Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 21) 2nd Last Episode (Part - 2)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

ہاشم تابڑ توڑ گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔ دیوانوں کی طرح بھاگتا ہوا لاٶنج میں آیا لیکن لاٶنج زرد قمقموں میں سنسان لگ رہا تھا۔ خالی پڑے لاٶنج کو دیکھ کر وہ اوپر کی جانب بھاگا۔ اس کے قدم جو کبھی بھی لڑکھڑایا نہیں کرتے تھے آج کانپ رہے تھے۔۔ ایک انجانہ سا خوف تھا جو اس کے گرد حصار کھینچنے لگا تھا اور اس حصار میں۔۔ اس حصار میں اس کا دم چند ہی گھنٹوں میں گھٹنے لگا تھا۔

حسین کے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھول کر وہ چند لمحے سرخ نگاہیں لیۓ اس لاغر سے ناکارہ وجود کو دیکھے گیا۔ نگار جو اس کے یوں آناً فاناً آنے پر بے ساختہ مڑی تھیں۔ اس کی خون آشام نظروں کو دیکھ کر ناسمجھی سے اٹھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر انہیں دونوں کندھوں سے تھاما اور بری طرح جھنجھوڑا۔۔

“ایک۔۔ ماں جی۔۔ میں صرف ایک دفعہ پوچھونگا تم سے۔ مجھے جھوٹ بولنے کی غلطی مت کرنا۔ مجھے سب سچ سچ بتانا۔۔”

نگار خوفزدہ ہو کر اس کا سیاہ پڑتا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک ہی رات میں اسے کیا ہوگیا۔۔؟

“کیا تُو میری سگی ماں ہے۔۔؟”

اور نگار کی نگاہیں پھٹ کر باہر آگٸیں۔ دھڑکتے دل اور پھولتے سانس کے ساتھ وہ اسے دیکھ رہی تھیں جو ان کے ہاشم سے بہت مختلف لگ رہا تھا۔ ہاں وہ ان کا ہاشم لگ ہی نہیں رہا تھا۔۔ وہ تو کوٸ بہت بدلا ہوا انسان لگ رہا تھا۔۔ ایک ایسا انسان جو سب کچھ تھا مگر ان کا ہاشم نہیں۔۔

“می۔۔ م۔۔ بتا۔۔”

“میں نے پوچھا کیا میں تیرا سگا بیٹا ہوں یا نہیں۔۔!!”

وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ ساری حویلی لرز اٹھی۔ در و دیوار اس کی دیوانگی پر کانپ اٹھے تھے۔ نگار بیگم کا سارا جسم پسینے میں نہا گیا۔ بولنے کی کوشش کی لیکن ہونٹوں کی بے تحاشہ لرزش پر کوٸ بھی لفظ لبوں سے نکلنے سے انکاری ہوگیا۔۔ سب کچھ ختم ہورہا تھا۔۔ ختم ہوتا جارہا تھا۔۔

“ہا۔۔ ہاشم۔۔ “

لیکن اس نے انہیں زور سے ایک طرف کو دھکیل دیا تھا۔ وہ پھسلتی ہوٸیں کمرے میں رکھے ٹیبل سے جالگیں۔ ماتھے سے خون کی پتلی سی لکیر پھوٹ کر اب چہرے پر لڑھک رہی تھی۔ ہاشم پرواہ کیۓ بغیر آگے بڑھا اور حسین کے لاغر پڑے وجود کو بری طرح جھنجھوڑا۔۔

“کیا میں ناجاٸز ہوں۔۔؟؟ بولو بابا کیا میں ناجاٸز ہوں۔ کہہ دو کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ بول دو۔۔ بس ایک بار ۔۔ کہ میں تمہارا جاٸز بیٹا ہوں۔۔ خدا کے لیۓ بس ایک بار مجھے بتادو کہ وہ ولی جھوٹ بول کر گیا ہے۔ میں۔۔ میں جاٸز ہوں۔۔ میں کبھی اس جیسا نہیں ہوسکتا۔۔ کبھی بھی نہیں ہوسکتا میں اس جیسا۔۔ میں اور وہ ایک سے نہیں ہیں۔ وہ مجھ سے کمتر ہے۔۔ وہ مجھ سے ہر لحاظ میں کمتر ہے۔۔ اس کا اور میرا کوٸ مقابلہ نہیں۔۔ بولو۔۔ ایک دفعہ بولو۔۔ بس ایک دفعہ ایسے بول دو۔۔”

لیکن حسین کے حلق سے سواۓ بے معنیٰ آوازوں کے اور کوٸ آواز نہیں نکل رہی تھی۔ وہ بولنے کی پوری کوشش کررہا تھا لیکن حلق سے غر غر کرتی آوازوں کے سوا اور کچھ نہ نکلا۔۔

اس نے یکدم طیش میں آکر زور سے اسے بیڈ پر پھینکا تو وہ لڑھک کر ایک جانب کو گرا۔ نگار بھاگ کر اس طرف آٸ تھیں۔۔ اسے سیدھا کیا اور ہاشم کو دیکھا۔۔ اس کا چہرہ مردہ ہورہا تھا۔۔ یوں لگا جیسے وہ گل سڑ رہا ہو۔ قدم قدم پیچھے جاتے وہ بس ایک ہی بات دہرا رہا تھا۔۔ بس ایک ہی جملہ۔ کہ وہ ولی جیسا نہیں ہوسکتا۔۔ وہ اس جیسا کبھی بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ لیکن اس کے بولنے سے اب کسی بات پر کوٸ فرق نہیں پڑنا تھا۔ جو طے ہوگیا تھا وہ طے ہوگیا تھا۔ انسانوں پر ساری زندگی ظلم کرتے اس نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا انجام اتنا بھیانک ہوگا۔۔ اتنا خوفناک اور اتنا تاریک۔۔ لیکن اب اسے اندازہ ہورہا تھا کہ ولی جو بھی بول کر گیا تھا وہ سب سچ تھا۔۔ اسے سچ کے عذاب میں ڈال کر وہ تو پلٹ گیا مگر زندگی کے ایک نہ ختم ہونے والے عذاب کے حوالے اسے کرگیا۔۔ چند گھنٹے۔۔ محض چند گھنٹے ہوۓ تھے اسے یہ جانے کہ وہ ناجاٸز تھا۔۔ وہ ایک حرام زادہ تھا۔ اور ان چند گھنٹوں میں گویا اس نے صدیوں کی اذیت خود پر گزار لی تھی۔ ولی احمد سہی کہتا تھا۔۔ ٹھیک کہتا تھا وہ بالکل کہ وہ جو برداشت کرتا آیا ہے اب اس سب کو برداشت کرنے کی باری ہاشم کی تھی۔ اس پاگل کردینے والے سچ کو جھیلنے کی باری اب اس کی تھی۔

اپنی حویلی سے باہر بھاگتے ہوۓ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ کس طرف کو جارہا ہے۔۔ کس سمت میں بھاگ رہا ہے۔۔ اسے بس بھاگ جانا تھا۔۔ کسی جنگل یا پھر کسی ایسی جگہ میں جہاں کبھی بھی روشنی کا کوٸ عندیہ نہ ہوتا۔۔ جہاں روشنی کا کوٸ وجود نہ ہوتا۔۔ جہاں صرف سیاہی ہوتی۔۔ گہری سیاہی۔۔ ایسی سیاہی جس میں وہ خود سے بھی نظر نہ ملا سکتا۔۔

اچھا تو یہ ہوتا ہے انتقام۔۔ اسے کہتے ہیں انتقام۔ اسے کہتے ہیں وقت کے داٸروں کا الٹی طرف کو گھومنا۔ اسے کہتے ہیں اعمال کا پلٹ آنا۔۔ ظلم کا لوٹ آنا۔ اس نے لوگوں پر بہت ظلم کیۓ تھے۔۔ بہت سی عزتیں پامال کی تھیں بہت سی جانیں موت کے گھاٹ اتاری تھیں۔ اس نے دولت اور طاقت کے نشے میں بھول کر ہر غیر انسانی حرکت کی تھی۔ لیکن یہ خدا کی دنیا ہے۔ یہاں اس کا قانون چلتا ہے۔ یہاں اس کی حکمرانی زندہ رہتی ہے۔ ڈھیل دینے پر اگر وہ بہت سے فرعونوں کو اس زمین کی بادشاہی سونپ دے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ لگامیں ڈھیلی کر کے بھول گیا ہے۔ ساری کاٸنات۔۔ ساری دنیا۔۔ سارے آسمان اور ساری زمینیں ظلم کو بھول سکتی ہیں مگر اللہ۔۔ اللہ ظلم کو کبھی نہیں بھولا کرتا۔ اس زمین پر موجود ہر فرعون کو ایک نہ ایک دن غرق ہونا ہی ہوتا ہے۔ اسے بھی غرق ہونا تھا۔۔ اپنی سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کے ساتھ آج اسے بھی کسی سمندر میں غرق ہوجانا تھا۔۔ کیونکہ غرق ہوجانا ہی ہر فرعون کا آغاز بھی تھا اور انجام بھی۔

بھاگتے بھاگتے وہ کسی گاڑی سے بری طرح ٹکرا کر نیچے گرا۔ وہ ایک بہت لش چمچماتی ہوٸ کار تھی۔ اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اٹھ کر مزید بھاگ سکتا، اسی لیۓ خاموشی سے پڑا رہا۔ چند آدمیوں نے باہر نکل کر اسے سیدھا کیا تھا۔ پھر اس کے چہرے پر ٹارچ مار کر دیکھی تو ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔ وہ سب ابھی اسی کے گھر میں گھس کر اسے گھسیٹتے ہوۓ باہر نکالنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ انہیں باہر ہی مل گیا تھا۔ اسے گھسیٹ کر وہ گاڑی میں ڈالنے لگے تو ہاشم نے پس و پیش سے اپنے بازو ہلانے چاہے۔۔ ان میں سے کسی ایک نے اس کی گردن پر پستول کی ٹھنڈی نال رکھی تو وہ سُن ہوگیا۔

“چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ۔ ابھی کہ ابھی۔۔”

اس نے تھوک نگل کر تیز تیز سر ہلایا تھا۔ اعصاب تو گویا منجمد ہی تھے لیکن اب اس کا جسم بھی جمنے لگا تھا۔ انہوں نے اسے گاڑی میں ٹھوسا اور پھر تیزی سے گاڑی آگے بھگا لے گۓ۔ آج ہاشم حسین نے زندگی کی شام آخری بار دیکھی تھی۔ کچھ دور لے جا کر گاڑی روکی گٸ اور اسے گاٶں کے آخری سرے پر بہتی نہر کے قریب اتارا گیا۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے پر سیاہ کپڑا ڈالا تھا۔ بالکل ویسا ہی جیسا پھانسی دیتے وقت مجرم کے چہرے پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے کو بندھے ہاتھ پوری طرح سے قابو تھے اور وہ سفید چہرہ لیۓ خاموشی سے ان سب کی کاررواٸیاں دیکھ رہا تھا۔

“ک۔۔ کس کے لوگ ہو تم۔۔؟”

ہمت کر کے اس نے پوچھا تو اسکے کندھوں پر زور ڈال کر اسے گھٹنوں کے بل کچی زمین پر بٹھایا گیا۔۔

“کیا تمہیں یاد ہے کہ کرتار پور والے سکھوں کی بیٹی کا ریپ تم نے اس سال کی کونسی شب کو کیا تھا۔۔ اور پھر اس لڑکی کو مار کر تم نے اسی طرح کسی بہتی نہر میں ڈال دیا تھا۔ لیکن ہاشم حسین وہ لڑکی زندہ بچ گٸ تھی۔ اس لڑکی کے بسترِ مرگ کے آخری لفظ تھے کہ اسے ہاشم حسین نے درندگی کا نشانہ بنایا ہے۔ آج۔ اور اس وقت۔۔ تمہیں اسی کا بدلہ لوٹایا جارہا ہے۔۔”

اسکی ساری غلط فہمیاں دور ہوگٸ تھیں۔ پل بھر میں جیسے ساری گتھیاں سلجھ گٸ تھیں۔ لیکن اب وقت ختم ہوچکا تھا۔۔ وقت اب تھم چکا تھا۔ اس کے سامنے کھڑے آدمی نے پستول لوڈ کیا تو اس نے آنکھیں بند کرلیں۔۔

ولی اسی پل قبروستان سے نکلا تھا۔ کندھوں پر دھری بھوری شال کو درست کرتا۔ سپاٹ چہرہ اور خالی وجود لیۓ۔

ایک گولی فضا میں تیرتی آٸ اور ہاشم کے دل میں پیوست ہوگٸ۔ پھر دوسری۔۔ تیسری۔۔ اور جب تک آگے والے کے پستول میں گولیاں ختم نہیں ہوگٸیں تب تک اس کا وجود گولیوں سے چھلنی ہوتا رہا۔

ولی کی گاڑی کچے راستوں پر ایک بار پھر سے دوڑ رہی تھی۔ اس کے اندر خوشی کا کوٸ احساس نہیں تھا۔۔ سرشاری کی کوٸ کیفیت نہیں تھی۔ ایسا کچھ نہیں تھا کہ جس سے اس کا وجود کِھل اٹھتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انتقام خوشی نہیں دیا کرتا۔۔ بس ایک تسکین ہوتی ہے جو رگوں میں بہتے لہو کو سرد کرتی اترتی جاتی ہے۔

اس کا جھٹکے کھاتا جسم جیسے ہی ساکت ہوا انہوں نے اسے لات مار کر نہر کے منہ زور پانی میں پھینک دیا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان اور جان کے بدلے جان۔۔! اس کی خون سے لت پت لاش لاوارثوں کی طرح آگے ہی آگے بہتی جارہی تھی۔ دوسروں کو کتے کی موت دینے والا آج خود ایسی موت مرگیا تھا کہ جس سے جسم کا ہر عضو کانپ اٹھتا۔ ایک ایسی اذیت سے مرا تھا کہ سننے والوں کے دل بند ہونے کا خدشہ لگتا تھا۔۔ قدرت کا انتقام اتنا ہی ظالم اور کڑا ہوا کرتا ہے۔ مرتے وقت اس نے آخری بات یہی سوچی تھی۔۔ ہاں۔۔ ایک آخری بات جو ہر انسان لقمہ اجل بنتے ہوۓ سوچا کرتا ہے۔ ایک ایسی بات جو اس کی ساری زندگی کا عکس ہوتی ہے۔۔

ولی نے گاڑی سفید حویلی کے سامنے روکی اور خاموشی سے باہر نکل آیا۔ آج بہت سی جانوں کا بدلہ پورا ہوگیا تھا۔ آج بہت سے حساب چکتا ہوگۓ تھے۔ آج بہت سی قبروں سے آنے والے بین کی آوازیں بند ہونے والی تھیں۔۔ اور آج بہت سے مردار اپنا رزق سمیٹنے والے تھے۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو چونک کر رک گیا۔ زمان لاٶنج میں بیٹھے تھے اور ساتھ ہی بی جان پریشانی سے شاید اسی کا انتظار کررہی تھیں۔

اسے دیکھتے ہی وہ یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ تھیں۔ اس نے زمان کو دیکھا مگر ان کے بے تاثر چہرے کا ہر تاثر اسے سمجھ آتا تھا۔ تو نواز سے صبر نہیں ہوا۔۔!

اس نے گہرا سانس لیا اور پھر لاٶنج ہی میں چلا آیا۔۔ بی جان بے صبری سے اسکی جانب بڑھیں۔۔

“ولی یہ نواز۔۔ نواز کیا کہہ رہا ہے کہ تم جارہے ہو۔ جھوٹ کہہ رہا ہے ناں وہ۔ تم۔۔ تم تو کہیں نہیں جارہے ناں۔۔؟”

اس کا چہرہ جانچتے جیسے وہ بہت سے سوالات کررہی تھیں۔ کانپتے دل کے ساتھ۔۔ وہ اگر چلا گیا تو لگتا تھا زمانی زندہ نہیں رہ سکیں گی۔۔ اس نے مسکراتے ہوۓ انہیں اپنے ساتھ لگایا۔۔ پھر زمان کی جانب متوجہ ہوا۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔ بے یقینی سے۔۔

وہ خاموشی سے جاکر ان کے عین سامنے بیٹھا۔ گھٹنوں کے بل۔۔ چھوٹے ولی کی طرح۔۔ پھر ان کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لے کر عقیدت سے چوما اور آنکھوں سے لگایا۔ زمان کی آنکھیں نہ جانے کیوں بھیگ گٸ تھیں۔۔

“تو تم جارہے ہو۔۔!”

وہ سوال نہیں تھا۔۔ جواب تھا۔۔ خالص جواب۔

اس کا سر جھک گیا۔ گلے میں شاید کچھ اٹکنے لگا تھا۔۔ پھر مسکرا کر چہرہ اٹھایا۔۔ وہ دکھی دل کے ساتھ اسے ہی دیکھ ہے تھے۔۔

“جی سردار بابا۔۔”

“کیوں ولی۔۔؟”

ہاں اب کہ انہوں نے سوال کیا تھا۔۔ اپنی بیٹی کی طرح ہمیشہ سے مشکل سوالات کیا کرتے تھے وہ۔۔

“میں مزید اس ساری ذلت کو برداشت کرنے کی سکت خود میں نہیں پاتا سردار بابا۔ میں کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہوں، جہاں کوٸ مجھے نہ جانتا ہو۔۔ میری شناخت سے متعلق مجھے ذلت کا نشانہ نہ بناتا ہو۔۔ میں اس ماحول سے اکتا گیا ہوں۔ میں تھک گیا ہوں۔۔”

اس کا لہجہ واقعی برسوں کا تھکن زدہ لگتا تھا۔ زمان اسے چند پل دیکھے گۓ۔

“مجھے صرف ایک بات کی تسلی کروادو۔ کیا تم وہاں خوش رہوگے۔۔؟

ان کا انداز اسے ٹھٹکا گیا تھا۔۔ اور یہ کیسا سوال کررہے تھے وہ۔۔ وہ خوش رہے گا۔۔ اس کا جواب تو اس کے پاس تھا ہی نہیں۔۔

“میں خوش رہوں یا نہیں لیکن میں سکون میں رہونگا سردار بابا۔ میری ذات ہر پل طنز اور حقارت کے نشانے پر نہیں ہوگی۔”

زمان اس کا خوبرو چہرہ خاموشی سے دیکھے گۓ۔ وہ جیسے اس چہرے کو یاد کرنے کی سعی کررہے تھے کیونکہ اب وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہونے والا تھا۔ ان کے ایسے دیکھنے پر اس نے شرمندگی سے سرخ پڑتا چہرہ بے ساختہ جھکایا تھا۔ انہوں نے اس کے بالوں سے بھرے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرادیۓ۔۔

“جہاں رہو خوش رہو۔۔ اور ہاں ہم دو بوڑھوں کو مت بھولنا۔۔”

زمانی اس کے پیچھے خاموشی سے آنسو بہاتی کھڑی رہیں۔ اس کا سکون تو انہیں اپنی خوشی سے زیادہ عزیز تھا پھر بھلا وہ کیسے اسے روک سکتی تھیں۔ کیا ان کے پاس روکنے کا کوٸ جواز رہ گیا تھا۔۔؟

“میں کیسے بھول سکتا ہوں آپ دونوں کو۔۔! میں بی جان اور آپ کی محبت کو ساری زندگی خود میں سمیٹ کر رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ میری متاعِ کُل ہے۔ میرے پاس کسی کی محبت کسی کی دعاٸیں نہیں ہیں سردار بابا۔ ولی اپنے آپ کو تو بھول سکتا ہے لیکن وہ آپ دونوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔۔ کبھی نہیں۔۔”

اس کی نسواری آنکھیں نم نم سی لگتی تھیں۔ اور لہجے میں تو گویا سارے جہان کی عزت سِمٹ آٸ تھی۔۔

“اب باتیں ہی کرتے رہو گے یا پھر مجھ سے گلے مل کر مجھے ٹھنڈک بھی پہنچاٶ گے۔۔؟”

وہ اٹھے تو وہ بھی ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ اور پھر مسکراتے ہوۓ ان کے گلے لگ گیا۔ مضبوطی سے اپنے جاندار بازو ان کے گرد کھینچ دیۓ۔۔ سردار بابا نے آنکھیں موند لی تھیں۔۔ ان کے سینے میں واقعی ٹھنڈک اترنے لگی تھی۔۔

“ارے جوان ہو۔۔ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ اتنی مضبوطی سے گلے لگاٶ گے تو ہڈیاں ٹوٹ جاٸیں گی میری۔۔”

ان کی شرارت پر وہ ہنس کر ان سے الگ ہوا۔ پھر بی جان کی جانب پلٹا۔ وہ آنسو صاف کررہی تھیں۔ مسکرا بھی رہی تھیں شاید۔۔

“جھلّا نہ ہو تو۔۔ ہر دفعہ ہنساتا ہے اور آج دیکھو رُلادیا۔۔ لیکن یاد رکھ۔۔ شادی کرنی ہی پڑے گی تجھے۔۔”

وہ ہنس کر آگے بڑھا اور ان کے گرد اپنے بازو پھیلا لٸے۔ بی جان کے بے طرح ابلتے آنسوٶں سے اس کی قمیض بھیگنے لگی تھی مگر وہ پھر بھی خوش تھیں۔ ان کا ولی خوش رہے گا، انہیں اور چاہیۓ ہی کیا تھا۔۔

“کب۔۔ تک جاٶ گے۔۔؟”

سردار بابا کے لیۓ یہ لفظ بہت تکلیف دہ تھے۔۔

“بی بی کی۔۔ شادی کے بعد۔۔”

اور اس کے لیۓ یہ لفظ اذیت تھے۔۔

“جاتے جاتے بھی ساتھ دے رہے ہو برخوردار۔”

وہ مسکراۓ۔۔ ولی نہیں مسکرا سکا۔۔

“اچھا اب جاٶ۔۔ جا کر آرام کرو۔ صبح سے مصروف ہو۔۔”

وہ سر ہلاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ آیا مگر دو شہد رنگ آنکھوں کے پرشکوہ سے ارتکاز پر اس نے نگاہیں لمحے بھر کو زینوں کی جانب پھیری تھیں۔ اور پھر۔۔ ہاں پھر وہاں وہ کھڑی تھیں۔۔ سرخ لباس میں ساری کاٸنات کی روشنی خود میں سموۓ۔۔ اس نے تیزی سے قدم آگے بڑھاۓ۔ امل اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔۔ وہ تو ہمیشہ ہی سے پیچھے کھڑی رہ جایا کرتی تھی۔۔

وہ کمرے میں آتے ہی بے دم سا صوفے پر گرا تھا۔ آرام۔۔! اسے ساری زندگی آرام نہیں آنا تھا۔۔ امل کی سانسیں اس کے ساتھ جڑی تھیں۔ اسے آرام کیسے آسکتا تھا۔۔؟ اس نے خفیف سی سرخ آنکھوں کو موند کر سر صوفے کی پشت سے لگایا۔۔ امل کا نازک سراپا چھم سے اس کے سامنے آیا تھا۔ اس نے تھک کر آنکھیں کھول دیں۔ نسواری آنکھوں میں برسوں کی تھکن پنہاں تھی۔

امل نے اپنے من من بھر ہوتے قدموں کو اوپر کی جانب موڑا۔ چکنے رخساروں پر آنسو اب تک چمک رہے تھے اور وہ انہیں روکنے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اندیکھی سی چہل پہل ہر آن حویلی کا احاطہ کیۓ ہوۓ تھے۔ وہ مصروفیت تلے اپنے اندر پلتے خوفناک سے ناسور کو روند رہا تھا۔۔ وہ اس مصروفیت تلے خود کو بھی روند دینا چاہتا تھا۔ امل سے اس کا اب تک سامنہ نہیں ہوا تھا اور اس پر اس نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا کہ اگر وہ سامنے ہوتی تو وہ کسی کام کام نہ رہتا۔

”سلطان یہ یہاں لاٸٹس کا انتظام کرواٶ۔ اور ابھی تک گیندے کے پھول کیوں نہیں پہنچے۔۔؟ کمال کرتے ہو۔۔ شام کو مہندی ہے۔۔ حویلی سجانی ہے۔ اور تمام کام ادھورے ہیں۔۔“

وہ سلطان کو لتاڑتا مستقل ملازمین کو ہدایات دے رہا تھا۔ مسلسل ایک ہفتے سے وہ گھن چکر بنا ہوا تھا۔ شادی کے تمام انتظامات اسی کے ذمے تھے اور اس ذمہ داری میں وہ کوٸ کوتاہی کوٸ کمی برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔

”ولی۔۔!“

بی جان کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ کاٹن کا سفید کرتا لیۓ اس کی جانب بڑھ رہی تھیں۔

”یہ میں تیرے لیۓ سفید کاٹن کا کرتا لاٸ ہوں۔۔“

”بہت اچھا ہے بی جان پہن لونگا۔۔“

اس نے ایک نظر کُرتے کو دیکھا تک نہ تھا۔ بی جان خفا ہوٸیں۔۔

”خود تو تم نے کچھ لینا نہیں تھا سوچا میں ہی کچھ لے آٶں۔ خود سے اتنی بے توجہی، اتنی لاپرواہی درست نہیں ہے ولی۔۔! اپنا خیال رکھا کر۔۔“

ان کے لہجے میں فکر بول رہی تھی۔۔ وہ مبھم سا مسکرایا۔۔

”اچھا اب رکھونگا۔۔“

انداز سراسر انہیں بہلانے والا تھا۔

”اچھے سے خبر ہے مجھے کہ تم نے کیسا خیال رکھنا ہے خود کا۔۔!“

”میں واقعی رکھونگا۔۔“

”مجھے یقین نہیں آرہا۔۔“

”تو یقین دلانے کے لیۓ کیا کروں۔۔؟“

”یہیں رک جاٶ ہمارے پاس۔۔“

بی جان نے اتنا اچانک کہا کہ اس کی مسکراہٹ غاٸب ہونے میں پل نہ لگا۔۔

”میں۔۔ آتا جاتا رہونگا بی جان۔۔“

”مگر مجھے تو تسلی نہیں ہوگی ناں ولی۔ ان بوڑھی آنکھوں کو تجھے دیکھنے کی عادت ہوگٸ ہے۔“

ان کی آواز بھیگنے لگی تھی۔ ولی کے دل کو کچھ ہوا۔ بی جان کی نرم سی آغوش نے اسے ہمیشہ سخت دنیا میں محفوظ رکھا تھا۔ وہ کل رخصتی کے وقت ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ یہاں سے جانے والا تھا۔ اور بی جان کے لیۓ یہی احساس سوہانِ روح تھا کہ ان کا ولی ان کو چھوڑ کر جارہا تھا۔۔

”تو آپ کو بھی لے چلوں گا۔۔“

”ہاں مجھے بھی یہاں نہیں رہنا۔ لیکن پھر تیرے سردار بابا۔ وہ تنہا ہوجاٸیں گے۔۔“

”تو آپ دونوں چلیں۔۔“

”اور پھر حویلی پر بھوت راج کریں گے۔“

وہ ان کی بات پر بے ساختہ مسکرایا تھا۔

”تو جہاں رہے خوش رہے۔“

انہوں نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گٸیں۔ وہ سر جھٹک کر دوبارہ سے کاموں کی جانب متوجہ ہوتا مڑا ہی تھا کہ یکدم زرد لباس میں قید کانچ سا وجود اسے ٹھٹکا گیا۔ امل کی پُرنم شکوہ کرتی آنکھیں اس سے کلام کررہی تھیں۔ خاموش کلام۔۔ اسے زخمی زخمی کررہا تھا۔۔

وہ دم بخود اس کی چھیدتی نگاہوں کو دیکھے گیا۔۔

ایسے مت کریں ولی۔۔

یوں مجھے کسی کے حوالے مت کریں۔۔

آپ مجھے کس کو سونپ کر جارہے ہیں۔۔؟

یہ آپ کیا کررہے ہیں ولی۔۔؟

اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا عذاب لگ رہا تھا۔ ان آنکھوں کی بولی اتنی ظالم ہوگی اس کا اندازہ اسے آج ہوا تھا ۔۔ اس پل ہوا تھا۔۔

میں تو کانچ سے بنی ہوں۔۔

مجھے کرچی کرچی ہونے سے بچالیں ولی۔۔

دیکھیں۔۔

میں مررہی ہوں۔۔

میں مرجاٶنگی ولی۔۔

اس نے کبھی خاموشی کو یوں چلاتے نہیں سنا تھا۔ مگر آج یہ خاموشی اس کے اندر باہر کو خاموش کر گٸ تھی۔ وہ زیادہ دیر نہ رکی۔ بس ایک آخری زخمی نگاہ اس پر ڈالی اور اس کو زخم زخم کردیا۔۔ ولی نے ضبط سے آنکھیں بند کیں۔۔ جیسے تازہ تازہ لگے زخم کو سہنے کی ہمت مجتمع کی ہو۔۔!

۔۔۔۔۔۔

رات مہندی کا فنکشن بہت اچھا ہوا۔ سواۓ دو نفوس کے ہر دل خوش تھا۔۔ چہک رہا تھا۔۔!

رات تھک ہار کر جب سب اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھے تو امل نے تھکے تھکاۓ سے قدم چھت کی جانب موڑے۔ نیند تو ویسے بھی ساری رات نہیں آنی تھی۔ اس سے اچھا تھا کہ وہ کھلی ہوا میں چکمتے چاند کو دیکھ کر خود کے اندر پلتی تکلیف کو کم کرلیتی۔ تکلیف جو اب ساری زندگی اس کے ساتھ رہنی تھی۔

اس نے چھت کا دروازہ کھولا اور ٹیرس کی جانب چلی آٸ۔ مدھم سی ٹھنڈی ہوا اور دمکتے چاند نے جیسے چپکے سے اسکے سارے آنسو سمیٹ لیۓ تھے۔ اس کا دوپٹہ کندھے سے ڈھلک کر ہاتھوں پر آگرا۔ سیاہ ہاف بندھے بال ایک جانب کو اڑنے لگے۔۔ یکایک اسے کسی کے قدموں کی بھاری چاپ سناٸ دی تھی۔ امل جم سی گٸ۔۔ وہ اس چاپ کو پہچانتی تھی۔۔ ہاں وہ اسے کیسے بھول سکتی تھی بھلا۔۔؟

وہ اس سے ذرا فاصلے پر آ کھڑا ہوا تھا۔ آستینیں حسبِ عادت کہنیوں تک موڑے۔۔ رات کے اس پہر شال سے بے نیاز۔۔ اندھیرے میں بھی دیومالاٸ سے کرداروں کی عکاسی کرتا ہوا۔۔ ہاں وہ وہی تو تھا۔۔

اس نے اسے دیکھنے کے لیۓ گردن نہیں موڑی۔۔

خاموشی سے چاند کو دیکھے گٸ۔ وہ بھی چہرہ اٹھاۓ چاند ہی کو دیکھ رہا تھا۔۔

”کیسی ہیں آپ۔۔؟“

”ٹھیک ہوں۔۔“

” میرا حال نہیں پوچھیں گی۔۔؟“

”خوش تو ہیں مجھے اذیت دے کر۔ اور کیا پوچھوں آپ سے۔۔!“

وہ اس کے طنز پر مسکرایا تھا۔ چاند کا سحر ہر جانب بکھرنے لگا۔ ہر شے پر چڑھنے لگا۔۔ ہر وجود کو ڈھانپنے لگا۔

”میں آپ کو اذیت دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔“

”لیکن اذیت دے سکتے ہیں۔۔“

اس کے جوابات بہت برجستہ، بہت دل گرفتہ تھے۔ کیا کبھی تم نے کسی کو اتنی برجستگی سے جواب دیتے دیکھا ہے۔۔؟ اس نے دیکھا تھا۔۔ اس نے امل کو دیکھا تھا۔۔

”کیا اذیت دی ہے۔۔؟“

”میرے اندر اپنی عادت ڈالی ہے۔ کیا کسی اذیت سے کم ہے یہ۔۔؟“

”میں معافی چاہتا ہوں۔۔“

”کوٸ معافی نہیں ملے گی آپ کو۔۔“

ان دونوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے کی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔ چہرہ اٹھاۓ وہ دونوں چاند دیکھ رہے تھے۔۔ دور سے دیکھنے پر لگتا تھا گویا وہ ہم کلامی کررہے ہوں۔۔

”آپ معاف نہیں کریں گی تو بہت مشکل ہوجاۓ گی۔۔“

”میں بھی تو مشکل میں ہوں۔ آپ بھی رہیں۔۔“

”ظالم شہزادیوں کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں شاید آپ۔۔!“

چاند کو دیکھتا لڑکا مسکرایا تھا۔ امل کی آنکھ سے آنسو پھسل کر کنپٹی میں جذب ہوا۔۔

”جی بالکل۔ بلکہ بہت پہلے مجھے ان کی روش اختیار کرلینی چاہیۓ تھی۔ آپ کے ساتھ نرمی برت کر بہت بڑی غلطی کی ہے میں نے۔۔“

”غلام حاضر ہے۔۔ جو سزا دینی ہے دے دیں۔۔“

اس نے پہلی دفعہ چہرہ اسکی جانب پھیرا تھا۔ چاند کی چاندنی میں اسے امل کے رخساروں پر کچھ چمکتا ہوا محسوس ہوا۔۔

”آپ کی سزا یہی ہے کہ میں نفرت کرنے لگی ہوں آپ سے۔۔“

وہ ہنسا تھا۔۔ عجیب آنسوٶں سے نم ہوتی ہنسی تھی وہ۔ امل کے آنسو تیزی کے ساتھ گرنے لگے تھے۔۔

”بہت ظالم ہیں آپ۔۔“

”آپ سے کم ہوں۔۔“

”ہوسکے تو مجھے معاف کردیجیۓ گا بی بی۔ میں آج بھی۔۔ آخر تک آپ کے قابل نہیں ہوں۔ آپ بہت اچھی ہیں۔ مجھ سے نفرت کریں۔ میں اسی قابل ہوں۔ اور آپ خوش قسمت ہیں کہ مجھ سے نفرت کرپارہی ہیں۔ مجھے دیکھیں۔۔ میں تو کبھی بھی آپ سے نفرت نہیں کرسکونگا۔۔ مجھے تو ساری زندگی آپ سے محبت کرتے گزارنی ہے۔۔“

امل کے آنسو بہت تیزی کے ساتھ لڑھک رہے تھے۔ اس نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔ وہ اس کے لیۓ اتنا ہی کرسکتا تھا۔۔ اس سے آگے کی اس کو اجازت نہیں تھی۔۔ امل نے اس کے ہاتھ سے رومال لیا اور خاموشی سے بہتے آنسوٶں کو اس میں جذب کیا۔ ولی آہستہ سے پیچھے ہٹا تھا۔ امل نے اسے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ اسے جاتے ہوۓ نہیں دیکھ سکی۔۔ وہ مڑا اور تیزی کے ساتھ زینے پھلانگتا اترتا چلا گیا۔۔ اور امل۔۔ وہ ساری رات ٹیرس سے لگ کر بیٹھی روتی رہی۔۔ وہ آج آخری دفعہ ایک ساتھ ہی سارا رو لینا چاہتی تھی۔۔

ہمیشہ سے دو نفوس کی محبت کا گواہ چاند آج بھی اتنا ہی خاموش تھا جتنا ہمیشہ رہا کرتا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

صبح بہت حبس زدہ سی طلوع ہوٸ تھی۔ ماحول میں ابر آلود موسم کی گھٹن رچی بسی تھی۔ آج دوپہر نکاح تھا۔ اور پھر ولی کی اس حویلی سے ہمیشہ کے لیۓ جداٸ تھی۔ وہ سپاٹ سا تیزی سے کاموں کو سر اجام دیتا اپنے اندر مچی توڑ پھوڑ کو بمشکل ڈھانپ رہا تھا۔ وہ ان کاموں میں خود کو بھی ختم کرلینا چاہتا تھا۔

نکاح خواں امل کے کمرے کی جانب بڑھا تو اس کے قدم ۔۔ ایک ۔۔ بس ایک پل کو لرز کر رہ گۓ۔ وہ گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگا۔ وہ اس کی سانسوں میں قطرہ قطرہ تحلیل ہونے لگی تھی۔

امل نے زور سے دوپٹہ مٹھی میں بھینچا۔

ولی کا سانس رکنے لگا تھا۔ اس کی کوٸ روح بھینچ رہا تھا۔۔

”ولی تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔؟“

بی جان پریشان ہوگٸ تھیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلا کر انہیں تسلی دی اور پھر ان سے معذرت کرتا اپنے کمرے کی جانب دوڑا۔۔

سفید شلوار قمیض میں اس کا کسرتی جسم نمایاں تھا۔ وہ لوگوں کو دھکیلتا، درمیان میں راستہ بناتا بھاگ رہا تھا۔۔

امل کا جسم برف ہورہا تھا۔۔ اس کے لب سفید پڑ رہے تھے۔ نگاہیں پتھرا رہی تھیں۔۔

ولی نے کندھے پر دھری کتھٸ شال کا ایک سِرا زور سے دوسرے کندھے پر ڈالا ۔۔

نکاح خواں معمول کی کاررواٸ کررہا تھا۔ وہ دھواں دھواں چہرہ لیۓ نکاح نامے کو دیکھے گٸ۔ اس کی انگلیاں بے جان ہورہی تھیں۔ ہاتھ میں پھنسا قلم لرز رہا تھا۔

”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟“

ولی آستینیں موڑتا واش بیسن پر جھکا۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔

”قبول ہے۔۔“

لرزتی آواز سب کی سماعت سے ٹکراٸ تھی۔

ولی نے بیسن کے کناروں کو زور سے تھاما۔۔

”قبول ہے۔۔“

امل کی آنکھیں متواتر بہنے لگی تھیں۔۔

ولی کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔ اسے اپنی زندگی کی ساری ذلت یاد آرہی تھی۔ اسے ہر در سے ملی دھتکار۔۔ ہر دروازے سے پڑی گالیاں یاد آرہی تھیں۔۔ اسے سب یاد آرہا تھا۔ گہرے گہرے سانس لے کر اس نے اندر مچی توڑ پھوڑ کو سنبھالنے کی کوشش کی۔۔ نسواری آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔ دانت پر دانت جمے تھے۔۔

”قبول ہے۔۔“

اس نے تولیۓ سے چہرہ خشک کیا، سامان سمیٹا اور کھچا کھچ بھری حویلی سے نکل آیا۔۔ اب کے سپاٹ سا ڈراٸیو کرتا وہ آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے چہرے سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔۔ اس نے سفید حویلی اور اس کے مکینوں کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔۔ اس نے اپنا آپ بھی کہیں وہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔۔ زمان نے دھول اڑاتی اس کی گاڑی کو جاتے دیکھا اور درد سے مسکرا دیۓ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *