Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 13) Part - 3
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 13) Part - 3
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
کچھ دیر بعد وہ قانتہ کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل آٸ۔ قانتہ نے ایک ہاتھ سے زین کو تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کہنی پکڑ رکھی تھی۔ زینوں پر آکر اس نے پھیکا سا مسکرا کر ان سے اپنا بازو چھڑایا تو انہوں نے اسے ہلکا سا تھپکا اور زین کو لیۓ نیچے اتر گٸیں۔ اس نے بھی تھکے سے قدم زینوں پر رکھے۔ سنہرا سا لچک دار فراک اب پھر سے زینوں کو چھوتا اس کے ساتھ ساتھ نیچے اتر رہا تھا۔ سیاہ بالوں کو فرنچ میں گوندھنے کے بعد اب کے اس کا محض دُھلا دُھلایا سا چہرہ بھی دمک رہا تھا۔ ولی نے گردن گھما کر اسے زینوں سے اترتے دیکھا اور پھر اتنی ہی تیزی سے چہرہ واپس پھیر لیا۔ لاٶنج میں مہمانوں کا بہت رش ہورہا تھا۔ کچھ گاڑیوں میں بیٹھ چکے تھے اور کچھ ابھی رہتے تھے۔ بی جان اب تک ارجمند کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی تھیں۔ اسے اترتا دیکھا تو پاس چلی آٸیں۔۔
”کیا ہوا یہ بال کیوں باندھ لیۓ۔۔ ؟ ابھی تک تو کھلے رکھنے کا ارادہ تھا تمہارا۔۔“
اس نے بمشکل مسکرا کر انہیں دیکھا۔ پھر ایک نظر مڑ کر سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس ولی کو جو قانتہ کے ساتھ کھڑا زین کی کسی بات پر مبھم سا مسکرارہا تھا۔
”کسی نے کہا بی جان کہ مجھے اپنے بال باندھ لینے چاہیۓ تو میں نے باندھ لیۓ۔۔“
ان کی جانب چہرہ پھیر کر کہا تو بی جان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ پھر اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔
”تم بال باندھو یا کھولو۔۔ ہر طرح پیاری لگتی ہو۔ اچھا اب چلو نکلنا ہے بس مہمان سارے بیٹھ چکے ہیں گاڑیوں میں اور وقت بھی نکلا جارہا ہے۔ میں ذرا فرید کو آواز دے دوں کہ نکال لے گاڑی۔۔“
اسی وقت ولی ان کے پاس چلا آیا۔ ایک نظر اس پر ڈالے بغیر بی جان کی جانب متوجہ ہوا۔ امل نے ہونٹ آپس میں مس کیۓ اور پلکیں تیزی سے جھپکاٸیں۔ اس کی موجودگی اسے نروس کررہی تھی۔۔
”میں لے کر جاٶنگا آپ لوگوں کو بی جان۔ فرید کو رہنے دیں۔ وہ مزید مہمانوں کو لے جاۓ گا۔۔“
”اور تم نہیں چلو گے ہمارے ساتھ ۔۔۔؟“
بی جان نے ابرو اکھٹے کر کے یکدم پوچھا تو ولی ہلکا سا مسکرایا۔ اس نے بھی ایک نظر اُٹھا کر دیکھا تھا اسے۔۔
”نہیں بی جان۔۔ میں واپس آجاٶنگا۔۔ پھر جب آپ لوگ فارغ ہوجاٸیں مجھے کال کر کے بتادیجیۓ گا میں لینے آجاٶنگا۔ فرید کے ساتھ مت آٸیے گا ٹھیک۔۔؟“
اس کی نرم سی سنجیدگی کو بی جان نے سمجھ لیا تھا اسی لیۓ گہرا سانس لے کر سر ہلایا۔۔
”کھانا کھایا تم نے۔۔؟“
بی جان کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
”بھوک بالکل بھی نہیں ہے ابھی بی جان۔۔ چلیں اب دیر ہورہی ہے۔۔“
کسی بات کا موقع دیۓ بغیر اس نے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ اور پھر مہمانوں کے درمیان سے راستہ بناتا داخلی دروازے سے گزر گیا۔ اس نے بھی ہاتھ میں پکڑی سفید بے داغ سی چادر اوڑھی اور پھر بی جان اور قانتہ سمیت باہر نکل آٸ۔ ناجیہ اور ارجمند اسی وقت گاڑی میں بیٹھ کر ان کے سامنے سے گزر کر گۓ تھے۔ اس نے آس پاس نفیس کو تلاشا مگر وہ پھر اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔۔ شاید وہ واپس حویلی چلا گیا تھا۔ زمان حسن صاحب کے ساتھ ہی نکل گۓ تھے۔ اسی لیۓ بی جان ولی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گٸیں اور قانتہ،زین اور امل پیچھے۔۔
کچھ فاصلے بعد حویلی واقع تھی۔ اس نے رش کے باعث کار باہر ہی روک لی تھی۔ پھر جب بہت سی گاڑیاں پورچ میں داخل ہوگٸیں تو اس نے بھی کار آگے بڑھا دی۔ بی جان فوراً اتر گٸ تھیں۔ قانتہ اور زین بھی انہی کے ساتھ اتر آۓ۔۔ مگر امل۔۔ وہ جیسے ہی باہر نکلنے لگی ولی کی آواز نے اسے روک لیا۔۔
”خیال رکھیۓ گا اپنا۔ کوٸ بھی مسٸلہ ہو تو مجھے فوراً اطلاع کریں ٹھیک۔۔؟ اور امل بی بی۔۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیۓ گا۔ ہر کسی سے بات نہیں کی جاتی۔ ہر کوٸ باتوں سے سمجھنے والا نہیں ہوتا۔ کچھ لاتوں کے بھوت ہوتے ہیں گرم ہاتھ کھاۓ بغیر بات دماغ میں نہیں گھستی ان کے۔ اگر آٸندہ کبھی بھی کوٸ بھی انسان آپ کو پریشان کرے۔ یا پھر آپ کو کوٸ کام ہو۔۔ کوٸ سا بھی۔ قانونی یا غیر قانونی۔۔ آپ میرے پاس آٸنگی۔ مجھے کہیں گی سب کچھ۔۔ چاہے پھر علی الصبح ہو یا رات کا آخری پہر میرے یا پھر سردار بابا کے علاوہ کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو ٹھیک۔۔۔! اور ایک بات اور۔۔“
وہ جو دھیمی سی سرد آواز میں سامنے لگے شیشے کے پار دیکھتا کہہ رہا تھا رک سا گیا۔۔
وہ تو سانس روکے اسے سُن رہی تھی۔ کوٸ اور وقت ہوتا تو وہ ان سب باتوں پر ہنس دیتی یا پھر اس کی اتنی پرواہ کرنے پر اس کا دل پھڑپھڑا جاتا مگر ابھی۔۔ ابھی اس کے ساتھ بیٹھنے سے اس کا دم نکل رہا تھا۔۔
”یہ بال۔۔ انہیں ایسے ہی باندھ کر نکلا کریں گھر سے۔۔“
اس نے بمشکل آنکھیں جھپکا کر آنسو پیچھے دھکیلے اور پھر گاڑی سے نکل آٸ۔ وہ وہیں جا کھڑی ہوٸ تھی جہاں سے چلی تھی۔ جتنی مشکلوں سے اس نے اپنے اور ولی کے درمیان کھڑی برف سی دیواروں کو گرایا تھا وہ اتنی ہی تیزی سے ان دونوں کے درمیان پھر سے آکھڑی ہوٸ تھیں۔ اس کی بے پناہ جھجھک پھر سے عود آٸ تھی اور اب اس کے سامنے بات کرنا بھی اس کے لیۓ پھر سے محال ہونے لگا تھا۔۔
ولی نے اسے پورچ سے اندر تک جاتے دیکھا اور پھر گاڑی وہاں سے نکال لایا۔ راستے اب تک ویسے ہی سنسان پڑے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر اپنی کار پورچ میں کھڑی کرنے کے بعد وہ سبزہ زار پر بنے درمیانی دروازے سے حسن احمد کی حویلی کے اندر بڑھا۔ اس کا چہرہ حد درجہ سپاٹ تھا اور نسواری آنکھیں غصے سے دہک رہی تھیں۔۔ گردن کے گرد لپٹی شال کو اس نے ہاتھ سے کھینچ کر اتارا اور پھر لاٶنج میں آکر ایک صوفے پر شال ڈال دی۔ ساری حویلی سنسان پڑی تھی۔ یخ۔۔ برف سی۔۔
اس نے حفظ کیۓ ہوۓ نقشے کے تحت زینے تیزی سے پھلانگے اور کسی بھی دقت کے بغیر نفیس کے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولا۔ وہ جو بیڈ پر بیٹھا اپنے گھٹنے پر آۓ زخم کو پٹی سے لپیٹ رہا تھا بے یقینی سے سر اُٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔ سب گھر والے تو جاچکے تھے پھر اب۔۔۔ اور ولی کو دروازے میں ایستادہ دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔
جب وہ دوبارہ اپنی طرف کے سبزہ زار کی طرف بڑھا تو بھوری شال اس کے ایک ہاتھ میں تھی اور دونوں ہاتھوں کی اوپری جِلد پھٹی ہوٸ تھی.. پھٹی جلد سے نکلا خون وہیں جم گیا تھا مگر وہاں درد کسے ہونا تھا۔
کمرے میں آکر اس نے شال ایک جانب ڈالی اور پھر واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
اپنے کمرے میں موجود نفیس زمین پر کرّاہتا ہوا لوٹ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر جابجا تازہ زخموں کے نشان تھے اور پسلیوں پر پڑے زوردار مکے سے اسکی پسلیاں لگتا تھا اب درد سے ٹوٹ جاٸنگی۔
گرم پانی کا شاور لے کر اس کی طبیعت سے فرسٹیشن کافی حد تک چھٹ گٸ تھی۔ نم بالوں کو اس نے سر ہلا کر جھٹکا۔ اور پھر دُھلے بالوں کو تولیۓ سے رگڑتا وہ شیشے کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اسی پہر اس کا فون بجا تھا۔
نمبر دیکھ کر اس کے چہرے کے تاثرات بدل گۓ۔۔ سخت سے چہرے پر یکدم نرمی اُبھری تھی۔۔ فون کان سے لگا کر اس نے آگے والے کی بات سُنی تو ایک پل کے لیۓ سارا وجود سُن پڑ گیا۔۔
”کرم۔۔ کیا ہوا کرم کو۔۔؟“
اس کی خوفزدہ سی آواز نکلی تھی۔ اور پھر لمحوں ہی میں اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔ آس پاس سیاہ تاریک سُرنگ پھیل گٸ۔ سب کچھ دُھندلا گیا اور اگر کچھ باقی رہ گیا تھا تو وہ کرم کی آواز تھی۔۔
”میری آپا کو انہوں نے مار کر ایک سُرنگ میں ڈال دیا تھا۔“
بے تحاشہ تیز ہوتے تنفس کی پرواہ کیۓ بغیر اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے چابیاں جھپٹیں اور باہر کی جانب بھاگا۔ اس کا دل خوف سے سُکڑ رہا تھا۔ تیزی سے ڈراٸیو کرتا وہ اسی تاریک سُرنگ کی جانب بڑھ رہا تھا جس میں کبھی اسے مار کر ڈالا گیا تھا۔۔
”نہیں اللّہ اب نہیں۔۔“
اس کے لب مسلسل بڑ بڑا رہے تھے۔ اوپر والے سے التجا کررہے تھے کہ بس اب اور نہیں۔۔ اب اس میں اور کسی کا قتل دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ نہیں اب اور ظلم نہیں۔۔
مگر ایک انجانا سا خوف تھا جس سے اس کا جسم سُن پڑتا جارہا تھا۔ دل بند ہورہا تھا اور ہونٹ بے تحاشہ لرز رہے تھے۔۔ اس کی گاڑی ایک جھٹکے سے سُرنگ کے پاس رُکی اور وہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے کار سے نکل کر اندر سُرنگ کی جانب بھاگا۔۔ سُرنگ تاریک تھی۔۔ بے تحاشہ تاریک۔۔ سیاہ۔۔ اور یخ۔۔ مگر کسی کی ہچکیوں کی آواز سے اس کا دل پل بھر کو سکڑ کر پھیلا تھا۔۔
ہاں وہ کرم ہی تھا۔۔ خون میں لت پت ہاتھوں سے گہرے زخم کو دبا کر خون روکنے کی ناکام کوشش کرتا کرم۔۔
وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا۔۔ کرم بری طرح کانپ رہا تھا۔ خون بہت زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اس کی جان اب ختم ہونے کو تھی۔۔
”یہ۔۔ یہ کیسے ہوا کرم۔۔ چلو تمہیں اسپتال لے کر چلوں۔۔“
اسے آگے بڑھ کر اُٹھانے لگا مگر اس نے اسے روک دیا۔
”ن نہیں۔۔ و۔ ولی سرکار۔۔ م میرا وقت آ۔۔ آگیا ہے۔۔ اب۔۔ اب کوٸ کچھ ن نہیں کر سکتا۔۔ م میں ن نے۔۔ میں ن نے۔۔“
پھولتی سانسوں کے درمیان اس نے کہا تھا۔۔ ولی نے اس کے زخم کو اپنے ہاتھوں سے دبایا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کے اپنے ہاتھ بھی خون سے بھر گۓ تھے۔۔
”اپنی آ آپا۔۔ ک کا۔ بدلہ لینے کی۔۔ کوشش ک کی۔۔ مگر۔۔ مگر می۔۔ میں ن۔۔ نہیں کرسکا۔۔“
وہ شاید رورہا تھا۔ ولی کی آنکھیں تکلیف سے جلنے لگیں۔۔ گھٹنوں کے بل بیٹھا وہ تقریباً اس پر جھکا ہوا تھا اور اس کی بات سننے کی کوشش کررہا تھا۔۔
”سر۔۔ سرکار۔۔ می ۔۔ میرا ب۔۔ بدلہ ان س۔ سے۔۔ ضرور۔۔ لیج۔۔“
اور بس۔۔ اس کا کانپتا وجود یکدم سے رُک گیا۔۔ ولی کی آنکھیں ساکت ہوگٸ تھیں۔ اس نے اسے خوف زدہ ہوکر ہلایا۔۔
”کرم۔۔۔ کرم۔۔ اُٹھو کرم۔۔ بات کرو مجھ سے کرم۔۔“
وہ آخر میں چیخا تھا۔ آنسو بے تحاشہ اس کے گالوں پر لڑھک رہے تھے اور دل۔۔ دل اتنا زخمی ہوگیا تھا کہ حد نہیں۔ آسمان سے یکدم ایک بوند گری اور پھر تڑاتڑ بوچھاڑ شروع ہوگٸ۔ سارا گاٶں سردی کی بے تحاشہ یخ بوچھاڑ میں نہا گیا۔۔
”کرم اٹھو۔۔ اُٹھو کرم۔۔ میری بات سُنو۔۔ کرم۔۔“
خون میں لت پت ہاتھوں سے اس نے اس کا چہرہ تھتھپایا مگر کرم اگر اُٹھ سکتا تو پھر آخر غم ہی کس بات کا تھا۔۔
وہ بے ساختہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس نے پیشانی پر اس کا ہاتھ رکھا اور پھر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔۔
اس کے اندر تکلیف کا ایک سمندر تھا جو بے قابو ہونے لگا تھا۔
”میں جب مرجاٶنگا ناں سرکار۔ تو اوپر والے سے ضرور پوچھونگا کہ وہ اتنے ظلم پر خاموش کیوں رہا۔۔؟ میں پوچھونگا اس سے۔۔ مجھے بڑے شکوے ہیں۔۔“
سیاہ سرنگ میں اس کی آواز گونجنے لگی تھی۔ ولی اب تک اس کے پاس بیٹھا رورہا تھا۔ اس نے دیر کردی۔۔ اگر وہ وقت پر پہنچ جاتا تو اسے بچا لیتا۔۔ ایک پورے خاندان کی زندگی تباہ ہوگٸ۔۔!
ابھی تو۔۔ ابھی تو اس کی آپا نے اپنا پھولوں سا گھر بسانا تھا۔۔ ابھی تو کرم کو اپنے والدین کا سہارا بننا تھا۔۔ ابھی تو اسے بوڑھے باپ کی عمر بھر کی کماٸ اسے لوٹانی تھی مگر ختم۔۔ ایک جھٹکے میں ہاشم نے سب کچھ ختم کردیا۔ تاریک سُرنگ میں اب صرف ولی کی سسکیاں سناٸ دے رہی تھیں۔۔ اس کے آنسو کرم کے چہرے پر لڑھک رہے تھے مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔۔ اس ظلم پر تو آسمان بھی رورہا تھا اور زمین کے مردوں کی دہاٸ دور تک سناٸ دیتی تھی۔۔ مگر ہاں جس نے ظلم کیا تھا وہ۔۔
ہاشم نے جوس کا گلاس حسن شاہ کے گلاس سے ٹکرایا اور پھر اطمینان سے گلاس لبوں کو لگا لیا۔ اس کے وجود میں آج کل عجیب سی سرشاری پھیلی ہوٸ تھی۔۔ کیونکہ اس کے راستے کے سارے پتھر۔۔ اب ایک ایک کر کے ہٹتے جارہے تھے۔۔ پہلے ولی اور اب یہ کرم۔۔ اس نے ہنس کر سر جھٹکا اور پھر سے خالی گلاس سلیب پر رکھا۔۔
دوسری جانب ولی اب تک سر جھکاۓ رورہا تھا۔۔ اس کے ہاتھ سے سب کچھ ریت کی طرح پھسلتا جارہا تھا۔۔ سب کچھ۔۔
۔۔۔۔۔
