Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 9) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 9) Part - 1
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
تنگ و تاریک کباڑ خانے میں خون اور ٹھنڈے گوشت کی عجب سی بُو پھیلی ہوٸ تھی۔ یکا یک بے سُدھ پڑا کتا اپنے کٹے گلے کی پرواہ کٸے بنا اُٹھا اور دیوار سے لگے لڑکے کی جانب بڑھنے لگا۔۔ اس کا خون گردن سے ٹپ ٹپ ٹپک رہا تھا۔۔ لڑکا ساکت ہوا پھیلی پھیلی آنکھوں سے کتے کو خود کی جانب بڑھتے ہوۓ دیکھتا رہا۔۔ یک دم کتے نے جست لگا کر اس پر حملہ کیا اور۔۔۔
وہ ہڑ بڑا کر اُٹھا۔۔ اسکا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا گویا ابھی باہر آ گرے گا۔۔ اس نے اپنی پیشانی پر جمے پسینے کو آستین سے صاف کیا۔ اور پھر چونک کر آس پاس دیکھا۔ کمرہ لیمپ کی مدھم روشنی میں نیم تاریک لگ رہا تھا۔۔۔ سکون میں ڈوبا۔۔ خاموش۔۔ اوہ۔۔ اس کے لبوں سے سانس خارج ہوٸ۔۔ “خواب تھا۔۔ ہاں۔۔ بس خواب۔۔” بڑبڑاتا ہوا کمبل خود پر سے ہٹا کر وہ بستر سے باہر نکلا اور چند پل یونہی پیر لٹکاۓ بیٹھا رہا۔ یہ خواب۔۔۔ یہ خواب اب اس کی زندگی کا حصّہ بن چکے تھے۔۔ اور اس کتے کو جسے اس نے مار دیا تھا۔۔ اسے تو وہ اکثر اپنے خوابوں میں دیکھا کرتا تھا۔ کبھی حسین کو دیکھتا۔۔ جو اس پر جُھکا پوری قوت سے اسکا گلا دبا رہا ہوتا۔۔ کبھی وہ سیاہ سُرنگ اس کے ذہن میں آجاتی جس میں اس نے بہت سی راتیں گزاری تھیں۔۔۔ سر جھٹک کر سوچوں سے ذہن کو آزاد کرتا وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد باہر نکلا تو اب کے چہرہ دُھلا ہوا تھا ہاتھ کہنیوں تک گیلے تھے اور ماتھے پر نم بال پڑے تھے۔۔ اس نے سر ذرا ہلایا تو نم بال لہراۓ۔۔ ان سے بہت سے قطرے گِرے۔۔ پھر اس نے تولیے سے چہرہ اور بال خشک کر کے انہیں ہاتھوں کی کنگھی سے پیچھے کیا۔ اور دیوار پر لگی گھڑی میں وقت دیکھتا لیمپ کی جانب آیا۔۔ ساڑھے تین بج رہے تھے۔۔ تولیہ پھیلا کر صوفے کی پشت پر ڈالا اور جاۓ نماز بچھاتا اس پر کھڑا ہوا۔۔ وہ اوپر والے سے شکوہ نہیں کرتا تھا تو اس سے دعا مانگنے سے بھی گریز کرتا تھا۔ اس کا ابھی اس سے ایسا تعلق تھا ہی نہیں کہ جس میں وہ اس سے لمبی لمبی دعاٸیں کرتا شکوے کرتا۔۔ اس کا بس اس سے اتنا ہی تعلق تھا۔۔ کہ نماز پڑھ لی یا پھر دوسرے لوگوں سے اس کا ذکر سُن لیا۔۔ بس۔۔ اس نے کبھی اس کی جانب بڑھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔ وہ اس کے لیۓ اجنبی اجنبی سا تھا۔۔ ایک عقیدے کی طرح کہ بس وہ ہے۔۔ اس کے پاس کیسے جایا جاتا ہے۔۔ اس سے بات کیسے کی جاتی ہے۔۔ اس سے شکوے کیسے کیۓ جاتے ہیں اسے یہ سب نہیں آتا تھا۔۔ اور نہ اس نے جاننے کی کوشش کی تھی۔۔
امل کبھی کبھی کہتی تھی کہ اللّہ سنتا ہے۔۔ جیسے وہ سُنتا ہے ویسے کوٸ نہیں سُنتا مگر اسے اس بات پر یقین نہیں آتا تھا۔۔ جو اس کی تار تار ذات کو دیکھ کر بھی انجان بنا ہوا تھا اس سے وہ بول کر کیا کرتا۔۔؟ یہی اس کی سوچ تھی اور اوپر والے سے تعلق۔۔ بس ۔۔ فل اسٹاپ۔۔
اسی سپاٹ پن کے ساتھ اس نے نیت باندھی اور سر جُھکا کر ہاتھ باندھے مدھم آواز میں پڑھنے لگا۔۔ اسی تاریک سی سرد رات میں کرم ایک قبر کے برابر میں ویران سا بیٹھا تھا۔۔ قبروستان کی گہری خاموشی میں سینکڑوں قبریں دُور تک سوٸ ہوٸ تھیں۔۔ ان میں سے کچھ پکّی تھیں، کچھ کچّی اور کچھ بالکل تازہ جن پر پھول پڑے تھے اور گیلی مٹی کی مہک میں کافور کی بُو رچی بسی تھی۔۔ وہ اکڑوں بیٹھا گھٹنوں میں سر دیٸے ہوۓ تھا۔ سرد ہوا سے سارا قبروستان سیاہ رات کی تاریکی میں عجیب پُراسرار لگ رہا تھا۔۔ اس نے سر اُٹھا کر ہاتھ ذرا آگے بڑھایا اور پھر تین چار سال پُرانی قبر کی خشک مٹی پر انگلی سے لکیریں کھینچنے لگا۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے لڑھکا تھا جسے اس نے بے دردی سے رگڑ دیا۔۔ “میں ان کو نہیں چھوڑونگا آپا۔۔ میں ایک ایک کی جان لونگا۔۔ ایک ایک کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرونگا۔۔ آپ بس۔۔ بس تھوڑا سا صبر کر لیں۔۔ میں جلد آپ کے پاس آٶنگا اور اب کی بار میں خالی ہاتھ نہیں آٶنگا۔۔ بلکہ اس کا کٹا سر لاٶنگا جس نے آپ کو اس قبر میں سُلادیا ہے۔۔ ہاں آپا۔۔۔” وہ پھر سے قبر پر لکیریں کھینچتا بڑبڑا رہا تھا۔۔ اب کہ اسکی آنکھوں کی نمی میں سُرخی تھی۔۔ گہرے ضبط کی سُرخی۔۔ انتقام کی سُرخی۔۔
ولی نے سلام پھیر کر خالی خالی نظروں سے سامنے دیوار کو دیکھا۔۔ اور پھر چند لمحے ویسے ہی بیٹھا رہا۔ اس نے نماز پڑھی تھی۔ رات کے آخری پہر میں۔۔ اس پہر میں جب آسمانِ دنیا پر خدا زمین والوں سے بہت قریب ہوا کرتا ہے۔۔ لوگ کہتے تھے کہ اس پہر میں نمازیں ادا کرنے والے اس کے محبوب ہوا کرتے ہیں۔۔۔ ان کے دل روشن اور ارواح مطمٸن ہوا کرتی ہیں۔۔ مگر اس کے اندر اتنی خاموشی کیوں تھی پھر۔۔؟ وہ کیوں کچھ بھی اس کے لیۓ محسوس نہیں کر پارہا تھا۔۔۔؟ اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر اسے محسوس کرنا چاہا مگر پھر بیزاری سے سر جھٹک کر اُٹھ گیا۔۔ جاۓ نماز لپیٹا اور پھر سے بستر پر آکر لیٹ گیا۔۔ اسے یاد تھا۔۔ بچپن میں زمان جب اسے ہاتھ سے پکڑ کر مسجد لے جایا کرتے تھے۔۔ تب وہ انہیں فجر کی نماز میں طویل قیام کرتا دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ آخر یہ اس میں کیا پڑھتے ہونگے۔۔؟ پھر ایک دن اس نے ان سے پوچھ ہی لیا۔ وہ مسکرا کر اس کا ہاتھ پکڑے مسجد سے نکل آۓ۔۔ ان دنوں اس کی عمر نو سال تھی۔۔ وہ ان کی انگلی پکڑ کر مسجد جاتا اور انہی کے ساتھ واپس۔۔ اسے زمان کے ساتھ بہت سکون ملتا تھا۔۔
“میں اللّہ کا قرآن پڑھتا ہوں۔۔”
انہوں نے مسکرا کر گردن جھکاٸ اور چھوٹے سے ولی کو دیکھا۔ اس نے ناسمجھی سے سر اُٹھایا۔۔
“وہ تو میں بھی پڑھتا ہوں۔۔ مگر میری نماز تو اتنی جلدی ختم ہوجاتی ہے اور آپ۔۔ آپ کچھ چھپا رہے ہیں ناں۔۔”
اب کے اس نے سمجھتے ہوۓ مشکوک ابرو اُٹھاۓ تو زمان ہنس پڑے۔۔ فجر کی پاکیزہ ٹھنڈک میں چلتے وہ دونوں نیلی سی روشنی میں بہت مدھم دکھاٸ دیتے تھے۔۔
“میں کیوں چھپاٶنگا بھٸ تم سے۔۔ میں بس اپنی فیورٹ سورہ پڑھتا ہوں اسی لیۓ نماز تھوڑی لمبی ہوجاتی ہے۔۔”
“اور آپ کی فیورٹ سورہ کونسی ہے۔۔؟”
اس نے چونکہ نیا نیا قرآن ختم کیا تھا تو اس کا جوش بجا تھا۔۔
“عنکبوت۔۔ میری فیورٹ سورہ عنکبوت ہے۔۔”
“عنکبوت۔۔۔” اس نے زیرِ لب دُھرایا۔۔ “اس میں کیا ہے ایسا کہ یہ آپ کو اتنی پسند ہے۔۔؟”
وہ یاسیت سے مسکراتے ہوۓ نیلی روشنی میں ڈوبے گاٶں کو دیکھ رہے تھے۔۔
“اس میں گھر کی بات ہے ولی۔۔”
“گھر کی۔۔ کس کے گھر کی۔۔۔؟” اسے اچھنبا ہوا۔۔ حویلی اب نظر آنے لگی تھی۔ وہ کچّی پگڈنڈی پر چلتے گھر کے قریب پہنچ چکے تھے۔۔
“مکڑی کے گھر کی بات ہے اس میں۔ اس گھر کی جو دنیا کا سب سے کمزور گھر ہے۔ اس گھر کی جو ایک ہی جھٹکے میں ٹُوٹ جاتا ہے۔”
“جو گھر ایک جھٹکے میں ٹُوٹ جاۓ اور جو سب سے کمزور گھر ہو اس سورہ میں یہ ہے۔۔۔ پھر بھی اس میں پسندکرنے کی کیا بات ہے۔۔؟”
زمان کو اندازہ تھا کہ وہ ایک ذہین بچّہ ہے پھر بھی جو بات وہ اسے سمجھاٸنگے وہ اس کی سمجھ سے اوپر ہوگی مگر وہ اسے سمجھانا چاہتے تھے۔۔ کبھی نہ کبھی بڑے ہوکر وہ ان کے پیغام کو ڈی کوڈ ضرور کر لے گا اتنا اندازہ انہیں تھا۔۔ وہ رُک کر اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھے۔ اسے دونوں کندھوں سے تھاما اور اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔ حویلی بس چند قدم کے فاصلے پر تھی۔۔
“اس میں دنیا کے گھر کی بات ہے ولی۔۔ اس میں اس گھر کی بات ہے جو دنیا کا کمزور ترین گھر ہے اور پھر اس گھر کو تشبیہ دی گٸ ہے دنیا سے۔۔ مجھے یہ سورہ اس لیۓ اچھی لگتی ہےکیونکہ اس میں موجود مکڑی کا ذکر مجھے اپنا ذکر لگتا ہے۔ میں اس سے خود کو ریلیٹ کر پاتا ہوں۔۔ اللّہ کہتے ہیں کہ مکڑی کا گھر کمزور گھر ہے جو ایک جھٹکے میں ٹُوٹ جاتا ہے۔۔ اسے توڑنے کے لیۓ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی مگر جانتے ہو کیا۔۔”
وہ مسکراۓ تھے۔۔
“اس مکڑی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا گھر انتہاٸ کمزور ہے۔۔ بالکل بیکار۔۔ مگر وہ پھر بھی دن رات محنت کرتی ہے۔۔ اس گھر کو سجاتی ہے بناتی ہے اور وہ یہ سب کر کے کبھی نہیں تھکتی۔۔ اگر اس کا گھر ٹُوٹ بھی جاۓ تو وہ دوبارہ بنانے لگتی ہے۔۔ میں بھی تو ایسا ہی ہوں ناں ولی۔۔ بار بار دنیا بنانے لگ جاتا ہوں حالانکہ مجھے پتہ ہے کہ ایک دن اس گھر کو ختم ہو ہی جانا ہے۔۔ مجھے معلوم ہے کہ میں جو کچھ بنا رہا ہوں وہ پاٸیدار نہیں ہے۔۔ یہ سب فنا ہونے والا ہے۔۔ مگر تمہیں ایک بات بتاٶں۔۔ انسان کو جتنی بھی نصیحت کی جاۓ وہ بُھول جاتا ہے۔ اسے یاد رکھنے کے لیۓ ضروری ہے دُہرانا۔۔ بار بار خود کو یاد دلانا۔۔ تو جب بھی میں دنیا کے پیچھے بھاگنے لگتا ہوں یا اپنے اس گھر کی فکر میں اس گھر کو بُھول جاتا ہوں جو زیادہ پاٸیدار ہے۔۔ تب۔۔ ہاں تب میں اس سورہ کی تلاوت کرتا ہوں جو مجھے دوبارہ سے لاٸن پر لے آتی ہے۔۔”
وہ اس کا گال تھپتھپا کر اُٹھ کھڑے ہوۓ تو اس نے بھی قدم حویلی کی جانب بڑھا دیٸے۔۔ زمان جانتے تھے کہ ان کی باتیں ابھی اسے سمجھ نہیں آٸینگی۔۔ مگر اتنا انہیں یقین تھا کہ وہ انہیں جلد سمجھ جاۓ گا ۔۔۔
اس پہر رات کے اندھیرے میں اپنے بستر پر دراز ولی کو پیغام سمجھ آگیا تھا۔ اس نے زخمی آنکھوں سے چھت کو دیکھا۔۔ مکڑی کا گھر کتنا بھی ناپاٸیدار ہو سردار بابا۔۔ وہ بہر حال گھر ہوتا ہے۔۔ جس میں وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔۔ میں کتنی بھی کوشش کرلوں جانتا ہوں کبھی گھر نہیں بنا سکونگا۔۔ کمزور سا بھی نہیں۔۔ مگر میں اس گھر کی تیاری بھی نہیں کرونگا جو اس دنیا کے بعد ہے کیونکہ۔۔ ” اس نے اپنی نشان زدہ ہتھیلی کو سامنے کیا۔۔ “اب مجھے کسی بھی قسم کے گھر پر یقین نہیں رہا۔۔ نہ اس دنیا کے اور نہ اس سے باہر کی دنیا کے۔۔” وہ اب تک ہتھیلی کو دیکھتا سوچ رہا تھا۔ جس پر لگا زخم تو مندمل ہوگیا تھا ہاں البتّہ نشان رہ گیا تھا۔۔ نشان۔۔ جو زخم بھرنے کے بعد بھی رہ جایا کرتے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سفید حویلی میں خُوب چہل پہل ہورہی تھی۔ ملازمین عام روز کے برعکس زیادہ مستعدی سے کام نپٹاتے دکھاٸ دے رہے تھے۔۔ چمکتے ٹاٸیلز والے لاٶنج میں ناشتے کے بعد زمان اور بی جان بیٹھے ہوۓ شاید مہمانوں کی فہرست بنا رہے تھے۔۔ داٸیں ہاتھ والے صوفے پر براجمان نثار اور بختیار شادی کے کھانے کے بارے میں محوِ گفتگو تھے۔۔ اور انکے مخالف صوفے پر پیر اوپر کرکے بیٹھی امل پُرجوش سی ہوٸ بی جان کے کندھے سے جھانک کر مہمانوں کی فہرست دیکھ رہی تھی۔۔ شادی میں چونکہ کم دن رہ گۓ تھے اسی لیۓ تیاریاں زوروں پر تھیں۔۔
“بھاٸ۔۔ میرا سُوٹ درزی کے پاس سے لانا ہے اور میری بارات کی جُوتی بھی نہیں ہے۔۔”
اس نے سامنے بیٹھے بختیار کو مخاطب کیا تو وہ مسکرا کر سیدھا ہوا۔۔
“ٹھیک ہے شام میں۔۔ میں شہر کی طرف جاٶنگا تم چلنا میرے ساتھ۔۔ جو بھی خریدنا ہو خرید لینا۔۔”
“کسی دوست وغیرہ کو شہر سے دعوت دینی ہے تو بتا دو ابھی تم دونوں۔۔”
بی جان نے مصروف سا چہرہ اُٹھا کر دونوں بیٹوں کو دیکھا تھا۔۔
“جی بی جان میں نے دینی ہے فخر اور شاہ زیب کو۔”
نثار نے جلدی سے کہا تو بی جان کی نظریں بختیار پر پھسلیں۔۔
“نہیں میرا کوٸ ایسا خاص دوست نہیں ہے۔۔ جو بھی ہیں انہیں میں دعوت دے چکا ہوں۔”
اس نے کہہ کر اپنا بجتا موباٸل سامنے کیا اور لاٶنج سے اُٹھ گیا۔۔
“زمانی۔۔ امل کی دوستوں کو بلانا ہے۔۔؟ جو بھی نام ہے اس میں لکھ دو۔ میں پیغام بھجوادونگا سب کو۔۔”
زمان بھی کہہ کر اٹھ گۓ تو وہ تینوں لاٶنج میں تنہا رہ گۓ۔۔
“بی جان سامیہ کو دینی ہے دعوت۔۔” اس نے چہک کر یاد دلایا تو بی جان نے مسکرا کر اس کو دیکھا۔۔
“وہ ہی سامیہ ناں جو موٹا سا عینک لگایا کرتی تھی۔۔؟”
نثار نے اسے جان کر کے چھیڑا تھا مگر خلافِ معمول اس نے خوشدلی سے مسکرا کر کہا۔۔
“جی نہیں وہ بچپن میں لگایا کرتی تھی چشمہ اب اس نے لینز لگوا لیۓ ہیں۔۔”
مزے سے اطلاع دی۔۔
“جو بھی ہے لگتی تو ویسی ہی ہوگی۔۔ بونگی صدا کی۔۔”
اب کے حملہ ذرا دوسری نوعیت کا تھا اس نے دزدیدہ نظروں سے نثار کا چہرہ دیکھا۔۔
“کوٸ نہیں وہ بونگی۔۔ اچھی خاصی سمجھدار اور پیاری لڑکی ہے اور اب تو اس کی شادی بھی ہو چکی ہے۔۔ آپ زیادہ مت بولا کریں۔۔”
خفگی سے کہا۔۔
“دوست کو دیکھو اپنی۔۔ شادی بھی ہوگٸ اس کی اور تم ابھی تک یہاں ہو۔۔ بی جان شادی کریں اس کی اور بھیجیں اسے اسکے سسرال۔۔”
“ہاں تو آپ بھی تو یہاں ہیں ناں۔۔ بی جان بھیجیں انہیں بھی ان کے سسرال۔۔” اسی کے انداز میں کہا تو وہ ہنس دیا۔۔
“لڑکیاں جاتی ہیں سسرال۔۔ لڑکے نہیں۔۔”
“نہیں میں نے کچھ لڑکوں کو بھی سسرال جاتے دیکھا ہے۔۔”
“میں ان لڑکوں میں سے نہیں ہوں۔۔”
“کیا پتہ آگے جا کر ہوجاٸیں۔۔”
بی جان نے فہرست ساٸیڈ پر رکھے ٹیبل پر دھری اور اُٹھنے ہی لگی تھیں کہ سامنے سے ولی داخل ہوا۔۔
“بی جان سردار بابا کہاں ہیں۔۔؟”
اس نے سوال کیا تو نثار اور امل نے بیک وقت اسے سر اُٹھا کر دیکھا۔۔
آسمانی رنگ کے قمیص شلوار میں ملبوس نکھرا نکھرا۔۔ دُھلے بالوں کو پیچھے جماۓ ہاتھ میں موباٸل پکڑے وہ نکلنے کے لیۓ تیار لگ رہا تھا۔۔ ہاں اس کے کندھے پر آج شال نہیں تھی۔۔
“اوپر گۓ ہیں۔۔ کہہ رہے تھے کہ آج جاٸنگے ڈیرے پر۔۔”
“اچھا۔۔”
اس نے بے اختیار کہا۔۔ امل نے ہونٹ مس کرتے ہوۓ اس کے خوبصورت سراپے سے نظر چُراٸ تھی۔۔ کیا اسے نہیں پتہ کہ وہ اس رنگ میں کتنا اچھا لگ رہا ہے۔۔ اس نے خفت سے سوچ کر آنکھیں میچیں۔۔
“چلیں ٹھیک ہے پھر میں ان سے وہیں بات کر لونگا۔۔”
نثار کی تیوری اسے دیکھتے ہی چڑھ گٸ تھی اسی لیۓ اُٹھ کر اسے یکسر نظرانداز کرتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ وہ نہ تو ردِعمل دیتا تھا نہ دیا۔۔ البتہ اس نے جھکے سر والی امل کو ضرور دیکھا تھا۔۔ وہ اپنے سیاہ فراک میں ملبوس سر پورا جھکاۓ۔۔ انگشتِ شہادت سے انگوٹھے کا ناخن چھیل رہی تھی۔۔ بے تاثر سا ولی پلٹنے لگا کہ زمان کی آواز پر رُک گیا۔۔
“ٹہرو ولی۔۔”
وہ اب سیڑھیوں سے اُتر رہے تھے۔۔ سفید بے داغ لباس پر کتھٸ رنگ کی شال کندھوں پر ڈالے ہمیشہ کی طرح شفیق اور بارعب۔۔
وہ رک گیا۔۔
“میں تمہارے ساتھ ہی جاٶنگا۔۔”
اس کے بے تاثر چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
“جی سردار بابا کیوں نہیں۔۔”
بہت دنوں بعد اس کے اندر وہی نو سال والے ولی کی خوشی نے سر اٹھایا تھا۔۔ ٹھنڈی فجر آج بھی کہیں اس کے آس پاس ہی تھی۔۔
“برخوردار۔۔ تم نے اپنے دوستوں کو بُلانا ہے شادی پر۔۔؟“
انہوں نے ایک پل کو رُک کر اس سے پوچھا تو اسکی مسکراہٹ غاٸب ہوٸ۔۔ چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔۔
“نہیں سردار بابا۔۔ میرا کوٸ دوست نہیں ہے بس ڈیرے پر کام کرنے والوں سے سلام دعا ہے وہ تو ویسے بھی آٸنگے۔۔ اور کوٸ خاص مہمان نہیں ہے۔۔”
بی جان اور امل چپ چاپ اس کا چہرہ دیکھنے لگیں مگر وہاں پر کوٸ تاثر کوٸ نشان نہیں تھا۔۔
زمان نے قدم آگے بڑھاۓ۔ اور اسکے ساتھ ہی باہر نکلے۔۔
“کپڑے وغیرہ سلواۓ ہیں تم نے شادی کے لیۓ یا وہ بھی نہیں۔۔۔؟”
ان کے خفا سے استفسار پر وہ مسکرایا۔۔
“میرا کوٸ ارادہ نہیں تھا مگر بی جان نے زبردستی سلوا دیۓ ہیں کپڑے میرے لیۓ۔۔”
گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ زمان نے اس پر ایک اور خفا نگاہ ڈالی تو وہ کھل کر مسکرایا۔۔
“آپ میرے لیۓ کیوں فکر مند ہوتے ہیں سردار بابا۔۔ بچّہ نہیں ہوں میں۔۔”
“مگر میرے لیۓ تو اب تک وہی ولی ہو جو روز فجر پر میری انگلی پکڑ کر مسجد جایا کرتا تھا۔۔”
انہوں نے بہت دھیرے سے کہا تھا پھر بھی اس نے سُن لیا اور چونک کر ان کی جانب دیکھا۔۔ گاڑی ایک بار پھر سے کچّے راستوں پر دوڑ رہی تھی۔۔
“آپ کو یاد ہے ابھی تک۔۔”
موڑ کاٹتے اس نے بھی دھیرے سے کہا تو وہ مسکرا دیٸے۔۔
“اتنے خوبصورت لمحات بُھولنے کے لیۓ تو نہیں جما کۓ تھے میں نے۔۔ تم اپنی دانست میں جتنے بھی بڑے ہوجاٶ جناب میرے لیۓ وہ ہی ولی ہو جس کے سوالات پر میں اکثر خاموش ہوجایا کرتا تھا۔۔ کیا تمہیں یاد ہے کہ تم کیسے سوال کیا کرتے تھے۔۔؟”
ایک پل کو رُک کر اس کا چہرہ دیکھا تو وہ مسکرایا۔
“اتنے خوبصورت لمحات بُھولنے کے لیۓ تو نہیں جما کۓ تھے ناں میں نے۔۔”
زمان ہنس پڑے۔۔ بہت دنوں بعد انہیں پُرانا ولی نظر آیا تھا۔۔ جو اپنی باتوں سے انہیں لاجواب کردیا کرتا تھا۔۔
“اب لگ رہا ہے کہ بڑے ہوگۓ ہو۔۔”
“حالانکہ میں یہ بچپن میں کیا کرتا تھا۔۔”
لطف اندوز ہوتے ہوۓ اس نے کہا تو زمان پھر سے ہنس دیۓ۔۔
“تم سے جیتنا۔۔ وہ بھی باتوں میں۔۔ مجھ جیسے بوڑھے کے لیۓ ذرا مشکل ہے۔۔”
“بوڑھے کہاں ہیں آپ۔۔۔؟”
ابرو سکیڑ کر ایک پل کےلیۓ اس نے زمان کو دیکھا تھا۔۔
“وقت سے پہلے بڑھاپا ان پر آتا ہے جو اپنے اعمال کو پاک نہیں رکھتے۔۔ آپ تو ذرا سی غفلت پر سورہ عنکبوت پڑھ کر خود کو راہِ راست پر لے آیا کرتے تھے۔۔”
زمان نے بہت چونک کر اسے دیکھا۔۔ وہ بہت مصروف سا ڈراٸیو کرتا کہہ رہا تھا۔۔
“اتنی پرانی بات تمہیں اتنی جُزیات کے ساتھ کیسے یاد ہے ولی۔۔۔!”
“میں نے بُھلانا چاہا تھا سردار بابا ہر بات کو مگر۔۔ “
اس نے کندھے اُچکاۓ۔۔
“نہیں بُھلا سکا۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ سب میرے ذہن میں اس طرح تازہ ہے جیسے کل ہوا ہو۔۔ میری میموری پر جانتے ہیں میرے ٹیچر ہمیشہ مجھے شاباشی دیا کرتے تھے مگر۔۔“
اس نے گہرا سانس لیا۔۔ آس پاس پھیلے سرسبز کھیت پیچھے کی جانب دوڑ رہے تھے۔۔
“مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی یادداشت ہی کی وجہ سے کبھی آگے نہیں بڑھ پاٶنگا۔۔ لوگوں کے لیۓ میری میموری ایک نعمت ہے لیکن میرے نزدیک۔۔
” اس نے گاڑی ڈیرے کے باہر روکی۔۔
” میرے لیۓ یہ ایک cursed gift سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔۔” کسی بھی تکلیف دہ تاثر کے بغیر وہ بہت آرام سے کہہ رہا تھا۔۔ پھر ان کو دیکھ کر مسکراتا ہوا گاڑی سے اتر گیا۔۔ زمان بھی گہرا سانس لیتے دروازہ کھول کر باہر کی جانب اترے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ظہر کے وقت کا سورج بھی سردی سے یخ پڑ رہا تھا۔۔ اس نے سیاہ دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹا اور جاۓ نماز پر آکھڑی ہوٸ۔ سکون سے نماز پڑھنے کے بعد اس نے آخری رکعت سے سلام پھیر کر دوپٹہ کھولا تو وہ اس کے بالوں سے پھسل کر کھلتا چلا گیا اور اپنی آخری تہہ بھی ڈھیلی کر گیا۔۔ اس نے ٹھنڈے ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر ان کا یخ سا اثر کم کرنا چاہا اور پھر سُرخ سی ہتھیلیوں کو جوڑ کر بلند کیا۔۔ اس کا تعلق اپنے اللّہ سے ولی کے برعکس بہت اچھا تھا۔۔ اسے اس سے محبت تھی۔۔ اس کے لیۓ نماز پڑھنا اسے خوشی دیا کرتا تھا۔۔ فجر کی نماز اگر کبھی قضا ہوجاتی تو اس کو خود کے وجود میں خالی پن اترتا محسوس ہوتا تھا۔۔ وہ ایک آٸیڈیل مسلمہ نہیں تھی۔۔ مگر اسکا اللّہ سے ریلیشن تھا۔۔۔ کیا تھا کیسے تھا۔۔ اس کا جواب اسے کبھی نہیں ملا۔۔ وہ اللّہ سے محبت کرتی تھی مگر وہ محبت کو کبھی بیان نہیں کر پاۓ گی اتنا اندازہ اسے تھا۔۔
چند پل نرم ہتھیلیوں کے پیالے کو وہ تکتی رہی۔۔ پھر اس کے لبوں میں جنبش ہوٸ اور وہ آنکھیں بند کیۓ دعا مانگنے لگی۔۔
اپنے نصیب کی دعا۔۔ والدین کے لیۓ۔۔ اپنے بھاٸیوں کے لیۓ۔۔ اپنے گھرانے کے لیۓ۔۔ دنیا اور آخرت کے لیۓ اور آخر میں۔۔ جس دعا کا اسے انتظار رہا کرتا تھا۔۔ ولی کے لیۓ۔۔
ولی کے لیۓ دعا کرتے اس نے آنکھیں کھول لی تھیں۔۔ مگر آنکھیں کھول لینے کے بعد بھی وہ اسکی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا تھا۔۔ صبح والے آسمانی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس وہ اس کے کہیں آس پاس ہی تھا۔۔
“میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کی حفاظت کریں اللّہ۔۔” ایک دعا تھی جو اسکے دل سے ہر دم نکل رہی ہوتی تھی۔۔ بقول زمان احمد کے اس کے دشمن زیادہ نہیں تھے۔۔ مگر جتنے تھے وہ بہت ظالم تھے۔۔ اسے ہر دم دھڑکا لگا رہتا۔۔ وہ کبھی دیر کر دیتا تو اس سے صبر کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔۔ ایک غیر کی محبت کو اپنے دل میں آنے سے وہ نہیں روک سکی۔۔ بی جان کہتی تھیں۔۔ شادی سے پہلے آنے والا مرد عورت کی زندگی میں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا ۔۔ مگر وہ ان سے پوچھنا چاہتی تھی کہ جو مرد بغیر اجازت لیۓ دل کے بند کواڑوں کو کھولتا اندر جا بسے اس کی سزا عورت کو کیونکر سناٸ جاۓ۔۔؟ اس نے جان بُوجھ کر اسے نہیں چاہا تھا۔۔ اس نے تو بس محسوس کیا تھا۔۔ کہ اس کی نظروں سے وہ پگھلتی تھی۔۔ اس کی تکلیف سے دل کٹتا تھا۔۔ اسکی گلابی آنکھوں کی خشکی اسے مات دے دیا کرتی تھی۔۔۔ اس میں اسکا کیا قصور تھا۔۔؟ اس نے تو ان سب کو دعوت نہیں دی تھی خود تک آنے کی۔۔ اس نے کبھی اس کی حوصلہ افزاٸ نہیں کی تھی اور نہ ولی کی جانب سے اسے ایسا کوٸ جواب موصول ہوا تھا۔۔ وہ تو تھا ہی صدا کا دور۔۔۔ وہ تو کبھی اس کے قریب نہیں آیا تھا۔۔ غلطی سے بھی نہیں۔۔۔
پھر کیوں تھا ایسا کہ وہ قریب قریب لگتا تھا۔۔! کیوں اس پر غصّہ آجانے کے بعد بھی وہ اس کی فکر کرنا نہیں چھوڑ پاتی تھی۔۔۔ کیوں وہ اجنبی ہوتے ہوۓ بھی اپنا تھا۔۔ کیوں آخر وہ اس پر سختی نہیں کرتا تھا۔۔۔! اس نے آنکھیں بند کیں تو آنسو پلکوں پر ٹہر گۓ۔۔ ناک سُرخ ہوگٸ۔۔ ہونٹ لرزنے لگے۔۔ اللّہ جانتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ جان کر نہیں کررہی۔۔ اس نے اس سے محبت سوچ کر نہیں کی تھی۔۔ وہ تو اسکی کچّی عمر کا خواب تھا جس کا رنگ اسکے دل پر پکّا ہوتا جارہا تھا۔۔۔
چہرے پر ہاتھ پھیر کر وہ اُٹھی جاۓ نماز طے کی اور اسے سنگھار میز پر رکھا پھر دوپٹہ سر سے اتار کر کندھوں پر پھیلاتی باہر آٸ۔۔ باہر زندگی ویسے ہی چل رہی تھی۔۔ مخصوص چہل پہل اور وہ ہی دن چڑھے کی سرگرمیاں۔۔۔۔
اس نے نیچے اُتر کر بی جان کو یہاں وہاں ڈھونڈا۔۔ وہ گیسٹ روم میں کسی مہمان کے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔ شادی کا گھر تھا اور اگلے ہفتے سے مہمان آنے ہی والے تھے مگر اندر بیٹھی خاتون شاید زمان کی جاننے والی تھی۔۔ اس نے ہاف بندھے بالوں سے نکلتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا اور دروازے سے ذرا اندر جھانکا۔۔ وہ پچّیس چھبّیس سال کی بہت خوبصورت سی عورت تھی۔۔ نفیس لباس میں ملبوس اس نے سر پر سلیقے سے دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ ساتھ وہ مسکرا کر بی جان سے کچھ کہہ بھی رہی تھی۔۔ ایک جانب صوفے پر سیاہ بالوں والا اسی کے جیسا پیارا سا بچّہ بیٹھا تھا۔۔ شاید اس کا بیٹا ہو۔۔ وہ دروازے سے پیچھے ہوٸ۔۔ بی جان گیسٹ روم سے باہر نکلیں تو ان کی نظر اس کے چہرے پر پڑی۔۔
“یہ کون ہیں۔۔۔؟”
ابرو سے گیسٹ روم کے بند دروازے کی جانب اشارہ کیا۔۔
“یہ ولی کے دوست کی بیوہ ہے قانتہ۔۔ تم جا کر اندر بیٹھو میں ذرا چاۓ پانی کا انتظام کروں۔۔ “
اس کو حیران پریشان چھوڑ کر وہ کچن کی جانب ہولیں۔ اس نے خود کو کمپوز کیا اور گیسٹ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ۔۔ قانتہ جو زین کے ماتھے پر گِرے بال درست کررہی تھی امل کو دیکھ کر سیدھی ہوٸ۔۔ پھر اسے دیکھ کر اس کے نرم خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ اُبھری۔۔
“اسّلام علیکم۔۔”
وہ پاس چلی آٸ۔۔ چہرے پر آتی لٹ کو ایک بار پھر کان کے پیچھے اڑس کر وہ اس سے ملی۔۔
“وعلیکم سلام۔۔ “
بہت گرمجوشی سے گلے ملنے کے بعد اس نے امل کو خود سے الگ کیا۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اتنی شناساٸ آخر اس انجان عورت کو اس سے کیسے۔۔۔۔؟ اس نے جھک کر زین کے نرم گال کو دو انگلیوں سے چُھوا اورپھر متذبذب تاثرات کے ساتھ وہ مقابل صوفے پر جا بیٹھی۔۔ قانتہ تو اتنی خوش تھی کہ اس سے بتایا نہ جاتا تھا۔۔
“کیسی ہیں آپ امل۔۔؟”
نام۔۔۔ اسے اس کا نام کیسے پتہ۔۔ اس نے جلدی سے پلکیں جھپکا کر چہرے پر پھیلی ناسمجھی رفع کی اور پھر مسکراٸ۔۔
“میں بالکل ٹھیک۔۔ ویسے۔۔ کیا ہم پہلے مل چکے ہیں۔۔؟”
اس نے اتنی معصومیت سے پوچھا تھا کہ قانتہ بے ساختہ ہنس دی۔۔ ہنسنے سے اس کے گال اوپر کو اُٹھ جاتے تھے اور ان کا رنگ اناری سے رنگ میں ڈھل جاتا۔۔ وہ بلاشبہ بہت خوبصورت عورت تھی۔۔ امل نے اس سے پہلے اتنی خوبصورت عورت نہیں دیکھی تھی۔۔
“کہہ بھی سکتے ہیں۔۔ ویسے آپ کا نام مجھے آپ کی امّی نے بتایا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے۔۔” اس نے اطمینان بخش سی سانس خارج کی۔ بی جان نے بتایا تھا اس کا نام ان کو۔۔
“کیسی ہیں آپ۔۔ اور یہ آپ کا بیٹا ہے۔۔؟ نام کیا ہے اس کا۔۔۔؟”
اپنی ساری بے چینی چھپا کر اس نے جلدی سے میزبانی نبھاٸ۔
“جی میرا ہی بیٹا ہے زین نام ہے اس کا۔۔ زین سلام کرو امل آپی کو۔۔”
اس نے زین سے کہا اور پھر زین شرماتا ہوا اُٹھا۔۔ اس تک آیا اور اپنا معصوم سا چھوٹا سا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا۔۔
“اسلام علیکم امل آپی۔۔”
امل نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔ وہ سُرخ ہوتے گالوں سے اس کے ساتھ بیٹھا رہا۔۔ اوووہ۔۔۔ امل کو اس پر بے طرح پیار آیا تھا۔۔
“آپ کا بیٹا بہت کیوٹ ہے قانتہ۔۔”
یہی اس کے منہ سے نکلا اور یہی طے ہوگیا۔۔ وہ بغیر بُرا مناۓ مسکراتی رہی۔۔ اسکے چہرے پر سادگی سی تھی۔۔ نہ کوٸ عجیب قسم کی ذو معنی مسکراہٹ اور نہ کو ایسا تاثر جس سے امل غیر آرام دہ ہوجاتی۔۔
”کیا کرتی ہو امل۔۔۔؟“
کچھ دیر بعد قاتنہ نے پوچھا تو اس نے مسکرا کر جواب دیا۔۔ وہ غیروں کے ساتھ اتنا جلدی بے تکلّف نہیں ہوا کرتی تھی مگر قانتہ کا مزاج ہی اور تھا۔۔
”ابھی ابھی بی ایس سی کے پیپرز سے فارغ ہوٸ ہوں۔۔ آپ کیا کرتی ہیں۔۔؟“
وضع قطع سے وہ پڑھی لکھی سلیقہ شعار سی عورت لگتی تھی۔۔
”میں ٹیچر ہوں گورنمنٹ۔۔ یہیں اس گاٶں سے ذرا آگے جو پہلا علاقہ شہر کا لگتا ہے مدینہ مسجد (ایک فرضی نام) کے ساتھ والا۔۔ میں یہاں ایک اسکول میں جاب کرتی ہوں۔۔ ولی نے مجھے اس جاب کے حصول میں بہت مدد کی تھی۔۔“
آخری بات پر امل چونکی۔۔ جس طرح سے وہ ولی کا ذکر کررہی تھی اس سے صاف ظاہر تھا کہ ولی کی ان سے اچھی خاصی جان پہچان تھی۔
اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔ دفعتاً بی جان کمرے میں داخل ہوٸیں اور ان کے پیچھے ہی ملازمہ لوازمات سے بھری ٹرالی لیۓ اندر آٸ۔۔
”میرے بیٹے کی شادی ہے دوہفتوں بعد۔۔ تم ضرور آنا قانتہ بیٹا۔۔ ولی سے میں نے بارہا پوچھا کہ کوٸ جاننے والا تو نہیں رہ گیا تمہارا مگر مجال ہے جو یہ لڑکا مجھے کچھ بتا دے۔۔ اچھا کیا تم آگٸیں۔۔ میں تمہیں شادی کی دعوت دینے تمہارے گھر بھی آجاٶنگی۔۔ آٶگی ناں شادی میں۔۔۔؟“
وہ ولی کی جاننے والی تھی۔۔ بی جان کا نہال ہونا تو بنتا ہی تھا۔۔
”ارے نہیں بی جان۔۔ آپ تکلّف مت کیجیۓ۔۔۔ میرے گھر آٸیے گا ضرور آٸیے گا مگر اس طرح مجھے شرمندہ مت کریں۔۔ میں آٶنگی آپ کے بیٹے کی شادی میں۔۔ مگر شاید زیادہ نہ ٹہر سکوں زین اور میرے اسکول کا مسٸلہ ہوگا پھر۔۔“
انہوں نے آرام سے معذرت کی تو بی جان مسکراٸیں۔۔
”بھلے تم تھوڑی دیر کے لیۓ آجانا مگر شرکت ضرور کرنا بیٹا۔۔ میرے گھر کی پہلی خوشی ہے مجھے اچھا لگے گا۔۔“
امل پنجوں کے بل بیٹھی چاۓ بنا رہی تھی۔۔ پھر ان کا کپ ان کی جانب بڑھایا تو انہوں نے مسکرا کر ”شکریہ“ کہتے کپ تھام لیا۔۔
”دراصل زین بہت دنوں سے ولی کو یاد کررہا تھا اور ولی مصروف تھا کاموں میں تو میں نے سوچا کہ زین کو اس سے ملوا آٶں اور آپ لوگوں سے بھی مل لوں۔۔“
بی جان کھلے کھلے چہرے کے ساتھ مسکراٸیں۔۔
”بہت اچھا کیا جو تم آگٸیں۔۔ نہیں تو ولی نے تو مجھے کبھی نہ بتانا تھا۔۔ بس ابھی آتا ہی ہوگا آغا جان کو لے کر وہ۔۔“
وہ پھر سے بی جان کے ساتھ مقابل صوفے پر جابیٹھی۔۔ کچھ ہی دیر میں باتوں کے درمیان باہر سے اس کی کار کے ہارن کی آواز آٸ تھی۔۔ پھر گیٹ کھلنے کی۔۔ قدموں کی چاپ کی۔۔
”جا امل۔۔ ولی کو بُلا کر لا۔۔ یوں نہ ہو کہ وہ پھر سے واپس چلا جاۓ۔۔“
اس نے سر ہلایا اور گیسٹ روم سے باہر نکل آٸ۔۔ وہ اسے کچن میں نظر آگیا تھا۔۔ صبح والے لباس میں۔۔ ہمیشہ کی طرح خاموش اور سنجیدہ۔۔
”وہ قانتہ آٸ ہیں آپ سے ملنے۔۔ بی جان بُلا رہی ہیں آپ کو گیسٹ روم میں۔۔“
وہ جو پانی پی رہا تھا بُری طرح حیران ہوا۔۔ شاید وہ قانتہ کی توقع ہرگز نہیں کررہا تھا۔۔
”کون قانتہ۔۔۔؟“
انجان بنتے ہوۓ اس نے سرسری سا پوچھ کر گلاس رکھا اور اس کی جانب پلٹا۔۔ سیاہ لمبی فراک اسکے ٹخنوں تک گرتی تھی۔۔ اور نیچے سے چوڑی دار پجامہ بہت ہلکا سا دکھاٸ دے رہا تھا۔۔
”زین کی ممّا۔۔۔“
امل نے بھی اتنے ہی سکون سے جواب دیا اور کچن کے دروازے سے ہٹ آٸ۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ گیسٹ روم میں داخل ہوا تو امل اور بی جان کو قانتہ کے مقابل بیٹھے دیکھا۔۔ وہ بہت خوش دلی سے باتیں کررہی تھیں۔۔ اس نے سلام کیا اور سامنے کے صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔
”کیسی ہیں آپ قانتہ۔۔؟ اور یہاں کیسے آنا ہوا۔۔؟“
زین اس کے پاس بھاگ کر آیا تھا۔۔ اس نے اسکے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے کچھ اور بگاڑا پھر اسے اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔
”یہ تم زین سے پوچھ لو۔۔ اس نے بہت تنگ کیا ہے مجھے ان سارے دنوں میں۔۔ کہ مجھے ولی کے پاس جانا ہے۔۔ ولی سے ملنا ہے۔۔ میرے پاس اسے یہاں لانے کے علاوہ کوٸ آپشن نہیں تھا۔۔“
اس کی بات پر مسکرا کر اس نے سر جھکا کر زین کا چہرہ دیکھا۔۔
”کیوں بھٸ کیوں تنگ کرتے ہو مما کو اپنی۔۔ ؟“
اس نے میٹھی سی خفگی سے کہا تو امل مسکراٸ۔۔ اس نے ولی کو کبھی کسی بچّے کے ساتھ اتنا بے تکلف نہیں دیکھا تھا مگر پھر بھی اسے معلوم تھا کہ ولی کو بچے پسند تھے۔۔ بس وہ ہی تھا جو اس کی جانب سے اتنا بے فکر تھا۔۔ اگر جو وہ بھی اسکی ایسی ہی پرواہ کرتا جیسی وہ کرتی تھی۔۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
قانتہ اب جانے کے لیۓ اُٹھ رہی تھیں۔۔ ان سب سے شادی میں آنے کا وعدہ کر کے وہ پلٹ گٸیں تو وہ تینوں بھی گیسٹ روم سے باہر نکل آۓ۔۔
”چلیں بی جان اب میں بھی چلونگا بس سردار بابا کو چھوڑنے آیا تھا۔۔ کوٸ کام ہے آپ کو۔۔؟“
جاتے جاتے اس نے پلٹ کر پوچھا تو بی جان کو یکدم یاد آیا۔۔
”تمہارا کُرتا سلنے کے لیۓ دیا ہے میں۔۔ وہ لے کر آنا ہے نہیں تو گُم ہوجاۓ گا۔۔“
اس نے اف سر ہلایا۔۔
امل نے مسکراہٹ دباٸ تھی۔۔
”بی جان۔۔ اس کے لیۓ آپ کو چلنا پڑے گا میرے ساتھ بازار مجھے نہیں پتہ آپ نے کُرتا کس کو دیا ہے۔۔“
ولی احمد سخت بیزار ہوا تھا۔۔ بی جان حسبِ عادت خفا ہوٸیں۔۔
”لڑکے کوٸ خیال بھی ہے اپنا یا نہیں۔۔ کسی چیز میں تمہیں دلچسپی نہیں۔۔ شادی کا پوچھو تو تم کہتے ہو کہ میں کیا کرونگا شادی کرکے۔۔ “
یہ حد تھی۔۔ بی جان کے پیچھے کھڑی امل ہنس پڑی۔ ولی کے کان سُرخ ہوۓ۔۔ مگر بی جان خفگی سے بولی جارہی تھیں۔۔
”لڑکوں کو دیکھو جا کر۔۔ بازاروں میں سو سو چکر لگاتے ہیں خود کے کپڑوں کے لیۓ۔۔ شادی کے علاوہ کوٸ دوسری بات نہیں کرتے۔۔ چھے چھے لڑکیوں سے بیک وقت محبتیں بھگتا رہے ہوتے ہیں اور ایک تم ہو ولی۔۔“
امل کو اپنی ہنسی روکنا اس سمے بہت مشکل لگا۔۔ ولی بی جان کو روکنا چاہ رہا تھا مگر بے سود۔۔
”تم چھے چھے لڑکیاں نہیں پسند کرسکتے کم از کم کوٸ ایک ہی پسند کر لو۔۔ یوں اس طرح زندگی کیسے گزرے گی۔۔۔؟“
پل بھر کو ولی کی نظروں نے ان کے پیچھے کھڑی لڑکی تک سفر کیا اور بی جان کے قریب ہوا۔۔
”بی جان۔۔ میں کُرتا لینے ضرور چلونگا۔۔ اور آٸندہ میری مجال جو میں خود سے غفلت برتوں۔۔“
بی جان جو قدرے غصّے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ یکدم ہنس دیں۔۔ وہ بولا ہی اتنے پیارے طریقے سے تھا۔۔
”اور پسند کب کروگے لڑکی۔۔۔؟“
امل نے نچلا لب دباۓ اپنے دودھیا پیروں کو دیکھا۔۔ وہ اس کے جھکے سر کے باوجود بھی اسکے چہرے پر پھیلے قوس و قزح کے سارے رنگ دیکھ سکتا تھا۔۔
”بی جان پلیز ابھی دیر ہورہی ہے میں چلتا ہوں شام میں لے جاٶنگا آپ کو۔۔“
جھک کر ان کو ہلکا سا گلے لگاتے اس نے کہا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔ وہ اور بی جان اسے جاتا دیکھتی رہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
سفید حویلی سے خاصے فاصلے پر حسین احمد کی حویلی کھڑی تھی۔۔ شروع میں جب جاٸیداد کا بٹوارہ ہوا تو یہ حویلی ان دو حویلیوں کے ساتھ ہی تھی مگر پھر حسین نے جگہ گاٶں کے آخری سِرے پر لیکر ایک شاندار اور اعلیٰ حویلی تعمیر کرواٸ۔۔ جو حسن اور زمان کی حویلی سے کہیں زیادہ بڑی اور کہیں زیادہ بیش قیمت تھی۔۔
اس حویلی میں بھی شادی قریب آنے کے باعث خاصی رونق ہورہی تھی۔۔ امینہ اور شازیہ کو آج کل رسم کے لیۓ بٹھایا جانا تھا اسی لیۓ بہت سی لڑکیاں ان دونوں کے آس پاس بیٹھیں انہیں سنوارنے میں مصروف تھیں۔۔ وہ شہر سے گاٶں لاٸ جانے والی پارلر کی لڑکیاں تھیں جنہیں یہاں صرف ان کی تراش خراش کے لیۓ لایا گیا تھا۔۔
ایک جانب پیر اونچے کیۓ نخوت سے بیٹھی امینہ لڑکی کو ذرا ہاتھ ہلکا چلانے کا کہہ رہی تھی جو اس کے پیروں کا مساج کررہی تھی تو دوسری جانب تنے نقوش کے ساتھ گردن پیچھے کو کر کے بیٹھی شازیہ تھی جس کا فیشل کیا جارہا تھا۔۔
”ماں جی بتا رہی تھیں کہ امل اور ولی کا کوٸ قصّہ چل رہا ہے۔۔؟“ امینہ نے اسی بے نیازی سے کہہ کر شازیہ کو دیکھا۔۔ لڑکی اب ٹشو سے اس کی گردن پر لگا لوشن صاف کررہی تھی۔۔ جواباً اس نے کندھے اُچکاۓ۔۔
”مجھے بھی ماں جی نے ہی بتایا تھا۔۔ خیر انہیں کس نے بتایا یہ سب۔۔؟ ایسی بات پر مجھے تو یقین نہیں آرہا۔۔ امل۔۔۔ وہ اتنی ڈرپوک لڑکی بھلا کیوں موت کے منہ میں ہاتھ ڈالے گی۔۔! ولی سے تو کوسوں دور رہنا چاہیۓ اسے۔۔۔“
”پتہ نہیں اب یہ سچ بھی ہے یا نہیں۔۔۔“
امینہ نے بھی کندھے اُچکاۓ تھے۔۔ پھر کچھ سوچ کر کہنے لگی۔۔
”ماں جی کہہ رہی تھیں کہ انہیں ارجمند چچی نے بتایا ہے۔۔ لیکن انہیں کیسے پتہ۔۔؟“
شازیہ طنزاً مسکراٸ۔۔
” ظاہر ہے ناجیہ ہی نے بتایا ہوگا۔۔ وہ جو امل کی پکّی سہیلی ہے۔۔“
امینہ پر جیسے کوٸ انکشاف ہوا۔۔ یکدم اپنی کرسی پر آگے کو ہو کر بیٹھی۔۔
”ارے شازیہ۔۔ اسی نے بتایا ہوگا بھلا اور کون ہے بتانے والا۔۔ لیکن وہ تو اچھی دوست ہے اس کی۔۔ اس کو کیا پڑی ہے ایسے راز کھولنے کی۔۔“
”کوٸ پُرانی خار اتارنی ہوگی اس نے اور کیا۔۔ “
شازیہ پرواہ کیۓ بغیر بیزاریت سے بولی تو امینہ نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
”ویسے شازیہ ہوسکتا ہے کہ یہ سب سچ ہو۔۔ اب ایسی باتیں یونہی تو نہیں پھیل جاتی ناں۔۔ کوٸ بات ہوتی ہے جبھی دنیا کو موقع ملتا ہے اپنی زبان کھولنے کا۔۔“
بدمزا ہوکر وہ پھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گٸ تھی۔۔
”اچھا اب تم کوٸ ایسی ویسی بات نہ کردینا لوگوں کے سامنے۔۔ جو بھی ہے وہ نند ہے ہماری اور ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔۔ زمان چچا کی حویلی جاٸنگے تو خود ہی ساری حقیقت کھل کر سامنے آجاۓ گی۔۔ اور ابھی ماں جی کو بھی منع کردے کہ کوٸ بات منہ سے نہ نکالے۔۔ یونہی خواہ مخواہ شادی کا مزہ کرکرا کردینگے یہ لوگ اور میں کوٸ تماشہ نہیں چاہتی۔۔“
اسے تنبیہ کر کے شازیہ اب کے ذرا آرام دہ ہوکر بیٹھی تو امینہ نے برا سا منہ بنایا۔۔ بھلا اس نے کس کو بتانا تھا۔۔ مگر۔۔ اب پیٹ میں کھلبلی مچنے لگی تھی۔۔ اسے کسی کو تو بتانا ہی ہوگا۔۔ مگر کسے۔۔۔؟ یہ ابھی اسے سوچنا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
نڈھال سی امل نے سارے شاپنگ بیگز ایک جانب صوفے پر ڈالے اور پھر خود بھی صوفے پر ڈھیر ہوگٸ۔۔ آج کے طویل چکر نے اسے تھکا دیا تھا۔۔ بی جان نے بھی ہاتھ میں پکڑے بیگز ایک جانب رکھے اور گٹھنوں پر ہاتھ رکھتیں صوفے پر بیٹھیں۔۔
”بی جان پلیز مجھے چاۓ پلوادیں۔۔“
ایسی سخت سردی اور تھکاوٹ میں اسے چاۓ کی شدید طلب ہوٸ تو بی جان نے سر ہلا کر نوراں کو آواز دی۔۔
”تھکا دیا آج کی شاپنگ نے تو بی جان۔۔“
اس نے چادر اتار کر رکھی اور دوپٹہ پھیلا کر سامنے لیتی پیر اوپر کر کے بیٹھی۔۔
”ہاں تھکا تو دیا مگر شکر کہ بازار کا کام پورا ہوگیا۔۔ اب بار بار جانے کی جھنجھٹ سے جان چھوٹی۔۔ ویسے بھی زمان کہہ رہے تھے کہ مہمان آنے والے ہیں اور ان سے پہلے ساری تیاریاں نپٹانی ہیں۔۔ شکر آج یہ بھی ہوگیا۔۔“
”ہوں۔۔۔“
اس نے تھکا سر صوفے کی پشت پر ڈالا۔۔
”مہمان کب تک آٸنگے۔۔؟“
نوراں سے چاۓ لیتے اس نے پوچھا تو بی جان نے چاۓ کا گھونٹ بھرتے اسے دیکھا۔
”بس ایک دو دن میں دور دراز کے مہمان تو آتے ہی ہونگے۔۔ مجھے گرم بستر وغیرہ بھی نکلوانے ہیں اور کمروں کی صفاٸ بھی کروانی ہے۔۔ یا خدا کتنے کام ہیں۔۔ “
ایک تو تھکاوٹ اوپر سے اتنے کاموں کا سن کر اسے مزید تھکاوٹ محسوس ہوٸ تھی۔۔
”کل سے کرینگے بی جان آج تو رہنے دیں۔۔“
”آج ہوگا بھی نہیں۔۔ مغرب ہوگٸ ہے اور رات کا وقت ہے صبح ہی کرواٶنگی سارے کام ملازموں سے۔۔“
گرم گرم چاۓ نے ان کی ساری سردی کو ختم کردیا تھا۔۔ کچھ دیر بعد وہ کپ سینٹرل ٹیبل پر رکھ کر اٹھی اور اپنی ساری شاپنگ اٹھاۓ کمرے میں چلی آٸ۔۔ پہلے وضو بنا کر نماز پڑھی اور پھر شاپنگ بیگز میں سے ایک چھوٹا سا خاکی بیگ نکالا۔۔ اس کے اندر دو انگلیاں ڈال کر اس نے اندر موجود ایک نازک سی شیشی نکالی۔۔ شیشی میں بھرا سیال کاسنی رنگ کا تھا۔ اس نے ڈھکن ہٹا کر اپنی کلاٸ پر ہلکا سا اسپرے کیا تو سارا کمرہ پل بھر کو خوشبو سے مہک اُٹھا۔۔ اس نے سانس کے ساتھ خوشبو اندر اتاری۔۔ مغرب کے بعد کی نیلاہٹ کمرے کے باہر بکھری تھی اور اس کے کمرے کی مدھم زرد بتیاں روشن تھیں۔۔ ایسے میں اس خوشبو کا کمرے کی فضا میں تحلیل ہونا اسے مزید خوابناک بنا رہا تھا۔۔ اس نے احتیاط سے شیشی واپس اندر رکھی اور پھر ساتھ ہی ایک کی چین نکالا۔۔ اس پر بہت نازک سی باریک زنجیریں لٹک رہی تھیں اور ان زنجیروں کے اختتام پر جگہ جگہ چھوٹا سا ”w“ لکھا تھا۔۔ اس نے مسکراتے ہوۓ اسے بھی اندر ڈالا اور پھر اپنے ساٸیڈ کی دراز میں چھوٹا سا بیگ رکھ کر دراز بند کردیا۔۔ یہ اس نے بی جان کی نظر سے بچ کر ولی کے لیۓ خریدا تھا۔۔ وہ اسے یہ تحفہ دینا چاہتی تھی۔۔ خوشبو کا تحفہ۔۔ خوابناک سا کمرہ اسے بلاوجہ ہی اچھا لگنے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دیر رات تک ڈیرے پر رہ کر کاموں کو سمیٹا اور پھر سنسان پڑے دالان سے اتر کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔۔ اگلے چند دنوں میں حویلی میں مصروف رہنے والا تھا اسی لیۓ زمان احمد کے حکم پر اس نے آج سارے پچھلے کاموں کو بھی نپٹا دیا تھا۔۔
حویلی کی جانب بڑھتی اس کی گاڑی اندھیرے میں گھری ہوٸ نظر آتی تھی۔۔ کچے راستوں پر سردی کے باعث پگڈنڈیاں سنسان پڑی تھیں۔۔
دفعتاً اس نے گاڑی کو بریک لگایا۔۔ اسے محسوس ہوا کہ کوٸ اسے دیکھتے ہی کھیتوں میں گھسا ہے۔۔ اس کے ابرو سُکڑے۔۔ آس پاس باریک بینی سے دیکھتا وہ چند پل جانچتا رہا مگر جب اسے کچھ دوبارہ محسوس نہیں ہوا تو کار آگے بڑھا دی۔۔ شاید اسکا وہم ہو۔۔
قریباً آدھے گھنٹے کی ڈراٸیو کے بعد وہ حویلی کے سامنے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکل رہا تھا۔۔ اندر لاٶنج سے لڑکیوں کے تالیاں بجانے اور گانا گانے کی آوازیں باہر لان تک اسے سُناٸ دیں۔۔ اس نے کوفت سے سر جھٹکا۔۔ اور پھر جو دروازہ اس کے کمرے کا لان کے پچھلے جانب کھلتا تھا اسے دھکیل کر اندر داخل ہوا۔۔ یہ دروازہ اس نے بہت بعد میں بنوایا تھا۔۔ بیک ڈور۔۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ اسکی توقع کے عین مطابق اس کی ضرورت بنتا گیا تھا۔۔
کمرے میں داخل ہو کر اس نے دروازہ بند کیا اور چابیاں،موباٸل اور چشمہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر جیسے ہی مُڑا اس کے قدم رک گۓ۔۔ ایک سیکنڈ لگا تھا اسے تبدیلی بھانپنے میں۔۔
ایک چھوٹے سے خاکی بیگ کے اوپر امل نام کی چِٹ لگی تھی۔ اس نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ آگے بڑھ کر اس پیکٹ کو اٹھایا اور پھر دو انگلیاں اندر ڈال کر اندر موجود نازک سی شیشی باہر نکال لی۔۔ اس کے ابرو سُکڑے۔۔ پرفیوم اسپرے کیۓ بغیر اس نے ٹیبل پر رکھا اندر کچھ اور بھی بج رہا تھا۔ اور پھر اپنی ہتھیلی پر اس نے جیسے ہی خاکی پیکٹ اُلٹا ایک کی چین اس کی ہتھیلی پر پھسل کر آگرا۔۔ وہ ایک قدیم طرز کا کوٸ لکڑی کا بنا چھوٹا سا گھر تھا جس کے نیچے بہت سی باریک زنجیریں لٹک رہی تھیں۔۔ ان زنجیروں کے آخری سرے پر بہت سے چھوٹے چھوٹے ”w“ بنے تھے۔۔
اس نے گہرا سانس لے کر دونوں چیزوں کو دوبارہ سے پیکٹ کے اندر ڈالا اور پھر واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔
باہر لاٶنج میں آج لڑکیوں کا جمِ غفیر تھا۔۔ جیسے جیسے تاریخ نزدیک آتی جارہی تھی ڈھولکی میں لڑکیوں کا اضافہ بھی ہوتا جارہا تھا۔۔ امل نے آج گہرے کتھٸ رنگ میں سِلک کی لمبی قمیص پہن رکھی تھی جس کی آستینیں ہتھیلیوں تک چوڑیوں کی صورت آتی تھیں۔۔۔ نیچے قمیض سے ذرا ہلکے رنگ کا چُوڑی دار پجامہ پہن رکھا تھا اور دوپٹّہ بھی سِلک ہی کا ایک کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔۔ ہاں بالوں کو اس نے عادت کے برخلاف آج فرنچ چوٹی میں گُوندھا تھا اور گول گول ایک سِکّے جتنی سلور بالیاں پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ اسے بی جان نے کچن سے آواز دی تو وہ لاٶنج سے اُٹھ کر کچن میں چلی آٸ۔۔
”امل بیٹے جاٶ برابر حویلی سے ناجیہ اور ارجمند بھابھی کو بُلا لاٶ۔۔ مجھے دیکھو یاد ہی نہیں رہا انہیں آج کی ڈھولکی کا بولنا۔۔ تم جاٶ اور نوراں کو اپنے ساتھ لیتی جانا۔۔“
انہوں نے اسے کہہ کر پیچھے دم پر پکتی چاۓ کو دیکھا اور کاموں میں پھر سے مصروف ہوگٸیں۔۔ وہ نوراں کو لیۓ لان میں آٸ۔۔ اپنا دوپٹّہ درست کر کے سر پر لیا مگر وہ سلک تھا بار بار سر سے ڈھلک جاتا۔۔ ولی جو کمرے کا دروازہ بند کرتا باہر نکل رہا تھا اسے دوسری حویلی کی جانب بنے دروازے کے پاس نوراں کے ساتھ کھڑے دیکھ کر چونکا۔۔ اس وقت۔۔ دوسری حویلی میں۔۔ اسے اچھنبا ہوا۔۔ وہ اب درمیانی دروازہ پار کۓ دوسری حویلی میں داخل ہورہی تھی۔۔ اس نے بغور اسے جاتے دیکھا اور پھر وہیں کھڑا رہا۔۔
حویلی میں حسبِ سابق زرد بتیاں روشن تھیں اور ساری حویلی کا احاطہ کیۓ ہوۓ تھیں۔ وہ دونوں پورچ سے گزر کر لاٶنج میں آٸیں۔ نفیس اور نذیر دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے آہٹ پر چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر نفیس تو گویا کرنٹ کھا کر اُٹھا۔۔
”امل تم۔۔ یہاں۔۔ آٶ ناں۔۔“
نذیر بھی اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ امل نے بیزارت سے یہاں وہاں ارجمند اور ناجیہ کو ڈھونڈا۔۔ یہ قابلِ نفرت شخص کیوں بیٹھا تھا یہاں۔۔!
”وہ دراصل میں تاٸ اور ناجیہ کو بلانے آٸ تھی۔۔ کہاں ہیں وہ دونوں۔۔؟“
اس نے نفیس کو نظرانداز کر کے نذیر سے پوچھا۔۔
ماں جی۔۔۔ ناجیہ۔۔۔“
اس نے دونوں کو آوازیں دیں۔۔
”آٶ ناں امل بیٹھو۔۔“
نفیس نے پھر پیش کش کی تھی۔۔
”نو تھنکس۔۔ بس آپ ناجیہ اور چچی کو بلادیں میں انہیں لینے آٸ ہوں۔۔ آج ڈھولکی ہے اور کل سے بھاجی اور نثار بھاٸ کی رسمیں شروع ہوجاٸنگی تو ان کا وہاں ہونا لازمی ہے۔۔ آپ ذرا جلدی بلادیں انہیں۔۔۔“
اس نے رکھاٸ سے کہہ کر نفیس کی جانب دیکھا تو اس کا چہرہ بُجھ گیا۔ البتہ ناجیہ اوپر ریلنگ سے جھانکی تھی۔۔
”امل۔۔“
اسنے چہرہ اٹھایا۔۔
”چلو ناں یار بی جان بلار رہی ہیں تمہیں بھی اور چچی کو بھی۔۔“ نذیر ماں کو کمرے میں بلانے گیا تھا۔۔
”اچھا ناں مجھے تیار تو ہو لینے دو۔۔ آجاٶ اوپر پہلے میں تیار ہوجاٶں پھر ساتھ ہی چلیں گے۔۔ “
”بیٹا مجھے پتہ ہے تم کتنی جلدی تیار ہوتی ہو۔۔ میں تاٸ کو لے کر جارہی ہوں تم آتی رہنا۔۔“
اس نے ارجمند کو زینوں سے اترتے دیکھ کر کہا۔۔ وہ شاید نماز پڑھ رہی تھیں۔۔ ان کا دوپٹہ اب تک چہرے کے گرد لپٹا تھا۔۔
”چلیں تاٸ آجاٸیں۔۔ اور تم بھی جلدی آجانا ناجیہ تیار ہو کر دوبارہ آنا نہ پڑے مجھے تمہارے لیۓ۔۔“
اس نے تاٸ کو جیسے ہی کندھوں سے تھاما انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔ امل تو امل لاٶنج میں کھڑا نفیس اور اوپر سے جھانکتی ناجیہ بھی ششدر رہ گٸ۔۔
”میں خود جاسکتی ہوں تمہیں ضرورت سے زیادہ میٹھا بننے کی کوٸ ضرورت نہیں ہے۔۔ اور آٸندہ میرے گھر میں آٶ تو یہ جو کِیل کانٹے لگا کر تم آتی ہو ناں انہیں چادر سے ڈھک کر آنا۔۔ مجھے تمہارا یہ آزاد رویہ بالکل نہیں پسند۔۔ یہ لڑکوں کا گھر ہے کیا کسی نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ کس طرح دوسروں کے گھر جایا جاتا ہے۔۔۔“
ایک سیکنڈ کے لیۓ پوری حویلی میں سنّاٹا چھا گیا۔۔ امل کو لگا وہ کبھی ہل نہیں پاٸ گی۔۔ اس کے اندر ایک ساتھ بہت سے آنسو جما ہوۓ۔۔ چہرہ شرمندگی سے سُرخ پڑ گیا۔۔
”تاٸ آپ۔۔ ایسے۔۔“
”بس بس۔۔ اب زیادہ بہانے بازیوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔ جیسے ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آتا یہ سب۔۔“
سر جھٹک وہ باہر کی جانب ہولیں تو پتّھر ہوٸ امل کی آنکھ سے آنسو ٹپک کر اسکے قدموں میں گِرا۔۔ ناجیہ فوراً نیچے آٸ تھی۔۔
”امل۔۔ امل ماں جی کا یہ مطلب۔۔“
مگر اب اس میں اور سننے کی سکّت نہیں تھی۔۔ آنسو ہاتھ کی پُشت سے صاف کرتی وہ بھاگتی ہوٸ باہر نکلتی چلی گٸ۔۔ نوراں بھی گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔
”یہ کیا ہوگیا تھا ماں جی کو۔۔؟ پہلے تو امل امل کہتے نہیں تھکتی تھیں۔۔“
نفیس نے ناسمجھی سے ناجیہ کو دیکھا تو اس نے مسکرا کر کندھے جھٹکے اور لاعلمی کا اظہار کرتی تیار ہونے چلی گٸ۔۔
