Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 14) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 14) Part - 2
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
صبح حویلی میں بہت چہل پہل ہورہی تھی۔ قانتہ بی جان کے اصرار پر آج صبح سے ہی آگٸ تھی اور اب لاٶنج میں بیٹھی بی جان سے باتیں کررہی تھی۔ زین گھر میں آۓ مہمانوں کے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
اسی پل زینوں سے امل اور سامیہ اترتی ہوٸ نظر آٸیں۔ امل نے وہی کاسنی فراک جو پیروں تک گرتی تھی پہن رکھی تھی۔ سیاہ ریشمی بالوں کو ہاف باندھا ہوا تھا اور کانوں میں موجود چھوٹے سے ٹاپس اسے مزید حسین بنا رہے تھے۔ اس کے ساتھ اترتی سامیہ بھی بہت بشاش سی، کاٹن کے ایمبراٸڈری والے جوڑے میں ملبوس کھلی کھلی سی لگ رہی تھی۔
امل کی نظر قانتہ پر پڑی تو اس کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھل گۓ۔ قانتہ اور سامیہ اس کے لوگ تھے جن کے ساتھ وہ بہت کمفر ٹیبل ہوتی تھی۔
“اسلام علیکم قانتہ”
اس کی چہکار پر قانتہ مسکرا کر اُٹھی اسے گلے لگایا اور پھر الگ ہوکر اس کا چمکتا چہرہ دیکھا۔۔
“وعلیکم سلام۔۔ ماشااللّہ آج بڑی کھلی کھلی لگ رہی ہو۔۔”
وہ ہنس دی پھر سامیہ کی جانب مڑی جو بی جان کے ساتھ بیٹھی ان دونوں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
“یہ سب سامیہ کا کمال ہے قانتہ۔ آپ اس کے ساتھ بیٹھیں گی ناں تو بہت انجواۓ کرینگی اس کی کمپنی کو۔ بہت بہت اچھی بندی ہے یہ۔۔ میری بیسٹ فرینڈ۔۔”
سامیہ بھی سلام کرتی قانتہ سے گلے ملی اور پھر اگلے چند ہی لمحات میں لاٶنج سے ہنسنے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ پر خلوص سی باتوں سے امل کا دل جو کل شازیہ کی باتوں پر بوجھل ہوگیا تھا کھل سا گیا۔۔
“چلو لڑکیوں ناشتہ کر لو آکر۔۔”
بی جان نے انہیں کچن سے آواز دی تو وہ تینوں اُٹھ کر کچن میں چلی آٸیں۔ قانتہ تو ناشتہ کرچکی تھی اسی لیۓ صرف چاۓ پر اکتفا کیا مگر امل اور سامیہ نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔ سامیہ کی کسی بات پر ہنستی امل کی مسکراہٹ سمٹی جب اس نے ولی کو کچن میں داخل ہوتے دیکھا۔
وہ ہلکے کتھٸ سے رنگ کے شلوار قمیص میں ملبوس دھلے بالوں کو پیچھے جماۓ ہوۓ اندر داخل ہورہا تھا۔ شال جو گردن کے گرد ہمیشہ لپٹی رہتی تھی ابھی نہیں تھی۔ وہ ان تنیوں کو دیکھ کر ٹھٹک کر رکا۔۔ پھر سلام کرتا اندر چلا آیا۔۔
“وعلیکم سلام۔۔ جناب کہاں تھے اتنے دنوں سے آپ۔۔؟”
قانتہ نے سب سے پہلے اس کے کان کھینچے تھے۔ امل نے تو سر پورا جھکا رکھا تھا اور سامیہ اس کے برعکس مسکرا کر ولی کو دیکھ رہی تھی جو قانتہ کی کھنچاٸ پر گڑبڑایا تھا۔۔
“میں یہیں تھا۔۔”
“یہاں کہاں۔۔۔؟”
قانتہ کی بات پر امل نے امڈتی مسکراہٹ روکی تھی۔ ولی کی نظر اس پر پھسلی تو ایک پل کو اس کا دل ڈول سا گیا۔ جھکے سر کے ساتھ مسکراتی ہوٸ وہ اس سمے دل میں اتر رہی تھی۔۔
“کام تھا کچھ بس اسی لیۓ نہیں آ پایا گھر۔۔”
اس نے کہا اور پھر پلٹ کر نوراں کو چاۓ کا کہنے لگا۔
“کام کرو ٹھیک ہے۔۔ مگر یہ جو بے جا سزاٸیں دیتے ہو ناں تم اس پر بس کردو اب۔ نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔”
قانتہ کہاں باز آرہی تھیں۔ سامیہ نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔ امل نے قانتہ کو گھبرا کر دیکھا تھا مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔
“میں نے کسے سزا دی ہے۔۔۔؟”
وہ حیران ہوا تھا۔۔ قانتہ نے تنبیہی نظروں سے اس اونچے سے لڑکے کو دیکھا۔۔
“انسان بن جاٶ۔۔ اب اگر تم نے ہماری پیاری سی لڑکی کو رُلایا تو دیکھنا ہم کیا کرینگے تمہارے ساتھ۔”
وہ بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
“غلط فہمی ہوٸ ہے آپ کو قانتہ جی۔۔ سزاٸیں دینا میرا کام ہے ہی نہیں۔ ۔ بھلا کسی اور کا کام میں کیسے کرسکتا ہوں۔ آپ ان سے پوچھ لیں کہ کیا میں نے کبھی سزا دی ہے انہیں۔۔؟”
اس کی ذو معنی بات کو کچن میں بیٹھی تینوں لڑکیوں نے سمجھ لیا تھا اسی لیۓ وہ تینوں ایک ساتھ ہنس پڑیں تھیں۔
اسی پل شازیہ اور امینہ کچن میں داخل ہوٸیں۔۔۔ ولی جو مسکرا کر ابھی کچھ اور بھی کہنے لگا تھا یکدم رُک گیا اور پھر رخ پھیر لیا۔ امل کے چہرے پر رقصاں مسکراہٹ غاٸب ہوٸ اور خوشگوار سے ماحول میں تناٶ در آیا۔۔
“کس بات پر ہنسا جارہا ہے بھٸ ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے۔۔ اور امل۔۔ ہمارے ساتھ تو بیٹھ کر تم اب تک ایسے نہیں ہنسیں اور یہاں تو دیکھو کیسے ٹھٹھے اڑاۓ جارہے ہیں۔۔”
شازیہ کی طنزیہ ٹون پر ولی کا چہرہ بے حد سپاٹ ہوگیا تھا۔ اس نے اپنی چاۓ لی اور پھر دروازے میں کھڑی دونوں بہنوں کو بھرپور طریقے سے نظرانداز کرتا آگے بڑھ گیا۔ شازیہ اور امینہ۔۔ دونوں نے گردن موڑ کر ولی کو دیکھا تھا۔
“اس میں کس بات کا غرور ہے بھٸ۔۔؟ نہ سلام نہ دعا۔۔ سارے ایک ہی جیسے ہیں کیا اس گھر میں۔۔!”
ولی کے انداز پر تلملاتی شازیہ اندر آٸ اور امینہ سامیہ کے ساتھ والی کرسی پر آبیٹھی۔ امل نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری تھی۔
“یہ سامیہ اور یہ قانتہ ہیں بھابھی۔۔ دونوں میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔۔”
اس نے دونوں کی جانب اشارہ کر کے تعارف کروایا۔۔ تو شازیہ کے ابرو حیرت سے اوپر کو اُٹھے۔۔
“یہ بھی فرینڈ ہیں تمہاری۔۔؟”
قانتہ کی جانب اشارہ کر کے پوچھا تو امل کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔۔ مگر قانتہ بہت پرسکون تھیں۔۔
“جی یہ بھی فرینڈ ہیں۔۔”
“اچھا بھٸ۔۔ تم کب سے اتنی بڑی لڑکیوں سے دوستیاں کرنے لگ گٸیں۔۔”
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر چاۓ اپنے کپ میں اُنڈیلی تھی۔ امینہ نے بھی مسکرا کر امل کا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھا۔۔
“کیا فرق پڑتا ہے بھابھی۔۔ دوست تو دوست ہوتے ہیں ناں بھلے چھوٹے ہوں یا بڑے۔ اور ویسے بھی قانتہ بہت سجھدار ہیں مجھے ہمیشہ بڑی بہنوں کی طرح گاٸیڈ کرتی ہیں۔۔”
اس نے مسکرا کر قانتہ کو دیکھا تو وہ بھی جواباً مسکراٸ۔ سامیہ البتہ اپنی چاۓ گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی۔ کچن میں ایک بار پھر سے خاموشی پھیل گٸ تھی۔
اسی وقت ولی کچن کے دروازے میں پھر سے نمودار ہوا تھا۔۔
“قانتہ ایک منٹ بات سنیۓ گا میری۔”
اس نے وہیں سے کھڑے ہو کر قانتہ کو پکارا تو وہ اُٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گٸیں۔ سامیہ اپنا ناشتہ کر چکی تھی اور امل کی بھوک مر گٸ تھی۔ اسی لیۓ ان دونوں کا انتظارکیۓ بغیر وہ دونوں بھی اٹھ کر باہر کی جانب بڑھیں تو اب کے شازیہ کا غصہ سو نیزے پر جا پہنچا۔۔ کوٸ ان کے ساتھ بیٹھ ہی نہیں رہا تھا۔۔ دوسرے لفظوں میں کوٸ انہیں نٸ نویلی دُلہنوں کی طرح لفٹ ہی نہیں کروارہا تھا۔۔
امل تو جیسے بہت مجبوری کے تحت اس سے بات کرریی تھی اور گھر کے باقی افراد۔۔ ہاں باقی سب ٹھیک تھے اس کے ساتھ۔
ولی کا انداز بہت کھنچا کھنچا سا تھا۔۔ سپاٹ، محتاط۔۔
مگر ابھی ان کے آنے سے قبل کیسے وہ ان سب کے ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں بات کررہا تھا۔ تب تو اس کے چہرے پر ایسا کوٸ تاثر ہرگز بھی نہیں تھا۔
بس شاید باہر والوں کو دیکھ کر تیوری چڑھ جایا کرتی تھی اس کی۔۔
اس نے “ہونہہ” سر جھٹکا۔۔
“دیکھا تم نے ان سب کو۔۔ ہمیں تو ایسے نظرانداز کیا ہے جیسے ہم ہیں ہی نہیں یہاں۔۔”
امینہ نے کہہ کر ایک کینہ پرور نگاہ کچن کے دروازے پر ڈالی۔
“اور یہ امل۔۔ ہونہہ بہت غرور ہے اسے اپنی خوبصورتی پر۔ ابھی بھی دیکھا کیسی سجی سنوری ہوٸ تھی اور ولی کھڑا تھا مگر مجال ہے جو اس نے اپنے لہراتے بالوں پر دوپٹے کا ایک پلو بھی ڈالا ہو۔ اور لوگ مثالیں دیتے ہیں اس کی۔۔!”
وہ دونوں بھی ناجیہ سے کم نہیں تھیں۔ اپنی قابلِ قبول صورتوں کو بہت تراش خراش کے بعد سجایا تھا مگر پھر بھی امل کے سامنے دونوں کہیں پسِ منظر میں چلی جایا کرتی تھیں۔ اس کا سامنے بھلا کوٸ ٹک ہی کیسے سکتا تھا۔۔ وہ تو دُھلی چاندنی تھی۔۔
بے داغ اور خوبصورت۔۔
کچن سے باہر سامیہ نے ایک پل کو اسے ہاتھ سے پکڑ کر روکا تو وہ چونک کر اس کی جانب دیکھنے لگی۔۔
“تمہاری دونوں بھابھیوں کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے امل۔ احتیاط کرنا”
امل نے گہرا سانس لیا تھا۔۔
“تمہیں اب ٹھیک نہیں لگ رہے۔ میں تو، جب سے آٸیں ہیں یہ دونوں تب سے بھگت رہی ہوں انہیں۔ عجیب طنز کرتی رہتی ہیں چوبیس گھنٹے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ میں نے کیا بگاڑا ہے ان کا۔۔؟ میں نے تو کبھی بھی کوٸ سخت بات نہیں کی ان سے۔ ہمیشہ عزت کی ہے ان کی۔۔ اور پتہ ہے کل کیا کہا تھا مجھے شازیہ بھابھی نے۔۔”
کہتے کہتے اس کی آنکھیں بھرنے لگیں تو سامیہ چونکی۔۔
“کیا کہا۔۔؟”
وہ اسے گیسٹ روم میں لے آٸ تھی ہاتھ سے پکڑ کر۔۔
“کہہ رہی تھیں کہ انہیں بڑی تاٸ نے بتایا ہے کہ میں ولی سے بہت بے تکلف ہوں۔۔”
ایک آنسو ٹپکا تھا اس کی آنکھ سے۔۔
سامیہ تو اس کی بات سن کر بھونچکی رہ گٸ تھی۔
“کیا۔۔۔!! انہوں نے کیوں کہی ایسی بات۔۔؟؟”
“ناجیہ۔۔ ناجیہ ولی کو پسند کرتی ہے سامی اسی لیۓ اس نے ایک کی چار لگا کر میرے بارے میں پتہ نہیں کیا کیا اپنی ماں کو کہا ہے۔ ارجمند تاٸ تو جب تک ہر بات نگار تاٸ سے نہ کرلیں انہیں چین نہیں پڑتا۔ انہوں نے نگار تاٸ کو بتادیا اور انہوں نے اپنی بیٹیوں کو۔۔ اب یہ بات سارے خاندان میں پھیلےگی اور پھر بی جان تک بھی پہنچے گی۔۔ سوچو ان کو کتنا دُکھ ہوگا۔۔”
اس نے بوجھل سی سانس خارج کر کے اپنی آنکھیں رگڑیں۔ سب کچھ بگڑتا جارہا تھا۔۔
“تو چندا پھر تم نے مجھے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔؟؟”
“کیا بتاتی تمہیں میں۔۔ اُلٹا تم پریشان ہوجاتیں۔۔ اور ایک تو ارجمند تاٸ کے بیٹے نفیس نے زندگی عذاب کردی ہے میری۔”
سامیہ اس کی بات پر پھر سے چونکی۔۔
“کیوں۔۔۔؟؟ کیا کیا ہے اس نے۔۔؟؟”
“اس دن وہ میرے کمرے میں آگیا تھا۔۔”
بہت آہستہ آواز میں اس نے کہہ کر گیلی سانس اندر کھینچی تو سامیہ کو لگا اس نے کچھ غلط سن لیا ہے۔۔
“لیکن کیوں۔۔۔؟؟”
“بدتمیزی کی اس نے میرے ساتھ۔۔”
“کیا۔۔۔!!”
سامیہ نے بے یقینی سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر تھاما۔۔ اس کی روٸ روٸ سی شہد رنگ آنکھوں کا راز اب کھلا تھا اس پر۔۔
“ہم سب رسم کرنے جارہے تھے تاٸ کے گھر۔ میں اپنے کمرے میں بال بنانے آٸ تو وہ بھی میرے پیچھے کمرے میں آگیا۔۔ نیچے گھر میں اتنا رش تھا سامی کہ کسی نے اسے آتے دیکھا ہی نہیں مگر ولی۔۔”
اس نے گہرا سانس لیا۔۔ سامیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“ولی نے اسے دیکھ لیا تھا میرے کمرے میں آتے ہوۓ۔۔”
ایک پل کو وہ رکی تو سامیہ نے اس کے یخ پڑتے ہاتھوں کو تھاما۔
“پھر کیا ہوا۔۔؟”
“پھر اس نے میرے کمرے میں آکر اسے مارا۔۔ اس کے گھٹنے سے خون آنے لگ گیا تھا۔۔ میں بہت ڈر گٸ تھی سامی، مجھے لگا وہ اسے جان سے ماردے گا مگر اس نے نہیں مارا۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میری طبیعت خراب ہوجاتی ہے جسمانی تشدد دیکھ کر۔۔ اس نے اسے کچھ بھی نہیں کہا مگر مجھے یقین ہے کہ واپس آکر اس نے نفیس کو نہیں چھوڑا ہوگا۔۔ پتہ ہے دونوں دن وہ تقریب میں شریک نہیں ہوا۔ بابا نے حسن تایا سے پوچھا تو وہ بتانے لگے کہ نفیس سیڑھیوں سے گر گیا تھا کافی چوٹیں آٸ ہیں۔۔ مگر میں اسی وقت سمجھ گٸ کہ اس کو چوٹیں کیسے آٸ ہونگی۔۔”
اس نے ایک بار پھر گہرا سانس لیا۔۔ سامیہ کو بے اختیار اس پر ترس آیا تھا۔
“اور تم کب سے یہ سب اپنے اندر لے کر بیٹھی ہوٸ ہو ہاں۔۔!”
“میں اور کیا کرتی۔۔؟ ولی پھر سے اپنے سرد مہر سے خول میں سِمٹ گیا ہے سامی اور میں۔۔ میں نے جتنی محنت سے اس کے اور اپنے درمیان کی دیواروں کو گرایا تھا وہ اب پھر سے ہمارے درمیان آکھڑی ہوٸ ہیں اور اب۔۔ ان دیواروں کو گرانے کا کوٸ راستہ نہیں ہے۔۔”
“پریشان مت ہو۔۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“اب کچھ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوگا سامیہ۔ کبھی بھی نہیں۔ مجھے پتہ نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے بہت بڑی بدنامی میرا انتظار کررہی ہے۔ جیسے۔۔ جیسے کچھ بہت غلط ہونے والا ہے۔ میرا دل بہت بوجھ تلے ہے لگتا ہے پھٹ جاۓ گا۔۔ میں کیا کروں سامیہ۔۔؟”
اس کے بے ساختہ ہچکی اُبھری تھی۔۔ سامیہ نے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگایا تو وہ اس کے کندھے سے لگی مزید رونے لگ گٸ۔ اتنے دنوں بعد اسے کندھا میسر آیا تھا بھلا وہ کیسے نہ اپنا دل ہلکا کرتی۔
۔۔۔۔۔۔۔
”قانتہ۔۔ امل کا خیال رکھیۓ گا۔۔ مجھے پتہ نہیں کیوں وہ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔“
قانتہ نے ایک پل کے لیۓ اسکا چہرہ دیکھا۔ تھوڑی دیر قبل کے سپاٹ سے ولی کے برعکس۔
قدرے مختلف۔۔۔ پریشان سا۔۔
”اور تمہیں کیوں ہونے لگی اس کی اتنی فکر۔۔۔؟“
ایک دم قانتہ نے بہت سختی سے کہا تو ولی نے اس کی جانب ناسمجھی سے دیکھا۔ وہ دونوں سبزہ زار پر کھڑے تھے اور صبح کی نرم سی دھوپ ترچھی ہوکر گر رہی تھی۔۔
”کیا مطلب میں سمجھا نہیں۔۔“
”کیا نہیں سمجھے تم۔۔؟ وہ پچھلے تین دنوں سے بلکتی رہی تمہاری غیر موجودگی میں ولی۔۔ پچھلے پورے تین دن۔۔!“
انہوں نے اپنے لفظوں پر زور دیا۔۔
”تین دنوں سے وہ مستقل عذاب میں ہے، تمہاری راہ تک رہی ہے، تم سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر پارہی اور انتظار کی سُولی پر لٹکی ہوٸ ہے کہ کب تم اس سے خود بات کروگے۔ تمہیں لگتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے۔۔ وہ ٹھیک رہے گی۔۔! اس سارے عرصے میں وہ خود کے ساتھ اُلجھی ہوٸ تھی۔ مگر تمہیں اس سے کیا ولی احمد۔۔ تم کرو جو کررہے ہو۔۔ کرتے رہو۔۔ تمہیں کیا فکر اس کی۔ وہ کیسے بھی رہے جیۓ یا مرے۔۔ لوگوں کی بکواس سنتی رہے اس سے تمہیں کیا۔۔! تم تو کبھی اتنی ہمت نہیں کروگے کہ آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لو۔ اس کے سب سے کمزور لمحات میں اس کا سہارا بنو۔ دنیا اگر تمہارے اور اس کے درمیان آرہی ہے تو تم بھی آگے بڑھ کر دنیا سے اسے چھین لو ولی۔ مگر تم ایسا کیوں کروگے۔ اس سے محبت نہیں کرتے تم۔۔ تمہیں صرف خود سے محبت ہے۔ صرف خود کی پرواہ ہے تمہیں۔ اس کے ساتھ کچھ بھی ہوتا رہے کیا فرق پڑتا ہے۔۔ کیوں ٹھیک کہہ رہی ہو ناں میں۔۔“
آخر میں رک کر بہت بے رحمی سے پوچھا تو ولی کا دل ایک پل کو کانپ گیا۔ آنکھوں میں تکلیف ابھری اور ضبط سے دانت جم گۓ۔۔
”میں اس سے صرف اس لیۓ دور ہوں کیونکہ میں اس کی بربادی نہیں چاہتا۔ آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں ہیں کہ میں cursed ہوں۔ منہوس ہوں میں۔ جہاں جاتا ہوں زندگیاں نگل جاتا ہوں لوگوں کی اور آپ چاہتی ہیں کہ میں اسے اپنے ساتھ اس مٹی ہوتی ذلیل زندگی میں رول دوں۔۔؟ وہ جسے میں اپنے ساۓ سے بھی دُور رکھنا چاہتا ہوں اسے اپنی زندگی میں جگہ دے کر تباہ کردوں۔۔! میں کسی دشمن کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرسکتا اور آپ۔۔“
اسکی آواز کانپی تھی۔۔
”آپ مجھے اس لڑکی کے ساتھ ایسا کرنے کے لیۓ کہہ رہی ہیں کہ جس کی زندگی کے لیۓ ولی سو دفعہ اپنی زندگی قربان کرسکتا ہے۔۔!“
قانتہ چند لمحے کچھ بھی نہ بول سکی۔۔
”جانتے ہو کیا ولی۔۔ تم خوفزدہ ہو۔۔ ڈرتے ہو تم۔۔“
ایک بار پھر قانتہ نے بہت ہمت کر کے اس پر چوٹ کی تو ولی کی آنکھیں جلنے لگیں۔۔
”ہاں ڈرتا ہوں میں۔۔ خوفزدہ ہوں میں قانتہ۔۔ بہت بہت خوفزدہ ہوں۔۔ اسے ایک سانس کی بھی اذیت ہوٸ اور اس اذیت کی وجہ میں بنا تو میں کہیں کا نہیں رہونگا۔۔ میری زندگی کی آخری خواہش یہی ہے کہ اسے اس کی زندگی میں خوش دیکھ سکوں۔ مطمٸن دیکھ سکوں۔ اور اس سب کو سوچتے ہوۓ میری ذہن کی تصویر میں، میرا وجود کہیں پر بھی نہیں جچتا۔ وہ ریشم ہے اور میں ٹاٹ۔۔! وہ آسمان ہے اور میں۔۔ میں زمین پر پڑی خاک بھی نہیں ہوں۔۔ مگر وہ بیوقوف لڑکی۔۔!“
اس نے رک کر چہرہ اُونچا کیا اور اس کے کمرے کی کھڑکی پر نظر ڈالی۔۔
”وہ بیوقوف لڑکی سمجھتی ہی نہیں ہے کچھ بھی۔ جتنا بھی اپنے رویے سے سمجھا لو، سختی کر لو، ڈانٹ دو مگر اس سب کا تو اس پر کوٸ اثر ہی نہیں ہوتا۔ جب بھی میری طرف دیکھتی ہے تو اس کی آنکھیں محبت کے احساس سے اس قدر جگمگاتی ہیں قانتہ کہ میں ڈر جاتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں خود کو روک نہیں پاٶنگا۔۔ اور جب بھی مجھے ایسا لگتا ہے تو مجھے خود سے نفرت ہوجاتی ہے۔ گھن آتی ہے خود سے۔۔“
”تم ظلم کررہے ہو ولی۔ خود کے ساتھ بھی اور اس کے ساتھ بھی۔ ایک دفعہ شادی کر کے تم اسے اس حویلی کی سیاستوں سے دور لے جاٶ تو وہ سب بھول جاۓ گی۔ تم کیوں اپنی اور اس کی زندگی کو عذاب بنا رہے ہو۔۔؟؟“
ولی نے جلتی آنکھیں چند لمحوں کے لیۓ موند لیں۔ جلن اب اس کی کنپٹیوں سے سرایت کرتی سر کے پچھلے حصے میں اتر رہی تھی۔۔
”ظلم ہوچکا قانتہ۔ اب بس انتقام کے اُلٹے چکر باقی ہیں۔ ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیۓ قدرت اپنے اُلٹے چکر شروع کرچکی ہے جس میں میری زندگی کی کوٸ گارنٹی نہیں۔ میری دُشمنیاں ہیں، میرا اُٹھنا بیٹھنا بدمعاش لوگوں میں ہے، بہت سے لوگ گھات لگاۓ بیٹھے ہیں۔۔ آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میری زندگی کا کوٸ بھروسہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کسی کو انجام تک پہنچاتے پہنچاتے میں خود بھی کہیں مر کھپ جاٶں۔ کوٸ جنازہ بھی نہ پڑھے نہ ہی کسی کو میں یاد رہوں۔ ایسا ہوگا قانتہ۔۔ جلد یا بدیر مگر ہوگا ضرور۔۔ اور ایسے میں آپ چاہتی ہیں میں اس کو خود کے ساتھ باندھ لوں۔ نہیں قانتہ۔۔ میں یہ نہیں کرسکتا۔۔ یہ ظلم ہے۔۔ بہت بڑا ظلم ہے۔۔“
گھبرا کر اس نے نفی میں سر ہلایا تو قانتہ کا دل ایک پل کو لرز کر رہ گیا۔ کتنی خوفناک باتیں کرتا تھا یہ لڑکا۔۔۔!
”تم ایسی باتیں مت کیا کرو ولی۔۔“
پرانی والی قانتہ نے دکھی ہوتے دل سے کہا تو وہ بدقت مسکرایا۔۔ پھر اس کی جانب دیکھا۔۔ اسکی خشک مگر گلابی آنکھیں دیکھ کر قانتہ ڈر گٸ تھی۔۔
”ٹھیک ہے میں نہیں کرونگا آٸندہ ایسی باتیں مگر پلیز۔۔ اس کا خیال رکھیۓ گا۔۔ اس کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی مجھ سے۔۔ اسے سمجھاٸیں۔۔ اگر کوٸ مسٸلہ ہے تو مجھے بتاۓ وہ، مگر اس طرح اندر ہی اندر نہ گھلے۔۔ میں چلتا ہوں اب دیر ہورہی ہے۔۔“
مزید کوٸ بھی بات کیۓ بغیر وہ آگے بڑھ گیا تو قانتہ دُکھی دل سے اسے جاتے دیکھے گٸ۔۔
وہ دونوں ان کے دل سے بہت قریب تھے مگر اب دونوں ہی تکلیف میں تھے جس کے باعث ان کا اپنا دل بھی زخمی ہونے لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے چھوٹی سیاہ آنکھوں کو مزید چھوٹا کر کے سامنے کھڑے شخص کو بغور دیکھا۔۔
”تو تم کہہ رہے ہو کہ ولی کرم کی موت کے وقت وہاں موجود تھا۔۔؟!!“
اسکی آواز میں کوٸ الارم سا تھا جو بج رہا تھا۔۔
”جی سرکار۔۔“
آگے ولے نے گردن مزید جھکاتے ہوۓ کہا تو پرسکون بیٹھا ہاشم یکدم دھاڑا۔۔
”اور تم مجھے اب بتا رہے ہو۔۔!“
”وہ۔۔۔ وہ سرکار آپ اپنی بہنوں کی شادی میں مصروف تھے اسی لیۓ میں نے آپ کو پریشان نہیں کیا۔۔“
جلدی سے گھبرا کر وضاحت دی تو ہاشم کو اپنا سارا وجود آگ میں جلتا ہوا محسوس ہوا۔۔
”میں مصروف تھا۔۔ مر تو نہیں گیا تھا ناں۔۔“
ٹیبل پر ہاتھ مار کر اس نے چند لمحے گہری سانسیں لے کر خود کو پرسکون کیا۔۔
”جب تم نے اسے وہاں مار کر پھینکا تھا تو کیا کرم س وقت زندہ تھا۔۔؟؟“
”ج۔۔ جی سرکار زندہ تھا۔۔ پندرہ منٹ بعد موت ہوٸ تھی اس کی۔۔“
”پندرہ منٹ۔۔۔!!“
وہ پھر سے دھاڑا اور پھر اٹھ کر سامنے کھڑے شخص کو ایک زور دار سا مکا مارا۔۔ وہ پیچھے کو لڑکھڑا کر گرا تھا۔۔
”پندرہ منٹ تک وہ (گالی) زندہ رہا اور تم مجھے اب بتا رہے ہو۔۔ اب بتارہے ہو تم مجھے ہاں۔۔!!“
اس نے ٹیبل پر رکھی ساری چیزوں کو ہاتھ مار کر گردایا تھا۔۔ پھر لمبے بالوں میں ہاتھ پھیر کر غصے کو قابو کیا۔۔
”پندرہ منٹ تک وہ زندہ رہا تو اس نے ولی کے سامنے کچھ نہ کچھ تو ضرور بکا ہوگا۔۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر ولی اب تک کیوں خاموش ہے۔۔؟ وہ تو خاموش رہنے والا بندہ ہے ہی نہیں۔ پھر کیا چیز روک رہی ہے اسے۔۔؟ وہ کیوں چپ کر کے بیٹھا ہوا ہے اب تک۔؟“
اب کے وہ بالوں میں ہاتھ پھنساۓ خود سے بڑبڑا رہا تھا۔۔ پزل کا کوٸ ٹکڑا کہیں سے غاٸب تھا اور اس کی ٹکڑے کی غیر موجودگی اسے اب بے سکون کررہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ولی نے اپنی آنکھوں پر چڑھا سیاہ چشمہ اتارا اور پھر ایک ہوٹل میں داخل ہوا۔ شہر کا بڑا سا ٹاٸلز سے چمچماتا ہوٹل وسیع رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ وہ لابی سے گزرتا مخصوص کمرے کی جانب بڑھا اور پھر لفٹ کے ذریعے اوپر چڑھتا گیا۔۔
لفٹ سے باہر نکلا تو پھر ٹاٸلز سے چمکتے ہال کو پار کرنے کے بعد طویل راہداری میں چلا آیا۔ ۔ راہداری کے دونوں اطراف میں دور دور تک کتھٸ رنگ کے دروازے لگے تھے جو کہ اس وقت بند تھے۔
کبھی کوٸ ایک شخص کسی دروازے کو کھول کر باہر نکل رہا ہوتا تو اس کی نظر آگے بڑھتے ولی پر پڑ جاتی۔ وہ ایک بہت مہنگا سکس سٹار ہوٹل تھا۔
اس نے دروازے کے باہر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر آہستگی سے دروازہ کھولتا کمرے کے اندر داخل ہوا۔
نرم سے جہازی ساٸز بیڈ پر سُرمٸ چادر بچھی تھی، کھڑکیوں پر گرے بھاری پردے بھی گہرے سُرمٸ رنگ کے تھے اور تو اور پیروں تلے بچھا قالین بھی اسی رنگ کا تھا۔ وہ سُرمٸ شیڈز سے ڈھکا بلاشبہ بہت خوبصورت کمرہ تھا مگر ولی کو اس سب میں کوٸ دلچسپی نہیں تھی سو رُخ صوفے کی جانب پھیرا۔ اس پر کوٸ ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا جس کا چہرہ مخالف سمت میں تھا۔۔
”آٶ ولی آٶ۔۔ میں تمہارا ہی انتظار کررہا تھا۔۔“
”جی سر۔ انتظار کے لیۓ معذرت۔۔“
اس نے آگے قدم بڑھاۓ اور جیسے ہی اس کا مسکراتا چہرہ دیکھا تو اس کے اپنے چہرے پر بھی نرمی بکھر گٸ۔
وہ چہرہ حسن شاہ کا چہرہ تھا۔۔
دشمن کے دوست کا چہرہ۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔
