Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 18) Part - 2

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

نگار بیگم نے بمشکل حسین کے منہ میں دلیے کا چمچ ڈالا مگر منہ کا زاویہ بگڑنے کی وجہ سے کوٸ بھی غذا اندر کو نہیں جاتی تھی۔ ابھی بھی سارا دلیہ ہونٹ کے کنارے سے گر کر سارے کپڑوں کو خراب کررہا تھا۔۔ نگار نے غصے سے دلیۓ سے بھرا پیالہ ساٸیڈ ٹیبل پر پٹخا اور پھر دوپٹے میں چہرہ چھپا کر پھپھک کر روپڑیں۔

کتنی ہی کوششوں کے بعد بمشکل حسین نے تین چار دنوں میں ایک دو چمچ لیۓ تھے اور باقی کا سارا تو کپڑوں پر گرتا رہتا تھا۔۔ اسی وقت شازیہ کمرے میں داخل ہوٸ تو اس نے ماں کو ایسے روتے دیکھ کر گہرا سانس لیا تھا۔۔

”اب رونے کا کیا فاٸدہ ماں جی۔۔! اب تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اب بابا ساری زندگی ایسی ہی محتاجی کی زندگی گزاریں گے۔ اگر تم بھی اس طرح ہمت ہار جاٶگی تو کون ہمت کرے گا پھر۔۔؟ ادھر ہاشم کو دیکھو۔ پتہ نہیں کس سے لڑ کر آیا ہے۔۔ سارا چہرہ۔۔ سارا جسم زخمی ہوا ہے۔ اسپتال جانے کا بولو تو چیخنے چلانے لگتا ہے۔ اوپر سے تمہارا بھی چوبیس گھنٹے کا رونا بند نہیں ہوتا۔۔ بس کردو اب۔۔ سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا تمہیں اس سب کے ساتھ۔۔“

اس نے کمرہ سمیٹتے ہوۓ اکتا کر کہا تو نگار نے آنسوٶں سے بھیگا چہرہ اٹھایا۔

”پتہ نہیں کس کی نظر کھا گٸ میرے گھر کو۔۔ اللہ غرق کرے ان سب کو۔۔“

نگار بیگم کا اب یہ تکیہ کلام بن چکا تھا۔۔ کاش کہ کوٸ انہیں بتا سکتا کہ بلاوجہ کی بددعاٸیں انسان پر پلٹ آتی ہیں۔۔ شاید ان کی بددعاٸیں بھی ان پر پلٹ رہی تھیں۔

”جس نے بھی کیا ہے سکھ سے تو خیر وہ بھی نہیں رہے گا۔۔ ساری زندگی کا عذاب لیا ہے اس نے اپنے سر۔۔ اللہ پوچھے گا اسے تو۔۔“

اپنے ہنستے بستے گھرانے کو یوں تنکوں کی طرح بکھرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ دل پر پڑا تھا۔۔ ایک لمحے کو نگاہ حسین پر پڑی تو کلیجہ منہ کو آیا۔ دل پر بوجھ بڑھنے لگا۔۔

”ہاشم کو کیا ہوا ہے۔۔؟ بھلا وہ کیوں ایسا کرنے لگا ؟ کیا پہلے ہی اب زندگی میں پریشانیاں کم ہیں جو وہ بھی میرے لیۓ پریشانی کا نیا گڑھا کھود رہا ہے۔۔“

نگار بیگم نے گہرا سانس لے کر دوپٹے سے چہرہ رگڑا اور ساٸیڈ ٹیبل پر دھرا پیالہ پھر سے اٹھالیا۔۔ ان تین چار دنوں ہی میں وہ بہت بوڑھی اور تھکی تھکی سی لگنے لگی تھیں۔۔ وہ نگار جو ہر لمحہ کھلتا گلاب لگا کرتی تھیں اس وقت کسی بوجھل اور مضمحل سی خاتون سے کم نہ لگیں۔۔

”میں نہیں رہ سکتی اب اس ماحول میں اور۔۔ شام ہی، میں اور امینہ اپنے گھر جارہے ہیں۔۔ فون کردیا ہے میں نے بختیار کو۔ لینے آجاٸنگے وہ ہمیں۔۔ اور خدا کے لیۓ ماں جی۔۔!“

اس نے ہاتھ جوڑ کر ماتھے پر رکھے تھے۔۔

”مجھے مت روکنا گھر جانے سے۔۔ اکتا گٸ ہوں میں اس ہر وقت کے قبروستان والے ماحول سے۔۔“

ایک بیزار نگاہ ماں باپ پر ڈال کر وہ کمرے سے باہر نکلی تو نگار بیگم کی ٹھنڈی آہ بہت بے ساختہ تھی۔ زندگی ایک ہی رات میں کیا سے کیا ہوگٸ تھی۔۔ تلپٹ۔۔ بے رونق۔۔ تھکادینے والی۔۔

دلیہ ایک بار پھر سے بہہ کر لباس کو خراب کرنے لگا تو حسین کی داٸیں آنکھ سے آنسو پھسلا۔۔ اب اور بچا ہی کیا تھا سواۓ ساری زندگی رونے کے۔۔

دوسری جانب بی جان نے اپنی مغرب کی نماز سے سلام پھیرا تھا۔ امل بھی انہی کے ساتھ انہی کے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی۔ انہوں نے دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ تو ولی کا چہرہ سامنے آتے ہی آنکھیں بھر گٸیں۔۔

اس نے بھی سلام پھیر کر ان کی جانب دیکھا تو اس کی اپنی حالت عجیب ہونے لگی۔۔

”وہ ٹھیک ہو جاۓ گا بی جان۔۔ انشااللہ۔۔!“

”انشاللہ۔۔ “

”اللہ کا شکر ہے کہ وہ فی الحال خطرے سے باہر ہے۔ ہوش بھی آجاۓ گا جلد اسے۔۔ آپ بس دعا کریں۔۔“

” انشااللہ۔۔“

بی جان سے زیادہ بات نہیں کی جارہی تھی۔۔ حلق میں جما ہوتے آنسو بھلا کب کوٸ بات کرنے دیتے ہیں۔۔ انہیں تسلی دے کر وہ بھی جاۓ نماز سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوٸ تھی۔ ابھی اسے پھر سے کٸ گھنٹے اپنے کمرے میں بند ہو کر اس کے لیۓ دعاٸیں مانگنی تھیں۔۔ وہ دعاٸیں جو کبھی رد نہیں کی جاتیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

رات کے اندھیرے میں اس کی بوجھل سی آنکھوں کی بند پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوٸ تھی۔ ہاتھ کی ایک دو انگلیوں میں بھی بہت دھیمی سی جنبش محسوس کی جاسکتی تھی۔ پھر اس نے آہستہ پلکوں کو جدا کیا۔۔ اسپتال کا نیم تاریک سا منظر واضح ہوا۔۔ مٹیالے رنگ کی اونچی دیواریں شفاف تھیں، اس نے نقاہت سے ایک دو بار آنکھیں بند کر کے کھولیں۔۔ لیکن۔۔ پلکوں پر گرا منوں بوجھ جیسے ہر لمحے بڑھتا جارہا تھا ۔۔ اس نے ہولے سے ہاتھ کو اٹھا کر دیکھا تو اس میں با بجا سوٸیاں لگی تھیں۔ بے اختیار ہی اس کی نگاہ ساتھ لگے ٹیبل سے پرے صوفے پر سوتے اصغر پر پڑی تو وہ چونک گیا۔۔ جلدی سے گردن آس پاس پھیر کر دیکھا۔۔ مگر کمرہ خالی تھا۔۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو کندھے سے پیچھے کمر تک ایک درد کی بے ساختہ سی لہر گزری۔۔ اس کی کرّاہ نکلی تو اصغر یکدم جاگا۔۔ وہ اٹھنے کی کوشش میں شدید غیر آرام دہ ہورہا تھا۔۔

پیٹ پر آۓ گھاٶ تکلیف دینے لگے۔۔

اصغر جلدی سے آگے بڑھا پھر اس کے سر کے نیچے ہاتھ دے کر اسے تکیۓ پر درست کر کے لٹایا۔۔

درد کی شدت سے پھولتی سانسوں کی پرواہ کیۓ بغیر اس نے اصغر کو چبھتی ہوٸ نظروں سے دیکھا تو وہ جو اس کی چادر درست کرتا سیدھا ہورہا تھا یکدم چونکا۔۔

”تو وہ تم تھے اس رات۔۔؟“

اصغر کو اس کا انداز سمجھ نہیں آیا۔۔

”کس رات۔۔؟“

”اس رات جس رات مجھے ہاشم نے گولیاں ماری تھیں۔۔ “

اس نے گہرا سانس لیا۔۔ پھر بہت آرام سے اسے دیکھا۔۔

”جب جانتے ہو تو پوچھ کیوں رہے ہو۔۔؟“

” ہاشم کیسا ہے۔۔؟“

اس کا اگلا سوال بہت بے ساختہ تھا۔۔ اصغر جو مسکرا کر اسے کچھ ہلکا پھلکا کہنے لگا تھا۔۔ رک گیا۔۔ اس کے ایسے پوچھنے کا مطلب وہ سمجھتا تھا ۔۔

”مجھے کیا پتہ کیسا ہے وہ۔۔؟“

مزے سے کندھے اچکاۓ۔۔ ولی کی نظروں نے اس کے ہاتھوں تک سفر کیا۔۔ ان کی اوپری جلد پھٹی ہوٸ تھی اور زخم پر کوٸ مرہم نہ ہونے کی صورت میں زخم خشک ہو نے لگا تھا۔۔

”کیا کیا ہے اس کے ساتھ تم نے۔۔؟“

ولی کے ماتھے پر حسبِ عادت بل ابھرے۔ اصغر کو یکدم ہی طیش آیا تھا۔۔

”مارا ہے سالے کو۔۔! اور کچھ۔۔؟“

”میرے معاملات سے دور رہو اصغر۔۔! میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ اس سب میں اگر میں مر بھی رہا ہوں تو تم کبھی بھی درمیان میں نہیں آٶ گے۔۔ پھر کیا ہے یہ سب۔۔؟“

اگر وہ یوں اس طرح بستر پر نہ ہوتا تو اسے ایک آدھ تھپڑ تو جڑ ہی دیتا ۔۔

”اچھا۔۔ لیکن اب تو میں درمیان میں آگیا ہوں ولی۔۔ اب میں کیا کروں۔۔؟ او گاڈ ہاشم کیا کرے گا میرے ساتھ۔۔کہیں۔۔ کہیں وہ مجھے۔۔ اوہ گاڈ۔۔ کہیں وہ مجھے کڈنیپ تو نہیں کرے گا ناں۔۔؟“

اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ڈرنے کی بھرپور اداکاری کی تو ولی کا غصہ سوا نیزے پر جا پہنچا۔۔

”میں مزاق نہیں کررہا ہوں اصغر۔۔!“

”ہاں تو میں کب مزاق کرتا ہوں۔۔؟ میں واقعی بہت ڈر گیا ولی۔ تمہیں مجھے پہلے بتانا چاہیۓ تھا۔ دیکھو۔۔ اب تو کچھ نہیں ہوسکتا۔۔“

اس کا قصور نہیں تھا۔۔ کمینے کو kdramas نے بگاڑ رکھا تھا۔۔

”اصغر۔۔۔!! میں سنجیدہ ہوں۔ اور تم بھی جانتے ہو کہ میں نے کتنی سختی سے منع کیا تھا تمہیں۔۔ لیکن کوٸ بات کیسے سمجھ آۓ گی۔۔؟ دماغ جو خراب ہے تمہارا۔۔۔“

ولی کی اونچی آواز میں بے پناہ غصہ تھا مگر وہ اصغر ہی کیا جو اس کے غصے کا اثر لے لے۔ ساری دنیا ولی کے غصے سے کانپتی تھی مگر اصغر۔۔ وہ اپنی طرز کا آخری پیس رہ گیا تھا۔۔

”ایک بات میری غور سے سنو ولی سرکار۔۔ “

وہ اس کی نسواری آنکھوں میں جھانکتا آہستہ سے اس کے بیڈ پر ہاتھ رکھتا جھکا۔۔ پہلے والے اصغر سے یکدم مختلف سا۔۔ سنجیدہ اور گہرا۔۔

جب میں رِنگ میں ریسلر کی حیثیت سے اترتا تھا ناں تو میرے کوچ مجھے ہمیشہ ایک بات سمجھایا کرتے تھے۔۔ کہ اگر یہ طاقت کسی کمزور پر آزمانے کے لیۓ جما کررہے ہو تو ابھی کے ابھی اس رِنگ سے باہر نکل آٶ۔ کیونکہ یہ اس رِنگ کی توہین ہے۔۔ لیکن اگر یہی طاقت کسی ظالم کے ہاتھ توڑنے کے لیۓ اکھٹی کررہے ہو تو رِنگ تمہارا میدان ہے۔۔ تباہ کر ڈالو سب۔۔ میں نے اپنے ریسلنگ کیریٸر میں سیکھا ہے ولی۔۔ کہ جو باتوں سے نہ سمجھے ان کو کبھی باتوں سے سمجھانے کی کوشش کرنی بھی نہیں چاہیۓ۔۔ میں نے بھی اسے ہاتھوں سے سمجھایا ہے۔ اور ایسا سمجھایا ہےکہ زندگی کے کٸ سالوں تک وہ اس سبق بھول نہیں سکے گا۔۔“

پھر ہاتھوں کو مزے سے سینے پر باندھتا سیدھا ہوا۔ ولی کو مسکرا کر بھنویں اچکاتے ہوۓ دیکھا۔۔ جیسے۔۔ ”اب کرلو جو کرنا ہے۔۔“

”چلے جاٶ میرے سامنے سے ابھی۔“

اس نے ضبط سے بس یہی کہا تھا۔۔

”میں کہیں نہیں جارہا ولی۔۔ چپ کر کے لیٹے رہو تم یہاں۔ اور ایک بات تو بتاٶ۔ یہ جب ہاشم تمہیں گولیاں ماررہا تھا تب تم کوٸ ڈرامہ شوٹ کروارہے تھے کیا۔۔؟ آگے بڑھ کر دانت نہیں توڑسکتے تھے اس کے۔؟ یا یہ بھی اب سکھانا پڑے گا تمہیں۔۔؟ حقیقت میں تم خود بھی مرنا چاہتے تھے۔۔“

”لیکن تمہاری موجودگی کی وجہ سے میں ٹھیک سے مر بھی نہیں سکا۔۔ تھینکس ٹو یو۔۔“

اس نے اکتا کر چہرہ پھیر لیا تھا۔۔ اصغر ہنس دیا۔۔ پھر سر ہلاتا سامنے صوفے پر جا بیٹھا ۔۔ جیکٹ اتار کر خود پر پھیلاٸ اور لیٹ گیا۔۔

”ایک تو زندگی بچاٶ اوپر سے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے۔ آٸندہ بیٹا تُو کر ایسے۔۔ اگلے بندے کو چھوڑ کر تجھے مارونگا۔“

اسے وارن کرتا وہ صوفے پر دراز ہوا تو ولی نے تپ کر چہرہ اس کی جانب پھیرا۔۔

”کسی کو بتایا تو نہیں ہے اس سب کے بارے میں۔؟“

اس بےوقوف سے ہر چیز کی امید کی جاسکتی تھی۔۔

”اوۓ۔۔ ایسا ویسا۔۔۔ آدھے گاٶں کو خبر ہے تمہارے اس ایکسیڈینٹ کی۔ اب چپ کر کے سوجا۔ مجھے نیند آرہی ہے۔۔“

اس نے کروٹ لی تو ولی کا دل کیا اپنے سر کے بال نوچ لے۔۔ ابھی وہ اٹھ سکتا تو اسے شوٹ کر دیتا۔۔

”تم جیسے دوست ہوں تو انسان کیا کسی دشمن کی تمنا کرے۔۔“

”سوجا یار۔۔“

اصغر کی بہت بیزار سی آواز سناٸ دی تھی دوسری جانب سے۔۔

”اصغر کے بچے۔!!“

ولی نے دانت پیسے تھے۔۔

”مجھے اٹھنے دو اس بیڈ سے پھر دیکھنا کیا کرتا ہوں میں تمہارے ساتھ۔ ایک راز نہیں سنبھالا گیا بے وقوف سے۔۔!“

”ایک منٹ۔۔ میں نے منع کیا تھا تمہارے اس نواز کو۔۔ لیکن بھٸ یہاں تو سب کو تقریریں کرنے کا بہت شوق ہے۔ ایک میرے بابا کم تھے جو اور بھی لوگ شامل ہوگۓ ہیں اس قافلے میں۔۔! میں نے جب اسے منع کیا کہ کسی کو نہ بتاۓ تو جناب کو تو اس وقت میں آپ کا سب سے بڑا دشمن لگ رہا تھا۔۔ بھگتو اب خود ہی جب ایسا بیکار ملازم رکھا ہے تو۔۔“

جیکٹ کو غصے سے جھٹک کر دوبارہ اپنے اوپر ڈالتا اصغر جیسے یکدم ہی تپ گیا تھا۔۔ مگر ولی۔۔ اس کی تفتیش ابھی ختم نہیں ہوٸ تھی۔۔

”کیا سردار بابا آۓ تھے یہاں۔۔؟“

”ہاں آۓ تھے۔۔“

وہ اب کے بالکل سیدھا ہو کر لیٹ گیا تھا۔۔ اسکی لمبی ٹانگیں صوفے پر پوری نہیں آرہی تھیں اور خود کو اس صوفے پر ایڈ جسٹ کرنے میں وہ بیزار ہونے لگا تھا۔۔ ولی نے سر تکیۓ پر رکھا تو اس نے یوں ہی چہرہ ترچھا کر کے اسے دیکھا۔۔

”کیا ہوا۔۔؟ کوٸ مسٸلہ ہے کیا ۔۔؟“

اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔

”نہیں۔۔“

”کوٸ ایشو ہے تو بتاٶ۔۔“

”سوچ رہا ہوں کہ ہاشم اب آگے کیا کرنے والا ہے۔ خیر یہ بتاٶ کہ مجھے یہاں سے نکلنے میں کتنے دن لگیں گے۔۔؟“

”پندرہ بیس دن تو لگ ہی جاٸیں گے۔۔ کیوں۔۔؟“

اس کے پوچھنے پر ولی نے ایک بار پھر گہرا سانس لیا اور اس کی جانب دیکھا۔۔

”میں اس کا دماغ نہیں پڑھ پارہا اصغر۔ وہ کیا کرنا چاہتا ہے مجھے سمجھنے میں دقت ہورہی ہے۔۔ “

”ابھی تم آرام کرو۔ فی الحال ایک مہینے تک تو وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔۔ ٹھیک سے بیٹھ بھی نہیں سکتا وہ تو۔۔ ٹینشن نہ لو۔ جو بھی کرے گا دیکھ لیں گے اسے۔۔“

اس نے چند لمحے اصغر کو دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلاتا آنکھیں موند گیا۔۔ کچھ تھا جو اسے بے سکون کررہا تھا۔۔ اور یہ تو اس کی زندگی کا تجربہ تھا۔ کہ جو چیزیں اسے بے سکون کیا کرتی تھیں وہ کبھی بھی سکون کا باعث نہیں بنی تھیں۔۔ اس نے کمزوری سے بند ہوتی آنکھوں کو اب کے کھولنے کی سعی نہیں کی۔ مگر پھر بھی کچھ تھا جو اسے چبھ رہا تھا۔۔ سیاہ پردے پر یکدم ایک پری کا عکس ابھرا تو اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ سوٸیوں میں جکڑے ہاتھ سے اس نے پیٹ پر بندھی پٹی پر ہاتھ رکھا۔ درد کی لہریں اب بے تحاشہ جسم میں گردش کرنے لگی تھیں۔ مگر اب یہ درد صرف جسمانی نہیں تھا۔۔ یہ تو دل تھا کہ جس سے اب ہر پل خون رسا کرتا تھا۔۔ اس نے گہرا سانس لے کر سب کچھ سیاہ رات میں دھکیلنا چاہا مگر جسے پلٹ آنا ہو۔۔

وہ۔۔

پلٹ آتا ہے۔۔

جیسے وہ۔۔

ہر دفعہ جھٹکنے پر۔۔

پلٹ آیا کرتی تھی۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔

اپنے کمرے میں بند ہاشم بستر پر دراز تھا۔ جسم تھا کہ کسی پکے ہوۓ دانے کی مانند بے تحاشہ درد کررہا تھا اور چہرے پر پڑنے والی ضرب کے باعث سارے جبڑے لگتا تھا گویا درد سے پھٹ جاٸنگے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ جسم بالکل ناکارہ ہورہا تھا۔۔

اس کی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا چھانے لگا۔ بے ساختہ اسے اپنے ہاتھوں پر کچھ گیلا گیلا سا محسوس ہوا ۔ اس نے چونک کر ہاتھ نگاہوں کے سامنے کیۓ اور دھک سے رہ گیا۔۔ اس کے سارے ہاتھ خون سے بھیگے ہوۓ تھے۔ اس نے بے ساختہ اپنے ہاتھوں کو قمیض سے رگڑ کر صاف کیا تو خون اس کے کپڑوں کو داغدار کرنے لگا۔۔ یکدم وہ گھبرا کر بستر سے نیچے اترا اور پھر سنگھار آٸینے میں نظر آتے عکس کو دیکھتے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ شل ہوگیا تھا۔۔

اس کے ہاتھ صاف تھے۔۔! جو لباس خون سے داغدار ہوگیا تھا وہ بھی اب پہلے کی طرح صاف ستھرا تھا۔ اس نے بوکھلا کر اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔۔! ایک منٹ کے لیۓ گویا ساری دنیا رک سی گٸ تھی۔ کچھ دیر پہلے جو اسے محسوس ہوا تھا وہ درحقیقت کچھ بھی نہیں تھا۔ بس ایک لمحے کا الژون تھا جس نے ہاشم کے دل و دماغ کو جکڑا تھا اور بس۔ اس کے نڈھال ہوتے وجود سے جیسے جان سمٹنے لگی لیکن وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہیں تھا۔ بیڈ پر بے دم ہو کر بیٹھتے اس نے دکھتے ہاتھ سے فون اٹھایا اور پھر چند نمبر ڈاٸل کرنا لگا۔۔ اس کے ہاتھوں میں لرزش تھی اور الوژن کا اثر اب تک باقی تھا۔

کچھ دیر بعد فون کان سے لگاتے ہوۓ اس کے اندر ایک عجیب سی طاقت نے سر اٹھایا تھا۔ ایک ایسی طاقت جو دشمن کی زندگی سے زندگی سینچنے کے بعد جنم لیتی ہے۔۔

”مجھے بس تم سے ایک سوال کرنا ہے جوگی۔“

”پوچھیں سرکار۔۔“

اسکی مسکراتی سی مکروہ آواز ہاشم کے کانوں میں اتری تو اس کے جسم میں پھریری سی دوڑ گٸ۔

”تم ہمیشہ بارشوں ہی میں قتل کیوں کرتے ہو۔۔؟“

دوسری جانب فون کان سے لگاۓ جوگی نے ہاتھ میں پکڑا تیز دھار چھرا پل بھر کو نگاہوں کے سامنے کیا تو اس کا پھل چمک اٹھا۔ ایک مطمٸن سی مسکراہٹ جوگی کے لبوں پر اتری تھی۔۔

”جانتے ہیں سرکار قتل کی لت کیا لت ہوتی ہے۔۔؟ یہ ایسا ہی ایک نشہ ہوتا ہے جیسے انسان چرس یا پھر دوسری کسی نشہ آور شے کا عادی ہوجاۓ۔ میں نے اپنی زندگی کا پہلا قتل بارہ سال کی عمر میں کیا تھا۔ اور اس وقت بارش ہورہی تھی۔۔ گہری تازہ بوچھاڑ۔۔“

اس نے ایک لمحے کو کھینچ کر سانس لیا جیسے کسی شے کی خوشبو اپنے اندر اتارنا چاہی۔۔

”بارش میں خون کی بُو بہت تیز ہوجایا کرتی ہے۔ اور اس رات میں نے ایک لڑکی کا قتل کیا تھا۔ اس کے خون کی بُو۔۔۔ آہ۔۔“

اس نے ایک بار پھر سانس لے کر جیسے کچھ محسوس کرنا چاہا۔۔

”اس کے خون کی بُو بہت اچھی تھی۔۔ بہت لذیذ۔۔ میں آج تک بھول نہیں پایا۔۔ اور پھر جب جب بارش ہوٸ میرے اندر قتل کرنے کی چاہ جڑ پکڑتی گٸ۔ کیونکہ بارش کے وقت خون کی بُو کا اپنا ہی اثر ہوتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جہاں میں قتل کرتا ہوں وہ جگہیں بہت زیادہ خون آلود ہوتی ہے۔ وہ اسی لیۓ سرکار کیونکہ میں جان بوجھ کر غیر انسانی طریقے سے چھرا مارتا ہوں تاکہ خون زیادہ بہے۔ اور میں اس خون کو سونگھ سکوں۔۔ کافی وقت تک اس کا اثر لیتا رہوں۔“

اس کی باتیں سن کر ہاشم کے اندر سب کچھ سپاٹ ہوگیا تھا۔ اس نے مجھے اور میرے گھر کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اب میں اسے بتاٶنگا کہ اصل تباہی ہوتی کیا ہے۔۔!

”جوگی۔۔ تمہارا مال تیار ہے۔ ایک جوان لڑکی کا خون تمہارا سب سے بڑا انعام ہوگا۔۔“

”کیا واقعی۔۔؟“

دوسری جانب اس کی آنکھیں پل بھر کو چمکی تھیں۔

”کب کرنا ہوگا قتل۔۔؟“

”جس رات بارش ہورہی ہو اس رات۔۔!“

اسپتال میں اپنے بیڈ پر دراز ولی دواٸیوں کے زیرِ اثر گہری نیند سو رہا تھا۔۔ یہ جانے بغیر کہ اس سے اسکی زندگی کھینچنے کی منصوبہ بندی ایک بار پھر سے کی جارہی تھی۔۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *