Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 20) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 20) Part - 2
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
کسی نے رات کے آخری پہر اس کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو جاسم جو تہجد پڑھ کر ابھی بستر پر سونے کے لیۓ لیٹنے ہی لگا تھا یکدم اٹھ بیٹھا۔ ایک پل کو نگاہیں گھما کر ٹک ٹک کرتی گھڑی کی جانب دیکھا جو رات کے ساڑھے تین بجا رہی تھی۔
اس وقت۔۔!
سوچتے ہوۓ اس نے قدم کمرے سے باہر کی جانب بڑھاۓ اور پھر محتاط سے انداز میں دروازے کے مرر سے باہر جھانک کر دیکھا لیکن باہر کوٸ نہیں تھا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا تھا۔۔ لیکن آگے والا منظر دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہوگۓ۔۔ ولی دروازے کے سامنے گرا پڑا تھا اور اس کے ہاتھ سے نکل کر بہتا خون دروازے کے آگے دھیرے دھیرے پھیل رہا تھا۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسے بمشکل سیدھا کیا۔۔
وہ نیم بے ہوشی کی سی حالت میں تھا۔ اس نے پریشانی سے یہاں وہاں دیکھا۔
“ولی۔۔ ولی۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔؟ اور تم اس طرح اس وقت۔۔ اٹھو۔۔ کوشش کرو اٹھنے کی۔۔”
اس نے اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر ڈال کر اٹھایا۔ ولی بمشکل اپنی ٹانگوں پر اٹھا تھا۔ پھر اس کے ساتھ اندر کی جانب بڑھا۔ اس کی آنکھیں درد سے بند ہوٸ جارہی تھیں، بال بکھرے ہوۓ تھے اور سیاہ ٹی شرٹ خون سے لت پت ہورہی تھی۔ جاسم نے اسے بیڈ پر لٹایا اور پھر پہلی فرصت میں اپنے کلنک کی جانب بھاگا۔ اسے جلد از جلد اس کے زخم کو ٹریٹ کرنا تھا۔۔
دوسری جانب امل کو بمشکل بی جان نے زبردستی کچھ کھلا کر سکون آور دواٸیاں دیں تب جا کر کہیں اس نے جلتی آنکھیں موندی تھیں نہیں تو وہ جب سے آٸ تھی تب سے روۓ جارہی تھی۔ خوف سے کانپ رہی تھی۔ بی جان نے اپنی بچی کو اس طرح بکھرتے دیکھا تو ان کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔ پتہ نہیں کس ظالم نے اپنی دشمنی ان کی معصوم بیٹی سے نکالی تھی۔ وہ ذرا گہری نیند سوٸ تو زمان، بی جان اور بختیار تینوں اس کے کمرے سے باہر نکل آۓ۔۔ بی جان نے دروازے سے باہر نکلتے نکلتے اسے ایک پل کو دیکھا تھا۔۔
آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے، زرد چہرہ اور کمزوری کی حد تک نچڑا رنگ۔۔ وہ کہیں سے بھی وہ چمکتی دمکتی امل نہیں لگ رہی تھی۔ انہوں نے آنسو صاف کرتے ہوۓ دروازہ پار کیا اور پھر انہی کے ساتھ زینے اتر آٸیں۔۔
ساری رات جاگتے ہوۓ گزر گٸ تھی۔ وہ تینوں بھی لاٶنج میں چلے آۓ۔
“آپ کو اس سے پوچھنا چاہیۓ تھا کہ اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ پھر جانے دیتے اسے وہ جہاں بھی جارہا تھا۔۔”
بختیار نے رات سے اب تک یہ پہلی بات کہی تھی۔۔ زمان نے پیشانی پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔ انہیں اپنے بیٹے کی بے حسی پر افسوس ہوا تھا۔۔
“اگر وہ تمہارے جیسا بیٹا ہوتا تو مجھے بتا بھی دیتا کہ اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن بختیار وہ تمہارے جیسا نہیں ہے۔ اتنا زخمی تھا۔۔ اتنی تکلیف میں تھا۔۔ لیکن پھر بھی مجھے بتا کر نہیں گیا کہ یہ سب کس نے کیا ہے۔۔ جانتے ہو کیوں۔۔؟”
زمان کا لہجہ آخر میں بے حد سپاٹ ہوگیا تھا۔۔
“کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں سب کچھ جان لینے کے بعد ضرور کوٸ انتہاٸ قدم اٹھاٶنگا سو اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔۔ کیا کبھی تم ایسا کرسکتے ہو۔۔؟”
بختیار کا چہرہ ہتک سے سرخ ہوا تھا ۔۔
“آغاجان۔۔”
بی جان نے مدھم آواز میں کہہ کر بے ساختہ انہیں روکا تھا۔
“آپ ساری زندگی سے یہی کرتے آۓ ہیں بابا۔ مجھے اور اسے مقابلے کے پتہ نہیں کون سے پیمانے پر جانچتے ہیں کہ میرا پلڑا کبھی اٹھتا نہیں اور اس کا کبھی جھکتا نہیں۔ لیکن میں نے کبھی آپ سے شکوہ نہیں کیا کہ میرے حصے کی محبت جو آپ اسے دے رہے ہیں اس سے ہاتھ روک لیں۔ پھر بھی آپ کو اپنی اولاد کی کوٸ اچھاٸ۔۔ کوٸ نیکی نظر ہی نہیں آتی۔۔”
ایک تو رات بھر کی بے خوابی اوپر سے سردار بابا کا ہمیشہ سے ولی کی طرف داری کرنا اسے بری طرح سلگا گیا تھا۔
“یہی۔۔ یہی فرق ہے تم میں اور اس میں۔۔ وہ نیکیاں کر کے جتاتا نہیں ہے۔ اچھے کام کرنے کے بعد منظرِ عام پر آ کر لوگوں سے تعریفیں نہیں وصولتا بختیار وہ۔ چھپ کر نیکیاں کرتا ہے۔۔ اور کبھی اگر اسے اسی کی، کی گٸ نیکیوں کا صلہ دینے کی بات کرو تو بدلے میں کچھ بھی لینے سے انکار کردیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ صلے انسانوں سے نہیں ملا کرتے۔۔ نیکیوں کے صلے ہمیشہ اللہ دیا کرتا ہے۔۔”
“آپ غیر کی احسان مندی میں اپنوں کی اچھاٸیاں بھولنے لگے ہیں سردار بابا۔ ہماری تو کسی سے دشمنی نہیں۔۔ کسی سے کسی بھی قسم کا کوٸ بیر نہیں۔۔ کسی کے ساتھ کسی زیادتی کے مرتکب نہیں ہم تو۔۔ پھر آج ہماری بہن کو کس نے اغواء کرلیا۔۔ ایسا آخر کون پیدا ہوگیا بابا جو ہماری بہن، بیٹی کو گھر سے یوں دن دہاڑے اٹھا لے جاۓ۔۔! یہ سب اسکی دشمنیوں کا نتیجہ ہے کہ ہم ایسی ذلت و رسواٸ سے دوچار ہوۓ ہیں۔ ہم ایسی جگہ آکھڑے ہوۓ ہیں جہاں ہم کسی کو منہ تک دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔۔”
بلند آواز سے بولتے بولتے اس کا سانس بے تحاشہ پھول گیا تھا۔ زمان سرد نگاہوں سے اسے یک ٹک دیکھے گۓ۔۔ کبھی کبھی انہیں اپنی ہی تربیت پر شک سا ہوتا تھا لیکن پھر سنبھل بھی جایا کرتے تھے۔۔ کیونکہ جو راہیں حسن اور حسین احمد نے اختیار کی تھیں ان کی اولاد بھی اسی پر چل رہی تھی۔ پتہ نہیں ان کے خون میں ایسی غلاظت کی آمیزش کہاں سے ہوٸ تھی۔۔!!
“وہ جو کرتا ہے اسے اون بھی کرتا ہے۔ جو باتیں، جو فیصلے، جو اعمال وہ بجالاتا ہے ان کی ایک کڑی جسٹیفکیشن بھی رکھتا ہے وہ۔ دشمنی ہماری تھی یا اسکی اس سے فرق نہیں پڑتا بختیار۔۔ موت کے چنگل سے، زخمی وجود کے ساتھ جو وہ امل کو نکال لایا ہے ناں فرق اس سے پڑتا ہے۔ اور رہی میری بیٹی کی بات تو اس کے ساتھ جو بھی ہوا ہو۔ میں اس کی سزا اسے نہیں دونگا۔ جس نے اس کے ساتھ یہ کیا ہے سزا اسے ملے گی۔ ظلم اگر بیٹیوں کے ساتھ ہوجاۓ تو ان کی وجہ سے معاشرے میں منہ چھپانے کی کوٸ ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ منہ انہیں چھپانا چاہیۓ جنہوں نے ظلم کیا ہو نہ کہ کسی مظلوم کو۔ اگر تم پر تمہاری بہن بوجھ ہے تو کوٸ بات نہیں۔۔ اس کا باپ ابھی زندہ ہے۔ وہ اسے پال سکتا ہے کسی بھی دقت کے بغیر۔۔”
زمان کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔ لفظوں کے جن تماچوں سے انہوں نے بختیار کو نوازا تھا وہ بلاشبہ بہت کڑے تھے۔۔ اس کی روح تک بلبلا اٹھی۔۔
“ہاں تو کرتے رہیں آپ صدا اس غیر پر بھروسہ اپنی اولاد کو چھوڑ کر۔ میں بھی دیکھتا ہوں کہ وہ کب تک آپ کی غلامی کر کے آپ کو شیشے میں اتارتا ہے۔ میں بھی یہیں ہوں اور آپ بھی یہیں ہیں۔ ایک ناں ایک دن بابا۔۔ وہ آپ کو چھوڑ کر ضرور جاۓ گا اور شاید اسی دن آپ کو۔۔ اپنی اصل اولاد کی قدر آۓ گی۔۔”
اس نے اٹھ کر بھڑکتے ہوۓ کہا تو زمان نے اسے سکون سے دیکھا۔۔
“جتنی خدمت وہ کرچکا ہے اتنی تو کوٸ سگی اولاد بھی نہیں کرتی اور جس دن۔۔ اس نے مجھ سے دور جانے کی اجازت مانگی اس دن بختیار، میں اسے اجازت دے دونگا۔۔ کیونکہ درد کی جس بھٹی میں وہ سلگ کر کندن بنا ہے اسے صرف اور صرف محبت کی حدت ہی پگھلا سکتی ہے۔ اتنے سال وہ تمہاری اور تمارے جیسے ہر کم ظرف انسان کی گالیاں برداشت کرتا رہا ہے صرف میری وجہ سے۔۔ تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ کبھی میں اسے جانے سے منع کرونگا۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔”
“میں۔۔ “
اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن سمجھ ہی نہیں آیا کہ کسی کی نیکیوں کے بدلے میں اپنے بد اعمال سے دفاع کیسے کیا جاۓ۔۔؟ اسی لیۓ سرخ چہرہ لیۓ دھڑ دھڑ کرتا وہ لاٶنج سے اٹھ آیا تھا ۔۔ اس کے جاتے ہی زمانی نے افسوس سے سر ہلایا۔ زمان بھی بولتے بولتے ہانپنے لگے تھے۔ کوٸ کسی کو لفظِ تسلی نہیں دے رہا تھا کیونکہ اس گھر کا ہر نفس جانتا تھا کہ ولی کے بغیر تسلی کے بول۔۔ ایک خالی خولی سی داستان کے سوا اور کچھ نہ تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اپنے آفس میں ہاشم تاریکی میں بیٹھا اسی تاریکی کا حصہ لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے، وجود اور روح پر سیاہی کی ایک ایسی گہری چھاپ تھی کہ جس کو توبہ کے سوا اور کوٸ عرق عنقا نہیں کرسکتا تھا۔ اپنے ہیڈ آٶٹس کی ساری تفصیلات کا منظرِ عام پر آجانا، اپنے سالوں کے چلتے دھندوں کو یوں ایک رات میں زنگ آلود ہوتا دیکھنا، بہت سے ڈھکے گناہوں کا سیاہ رات سے صبح کے چکمتے سورج تلے کھل جانا۔۔ اس سے کچھ بھی برداشت نہیں ہورہا تھا۔ وہ آیا۔۔ اس کے ڈیروں کے اندر گھس کر اس لڑکی کو نکال لے گیا۔۔ اسے اپنے سے جُڑی عورتوں کی حفاظت کرنے آتی تھی۔ اسے وہ سب کرنا آتا تھا جو ہاشم کرنا چاہتا تھا۔
بار بار روح پر کوڑے کی طرح پڑتا ایک اعتراف اسے پل پل موت کی سی اذیت دے رہا تھا، کہ وہ بہتر تھا۔۔ اس سے بہت بہتر تھا۔۔ کچھ نہ پا کر بھی بہت کچھ پا چکا تھا۔۔ سب کچھ لٹا کر بھی خالی ہاتھ نہ تھا۔۔
اس نے تیز ہوتے تنفس کو دانت جما کر قابو کیا۔ اس کے اندر غصے کا ایک ایسا الاٶ دہک رہا تھا کہ جس کے شعلے اب اس کے وجود کو دوزخ کی اندیکھی سی آگ میں بھڑ بھڑ جلا رہے تھے۔ یا پھر یہ شاید وہ آگ تھی جو اس نے اپنے اعمال سے جمع کی تھی۔ اور اپنے اعمال کی آگ میں تو انسان کو جلنا ہی ہوتا ہے۔۔
اسی پہر کسی نے دروازے پر دستک دی تو اس کی سوچوں کی گہری تان ٹوٹی۔۔ اندر داخل ہوتا شہیر پل بھر کو سمجھ ہی نہ پایا کہ وہ اس اندھیرے میں کس سمت بیٹھا ہے۔۔
“کہو شہیر۔۔”
آواز کے باعث وہ کچھ حد تک سمت کا تعین کر پایا تھا۔ پھر ذرا قریب آکر روشن سی موباٸل اسکرین اس کے سامنے کی۔۔ وہاں ایک خوش شکل سا جوان کھڑا پولیس اہلکاروں سے باتیں کررہا تھا۔ نیچے پولیس اہلکاروں کے قدموں میں جوگی کو دیکھتا مسکرا کر کچھ بولتا ہوا۔۔
“اسی لڑکے کا کہا تھا ناں آپ نے۔؟”
“ہوں۔۔۔”
اس نے آگے ہو کر موباٸل ہاتھ میں تھاما اور پھر اسے ذرا قریب کر کے دیکھا۔۔
“کون ہے یہ۔۔۔؟”
شہیر چند پل کچھ نہ بولا تو اس نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔
“میں نے پوچھا کون ہے یہ۔۔؟”
“وہ۔۔ سرکار یہ حسن شاہ کا بیٹا ہے۔ وہی حسن شاہ جو نورآباد کا الیکشن لڑرہا تھا۔ معذرت کے ساتھ لیکن سرکار وہ شروع ہی سے ولی احمد کا ساتھی تھا۔۔ شاید اس نے آپ کے ساتھ ڈبل گیم کھیلی ہے۔۔”
اور تاریکی میں بیٹھا ہاشم کا وجود لمحے بھر کو ساکت ہوگیا۔
“صرف یہی نہیں۔۔ وہ محسن۔۔ جو آپ کے لیۓ کام کررہا تھا دراصل وہ بھی ڈبل ایجنٹ تھا سرکار۔ وہ ولی کے ساتھ تھا۔۔”
ایک ایک کر کے فضا میں تیرتے ساکت نکتے جڑتے جارہے تھے۔ پزل کا ہر ٹکڑا اپنی جگہ پر آکر درستگی سے لگ گیا تھا لیکن جو تصویر اس سب کے بعد سامنے آرہی تھی وہ بہت بھیانک تھی۔۔
وہ تصویر ہاشم حسین کے ہار جانے کی تصویر تھی۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔
آج کی صبح بے حد اجلی تھی۔۔ شفاف اور صحت مند سی فضا سے معطر۔۔
اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو کمرے میں گرتی نرم گرم سی دھوپ پر نگاہ پڑی۔ اس نے ایک دو بار پلکیں جھپکیں مگر کمزوری کے باعث اس کی بصارت بار بار دھندلا رہی تھی۔ ہمت کر کے اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔۔ سیاہ بال بکھر کر کندھوں پر گر رہے تھے اور لباس خاک آلود ہورہا تھا۔ اس نے بستر سے پیر نیچے اتارے پھر آہستگی سے قدم قدم چلتی سنگھار آٸینے کی جانب بڑھی۔ ایک پل کو اپنا آپ دیکھ کر اسے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ وہ خود تھی۔۔
آنکھوں کے نیچے پڑے گہرے گڑھے، نچڑا ہوا چہرہ اور زخم زخم سا وجود۔۔ بے اختیار اسکے ذہن میں جھماکہ سا ہوا۔۔ ولی کا ہاتھ۔۔! اس کے ہاتھ سے بہتا خون۔۔ اب پتہ نہیں وہ کیسا ہوگا۔۔ اور پتہ نہیں وہ ہوگا کہاں۔ اس نے واپس بیڈ کی جانب آتے ہوۓ پاٸنتی کا سہارا لیا۔ کمزوری کے باعث اسے ہلکا سا چکر آیا تھا۔ اسی پل بی جان نے اس کے کمرے میں دستک دے کر قدم رکھا اور پھر بے ساختہ اس کے قریب چلی آٸیں۔
“کیا ہوا۔؟ چکر آرہے ہیں۔۔؟”
اس نے نقاہت سے بس سر ہی ہلایا تھا۔ انہوں نے اسے سہارا دے کر بیڈ پر لٹایا اور پھر اس کے پیر آہستہ سے اوپر چڑھاۓ۔ وہ زیادہ زخمی نہیں ہوٸ تھی لیکن جس سب سے وہ گزری تھی اس نے امل کے اعصاب جما کر رکھ دیۓ تھے۔ بی جان نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر کر اسکا سر چوما پھر مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
“کیسی ہے میری بیٹی۔۔؟”
“ٹھیک ہوں بی جان۔۔ ولی کیسا ہے۔۔؟ “
اس کی آواز بیٹھی ہوٸ تھی۔ جیسے بہت زیادہ چیخنے چلانے سے اکثر گلا بیٹھ جایا کرتا تھا۔
“اسکا تو رات سے ہی کوٸ اتا پتہ نہیں۔ لیکن وہ اپنا خیال رکھنا جانتا ہے۔ جب کہہ کر گیا ہے کہ آجاۓ گا تو اس پر بھروسہ کرو وہ واقعی آجاۓ گا۔”
“پھر بھی بی جان۔۔”
“اچھا اب گلا خراب ہے اس میں تو سکون لینے دو اپنی زبان کو۔۔۔”
بی جان نے مسکرا کر اس کی بات کاٹی لیکن وہ نہیں مسکرا سکی۔
” اب تم اٹھنا مت لیٹی رہو۔ میں ناشتہ لاتی ہوں، صبح سے تمہارے آغا جان انتظار کررہے ہیں کہ کب ان کی لاڈلی اٹھے تو وہ اس سے ڈھیر ساری باتیں کرسکیں۔۔”
امل ان کی بوڑھی سی شہد رنگ آنکھوں کو دیکھے گٸ۔ وہ جانتی تھی ان کے ہر رنگ کو اور جو اس وقت مسکراتا سا رنگ ان کے چہرے پر تھا۔۔ اس کے پیچھے بہت سے آنسو چھپے تھے۔۔
“بی جان۔۔ اب تک تو سب کو پتہ چل گیا ہوگا کہ میں اغواء ہوٸ تھی۔ سارے گاٶں والوں کو خبر ہوگٸ ہوگی اس سب کی تو۔ میں کسی کا سامنہ نہیں کرسکتی بی جان۔ مجھے کسی کا سامنہ نہیں کرنا۔۔”
روتے ہوۓ اس کا وجود بدنامی کے خوف سے ہولے ہولے لرز رہا تھا۔ سانس اندر تک خشک ہوا جارہا تھا یہ سوچ کر کہ وہ لوگوں کی نظروں میں کیا سے کیا بن گٸ تھی۔۔ بی جان نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور مضبوطی سے اس کی گلابی پڑتی بھیگی آنکھوں میں دیکھا۔۔
“تمہیں ولی بچا کر لایا تھا امل۔ اور وہ صرف انسان ہی نہیں بچایا کرتا بچے۔۔ وہ عزتیں بھی بچایا کرتا ہے۔ جس وقت ہمیں پتہ چلا تھا تمہارا تو ہم سب نے ہاتھ پاٶں چھوڑ دیۓ تھے۔ سب نوکروں کو اپنے اپنے گھروں کو بھیج دیا تھا اور کسی سے بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔۔ جانتی ہو کیوں۔۔ کیونکہ ولی نے کہا تھا کہ وہ تمہیں لے آۓ گا۔۔ کسی بھی بدنامی اور کسی بھی رسواٸ کے بغیر۔۔ اور اس نے اپنا کہا پورا کردیا امل۔ دیکھو۔۔ تم ہمارے سامنے بیٹھی ہو۔۔ سہی سلامت۔۔ محفوظ۔۔! ہمارے علاوہ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ تم کل کہاں تھیں۔۔”
اس کی ذات پر سے جیسے پہاڑوں جتنا بوجھ اتر گیا تھا۔ لررزتا دل ڈھارس پا کر سنبھلا تھا لیکن آنکھیں۔۔ وہ اس ستم گر کی محبت میں کچھ اور بھیگنے لگی تھیں۔۔
“وہ کہاں ہے بی جان۔۔ آتا کیوں نہیں۔۔؟؟”
اسے بس ابھی کے ابھی ولی کو دیکھنا تھا۔۔ بس ایک نظر۔۔ بس ایک ساعت ۔۔
“وہ آجاۓ گا۔ لیکن پہلے تم اپنا خیال رکھو۔۔ خود کو سنبھالو ہاں۔۔”
ان کے نرمی سے کہنے پر اس نے بہت اچھے بچوں کی طرح آنسو صاف کرتے ہوۓ گردن ہلاٸ۔
“اور ہاں۔۔ نوراں اپنے گھر میں ہے حفاظت سے۔ پولیس نے اسے اس کے گھر پہنچا دیا تھا۔ اب تم لیٹو میں ناشتہ لاتی ہوں تمہارے لیۓ۔۔”
اور پھر وہ واقعی کسی بھی پس و پیش کے بغیر لیٹ گٸ۔ اس کا وجود ہوا سے بھی زیادہ ہلکا ہوگیا تھا۔۔ لیکن آنکھیں۔۔ بس شہد رنگ آنکھیں ولی کے دید کو ترسی جارہی تھیں۔۔ ہاں بس یہی اک درد تھا جو اسے دھیرے دھیرے گھیرنے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
برابر حویلی میں اک جشن کا سا سماں تھا۔ ارجمند کے سب سے لاڈلے بیٹے کی شادی تھی بھلا جشن کا سماں کیوں نہ ہوتا۔ ڈھولکی کے ساتھ اب شاپنگ اور بازاروں کے چکر بھی حسبِ عادت بڑھ گۓ تھے۔ انہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی کہ کسے گرفتار کیا گیا اور کس کا جسم ناکارہ ہوکر رہ گیا۔ انہیں کسی بات سے کوٸ فرق نہیں پڑتا تھا۔ کیونکہ وہ ان لوگوں کی قسم سے تھے جنہیں درد صرف تب محسوس ہوتا تھا جب خود پر آ پڑتا تھا۔ اس سے پہلے۔۔ دنیا باغ و بہار تھی۔۔ جنت تھی۔۔
اوپر ریلنگ سے ناجیہ نے جھانک کر نیچے ارجمند کو آواز لگاٸ کہ بازار وہ بھی جاۓ گی کیونکہ اس کے مہندی کے جُوتے رہ گۓ ہیں۔ نیچے سے اسکے جواب پر ارجمند نے بس سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔۔ دوسری جانب نگاہ گھما کر دیکھا جاتا تو اندازہ ہوتا کہ بہت سے لوگ دیوار گیر قد آدم کھڑکیوں کے شیشوں سے نظر آتے سبزہ زار کی صفاٸ میں مشغول تھے، ذرا آگے جاتے تو کچن میں اشتہا انگیز کھانوں کی مہک سے سارا باورچی خانہ مہک رہا ہوتا۔۔
“کل خالہ آرہی ہیں تمہاری۔ اور کہہ رہی تھیں کہ نفیس سے کہیں تیار رہے ہم نے اسے آ کر ہلدی میں رنگ دینا ہے۔”
تھوڑی ہی دیر پہلے اپنی کسی بہن سے فون پر بات کرنے کے بعد اب وہ اپنے لاڈلے کو نگاہوں میں سموۓ کہہ رہی تھیں اور نفیس ہنستا ہوا صوفے میں دھنسا تھا۔۔ آج کل وہ بات بات پر ہنسا کرتا تھا ۔۔ بس یونہی۔۔ دل چاہتا تھا ہنسنے کا۔۔
“اچھا۔ کہہ دیں ماں جی ان سے کہ نفیس ہر رنگ میں رنگنے کے لیۓ تیار ہے۔۔”
ارجمند مسکرادی تھیں۔۔
“بس اب تیرا بھی گھر بسا دیکھوں تو کچھ ٹھنڈ پڑے آنکھوں کو حالانکہ مجھے وہ امل پسند بالکل بھی نہیں لیکن اپنے جگر کی وجہ سے اسے بھی برداشت کرلونگی میں۔”
“ارے ماں جی۔۔ آجانے دو اسے ایک بار اس گھر میں۔ میرے حکم سے زندہ رہے گی وہ۔ یہ مرضیاں چلتی ہیں اپنے باپوں کے گھر میں، شوہروں کے گھر میں صرف شوہر ہی کی ماننی پڑتی ہے کیونکہ اس کا ہو کر رہنے میں ہی عورت کی عافیت ہوتی ہے۔۔”
اس نے کہہ کر گردن تانی تو ارجمند کو خواہ مخواہ ہی فخر ہوا تھا اس پر۔
“تُو اگر ایسے رہے تو مجال اس کی کہ ایک پر بھی مارسکے۔ بس تُو نہ بدلنا نفیس نہیں تو وہ لڑکی ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دے گی۔ بہت تیز زبان ہے اس کی توبہ۔۔”
انہیں اپنی بے عزتی ایک دم یاد آٸ تھی۔۔
“تُو فکر ہی نہ کر میری ماں۔ ایسے رکھونگا کہ آواز بھی نہیں نکلے گی اس کی۔۔ تیرے پاٶں دھو دھو کر پیۓ گی تب ہی تو بیوی کا درجہ ملے گا اسے۔۔”
ارجمند کو خود سے لگاتے اس نے جیسے انہیں تسلی دی تو وہ اس پر نہال ہی ہوگٸیں۔ ایسا بیٹا تو انہیں چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملنا تھا۔
“اچھا ہاں ناجیہ ۔۔ بات سن۔۔ وہ جو رسم حنا سے پہلے کی رسم ہوتی ہے اس کا جوڑا تو تُونے تیار کرلیا ہے ناں۔۔؟ ایک ہفتے میں جا کر دینا ہے جوڑا۔ بھٸ اب وقت ہی کتنا رہ گیا ہے۔۔”
نفیس کے اٹھتے ہی اب وہ پھر سے ملازمین کی دوڑیں لگوا رہی تھیں۔ ان کے انگ انگ سے خوشی کو پھوٹتے کوٸ بھی دیکھ سکتا تھا۔۔
اسی پہر ساتھ کھڑی حویلی میں صبح کی ترچھی ہو کر گرتی دھوپ میں بی جان اسے اس کے کمرے سے نکال کر لاٸ تھیں۔ صاف ستھرے سے لباس اور دھلے دھلاۓ بالوں میں وہ پہلے سے خاصی بہتر لگ رہی تھی۔ یا شاید بہتر لگنے کی کوشش کررہی تھی۔۔ زمان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر وہ بی جان کے ساتھ داخل ہوٸ۔ زمان جو راکنک چیٸر پر جھولتے شاید اسی کا انتظار کررہے تھے یکدم رک سے گۓ۔ انہیں دیکھتے ہی اس کے حلق میں آنسوٶں کا ایک گولہ سا تھا جو جمع ہوا تھا۔ پلکوں کی سنہری باڑ سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔۔ دبی دبی سی سسکیاں سناٸ دینے لگیں۔ پھر وہ دھیرے دھیرے چلتی ان تک آٸ۔ زمان بے ساختہ اٹھ کھڑے ہوۓ تھے لیکن پھر اس سے مزید صبر نہیں کیا گیا۔۔
ان کے گلے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ وہ ایسے کبھی نہیں رویا کرتی تھی لیکن شاید اب ہمت جواب دے گٸ تھی اس کی۔ زمان ضبط سے، گلابی آنکھیں لیۓ اسے ساتھ لگاۓ رہے۔ اچھا تھا وہ رو لیتی۔ بی جان نے ان دونوں کو ایسے ہی کمرے میں چھوڑا اور خود باہر نکل آٸیں۔۔
ابھی جو اگر ولی ہوتا تو کیا کہتا بھلا۔۔
ایک پل کو ان کی نگاہوں نے داخلی دروازے کو چھوا تھا۔ پھر یکدم انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ ہاتھ باندھے مسکراتا ہوا کھڑا تھا۔
“میں جانتا ہوں آپ جیلس ہورہی ہیں۔ لیکن کوٸ بات نہیں اگر وہ سردار بابا کے گلے لگی ہے تو میں آپ کے گلے لگ جاتا ہوں۔”
جھک کر انہیں خود کے ساتھ اپناٸیت سے لگاتا۔۔ لیکن اگر وہ ہوتا۔۔ اگر جو وہ ہوتا تو بی جان کبھی یوں اتنا اداس نہ ہوتیں۔ آنکھوں کی نوک کو انگلی سے صاف کرتیں وہ کچن کی جانب بڑھ گٸ تھیں۔ کہانی کے کرداروں میں سب سے پیارا کردار نہ جانے ہمیشہ اتنا رلاتا کیوں تھا۔۔!
وہ جی بھر کر رونے کے بعد اب ان کے گھٹنے کے عین سامنے بیٹھی تھی جیسے ہمیشہ بیٹھا کرتی تھی۔ آنکھیں سرخ متورم تھیں اور ناک گلابی رنگ سے دہک رہی تھی مگر اس کے وجود کی ساری کثافت آنسوٶں کے راستے بہہ کر اسے صاف کرچکی تھی۔ وہ مسکرا کر آغا جان کی کوٸ بات سنتی سنہری سی دھوپ لگ رہی تھی۔۔ ولی کی دھلی سی چاندنی۔
یکدم دروازہ دھاڑ سے کھلا تو اس نے اور زمان نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔ بختیار نے وہیں کھڑے کھڑے اسے کڑے تیوروں سے گھورا اور پھر پاس آکر بے دردی سے ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا تو وہ خوفزدہ سی ہو کر زمان کے ساتھ آ لگی۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے بختیار۔۔!! “
زمان گرجے تھے۔۔ بختیار نے انگارہ آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھا تھا۔ امل کا دل کانپنے لگا۔۔
“پوچھیں اس سے کہ کس نے اغواء کیا تھا اسے۔ کہیں کسی نے اسے خراب تو نہیں کردیا۔۔!”
“بختیار۔۔۔!!”
زمان کے ہاتھ کا ایک زوردار چانٹا اس کا رخسار سرخ کرگیا تھا۔ امل پتھر کا مجسمہ بن گٸ۔ اندر گرتے آنسو تک پتھرا گۓ تھے۔۔!! اسے لگا کسی نے رکھ کر اس کے منہ پر بیلچہ دے مارا ہے۔۔
“اپنی زبان سنبھال کر بات کرو اور اگر بات نہیں کرنی آتی تو ابھی کہ ابھی دفع ہوجاٶ یہاں سے۔۔ !!”
زمان اس پر دھاڑے تھے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔
“آپ اس سے پوچھیں کہ اسے کس نے اغواء کیا تھا۔؟ ہماری عزتوں کا سوال ہے، یہ ایسے بغیر بتاۓ منہ بند کر کے نہیں بیٹھ سکتی۔۔!!”
جواباً وہ بھی اتنا ہی چیخا تھا۔۔
“میں نے کہا کہ ابھی کے ابھی دفع ہوجاٶ میری نظروں کے سامنے سے نہیں تو میں کچھ ایسا کر بیٹھونگا جو کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں ہوگا۔۔ دفع ہوجاٶ یہاں سے بے غیرت انسان۔۔”
لیکن اب بس۔ اب بہت ہوگیا تھا۔ وہ جو پتھر بنی زمان کے پیچھے کھڑی تھی یکدم اس کے سامنے آٸ۔ اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑیں۔۔ گلابی پڑتی، گھنی پلکوں سے سجی آنکھیں۔۔ ولی کی پسندیدہ آنکھیں۔
“ہاشم حسین نے اغواء کیا تھا مجھے بھاجی۔۔!”
ساری حویلی میں ایک پل کو سناٹا پھیل گیا تھا۔ سب کچھ ساکت ہوگیا تھا۔۔ سب کچھ۔۔ یوں لگتا تھا گویا ساری دنیا ساکت ہوگٸ ہو۔۔! بختیار بنا پلکیں جھپکاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“میں نے کہا مجھے ہاشم حسین نے اغواء کیا تھا بھاجی اور وہ مجھے خراب بھی کرسکتا تھا لیکن ولی نے اسے اتنا موقع ہی نہیں دیا۔ اس کے بھیجے گۓ انسان کو جنگلیوں کی طرح مارا تھا اس نے۔ جان سے ماردیتا اگر میں اسے آواز نہ دیتی تو۔ مجھے موت کے منہ میں ہاتھ ڈال کر لایا ہے وہ بھاجی کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں۔۔!!!“
وہ چیخی تھی۔۔ اتنا زور سے کہ آواز تک پھٹ گٸ۔
”آپ کے سگے نے اغواء کیا تھا مجھے۔ اب جاٸیں۔۔ جو کرنا ہے ہیں کریں۔ کیا کرینگے آپ۔۔! کیا کرسکتے ہیں آپ بھاجی۔۔! پراٸ عورتوں کے در پر بیٹھنے والے اتنے جرأت مند نہیں ہوا کرتے کہ آگے والے کا منہ توڑ سکیں۔۔ آپ کی عزت ہاں۔۔ آپ کی عزت،عزت ہے اور میری عزت۔۔ وہ کیا ہے۔۔! وہ کس کی عزت ہوگی پھر۔۔!! کیا ہیں آپ بھاجی۔۔ خود کیا ہیں آپ۔۔!“
پلکوں سے آنسو بے تحاشہ لڑھکتے جارہے تھے مگر اب۔۔ اب حد ہوگٸ تھی۔ اس نے بےدردی سے آنسو رگڑ کر صاف کیۓ اور ایک ہی زاویے پر ساکت ہوۓ بختیار کو نفرت سے دیکھا۔۔
”میں اللہ سے دعا کرونگی بھاجی کہ وہ آپ جیسا بھاٸ کبھی کسی کو نہ دے۔۔ میں دعا کرونگی اس سے۔ اور اب خدا کے لیۓ۔۔“
اس نے بیزاریت سے ہاتھوں کو جوڑ کر ماتھے پر رکھا تھا۔۔
”میرے سامنے سے چلے جاٸیں اور مجھے اور بابا کو دوبارہ اپنے گھٹیا سوالات سے مت ڈسٹرب کیجیۓ گا۔۔ چلے جاٸیں خدا کے لیۓ آپ یہاں سے۔۔“
اس نے کہہ کر رخ پھیرا تو وہ چند لمحوں بعد شکستہ قدموں سے باہر کی جانب بڑھ گیا۔ زمان بے ساختہ اپنی راکنگ چیٸر پر بے دم سے گرے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا۔۔
”پتہ نہیں۔۔ پتہ نہیں کس گناہ کی سزا میں مجھے ایسی اولاد مل گٸ ہے۔۔“
ان کی نم آنکھیں دیکھ کر اس کا دل کٹا تھا لیکن وہ ان کے عین سامنے بیٹھی۔۔ ان کا بوڑھا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔
”بابا۔۔ میں بہت مضبوط ہوں۔۔ میں کبھی آپ کو مایوس نہیں کرونگی۔ کبھی بھی نہیں۔ بھاجی کی طرح تو کبھی نہیں۔۔“
اس نے ہاتھ سے ان کے آنسو صاف کیۓ تو وہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گۓ۔ ان کی چھوٹی سی بیٹی کٸ مردوں سے زیادہ مضبوط تھی۔۔ آگے بڑھ کر انہوں نے اس کے سر پر حسبِ عادت ہاتھ رکھا تو وہ آہستہ سے مسکرادی۔۔ کھڑکی سے گرتی دھوپ اب تک ان دونوں کو ڈھانپے ہوۓ تھی۔ ایسی دھوپ جو جھلسایا نہیں کرتی تھی۔۔ بلکہ نرمی سے انسان میں جمی برف کو پگھلا دیا کرتی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بختیار کی تیزی کے ساتھ دوڑتی کار کا رخ ہاشم کے گھر کی جانب تھا۔ اسے ابھی اس سے بہت سے حساب لینے تھے۔ پچھلے قصوں کا حساب وصولنا تھا۔ اس نے گاڑی کچے راستوں پر تیزی کے ساتھ دوڑاٸ۔۔ لیکن۔۔ پھر جیسے ہی وہ ان کے علاقے کی حدود میں داخل ہوا تو اس نے بہت سے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اپنی کار ایک جانب کو لگاٸ۔ باہر کے منظر کو دیکھتے وہ اپنی کار سے نکل آیا تھا۔ اونچے ستونوں پر جمی مضبوط حویلی کے سامنے پولیس کی بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔ کچھ اہلکار گھر کے اندر بھی داخل ہوتے دیکھے تھے اس نے۔۔ وہ بھی تیزی سے آگے بڑھا۔۔
دوسری جانب ہاشم حسین کے کمرے میں بیٹھا انہیں خاموشی سے دیکھ رہا تھا کہ باہر یکدم عجیب قسم کا شور اٹھا۔ بہت سی گاڑیوں کا شور۔۔ بیک وقت بہت سے دروازے کھل کر بند ہونے کا شور۔۔ تیزی سے اندر کی جانب بڑھتے قدموں کی آواز۔۔ اس کی سماعت میں جیسے یہ سب کسی صور کی طرح اترا تھا۔۔
نگار بیگم تیزی سے اندر بھاگتی آٸیں۔۔ ان کی رنگت متغیر تھی اور سانس۔ سانس اکھڑا ہوا۔۔
“ہا۔۔ ہاشم۔۔ باہر پ۔۔ پولیس آٸ ہے تجھے گرفتار کرنے۔۔”
اس نے اسی خاموش سے نگار کو دیکھا، پھر ایک نظر حسین پر ڈالتا اٹھ کر باہر نکل آیا۔۔ زینوں سے اترتے اس نے دیکھا کہ بہت سے اہلکار سبزہ زار پر کھڑے بندوقیں اس کی جانب تانے ہوۓ ہیں۔ ان سب سے آگے عدیل کھڑا تھا۔۔ اے ایس پی عدیل۔۔ اس نے ایک نگاہ ان سب پر ڈالی اور پھر عدیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے قریب ہوا۔۔ ایک ساتھ بہت سے گنز لوڈ ہونے کی آواز آٸ تھی۔
“تمہیں قتل، اسمگلنگ اور بیشتر غیر قانونی سرگرمیوں کے جرم میں اس اریسٹ وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے ہاشم حسین۔۔”
اس نے مسکراتے ہوۓ بنا کسی پس و پیش کے ہاتھ آگے کیۓ تو عدیل نے ایک۔۔ بس ایک پل کو رک کر اسے دیکھا۔۔ پھر اسکی کلاٸیوں میں ہتھکڑیاں پہناتا اسے لیۓ باہر کی جانب بڑھنے لگا۔۔ باہر دروازے کے پاس ہی اسے بختیار مل گیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے گریبان سے دبوچا تو پولیس اہلکار یکدم آگے آۓ۔
”میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا دوست سمجھا تھا ہاشم لیکن تم۔۔!“
اس کی آنکھوں میں دہکتی نفرت کو ہاشم نے بے تاثر نظروں سے دیکھا تھا۔۔
”تم تو سانپ نکلے۔۔ میرے لباس کا سانپ نکلے تم ہاشم جس نے مجھے موقع ملتے ہی ڈس لیا۔ اب تم بھی دیکھنا کہ میں تمہاری بہن کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔ جب تمہیں درد ہوگا تب ہی تم اندازہ کر پاٶ گے کہ یہ تکلیف کیا تکلیف ہوتی ہے۔۔“
اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو ہاشم کی پیشانی پر پہلی دفعہ فکر چمکی ۔ لیکن پھر کچھ بھی بولنے کا موقع دیۓ بغیر اہلکار اسے گھسیٹتے ہوٸ باہر لے گۓ۔ بختیار نے ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈالی اور پھر اندر کی جانب بڑھا۔ شازیہ جو نگار بیگم کے ساتھ دروازے میں ٹکی کھڑی تھی اس کے ایسے جارہانہ سے انداز کو دیکھ کر وہ بے ساختہ پیچھے ہوٸ۔ اسے کیا پتہ تھا کہ اسے اس کے بھاٸ کے کیۓ گۓ اعمال کی سزا ساری زندگی بھگتنی تھی۔۔
دوسری جانب جاسم کے اپارٹمنٹ میں صبح کی مخصوص چہل پہل تھی۔ ولی جو کچھ ہی دیر پہلے گہری نیند سے جاگا تھا اب منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوا ناشتے کی گول ٹیبل پر جاسم کے ناشتے کا انتظار کررہا تھا۔۔ جاسم نے سنہرے سے آملیٹ کی پلیٹ اس کے سامنے رکھی اور پھر اصغر کو آواز دی۔ اصغر چاۓ بہت اچھی بناتا تھا اسی لیۓ آج یہ ذمے داری اسے سونپی گٸ تھی کہ چاۓ وہ بناۓ گا۔ جس پر اس نے برے برے منہ بنا کر چاۓ بنا ہی لی تھی۔ وہ صبح ہی صبح اس کے گھر آدھمکا تھا۔
”ہاشم کو گرفتار کرلیا ہے پولیس نے۔۔“
ٹیبل پر چاۓ رکھتے جیسے اصغر نے موسم کی کوٸ خوشگوار سی خبر سناٸ تھی۔ ولی نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ رات سے کافی بہتر لگ رہا تھا۔ چہرے پر صحت مندی اور سکون کی جھلک لیۓ۔۔
”جانتا ہوں۔۔“
جاسم نے آملیٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوۓ اسے دیکھا۔ وہ ان کا یونی فرینڈ تھا۔ بہت نیک دل اور انتہاٸ شریف سا۔
”پھر خوش کیوں نہیں ہو تم۔۔؟“
” کس بات پر خوش ہونا چاہیۓ مجھے۔۔؟“
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی چاۓ اٹھاٸ۔ زخمی ہاتھ البتہ اس نے گود میں رکھا ہوا تھا۔
”اسے گرفتار کرلیا ہے پولیس نے۔۔“
اصغر بھی اس کے مقابل کرسی پر بیٹھا چاۓ کپ میں انڈیل رہا تھا۔
”ایک دو دن بھی نہیں لگیں گے اسے اس جیل سے نکلنے میں۔ اس جیسے بارسوخ لوگوں کو صرف اس کے جیسے بارسوخ لوگ ہی قابو کرسکتے ہیں۔ پولیس تو جیب میں رہتی ہے ان کے۔۔“
وہ بہت سکون سے ان دونوں کو جیسے حقیقت کا آٸینہ دکھا رہا تھا۔ جاسم بےسکونی سے آگے کو ہوا۔۔
”پھر۔۔ تو کیا کوٸ راستہ نہیں ہے اسے قید کرنے کا۔۔؟“
” میں نے یہ کب کہا کہ کوٸ راستہ نہیں ہے۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ سب پولیس کے بس کی بات نہیں ہے۔ باقی انسان کو تباہ کرنے کے لیۓ اس کے اعمال ہی کافی ہوتے ہیں۔۔“
”تم کیا کرنے لگے ہو۔۔؟“
اصغر کے سنجیدہ سے سوال پر اس نے پہلی دفعہ ہلکے سے مسکرا کر ان دونوں کی جانب دیکھا تھا۔۔
”سوری۔۔ یہ کانفیڈینشل ہے۔ میں آپ دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں بتا سکتا۔۔“
”یار ولی بتا ناں۔۔“
اصغر نے ناشتہ چھوڑ کر بہت بے چینی سے اس سے پوچھا تو اس نے مزے سے کندھے اچکاۓ۔۔
”تمہارے بابا کو پتہ ہے۔ ان سے پوچھ لینا جا کر۔۔“
”چلو اس کے تو بابا کو پتہ ہے لیکن مجھے کون بتاۓ گا۔۔؟“
جاسم کو اپنا نظرانداز کیا جانا کچھ پسند نہیں آیا تھا۔۔
”تمہیں کیا کرنا ہے جان کر۔ چپ کر کے ٹانکے لگاٶ بس لوگوں کی کھال میں۔۔“
اصغر نے ہنس کر کہا تو ولی بھی ہنس دیا۔ جاسم نے البتہ اس کے تبصرے پر آنکھیں نکال کر دیکھا تھا اسے۔۔
”کسی دن تمہارے اس منہ پر ہی ٹانکا لگا دونگا میں۔ جتنی یہ زبان کم چلے گی اتنا ہی سب کے لیۓ اچھا ہوگا۔۔ کیوں ولی۔۔؟“
”بنگو (bingo)“
انگشتِ شہادت کو انگوٹھے پر رکھ کر اس نے جاسم کے ارادے کو سراہا تھا۔ اصغر نے ان دونوں کو کڑے تیوروں سے گھورا تو وہ دونوں ہنس پڑے۔ انہیں ہنستا دیکھ کر اس کے چہرے پر بھی ہنسی ابھری تھی۔۔ آملیٹ اور چاۓ کی اشتہا انگیز سی مہک سے بھرے اپارٹمنٹ میں تین دوست آج بہت دنوں بعد ایک ساتھ یوں ہنسے تھے۔ کیونکہ زندگی کی ایک بہت کٹھن اور طویل رات کا اختتام، بہر حال ہوچکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
