Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 7) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 7) Part - 2
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
دو دن پر لگا کر گزر گۓ اور ولی نہ آیا۔ اب تو بی جان کا صبر تمام ہوگیا تھا مگر وہ کچھ کر نہیں سکتی تھیں۔ گھر میں حسبِ معمول ڈھولک رکھی گٸ تھی اور یہ ڈھولک بصدِ اصرار نگار بیگم نے رکھواٸ تھی کیونکہ بی جان کا دل تو ولی کی وجہ سے انتہاٸ پریشان ہورہا تھا۔ ان کا جی اندر ہی اندر گھبرا رہا تھا۔۔ ڈر رہا تھا۔۔ مگر نگار بیگم کو وہ ولی کا کہہ کر ٹال نہیں سکتی تھیں۔ انکی اور خاندان کی ہر عورت کی نظر میں ولی کل بھی گند کا ڈھیر تھا اور آج بھی۔ تو کسی بھی قسم کا انکار کیۓ بغیر انہوں نے ڈھولکی رکھ لی تھی۔۔ مگر اب ان کا دل مضطرب تھا۔۔ بہت زیادہ۔۔
لڑکیاں ڈھولک کو درمیان میں رکھے اسکے ارد گرد حلقہ بناۓ بیٹھی تھیں۔ گلابی، زرد، سُرخ، جامنی۔۔ غرض ہر رنگ لاٶنج میں بکھرا تھا۔ شوخ سی لڑکیاں گیت گاتیں ایک دوسرے کو چھیڑ رہی تھیں اور ماحول خاصہ خوشگوار ہورہا تھا۔۔ مغرب ڈھلے وقت بیت چکا تھا اسی لیۓ حویلی کی ساری بتیاں روشن تھیں۔
“ارے زمانی۔۔ امل کہاں ہے۔۔؟ کل تو چُھٹی بھی ہے۔۔ پرچہ بھی کوٸ نہیں پھر کمرے میں گُھسی بیٹھی کیا کررہی ہے وہ۔۔؟”
ارجمند نے چہرہ ذرا تِرچھا کرکے پیچھے کھڑی بی جان کو دیکھ کر کہا۔۔ وہ بے چینی سے داخلی دروازے کے آگے ٹہل رہی تھیں۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر۔۔ شاید کہ وہ آجاۓ۔۔
“جی بھابھی بس تھک گٸ ہے۔ آج کا پرچہ کہہ رہی تھی کہ بہت مشکل تھا۔ آپ بیٹھیں میں دیکھتی ہوں اسے۔۔”
وہ اوپر کی جانب بنے اسکے کمرے کی طرف بڑھنے لگیں تو ناجیہ نے بے اختیار انہیں روک دیا۔۔
“میں لے کر آتی ہوں چچی اسے۔ آپ یہیں رُکیں۔۔”
وہ زرد لباس میں بڑی بڑی بالیاں پہنے چمکیلا سا میک اپ کیۓ ہوۓ تھی۔ بی جان نے مسکرا کر سر ہلایا اور صوفے پر خواتین کے ساتھ آ بیٹھیں۔۔ ڈھولک کی آواز ساری حویلی میں گُونج رہی تھی۔
ناجیہ نے اسکے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ نظر آٸ۔ شاید نہا کر نکلی تھی۔ اسی لیۓ اسکے ہلکے گیلے بال پُشت پر پڑے تھے۔ گہرے سبز رنگ کے لباس میں اسکا چہرہ دمک رہا تھا۔ گہرے رنگ اس پر ہمیشہ بہت جچتے تھے۔
“تم کیوں کمرے میں گُھسی بیٹھی ہو ہاں۔۔ نیچے سب کس کے لیۓ آۓ ہیں۔۔؟”
اس نے اسکے سامنے سنگھار میز پر ٹِکتے ہوۓ کہا تو وہ پھیکا سا مسکرا کر بالوں میں برش پھیرنے لگی۔
“ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اُٹھی ہوں سو کر۔۔ بہت تھک گٸ تھی آج کیونکہ رات بھی ٹھیک سے نیند نہیں آٸ تھی اور صبح پیپر کے لیۓ بھی اُٹھنا تھا۔۔”
اسکا چہرہ سُتا ہوا لگ رہا تھا اور مسکراہٹ پھیکی۔۔ یہ امل نہیں تھی۔۔
“پریشان ہو کیا کسی بات پر۔؟”
ناجیہ نے بغور اسکے تاثرات دیکھے تو اس کا بالوں میں چلتا ہاتھ دھیما پڑا۔۔ مگر پھر اگلے لمحے وہ سنبھل کر مسکراٸ۔۔
“پیپرز میں ایسی ہی ہوجاتی ہوں میں ناجیہ۔ عجیب ڈپریسنگ سے دن اور رات ہوتے ہیں ناں اور مکمل آرام بھی نہیں ہوتا تو بس اسی لیۓ۔۔ باقی اللّہ کا شکر سب ٹھیک ہے۔۔”
اس نے بال سُلجھا کر پیچھے کمر پر ڈالے۔ ڈھیر سارے ریشمی بال کمر پر پھیل سے گۓ تھے۔۔ ناجیہ نے اسکے بالوں کو دیکھا۔۔ اسکے اپنے بال کبھی اتنے لمبے نہیں تھے۔۔
“اتنی رات میں نہاٸ ہو۔ موسم دیکھا ہے تم نے کتنا سرد ہے۔۔ پھر کہتی ہو زکام ہوگیا ہے۔۔ اپنی حرکتوں سے باز نہ آنا تم۔۔”
وہ اب اُٹھ کر خود کو بڑے سے آٸینے میں دیکھتی اپنا میک اپ درست کررہی تھی۔ امل کے دل میں ہوک سی اُٹھی۔۔ جانے وہ ان سرد راتوں میں کہاں رہا ہوگا۔۔ اور اب کہاں ہوگا۔۔؟
“ارے نہیں سہی ہے موسم۔۔ سارا دن تو مل نہیں رہا تھا ٹاٸم نہانے کا۔ اچھا بی جان کو نہ بتانا کہ نہاٸ ہوں میں بہت ڈانٹتی ہیں مجھے وہ۔۔”
اس نے بہت حد تک خشک ہوچکے بالوں کو یوں ہی کمر پر کُھلا چھوڑا اور سبز دوپٹہ شانوں پر پھیلاتی مڑی۔۔
“کچھ ذرا سا تیار ہی ہو جاٶ۔ لپ اسٹک ہی لگا لو۔۔ شادیاں تمہارے بھاٸ کی ہیں۔ خوشیاں تمہارے گھر کی ہیں اور میری تیاری دیکھو۔ تم سے تو زیادہ میں ان کی بہن لگ رہی ہوں۔۔”
وہ اسکی بات پر ہسنی۔۔
“لو لگا لو لپ اسٹک۔۔”
اس نے اسکے سنگھار میز سے ایک لپ اسٹک اُٹھاٸ اسکا ڈھکّن کھول کر کھلی پنک لپ اسٹک اسکے قریب کی تو اس نے چہرہ پیچھے کرلیا۔۔
“اوں ہوں ناجیہ۔۔ میرا دل بالکل نہیں چاہ رہا۔۔”
“دفع ہوجاٶ امل۔۔”
اس نے آگے بڑھ کر اپنے ہونٹوں پر لپ اسٹک گہری کی۔ امل اسکے پیچھے کھڑی آٸینے میں دیکھتی اپنا دوپٹہ درست کررہی تھی۔ وہ شفون کا دوپٹہ تھا اسی لیۓ بار بار ڈھلک جاتا تھا۔۔
“اب چلو بھی۔۔”
اس نے ناجیہ کی تیاریاں دیکھ کر بیزاری سے کہا تو وہ ڈھٹاٸ سے ہنستی ہوٸ اسکے ساتھ کمرے سے باہر نکلی۔۔ نیچے آکر اس نے سب سے سلام کیا۔۔ لڑکیوں کے ساتھ چند پل بیٹھ کر اُوٹ پٹانگ سے گانوں پر دوچار تالیاں بھی پیٹیں اور پھر کچن کی جانب چلی آٸ۔۔ اسکا دل کسی بھی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔۔ اور اب واقعتاً اسے ولی پر غصّہ آرہا تھا۔ ہاں اسے سچ میں ولی پر غصہ آرہا تھا مگر وہ یکدم چونکی۔۔
کوٸ عادت سی تھی جو واپس آرہی تھی۔ اسے یاد تھا وہ بچپن میں اس پر بہت غصہ کیا کرتی تھی۔ اسے ہمیشہ دوسروں کی باتیں خاموشی سے سننے پر ڈانٹا کرتی تھی۔ اس کے لیۓ اپنی کزنز سے لڑا کرتی تھی مگر اب۔۔
اس نے گہرا سانس لیا۔۔
درمیان میں کھڑے اس چار سال کے عرصے نے اسے اور ولی کو دو پہاڑیوں پر لا کھڑا کیا تھا۔۔ جہاں نہ اب وہ پہلے جیسی رہی تھی اور نہ ولی۔۔
اور یہ ولی۔۔ !
اسے نۓ سرے سے اس پر غصہ آنے لگا۔۔
آخر یہ کونسی بچکانہ حرکت ہے۔ یوں اس طرح گھر سے غاٸب ہونا۔ بھلا کوٸ چھوٹا بچّہ ہے وہ۔۔ کیا نہیں جانتا تھا کہ بی جان، آغا جان اور وہ اسکے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔۔ اس نے گہرا سانس لیکر اندر ابھرتے غصّے کو کم کیا۔۔ مگر بے بسی سے اسے اور غصّہ آرہا تھا۔ اسی پل ناجیہ نے کچن میں جھانکا تو اسے سلیب کے ساتھ کھڑا پایا۔۔
“کمرے سے نکلیں تو کچن میں گُھس گٸیں۔۔ ہوا کیا ہے تمہیں۔۔؟”
وہ اسے دیکھتی کہہ رہی تھی امل نے گہرا سانس لے مسکرانے کی کوشش کی۔ اسے اب ناجیہ کی موجودگی سے اُلجھن ہورہی تھی۔ اسے وہ لوگ نہیں پسند تھے جو بلاوجہ سر پر سروار رہتے تھے۔ مگر پھر بھی اس نے ناجیہ کا ہاتھ پکڑا اور مزید اسکے کسی بھی سوال سے بچنے کے لیۓ اسکے ساتھ کچن سے آکر لاٶنج میں بیٹھ گٸ۔ اسکے آتے ہی۔۔ نگار بیگم اور ارجمند نے ذومعنی سے تاثرات کا تبادلہ کیا جسے امل نے محسوس کر لیا تھا ۔۔ کچھ عجیب تھا یا اسے عجیب لگ رہا تھا وہ سمجھ نہیں سکی۔
نوراں چاۓ لاٸ تو سب چاۓ سے لطف اندوز ہوتے کوٸ پُرانا گیت گانے لگے۔ اسے وہ یاد نہیں تھا سو اپنی چاۓ لیۓ مسکرا کر سب کو دیکھے گٸ۔ اسی پل ولی داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا اور کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کیۓ بغیر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
اسکا کمرہ لاٶنج کی داٸیں طرف ایک جانب بنا تھا ۔۔ جب کے خواتین لاٶنج کے باٸیں طرف بیٹھی تھیں اور ان سب کے رُخ مخالف سمت میں تھے۔ کسی نے اسے نہیں دیکھا تھا بی جان نے بھی نہیں۔۔ مگر امل سامنے کے صوفے پر بیٹھی تھی جسکا رُخ اسکے کمرے کی جانب ہی تھا۔
اسے دیکھ کر وہ پل بھر کے لیۓ ساکت ہوٸ تھی جو اب کمرے کا دروازہ کھولے اندر جارہا تھا۔ اس نے وہی نسواری لباس پہن رکھا تھا جو آخری ملاقات پر امل نے دیکھا تھا۔ وہ بہت لمبے سفر سے آیا ہوا لگتا تھا۔ تھکا ماندہ۔۔ بے بس۔۔
اس نے جلدی سے مسکرا کر خود کو نارمل کیا اور سب کے ساتھ مسکرانے لگی۔ ولی کو دیکھ کر اسے قرار آیا تھا۔ سکون میں آگیا تھا اسکا ہمکتا دل۔۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ وہ اس پر غصّہ نہیں تھی۔۔ وہ اس پر غصّہ تھی اور وہ بھی شدید قسم کا۔۔ یکدم اسے اپنی خفگی یاد آٸ تو اسکے آنے کی خوشی پر غصّہ غالب آنے لگا۔۔ رات کو پیپرز نے نہیں اسے ولی نے جگایا تھا۔۔ بھلا کوٸ ایسے کرتا ہے کسی کے ساتھ۔۔ اور خاص کر اسکے ساتھ جسکے پیپرز ہورہے ہوں۔۔!
اسے ایک ایک کر کے سارے بدلے یاد آہے تھے۔۔ مگر لاٶنج میں روشن زرد قمقموں میں اسکا کِھلتا ہوا مسکراتا چہرہ اب کے دمک رہا تھا۔۔ اور وہ جانتی تھی کہ وہ بنا کسی سنگھار کے بھی دُھلے دُھلاۓ چہرے میں حسین لگ رہی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی نے تھکا سر صوفے کی پُشت سے ٹکایا اور پھر یونہی آنکھیں موندے لیٹا رہا۔ کچھ دیر بعد بالوں میں ہاتھ پھیرتا اُٹھا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔ اس نے تین دن سے یہی کپڑے پہن رکھے تھے۔ اور اب ان سے دُھول کی عجیب سی ہمک اُٹھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد فریش ہوتا وہ سُرمٸ شلوار قمیص میں ملبوس باہر نکلا تو اس کے گیلے بال ماتھے پر پڑے تھے۔۔ نہانے کے بعد جیسے صدیوں کا بوجھ ہٹا تھا اسکے اوپر سے۔۔ خود کو ہلکا پُھلکا محسوس کرتا وہ تولیۓ سے بالوں کو رگڑ رہا تھا جب اسکے کمرے کا دروازہ بجا۔۔ اس نے ہاتھ روکا۔۔
“آجاٸیں۔۔۔”
اسکے کہنے پر سبز سا سراپا اسے دکھاٸ دیا۔ وہ بہت احتیاط سے اسکے کمرے میں داخل ہورہی تھی اور پھر اپنے پیچھے اس نے دروازہ بھی بہت آہستہ سے بند کیا۔۔ وہ سبز جوڑے والی لڑکی کو گنگ سا دیکھ رہا تھا۔۔ سبز رنگ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسکی جلتی روح کو قرار آیا۔۔ مگر پھر اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر اسے تشویش ہوٸ۔۔
“بی بی۔۔ آپ یہاں۔۔۔”
“کوٸ بات مت کریں ولی۔۔ میں بہت زیادہ غصّے میں ہوں آج۔۔”
ایک پل کو اسے لگا وہ پرانی امل کو دیکھ رہا ہے۔۔ اس پر غصہ ہوتی۔۔ چھوٹی سی ناک سکیڑتی امل کو ۔۔
“کہاں تھے آپ۔۔ ؟ تین دن ولی۔۔ تین دن۔۔!!
آپ کو اندازہ بھی ہے کتنے پریشان تھے ہم سب۔ کتنا ڈسٹرب ہوگیا تھا سب کچھ۔ ہم فون کررہے تھے آپکو مگر آپ کا فون بند تھا۔ نہ کوٸ اتا پتا کچھ بھی نہیں۔ کوٸ خیر خیریت نہیں کوٸ پیغام نہیں۔۔ جانتے ہیں دل میں کیسے کیسے خیال آرہے تھے۔ سو سو طرح کے خیالات ڈس رہے تھے ہمیں۔۔ یہ فون۔۔ یہ کس لیۓ ہے۔۔؟ کس لیۓ ایجاد ہوا ہے یہ۔۔ سجانے کے لیۓ۔۔ اسے اس لیۓ ایجاد کیا ہے تاکہ انسان اپنی خیر خیریت گھر والوں کو بتا سکے۔ رابطہ قاٸم رکھ سکے اور آپ محترم تو موباٸل بند کر کے بیٹھے ہوۓ تھے بھلا طریقہ ہوتا ہے کوٸ۔۔۔”
وہ ایک ہی سانس میں بے دریغ بولے گٸ۔ وہ کتنا پریشان ہوٸ تھی اسکے لیۓ۔۔ اسکا دل ہر آن سو طرح کے وسوسوں کا شکار رہا تھا۔ اور یہ جناب۔۔ اسے اس پر سہی والا غصّہ چڑھا۔۔
“مگر بی بی میں نے شاہ نواز کو کہا تھا کہ میں دو تین دن بعد آٶنگا۔۔”
اسکے معصوم سے جواب پر امل کے کانوں سے دُھواں نکلنے لگا۔
“اچھا۔ اور ہم کیوں یقین کرنے لگے اس پراۓ آدمی پر۔ ہمیں بتانے کے بجاۓ اسے فون کرکے کہہ دیا آپ نے اور مزے سے غاٸب ہوگۓ۔۔ ادھر بی جان نے دروازے کے آگے ٹہل ٹہل کر پیر شل کرلیۓ تھے اپنے۔۔ آغا جان الگ ساری رات جاگتے رہے اور میں۔۔ خدایا میرا تو کسی کو خیال ہی نہیں ہے۔ میرا پیپر سارا خراب ہوا ہے اور وجہ صرف اور صرف آپ ہیں ولی۔۔”
تمتماتے سُرخ چہرے کے ساتھ بولتی وہ کوٸ امر ہوٸ شہزادی لگتی تھی جو اپنے غلام پر برس رہی تھی۔۔
اسکی شہد رنگ آنکھوں میں بلا کی ناراضگی تھی اور فکر بھی۔۔ ولی ان نگاہوں سے پگھلنے لگا۔۔ وہ اس سب کا عادی نہیں ہونا چاہتا تھا۔۔ کبھی نہیں۔۔ مگر وہ کیا کرتا۔۔ کوٸ بہت جاندار کشش تھی جو اسے امل کی جانب کھینچ رہی تھی۔۔ اور وہ خود کو روک نہیں پارہا تھا۔۔چند پل اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہنا چاہیۓ۔۔
“تو یہ طے ہے کہ آپ صرف تب ہی بولیں گی جب آپ کو غصہ آۓ گا۔۔”
اس نے آہستہ سے کہا تو امل چند پل کچھ بول ہی نہ سکی۔
” خیر آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں بی بی مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آٸ۔۔”
اسکی ناسمجھی پر امل نے اسے دیکھا۔۔ خفا وہ اب بھی تھی اس سے۔۔ اور جس حق سے وہ خفا ہورہی تھی ناں۔۔ ولی کو بہت کچھ بگڑتا نظر آرہا تھا۔۔
“کیا۔۔۔؟”
“یہ میری غیر موجودگی سے آپ کا پیپر کیوں متاثر ہوا۔۔؟”
اف۔۔ امل نے اسکے مسکراہٹ دباتے استفسار پر کھول کر اسے دیکھا۔۔
“کیونکہ میں ساری رات۔۔۔”
اور بولتے بولتے وہ بے اختیار رُکی۔۔ ولی نے آنکھیں سُکیڑ کر اسکا چہرہ دیکھا۔۔
“کیونکہ ساری رات آپ کیا۔۔۔؟”
“میں۔۔۔ میں ٹھیک سے سو نہیں پاٸ۔۔”
جی کڑا کر کہا۔۔
“کیوں۔۔۔؟”
اب کے اسکے چہرے پر واضح ناسمجھی تھی۔۔ امل نے خود کو مزید طیش میں آنے سے روکا تھا۔۔
“کیونکہ بی جان اور آغا جان آپکی وجہ سے پریشان تھے اور مجھ سے انکی پریشانی دیکھی نہیں جارہی تھی۔ اسی لیۓ آپکی وجہ سے میری رات کی نیند ڈسٹرب ہوٸ اور پھر علی الصبح کا پیپر بھی۔۔ “
اوہ۔۔۔ اسے اسکے پیپر پر واقعتاً افسوس ہوا تھا۔۔ اسکی پیشانی پر گرے بال اب ہلکے ہلکے سُوکھنے لگے تھے مگر وہ بکھرے بالوں سے بے نیاز کھڑا اسکی تفتیش کا جواب دے رہا تھا۔۔ امل نے بے ساختہ اس سے نظر چُراٸ۔۔
“کہاں رہے آپ تین دن۔۔؟”
سنبھل کر پُوچھا تو اس نے ہاتھ میں پکڑا تولیہ بیڈ پر ڈال دیا۔۔
“بس یہیں سڑکوں پر تھا۔۔”
“سڑکوں پر۔۔۔”
وہ بھونچکی رہ گٸ۔۔
” ٹھنڈ دیکھی ہے باہر کتنی ہورہی ہے اور آپ انتہاٸ سمجھداری کے ساتھ اتنی سرد راتوں میں سڑکوں پر تھے۔۔ اف ہے ولی اف۔۔ یعنی کے اب آپکو بھی سمجھانا پڑے گا۔ جیسے چھوٹے بچوں کو سمجھاتے ہیں۔ کیا ہوگیا ہے آپکو ہاں۔۔؟! کیوں اس طرح کرکے ہمیں تکلیف دے رہے ہیں آپ۔۔ اتنے ارزاں نہیں ہیں۔۔ آپکو ندازہ بھی نہیں ہے کہ آپ اس گھر میں بستے کتنے لوگوں کی زندگیوں سے وابسطہ ہیں۔۔ کچھ نہیں پتہ ہے آپکو۔۔”
اسکی آخری بات پر ولی نے چہرہ اُٹھایا۔۔
“کتنے لوگوں سے وابسطہ ہوں میں۔۔؟”
یہ سوال اس نے بہت زخمی دل سے کیا تھا۔ اسکی جگمگاتی آنکھوں میں دیکھ کر۔۔ امل کا دل تیزی سے دھڑکا۔۔ نسواری آنکھیں اس پر جماۓ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
“بی جان، آغا جان اور میں۔۔ ہم سب سے وابسطہ ہیں آپ۔۔ ہم سب کی زندگیاں ادھوری ہیں آپ کے بغیر۔۔ ان تین دنوں کی غیر موجودگی گواہ ہے کہ نہ بی جان چین سے سوٸیں اور نہ آغا جان۔۔ اب بھی اگر آپکو لگتا ہے کہ کوٸ آپ کا نہیں۔ کوٸ آپکی فکر نہیں کرتا۔۔ کوٸ آپ سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا تو ولی پھر آپ کو کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ جو ہوگیا تھا بس ہوگیا۔۔ کہانی ختم۔۔ سب بہت تکلیف دہ تھا مانتی ہوں میں۔۔ آپکے لیۓ کچھ بھی آسان نہیں تھا مگر ولی۔۔”
وہ چند قدم چل کر قریب آٸ۔۔
“اب بس۔۔ اب بہت اذیت دے دی آپ نے خود کو۔ اب بہت ہوگیا ولی۔ اب بس کردیں۔ کب تک ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے رہیں گے آپ۔۔؟ کب تک آخر آپ ان تلخ باتوں کو یاد کر کر کے خود کو عذاب میں ڈالیں گے۔۔؟ کیا اس کہانی کا کوٸ اختتام نہیں ہے۔۔؟ کوٸ تو اختتام ہوگا ولی۔۔ کہیں تو دروازہ ہوگا۔۔ خدارا بند کردیں اس دروازے کو بھی خود پر۔۔ آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ بے قصور ہیں آپ۔”
اسکی آنکھیں بولتے بولتے نم ہوٸیں اور ولی کی سُنتے سُنتے۔اسکی جلتی روح پر کوٸ نرم سی بارش برس رہی تھی۔۔ اور وہ بارش امل کے الفاظ تھے۔۔ جن میں وہ کھڑا بھیگ رہا تھا۔۔ ساری دنیا اسے قصوروار کہتی تھی۔ اسکے ماں باپ کے کیۓ کی سزا اسے سُناتی تھی۔۔ مگر امل۔۔ امل اتنی ہی درشتی سے ان ساری خرافات پر لعنت بھیج دیتی تھی۔ اور ولی کو اس طرح اسکا پرواہ کرنا بہت مہنگا پڑتا تھا۔
“معافی چاہتا ہوں آپ سب کی تکلیف کا باعث بنا۔۔”
اس نے اداسی سے مسکرا کر کہا تو امل کے دل کو کچھ ہوا۔۔ اسکا دل ولی کے لیۓ بے تاب ہونے لگا تھا۔۔
“آپ اپنا جب تک خیال نہیں رکھیں گے کوٸ معافی قابلِ قبول نہیں۔۔”
وہ اسکے یوں گھیرنے پر ہنسا تھا۔۔
“میں وعدہ نہیں کرتا۔۔ ہاں کوشش کرسکتا ہوں۔۔”
“لیکن مجھے تو وعدہ ہی چاہیۓ۔۔”
بہت مان سے کہتی وہ اسے آزماٸش میں ڈال رہی تھی۔۔ اسکا دل ڈول سا گیا۔۔
“اوکے۔۔۔”
اس نے ہاتھ اُٹھاۓ۔۔
“میں وعدہ کرتا ہوں”
“ایسے نہیں۔۔ میرے پیچھے دہراٸیں۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔”
کہہ کر وہ اسے دیکھنے لگی تو وہ جلدی سے بولا۔۔
“میں وعدہ کرتا ہوں۔۔”
“کہ کبھی بھی “
“کہ کبھی بھی۔۔”
“خود کے ساتھ لاپرواہی نہیں کرونگا۔۔”
اس کے کہنے پر اس نے دہرایا۔
“اور امل بی بی کی۔۔۔”
اب کہ وہ مسکراٸ تھی۔۔ ولی نے اسے ناسمجھی سے دیکھا۔
“اور امل بی بی کی۔۔”
دھیرے سے دُہرایا۔۔
“ہر بات مانونگا۔۔۔”
وہ پوری طرح کھل کر مسکراٸ تھی۔۔ کاش کے ولی اسے اپنا دل کھول کر دکھا سکتا کہ وہ تو پہلے ہی اسکی کسی بات سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔۔
“ہر بات مانونگا۔۔۔” اسکے دل پر لگے زخم پانی بن کر بہنے لگے۔۔ وہ اسکی محبت سے پانی پانی ہونے لگا تھا۔
“آپ اچھے بچے ہیں بس کسی کو آپ سے ٹھیک طرح ڈِیل نہیں کرنا آتا۔ مجھے لوگ آکر کہتے ہیں کہ یہ اتنا کرخت سا بندہ کون ہے آخر۔۔ کیا اسے مسکرانا نہیں آتا۔۔ اسکا چہرہ کیوں ہر دم اتنا سپاٹ رہتا ہے۔۔ تو جانتے ہیں میں اُنہیں کیا کہتی ہوں۔۔؟”
وہ جو ساکت ہوا اسکی بات سن رہا تھا آخری استفسار پر میکانکی انداز میں سر ہلایا تو امل اداسی سے مسکراٸ۔۔ لان میں کھلتی کھڑکی کا پٹ وا تھا اور اس سے اندر کو گرتی ہوا جالی دار پردے کو پھڑپھڑا رہی تھی۔۔
“میں ان سے کہتی ہوں کہ اس بندے نے بہت کوشش کی تھی مسکرا کر زندگی گزارنے کی مگر۔۔”
اسکی نگاہ نے جالی دار پردے سے ولی تک سفر کیا۔۔
“مگر کسی نے اسے مسکراتا ہوا رہنے ہی نہیں دیا۔۔”
وہ چند لمحے اسے دیکھے گیا۔۔ اسکی نگاہوں میں حیرت تھی۔۔ بے پناہ حیرت۔۔
“مگر میں تو واقعی ایسا ہی ہوں جیسا وہ لوگ کہتے ہیں۔۔”
اس نے شانے اُچکاتے ہوۓ مسکرا کر کہا تو امل کے چہرے پر تلخی بکھر گٸ۔۔
“آپ ایسے نہیں ہیں ولی۔۔ آپ کو ایسا بننا پڑا ہے۔۔ آپ سخت نہیں تھے آپکو ہونا پڑا۔۔ اس جگہ سانس لینے کے لیۓ آپکو ایسا کرنا ہی تھا۔ مگر میں نے بہت دفعہ اس خول کو چٹختے دیکھا ہے۔۔ میں نے بارہا اس چٹان میں دراڑیں محسوس کی ہیں۔۔”
“آپ کی نوازش ہے بی بی یہ۔۔ لیکن جہاں تک مجھے لگتا ہے ان لوگوں کا تبصرہ بالکل جاٸز ہے۔ وہ غلط نہیں کہتے۔ میں ایسا ہی ہوں۔ اتنا ہی کرخت۔۔”
“تو پھر ایک بات بتاٸیں آپ۔۔”
امل نے دلچسپی سے اسے دیکھا وہ اب بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کررہا تھا۔
“پوچھیں۔۔”
“آپ کبھی میرے ساتھ سختی کیوں نہیں برتتے۔۔؟”
اسکا بالوں میں چلتا ہاتھ رکا۔۔ چہرہ جو اس نے شیشے کی جانب موڑ رکھا تھا اسکی طرف گھمایا۔۔
“ایسا نہیں ہے۔۔ بس آپ نے کبھی کوٸ ایسی بات ہی نہیں کی جس پر میں سختی سے پیش آتا۔ آپ کا رویہ، آپکا طریقہ کار، آپ کا انداز بالکل بھی نازیبہ نہیں۔ اس میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس پر میں آپکے ساتھ رکھاٸ سے پیش آٶں۔۔”
اس نے بہت سبھاٶ بہت آرام سے اسکی غلط فہمی دورکی مگر امل کو تو گویا جھٹکا لگا تھا۔ کیا وہ اس کے لیۓ سب جیسی تھی۔۔؟ ابھی تک جو اس نے اسکے ساتھ رویہ نرم رکھا تھا تو کیا وجہ یہ تھی کہ اس نے کبھی ولی کو موقع ہی نہیں دیا تھا سختی کا۔۔ کیا بس یہی ایک وجہ تھی۔۔
“تو۔۔ اگر میں۔۔ آپکے ساتھ اچھے طریقے سے پیش نہ آٸ تو ۔۔ کیا کرینگے آپ۔۔؟”
اس نے شہد رنگ آنکھیں پوری کھول رکھی تھیں۔۔
“تو میں بھی آپ کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرونگا جیسا ہر ایک کے ساتھ کرتا ہوں۔۔”
جواباً اس نے بہت سنجیدگی سے کہا تو امل کا سارا مان قدموں میں ڈھے گیا۔ کیا وہ اکیلی اس سفر پر چل نکلی تھی۔۔؟ کیا ولی کو اس سے محبت نہیں تھی۔۔؟ کیا واقعی۔۔۔ وہ تو اسے قصور وار بھی نہیں ٹہرا سکتی تھی کیونکہ اس نے تو کبھی ایسا اظہار کیا ہی نہیں تھا۔۔ اسکے اندر بہت سے آنسو ایک ساتھ گرے۔۔
“مجھے لگا تھا کہ میں آپ کے لیۓ خاص ہوں۔۔”
اس نے ڈبڈباٸ آنکھوں سے اسے دیکھا تھا وہ اسکی ناسمجھی پر کندھے جھٹک کر مسکرایا۔
“غلط فہمی ہے آپکی۔۔ میں معافی چاہتا ہوں اگر میرے کسی بھی عمل سے آپ اس قسم کی غلط فہمی کا شکار ہوٸ ہیں۔۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے کبھی بھی آپکو ایسا کوٸ تاثر نہیں دیا۔۔”
اس کی بہت آرام دہ سی وضاحت پر امل کو اپنے سر پر چھت گھومتی محسوس ہوٸ۔۔ تو کیا اب تک وہ صرف غلط فہمی کا شکار تھی۔۔ اوہ خدا۔۔!!
“آپ اپنے رونے کا شوق یہاں سے باہر جاکر پورا کر سکتی ہیں۔۔ میں پہلے ہی تھکا ہوا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔”
اور اب کے اسکے چہرے پر مسکراہٹ کی ایک رمق بھی نہیں تھی۔ امل کی ڈبڈباٸ آنکھوں کو بیزاری سے دیکھ کر کہتا وہ اسے ایک دم ہی بہت سے دکھ دے گیا تھا۔ اس نے بے دردی سے بھیگی آنکھیں رگڑیں اور لب سختی سے بھینچ کر اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھا۔
“ٹھیک ہے میں بھی اب آپ کے ساتھ ویسے ہی پیش آٶنگی جیسے مجھے آنا چاہیۓ۔ کیونکہ آپ تو ہیں ہی ایسے۔۔ اتنے ہی بے رحم اور پتّھر۔ تو رہیں اس زندان میں ساری زندگی اور بھاڑ میں جاٸیں آپ۔۔”
یکدم طیش میں آکر وہ مڑی اور “ٹھاہ” کی آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ ولی نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیا۔۔ کھلی کھڑکی کے اس پار کان لگاۓ سُنتی ناجیہ نے مسکراتے ہوۓ کھڑکی کی دیوار سے سر ہٹایا اور اندر حویلی کی جانب بڑھی۔
ولی نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پٹ بند کیۓ اور پھر دور جاتی سامیہ کو شیشے میں دیکھا۔۔ قطرہ قطرہ پگھلتی رات اب حویلی پر گر کر سرکنے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
لاٶنج میں پھیلا رنگ و بو کا سیلاب ذرا تھما اور سب اپنے گھروں کو جانے لگے تو ولی اپنے کمرے سے نکل آیا۔ زمان اور بی جان نگار بیگم کے ساتھ لاٶنج ہی میں بیٹھے تھے اور ساتھ ناجیہ اور ارجمند مخالف صوفے پر۔ اس نے آس پاس نگاہ دوڑاٸ کہ کہیں سے تو امل کو دیکھ سکے مگر وہ اس وقت لاٶنج میں نہیں تھی۔ وہ سنجیدگی سے چلتا باہر کی جانب بڑھنے لگا تو بی جان کی نگاہ سے بچ نہ پایا۔ ان کی نظر اس پر پڑ چکی تھی اور انہوں نے بے ساختہ اسے پکار کر روک بھی لیا تھا۔ وہ جو داخلی دروازے سے باہر نکل ہی رہا تھا یکدم ٹھہر گیا۔ سب نے ایک ساتھ نظریں پھیر کر اسے دیکھا۔ ولی نے بادل نخواستہ مڑکر انہیں دیکھا اور پاس چلا آیا۔ نگار بیگم کے کڑے تیور اور ارجمند کی تنفر بھری نگاہ۔۔ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں تھا۔۔
“اسّلام علیکم۔۔”
وہ پاس چلا آیا۔۔ زمان اسے دیکھ کر سیدھے ہو بیٹھے تھے۔ اسے تین دنوں بعد دیکھا تھا۔ وہ انہیں معمول سے کمزور لگا۔ البتّہ انکے برعکس بی جان اسے دیکھ کر نہال ہی ہوگٸ تھیں۔
“ولی بیٹا کب آۓ تم۔۔؟ “
وہ اسے دیکھتیں فکر مندی بھری مسکراہٹ سے پوچھ رہی تھیں۔ اسکے چہرے پر نرم سا تاثر پھیل گیا البتّہ تبسم اب بھی مفقود تھا۔۔ وہ ہر وقت ہنسنے مسکرانے والا بندہ تھا ہی نہیں۔۔
“بس ابھی آیا ہوں تھوڑی دیر پہلے بی جان۔ کیسی ہیں آپ۔۔؟”
وہ وہیں کھڑا کھڑا انکا حال احوال لینے لگا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔ لیکن تم کہاں چلے گۓ تھے۔۔ “
ان کی بات پر لاٶنج میں بیٹھیں خواتین نے یکدم چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ آغا جان نے انکا چونکنا سرعت سے محسوس کیا تو جلدی سے بولے۔۔
“ارے زمانی بھول گٸیں کیا۔۔ ولی کو میں نے اپنے کام ہی سے بھیجا تھا۔ اور کام میں تو دو تین دن لگ ہی جاتے ہیں۔ بیٹا جاٶ ولی تم جہاں جا رہے تھے۔۔اور ہاں کھانا کھایا۔۔؟”
جلدی سے بات سمیٹ کر انہوں نے اس سے سوال کیا تو اس نے سر ہلایا۔
“جی میں کھانا کھا چکا ہوں سردار بابا۔۔”
اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ اسی سمے امل سامنے سے آٸ۔ وہ نوراں کے ساتھ لان میں تھی اور اسی کے ساتھ اندر داخل ہورہی تھی۔ اسے ایک پل کو دیکھا اور تنے نقوش لیۓ آگے بڑھ گٸ۔ ولی نے گہرا سانس لے کر قدم آگے بڑھاۓ۔
“زمان تم اس پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرنے لگے ہو۔ بختیار ہے نثار ہے۔۔ اور ہاشم بھی تو ہے۔ اتنے سارے بیٹے ہیں تمہارے بلاوجہ اسکے ہاتھ میں اتنے اختیارات دے کر اپنے ہاتھ مت کاٹو۔ کیونکہ لہو جیسا بھی ہو اپنا رنگ ضرور دکھاتا ہے۔۔”
نگار بیگم نے اسکے جانے کا انتظار بھی نہیں کیا تھا اور کرّوفر کے ساتھ بلند آواز سے کہا۔ اتنی آواز سے کہ باہر نکلتے ولی نے بآسانی سن لیا۔ مگر اسے اب ان باتوں سے کوٸ فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس نے ایک نگاہ پلٹ کر دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔ امل بھی اب ناجیہ کے ساتھ صوفے پر ہی آ بیٹھی تھی اور لاٶنج کی مدھم زرد بتیاں روشن تھیں۔۔
“نہیں بھابھی ولی بہت ایماندار اور اچھا بچہ ہے۔ کبھی معاملات میں ہیر پھیر نہیں کی اس نے۔ میں نے عرصے تک پلاٹنگ اور زمینوں کا کام سنبھالا ہے اور مجھے اس کام کا تجربہ بخوبی ہے۔ اگر اس میں ذرا سا بھی کھوٹ ہوتا یا معاملات کا ہیر پھیر تو مجھے جاننے میں بالکل وقت نہیں لگتا۔۔”
انہوں نے بہت تحمّل سے انکی بات کا جواب دیا تھا جو کہ نگار کو بالکل بھی پسند نہیں آیا۔۔ انکے چہرے پر کڑواہٹ پھیل گٸ تھی۔۔
“خیر تمہارا ہی ظرف ہے زمان جو اتنا سر چڑھا رکھا ہے تم نے ایک ملازم کو۔ میں اور حسین تو کبھی ایسی بد احتیاطی نہ کریں اور وہ بھی ایسے لڑکے کے ساتھ جسکا خمیر ہی گند سے اُٹھا ہو۔۔”
نگار بیگم کی زبان تیکھے جملوں سے باز آجاتی یہ ذرا مشکل بلکہ ناممکن تھا۔ اسی لیۓ زمان اب کی بار خاموش رہے۔۔ انہیں خاندان والوں کے ولی کے لیۓ خیالات کا علم اچھے سے تھا سو زیادہ بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔۔ مگر امل۔۔ ہاں وہ اسکے ایسے ذکر پر افسردہ ہوگٸ تھی۔ بھلے ہی وہ اس سے ناراض تھی مگر کوٸ اسکے لیۓ یوں زہر اُگلتا تو اسکا دل کٹتا تھا۔۔
“چوڑیں بھابھی آپ بھی کن باتوں میں لگ گٸ ہیں۔۔ یہ بتاٸیں کہ میری دونوں بیٹیاں کیسی ہیں۔۔؟”
بختیار اور نثار دونوں کا رشتہ حسین کی دونوں بیٹیوں سے کیا گیا تھا۔ اسی لیۓ بی جان نے بات پلٹ کر انکا پوچھا۔ نگار مسکراتے ہوۓ بتانے لگیں۔۔
“ارے کیا بتاٶں زمانی۔ سارا دن میرے گُھٹنے سے لگی رہتی ہیں کہ امّاں آپ کو چھوڑ کر ہم نے نہیں جانا۔ بہت خدمت کرتی ہیں میری بچیاں بہت خدمت گزار ہیں۔۔”
حسبِ عادت وہ اپنی بیٹیوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگیں تو امل کو بیزاریت ہوٸ۔ پتہ نہیں کون ماٸیں ہوتی ہیں جو اپنی اولادوں کی اس طرح تعریفیں کرتے نہیں تھکتیں۔ ہماری ماں تو ہمیں نرمی سے دیکھ ہی لے تو انکا احسان ہوتا ہے۔
اس نے سوچ کر خفگی سے بی جان کو دیکھا جو کبھی اسکی تعریف نہیں کیا کرتی تھیں۔ ناجیہ کے ٹہوکا دینے پر وہ چونکی۔۔
“پیپر کیسا ہوا تمہارا صبح کا۔۔؟”
“ٹھیک تھا۔۔ تمہارا۔۔”
اس نے بھی بات براۓ بات کی حالانکہ دل تو اب تک ولی کی سرد مہری میں اٹکا تھا۔۔
“میرا بھی بس ٹھیک ہی تھا۔۔ اچھا سنو۔۔ یار ذرا ولی سے کہہ کر اسکا نمبر تو لے دو مجھے۔۔”
وہ دونوں اتنی آواز میں بات کررہی تھیں کہ صرف وہی سن سکیں۔ مگر پھر بھی امل نے اس کی بات پر اسے بے یقینی سے دیکھا تھا۔۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔؟”
اس نے ایک نظر سامنے بیٹھی نگار کو دیکھ کر دبے دبے سے غصّے میں کہا تو ناجیہ نے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھا۔۔
“میں جانتی ہوں کہ تم یہ کام کرلوگی۔ مگر کرو گی کیوں تم خود جو اسے پسند کرتی ہو۔۔”
اس نے اتنی کڑواہٹ سے کہا تھا کہ امل بھونچکی رہ گٸ۔ تو کیا اب اسکے دل کے احوال اسکے چہرے پر رقم ہونے لگے تھے۔۔؟ کیا اب یہ سب اسکے چہرے سے جھلکتا تھا۔۔؟ اوہ خدا۔ اسے سچ میں پریشانی نے گھیرا تھا۔۔ ناجیہ سے کسی بھی بات کی امید کی جاسکتی تھی۔۔ اور اگر یہ بات نگار تاٸ کے کان میں چلی گٸ تو۔۔ یا خدا۔ وہ تو کہیں کی نہیں رہے گی۔۔ آج پتہ نہیں کون سا دن تھا جو اسے یوں اس طرح سے جھٹکے مل رہے تھے۔۔! پہلے ولی اوراب یہ ناجیہ۔۔
“ایسی کوٸ بات نہیں ہے ناجیہ۔ تم اپنی طرف کے اندازے اپنے پاس رکھو۔ اور پلیز آٸندہ اس طرح کی بات مت کرنا۔۔”
اسکا دل اچانک ہی بہت تیز دھڑکنے لگا تھا۔۔ ناجیہ نے تلخی سے سر جھٹکا۔۔
“اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو تمہاری اس سے بات ہے۔ مجھے اسکا نمبر لے کردو پھر میں سمجھونگی کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔”
چیلنج کرتی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا تو امل کا دل چاہا اسکی طبیعت صاف کردے مگر پھر صبر کا گھونٹ پی کر رہ گٸ۔
“میں ایسا کچھ نہیں کرسکتی سوری۔۔ اگر تمہیں اس سے نمبر چاہیۓ تو خود ہی مانگ لو۔ یقیناً اگر وہ بھی تمہیں پسند کرتا ہوگا تو تمہیں اپنا نمبر دینے میں ہرگز بھی دیر نہیں کرے گا۔۔”
اب مسکرانے کی باری امل کی تھی۔۔ کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ ولی کو ناجیہ میں کوٸ دلچسپی نہیں تھی۔۔
“تم جانتی ہو کہ وہ ایسا نہیں کرے گا”
اسکی مسکراہٹ غاٸب ہوٸ۔۔
“تو پھر اس قصّے کو بھول جاٶ۔ وہ ولی ہے۔ جتنی درشتی سے تم کو ڈِیل کرتا ہے اسی طرح لیادیا سا سب کے ساتھ رہتا ہے۔ میں کوٸ خاص نہیں ہوں اسکے لیۓ۔۔”
یہ کہتے ہوۓ اسکا دل ایک پل کے لیۓ ڈوبا تھا مگر وہ سنبھل گٸ۔۔
“جو بات کرنی ہے اس سے خود کرو مجھے اس سب میں مت گھسیٹو۔ تم اسے پسند کرتی ہو۔ میں نہیں۔۔”
بہت آرام سے اس نے اس پر واضح کردیا تھا مگر ناجیہ اتنی آسانی سے ماننے والی نہیں تھی۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ نمبر میں اس سے خود ہی مانگ لونگی بس تم میرے ساتھ رہنا۔۔ پلیز دیکھو اس سے انکار مت کرنا۔۔”
اس نے جان چُھڑانے کے لیۓ بیزاریت سے ہامی بھری اور لاٶنج میں ہی جم کر بیٹھی رہی۔ کیونکہ ان کے یہاں بڑوں کے درمیان سے اُٹھ کر جانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“وہ یہاں کیوں آیا تھا بابا۔۔؟”
بلند چمکتی حویلی کی ساری بتیاں روشن تھیں اور ملازمین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر۔۔ سو وہ آرام سے پُرتعیش لاٶنج میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ایسے کہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بارعب قسم کے حسین ایک جانب اور مضطرب سا آگے کو ہوکر بیٹھا ہاشم انکے بالمقابل۔۔!
“اسے میں نے ہی بُلایا تھا۔۔”
ان کے مختصر سے جواب پر اسے طیش آیا۔۔ ذرا اور آگے کو ہوکر بیٹھا۔۔ اسکے اندر کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔۔۔
“اس گھر میں اسے مت بُلایا کریں آپ۔۔ یہ میری ماں بہنوں کا گھر ہے اور اس گھر کے کچھ اُصول ہیں۔۔ اپنے اعمال کے نتاٸج کو یہاں کی دعوت مت دیا کریں۔۔”
اسکی آواز غصّے سے بلند ہوٸ تو حسین نے اسے ناگواری سے دیکھا۔۔ زرد روشنیوں سے ذرا کنارے پر بیٹھا حسین آدھا روشنی میں تھا اور آدھا اندھیرے میں۔۔ ایسے کہ اسکے چہرے کے تاثرات واضح نہ تھے مگر وہ بنا دیکھے اس کے ہر رخ سے واقف تھا۔۔
“یہ گھر میرا ہے ہاشم اور اسکے یہ اصول بھی میں نے ہی بناۓ ہیں۔ تو اس میں تمہارے اعتراض کی گنجاٸش کہیں بھی باقی نہیں رہ جاتی۔”
اسکے ٹھنڈے سے جواب پر ہاشم کو اپنا وجود تپتا محسوس ہوا۔۔
“لیکن اسے آٸندہ یہاں مت بلواٸیے گا۔۔ یہ میری آپکو پہلی اور آخری وارننگ ہے۔ اور اگر۔۔ اگر آپ نے اسکے خلاف جانے کی کوشش کی تو اسکی لاش گاٶں کے کتّوں کو بھی نہیں ملے گی۔۔”
کسرتی جسم والا ہاشم چبا چبا کر بولتا اُٹھا تو حسین نے بس اسے ذرا سی گردن اونچی کر کے دیکھا۔۔
“تم ولی کے مقابلے پر نہیں ہو ہاشم۔ بھلے ہی تم اس سے عمر میں بڑے ہو۔ مگر تمہارا اور اسکا کوٸ مقابلہ نہیں ہے۔ اگر تم قتل کرنا جانتے ہو تو زمانے بھر کے کتّوں سے اسکا بھی واسطہ پڑتا ہے۔ اپنی پوزیشن اور اپنی استطاعت دیکھ کر حملہ کرنا۔۔ کسی بھی قسم کے نقصان کی صورت میں ذمّے دار میں ہرگز نہیں ہونگا۔۔”
“ذمّے دار۔۔۔”
وہ جیسے نفرت سے مسکرایا تھا۔۔
“اس سارے گند کا زمّے دار آپ کے علاوہ اور ہے کون۔۔؟ اس سارے حالات کے ذمّے دار آپ ہیں۔ جو کچھ آپ نے کیا وہ کہیں غاٸب نہیں ہوا۔ وہیں رہ گیا ہے۔۔ ہر جُرم کے نشان رہ جاتے ہیں۔ کچھ بھی نہیں مٹتا یہاں تک کہ الفاظ بھی فضا میں ساکن رہ جاتے ہیں۔ جیسے ہی کوٸ وہاں ذرا سی بھی باریک بینی سے دیکھتا ہے اسے اس جرم کے نشان نظر آنے لگتے ہیں۔ اپنے تٸیں آپ بہت بڑے کھلاڑی ہیں مگر۔۔”
وہ رُکا تو ساری حویلی زرد روشنیوں میں کھڑی کسی قدیم سحر کے زیرِ اثر لگی۔۔
“مگر ہر کھلاڑی کہیں نا کہیں چُوک ہی جاتا ہے۔ آپ نے اسے مسجد کے باہر ڈلوایا اورسمجھ لیا کہ اسے تو کتّے کھا گۓ ہونگے مگر بابا۔۔”
اسکی کنپٹی کی رگ اُبھری تھی۔۔
” وہ زندہ بچ گیا۔ اور آج بھی ہماری نظروں کے سامنے گُھومتا پھرتا وہ ہمارے چہروں پر زوردار طمانچہ ہے۔۔”
اس سب کے بعد وہ رُکا نہیں آگے بڑھ گیا مگر نیم اندھیرے میں بیٹھا حسین کا چہرہ پہلے والا نہ تھا۔۔ اس اندھیرے سے کہیں زیادہ اندھیرا اسکے چہرے پر بخوبی دیکھا جاسکتا تھا۔۔
۔۔۔
