Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 7) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 7) Part - 1
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
ہاشم نے ڈیرے کا لکڑی کی باڑھ کا بنا گیٹ پار کیا اور قدم قدم چلتا ڈیرے کے کٸ ایکڑ پر پھیلے باغ کو آنکھیں چُندھیا کر دور تک دیکھتا رہا۔ دُھوپ اب ذرا سر پر چڑھی محسوس ہورہی تھی اور سارا سبزہ زار سردی کی نرم سی دھوپ میں نہایا ہوا تھا۔ اس نے ایک نظر ڈیرے کے داخلی دروازے پر کھڑے ملازم پر ڈالی جو ہاتھ میں بڑی سی کلاشن لیۓ پتھر سا چہرہ سامنے کے جانب کیۓ بہت محتاط سا کھڑا تھا۔ اور سب جانتے تھے کہ وہ عام سا گارڈ ہرگز نہیں تھا۔ اس نے چُندھیاٸیں ہوٸ آنکھوں سے لان کی گھاس کو دیکھا اور پھر اوپری طرف اُٹھے سبزہ زار کے حصّے کی جانب بڑھ گیا۔ سبزہ زار کے پچھلی طرف ایک چھوٹا سا پُرانا کمرہ بنا تھا۔ اس کے لوہے کا دروازہ زنگ آلود تھا اور دروازے کے آگے بھی بے تحاشہ کاٹھ کباڑ پھیلا تھا۔۔ یہ کمرہ پُرتعیش سے ڈیرے سے قدرے مختلف قدرے قدیم سا لگتا تھا۔۔ بہت سے رازوں کا امین۔۔ بہت سے گناہوں کا گواہ۔۔ قدیم زندان۔۔۔!
اس نے سامنے پڑے کباڑ کو پیر سے پرے کیا اور دروازے کو دھکیلتا اندر داخل ہوا۔ دروازہ خاصہ پُرانا تھا اسی لیۓ اس پرکسی قسم کا کوٸ ناب کوٸ تالا نہیں تھا۔ اسکی ناب والی جگہ پر ایک گول سا خالی حصّہ تھا۔ جیسے اس دروازے کا کوٸ لاک رہا ہو مگر کسی کے بُری طرح سے کھینچنے پر وہ باہر نکل گیا ہو۔ کمرے کا اندرونی منظر ویسے ہی تھا جیسے کسی بھی کباڑ خانے کا ہونا چاہیۓ تھا۔ ایک طرف پڑی پُرانی لکڑیاں اور اسکے ساتھ ہی بکھرے بہت سے بڑے چھوٹے سریے۔۔ کمرے کے باٸیں جانب چند پیٹیاں رکھی تھیں جن پر صدیوں کی جمی دُھول اسے کمرے کی چھت کے کُھلے حصّے سے اندر گرتی روشنی میں نظر آرہی تھی۔ اس نے سامنے رکھی چند پُرانی کرسیوں کو دیکھا۔ وہ لکڑی کی خاصی مضبوط کرسیاں لگتی تھیں جنہیں آٶٹ آف فیشن ہونے کے باعث یہاں لا ڈالا گیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اوندھی پڑی ایک کرسی کو سیدھا کیا اور پھر اس پر لگے خون کے دھبّوں کو دیکھتے اسکی نظروں کے آگے بہت سے منظر لہرانے لگے۔۔ اس کے سرد چہرے پر کوٸ تاثر نہیں اُبھرا تھا۔
“تم کچھ بھی کرلو حسین۔۔ مگر تم یہ سب اچھا نہیں کررہے۔۔ وہ میرا بیٹا ہے۔۔ اولاد ہے تمہاری وہ۔۔ اسے تم یوں اس طرح نہیں چھوڑ سکتے۔۔”
کسی کی آنسوٶں سے نم لرزتی آواز اسکی سماعت میں اُتری تو اس نے چہرہ سامنے کی جانب گُھمایا۔۔ چونکہ وہ کمرے کے عین وسط میں کھڑا تھا اسی لیۓ اسکے سامنے آدھا کمرہ خالی پڑا تھا۔ اور کمرے کی دیوار کے آگے بڑی سی چارپاٸ کھڑی کی گٸ تھی۔۔ چھت کے چھید ہوۓ حصّے سے گرتی روشنی میں بہت پرانے منظر اسکی آنکھوں کے آگے کُھلنےلگے۔ چارپاٸ کے آگے ایک مرد جو خاصہ جوان تھا اور جو اسکا باپ تھا وہ ایک عورت جو کہ شاید اسکی کچھ لگتی تھی اس پر جُھکا تھا۔۔ اور اسی وقت اس نے اس عورت کو رکھ کر زوردار چانٹا مارا تھا۔ وہ عورت لُڑھک کر ایک جانب گری۔۔ اس نے بڑے سے بالوں کی چُٹیا باندھ رکھی تھی جو بہت دن سے بال نہ بنانے کے باعث خستہ سی لگ رہی تھی۔اسکے چہرے کے اطراف میں چٹیا سے نکلے بال بکھرے تھے اور ہونٹ کےکنارے موجود نیلا سا زخم تھا۔۔ ہلکا سا سُوجا ہوا۔ اسکا وہ رخسار جس پر ابھی اسے چانٹا پڑا تھا وہ سُرخ پڑ رہا تھا مگر وہ پرواہ کیۓ بغیر حسین پر غرّاٸ۔۔
“تم میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے۔۔ مجھے مارنا ہے ناں۔۔ تو مارو، روکا کس نے ہے تمہیں۔۔۔؟ مگر ظالم انسان اس ننھی جان کا تو خیال کرلو جو چند دن پہلے اس دنیا میں آیا ہے۔ اسے اتنی بڑی سزا کیوں دے رہے ہو تم۔۔ کیوں اپنی نام نہاد عزت کی قربانی ہم سے مانگ رہے ہو۔۔؟”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔ کباڑ خانے کے دروازے میں ایک بچّہ ڈرا سہما سا کھڑا تھا۔ اسکے آس پاس کا ہر منظر بدل گیا تھا۔ باہر ڈیرے پر روشن سی صبح اُتر رہی تھی مگر سبزہ زار کے اس طرف۔۔ اس حصّے میں رات کا وہی پہر چل رہا تھا۔ جو اس رات قاٸم تھا۔۔ڈرا سہما سا کمرے کے اندر جھانکتا ہاشم اس وقت صرف بارہ سال کا تھا۔۔
“اگر تم نے کسی کو کچھ بتایا یا پھر کوٸ تماشہ کرنے کی کوشش۔۔ مگر ٹھہرو۔۔ تم یہ سب تب کروگی جب میں تمہیں زندہ چھوڑونگا۔۔ میں تو تمہیں آج ہی صفحہء ہستی سے مٹا دونگا۔۔! پھرکبھی کوٸ اس کا ذکر نہیں کرے گا۔۔ کبھی کوٸ اس بچے کو یاد نہیں کرے گا۔۔ اور اب تک تو اس کو گاٶں میں گھومتے کتّے نوچ کر کھا گۓ ہونگے۔۔ میں کچھ باقی نہیں رہنے دونگا۔ میں سب مٹا دونگا۔”
عورت پر جُھکا حسین اسے بہت بے دردی سے ماررہا تھا۔ اور وہ مستقل رورہی تھی۔۔ چلّا رہی تھی۔۔ ہاشم کی آنکھوں سے آنسو گرے۔۔ اسکا رواں رواں کانپ رہا تھا۔۔ دروازے سے اندر جھانکتا بارہ سالہ ہاشم لرز رہا تھا۔۔ اسکا باپ کسی ذہنی مریض کی طرح اندر عورت پر تشدد کررہا تھا اور ہاشم۔۔ اس میں اتنی ہمّت نہیں تھی کہ وہ ایک چیخ ہی ماردیتا۔۔ اسکا حلق اندر تک خشک ہوگیا تھا۔ پورا جسم پسینے میں نہا گیا تھا۔۔ جب وہ عورت شدید تشدد کے بعد ہوش کھونے لگی تو حسین نے اسے ایک لات مار کر دور ہٹایا۔۔ اسکا کرّاہتا وجود دوسری جانب لڑھک گیا تھا۔ پیشانی سے بہتا خون اسکی کروٹ کے باعث زمین پر گرنے لگا تھا۔۔ کچّی زمین خون جذب کرنے لگی۔۔ پھر اسکا باپ جیسے ہی باہر کی جانب پیشانی پر آیا پسینہ صاف کر کے مڑنے لگا تو وہ بے اختیار دروازے کی اوٹ میں ہوگیا۔ حسین کف اڑاتا آستین سے اب اپنے چہرے کا پسینہ صاف کررہا تھا۔۔ پھر وہ سبزہ زار کے دروازے کے ساتھ بندھے خونخوار کتّے کو لے کر اس کمرے کی جانب بڑھا۔۔ ہاشم چونکہ دروازے کے داٸیں ہاتھ کھڑا تھا اسی لیۓ حسین نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ کتّا اندر چھوڑ کر وہ دروازہ بند کرکے باہر گیٹ کی جانب بڑھا اور برف سا چہرہ لیۓ آگے ہی آگے چلتا گیا۔۔ اندر سے اب بہت دلخراش چیخوں کی آوازیں آرہی تھی۔ وہ کانوں پر ہاتھ رکھتا وہیں بیٹھ گیا۔ اسکا پورا جسم پسینے میں بھرا تھا۔ آنکھوں سے گرتے آنسو بہت تیزی سے اسکی گردن میں لڑھک رہے تھے۔۔ کچھ دیر بعد اندر سے آتی آوازیں بند ہوگٸیں تھیں۔۔ شاید کتّے نے اس عورت کو چیر پھاڑ دیا تھا۔۔ آخری بار وہ دروازہ کھولنے آٸ تھی۔۔ مگر نہ کھول پاٸ۔۔ تب اس دروازے کا ناب تھا۔۔ مگر آج۔۔۔ ہاشم کی نظروں کے سامنے چلتی فلم رُکی تو وہ جیسے ہوش میں آیا۔۔ اسکی نظر دروازے کے اس گول سے خالی حصّے پر تھی جس پر کبھی لاک لگا تھا۔۔ پھر اس نے چہرہ پھیر کر دیکھا مگر کمرہ صاف ستھرا پڑا تھا۔۔ ویران۔۔ اور کسی مردہ وجود کی طرح یخ۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی دُھول اُڑاتی گاڑی سفید حویلی کے پار آکر رُکی۔ چند پل اُڑتی دُھول میں اس کی کار چُھپی رہی اور پھر جیسے ہی اس پر سے دُھول چھٹی وہ اسکا دروازہ کھول کر بند کرتا حویلی کی جانب بڑھا تھا۔ حسین احمد کی حویلی حسن اور زمان کی حویلی سے قدرے فاصلے پر ذرا ویران سے علاقے میں تھی۔۔ شاید وہ ان بھاٸیوں میں بڑا تھا اسی لیۓ اپنی تمکنت قاٸم رکھنے کے لیۓ اس نے حویلی سارے ماحول سے الگ تھلگ بناٸ تھی تاکہ کوٸ بھی اسے عام لوگوں میں ہر گز شمار نہ کرے۔۔ وہ ممتاز تھا۔۔ اور ممتاز رہنا چاہتا تھا۔۔ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہر پل رہ کر وہ اپنا بنا بنایا رعب اور دبدبہ پانی بنا کر بہانہ نہیں چاہتا تھا۔
شان سے کھڑی حویلی کا ٹھنڈا حُسن آج بھی سنہری پڑتی دھوپ میں تمتما رہا تھا۔ دور سے دیکھنے پر وہ بلند پہاڑی سے بہتی کوٸ سفید ندی لگتی تھی۔۔ اسکے بیرونی اور عقبی حصّے میں ہر جانب سبزہ پھیلا تھا اور اسکے باہر کی طرف نکلے سفید ستونوں پر جڑے بیش قیمت پتھّر رات کی گہری سیاہی میں بھی جگمگا رہے ہوتے تھے۔۔
اس نے اجنبی نگاہوں سے ساری حویلی کا جاٸزہ لیا اور پھر وسیع پورچ سے گزرتا تیزی سے حویلی کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ اندر بہت سے ملازم کام کررہے تھے۔ اسے آتا دیکھ کر سب نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا۔
“حسین سرکار کہاں ہیں۔۔؟”
اس نے ایک کو مخاطب کرکے کہا تو وہ جو اسکے یوں اس طرح آندھی طوفان بن کر داخل ہونے پر ساکت تھا گڑبڑا کر سیدھا ہوا۔ اسے ساری حویلی میں نگار اور انکی دونوں بیٹیاں نہیں نظر آٸیں شاید وہ کہیں باہر گٸ تھیں۔ باہر گرتی سنہری دُھوپ ذرا زاویہ بدلنے کے باعث گھر کے اندرونی حصّے تک گِر رہی تھی۔ وہ بالکل درمیان میں کھڑا کڑے تیوروں سے ملازمین کو دیکھ رہا تھا۔۔ یہاں وہ غلط بیانی کریں اور وہ۔۔۔۔۔
“وہ اپنے کمرے میں آرام فرمارہے ہیں۔۔”
گڑبڑاہٹ کے بعد اب ملازم نے ذرا سنبھل کر کہا تو وہ تلخی سے مسکرایا۔۔
“بہت آرام کر چکے وہ۔۔”
اور پھر بڑبڑاتا ہوا سیڑھیاں پھلانگتا انکے کمرے کی جانب پہنچا۔۔ اسے یہ راستہ آج بھی ازبر تھا۔۔ وہ کچھ بھولا ہی تو نہیں تھا۔۔
ایک لمحے کا توقف کیۓ بغیر اس نے دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ اسکے پیچھے کچھ ملازم بھی دوڑتے آرہے تھے مگر اس پر کوٸ جنون سوار ہوگیا تھا۔ کمرے کے اندر موجود حسین اپنی کھڑکی کے قد آدم شیشے کے سامنے کھڑا لان میں گرتی دھوپ دیکھ رہا تھا اس آفت پر چہرہ ذرا سا گُھما کر دیکھا۔۔ وہ اسے آتے ہوۓدیکھ چکا تھا اسی لیۓ کوٸ بھی ردّعمل دیۓ بغیر چہرہ دوبارہ کھڑکی کی جانب موڑ لیا۔
“ولی کو میں نے ہی بلایا ہے تم لوگ جاٶ یہاں سے”
گردن ذرا ترچھی کیۓ اس نے ہانپتے کانپتے کمرے تک پہنچے ملازمین سے کہا تو وہ سر جھکا کر دروازہ بند کرتے پلٹ گۓ۔۔
ولی اب تک دروازے میں کھڑا دانت پر دانت جماۓ اسکی پُشت کو دیکھ رہا تھا۔۔
وہ اسکی جانب گُھوما۔۔ اسکی کنپٹی کے بالوں میں اب بہت سے سفید بال تھے اور جسم کمزور ہوچکا تھا۔ اسکے اندر وہ طاقت وہ جلال باقی تھا ہی نہیں جس کا ولی بچپن میں عادی ہوگیا تھا۔ وہ تو کوٸ بوڑھا آدمی تھا۔۔ انتہاٸ مکروہ بوڑھا۔۔ اسے دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں خون اُترا۔ دانت جمانے کے باعث گردن کے آس پاس بِچھا نسوں کا جال پُھول سا گیا تھا۔ ہاتھ کی مُٹھی سختی سے بند تھی اور سانس۔۔ سانس بہت تیزی سے آجارہا تھا۔
“تمہیں آج صبح سے یاد کررہا تھا میں۔۔”
وہ کہنے لگا مگر ولی نے اسکو موقع ہی نہیں دیا۔ آگے بڑھا اور اسکو سفید قمیص کے گریبان سے جکڑ کر بُری طرح دیوار گیر کھڑکی کے شیشے سے لگایا۔۔ پل بھر کو حسین کی آنکھوں میں بے یقینی اُبھری تھی۔۔ پھر وہ اسکے تمتماتے چہرے کو دیکھ کر کچھ پُرسکون ہوا تھا۔۔
“کیا مار ڈالو گے۔۔؟”
اسکی غصے سے نم ہوتی نسواری آنکھوں میں جھانک کر اس نے سوال کیا تو ولی نے پیچھے ہوکر ایک زوردار مکّا اسکے جبڑے پر مارا۔۔ حسین کو یکدم چکّر آیا۔ اسکے پھٹے ہونٹ سے نکلتا خون اسکے سفید چکمتے دانتوں پر لگ گیا تھا اور کچھ خون اسکی زبان میں نمکین ذاٸقہ گھول رہا تھا۔ مگر اس نے اف تک نہیں کیا۔۔ چکراتا سر ذرا اپنی جگہ پر آیا تو اس کو ولی کا سخت اور تنا ہوا چہرہ نظر آیا۔۔ اس نے حسین کو مزید دیوار گیر کھڑکی میں گُھسایا۔۔ اُس کا دم گھٹنے لگا تھا۔۔ مگر ولی کی آنکھوں میں جمی بے رحمی کی کاٹ میں ذرا فرق نہیں آیا۔۔
“مار تو میں تمہیں دونگا۔۔ تمہاری یہ آخری خواہش میرے ہی ہاتھوں پوری ہوگی مگر ابھی۔۔۔”
اسکی آنکھیں دہک رہی تھیں۔۔
“ابھی تمہیں زندہ رہنا ہے۔ تم اتنی جلدی نہیں مرسکتے حسین احمد۔۔ ابھی تم زندہ رہوگے اور میں تمہیں پل پل مارونگا۔۔ ایک جھٹکے میں، میں کچھ بھی ختم نہیں ہونے دونگا۔۔ تم نے مجھے پل پل موت دی ہے اور اب میں۔۔”
اسکی دہکتی انگارہ آنکھوں میں نم سی سُرخی گہری ہوٸ۔ چبا چبا کر لفظ ادا کرتا وہ کوٸ خونخوار بھیڑیا لگتا تھا۔۔ زخمی بھیڑیا۔۔جسکے زخم میں آج بھی وہی تکلیف تھی۔۔ جسکے زخم سے آج بھی خون رس رہا تھا۔۔ اور اس نے جتنی دفعہ اس زخم پر مرہم رکھا تھا اسکے آس پاس پلتے لوگوں نے اتنی ہی دفعہ اسکے مرہم کو نوچ پھینکا تھا۔۔ لیکن اب وہ وقت تھا کہ جب اس نے مرہم لگانا ہی چھوڑ دیا تھا۔۔ اور اب۔۔ وہ زیادہ خطرناک ہوگیا تھا۔۔ زیادہ خونخوار۔۔۔!
“اب میں تمہیں پل پل اس زندگی میں موت دونگا۔۔! اب میں ہر لمحہ تمہیں موت کا ذاٸقہ چکھاٶنگا اور تم اف تک نہیں کروگے۔۔ اگر تمہاری آواز بھی نکلی تو اپنی دونوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھول جانا۔۔”
اسکی بات پر حسین کی آنکھوں میں پہلی دفعہ بے یقینی اُتری۔۔ وہ چند ساعتیں تھیں۔۔ چند پل۔۔ پہلا دورانیہ بے یقینی کا تھا۔۔ پھر ادراک کا اور پھر۔۔ عذاب کا۔۔۔! اس نے اپنی بُھوری آنکھیں پھاڑ کر ولی کے تپتے سُرخ چہرے کو دیکھا تھا۔ ولی کی گرفت اب تک اسکے گریبان پر اتنی ہی سخت تھی مگر اس نے اسے ایک جھٹکے کے ساتھ پھر سے قدآدم کھڑکی میں جمایا۔۔ حسین کو لگا کھڑکی کا شیشہ چکنا چور ہونے والا ہے۔۔ اسکی پشت شیشے سے چپکی ہوٸ تھی۔۔
“تم نے ایک چھوٹے بچے۔۔ ایک محض چودہ سال کے بچے پر کتّا چھوڑتے کیوں فراموش کردیا تھا کہ سب سے زیادہ بڑا جانور تو انسان ہی ہے۔۔ تم کیوں بھول گۓ تھے اس رات کے ہر عمل پلٹ کر آتا ہے۔۔ ہر عمل کی واپسی کا وقت ہوتا ہے۔۔ تم بھول گۓ مگر وہ بچہ۔۔ وہ بچہ آج بھی اس رات میں جی رہا ہے۔۔ وہ بچہ آج بھی اس رات میں اور اس جیسی ہر رات میں زندہ ہے حسین احمد۔۔”
وہ چیخا تھا۔۔ پھر یکدم پھولتی سانسوں کو قابو کرنے کے لیۓ دانت جماۓ۔۔ اسکی نظریں ایک پل کے لیۓ بھی حسین کی نظروں سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔۔
“آج میرے پاس بھی ایک کتا ہے حسین احمد۔۔ اور میں نے اسے پال کر بہت بڑا کیا ہے۔۔ اسے چیرنا پھاڑنا سکھایا ہے۔۔ اسے وہ سب سکھایا ہے جو مجھے میرے بچپن نے سکھایا تھا ۔ تم نے ہی کہا تھا ناں کہ میں ظالم ہوں۔۔ آگ ہوں۔۔ سرواٸیور ہوں۔۔ تو بس۔۔ تمہارے ساتھ یہ سب کرنا میرے سرواٸیول کا حصّہ ہے۔۔ میری زندگی کا مقصد ہے۔۔ کیونکہ وہ بچّہ جس نے اس رات پہلا قتل کیا تھا وہ بچ گیا تھا۔۔ ہر آگ سرواٸیو کرگیا وہ۔۔ اور جو سرواٸیو کرجاٸیں ان سے زیادہ سخت جان واقعی کوٸ نہیں ہوتا۔۔”
پہلی بار حسین کا سانس پھولنے لگا تو وہ نفرت سے اسے جھٹکے سے چھوڑتا الگ ہوا۔۔ وہ جھک کر لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ اسے سخت گرفت کے باعث کھانسی آٸ تھی مگر پھر وہ ہنستا ہوا سیدھا ہوا۔۔ اسکے ہونٹ سے بہتا خون اب اسکی سفید قمیص پر گررہا تھا ۔۔ مگر وہ ولی کو دیکھتا ویسے ہی ہنس رہا تھا۔۔ اسکی بے بسی اور اسکی قسمت پر۔۔ یا شاید ولی پر۔۔ وہ اسکی اس بے موقع ہنسی کو ناسمجھی سے دیکھنے لگا۔۔
“جاتے جاتے ایک آخری بات سُنتے جاٶ۔۔”
اسے بہت زور سے کھانسی آٸ تھی۔ جھکنے کے باعث خون کے چند قطرے زمین پر بچھے دبیز قالین پر گرے تھے۔ وہ دواٸیوں سے بھرے ساٸیڈ ٹیبل پر ہاتھ رکھے بمشکل سیدھا کھڑا ہوا۔۔ ایک مکّے نے اس کی حالت کردی تھی۔
“جو بات تم آج تک مجھ سے پوچھنے کی ہمّت نہ کرسکے۔۔ وہ میں تمہیں بتاتا ہوں۔۔ تم آج تک اس گمان میں ہو کہ شاید۔۔ شاید تم جاٸز ہو۔۔ ہوسکتا ہے میں نے تمہاری ماں سے نکاح کیا ہو۔۔ بتاٶ۔۔ ہو ناں اس آس میں۔۔؟”
وہ کھانستا ہوا پھر جھکا مگر پھر سنبھل کر جلد سیدھا بھی ہوگیا۔۔ ولی کی ساکت پتلیوں میں جنبش نہیں تھی۔ زخمی نگاہوں سے حسین کا چہرہ دیکھتا وہ ایک پل کے لیۓ واقعی خوف زدہ ہوا تھا۔۔ ہاں وہ ڈرتا تھا۔۔ وہ اس آخری امید کے ختم ہوجانے سے ڈرتا تھا۔۔ اسی لیۓ اس نے آج تک حسین سے یہ بات پوچھنے کی ہمّت نہیں کی تھی۔۔ مگر بس۔۔ شاید اب وقت آگیا تھا۔۔ اب وقت واقعی آگیا تھا۔۔ ساکت پتلیاں ٹھہرنے کے باعث دُکھنے لگیں تو اس نے پلکیں جھپکاٸیں۔۔ اندر سے آج بھی وہ وہی ولی تھا۔۔
“میں نے تمہاری ماں سے نکاح نہیں کیا تھا۔۔”
وہ لفظ نہیں چابک تھے۔۔ اسے لگا کسی نے اسکے منہ پر بہت زور سے بیلچہ دے مارا ہو۔۔ اتنی اذیت۔۔ اتنی اذیت تو اسے اس رات بھی نہیں ہوٸ تھی جس رات اس نے یہ جانا تھا کہ وہ اسکا باپ تھا مگر آج۔۔۔ کیا کبھی تم نے روح قبض کی جانے کی آواز سُنی ہے۔۔؟ اسکے اندر ویسی ہی آواز گونج رہی تھی۔۔
وہ آگے بڑھا اور حسین کو گردن سے پکڑ کر اسکا چہرہ دواٸیوں سے بھرے ساٸیڈ ٹیبل پر پٹخا۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کو مارتا مچلنے لگا تھا مگر ولی۔۔ اسکے چہرے پر کوٸ تاثر نہ اُبھرا۔۔ کچھ نہیں۔۔ اسکا چہرہ اتنا سپاٹ ہوگیا تھا گویا بے جان ہو گیا ہو۔۔
“تم کبھی بھی چین نہیں لے سکو گے ولی۔۔ کیونکہ تمہیں نہیں بچنا تھا تمہیں مرنا تھا۔۔ تمہارا بچ جانا سب سے بڑی غلطی ہے تمہاری۔۔”
وہ اب بھی کہہ رہا تھا۔ ولی نے اسے گردن سے دبوچ کر سیدھا کیا اور اسے بیڈ پر دھکا دیا۔۔ وہ تیز تیز سانسیں لیتا ہنس رہا تھا۔۔ وہ جانتا تھا اس نے ولی کے اندر بچی آخری چنگاری بُجھا دی ہے۔۔ اور اب ولی راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے
وہ جانتا تھا۔۔ اسے سب معلوم تھا۔۔
“تمہیں زندہ نہیں رہنا تھا ولی۔۔ تمہیں تو مرنا تھا۔۔”
وہ اب تک گہرے گہرے سانس لیتا بول رہا تھا اور ولی۔۔ اس نے گردن کے گرد لپیٹی سیاہ چادر کو درست کیا اسے نفرت سے دیکھا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔ گھر میں موجود ملازم اسے سر اُٹھا کر تیزی سے زینے اُترتا دیکھ رہے تھے۔ وہ جس چہرے کے ساتھ آیا تھا اس سے کہیں زیادہ زخمی چہرے کے ساتھ جارہا تھا۔ داخلی دروازہ پورا کُھلا ہونے کے باعث اب دھوپ قدرے اندر کی جانب ٹاٸلز پر گر کر چمک رہی تھی۔ مگر اس دھوپ میں نرمی کا کوٸ شاٸبہ تک نہ تھا۔ وہ دُھوپ جُھلسا رہی تھی۔۔ راکھ بنا رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ولی ڈیرے پر نہیں گیا تھا۔ اس نے ذرا دُور ایک بہتی نہر کے کنارے پر گاڑی روکی اور پھر کار سے نکل آیا۔ یہ چونکہ گاٶں کا آخری سِرا تھا اسی لیۓ لوگوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اکّا دکّا لوگ سروں پر لکڑیوں کے گٹّھڑ باندھے اسے حیرت سے تکتے گزر رہے تھے۔ وہ نہر کے اونچے کنارے پر بیٹھا خالی نظروں سے دور تک بہتی طویل نہر کو دیکھے گیا۔ دسمبر کے اواٸل دن تھے اور سردی ابھی اتنی گہری نہیں ہوٸ تھی مگر پھر بھی ہوا خنک تھی یا نرم۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آٸ۔۔ اسے کسی چیز کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ہر چیز اپنا اثر جیسے کھو چکی تھی۔ دور اُڑتے پرندوں کا ایک جُھنڈ اسکے سر کے اوپر سے گزرا۔۔ نیچے نہر کے اونچے کنارے پر وہ بہت شکستہ سا بیٹھا تھا۔۔ اس کے اندر سب خاموش ہوگیا تھا۔ وہ کتنی دیر بہتی بے آواز نہرکے پاس بیٹھا رہا اسے اندازہ نہیں ہوا۔۔ پھر جب بہت ٹاٸم بعد اسکا فون بجا تو اس نے ہاتھ میں پکڑا فون نگاہوں کے سامنے کیا۔۔ شاہ نواز کالنگ۔۔ موباٸل کی سکرین پر جگمگا رہا تھا۔۔ اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
“شاہ نواز۔۔ بی بی کالج گٸیں ہیں۔۔ بارہ بجے انہیں لینے جانا ہے۔ میرا انتظار مت کرنا میں آجاٶنگا کچھ دنوں تک۔ “
آگے والے کی کوٸ بھی بات سنے بغیر اس نے فون کان سے ہٹایا اور پھر سے دور اُڑتے پرندوں کے غول کو دیکھے گیا۔۔ وہ ایک جھنڈ کی صورت ایک ساتھ ایک ہی سمت میں اُڑتے پھر رہے تھے۔ سورج ڈھلا شام اُتری اور رات سرپر آن کھڑی ہوٸ۔۔ وہ ویسے ہی بیٹھا رہا۔۔ ایک باسی نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو وہ ایک دم چونکا۔۔
“بابو۔۔ رات ہوگٸ ہے گھر جاٶ اب۔۔”
اس کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور شکستہ سا اُٹھ کر گاڑی کی جانب آگیا۔۔ اسکا دماغ اب تک ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
“ابھی تک نہیں آیا ہے ولی گھر آغا جان۔۔! وہ کبھی اس طرح اتنی دیر تک گھر سے باہر نہیں رہا۔ آپ خدا کے لیۓ کسی سے پوچھیں کسی کو بھیجیں اسکے پیچھے۔۔ آپ کیوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔۔”
بی جان بے چینی سے ہاتھ مسلتیں مقابل صوفے پر براجمان زمان سے کہہ رہی تھیں۔ جو اس کے اس طرح گھر نہ آنے پر خود بھی حیران تھے۔ مگر پھر شاہ نواز کی اطلاع پر انکے اوپر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا۔ بھلا جب وہ خود نہ آنا چاہتا ہو تو کیا وہ اسکے ساتھ زبرستی کرتے۔۔! انہوں نے گہرا سانس لے کر بی جان کو دیکھا۔۔ جو بہت مضطرب سی ہوکر بار بار پہلو بدل رہی تھیں۔ لاٶنج کی روشن زرد رشنیوں میں انکا اپنا چہرہ بھی زرد لگ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا زمانی وہ بچّہ نہیں ہے اور نہ بیوقوف۔۔ وہ اگر گھر نہیں آنا چاہتا تو ہوسکتا ہے اپنے کسی دوست کے ساتھ ہو باہر۔۔ نہ اسکا دل چاہ رہا ہو گھر آنے کا۔ تم بلاوجہ پریشان ہورہی ہو۔۔”
“مگر اس نے کبھی ایسا نہیں کیا زمان۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل کہتا ہے کہ میرا ولی ٹھیک نہیں ہے۔ میرا دل بہت عجیب ہو رہا ہے آغا جان۔۔ خدارا اسے فون کر کے کہیں کی گھر واپس آۓ۔۔”
مگر زمان جانتے تھے کہ وہ اپنا فون نہیں اُٹھا رہا تھا۔ انکی بارہا کی گٸ کالز کا جواب بھی اب تک نہیں آیا تھا۔۔
“کچھ نہیں ہے بس خدا سے اسکی حفاظت کی دعا کرو۔۔ پریشان مت ہو۔۔”
انہوں نے آگے بڑھ کر انکے گٹھنے پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دی مگر بی جان کو چین نہیں آیا۔۔ انہیں کسی طور چین نہیں آرہا تھا۔
اگر زمان اور بی جان کو چھوڑ کر تم مدھم روشنیوں سے منور زینے پھلانگ کر اوپر کی جانب جاٶ اور امل کے کمرے کے نیم وا دروازے سے ذرا اندر جھانکو تو تم پر کمرے کا منظر واضح ہوگا۔ وہ اداس سی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر لان پر نظریں جماۓ ہوۓ تھی۔ وہ وہی قد آدم کھڑکی تھی۔۔ جسکی ایک جانب کا پردہ اس نے سرکا رکھا تھا تاکہ اس سے باہر کا منظر نہ چوک جاۓ۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آۓ اور اسے پتہ نہ چلے۔ اسکی ٹانگیں اب کھڑے کھڑے درد سے سُن پڑنے لگی تھیں مگر اسے بیٹھنا گوارہ نہ تھا۔ وہ اسے دیکھنے کے لیۓ۔۔ بس ایک نظر دیکھنے کے لیۓ کھڑی تھی۔۔ اور دل تو اسکا بھی بی جان کی طرح گھبرا رہا تھا۔ مگر وہ کیا کرتی۔۔ کہاں جاتی آخر۔۔ کس سے کہتی۔۔؟ جو نظریں سمجھتا تھا وہ تو نظروں سے ہی اوجھل ہوگیا تھا۔ اگر اسے نہیں دیکھنا چاہتا تھا تو نہ دیکھتا مگر۔۔۔ مگر اسکے سامنے تو رہتا۔۔ اسکی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا اور چکنے رخسار پر پھسلتا گردن میں لڑھکا۔۔
ولی نہیں آرہا تھا۔۔
اسکی دوسری آنکھ سے بھی ایک آنسو ٹوٹا تھا۔
وہ کیوں نہیں آرہا۔۔؟
اور اب کے اسکی دونوں آنکھیں گرم پانیوں سے بھر گٸیں۔۔ یکایک اسکے چہرے پر بوچھاڑ سی برسنے لگی۔
کیا نہیں جانتا کہ میں نہیں رہ سکتی اسے دیکھے بنا۔۔!
اس نے بہت سے آنسو روکنے کے لیۓ اپنے ہونٹ کو سختی سے دانتوں تلے دبایا۔ ایسا کرنے سے اب کے اسکا گلا دُکھنے لگا تھا۔۔
میں کبھی بات نہیں کرونگی اس سے۔۔ وہ بہت بُرا ہے۔۔ مجھے بہت رُلاتا ہے۔۔
وہ اسکے خلاف کچھ اکھٹا کرنا چاہتی تھی۔۔ مگر نہیں۔۔ اسکے اندر باہر وہی تھا۔۔ بس وہی۔۔ آنکھیں کھولتی تو وہ نظر آتا۔۔ بند کرتی تو وہ سیاہ پردے پر جگمگانے لگتا۔۔ اس نے تھک کر اپنا سر کھڑکی کے شیشے سے ٹکایا اور بے آواز روۓ گٸ۔۔
آجاٶ ولی۔۔
واپس آجاٶ۔۔
وہ اب تک وہیں کھڑی اس سے خاموش التجا کررہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔
صبح کا سورج آسمان کے نچلے حصّے سے ذرا اوپر کو جھانکتا اپنی سنہری روشنی ہر سُو بکھیر رہا تھا۔ فجر کو باسی ہوۓ چند ساعتیں ہی بیتی تھیں جب نگار بیگم سفید حویلی میں داخل ہوٸیں۔ بی جان ناشتے سے فارغ ہوکر لاٶنج کی جانب بڑھ رہی تھیں جب نگار بیگم پر نگاہ پڑتے ہی ٹھٹھک کر رُکیں اور پھر بے اختیار آگے کو آٸیں۔۔
“ارے بھابھی اتنی صبح صبح۔۔ سب خیریت تو ہے۔۔؟”
انہیں اس طرح صبح کی پہلی کرن کے ساتھ حویلی میں دیکھ کر بی جان ذرا حیران ہوٸ تھیں مگر نگار نے کوٸ پرواہ کیۓ بغیر آگے بڑھ کر انہیں گلے لگایا اور پھر صوفے پر پُرتکلّف سے انداز میں بیٹھ گٸیں۔۔ بی جان بھی انکے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔
“کچھ نہیں کافی دن سے سوچ رہی تھی تمہاری طرف چکر لگانے کا۔ بس آج ناشتے کے بعد فارغ تھی اور ہاشم نکل رہا تھا ڈیرے کے لیۓ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑ دے زمانی کے یہاں۔۔ اور پھر آگٸ۔۔”
سر پر ڈلے جامنی رنگ کے ریشمی دوپٹے کو انہوں نے ماتھے تک برابر کرتے یہاں وہاں دیکھا۔۔
“امل کہاں ہے۔۔؟ کیا کالج چلی گٸ۔۔؟”
“ارے نہیں بھابھی تیار ہورہی ہے کمرے میں اپنے۔ پرچے ہورہے ہیں ناں اسکے۔۔”
بی جان اب ذرا ڈھیلی ہو کر صوفے کی پُشت سے ٹک کر بیٹھیں اور رُخ نگار بیگم کی جانب موڑا۔۔ انکی بات سن کر نگار بیگم نے مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا۔۔
“ہاں بتایا تھا مجھے ارجمند نے۔ ناجیہ کے بھی پرچے ہورہے ہیں ناں۔۔ اپنی امل اور ناجیہ ایک ہی جماعت میں ہیں نہیں۔۔؟”
گڈ مڈ ہوتی معلومات کے ساتھ انہوں نے بی جان سے پوچھا تو بی جان نے سر کو خم دیا۔۔
“جی بھابھی خیر سے ہم عمر جو ہیں ہماری بچیاں۔ بس اللّہ انکے نصیب اچھے کرے۔۔ لمبی عمر دے۔۔ سُکھ والی زندگی دے۔۔ آپ بتاٸیں دونوں بیٹیاں ٹھیک ہیں آپکی۔۔ اور ہاشم؟”
“رب دا شکر ہے زمانی۔ سب ٹھیک چل رہا ہے۔۔”
اسی پل امل زینوں سے اُترتی ہوٸ نظر آٸ۔ سفید بے داغ سے یونیفارم پر بڑی سی سیاہ چادر لیۓ وہ نیچے اُتر رہی تھی۔ چُٹیا میں گوندھے گۓ اسکے ریشمی بالوں سے چادر ڈھلک کر کندھوں پر پڑی تھی اور چہرہ۔۔ چہرہ صبح کی پاکیزگی میں یوں دمک رہا تھا گویا دُھلا ہوا چاند ہو۔۔ وہ دُھلی ہوٸ شفّاف چاندنی لگتی تھی۔۔ نگار بیگم کو دیکھتی وہ مسکرا کر انکے قریب آٸی۔۔ پھر ہاتھ میں پکڑیں فاٸلز وغیرہ درمیانے ٹیبل پر دھریں اور ان سے گلے ملی۔ سر پر پیار لیا۔۔ مگر اسے نگار بیگم کے رویے میں کچھ عجیب سی چُبھن محسوس ہوٸ تھی جو اس کے لیۓ نٸ بات تھی۔۔
“اسّلا علیکم کیسی ہیں تاٸ جی آپ۔۔؟”
نرمی سے سوال کیا جیسے ہمیشہ کرتی تھی۔۔ مگر نگار بیگم نے اس پر کوٸ خاص توجّہ نہ دی۔۔
“وعلیکم اسّلام۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔”
البتّہ سلام کا جواب دیتے ہوۓ انہوں نے اسے سر سے لیکر پیر تک گہری نظروں سے دیکھا جو اسے عجیب سا لگا۔۔ وہ ان کمفرٹیبل ہوٸ تھی۔۔
“پرچے کب تک ختم ہونگے تیرے۔۔؟”
“جی آج دوسرا پیپر ہے تاٸ جی۔ اگلے ہفتے تک ختم ہوجاٸنگے انشا اللّہء۔۔ آپ دعا کیجیۓ گا میرے لیۓ۔۔”
اسکے مسکرا کر کہنے پر وہ بھی مسکراٸ تھیں۔۔ مگر نہ جانے کیوں اسے وہ پہلی والی گرم جوشی مفقود محسوس ہوٸ۔۔ نگار کا رویہ اسے غیر آرام دہ کررہا تھا۔۔
“جلدی جلدی ختم کر پرچے پھر ماں کا ہاتھ بٹا۔ کیسے اتنے جھمیلے سمیٹے گی شادی کے اکیلے وہ۔ اور تو زمانی۔۔ لڑکی کو ذرا گھر داری سکھا کوٸ کام کاج۔ اب میری بیٹیاں ہیں مجال ہے جو میں باورچی خانے میں قدم بھی رکھ دوں۔۔ خود کرتی ہیں خود سنبھالتی ہیں۔۔ اور اس سے تو عمر سے اتنی بھی بڑی نہیں ہیں۔۔۔۔”
انکے نخوت سے کہنے پر زمانی مسکراٸیں۔ انہیں نگار کے اس رویے کی عادت تھی۔ بلاوجہ طنز اور جتانے سے وہ باز نہیں آتی تھیں۔۔ مگر امل کے لیۓ اس طرح سے بات کرنا ان کے لیۓ بھی نیا تھا۔ خاندانی سیاستوں میں وہ کبھی بچیوں کو نہیں گھسیٹا کرتی تھیں مگر آج۔۔ آج تو انکی جون ہی الگ تھی۔۔
“ابھی تو پڑھ رہی ہے بھابھی۔۔”
“کتنا پڑھانا ہے تجھے اسے۔۔”
انہوں نے زمانی کی بات کاٹی۔۔
” بھلا لڑکیوں نے اگلے گھر جاکر پڑھاٸ کا کیا کرنا ہے۔۔؟ اگر پکانا نہیں آتا تو کچھ نہیں آتا لڑکی کو۔۔ صفر ہوجاتی ہے زمانے میں وہ۔۔ اور تُو بھی امل۔۔”
انہوں نے اسی چُبھتے تاثرات سے دیکھا تو اسکا دل جو ولی کی غیر موجودگی پر ویسے بھی عجیب سا ہورہا تھا انکے ایسے انداز سے مزید کرلانے لگا۔۔
“سارے فضول کام چھوڑ اور گھر داری سیکھ۔۔ تیرے ساتھ یہ فضول کام دوسرے گھر نہیں جاٸیں گے۔۔ یہ عزت گھر داری ہی جاۓ گی تیرے ساتھ”
صبح کا پاکیزہ سا اُجلا پن نگار کی باتوں کی وجہ سے پھیکا پڑنے لگا تھا۔ امل سے انکے سامنے کھڑا ہونا مشکل ہوا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسی باتوں پر کیا جواب دے۔
“جی بھابھی۔۔ میں اسے سکھاٶنگی۔۔ سب سکھاٶنگی۔۔ بچیاں واقعی اگر گھرداری نہیں جانتیں تو پھر کوٸ فاٸدہ نہیں ہوتا اُنکی کسی بھی قسم کی تعلیم کا۔۔”
بی جان نے اسکا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھ کر جلدی سے بات سنبھالی تو امل سے انکے سامنے رُکنا مشکل ہوگیا۔ اس نے جلدی سے سلام کیا اور اپنی فاٸلز ٹیبل سے اُٹھاتی باہر کی جانب بڑھی۔ اسکا دل صبح ہی صبح عجیب ہوگیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ نواز آفس کے کام نپٹاتا ساتھ ساتھ ٹیبل پر پڑی چاۓ کے گھونٹ بھی بھر رہا تھا۔ ولی کے نہ ہوتے ہوۓ سارے کام اسکے کندھوں پر آگرے تھے۔ وہ جلدی جلدی کام سمیٹنے لگا۔ اس نے ولی کو دو تین بار فون کرنے کوشش کی تھی مگر اسکا فون ہر بار کی طرح بند آرہا تھا۔ بند ہوۓ فون کی وجہ سے اسکی لوکیشن بھی چیک نہیں کی جا سکتی تھی سو چند پل پریشان ہونے کے بعد وہ اب پُرسکون سا بیٹھا کام میں مشغول تھا۔۔ دفعتاً اسکے آفس کا دروازہ کُھلا اور محسن اندر داخل ہوا۔ اسکے ہاتھ میں بہت سی پُرانی فاٸلز تھیں اور کچھ بڑے چوکور سے خاکی لفافے۔ اس نے فاٸلز اس کے ٹیبل پر دھم سے رکھیں تو شاہ نواز نے خلل پڑنے پر اسے ناگواری سے سر اُٹھا کر دیکھا۔۔
وہ چہرے پر “اچھا سوری” والی مسکراہٹ لیۓ سامنے رکھی کرسی کھینچ بیٹھا۔۔ اورکرسی بھی اتنی ہی آواز کے ساتھ کھینچی کے شاہ نواز کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“کوٸ بھی اُلٹی سیدھی ہانکنے سے پہلے چلے جاٶ یہاں سے۔۔”
اس نے جُھکے سر کے ساتھ کہا تو وہ جو بات کرنے کے لیۓ لب کھولنے لگا تھا خفگی سے اسے دیکھا۔۔
“سر مجھے آپ سے ایک بات پُوچھنی تھی۔۔”
“میں بزی ہوں۔۔”
مصروف جواب آیا مگر محسن مایوس نہیں ہوا تھا۔ آگے بڑھ کر ایک فاٸل کھول کر اس پر سرسری سی نگاہ ڈالتے وہ کہنے لگا۔۔
“سر ولی سر۔۔ سردار بابا کے سگّے بیٹے ہیں۔۔؟”
جتنے مزے سے اس نے یہ بات پُوچھی تھی اس سے کہیں زیادہ تیزی سے شاہ نواز نے سر اُٹھایا۔ اس نے اسکے یوں سر اُٹھانے پر چونک کر دیکھا تھا۔۔
“کیا نہیں ہیں۔۔؟”
اس نے پوچھا۔۔ شاہ نواز نے فاٸل بند کرکے سامنے ٹیبل پر پٹخی تھی۔۔
“فضول سوالات کرنے کی یہاں کسی کو اجازت نہیں ہے محسن اور تم بھی اس بارے میں جان لو کہ ولی سر کو یہ بالکل نہیں پسند۔۔”
“کیا نہیں پسند انہیں۔۔؟”
اسکے چہرے پر اب تک نا سمجھ سا تاثر تھا۔ شاہ نواز نے اسے سخت نظروں سے دیکھا۔۔
“وہ اپنے متعلق بات کرنا بالکل بھی پسند نہیں کرتے۔۔ اور نہ انہیں یہ پسند ہے کہ کوٸ ان کے ماضی کو کھودے۔ سو اپنی زبان بند رکھو اور صرف کام پر توجہ دو نہیں تو اس نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔۔”
“شاہ سر آپ مجھ سے واقف ہیں۔۔ اگر ایک دفعہ کوٸ چیز میری دلچسپی کا مرکز بن جاۓ تو پھر اس سے نگاہیں ہٹانا میرے لیۓ بہت مشکل ہوجاتا ہے۔۔ آپ نہیں بتاٸیں گے تو کوٸ مسٸلہ نہیں۔ میں خود سب کھود نکالونگا۔۔ وہ بھی جو ولی سر خود بھی نہیں جانتے ہونگے۔۔”
وہ معصوم اور لا اُبالی ضرور تھا۔ مگر شاہ نواز یہ بھی جانتا تھا کہ اسکے اندر فکس ہوۓ مکینزم بہت شاطر اور بہت باریک بین تھے۔ وہ اسے نہیں بتاتا تو اسے سب جاننے میں ایک دن سے بھی کم کا عرصہ لگنا تھا۔۔ اس نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔۔
“وہ۔۔۔ لے پالک ہیں۔۔”
“والدین کون تھے انکے؟”
اسکی جانچتی نظروں میں بلا کی سنجیدگی تھی۔ شاہ نواز نے پھر سے گہرا سانس لیا۔۔
“یتیم تھے ولی سر۔ جب سردار بابا نے انہیں گود لیا۔۔ اور اب بس۔۔ اسکے بعد کوٸ سوال نہیں۔۔”
اس نے تنبیہہ کر کے سامنے رکھی فاٸل کھول لی۔ مگر محسن کے سوالات ابھی ختم نہیں ہوۓ تھے۔۔
“سسی۔۔ لیکن یہاں گاٶں میں تو کوٸ یتیم خانہ نہیں۔ بن باپ کے بچّوں کو خاندان والے اپنی ذمّےداری پر سنبھالتے ہیں۔۔ ولی سر کے کوٸ رشتہ دار نہیں ہیں کیا۔۔؟”
” نہیں انکا کوٸ رشتے دار نہیں۔۔”
“پھر وہ سردار بابا کو ملے کہاں سے۔؟؟”
اس کے سوال اب شاہ نواز کو زچ کررہے تھے اس نے لب بھینچ کر اسے دیکھا تو وہ یکدم سیدھا ہوا۔۔
“اوکے اوکے۔۔ میں چلا جاتا ہوں۔۔ اور میں کسی قسم کی کوٸ کھوج بھی نہیں کرونگا۔۔”
“تم کر بھی نہیں سکتے۔۔”
اس کے مسکرا کر کہنے پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“مطلب۔۔؟”
“مطلب یہ کہ ولی سر کے بہت سے تعلقات ہیں۔ اور وہ تعلقات ہرگز بھی مزاق نہیں۔ تم جس کو بھی اپروچ کروگے۔ تو جواب تمہیں بعد میں اور ولی سر کو خبر پہلے دی جاۓ گی۔۔ کیا تمہیں یہ منظور ہے۔۔؟”
اسکی ایسی مسکراہٹ پر محسن تلملاتا ہوا باہر نکلا تو شاہ نواز کی مسکراہٹ سمٹی۔ اس بات سے تو اسے بھی خوف آتا تھا کہ اگر کبھی کوٸ ولی کی کھوج پر نکلا اور اسکے ماضی کو کھنگالنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر ولی کا ردِعمل کیا ہوگا۔۔ اف وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا اس بارے میں۔۔ اسے ولی کے ہر ردّعمل سے خوف آتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
