Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 17) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 17) Part - 1
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
ہاشم بے چینی سے پورچ میں ٹہلتا بار بار حسین کا نمبر ڈاٸل کررہا تھا مگر ہر دفعہ کی، کی گٸ کالز لمحہ بہ لمحہ پلٹ کر آرہی تھیں۔ اس نے بالوں میں ہاتھ چلا کر حسین کے ڈراٸیور کا نمبر ڈاٸل کیا مگر وہاں سے بھی جواب ندارد۔۔!
اس کی بے چینی اب پریشانی میں بدل کر سوا ہونے لگی تھی۔ پھر کسی خیال کے تحت وہ لاٶنج میں تیزی سے چلتا آیا اور درمیانے ٹیبل پر رکھی چابیاں اُٹھاتا باہر کی جانب بڑھنے لگا۔۔
نگار اس کے پیچھے آرہی تھیں۔۔
“کیا ہوا کچھ پتہ چلا۔۔؟ آدھی رات سے بھی زیادہ وقت ہوچکا ہے ہاشم اب تو۔! “
انگلیاں مروڑتی اب وہ دروازے میں کھڑی تھی۔۔
“جی کرتا ہوں کچھ ماں جی تم تو اندر جاٶ۔ جیسے ہی کچھ پتہ چلے گا بتاٶنگا تمہیں۔۔ ابھی اندر جا کر بس دعا کرو کہ بابا مجھے مل جاٸیں خیریت سے۔۔”
الجھ کر کہتا اب وہ جلدی جلدی گاڑی کی طرف جارہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کی گاڑی سڑک پر تیزی کے ساتھ دوڑ رہی تھی۔۔ پیشانی پر ڈھیروں بل اور سردی میں کنپٹی سے پھوٹتا پسینہ۔۔
یوں لگتا تھا گویا اب وہ سہی معنوں میں پہاڑ کے نیچے آگیا ہو۔ پھر اسٹیرنگ سے ہاتھ ہٹا کر موباٸل میں پر چند نمبر ملاۓ اور لب کاٹتے موباٸل کان پر جمایا۔۔
“شہیر۔۔ تین چار بندوں کو بابا کو ڈھونڈنے کے لیۓ کہہ دو۔۔ کیونکہ اب مجھے لگتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔۔ کچھ گڑبڑ ہے۔۔ فٹافٹ۔۔ ذرا سی بھی دیر نہیں ہونی چاہیۓ۔۔”
اس نے فون کان سے ہٹا کر سامنے بنے ڈیش بورڈ پر ڈالا اور پھر پیشانی مسلتا اندر ابلتی پریشانی کو کم کرنے لگا۔۔ کچے راستے اب تک ویسے ہی سنسان پڑے تھے۔۔
اسی پہر ولی کی گاڑی سفید حویلی کے پورچ میں آکر رکی تھی۔ اس کا چہرہ حد درجہ سپاٹ ہورہا تھا اور نقوش اس قدر سخت تھے کہ کوٸ دیکھتا تو ڈر جاتا۔۔ انتقام خوشی نہیں دیا کرتا۔۔ اتنا اندازہ اسے اب تک ہوگیا تھا۔ گاڑی کا دروازہ بند کرتا وہ اندر کی جانب بڑھا۔۔ حویلی خاموش پڑی تھی۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے۔۔
بغیر کسی تردد کے اس نے اپنے قدم کمرے کے جانب پھیرے۔ اور چلتے چلتے وہ ایک پل کو رک سا گیا۔ زینوں کے اس پار کوٸ دکھا تھا اسے۔ کون ہوسکتا ہے۔۔! اس کی آنکھیں سکڑ گٸیں۔۔ پھر محتاط قدم اٹھاتا وہ زینوں کے قریب آ کر ایک پل کو ٹھہر گیا۔۔
“کون ہے۔۔؟۔۔”
کوٸ جواب نہ آنے کے باعث اس کے اعصاب یکدم الرٹ ہوۓ تھے۔ دو قدم مزید چل کر اس نے جیسے ہی زینے کے اس پار قدم رکھا تو ٹھٹھک کر رک گیا۔
”شکیلا تم۔۔۔! رات کے اس وقت یہاں کیا کررہی ہو۔۔؟“
شکیلا اسے دیکھ کر گویا پرسکون ہوٸ تھی۔
”میں آپکا ہی انتظار کررہی تھی ولی سرکار۔۔“
وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آٸ اور پھر رازداری سے اسے کچھ بتانے لگی۔۔ چند لمحوں بعد ولی اپنے کمرے میں تھا۔ شال کو کندھے سے اتار کر صوفے پر ڈالا اور پھر شاور لینے واش روم کی جانب بڑھا۔۔ جب واپس پلٹا تو بال حسبِ عادت ماتھے پر گر رہے تھے اور چہرہ ہر قسم کے جذبات سے عاری ہورہا تھا۔۔ خاموش، ٹھنڈا، سپاٹ۔۔
ہاتھ سے بال پیچھے کر کے اس نے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھے موباٸل میں وقت دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر شاہ نواز کو فون کرنے لگا۔
”ایک گھنٹے بعد اسے اس تہہ خانے سے نکال کر باہر سڑک پر پھینک دینا۔ اور کسی کو بھی تمہارے قدموں کے نشان نہیں ملنے چاہیۓ نواز۔۔ یوں غاٸب ہوجانا گویا کوٸ سایہ ہو تم۔۔ مجھے تمہیں دوبارہ ہدایات دینے کی ضرورت نہ پڑے۔“
چند لمحے آگے والے کی بات سنی اور پھر فون کان سے ہٹا کر ساٸیڈ ٹیبل پر ڈال دیا۔ ایک نظر اُٹھا کر ٹک ٹک کرتی گھڑی پر ڈالی۔۔ جو گزرتے ہر لمحے حسین کی زندگی کو خود میں سینچ رہی تھی۔۔ اس نے گھٹن زدہ سی رات میں لان کی جانب کھلتی کھڑکی کے پٹ کھولے مگر باہر تاریک پڑے سبزہ زار پر بھی ویسی ہی گھٹن تھی۔۔ عجیب سانس کو روکنے والی گھٹن۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم اور اس کے آدمی نیلی سی پھیلتی فجر میں پاگلوں کی طرح حسین کو تلاش کررہے تھے۔ گاٶں کا ہر گھر صبح صبح ایسی افراتفری پر جاگ چکا تھا اور لوگ اب اپنے کچے گھروں کے دروازں سے جھانکتے باہر گزرتے ایک ریلے کو دیکھ رہے تھے جن میں ہاشم پیش پیش تھا۔۔ بکھرے بال اور بگڑے حلیے کی پرواہ کیۓ بغیر وہ ہر گھر کے آگے پیچھے ہو کر اپنے آدمیوں کو ہر ہدایت پر دوڑا رہا تھا۔۔ پوری رات کی ان تکھ محنت کے بعد بھی حسین کا کوٸ سراغ نہیں تھا۔۔ یوں لگتا تھا گویا اسے یا تو آسمان کھا گیا ہو یا پھر زمین نگل گٸ ہو۔ ہر طرف سے مایوسی کا منہ دیکھ کر اس کے اندر جمع ہوتی فرسٹریشن کی کوٸ حد نہیں تھی۔ یوں لگتا تھا کہ کسی نے اس کے وجود پر ایک زور دار ضرب لگاٸ ہو۔ ایسی ضرب کہ جس کے زخم سے کسی پرانے بدلے کی بُو آتی ہو۔۔!
بھاگتا ہاشم یکدم چونکا تھا۔۔
ساری رات اسے کیوں خیال نہ آیا کہ۔۔ کہ ہاں۔۔ وہی تو تھا ان کا ایک دشمن۔ ایک ایسا دشمن جو ان کو تباہ کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔۔ تو کیا وہ تباہ ہوچکا تھا۔۔!!
اس کے اندر کوٸ گھنٹی سی تھی جو بج رہی تھی۔۔ ولی احمد۔۔ ولی احمد۔۔ اگر اس سب کے پیچھے تمہارا ہاتھ ہوا تو میں تم سے زندگی جینے کی آخری امید بھی چھین لونگا ولی۔۔ میں تباہ کردونگا تمہیں۔!!
”گاڑیاں موڑو ہمیں واپس جانا ہے اپنے گاٶں۔۔ گاڑیاں موڑو۔۔“
بلند آواز سے ہدایات دیتا وہ اب کے اپنی گاڑی کی جانب بھاگ رہا تھا۔ اس کی پیشانی شکن آلود ہوگٸ تھی اور دل بے تحاشہ گھبرا رہا تھا۔ اس کی تیس سالہ زندگی میں یہ اس کی پہلی ایسی بساط تھی جو اس پر الٹ رہی تھی۔ سب اس کی موجودگی اور اس کی بھر پور ملازمین کی فوج کے درمیان ہوا تھا۔ وہ تو گویا اس کے منہ کے اندر ہاتھ ڈال کر حسین کو لے گیا تھا۔۔ اتنے قریب سے۔۔ اس کی ناک کے نیچے سے۔۔
ولی احمد۔۔۔!!
غصے میں بگڑتے چہرے کے ساتھ اس نے دانت پیسے تھے۔۔ تم نے غلط آدمی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ولی۔۔ تم نے بہت غلط کیا۔۔ تمہیں یہ نہیں کرنا تھا۔۔ اب تم دیکھو گے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔ ہاں اب تم دیکھنا۔۔
منہ ہی منہ میں دانت پیس کر بڑبڑاتا وہ عجیب سا لگ رہا تھا۔۔ آگے بیٹھے ڈراٸیور نے ایک نظر اسے بیک ویو مرر میں دیکھا تو اس کے جسم پر ایک پل کو چیونٹیا رینگ گٸیں۔ ہاشم جس کا بھی انجام طے کررہا تھا وہ نہایت بھیانک ہونے والا تھا۔۔ اس نے جھرجھری لے کر نظریں سامنے کے شیشے پر جماٸیں۔۔
اترتی فجر اب ابھرتے سورج میں بھاپ بن کر فضا میں تحلیل ہوگٸ تھی۔ وہ سبزہ زار کے پچھلے حصے میں کسرت کررہا تھا۔ پسینے کی بوندیں اس کے کسرتی بازو سے پھسل کر گررہی تھیں اور آنکھیں۔۔ آنکھیں اب تک سپاٹ تھیں۔
نیلے رنگ کے ٹریک سوٹ میں ملبوس اس کا بے حد فٹ سراپا مزید دراز لگ رہا تھا۔ پھر جھک کر جوتوں کے تسمے باندھتا وہ سیدھا ہوا اور پھیلے سبزہ زار پر جاگنگ کرنے لگا۔ ابھی اس کی ورزش آدھی بھی نہیں ہوٸ تھی کہ اس کا موباٸل بج اُٹھا۔۔ کان میں لگے نازک سے آلے کو اس نے ہلکا سا دبایا تو کال کنیکٹ ہوگٸ۔۔ مجھے تو لگا تھا کہ تم رات ہی میں رابطہ کروگے مجھے۔۔ مگر چلو خیر ہوگٸ۔
”بابا کہاں ہیں ولی۔۔؟“
”کس کے بابا۔۔۔؟“
”انجان مت بنو۔۔ عزت سے پوچھ رہا ہوں تو عزت سے جواب دے دو۔۔ بتاٶ کدھر ہیں بابا۔۔؟“
دوسری جانب اس کی غراہٹ سے ولی گویا محظوظ ہوا تھا۔۔
”یہ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔ جاٶ دیکھو جا کر کسی طواٸف کے کوٹھے پر۔۔ یقیناً ایسی ہی جگہوں پر پایا جاتا ہے وہ۔۔“
”ولی اب تم حد سے بڑھ رہے ہو۔۔“
ہاشم کی گویا دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا اس نے۔ جس کے باعث وہ بلبلا اُٹھا تھا۔۔
”کون حد سے بڑھ رہا ہے اور کون حد میں ہے۔۔ کیا مجھے ضرورت ہے تمہیں یہ سب بتانے کی۔۔“
اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔ برف سی مسکراہٹ۔۔
”جو پوچھ رہا ہوں اس بات کا جواب دو۔۔ کہاں ہیں بابا۔۔ بتاٶ مجھے نہیں تو ایک لمحے میں تہس نہس کردونگا تمہیں میں۔۔“
”اوکے۔۔ کم آن۔۔ گو اہیڈ۔۔ تہس نہس کردو مجھے ہاشم۔ چلو شاباش تباہ کردو مجھے۔۔ یہی تو کرتے آرہے ہو تم ایک عرصے سے۔۔ اور جانتا ہوں کہ آگے بھی تم یہی کرتے رہوگے۔ لیکن میں نے تمہارے باپ کو نہیں اُٹھایا سمجھے۔“
”کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری اس بکواس پر یقین کرونگا۔۔“
”تو مت کرو یقین۔۔ کیا میں نے تمہیں کہا یقین کرنے کو۔۔۔!“
اس کا چہرہ ایک پل میں جم سا گیا تھا۔۔
”یہ تم اچھا نہیں کررہے ولی۔۔ یہ تمہیں بہت بہت مہنگا پڑے گا۔ یاد رکھنا۔۔“
”سستے میں تو کبھی میں نپٹا بھی نہیں ہوں ہاشم۔۔ آٸندہ مجھے اس بکواس کے لیۓ فون مت کرنا۔۔ اپنے باپ کو ڈھونڈو جا کر۔۔ زیادہ میرا دماغ نہ خراب کرو۔۔“
سر جھٹک کر کال کاٹی۔۔ پھر کچھ سوچ کر نواز کو کال لگاٸ۔۔
”کیا وہ زندہ ہے۔۔۔؟“
”جی سرکار۔۔ زندہ ہے۔۔“
”گڈ زندہ ہی رہنا چاہیۓ اسے۔۔ موت اگر اس کے قریب بھی پھٹکی تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔۔“
کان سے آلہ نکال کر اس نے کرسی پر پڑے تولیۓ سے گردن خشک کی اور پھر موباٸل سامنے میز پر ڈالتا کرسی پر بیٹھا۔۔ جاگنگ کرنے کے باعث سانس اب تک پھولا ہوا تھا اور چہرے کی رنگت متغیر تھی۔۔
دور سوچتی نگاہوں کو سکیڑے وہ ایک رات پہلے گزرے منظر کو سوچ رہا تھا۔۔
اس نے حسین کو موت نہیں دی تھی۔۔ اس نے اسے زندگی دی تھی۔۔ کیونکہ جب اس نے مرنا چاہا تھا تو اس نے اسے زندگی کا حکم سنایا تھا۔۔ کل جب اس نے موت طلب کی ہوگی تو اس نے بھی اسے زندگی دی تھی۔۔ ایک طویل نہ ختم ہونے والی۔۔ تھکا دینے والی زندگی۔۔ !
اس نے کتے کو ایک خاص زاویے پر باندھا تھا۔۔ ایسے کہ وہ حسین کے جسم کے قریب تک تو پہنچ سکتا مگر وہ اسے آگے بڑھ کر کاٹ نہیں سکتا تھا۔۔ وہ اس نے اس کو صرف موت کی حد تک خوفزدہ کرنے کے لیۓ باندھا تھا۔۔ اس کی تباہی کی اصل وجہ تو کچھ اور تھی۔۔
غیر مرٸ نکتے سے نگاہ ہٹا کر اس نے سامنے رکھا موباٸل اُٹھایا اور پھر چند نمبر ڈاٸل کرنے کے بعد فون کان سے لگایا۔
”کام ہوگیا تھا محسن۔۔۔؟“
”جی سر کام ہوگیا۔۔“
”تمہیں یقین ہے کہ کوٸ دواٸ اس پر اثر انداز نہیں ہوگی۔۔؟“
”ارے سر۔۔۔ کیا محسن پر بھروسہ نہیں آپ کو۔۔؟“
”ہے بھروسہ۔۔ اچھا اب کچھ دنوں کے لیۓ منظر سے غاٸب ہوجاٶ۔۔ نظر نہ آنا مجھے اب تم کچھ دنوں تک۔۔ خیال رکھنا۔“
”ولی سر۔۔“
وہ جو فون رکھنے ہی لگا تھا یکدم رک گیا۔
”ہاں کہو۔۔“
”آپ بھی اپنا خیال رکھیۓ گا سر۔۔ ہاشم بہت خطرناک آدمی ہے۔۔“
”ٹھیک رکھتا ہوں اب۔۔“
کوٸ بھی تسلی بخش جواب دیۓ بغیر فون کان سے ہٹایا اور پھر اُٹھ کر موباٸل ہاتھ میں لیۓ سبزہ زار سے دوسرے حصے کی جانب بڑھنے لگا۔۔
جس کا انجام موت ہو ناں محسن اسے کوٸ چیز نہیں ڈرایا کرتی۔۔ ولی اپنی قبر کھود کر اس سفر پر نکلا تھا۔۔ اور جب کوٸ قبر کھودی جاتی ہے تو اس میں مردہ دفنانا ہی ہوتا ہے۔۔ ہاں بالکل ایسا ہی کرنا ہوتا ہے۔
شاور لینے کے بعد وہ جیسے ہی چابیاں اور موباٸل لیۓ کمرے سے باہر نکلا تو زمان کو پریشانی کے ساتھ یہاں وہاں ٹہلتے پایا۔۔ اس نے گہرا سانس لیا۔۔
آغاز ہوچکا تھا۔۔
لاٶنج میں صرف بی جان بیٹھی تھیں۔۔ امینہ اور شازیہ بہت ہنگامی صورتحال میں ڈراٸیور کے ساتھ اپنے گھر گٸ تھیں۔ اور جب سے یہ خبر سفید حویلی میں پھیلی تھی کہ حسین کل رات سے غاٸب ہے تب سے ایک عجیب سی بے چینی کی لہر ہر وجود میں محسوس کی جاسکتی تھی۔۔ اس نے آگے بڑھ کر زمان کو کندھوں سے تھاما اور تسلی بخش نگاہوں سے ان کا شفیق سا چہرہ دیکھا جو اس وقت پریشانی کے باعث متغیر ہورہا تھا۔۔
”سردار بابا میں نے کہا ناں آپ سے کہ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔ میں لگاتا ہوں کچھ بندوں کو کام پر ایک گھنٹے میں ڈھونڈ لیں گے حسین سرکار کو۔۔ آپ فکر مت کریں۔۔“
”لیکن ہاشم بھی تو رات بھر سے ڈھونڈ رہا ہے انہیں ولی۔۔ اسے کیوں اب تک بھاجی نہیں ملے۔؟“
”آپ مجھ پر بھروسہ رکھیں سردار بابا۔۔ میں کرتا ہوں کچھ۔۔ اب چلیں پہلے ٹھیک سے ناشتہ کریں اور اپنی دواٸیاں وقت پر لیں۔ یہ ایسے ٹھیک نہیں ہے۔۔ خیال رکھیں میں ڈھونڈتا ہوں انہیں۔۔“
تسلی کروا کر وہ جیسے ہی مڑا تو سامنے سے آتی امل کو دیکھ کر ایک۔۔ بس ایک پل کے لیۓ ٹھہرا۔۔ پھر بنا کوٸ تاثر دیۓ تیزی سے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ وہ اسے گردن موڑے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔ کچھ چیزیں کرنے سے انسان خود کو کبھی نہیں روک سکتا۔۔ وہ بھی اسے مڑ کر دیکھنے سے خود کو روک نہیں پاتی تھی۔۔ جانتی تھی کہ سب کچھ تکلیف دیا کرتا تھا مگر پھر بھی۔۔ پھر بھی اسے دیکھنے کی عادت بہت جان لیوا تھی۔۔ ذرا دیر وہ دکھاٸ نہ دیتا تو لگتا تھا کوٸ سانس روک رہا ہے۔۔
ولی گاڑی میں آکر چند پل سٹیرنگ کو تھامے بیٹھا رہا۔۔ گہرے سمندر میں ڈولتی کشتی کی مانند اس کا دل ڈول رہا تھا۔۔ جو وعدہ اس نے امل سے کررکھا تھا کیا وہ اس کو نبھانے کا اہل ہوسکتا تھا۔۔؟ اگر جو وہ بھی ان چکروں میں کہیں مر کھپ گیا تو پھر کون ہوگا جو اس کی حفاظت کرے گا۔۔ چند پل وہ یونہی اسٹیرنگ تھامے شیشے سے پار دیکھے گیا۔۔
لیکن پھر اگر وہ ہی نہیں رہا تو امل کو کون تنگ کرے گا۔۔؟ لوگ امل کو تکلیف اس لیۓ دے رہے تھے کیونکہ اس کے پیچھے ولی کو تکلیف ہوا کرتی تھی۔ ان کا مقصد ولی کو تکلیف پہنچانا تھا امل کو نہیں۔۔ ایک طرح سے اچھا ہی ہوگا بی بی اگر میں آپ کی زندگی سے نکل جاٶں تو۔۔
ایک لمحے کو اس کے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
ویسے بھی کب آپ میری تھیں بی بی۔۔! آپ تو ہمیشہ سے مجھ سے بہت دور تھیں۔۔۔ بہت دور ہیں۔ اور یہ دور رہنا آپ کے لیۓ بہت بہتر ہے۔۔ میں اگر مر بھی گیا تو ایک وعدہ تو وفا کر ہی جاٶنگا۔۔ آپ کی زندگی سے دور جانے کا وعدہ۔۔ آپ کو کبھی اذیت نہ دینے کا وعدہ۔۔
چہرہ پھیر کر سفید حویلی کے قد آور سے گیٹ کی جانب دیکھا۔۔
جانتا ہوں کہ آپ اب تک میری راہ دیکھ رہی ہونگی۔ جانتا ہوں آپ کو بہت اچھے سے۔ اتنے اچھے سے جتنا آپ خود کو بھی نہیں جانتیں۔۔
چہرہ اندر کی جانب پھیرا اور پھر ایک بوجھل سی سانس خارج کرتا گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔ جو لکیروں میں نہ ہو ہاتھوں میں تھام رکھا ہو تب بھی آپ کا نہیں ہوسکتا ۔۔
اس کی گاڑی اب تیزی کے ساتھ کچے راستوں پر دوڑتی آگے ہی آگے بڑھ رہی تھی۔۔ اس لڑکے کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی موت کو بھی طے کیۓ بیٹھا تھا۔۔ ایک رونگٹے کھڑے کردینے والے احساس نے ساری پگڈنڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم کے سارے بندے اب کے راستوں کو چھان رہے تھے۔ گاٶں کی طرف کو جاتے راستے، گاٶں سے باہر کو جاتے راستوں کو۔۔ وہ بہت پریشانی کے ساتھ ایک ایک کو ہدایات دیتا ہلکان ہونے لگا تھا۔۔ ہر بڑھتے لمحے اس کا دل خوف کے ایک خوفناک سے شکنجے میں جکڑنے لگا تھا۔۔ اوپر سے گھر والوں کی بار بار کی کالز نے اس کا دماغ گھما دیا تھا۔ ابھی بھی نگار کا نمبر موباٸل پر جگمگاتا دیکھ کر اس کا چڑھتا پارہ سوا نیزے پر جا پہنچا تھا۔۔
آنے والی کال کو یس کرتے اس نے موباٸل سختی سے کان پر جمایا۔۔
”ماجی میں نے کہا ناں کہ مجھے بار بار فون کر کے تنگ نہ کرو، کر تو رہا ہوں، ڈھونڈ تو رہا ہوں انہیں۔۔ اور کیا چاہتی ہو تم۔۔؟ میرا فی الحال دماغ بہت زیادہ گھوما ہوا ہے۔ مجھے کام کرنے دے ابھی۔۔ دوبارہ فون نہ کرنا۔۔ کچھ پتہ چلا تو فون کر کے سب سے پہلے تمہیں بتاٶنگا۔ رکھتا ہوں ابھی۔۔“
اس نے بات سنے بغیر اپنی کہہ کر کوفت سے فون کو کان سے ہٹایا اور پھر سامنے سے آتے شہیر کی جانب متوجہ ہوا۔
”سرکار مجھے لگتا ہے کہ وہ اس گاٶں میں نہیں ہیں بلکہ شاید وہ کسی اور جگہ لے جاۓ گۓ ہیں۔۔ اگر ہمارے گاٶں میں ہوتے تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ ہمیں پتہ نہ چلے۔ ہم اس گاٶں کے چپّے چپّے سے واقف ہیں۔۔ اور جس نے بھی ایسا کیا ہے، ظاہر ہے یہاں اسی گاٶں میں رکھنے کی تجویز پر تو اس نے کبھی غور نہیں کیا ہوگا۔۔ وہ بھی آپ کو اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ کی پہنچ کہاں تک ہے۔۔ آپ مجھے اجازت دیں تو میں گاٶں سے باہر چھان پھٹک کروں۔“
ہاشم نے تھک کر سر اثبات میں ہلا کر گویا اسے اجازت دی تھی۔۔
” پولیس میں رپورٹ کردی تھی ناں۔۔؟“
”جی کردی تھی۔۔“
”کوٸ چھان پھٹک شروع کی انہوں نے یا یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھی ہے۔“
”وہ اپنی سی کوششیں کررہے ہیں سرکار مگر یہ ان کے بس کا کام نہیں ہے۔ ہمیں خود کوٸ اسٹینڈ لینا ہوگا۔۔۔ اس کے علاوہ کوٸ چارہ نہیں۔۔“
اس نے سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تو کنپٹی میں درد کی ٹیسیں ابھرنے لگیں۔ ہمیشہ جیتنے والوں کو ہار کا سامنہ کرنا پڑے تو وہ ہار کو سہار نہیں پاتے۔۔ انسان کو جیت سنبھالنے کے لیۓ ہار کا عادی ہونا ہی چاہیۓ۔۔ نہیں تو وہ جیت کو سنبھالنے کا اہل نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ بھی یہی سب ہورہا تھا۔ ایسی بے بسی تو اس نے ساری زندگی میں کبھی محسوس نہیں کی تھی جیسی آج محسوس کررہا تھا۔۔
”ٹھیک ہے۔۔ مجھے میرا باپ ڈھونڈ کر لا کر دو شہیر۔۔ پھر ہمیں ساتھ مل کر کچھ کاموں کو بھی نپٹانا ہوگا۔۔ جاٶ اب۔۔“
ڈھیلے ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ ادب سے گردن جھکاتا واپس پلٹ گیا۔۔ پیچھے تھکا سا ہاشم اب تک ویسے ہی آنکھیں موندے کرسی سے سر ٹکاۓ ہوۓ بیٹھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
بی جان اور امل دونوں نگار بیگم کے پاس آٸ ہوٸ تھیں۔ جب سے بی جان آٸ تھیں نگار بیگم کو خاموش کروانے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگی تھیں۔ رات سے رو رو کر نگار نے اپنے آپ کو ایک ہی رات میں بوڑھا کرلیا تھا۔۔ امل نے ان کی بکھرتی شخصیت کو دیکھ کر افسوس سے سوچا تھا۔۔ لاٶنج میں بے حد خاموشی تھی صرف نگار اور کبھی کبھی امینہ اور شازیہ کے رونے کی آواز آجاتی۔ باقی گویا پوری حویلی سے جیسے کسی نے زندگی کھینچ لی تھی۔۔ ایک جھٹکے میں۔۔
اسی اثنا میں داخلی دروازے سے ارجمند، ناجیہ اور نفیس داخل ہوۓ۔ ارجمند تو آتے ہی نگار بیگم کے گلے لگ کر بہت روٸیں۔۔ بجاۓ کسی کو تسلی دینے کے یہ خاندان کی نام نہاد پر خلوص عورتیں بلاوجہ گلا پھاڑ پھاڑ کیوں روتی ہیں۔۔!
اس نے انہیں اس طرح روتے دیکھا تو ان کے اس انداز پر بیزاری سے سر جھٹکا۔۔۔ یہ سب جتنا بھی اصلی ہوجاتا اسے ہمیشہ نقلی ہی لگتا تھا۔۔ بے اختیار اس کی نگاہ نفیس پر پڑی تو اس نے نفرت سے چہرہ ہی گھما لیا۔ اسے دیکھتے ہی گویا اندر تک کڑواس پھیل گٸ تھی۔۔ ناجیہ سے پچھلی تلخی کے بعد اس نے اس کی جانب دیکھا بھی نہیں۔۔ جو برا لگتا ہے سو لگتا ہے۔۔ ابھی بھی وہ اسے زہر لگ رہی تھی تو اس نے بلاوجہ اس کے سامنے شہد بننے کی کوشش کی بھی نہیں۔۔ یہ اس کا انداز تھا ہی نہیں۔۔ امل جو نہیں ہے وہ کبھی نہیں بن سکتی تھی۔۔
اچھی طرح رو دھو کر جب دونوں دیورانی جیٹھانی بیٹھیں تو دوپٹے سے آنسو صاف کررہی تھیں۔۔ پھر نگار ایک دم گہرا سانس لے کر بولیں۔۔
”حسین نے تو کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا ۔۔ کبھی کسی کا برا نہیں چاہا، ہمیشہ لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے وہ تو۔۔ کبھی کسی کو جھڑکا نہ ہی گالی دی۔۔ میں نے تو کبھی ان کو کسی کے خلاف بولتے نہیں سنا اور اب ایسے۔۔!“
وہ پھپھک کر رو پڑی تھیں۔۔ شازیہ نے ایک گہرا سانس لیا۔۔
”بہت لوگ کہہ رہے ہیں کہ دشمنی میں کسی نے اُٹھایا ہے بابا کو مگر یقین کریں چچی۔۔ میرے بابا کی کسی سے کوٸ دشمنی نہیں تھی۔۔ کبھی انہوں نے تو کسی کو تکلیف نہیں پہنچاٸ بھلا ان کی ایسی جان لیوا دشمنی کہاں سے آگٸ۔۔! غلط کہہ رہے ہیں سب۔۔ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔“
اس نے آنکھوں سے گرتے آنسوٶں کو رگڑ کر صاف کیا تو ساتھ بیٹھی امینہ نے اسے خود سے لگاتے ہوۓ حوصلہ دیا۔۔ ایک ہی جھٹکے میں سب کے سب گویا بکھر کر رہ گۓ تھے۔
”بس اللّہ غارت کرے ایسے لوگوں کو جنہوں نے ہمارے بھاٸ صاحب کو اذیت میں رکھا ہوا ہے۔۔ ایک دفعہ وہ ہاشم کے ہاتھ آجاۓ گردن مروڑ کر رکھ دیگا۔۔ لوگ پتہ نہیں ایسے کام کر کے راتوں کو سو کیسے جاتے ہیں۔۔ توبہ بھٸ۔۔“
گہرے افسوس سے سر ہلا کر کہا تو امل کو ان کے بناوٹی انداز سے کوفت ہونے لگی۔۔ پتہ نہیں کیسے لوگ تھے یہ سب۔۔ کسی کے ساتھ نہ مخلص تھے اور نہ ہی کسی کے غم، کسی کی خوشیوں میں دل سے شریک ہونے والے تھے۔۔ بس جس کے منہ پر ہوتے اسی کی تعریف کردیا کرتے۔۔ اور ان کے سامنے انہی کے دشمنوں کو برا بھلا کہہ کر اپنے نمبر بنا لیا کرتے۔۔ بھلا انہیں اور آتا ہی کیا تھا۔۔
اب اس سے اس ماحول میں بیٹھا نہیں جارہا تھا۔۔ حسین تایا کے لیۓ پریشان وہ بھی تھی مگر اس طرح کا واویلا اس سے نہیں ہورہا تھا۔۔
”پتہ نہیں کس کی منحوس نظر کھا گٸ ہمارے گھر کو زمانی۔۔ خدا غرق کرے ایسے لوگوں کو۔۔“
نگار بیگم روتے روتے ایک ہی بددعا دیۓ جارہی تھیں۔۔ اسے بے اختیار ان کا ولی کے ساتھ سخت سا رویہ یاد آیا۔۔ کیسے کیسے اذیت ناک لفظوں سے وہ اس کی ابھرتی جوانی کو تار تار کردیا کرتی تھیں۔۔ طنز اور کسی تیکھے جملے کا موقع ہاتھ سے جانے دینا تو انہوں نے خود کی توہین تصور کر رکھا تھا۔۔
وہ انہیں دیکھتی سوچ رہی تھی۔۔
کیا ہمیشہ نظرِ بد ہی ہوتی ہے جو انسان کو ایسے حال تک پہنچا دیا کرتی ہے۔۔ نہیں۔۔ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔۔ یہ تو ہمارے اعمال ہوتے ہیں جو ہمیں گہری، تاریک جہنم میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ ہم ہی ہوتے ہیں جو خود کے دشمن ہوتے ہیں۔۔ ابھی اگر وہ انہیں کہے کے اپنے اعمال سے توبہ کرلیں اور اللہ کی جانب رجوع کریں تو شاید کوٸ راہ نکل آۓ۔ مگر ایسا کہہ کر اس نے خود کا یہاں تماشہ نہیں بنوانا تھا۔۔ کیونکہ یہ لوگ انگلیاں اُٹھانے والے تھے۔۔ خود کی جانب پلٹ کر آٸ انگلیوں کو دیکھنا ان کے لیۓ بہت مشکل تھا۔۔
گہرا سانس لے کر وہ جم کر بیٹھی رہی۔۔
”اللہ بس حفاظت کرے میرے بابا کی۔۔ میرے بابا نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچاٸ۔۔ وہ کبھی کسی کو تلکیف نہیں دیا کرتے تھے۔۔ وہ بہت اچھے انسان تھے۔۔“
امینہ بھی ایک دم سے رو پڑی تو اس نے ترحم سے ان سب کی حالتوں کو دیکھا۔ کچھ تو تھا جو یوں پلٹ آیا تھا۔۔ اسی وقت۔۔ محسن نے قبروستان کا دروازہ پار کیا تھا۔۔ سورج اب کے سر پر چڑھا محسوس ہورہا تھا۔۔ اس نے ایک دستی بیگ کندھے پر ڈال رکھا تھا اور سر پر پی کیپ ذرا آگے چہرے پر جھکا رکھی تھی۔۔ قبروستان کی کچی زمین پر قدم قدم چلتا وہ سوکھے پتوں کو چرمراتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔۔ پھر تین قبروں کے عین سامنے رک سا گیا۔۔ ان تینوں قبروں پر ایک بڑا گھنا سا درخت تھا جس کا گہرا سا سایہ ہر لمحے دھوپ کی جھلستی تمازت سے ان قبروں کو ڈھانپے رکھتا تھا۔۔ وہ تھوک نگل کر گھٹنوں کے بل ان قبروں کے سامنے بیٹھا۔۔
”وہ ظالم لوگ تھے بابا۔۔ میں نے ان کی ایک دیوار کو گرا دیا۔۔ میں آپ کو، ماں کو ۔۔ اور بھاٸ کو مزید اپنے خوابوں میں تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا بابا۔۔ مجھے نہیں پتہ میں نے گناہ کیا ہے یا یہ سب کر کے ثواب کمایا ہے۔۔ مگر میں نے وہ کیا جو مجھے ٹھیک لگا تھا بابا۔۔ میں نے بھی ان کو اسی عذاب سے گزارہ جس سے پچھلے کٸ سالوں سے میں گزرتا آرہا تھا۔“
نو عمر سا جاذب نظر لڑکا سر جھکاۓ بڑبڑا رہا تھا۔۔ شاید اس کے آنکھوں میں گلابی سی نمی بھی تھی۔ ہاتھوں نے سختی سے دستی بیگ کو تھام رکھا تھا اور نظریں قبروں کی کچی مٹی پر جمی تھیں۔
”میرے بابا نے کبھی کسی کے ساتھ کوٸ ظلم نہیں کیا ارجمند چچی۔ کسی کو بہت بڑی غلط فہمی ہوٸ ہے۔۔۔“
امینہ نے کہہ کر چہرہ آنسو صاف کرنے کو چہرہ جھکایا تو اسی پل محسن نے اپنا جھکا سر اُٹھایا۔
”انہوں نے میرے خاندان کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا تھا بابا۔۔ میں انہیں ایسے معاف نہیں کرسکتا تھا۔۔ جانتا ہوں کہ اگر آپ ابھی زندہ ہوتے۔۔“
اس کی آواز بھراٸ تھی۔۔ گلے میں جیسے بہت کچھ جما ہوگیا تھا۔۔ دل درد سے پھٹنے لگا۔۔
”اگر آپ زندہ ہوتے تو مجھے ایسا کوٸ کام نہیں کرنے دیتے۔ انتقام کے کسی چکر کا حصہ نہیں بننے دیتے مجھے آپ۔۔ لیکن بابا اگر آپ ہوتے تو غم ہی کس بات کا تھا۔۔۔!“
”بس اب اللہ سے دعا کریں آپ سب کہ تایا جی خیر خیریت سے مل جاٸیں ہمیں“
نفیس نے کہا تو سب نے ہی ایک ساتھ گہرا سانس لیا۔۔
”میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں بابا۔۔ کہ انتقام کے چکر میں کبھی بھی کوٸ سرواٸیور معصوم نہیں بچتا۔۔ اگر ظالموں کی صفوں میں داخل ہو کر ان کے خیموں کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاۓ تب تک کوٸ طاقت ان کے ظلم کو اس زمین پر نہیں روک سکتی بابا۔۔ اور میں نے۔۔ میں نے ان کو مزید کسی کو تباہ کرنے سے روکا ہے۔۔ میں نے ٹھیک کیا ہے بابا۔۔ اس کے لیۓ آپ مجھے نہیں ڈانٹ سکتے۔۔“
وہ سر جھکاۓ اب تک بڑبڑا رہا تھا۔۔ ایک آنسو بھی لڑھک کر اس کی آنکھ سے پھسلا۔۔ پھر اس نے ہاتھ میں سختی سے پکڑے دستی بیگ سے ایک خشک سا سرخ گلاب نکالا۔۔ آگے بڑھ کر اسے بابا کی قبر پر رکھ دیا۔۔ چند پل گیلی آنکھوں سے تینوں قبروں کو دیکھے گیا اور پھر آہستہ سے بیگ کندھے پر ڈالتا اٹھ گیا۔۔ ہوا سے زمین پر گرے زرد سے پتے ایک جھکڑ کی صورت اُڑ رہے تھے۔۔
”میں ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا بابا۔۔ میں آپ کا بہت پاک صاف سا معصوم محسن نہیں بن سکا۔۔“
اس نے آستین سے آنکھیں رگڑی تھیں۔۔ مگر ایک بھی بار مڑ کر سوٸ قبروں کو نہیں دیکھا۔۔ انہیں ایسے دیکھنا بہت اذیت دیا کرتا تھا۔
”مجھے انتقام کے چکروں نے معصوم نہیں رہنے دیا بابا۔۔ آپ مجھے معاف کردیجیۓ گا۔۔ اور ماں کو کہیۓ گا کہ میں ان کی نرم گرم سی آغوش کو اب بھی بہت شدت سے یاد کرتا ہوں۔۔“
دور جاتا لڑکا بار بار آنکھوں میں آٸ نمی کو آستین سے رگڑ رہا تھا اور خود کو سنبھال بھی رہا تھا مگر پھر بھی وہ تھا تو ایک نو عمر سا جوان۔۔ ! ایک بچہ۔۔
”بھاٸ سے کہیۓ گا کہ ان کے چیمپ نے ان کا بدلہ لے لیا۔۔ وہ مجھے ہمیشہ بزدل کہا کرتے تھے مگر میں۔۔ بابا میں بہت بہادر ہوں۔۔ کیونکہ میں۔۔“
اس نے ایک پل کو رک کر قبروستان کی جانب دیکھا اور پھر تیز تیز قدم اُٹھاتا آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔۔
”میں زندہ ہوں۔۔“
دھوپ کی نرم سی گرمی سارے ماحول کو اپنی زردی میں لپیٹ چکی تھی۔۔ اور دور سے دیکھنے پر بس یہی نظر آتا تھا کہ درختوں کی قطار کے نیچے سے ایک لڑکا دستی بیگ کندھے پر ڈالے بار بار جیکٹ کی آستین سے بھیگتی آنکھیں رگڑتا گزر رہا تھا ۔۔ اور یہ منظر۔۔ یہ منظر بہت تکلیف دہ تھا۔۔ دیکھنے والوں کے دلوں پر کرب کے عظیم لمحات بن کر اترتا تھا یہ منظر۔۔ !
۔۔۔۔۔۔۔
