Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 18) Part - 1

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

اصغر کی گاڑی ڈیرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ابھی وہ ڈیرے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ اسے گن فاٸر ہونے کی آواز آٸ۔ ایک انتہاٸ بھیانک سی آواز۔۔ جو رات کی تاریکی کو چیرتی اس کی سماعت میں اتری تو اس کی پیشانی پر بل پڑے۔ گاڑی تیزی سے ڈیرے کے آگے روکی تو ٹاٸر چرچرا اُٹھے۔ اور ابھی وہ گاڑی کا دروازہ تیزی کے ساتھ کھولتا باہر کی جانب بھاگا ہی تھا کہ لڑکھڑاتا ہاشم باہر نکلا اور ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیۓ بغیر گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی بھگا لے گیا۔ اس کا انداز اصغر کو بری طرح چونکا گیا تھا۔ ہاشم وہ بھی رات کے اس پہر۔۔ ولی کے ڈیرے پر۔۔! ولی کی اس سے آدھے گھنٹے پہلے ہی بات ہوٸ تھی اور طے یہی پایا تھا کہ وہ اسے راستے سے اپنے ساتھ گھر لیتا جاۓ کیونکہ آج کی رات وہ کم از کم حویلی نہیں جانا چاہتا تھا۔

اس سے آگے کچھ سوچنے کا موقع اسے ملا ہی نہیں۔ رات کی خاموشی میں کسی کی کرّاہ سناٸ دی تو وہ ڈیرے کا دروازہ کھولتا اندر دوڑا۔ اندر بھاگتے اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی کا انتہاٸ تکلیف دہ منظر دیکھنے والا ہے۔۔ ایک ایسا منظر جس سے اس کے سارے وجود پر پورا گلیشیٸر پگھل کر گرا تھا۔۔

سبزہ زار پر وہ سفید سے سرخ لباس میں اوندھے منہ گرا ولی ہی تھا جو ہولے ہولے تکلیف کے باعث کرّاہ رہا تھا۔۔

ولی۔۔!

اس کے لب بے آواز ہلے تھے۔ دل میں کوٸ کانچ سا کھبا تھا۔

ایک لمحے کی بھی دیر کیۓ بغیر وہ اس کے پاس بھاگتا آیا۔ دونوں کندھوں سے تھام کر اسے سیدھا کیا تو اس کے اپنے ہاتھ بھی ولی کے خون سے سرخ ہوگۓ۔ ولی کی آنکھیں تکلیف کے باعث بند ہوتی جارہی تھیں۔۔

“ولی۔۔ ولی۔ آنکھیں کھولو ولی۔۔! ولی۔۔”

اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھپتھپا کر اس نے اسے جگاۓ رکھنے کی کوشش کی تو تکلیف سے کانپتے ولی نے نیم بے ہوشی کی سی کیفیت میں سر ہلایا۔۔ یہ خون ۔۔ خدایا اتنا خون۔۔ وہ کیا کرے۔۔ یا اللہ وہ کیا کرے۔۔ !!!

اس نے بٹن والی شرٹ جلدی سے اتار کر ولی کے پیٹ پر آۓ گھاٶ پر باندھی اور پھر آناً فاناً کچھ بھی سوچے بغیر اسے اپنے کندھے پر لاد لیا۔ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔۔ اگر وہ ایک گھنٹے میں اسپتال نہ پہنچا تو ولی کا بچنا بہت مشکل تھا۔۔ خون زیادہ بہہ جانے کی صورت میں پھر کوٸ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔ اس نے اسے گاڑی کے پچھلے حصے میں لٹایا اور پھر جتنی تیزی سے کچی سڑک پر وہ گاڑی دوڑا سکتا تھا اس نے دوڑاٸ۔۔ پریشانی سے ایک آدھ بار وہ کرّاہتے ولی کو بھی دیکھ لیتا تھا جس کی بند آنکھوں کے پار بہت سے آنسو چمک رہے تھے۔ اس نے ایک ہاتھ زور سے اسٹیرنگ پر مارا اور پھر کار کی رفتار اس قدر بڑھادی کہ جتنی بڑھاٸ جاسکتی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے کو اس نے آدھے گھنٹے میں پار کر لیا تھا۔۔ اسپتال کے باہر پہنچ کر اس نے جلدی سے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور ولی کو اپنے کندھے پر ڈالتا اسپتال کے اندر دوڑا۔۔

“ایمرجنسی۔۔ ایمرجنسی۔۔”

بکھرے بالوں والے لڑکے نے اندر داخل ہوتے ہی چلا کر کہا تو کوٸ اسٹریچر لینے دوڑا تو کوٸ اس کی جانب بڑھا۔ سارا اسپتال چہرہ موڑے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی سفید ٹی شرٹ خون سے داغدار ہوگٸ تھی اور رخسار پر بھی خون لگا تھا۔ ہاتھ بھی خشک ہوۓ خون سے رنگے ہوۓ تھے۔ اسٹریچر کے ساتھ دوڑتے اس نے ولی کا بے جان زرد سا چہرہ دیکھا تو دل اندر کو ڈوب کر ابھرا۔ اسے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا تو وہ ٹھنڈی راہداری میں بے چینی سے چکر کاٹنے لگا۔۔ پورے جسم میں گویا کسی نے مرچیاں سی بھردی تھیں۔ کسی پل۔۔ کسی پہلو پر چین نہ آتا تھا۔ کبھی وہ کمرے کے دروازے کے باہر لگی کرسیوں پر بیٹھ جاتا اور کبھی یخ پڑی راہداری میں لمبے لمبے چکر کاٹنے لگتا۔

وقت کاٹنا بہت مشکل ہوتا جارہا تھا۔۔ اگر ولی کو کچھ ہوا تو۔۔ اور اس سوال کے آگے اس کے اندر سے گویا کوٸ جان سلب کررہا تھا۔۔ قریباً کافی ٹاٸم بعد۔۔ اسے وقت نہیں سمجھ آیا کہ کتنا وقت گزر چکا ہے۔۔ اسے بس اتنا اندازہ تھا کہ صبح کی پہلی اذان ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر جب باہر نکلا تو وہ جو راہداری میں چکر کاٹ رہا تھا بے اختیار ڈاکٹر کی جانب بھاگا۔۔

ڈاکٹر نے چہرے سے ماسک ہٹا کر اسے دیکھا۔

“اللہ کا بہت شکر ہے کہ آپ کا دوست اب خطرے سے باہر ہے۔ سرجری کامیاب گٸ ہے۔۔ اگر آپ اسے اسپتال لانے میں ذرا سی بھی دیر کرتے تو ہمارے لیۓ اسے بچانا بہت مشکل ہوجاتا”

وہ لفظ نہیں تھے۔۔ زندگی تھے۔۔ اسے خود پر سے منوں بوجھ اترتا محسوس ہوا۔۔ وہ ٹھیک تھا۔۔ خدایا وہ ٹھیک تھا۔۔

“کب تک ٹھیک ہوجاۓ گا وہ۔۔؟”

“ہاں ریکور کرنے میں انہیں ایک مہینہ یا پھر اس سے زیادہ کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔ دراصل یہ ان پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ وہ خود کتنے مضبوط ہیں۔ اگر ان کی قوقت مدافعت اچھی ہے تو وہ پندرہ دنوں میں بھی ریکور کرسکتے ہیں۔”

“شکریہ۔۔ بہت شکریہ ڈاکٹر۔۔”

اس نے بہت شکرگزاری سے کہہ کر ڈاکٹر کا ہاتھ تھاما تو وہ رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ وہ ایک پل کو آگے ہوا اور ایمرجنسی وارڈ کے گول شیشے سے جھانک کر اندر دیکھا۔ بیڈ پر سفید پٹیوں میں جکڑے ولی کو دیکھ کر اسکی تکلیف یکدم سے سوا ہوگٸ تھی۔۔ کچھ یاد آنے پر اس نے حسن کو کال کی تو وہ ولی کا سن کر دوڑے چلے آۓ۔

“کیا ہوا ہے ولی کو۔۔؟ کس نے۔۔ خیر اب کیسا ہے وہ۔۔؟ حالت زیادہ سیرٸیں تو نہیں۔!”

حسن نے ایک ساتھ اس سے بہت سے سوال کیۓ تو اس نے ان کی تسلی کرواٸ، ڈاکٹر کی بتاٸ گٸ ساری پرسکون باتیں ان کے گوش گزار کیں تو حسن کی چڑھتی پریشانی کچھ کم ہوٸ۔ آہستہ سے گہرا سانس لیتے وہ اس کے ساتھ آ بیٹھے تھے۔

“شکر ہے مالک کا کہ تم درست وقت پر پہنچ گۓ۔ شکر ہے پروردگار کا۔۔”

ان کے لبوں سے شکر کے بول نہیں ہٹ رہے تھے کہ یکدم لبوں پر مٹھی جماۓ اصغر اُٹھ کھڑا ہوا۔ اسے ایسے اُٹھتے دیکھ کر حسن نے بھنویں سکیڑی تھیں۔

“کہاں جارہے ہو۔۔؟”

“ایک کام ہے بابا۔۔ آپ یہاں ولی کے پاس رہیں میں ابھی ایک گھنٹے میں فارغ ہو کر آتا ہوں۔۔ ابھی آتا ہوں کچھ دیر میں۔۔”

اس نے آدھی ادھوری بات کہہ کر باہر کی جانب دوڑ لگاٸ تو وہ اسے پیچھے سے آوازیں دیتے ہی رہ گۓ مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ کچھ فاصلے پر واقع گھر سے اس نے ایک بٹن شرٹ اُٹھاٸ اور ولی کے خون سے داغدار ہوٸ سفید ٹی شرٹ کو تبدیل کیۓ بغیر سیاہ شرٹ پہن لی۔۔ پھر گاڑی کچے راستوں کی جانب ڈال دی۔ ابھی اسے ایک بندے سے اپنا حساب چکتا کرنا تھا۔ رات کی پریشانی اب غصے میں تبدیل ہو کر اس کی پیشانی پر چمک رہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

ابھی فجر کی نیلی روشنی بالکل تازہ تھی۔ دور دور تک نیلی سی روشنی میں ڈوبے گاٶں کے کٸ گھروں سے اٹھا پٹخ کی آتی آوازیں پتہ دیتی تھی کہ لوگ جاگ چکے ہیں۔ اس نے بغیر کسی دقت کے گاڑی ہاشم کے ڈیرے کے باہر روکی اور پھر زور سے دروازہ بند کرتا باہر نکل آیا۔ وہ حسبِ توقع ایک قتل کرنے کے بعد اپنے گھر جانے کے بجاۓ یہیں پر تھا۔ اس نے آفس کے اندر کی تاریکی کو نیم وا دروازے سے دیکھا اور پھر بنا کسی بات کی پرواہ کیۓ بغیر آگے بڑھا اور ٹیبل کے پیچھے لگی کرسی پر آنکھیں موند کر بیٹھے بے خبر ہاشم کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ سمجھتا کہ ہو کیا رہا ہے۔۔ اس نے ایک،دو، تین۔۔ یکے بعد دیگرے اس کے چہرے پر گھما گھما کر مکّے مارے تو پہلے ہی بے حال ہوۓ ہاشم کے چودہ طبق روشن ہوگۓ۔ ہوش میں آتے ہی جیسے ہاشم کو سمجھ آیا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔ اس نے اسے پوری وقت سے دھکا دیا۔ مگر اصغر ریسلر تھا۔۔ جنوں بھوتوں کی سی طاقت تھی اس کے بازوٶں میں۔۔ ایک جھٹکے کے بعد وہ اتنی ہی قوت سے آگے بڑھا اور پانچ انگلیوں کا جمع مکّا جب ہاشم کی پسلیوں پر مارا تو یکدم پیچھے کی جانب گھسیٹتا ہوا گرا۔ اس نے بے رحمی سے اسکے گریبان سے پکڑ کر اسے اٹھایا اور اس کا سر دیوار میں دے مارا۔۔ ہاشم کا سر بری طرح چکرایا تھا۔۔ اس نے اسے اب کے پوری قوت سے دھکا دیا تھا۔۔ اصغر لمحے بھر کو لڑکھڑا کر پیچھے کو لڑھکا۔ ہاشم سر سے آتے خون کو ہاتھ سے دباتا ٹیبل کے پیچھے رکھی موٹی سی ہاکی اسٹک کی جانب لپکا۔۔ اصغر نے ایک جھٹکے سے آگے بڑھ کر اس سے پہلے ہاکی اسٹک جھپٹی اور پھر کسی بھوکے شیر کی طرح اس پر ابل پڑا۔ ہر دفعہ اتنی قوت سے اس کے جسم پر اسٹک ماری کے ہاشم کے جسم میں طاقت کا آخری نکتہ بھی پگھل کر گرنے لگا۔۔ اسکی آنکھیں اس قدر تشدد پر بند ہونے لگی تھیں۔ وہ یکدم گھٹنوں کے بل گرا تو اس نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ بالوں سے جکڑ کر اوپر کو اُٹھایا۔

“میرے دوست کو اگر آٸندہ ہاتھ لگایا نا سالے۔ تو کھڑے کھڑے زمین کے اندر زندہ درگور کردونگا۔۔!”

ایک آخری بار اس نے ہاکی اسٹک گھما کر اس کے منہ پر ماری تو اب کے ہاشم بری طرح چکرا کر زمین پر گرا۔ اس نے چند لمحے اسے دیکھا اور ہاکی اسٹک اس کے گرے وجود پر نفرت سے پھینکی۔ ایک فیصد بھی اسے اپنے کیۓ پر افسوس نہیں تھا۔۔ ایسا تھا تو پھر ایسے ہی سہی۔۔ ہاشم زمین پر کرّاہتا ہوا لوٹ رہا تھا۔ آس پاس صاف ستھرے سے آفس کی حالت بکھر چکی تھی۔ الٹی پڑی میز, ہاتھا پاٸ کے دوران ادھر اُدھر کو گریں کرسیاں، کاغذات، گلاس۔۔ سب کچھ زمین پر ہاشم سمیت اوندھا پڑا تھا۔

اس نے آستین سے پیشانی پر آیا پسینہ صاف کیا اور پھر باہر کی جانب قدم بڑھادیۓ۔۔ نیلی سی روشنی میں ایک دوست نے اپنے ایک دوست کا بدلہ لے لیا تھا۔۔ اور ایسا بدلہ لیا تھا کہ اگلے کٸ دنوں تک تو ہاشم سے ایک نوالہ بھی نہیں چبایا جانا تھا۔۔ واپسی پر گاڑی ڈراٸیو کرتے اصغر کی ہر پل کو جگمگاتی آنکھیں بے رحمی سے سپاٹ ہورہی تھیں۔۔ ایک شریف انسان کو کبھی بھی اکسانا نہیں چاہیۓ۔۔ کیونکہ وہ ایک سویا ہوا بھیڑیا ہوتا ہے۔۔ اگر جاگ گیا تو آپ کو چیر پھاڑ کر کھا بھی سکتا ہے۔!!۔۔

اور جانتے ہو سب سے زیادہ خوفناک کونسا انسان ہوتا ہے۔۔؟ وہ جو کسی اچھے انسان کی طرح ہنستا مسکراتا آپ کی غلطیوں کو اپنی برداشت کی آخری حدوں تک سہہ لیتا ہے مگر۔ ایک۔۔ ہاں ایک پواٸنٹ ایسا آتا ہے کہ اس کی برداشت جواب دے جاتی اور پھر جو ہوتا ہے وہ بہت بھیانک ہوتا ہے۔۔! ہاشم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی بھیانک ہوا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

نواز کو جب ولی کے بارے میں خبر ہوٸ تو وہ اسپتال دوڑا چلا آیا۔ اس نے اسپتال کی راہداری دوڑتے ہوۓ عبور کی لیکن راستہ تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ جس چیز کا دھڑکا اسے لگا رہتا تھا آخر کو وہ آج ہو ہی گیا تھا۔ ہاشم جیسے بد ذات انسان سے اس سب توقع کی جاسکتی تھی۔ اصغر جو ولی کو روم میں شفٹ کروانے کے بعد کمرے سے باہر نکل رہا تھا نواز کو دیکھ کر ایک پل کو ٹھہر گیا۔ ماتھے پر بے ساختہ بل ابھر آۓ اور بھنویں بھنچ گٸیں۔

نواز اسے نہیں جانتا تھا سو نظر انداز کرتا اندر کمرے میں دروازہ کھولتا داخل ہوا تو اصغر بھی اسی کے ساتھ اندر آیا۔

ایک جانب بیڈ کے ساتھ لگے صوفے پر حسن شاہ بیٹھے تھے اور دوسری جانب صبح کی پرسکون سی روشنی میں اپنے بیڈ پر پٹیوں میں جکڑا ولی دواٸیوں کے زیرِ اثر بے خبری کی نیند سو رہا تھا۔

چند پل تو وہ جیسے اسے ایسے دیکھ کر ساکت ہوگیا تھا۔ پھر جیسے ہی اس کا ذہن جاگا۔ اس کی نگاہ ساتھ صوفے پر بیٹھے ایک معمر سے آدمی پر پڑی۔ جو اپنا باوقار مطمٸن چہرہ اٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

“یہ کب ہوا ہے۔۔؟ اور آپ لوگ کون ہیں۔۔؟ ولی سر کے تو کوٸ رشتے دار نہیں۔۔!”

اس نے کسی احساس کے تحت گردن ایک پل کو پھیر کر پیچھے کھڑے خوبرو سے لڑکے کو دیکھا۔ جو رات والے رف سے لباس میں ملبوس چبھتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

“رات کو ہوا ہے یہ سب نواز۔۔ تمہیں کس نے بتایا۔۔؟”

انہوں ایک گہری نگاہ اس پر ڈال کر پوچھا۔۔

“ڈیرے کی گھاس پر بہت سا خون پڑا تھا اسی لیۓ میرا پہلا دھیان ولی سر کی طرف ہی گیا۔ اور جو سب سے قریب اسپتال تھا میں وہیں دوڑا چلا آیا۔۔ ان کی حالت کیسی ہے اب۔۔؟”

اس نے جان کر اصغر کو نظر انداز کر کے حسن سے پوچھا تو انہوں نے خفیف سا سر ہلایا۔۔ پھر ایک نظر ولی کو دیکھا۔۔

“اس کی حالت ابھی خطرے سے باہر ہے اللہ کے احسان سے۔۔ تم فکر مت کرو۔۔ جلد ٹھیک ہوجاۓ گا ہمارا ولی۔۔”

ایک نظر اسے دیکھا۔۔ نواز نے بھی گہرا سانس لے کر ولی پر نگاہ ڈالی اور پھر کچھ یاد آنے پر ہاتھ میں پکڑا فون نگاہوں کے سامنے کیا تو اصغر نے ایک پل کی تاخیر کیۓ بغیر آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے فون اچکا۔ نواز نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔۔ حسن نے بھی اصغر کو انہی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔

“یقیناً حویلی میں خبر کرنے کے لیۓ فون کررہے ہو ناں۔۔! “

ایک ابرو اٹھا کر سختی سے پوچھا تو نواز نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔

“جی۔۔ لیکن میں آپ کی اس تفتیش کی وجہ نہیں سمجھا سر۔۔”

“میں ابھی سمجھاتا ہوں تمہیں۔۔”

اس نے اس کا فون آف کر کے اسے تھمایا تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔

“کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے۔۔! ان کی غفلتوں کی وجہ سے ہی ولی آج اس حالت میں یہاں اس طرح سے بے بس لیٹا ہے۔ ان کی بے جا کی سیاستوں نے زندگی برباد کردی میرے دوست کی۔ لیکن اب بہت ہوگیا بس۔۔”

“اصغر میری بات۔۔”

“بس بابا۔۔”

اس نے ہاتھ اٹھا کر انہیں بھی خاموش کروایا تو وہ اسے سمجھتے ہوۓ چپ سے ہوگۓ۔۔

” تم کسی کو بھی اس بارے میں نہیں بتاٶ گے سمجھے۔ کوٸ تم سے کچھ پوچھے بھی تو تم اپنا منہ نہیں کھولو گے۔ ان حویلی والوں نے بہت من مانیاں کرلی ہیں اپنی۔ اب میں انہیں کچھ نہیں کرنے دونگا۔ اور تم۔۔ ابھی کہ ابھی جاٶ اور جا کر سارے ثبوت ڈیرے سے مٹاٶ۔ مجھے اگر کسی اور سے اس بات کی بھنک بھی مل گٸ تو تم گۓ نواز۔۔”

اس نے کہہ کر اپنا رخ ولی کی جانب پھیرا تو وہ جو سنجیدگی سے اس کی بات سن رہا تھا ایک پل کو آگے کو ہوا۔۔ پھر اپنی زیرک آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑیں۔

“یہ فیصلہ ولی سر کا ہی تھا۔ انہیں کسی نے فورس نہیں کیا تھا، کہ خود کو کسی انتقامی کارواٸ میں گھسیٹ کر یہاں تک پہنچ جاٸیں۔ کیا سردار بابا نے کبھی انہیں یہ سب کرنے کے لیۓ کہا؟ یا پھر وہ انہیں اس سب کے لیۓ تیار کرتے رہے۔؟ آپ کو پتہ کیا ہے سر۔! آپ کچھ نہیں جانتے اس بارے میں۔۔ اس جنگ کے بارے میں۔ یہ جنگ ہاشم نے شروع کی تھی اور اسے ختم ولی سر کرینگے۔۔ یہ بات انہیں سردار نے نہیں کہی تھی اور ناں ہی انہوں نے ان کی تربیت ایسی کی ہے۔۔ تو آٸندہ اپنے منہ سے کچھ بھی نکالنے سے پہلے سو دفعہ سوچیۓ گا۔۔ کیونکہ میں ولی سر اور سردار بابا۔۔ دونوں کا وفادار ملازم ہوں۔۔ آپ ولی سر کے کیا لگتے ہیں میں نہیں جانتا لیکن ولی سر جو سردار بابا کے لیۓ ہیں اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔ تصویر کے کبھی بھی ایک رخ کو دیکھ کر کہانی نہیں سمجھی جاتی۔۔”

ایک نگاہِ غلط اس پر ڈالی اور فون آن کرتا باہر کی جانب بڑھا تو وہ غصے سے بیچ و تاب کھاتا اس کے پیچھے باہر کی جانب لپکا۔۔

“سیکھو اس سے کچھ۔۔ کتنے سبھاٶ سے کتنی صاف اور سیدھی بات کر کے گیا ہے وہ۔ اور ایک تم ہو اصغر۔۔! دماغ کے بجاۓ ہاتھوں سے سوچتے ہو۔ “

ان کی آواز پر اس کا دروازہ کھولتا ہاتھ ہوا ہی میں معلق رہ گیا تھا۔۔ پھر وہ اتنی ہی تیزی سے ان کی جانب گھوما۔۔ اسکے ہمیشہ سے پرسکون “بابا” آج بھی اسے اتنے ہی سکون سے دیکھ رہے تھے۔۔

“اور اس جنگلی کا کیا کروں۔۔؟”

بیڈ پر لیٹے ولی کی جانب ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔ حسن اس کے طرزِ تخاطب پر مسکراۓ تھے۔۔

“چھوڑ دوں اسے ایک بار پھر ان کے درمیان۔۔! تاکہ یہ دوبارہ ہاشم سے باتیں کرنے پہنچ جاۓ۔ اتنا بڑا مضبوط ہے سالہ لیکن ایک مکا نہیں مارا گیا اس سے ہاشم کو۔۔! وہاں کھڑا مزے سے گولیاں کھا کر آگیا۔ جیسے اسے تو گولیوں سے بچنا ہی نہیں آتا یا پھر آگے بڑھ کر لوگوں کے دانت توڑنا اسے ابھی سکھانا پڑے گا۔۔ !”

سر جھٹک کر بستر پر لیٹے ولی کو غصے سے کھول کر دیکھا۔۔

“ابھی ٹھیک ہوتا ناں تو اسے اتنا مارتا کہ ساری طبیعت صاف ہوجاتی اس کی۔۔ زیادہ ہی شریف بننے کا شوق ہے اسے۔ “

دل چاہا ایک آدھ مکا تو اسے جڑ ہی دے مگر ابھی وہ ویسے بھی تکلیف میں تھا۔۔ اپنے ارادہ کسی اور وقت کے لیۓ بچا کر رکھا اور سر جھٹک کر حسن کو دیکھا۔۔

“یہ زندگی تمہارے کورین ڈراماز جیسی نہیں ہوتی اصغر۔ اسے جینے کے لیۓ بہت سے کڑوے گھونٹ حلق میں اتارنے ہی پڑتے ہیں۔ تم اسے سمجھاٶ۔۔ ضرور سمجھاٶ کہ وہ ان انتقام کے نہ ختم ہونے والے داٸروں سے باہر نکل آۓ۔ تم دوست ہو اس کے۔۔ تمہارا پریشان ہونا بنتا ہے لیکن تم اسے اس کی زندگی بھر کی ریاضت پر لات مارنے کو نہیں کہہ سکتے۔ اس نے ایک طویل جنگ لڑی ہے یہاں تک پہنچنے کے لیۓ۔ اب تم کیا چاہتے ہو کہ اسکا بنا بنایا سارا جال چوپٹ کر کے اسی پر الٹ دو۔! کیا تم اسے باقی کی زندگی کسی ہارے ہوۓ انسان کی طرح گزارتے ہوۓ دیکھنا چاہتے ہو۔۔؟”

ان کے پرسکون سے سوال نے اسے بے سکون کیا تھا۔۔

“میں یہ نہیں کہہ رہا بابا۔۔ لیکن اب بس بہت ہوگیا ہے۔ اور آخر کتنی جنگ رہ گٸ ہے۔۔؟ اگر اس جنگ میں اس کی جان چلی جاتی تو آپ کے لیۓ کون اہم ہوتا۔۔؟ جنگ یا پھر ولی۔۔؟”

حسن اسکی سنجیدگی پر ایک پل کو لا جواب ہوۓ تھے۔۔

“انسان ہر جنگ، ہر جیت اور ہار سے زیادہ اہم ہوتے ہیں بابا۔۔ انہیں جنگوں میں، بازیوں میں، اور کھیل کے میدانوں میں نہیں ہارا کرتے۔۔ نہ یہ کوٸ پیمانہ ہے کسی انسان کی کامیابی کا۔ وہ کر تو رہا ہے سالوں سے ان سب کا مقابلہ۔۔ اور کیا کررہا ہے وہ۔۔! لیکن بابا کبھی سفید حویلی والوں نے اسکے بارے میں سوچا۔۔؟ کیا کبھی ان سب نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ولی کس اذیت میں رہتا ہے۔ اس کے اوپری اچھے سے حال حلیے کو دیکھ کر جو مطمٸن ہوجاٸیں کیا انہیں آپ اس کا مخلص مانتے ہیں۔۔؟ وہ ان لوگوں کے درمیان رہتے رہتے تھکنے لگا تھا بابا۔۔ اس نے مجھے بارہا کہا کہ اصغر میں اس سب سے بھاگ جانا چاہتا ہوں۔۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرسکا۔۔ وہ وہاں سے نہیں نکل سکا جہاں اس کا دم گھٹتا تھا۔۔ جانتے ہیں کیوں۔۔؟ اس کے سردار بابا کی وجہ سے۔۔ وہ ان کے احسانوں کے بوجھ تلے دبتا جارہا تھا۔۔ وہ ان سب سے اسی لیۓ نہیں نکل سکا کہ احسان کا بدلہ احسان سے لوٹانے کے وقت میں وہ ان کو پیٹھ دکھا کر بھاگنا نہیں چاہتا تھا۔۔ کیا اب بھی آپ کہیں گے کہ اسے ان سب کے درمیان بھیجنا چاہیۓ۔۔؟”

حسن نے چند پل اسے دیکھتے رہے پھر گہرا سانس لے کر گویا ہوۓ۔۔

“زمان کی اس سب میں کوٸ غلطی نہیں ہے اصغر۔ وہ اپنی شفقت کا سایہ اس پر نہیں پھیلاتا تو پھر ولی شاید واقعی یہاں نہیں ہوتا۔۔ کسی کی ساری زندگی کی نیکی کو خودغرضی کا نام نہیں دیا کرتے اصغر۔۔ بہت بڑی زیادتی ہے یہ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ولی نے اسے وہاں سے نکل جانے کا کہا ہوتا تو وہ اسے کبھی نہیں روکتا۔۔ مگر یہ سب اس کا اپنا فیصلہ تھا۔۔ وہ اس سب کے لیۓ تیار تھا۔۔ اس نے کافی سالوں سے طے کی ہوٸ تھی اپنی موت۔۔ دیکھو۔۔ کیا اس کے چہرے پر کہیں تمہیں بے یقینی نظر آرہی ہے۔۔؟ نہیں اصغر۔۔ وہ پرسکون ہے۔۔ سچ پوچھو تو وہ مر ہی جانا چاہتا تھا۔۔ جب اسے گولیاں لگی تھیں تب وہ ایک فیصد بھی بے یقین نہیں تھا۔۔ مطمٸن تھا کہ اب زندگی کا عذاب ختم ہوگیا۔۔ لیکن ابھی اس کی جنگ ختم نہیں ہوٸ۔۔ ابھی اس کا کردار پورا نہیں ہوا۔۔ تم اپنے دوست کا ساتھ دو، نا کہ یوں اس کی ہمت توڑو۔۔”

اس نے گہرا سانس لے کر بیڈ پر دراز ولی کو دیکھا تھا۔۔

“کبھی کبھی تو آپ سب مجھے ایک ہی جیسے لگتے ہیں بابا۔۔ آپ، ولی اور وہ ہاشم۔۔ انتقام کی جنگیں لڑتے کبھی تھکن نہیں ہوتی آپ لوگوں کو۔۔؟ مستقل موت کی جانب بڑھتی زندگی کو آخر آپ کیسے یوں بے لگام چھوڑ سکتے ہیں۔۔؟ کیا یہ زندگی اتنی ارزاں ہے۔۔؟”

اس کے لہجے کا افسوس حسن کو بخوبی سمجھ آرہا تھا۔۔ وہ اٹھے پھر اس کے سامنے آکھڑے ہوۓ۔۔ اس نے ولی سے اپنی نظریں پھیر کر انہیں دیکھا تھا۔۔

“انتقام کی جنگوں سے زیادہ تھکا دینے والی اور کوٸ جنگیں نہیں ہوا کرتیں اصغر۔۔ ہم عظیم لوگ ہیں۔ میں، ولی اور وہ ہاشم بھی۔۔ جو اس سارے عرصے کی تھکن خود پر لاد کر زندگی کو خوش اسلوبی سے گزارہے ہوتے ہیں۔ ہم گناہ گار ہیں لیکن ہم جتنا بڑا سرواٸیور اس کاٸنات میں کہیں نہیں۔۔ تم نے کبھی انتقام کی چاہ کا بے چین سا سکون نہیں محسوس کیا ناں اصغر۔۔ اسی لیۓ تم نہیں جانتے کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے۔۔! خدا تمہیں انتقام کے چلتے ہر چکر سے محفوظ رکھے۔۔ “

ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر باہر کی جانب بڑھ گۓ۔ وہ اب کھڑکی سے اندر کو جھانکتی چمکتی روشنی میں ولی کی بند بند آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔۔ جن کے پار شاید موت کا وہی رقص جاری تھا کہ جسے سوچ کر بھی ہڈیاں چٹخ جایا کرتی تھیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

حویلی میں یہ خبر کسی آگ کی طرح پھیل گٸ تھی کہ ولی کو گولیاں لگی ہیں اور وہ اسپتال میں ہے۔ نواز کی بات سن کر بی جان بے دم سی صوفے پر گری تھیں۔ زمان البتہ مضبوطی سے کھڑے رہے۔ اگرچہ اس خبر پر ان کا حوصلہ جواب دے گیا تھا مگر وہ پھر بھی بغیر کوٸ تاثر دیۓ نواز کو دیکھے گۓ۔

”کون سے اسپتال میں ہے ولی۔۔؟“

دل لرز گیا تھا یہ سوال کرتے ہوۓ لیکن یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں تھا۔ پیچھے زینوں سے اترتی امل کے قدم زنجیر ہوۓ تھے۔۔ اس نے صرف یہی سنا تھا کہ ولی اسپتال میں ہے۔۔ اس کا ریلنگ پر جما ہاتھ وہیں ساکت ہوگیا۔ صبح کی روشنی میں سفید حویلی دم سادھے کھڑی تھی۔

”چلیۓ میں لے جاتا ہوں آپ کو سردار بابا۔۔“

نواز کے کہنے پر وہ یکدم ہی آگے بڑھے تو بی جان بھی انہی کے ساتھ اٹھیں۔۔

”میں بھی جاٶنگی زمان آپ کے ساتھ۔۔“

اور پھر کسی بھی جواب کا انتظار کیۓ بغیر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تو امل ان کے پیچھے گٸ۔ وہ روتے ہوۓ اپنی چادر الماری سے نکال رہی تھیں۔۔

”بی جان کیا ہوا ہے ولی کو۔۔؟“

اس کی آواز کسی کنویں سے آرہی تھی۔ بی جان نے آنکھیں رگڑتے ہوۓ دوپٹہ اتار کر فوراً چادر اوڑھی۔ ہر آن ان کا دل لرز لرز جاتا تھا۔۔

”ابھی نواز نے آ کر بتایا ہے کہ اسے رات کو کسی نے گولیاں ماری ہیں۔ اسپتال میں ہے ابھی۔ پتہ نہیں کس نےمیرے بچے کو اس بے دردی سے مارا ہے۔ خدا ہاتھ توڑے اس کے۔ میرے بچے کو اذیت دیتے پتہ نہیں کون سی تسکین ملتی ہے سب کو۔۔!“

وہ روتی جارہی تھیں اور بددعاٸیں دیتی جارہی تھیں۔ ان کا صبر تمام ہوگیا تھا ولی کی تکلیفیں دیکھ دیکھ کر۔ امل تو گویا سن ہوگٸ۔۔ پلکیں جھپکانا گویا یاد ہی نہیں رہا۔۔ وہ اسپتال میں تھا اور اسے گولیاں لگی تھیں۔۔! کیا بی جان نے یہی کہا تھا۔۔!! اس نے خالی خالی سا چہرہ اٹھا کر بی جان کو دیکھا جو عجلت میں کمرے سے باہر نکل گٸ تھیں۔۔ وہ بھی ان کے پیچھے بھاگتی آٸ۔۔ اسے بھی جانا تھا۔۔ اسے بھی دیکھنا تھا اسے۔۔ وہ اس کی ہر اذیت میں ساتھ ہوتا تھا تو اسے بھی اس کے ساتھ ہونا چاہیۓ تھا مگر۔۔ مگر وہ ابھی زمان کو کیسے کہے کہ وہ بھی جاۓ گی۔۔ اس نے لب وا کیۓ مگر آواز حلق ہی میں اٹک گٸ۔ ان فاصلوں اور زنجیروں میں قید اپنے وجود پر اتنا غصہ آیا کہ دل کیا خود کو ختم کرلے۔۔ لیکن وہ کچھ نہیں کرسکی۔۔

”چلو زمانی دیر ہورہی ہے۔۔“

زمان نے کہا اور تیزی سے باہر نکلتے چلے گۓ۔ بی جان بھی اتنی ہی تیزی سے ان کے پیچھے نکلی تھیں۔۔ کسی کو بھی وہ یاد نہیں تھی۔ کتنی ہی دیر صوفے کی پشت پر وہ کھڑی رہی۔ نوراں کے ہلانے پر ہوش آیا تھا اسے۔

”بی بی یہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔؟“

اس نے خالی خالی نظروں سے نوراں کو دیکھا اور پھر اس کی بات کا کوٸ بھی جواب دیۓ بغیر اوپر بھاگتی گٸ۔ ابھی وہ صرف اس کے لیۓ دعا کرنا چاہتی تھی۔ بے تحاشہ بے حد اور بے حساب۔۔ وہ اس کے لیۓ دعا کرتے وقت خود کو بھول جانا چاہتی تھی۔ ہاں وہ ایسا ہی کرنا چاہتی تھی۔۔ اس نے کمرے میں آکر خود کو وضو کے پانی سے بھگویا اور پھر دس بجے کے قریب جاۓ نماز بچھاتی وہ آنسوٶں سے رو پڑی۔ ضبط کی بھی حدود ہوا کرتی ہیں۔۔ لیکن قدرت اس کے ضبط کو بس اب آزماۓ جارہی تھی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی۔۔ اس کی سکت اب آہستہ آہستہ سلب ہورہی تھی۔ اپنے ٹوٹتے وجود کو اس نے بمشکل سنبھال کر جاۓ نماز پر کھڑا کیا مگر آنسو بے تحاشہ بہتے جارہے تھے۔ مومی چہرہ آنسوٶں کے پانی سے بھیگ گیا تھا اور چہرے کے گرد بندھے دوپٹے میں اس کا سرخ و سفید چہرہ تھکا تھکا سا لگتا تھا۔ کر تو لیا تھا اس نے نفیس کو قبول۔۔ پھر اب کیا ہورہا تھا یہ سب کچھ۔۔ کیوں سب کچھ بگڑتا جارہا تھا۔۔ ہاتھوں سے پھسلتا جارہا تھا۔۔ اس نے لرزتے لبوں کو دانتوں تلے دبا کر آنسو روکے۔۔ مگر جو درد قسمت میں لکھ دیۓ جاٸیں انہیں سہنے کے علاوہ انسان کے پاس بھلا اور چارہ ہی کیا ہوتا ہے۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔

سفید سی دھندلی روشنی کے پار اسے کوٸ ہیولہ سا دکھا تھا۔۔ کسی پری کا ہیولہ۔۔ آس پاس گردن گھما کر دیکھتا ولی جیسے اس جگہ کو پہچاننے کی سعی کررہا تھا۔۔ آس پاس بکھری گھاس پر شبنم کے تازہ قطرے اب تک محسوس ہوتے تھے اور آسمان دھواں دھواں ہورہا تھا۔۔ اس نے بے اختیار جھرنے کے بہتے پانی کی آواز سنی تو اٹھ کر درختوں کی قطار کے آگے بہتے منہ زور سے پانی کی چٹیل جگہ پر آکھڑا ہوا۔

اسی پل سفید دھند میں لپٹے کسی وجود کی جھلک اسے پھر سے دکھاٸ دی تھی۔۔ اس نے اب کے چہرہ پورا موڑ کر دھند کی دبیز تہہ کے پار دیکھنے کی کوشش کی مگر سواۓ ایک ہیولے کے اس پر کچھ بھی واضح نہیں ہورہا تھا۔ ایک پل کو کچھ سوچ کر اس نے شفاف پانی کے کناروں پر قدم آگے بڑھاۓ اور پھر دھند میں راستہ بناتا اس پار جا پہنچا۔۔

وہ وہی تھی۔۔ ہاں وہی کہ جس کے خواب دیکھنے سے اس کی آنکھیں خوفزدہ ہوتی تھیں۔ اس نے چہرہ ذرا جھکا کر اسے غور سے دیکھنا چاہا۔۔ وہ مکمل سفید سے لباس میں ملبوس تھی۔۔ آس پاس ہر شے کی طرح سفید سی دھند میں لپٹی۔۔ اس نے ایک نظر خود کے لباس پر ڈالی۔۔ وہ بھی سفید تھا۔۔ شفاف بے داغ سا سفید۔۔

پھر چہرہ اٹھا کر امل کو دیکھا۔ وہ آنکھیں بند کیۓ، دونوں ہاتھوں کے پیالے فضا میں بلند کیۓ محو ہو کر دعا مانگ رہی تھی۔ اس کے لبوں پر بے ساختہ ایک اداس سی مسکراہٹ آ ٹھہری۔۔

”میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لیۓ بھی کبھی اتنی ہی محو ہو کر دعا مانگیں۔ میں آپ کی زندگی کا حصہ نہیں بن سکتا۔۔ لیکن میں آپ کی دعاٶں کا حصہ رہنا چاہتا ہوں امل بی بی۔ میں کبھی بھی ان دعاٶں سے نہیں نکلنا چاہتا۔ میں نے آپ کو کبھی بتایا نہیں لیکن میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔ ہم کبھی کسی اور جہان میں دوبارہ پیدا کیۓ جاٸیں گے تو میں وہاں آپ کا ساتھ طلب کرونگا امل۔۔ اتنی محبت کرتا ہوں میں آپ سے۔“

وہ اسے محو ہو کر دیکھتا سوچ رہا تھا۔ یکایک سفید اپسرا نے اپنے کومل ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا اور انتہاٸ سکون سے ولی کی جانب گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ اس کے ایسے دیکھنے پر یکدم چونکا تھا۔۔

پھر خجل ہو کر سر کھجایا۔۔ وہ اس کے کھسیانا ہونے پر مسکراٸ تھی۔ اس نے بھی ایک نظر اسے دیکھا تو خود بھی مسکرادیا۔

”آپ اس جگہ کیا کررہی ہیں۔۔۔؟“

”پتہ نہیں۔۔ مجھے لگتا ہے جہاں آپ ہوتے ہیں میں وہاں خود بخود پہنچ جاتی ہوں۔۔ اور ہاں آپ میری دعاٶں کا حصہ ہیں ولی۔۔ نہ صرف دعاٶں کا بلکہ میری زندگی کا بھی حصہ ہیں آپ تو۔۔“

وہ وہیں بیٹھی بیٹھی اسے اس کی سوچ کا جواب دے رہی تھی۔ وہ اس کے ایسے جواب پر حیران ہوا تھا۔۔

”آپ کو کیسے پتہ کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔۔؟“

”یہ خواب ہے ناں ولی۔۔ اور خواب میں تو سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔ “

”ہاں یہ تو ہے۔۔ حقیقی زندگی میں تو ہمارا ساتھ ویسے بھی ممکن نہیں۔ خواب ہی میں سہی۔۔“

”لیکن مجھے آپ پر بہت غصہ ہے ولی۔ میں پتہ نہیں آپ سے بات کیوں کررہی ہوں اور آپ کے لیۓ دعا کیوں کررہی ہوں۔!“

”کیوں۔۔ میں نے کیا کیا ہے۔۔؟“

”ّکیا مطلب۔۔؟ “

”آپ جانتے تھے کہ ہاشم آپ کو ماردے گا۔ آپ کو اندازہ تھا کہ جو بندوق اس نے آپ پر تانی ہے اس کو چلانا اس کے لیۓ مشکل نہیں۔ آپ یہ سب جانتے تھے ولی لیکن آپ پھر بھی اس کے سامنے سے نہیں ہٹے۔۔ آپ وہاں جم کر کھڑے رہے۔ کیونکہ آپ نے اپنا انجام طے کرلیا تھا۔ آپ نے اپنی موت ہاشم ہی کے ہاتھوں سے تصور کرلی تھی اور تخیل میں اتنی بار آپ اس منظر کو دیکھ چکے تھے کہ جب وہ آپ کے سامنے ہوا تو آپ کو کچھ بھی ایب نارمل نہیں لگا۔ آپ کے لیۓ سب نارمل تھا۔۔ بتاٸیں۔۔ کیوں کیا آپ نے ایسے۔۔؟ کیوں اپنی جان لینے پر تلے ہیں آپ۔۔؟“

اسے پتہ تھا کہ امل کو ان سب باتوں کا کچھ علم نہیں پھر بھی وہ اس کے خواب میں اس کے سامنے کھڑی ان سب باتوں کا حساب مانگ رہی تھی۔ شاید یہ ساری منظر کشی اس کے لاشعور کا حصہ تھی۔ وہ یہی تو چاہتا تھا۔۔ کہ امل اس کے دکھ درد، اس کی تکالیف کے بارے میں پوچھے۔۔ وہ اس سے پوچھے اور وہ بنا جھجھک سب بولتا جاۓ۔ اپنے اندر سالوں کے پلتے درد کو اس کے سامنے روۓ۔۔ روتا چلا جاۓ۔ تب تک روۓ کہ جب تک ہر اذیت آنسوٶں کے راستے باہر نہ بہہ جاۓ مگر وہ ایسا کبھی نہ کرسکا۔۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتا تھا۔۔ امل کو اپنے اندر کے خالی خانوں کا بتا کر وہ اس کی اذیت کو سوا کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔ لیکن آج۔۔ ابھی۔۔ ابھی وہ اس حقیقی دنیا سے کوسوں دور تھا۔۔ اور اس خواب کی دنیا میں وہ اسے سب کچھ بتا دینا چاہتا تھا۔۔

ایک پل کو اس نے گہرا سانس لے کر آس پاس گھلتی ٹھنڈک اپنے اندر اتاری پھر امل کو دیکھا۔۔ اس کے سامنے درخت کے تنے سے لگ کر بیٹھی وہ اس سمے اس سارے خوبصورت منظر کا ہی تو حصہ لگ رہی تھی۔۔ حسین، پرسکون اور بے داغ۔۔

اس نے بھی اپنے پیچھے کھڑے تناور سے درخت کا سہارا لیا اور پھر گردن ٹکا کر اسے دیکھا ۔۔

”میں مرنا چاہتا تھا یہ سچ ہے۔“

ایک پل کے لیۓ کوٸ کچھ نہ بولا۔۔

”میں اب بھی مرجانا چاہتا ہوں۔ میرے پاس زندہ رہنے کی کوٸ تحریک باقی نہیں ہے امل بی بی۔ اور شاید میں اسی لیۓ وہ گولیاں کھا کر بھی اتنا مطمٸن اسی لیۓ تھا کیونکہ مجھے اپنا انجام ویسا ہی مل رہا تھا جیسے میں نے سوچا تھا۔ میں ذلیل نہیں ہورہا تھا۔۔ میں کسی کو قتل نہیں کررہا تھا۔۔ میں ہر اس سیاہی سے بچا ہوا تھا کہ جس کا مجھے ڈر تھا کہ میں اپنی زندگی میں ایسا کوٸ گناہ ضرور کرونگا۔۔ میں کوٸ بھی ایسا عذاب اپنے سر پر لادے بغیر جارہا تھا اس دنیا سے۔۔ اسی لیۓ مرجانا چاہتا تھا میں اسی جگہ۔۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ زندہ رہنا ہی میرے لیۓ لکھا گیا۔۔ کیونکہ اتنی کوششوں کے بعد بھی اگر میں نہیں مررہا تو اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ مجھے ابھی زندہ رہنا ہے۔۔ اور لمبے عرصے تک رہنا ہے۔۔“

”اور جس نے آپ کو اس حال تک پہنچایا ہے اسے سزا دیۓ بغیر آپ اس دنیا سے جانے کا فیصلہ کررہے تھے۔۔ کیا یہ انجام ہے آپ کا ولی۔۔؟“

”میں اس کا انجام طے کرچکا ہوں امل۔۔“

”اور وہ کیا انجام ہے۔۔؟“

”کیا کرینگی جان کر۔۔ چھوڑیں۔۔ ایسی باتوں میں کوٸ خیر نہیں ہوتی بی بی۔۔ ان باتوں سے کوسوں دور رکھیں خود کو۔“

” آپ ان سب کو جھیلیں اور میں اس سب سے خود کو کوسوں دور رکھوں۔۔ کونسا انصاف ہے یہ۔۔؟“

سامنے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر بیٹھی لڑکی خفا ہوٸ تھی۔۔ ولی اسکی خفگی پر مسکرا کر سیدھا۔۔ ابھی وہ اسے کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ یکایک امل کا سفید بے داغ سا لباس خون آلود دھبوں سے بھرنے لگا۔۔ اس نے چونک کر اپنے لباس کی جانب دیکھا۔۔ سفید لباس اس کے خون سے داغ دار ہورہا تھا۔۔ اسے پھر سے وہی جلن ہونے لگی تھی جو اس رات گولی لگنے پر اس کی رگوں میں پھیل گٸ تھی۔۔ وہ یکدم گھٹنوں کے بل بیٹھا۔ امل کا لباس خون کے دھبوں سے داغدار ہوتا جارہا تھا۔۔ اس نے بے یقینی سے اس کے خون آلود لباس کو دیکھا۔۔ مگر وہ اسی خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ منظر بدلنے لگا۔۔ وہ ڈیرے کی گھاس پر گرا درد سے لوٹ رہا تھا۔۔ تکلیف سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔۔ سفید دھند ہر جانب پھیلنے لگی۔۔ ساری آوازیں کہیں پیچھے رہ گٸیں۔۔ جھیل کا بہتا شفاف پانی اور امل کی پاکیزہ سی مسکراہٹ۔۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔۔ بس کچھ سامنے تھا تو وہ ولی کا خون آلود لباس اور رگوں کو چیرتی درد کی انتہا۔۔ !!

اسپتال میں آنکھیں بند کر کے لیٹے ولی کے اس پار درر کی لہریں اب تک بے قابو تھیں اور وہ زرد چہرہ لیۓ خاموشی سے آنکھیں موندیں ساری دنیا سے بے خبر سورہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *