جلدی سے ٹھیک ہوجاٶ۔ حویلی، ڈیرہ اور ہماری زندگیاں۔۔ سب روکھی ہیں تمہارے بغیر۔۔”
ولی مسکرایا۔۔ ایسی بات پر بھلا کیا جواب دیتا وہ۔۔
“کیا میں تمہارے لیۓ قابلِ بھروسہ ہوں ولی۔۔؟”
ان کے عجیب سے سوال پر وہ چونکا تھا۔ زمان کی سنجیدہ آنکھیں اسی پر جمی تھیں۔۔
“یہ کیسا سوال ہے سردار بابا۔۔؟ مجھے آپ پر بھروسہ ہے۔ اور اگر اس دنیا پر مجھے سب سے زیادہ کسی پر بھروسہ ہے تو وہ آپ ہی ہیں۔۔ وہ کوٸ اور نہیں ہے۔۔”
“تو پھر تم نے میرے بارہا پوچھنے پر بھی مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تمہیں اس حالت تک کس نے پہنچایا ہے۔۔؟ کیا تم مجھے اپنے رازوں میں شریک نہیں کرنا چاہتے۔۔ اگر تم اس طرح کروگے تو ظاہر ہے میں یہی سمجھونگا کہ میں تمہارے لیۓ قابلِ بھروسہ نہیں۔۔”
“آپ آج بھی ویسے ہی ہیں سردار بابا جیسے بہت پہلے تھے۔۔”
اس نے کہہ کر سر جھکایا تو وہ مسکرادیۓ۔۔
“آپ آج بھی جانتے ہیں کہ لوگوں کے حلق سے باتیں کیسے نکلوانی ہیں۔ میں آپ کو بتادیتا، مجھے آپ کو بتانے میں کوٸ مسٸلہ نہیں لیکن سردار بابا یہ راستے میرے چنیدا ہیں۔ ان راستوں کا سفر میں نے خود اختیار کیا ہے۔ آپ نے مجھے ہمیشہ ہر جنگ، ہر انتقام اور وحشی بننے کے ہر راستے سے دور رکھا لیکن میں نہیں رہ سکا۔ آپ کی تربیت کا اثر ہے کہ اب تک کچھ انسانیت باقی ہے مجھ میں لیکن سردار بابا اس سے زیادہ آپ کو بتا کر میں آپ کو کسی خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ کو اس سے زیادہ بتا کر مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ یہ میرا کام ہے مجھے ہی کرنے دیں۔۔”
اس نے کہہ کر ان کی جانب دیکھا تو وہ بھی مسکرا کر اسے دیکھے گۓ۔
“تم نے خود ہی اخذ کرلیا کہ میں کچھ الٹا سیدھا کردونگا۔ مجھ سے تمہارا راز سنبھالا نہیں جاۓ گا۔ کیا اس ججمنٹ کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔؟”
ولی ہلکا سا ہنس دیا۔ پھر چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔
“میں نے آپ کو اگر اس جگہ جج بھی کیا تو کیا ہوا۔۔؟ اگر آپ کو کسی پریشانی سے بچانے کے لیۓ میں نے ایسا کیا ہے تو میرا عمل جسٹیفاٸیڈ ہے۔۔ سمپل۔۔”
کہہ کر کندھے اچکاۓ تو یکدم ہی کندھے میں درد کی ٹیس اٹھی۔۔
“تم سے باتوں میں جیتنا بہت مشکل ہے۔ میں تو کبھی نہیں جیت سکتا۔۔”
آخر میں وہ دونوں ہی ہنس پڑے تھے۔
“میں بھلے تمہارے کسی راز میں شریک نہ ہوں۔ لیکن میں تمہارا ساتھ ہر جگہ دونگا۔ ہر فیصلے، ہر عمل اور ہر ساعت میں۔۔ مجھے یقین ہے کہ تم کبھی کچھ غلط نہیں کروگے۔ تمہیں زمانی نے قرآن سناتے سناتے بڑا کیا ہے۔ ایسے کیسے تم کچھ غلط کرسکتے ہو۔۔”
اس کی مسکراہٹ ایک لمحے میں غاٸب ہوٸ تھی۔ سردار بابا ہمیشہ اسے ایسے ہی لاجواب کردیا کرتے تھے۔ اگر جو وہ انہیں بتادیتا کہ وہ دہریہ بنتا جارہا تھا۔ اپنا ایمان کھوتا جارہا تھا۔۔ انتقام کے داٸروں میں لوگوں سے بدلے لیتے لیتے انسانیت کی حدود سے نکلتا جارہا تھا۔۔! اگر جو وہ انہیں بتادیتا تو۔۔
اندر بڑھتی گھٹن کی وجہ سے اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“میں اتنا اچھا نہیں ہوں سرداربابا جتنا آپ مجھے سمجھتے ہیں۔ میں ایک بہت برا انسان بن چکا ہوں۔ ایک ایسا انسان جس کے اندر موجود آخری چنگاری بھی کٸ سالوں کی مشقت کے پسینے سے سوکھ چکی ہے۔ اب کچھ نہیں ہے میرے اندر۔۔ کھوکھلا ہوں میں۔۔”
زمان نے اداسی سے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔۔
“اس دنیا میں کوٸ بھی پارسا نہیں ہے ولی۔ یہاں پر ہم سب اپنی سیاہ کاریوں میں ڈوبے ہوۓ ہیں۔ کوٸ فرشتہ نہیں یہاں پر۔۔ یہ انسانوں کی دنیا ہے۔۔ خطاٶں اور درگزر کی دنیا ہے یہ۔۔ خود کو اپنی غلطیوں پر معاف کر کے مثبت رویہ اپنانے کی دنیا ہے یہ۔۔ خود کو ان باتوں کا الزام مت دو جن پر تمہارا اختیار نہ ہو۔۔”
“مگر میں نے تو سن رکھا ہے کہ اختیار ہمیشہ انسانوں ہی کے پاس ہوتا ہے۔۔”
اسکا جھکا سر اب بھی جھکا ہی تھا۔۔ سردار بابا کچھ نہ بولے ۔۔ اس نے انہیں سر اٹھا کر دیکھا تھا۔
“اختیار ہمیشہ اس کے پاس ہوتا ہے ولی۔”
انگلی آسمان کی جانب اٹھا کر اشارہ کیا۔۔
“اور اگر وہ اپنے اختیار میں سے اگر کچھ حصہ انسانوں کو دے دیتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان با اختیار ہے۔ با اختیار صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے ولی۔ ہم انسان تو اس کی بچھاٸ بساط پر ایک ادنیٰ سا مہرہ ہوتے ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرتے ہوۓ زندگی کی منازل طے کرتے جاتے ہیں۔۔ مگر کیا میں تمہیں بتاٶں کہ آخری فیصلہ کس کا ہوتا ہے۔۔؟”
وہ خاموشی سے انہیں دیکھے گیا۔ ٹھنڈی سی فجر ایک بار پھر سے آس پاس تحلیل ہونے لگی تھی۔۔
“آخری فیصلہ ہمیشہ اللہ کا ہوتا ہے ولی۔ اور ہمیں اس کے فیصلے پر بھروسہ رکھنا چاہیۓ۔۔”
آخری بات کر کے وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے اٹھے تو وہ تب بھی خاموشی سے بیٹھا رہا۔۔ اس کے سارے لفظ اس سے گم ہوگۓ تھے۔۔ کچھ بولنے کو بچا ہی نہیں تھا۔۔
“دوبارہ اپنے ساتھ تمہاری بی جان کو بھی لیتا آٶنگا۔ آج اس لیۓ نہیں لاسکا کیونکہ وہ تیاریوں میں مصروف ہوگٸ ہیں محترمہ۔۔”
زمان کے طرزِ تخاطب پر ولی مسکرایا۔۔
“کیسی مصروفیت۔۔؟”
“ارے تمہیں تو بتانا ہی بھول گیا۔”
انہیں جیسے ایک دم کچھ یاد آیا تھا۔ پھر ساتھ لاۓ تحفے کو اس کے پاس رکھتے مسکرا کر بتانے لگے۔۔
“امل کی شادی کی تاریخ طے کردی گٸ ہے ولی۔ اگلے مہینے کی سولہ تاریخ ہے۔۔”
ایک سیکنڈکے لیۓ ولی کے آس پاس چلتی ہر شے رک گٸ تھی۔ کیا کہا تھا سردار بابا نے۔۔ شادی اور امل کی وہ بھی اگلے مہینے میں۔۔ آج مارچ کی پندرہ تاریخ تھی۔۔ یعنی کے پورے ایک مہینے بعد اس کی شادی تھی۔۔ مہینہ۔۔ صرف ایک مہینہ۔۔!
“ات ۔۔ اتنی جلدی۔۔؟”
اسے سمجھ نہیں آیا کہ اور کیا پوچھنا چاہیۓ۔
“بس لڑکی والے تو تاریخ نہیں رکھتے ناں۔ سو اب یہ ان کی مرضی ہے کہ جلدی رکھیں یا پھر دیر سے۔ اس معاملے میں ہمیں تو صرف ہامی ہی بھرنی ہے۔ خیر۔۔ جلدی سے ٹھیک ہوجاٶ۔۔ اور اس بوڑھے باپ کی مدد کرو اس شادی کو نپٹانے میں۔۔ سب کچھ اکیلے کرنا میرے بس سے باہر ہے۔۔”
“آپ فکر مت کریں۔۔ میں ایک دفعہ ڈسچارج ہوجاٶں جلد ہی آپ کا ہاتھ بٹاٶنگا۔۔ ولی آپ کو کبھی تنہا نہیں کرے گا سردار بابا۔”
اندر مچے طوفان کے برعکس اس نے بے حد سکون سے کہا تو زمان آسودگی سے پلٹ گۓ۔ اس کے چہرے پر جما پرسکون سا تاثر یکدم ہی برف ہوگیا۔ آنکھیں ضبط سے سرخ پڑنے لگی تھیں اور روح تو گویا کوٸ اس کے جسم سے سینچ رہا تھا۔۔ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گرالیا۔۔ اسے اپنے ہاتھوں سے کسی اور کو سونپنا بہت مشکل۔۔ بہت تکلیف دہ تھا۔۔ اس نے گہرا سانس لے کر چہرہ اٹھایا۔۔ کندھے کا درد کہیں فضا میں تحلیل ہوگیا تھا اور اب جو درد شور کررہا تھا وہ بہت بھیانک تھا۔۔ کیونکہ اس شور کی آواز سناٸ نہیں دیا کرتی تھی۔ وہ خاموش شور تھا۔۔ !!
۔۔۔۔۔۔
