Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 11) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 11) Part - 2
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
ناشتے کے فوراً بعد مہمانوں کی آمد و رفت شروع ہوچکی تھی اور حویلی میں خاصی رونق کا احساس ہر سُو پھیلا تھا۔ ایک طرف کچن میں پکتے نت نۓ پکوانوں کی بھینی بھینی سی مہک تھی تو دوسری جانب شہر سے لاۓ گۓ کپڑوں کو درزی لاٶنج میں پھیلاۓ ایک ایک جوڑے کی تفصیل سے بی جان کو آگاہ کررہا تھا۔ اوپر کی جانب نگاہ گھماٸ جاۓ تو وہاں پر بہت سے افراد سیڑھیاں لگاۓ حویلی کو قمقموں سے سجا رہے تھے۔ دور سے دیکھنے پر بلاشبہ وہ شادی کا ہی گھر لگتا تھا۔۔ آج بختیار اور نثار کو رسم کے لیۓ بٹھایا جانا تھا جس میں دونوں کی ساس یعنی نگار بیگم رسم کرتیں اور پھر بہت سے پیسے ان پر سے وار کر صدقہ کردیتیں۔۔ ایسی ایک رسم لڑکی والوں کے گھر بھی ہونی تھی جس میں امل اور بی جان نے جاکر رسم کرنی تھی مگر وہ رسم، رسمِ حنا سے ایک دن پہلے تھی سو ابھی وہ اس فکر سے آزاد تھے۔۔
دوسری جانب آغا جان ڈیرے پر ولی کو کہہ رہے تھے کہ وہ آج کام شام سے پہلے پہلے نپٹاۓ اور مغرب سے پہلے حویلی پہنچے کیونکہ وہاں پر آج رسم تھی اور آغا جان کے بقول اس کا وہاں ہونا ضروری تھا۔ اس نے کوفت سے سر جھٹکا تھا۔۔
بھلا اس کا کیا کام تھا وہاں۔۔ خواہ مخواہ لوگ باتیں بناتے اور پھر سے بدمزگی پھیل جاتی مگر وہ اسے جلدی آنے کا حکم دے کر مطمٸن سے پلٹ گۓ تھے۔۔
اس نے بیزار ہوتے ہوۓ موباٸل سامنے ٹیبل پر ڈالا اور پھر اُٹھ کر باہر سبزہ زار پر چلا آیا۔۔ باہر بہت ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اس نے مضبوط بازو خود کے گرد لپیٹے۔ اسی وقت دور سے شاہ نواز اسے اپنی جانب آتا نظر آیا تھا۔۔
“بی جان کا پیغام ہے آپ کے لیۓ سر۔۔”
“ہاں کہو۔۔”
وہ اب بھی دور نظریں جماۓ ہوۓ تھا۔
“وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ آج اُن کے لاۓ ہوۓ کُرتوں میں سے کوٸ ایک پہنیں۔۔”
شاہ نواز نے چہرے پر امڈتی مسکراہٹ سمیٹی تھی۔
“او یار۔۔۔”
اس نے بالوں میں ہاتھ چلایا۔۔
“کوٸ ایسا کام نہیں ہے ہمارے پاس جس کے باعث میں گھر نہ جاسکوں۔۔؟”
شاہ نواز نے مزے سے گردن داٸیں سے باٸیں ہلاٸ تو وہ تپ گیا۔۔
“تم میرے ملازم ہو یا سردار بابا کے۔۔؟”
“دونوں کا ہوں سر جی۔۔”
اف۔۔ ولی نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔۔
“یہ اپنی سیاسی جوابداریاں اپنے پاس رکھو۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنو۔۔”
خفگی سے کہہ کر اس نے رُخ دوبارہ سے پھیر لیا تھا۔۔
“آپ کیوں بھاگنا چاہتے ہیں سر۔۔؟”
اس نے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“میں سامنہ نہیں کرنا چاہتا کسی کا بھی نواز۔۔ دل اُچاٹ ہوگیا ہے میرا ہر شے سے۔۔”
“سردار بابا کا حکم ہے آپ نہیں ٹال سکتے۔۔”
“یہی تو مسٸلہ ہے۔۔ ان کی کوٸ بات نہیں ٹال سکتا میں۔۔ خیر۔۔ تمہارا بھاٸ کیسا ہے اب۔۔؟ جاب پر جارہا ہے۔۔؟”
اس نے سرسری سا پوچھا تو نواز نے سر اثبات میں ہلایا۔۔
“آپ کی مہربانیاں ہیں سر۔۔ اگر آپ نے اسے نہ سمجھایا ہوتا تو ابھی وہ اس مقام پر نہیں ہوتا۔۔”
نواز اسے اپنے بھاٸ کے بارے میں بتارہا تھا۔۔ وہ اس کے گھر والوں کے متعلق چند ایک مختصر سے سوال کر کے دوبارہ سے اپنے آفس چلا آیا۔ ایک دو کام نپٹاۓ اور پھر آفس سے اُٹھ گیا۔۔ حویلی جانے کا کوٸ ارادہ نہیں تھا سو گاڑی اصغر کے گھر کی جانب موڑ لی۔ قریباً پندرہ منٹ میں وہ اس کے اوپن کچن کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا اس کو چاۓ بناتے دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا مسٸلہ ہوگیا ہے پھر سے تمہیں ۔۔۔؟”
حسبِ عادت وہ اس سے چڑا ہوا تھا مگر ولی پرواہ کیۓ بغیر بیٹھا رہا۔۔
“میں تھک گیا ہوں اصغر۔۔”
بہت دیر بعد اُبلتی چاۓ کو دیکھ کر اس نے آہستہ سے کہا تو وہ گہرا سانس لیتا اس کی جانب گھوما۔۔
“چھوڑ دو اس حویلی کو۔۔ یہاں آجاٶ میرے ساتھ شہر میں۔۔ میرے بابا نے تو پہلے بھی آفر کیا ہے تمہیں پلاٹنگ کا کام پھر بھی تم نہیں مانتے۔۔ آخر وجہ کیا ہے وہاں رہنے کی۔۔؟”
وہ بہت سنجیدگی سے اس کے پثمردہ چہرے کو دیکھتا کہہ رہا تھا۔۔ ولی نفی میں سر ہلاتا سیدھا ہوا۔۔
“میں سردار بابا کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا اصغر۔ اپنی ساری جوانی انہوں نے مجھ پر صرف کی ہے اور اب جب میرا وقت آیا ہے تو میں ِپیٹ دکھا کر وہاں سے نہیں بھاگ سکتا۔۔ میں نہیں کرسکتا ایسے۔۔”
“مگر یہ تو تمہارے سردار بابا بھی نہیں چاہیں گے ولی کہ تم تکلیف میں رہو۔ تم ایک دفعہ ان سے بات تو کرکے دیکھو اس بارے میں۔”
چاۓ کپوں میں انڈیلتا وہ فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔۔
“میری ہمت نہیں ہوتی ان سے یہ سب کہنے کی۔ میں خود غرض نہیں بن سکتا۔۔”
اب کے اصغر بھی اس کے ساتھ والی کرسی پر آبیٹھا تھا اور اپنا کپ سلیب پر رکھ کر اس کا کپ اس کے سامنے رکھ رہا تھا۔
“ولی۔۔ یہ خود غرضی نہیں ہے۔ غیر جانبداری سے سوچو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ تمہارا وہاں سے نکل جانا ہی تمہاری ذہنی اور جسمانی صحت کے لیۓ ناگزیر ہے۔ خود پر رحم کرو اور نکل آٶ وہاں سے۔۔”
وہ اپنی بھاپ اڑاتی چاۓ کو دیکھتا رہا۔۔
“میں اس حویلی سے نکل بھی آٶں پھر بھی اپنا ماضی تو نہیں بدل سکتا میں۔ جہاں بھی رہونگا اسی شناخت کے ساتھ رہونگا۔۔ ایسے میں کوٸ خاص فرق نہیں پڑے گا وہاں سے نکل کر یا کہیں اور جا کر۔۔”
“جانتے ہو۔۔ تمہیں دیکھ کر ایک بہت مشہور کردار کا خیال آتا ہے مجھے۔۔”
اس نے اداسی سے مسکرا کر اسے دیکھا مگر ولی نہیں مسکرایا۔۔ انہی خالی خالی نظروں سے اسے دیکھے گیا۔۔ کوٸ اور وقت ہوتا تو وہ اسے اس کے ڈراموں کی بکواس پر ٹوک دیتا مگر وہ خود ابھی اتنا ڈسٹرب تھا کہ بلا چوں چراں اسے سننے لگا۔
“وہ کورین قوم کا ایک تاریخی دور تھا۔ جس میں مختلف سلطنتیں سینکڑوں علاقوں میں قاٸم تھیں۔ جیسے ہماری تاریخ گزری ہے یا جیسے مختلف اقوام کے تاریخی ادوار میں ہوتا رہا ہے۔ کہ ایک علاقے پر حملہ کر کے اسکو فتح کیا جاتا تھا اور پھر اس پر آپ کی حکومت ہوجاتی تھی۔۔ اسی طرح وہ وقت بھی تھا۔۔ اس وقت گوریو خاندان (goryeo dynasty) کی حکومت تھی۔۔ خیر۔۔ اس وقت کے حالات کچھ یوں تھے کہ آس پاس کے علاقوں کی اقوام سے آپ کو بنا کر رکھنی پڑتی تھی۔۔ اگر آپ نے ان کے ساتھ بنا کر نہیں رکھی تو وہ آپ پر کسی بھی وقت حملہ کرکے آپ کے علاقے پر قابض ہوسکتے تھے اور اس حملے کو روکنے کا ایک ہی طریقہ تھا ان کے یہاں، کہ اس وقت کا سلطان دوسری سلطنت کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کرلیتا تو وہ اُسے اور اس کے علاقے کو امان بخشتے تھے۔۔ “
وہ سانس لینے کو رُکا۔۔ ولی چاۓ کے گھونٹ بھرتا اس کو سُن رہا تھا۔۔
“اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ان بادشاہوں نے، سلاطین اور بہت سے حکمرانوں نے ایک ایک وقت میں سینکڑوں شادیاں کر رکھی ہوتی تھیں صرف اپنا اقتدار اور حکومت بچانے کے لیۓ۔ اس وقت کے بادشاہ تیجو (king Teajo ) نے بھی ایسا ہی ایک فیصلہ اپنی حکومت بچانے کے لیۓ کیا مگر یہ فیصلہ اس کی پہلی زوجہ کو بہت ناگوار گزرا۔ اس نے اپنے سات سالہ بیٹے کو درمیان میں رکھ کر بات کی۔۔
ہاں میں نے کہا اس کا سگّا بیٹا۔۔ وانگ سُو (wang soo)۔۔ اس نے اپنے شوہر کو روکنے کے لیۓ وانگ سُو پر چُھرا تان دیا۔۔ کہ اگر وہ شادی کرے گا تو وہ اس بچے کی جان لے لے گی اور بے خیالی میں چُھرا وانگ سُو کی آنکھ کے پاس لگا۔۔”
اس نے سانس لیا۔۔ ولی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
“چُھرا اس کی باٸیں آنکھ کے بالکل نیچے سے چیرتا ہوا ماتھے تک آیا تھا۔۔”
اس نے اشارے سے اپنے ابرو سے لیکر آنکھ کے نیچے لکیر کھینچی۔۔
“اور پھر ساری زندگی وہ نشان اس کے ساتھ رہا۔۔ بادشاہ نے پھر بھی شادی کرلی اور وانگ سُو کو اسی سلطنت میں اپنا بیٹا بنا کر بھیجا گیا۔ مگر وہ اس سلطنت کا بیٹا ہرگز نہیں تھا۔۔ انہوں نے اسے ایک قیدی کے طور پر رکھا ہوا تھا تاکہ اس سے اسکے باپ کو قابو کرسکیں۔ خیر اسے بھی بادشاہ کے حکم پر ایک غار میں چھوڑ دیا گیا مگر جانتے ہو اس غار میں کیا تھا۔۔۔؟”
ایک پل کو رُک کر اس نے ولی کی آنکھوں کو دیکھا تو اس نے آنکھیں سکیڑیں۔۔
“کیا۔۔؟”
چاۓ کی بھاپ فضا میں تیر کر غاٸب ہوچکی تھی۔۔
“اس غار میں بھیڑیے تھے ولی۔۔”
اس کے ابرو حیرت سے اوپر کو اُٹھے۔۔
“اور کٸ راتیں وہ اپنی تلوار کے ساتھ ان بھیڑیوں سے لڑتا رہا۔۔ اپنے سرواٸیول کی جنگ میں اس نے ایک ایک کو مار دیا اور جب وہ اس غار سے واپس لوٹا تو خود بھی ایک بھیڑیا بن چکا تھا۔۔ وہ اس غار سے زندہ بچ گیا تھا ولی۔۔ جیسے تم اس رات بچ گۓ تھے۔۔”
ایک پل کو ٹھہر کر اس نے اپنی چاۓ کا گھونٹ لیا پھر کپ کو دیکھتا بولنے لگا۔۔
“اپنے ایک زخم کے نشان کی وجہ سے وہ واپس اپنے علاقے نہیں جاسکتا تھا کیونکہ بادشاہ صرف وہی بن سکتے تھے جو بے داغ ہوتے۔ جن کے جسم پر کوٸ نشان نہ ہوتا۔۔ مگر پھر بھی وہ گیا۔۔ اپنے علاقے میں واپس۔۔ اور اتنا تو خوفناک وہ تھا کہ کوٸ اسے وہاں سے نکال نہ سکا۔۔ کٸ سال اس نے اپنے اس ماضی کے نشان کے ساتھ گزارے تھے اور لوگوں کی نفرت اور حقارت سہی تھی مگر ایسے میں ایک لڑکی اس کی زندگی میں آٸ جو میک اپ آرٹسٹ تھی۔۔”
اصغر ایک پل کو مسکرایا تھا۔۔
“ساری دنیا ڈرتی تھی وانگ سُو سے مگر وہ لڑکی کہتی تھی کہ وہ اس سے بالکل نہیں ڈرتی۔ ساری زندگی وہ خود کو مجرم گردانتا آیا تھا۔ ساری زندگی وانگ سُو نے اس زخم کی وجہ سے خود سے نفرت کی تھی مگر وہ پہلی لڑکی تھی جس نے اسے کہا کہ اس سب میں اس کا کوٸ قصور نہیں۔۔ وہ بے گناہ ہے۔۔ بےقصور ہے۔۔”
اسے بے ساختہ سبز لباس میں ملبوس ، تمتماتے چہرے کے ساتھ تیز تیز بولتی لڑکی یاد آٸ تھی۔۔
“اور اس وقت وانگ سُو کو احساس ہوا کہ وہ واقعی بے قصور ہے۔ پھر جس نے احساس دلایا وہ اس سے محبت کرنے لگا۔ اس لڑکی نے اپنی میک اپ سکِلز کو استعمال کر کے اس کا زخم چھپا دیا اور وہ پھر سے اپنی سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔۔ سو۔۔”
اس نے جیسے مسکرا کر بات سمیٹی تھی۔۔
“اگر وانگ سُو اپنے نشان کے ساتھ بادشاہ بن سکتا ہے تو تم بھی اپنے ماضی کے ساتھ جی سکتے ہو اور بہت اچھے سے جی سکتے ہو۔ اب یہ مایوسی چھوڑو اور آگے کے بارے میں سوچو کہ کیا کرنا ہے۔۔”
وہ اب اُٹھ کر سنک کے سامنے کھڑا اپنا کپ دھو رہا تھا۔۔ ولی اس کی پشت کو دیکھتا رہا پھر سوچتی نگاہیں اس پر اُٹھاٸیں۔۔
“انجام کیا ہوا کہانی کا۔۔؟ اینڈ کیا تھا۔۔؟”
اس کے سوال پر اصغر رک سا گیا پھر کھنکھارتا ہوا مڑا۔۔
“وہ۔۔۔ کچھ نہیں بس بادشاہ بن جاتا ہے۔۔”
“نہیں۔۔۔ کچھ اور اینڈ ہے اس کا۔۔ کیا وہ لڑکی اسے مل جاتی ہے۔۔؟”
اصغر اسے دیکھتا رہا پھر گہرا سانس لے کر بولا۔۔
“نہیں وہ مرجاتی ہے۔۔”
کچھ لمحے وہ کچھ بول ہی نہیں سکا۔۔
“مجھے پتہ تھا انجام اصغر۔۔ اگر میں اسکا راٸٹر ہوتا تو میں بھی اس کا انجام ایسا ہی لکھتا کیونکہ۔۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“وانگ سُو چاہے جتنا بھی میک اپ کر کے اپنا داغ چھپا لیتا مگر وہ اس داغ کو اپنی ذات سے مٹا نہیں سکتا تھا۔۔ کچھ داغ آپ چاہ کر بھی خود سے نہیں مٹا سکتے۔۔”
کہہ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ اصغر نے گہرا سانس لے کر آنکھیں موند لی تھیں۔۔ پتہ نہیں کیوں ولی ہمیشہ اسے لاجواب کردیا کرتا تھا۔۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔
چڑھتی مغرب کی نیلی روشنی نے سارے گاٶں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ خنک ہوا اور سرسوں کی خوشبو سے ساری پگڈنڈیاں معطر تھیں۔۔ اس نے بھی گیلے بالوں میں برش پھیرا اور پھر سر پر کھلتے گلابی رنگ کا دوپٹہ لپیٹتی بچھی جاء نماز تک آٸ۔ کِھلتے گلابی رنگ کی قمیض سادہ تھی اور نیچے کُھلے ٹراٶزرز جس میں اس کا سراپا بہت خوبصورت دِکھ رہا تھا۔ اس نے نماز پڑھ کر سلام پھیرا تو باہر سے مہمانوں کی آمد کا شور اُٹھا۔۔ مغرب بِیت چکی تھی اور مہمان آنا شروع ہوگۓ تھے۔
اسی پل ناجیہ نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر چلی آٸ۔ وہ سنتوں کی آخری رکعت کے تشہد میں بیٹھی تھی۔ سلام پھیر کر ساتھ کھڑی ناجیہ پر نظر گھماٸ۔۔
وہ ہمیشہ کی طرح شوخ سے رنگ کے جوڑے میں ملبوس میک اپ کیۓ ہوۓ تھی۔۔ کبھی کبھی تو امل کو بھی لگتا تھا کہ جیسے شادی اس کے نہیں ناجیہ کے بھاٸیوں کی ہورہی تھی۔۔ اس کی تیاری دیکھ کر بالکل یہی لگتا تھا۔۔
“بڑی نمازیں پڑھی جارہی ہیں جناب۔۔ کسے مانگنا ہے دعاٶں میں۔۔۔؟”
اس کے ساتھ رکھےبیڈ پر بیٹھتے اس نے امل پر طنز کیا تو اس نے انہی ٹھنڈے تاثرات کے ساتھ اسے دیکھا۔۔
“کیا مطلب ہے اس فضول بات کا۔۔؟”
وہ ہنس دی۔۔
“بھٸ فضول کیا ہے اس میں۔۔؟ یہ سچ ہے کہ بہت سے لوگ نمازیں صرف اسی لیۓ پڑھتے ہیں تاکہ اللّہ سے اپنے محبوب کو دعاٶں میں گِڑگِڑا کر مانگیں۔۔”
“زمانے میں اور بھی غم ہیں ناجیہ ان فضولیات کے سوا۔۔”
سر جھٹک کر جاۓ نماز سمیٹتی وہ اُٹھی۔۔
“اگر آپ اسے صرف اسی لیۓ اپروچ کررہے ہو کہ اپنے محبوب کو مانگ سکو تو پھر آپ اس سے بنے تعلق کا مزاق اُڑا رہے ہو۔ اللّہ سے تعلق کسی وجہ کی وجہ سے نہیں رکھا جاتا نہیں تو وجہ کے ختم ہونے کے بعد اس سے تعلق بھی ختم ہوجاۓ گا۔۔”
سنگھار میز پر تہہ شدہ جاءنماز رکھا اور پھر آٸینے میں دیکھتی دوپٹے کی تہیں کھولنے لگی۔۔
پیچھے ناجیہ نے بیزاری سے سر جھٹکا تھا۔۔ جیسے اسے اس کی کسی بات میں دلچسپی نہیں تھی۔۔
“نیچے چلو تم سےمجھے ایک کام ہے۔۔”
“کیسا کام۔۔۔؟”
اس کا ماتھا ٹھنکا۔۔
“بھول گٸیں۔۔ میں نے کہا تھا ناں کہ مجھے ولی کا نمبر چاہیۓ اور تم نے کہا تھا کہ تم میرے ساتھ اس سے نمبر لوگی۔ تو اب چلو۔۔”
اس نے بیزاری سے سانس لیا۔۔
“ناجیہ اس وقت سارا گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے تم اپنے اس تماشے کو ابھی۔۔”
“مہمانوں سے گھر بھرا پڑا ہے جبھی تو کہہ رہی ہوں۔۔”
وہ پُرجوش سی آگے آٸ تھی۔ اس نے رُک کر اسے آٸینے میں دیکھا تھا۔۔ بال اب بھی آگے کو کیۓ وہ ان میں برش چلا رہی تھی۔۔ البتہ ہاتھ دھیما پڑ گیا تھا۔۔
“وہ اس وقت ہمیں نہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا اور چپ چاپ اپنا نمبر ہمیں دے دیگا۔ تم بس چلو تمہیں کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ نمبر اس سے میں مانگونگی تم بس وہاں میرے ساتھ کھڑی ہوجانا جسٹ۔۔”
وہ ساری تیاری کر کے آٸ تھی۔ اس نے آنکھیں گُھما کر بالوں میں تیز تیز برش چلایا اور پھر انہیں پیچھے کو پھینک کر برش سنگھار میز پر رکھا۔۔ سامنے پڑی چاندی کی بالیاں اُٹھاٸیں اور پھر ایک ایک کر کے دونوں کانوں میں پہننے لگی۔۔
“اگر کچھ بھی اُلٹا سیدھا ہوا تو انجام کی ذمّہ دار تم خود ہوگی ناجیہ۔ نہ میں ولی سے بے تکلف ہوں اور نہ وہ کسی کو اتنی اجازت دیتا ہے۔ اگر تم نے مجھے اُس سے کبھی بات کرتے دیکھا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اس کی bff ہوں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم ایک چھت تلے رہتے ہیں جس کے باعث اتنی بات چِیت فطری سی چیز ہے۔۔ سمجھ آیا۔۔”
سپاٹ لہجے میں کہہ کر اس نے بالوں کو آگے سے ذرا پیچھے کر کے پِن لگاٸ اور باقی کو یونہی کمر پر بکھرے رہنے دیا۔ اگر جو ولی اس کا یہ دو ٹوک انداز دیکھ لیتا تو اسے اندازہ ہوتا کہ وہ اتنی بھی نازک نہیں تھی جتنا وہ اسے سمجھتا تھا۔ اسے بھی سخت لہجوں میں سخت باتیں کرنی آتی تھیں۔۔
“وہ بالکل بھی ایسا نہیں ہے محترمہ جیسا آپ اُسے سمجھتی ہیں۔جہاں تک میں اسے جانتی ہوں وہ ایک بہت بے ضرر سا دھیمے مزاج کا بندہ ہے۔ خاموش اور اچھا سا۔ اور جو کچھ بھی ہوگا اسے میں خود دیکھ لونگی۔ تم زیادہ پریشان مت ہو۔”
وہ بہت بے فکری سے کہہ کر اپنا میک اپ درست کررہی تھی۔ اس کے بالوں کو سنوارتے ہاتھ پل بھر کو رُک سے گۓ۔۔ نظروں کے سامنے اس کا بے حد سپاٹ چہرہ اُبھرا تھا۔۔ اس کی نظریں ناجیہ کے سنگھار آٸینے میں نظر آتے عکس پر پھسلیں۔۔
“جلد پتہ چل جاۓ گا تمہیں کہ وہ کتنا خاموش اور کتنا دھیمے مزاج کا ہے۔ اب چلو۔۔”
اس نے دوپٹہ کندھوں پر پھیلایا اور دروازے کی جانب بڑھی۔ ناجیہ نے بھی برش جلدی سے ٹیبل پر رکھا اور اس کے پیچھے بھاگی۔
سہج سہج کر زینے اترتی امل کا چہرہ بے حد سنجیدہ تھا پھر بھی بہت سے لوگوں کی گردنیں اس کی جانب گھومی تھیں۔ اور ہاں ان بہت سی دیکھتی نظروں میں نفیس کی نظریں بھی شامل تھیں۔ اس نے اُسے کمالِ بے نیازی سے نظرانداز کیا اور لاٶنج میں چلی آٸ۔۔ لاٶنج میں آج صوفوں کو ذرا پرے کھسکا کر درمیانی ٹیبل پر رسم کا سامان سجایا گیا تھا۔ بڑے سے لاٶنج کے دوسری جانب ٹی وی حال تھا جس میں رسم منعقد کی گٸ تھی۔ صوفوں پر زرد سی چادر بچھاۓ آس پاس کے گھر کو گیندوں سے سجایا گیا تھا۔ قد آور شیشے کی کھڑکیوں کے پار لٹکے سُنہری قمقمے بھی جگمگا رہے تھے۔
ابھی رسم شروع ہونے میں وقت تھا اسی لیۓ مہمان لاٶنج میں براجمان تھے۔ کچھ سیڑھیوں سے چڑھ اُتر رہے تھے۔ کچھ عورتیں کچن کے دروازے میں کھڑیں بی جان سے رسم کا وقت پوچھ رہی تھیں۔۔ بہت سے لڑکے بھی داخلی دروازے میں ایستادہ باتوں میں مشغول تھے۔
اس نے آس پاس نظر گُھما کر ولی کو تلاشا۔ ناجیہ بھی اس کے ساتھ کھڑی بے چینی سے اُسے ڈھونڈ رہی تھی۔ ابھی اسی وقت اسے اندازہ ہوا تھا کہ جو سب وہ سوچے بیٹھی تھی وہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اس سے اس کا نمبر مانگنے کا سوچ کر ہی اسے عجیب سا ڈر لگ رہا تھا۔ دل میں بے چینی سی اترنے لگی تھی۔
“کہاں ہے وہ۔۔؟”
جھنجھلا کر اس نے امل سے کہا تو جواباً اس نے شانے اُچکاۓ تھے۔ ناجیہ ارجمند بیگم کے آواز دینے پر کچن کی جانب ہولی اسی وقت وہ امل کو نظر آیا تھا۔۔ داخلی دروازے سے اندر آتا وہ کسی سے فون پر بات کررہا تھا۔ بی جان کا دیا سفید کُرتا زیب تن کیۓ، گہرے بادامی رنگ کی شال کو گردن کے گرد لپیٹے۔۔ آستینیں اس ٹھنڈ میں بھی کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں اس نے۔ مصروف سا فون پر دوسری جانب کی بات سُنتا وہ چند پل وہیں دروازے کے پاس ٹھہر گیا۔ نسواری آنکھیں سُکیڑ رکھی تھیں اور اب وہ نفی میں سر ہلاتا آگے والے کی بات کو رد کررہا تھا۔
امل نے گہرے سانس لے کر اس سے نظریں پھیریں۔ کیا ضرورت تھی بی جان کو اس کے لیۓ یہ کُرتا لینے کی۔۔؟ اور اسے کیا ضرورت پڑی تھی یہی کُرتا پہننے کی۔ اور یہ جو بال ماتھے پر بکھیر رکھے ہیں جناب نے۔۔ کیا اسے ہاتھ سے پیچھے نہیں کیا جاسکتا۔! خفگی سے اسے دیکھتی وہ سوچ رہی تھی کہ اچانک اس نے ہاتھ اُٹھایا، ماتھے کے بالوں میں انگلیاں چلا کر انہیں پیچھے جمایا۔۔ پھر ایک نظر اُٹھا کر امل کو دیکھا اور ابرو اچکاۓ۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
خدا۔۔!
اس کے کان تک خفت سے سُرخ پڑ گۓ تھے۔۔ کیا اب اس کے دل کے حالات چہرے پر آنے لگے تھے۔۔؟ یا پھر وہ بندہ کہیں اس سے جُڑا ہوا تھا جو کچھ سُنے بغیر محسوس کررہا تھا کہ اسے کچھ کہا گیا ہے۔۔ کیا کبھی تم نے ان لفظوں کو سُنا ہے جو کہے نہ گۓ ہوں۔۔؟ ولی نے بھی سُن لی تھیں شاید اس کے اندر گونجتی باتیں۔
اس نےجلدی سے نفی میں سرہلایا۔۔ ولی نے سر کو خم دے کر موباٸل کان سے ہٹایا اور پھر شاہ نواز کی جانب متوجہ ہوا۔ ناجیہ اسی پل دوڑتی ہوٸ اس کے پاس آٸ۔۔
“امل وہ دیکھو آگیا ولی۔۔۔”
“ہاں پتہ ہے دیکھ چکی ہوں۔۔”
اسے ناجیہ اس وقت بہت ناگوار گزر رہی تھی۔ اور ولی تو اس سے بھی زیادہ۔۔ وہ اس کی تیاری پر سخت نالاں تھی اس سے۔
“اگر میری دسترس میں ہوتے ناں ولی احمد تو کبھی تمہیں یہ کُرتا نہ پہننے دیتی۔۔ ہنہہ”
خفگی سے دوسری جانب دیکھا تو نفیس کی نظروں سے نظریں جا ملیں۔۔ اف۔۔ گلابی جوڑے میں ملبوس لڑکی نے کوفت سے چہرہ پھیرا تھا۔۔
“چلو ناں اس سے بات کرتے ہیں۔۔”
ناجیہ نے اسکا بازو ہلایا تھا۔ ولی اب شاہ نواز کی کسی بات پر “اونہوں” بیزاری سے نفی میں گردن ہلا رہا تھا۔
“خود بُلاٶ اسے میں نوکر نہیں ہوں تمہاری۔۔”
اس نے صاف جواب دیا تھا۔ اس سے زیادہ مروت وہ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ ناجیہ نے بے بسی سے اسے گھورا اور پھر جب شاہ نواز آگے بڑھا تو اس نے ولی کو آواز دی۔ وہ جو پلٹنے لگا تھا رُک گیا۔ پھر ان کی جانب مُڑا۔۔
نفیس اور نذیر اب باہر لان کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ ان کے قریب چلا آیا۔ وہ دونوں لاٶنج کے سِرے پر زینوں کے نزدیک کھڑی تھیں۔
“جی۔۔۔؟”
خشک سا پوچھا۔۔ ایک نظر دیکھا تک نہیں امل کو۔۔ناجیہ نے بے ساختہ زبان پھیری تھی اپنے لبوں پر۔۔
“وہ ولی۔۔ مجھے آپ کا سیل نمبر چاہیۓ۔۔”
کہہ کر اس نے گہرا سانس لیا۔ ولی کے سامنے بات مکمل کرنا مزاق نہیں تھا۔ نسواری آنکھوں کو سُکیڑ کر جب وہ آگے والے کو دیکھتا تھا تو لگتا تھا کہ سب جان ہی لے گا۔
“کیوں۔۔؟”
امل کا دل بھی اب کے دھک دھک کررہا تھا۔
“وہ۔۔ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔”
ناجیہ نے فوراً بات بناٸ تھی۔۔ اس کی پیشانی کے بل گہرے ہوۓ۔۔
“سن رہا ہوں۔۔”
“نہیں میں ابھی آپ سے بات نہیں کرسکتی۔ مجھے آپ کا نمبر چاہیۓ۔”
“آپ کو بات کرنی ہے تو کریں نہیں تو میرا وقت ضاٸع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ بولیۓ کیا بولنا ہے آپ کو۔۔؟”
انداز بہت بے لچک ہوگیا تھا اب کے۔ ناجیہ کا چہرہ سفید پڑنے لگا۔۔
“مجھے ایک بات کرنی ہے آپ سے یہاں نہیں کرسکتی میں۔۔”
“تو ٹھیک ہے مت کریں۔۔”
“آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔؟”
“کیا سمجھوں میں۔۔؟”
“ایک نمبر دینے سے آپ کا کیا جاتا ہے۔۔؟”
ناجیہ روہانسی ہوگٸ تھی۔ امل بھی بمشکل جم کر کھڑی رہی۔ ولی احمد بہت بے رحمی سے بات کررہا تھا۔
“میں اپنا نمبر ہر کسی کو نہیں دے دیتا بی بی۔ آپ نے جو بات کرنی ہے یہاں اس مہمانوں سے بھرے لاٶنج میں کریں۔ اور اگر یہ آپ کی کوٸ چال ہے تو اسے اپنے ساتھ باندھ کر رکھیں۔ کیونکہ مجھے آپ میں کوٸ دلچسپی نہیں ہے سمجھیں آپ۔۔!”
آخر میں درشتی سے کہا تو امل نے تھوک نگلا۔ اس کے پیر کانپنے لگے تھے۔ اور ناجیہ کی تو حالت ہی بہت عجیب سی ہوگٸ تھی۔۔ اتنی ہتک پر اس کی آنکھیں بھر آٸ تھیں۔۔
“آپ اتنے سنگدل کیسے ہوسکتے ہیں ۔۔؟ کیا کسی لڑکی سے ایسے بات کرتے ہیں۔۔؟”
اس نے بہت دل گرفتگی سے کہتے اپنے آنسو صاف کیۓ تھے۔۔
“میں اتنا ہی سنگدل اور بے رحم ہوں اور کچھ۔۔؟”
سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تو امل نے دھڑکتے دل کو سنبھالا۔ اس نے ولی کو کبھی کسی سے ایسے بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔
“آٸندہ مجھے اس طرح بلاوجہ روکنے کی ہمّت بھی مت کیجیۓ گا۔ نہیں تو آپ کو ابھی اندازہ نہیں ہے میری بے رحمی کا۔۔”
ایک اُچٹتی نظر اس پر ڈال کر وہ پلٹ گیا۔ ناجیہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا تاکہ آواز باہر نہ نکلے رونے کی۔ پھر اوپر بھاگ گٸ۔ امل نے ہمدردی سے اسے اوپر بھاگتے دیکھا تھا پھر پلٹ کر دروازے کو دیکھا جس سے نکل کر وہ ابھی ابھی گیا تھا۔۔ اس نے بھی تھکے سے قدم ٹی وی حال کی جانب بڑھاۓ اور برے دل کے ساتھ سجاۓ گۓ جُھولے کو دیکھے گٸ۔۔ ناجیہ کے ساتھ اس کا رویہ دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگٸ تھی۔ ولی نے اگر اسے بھی اسی طرح جھڑک دیا تو وہ کدھر جاۓ گی۔۔؟
دل ایک دم سے بہت بھاری ہوگیا تھا اور آس پاس بکھرا مہمانوں کا رش اب بہت ناگوار گزر رہا تھا۔ بے دلی سے وہ پلٹنے لگی تو کسی کی آواز پر ٹھہر گٸ۔
“جانتی ہیں یہ رنگ کتنا جچتا ہے آپ پر۔۔”
وہ کرنٹ کھا کر مڑی تھی۔۔ نفیس نے مسکرا کر کہا تھا اسے۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
