Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 15) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 15) Part - 2
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
وہ وہیں چند پل دروازے میں ایستادہ رہی اور پھر ایک دم آگے بڑھ کر زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔
وہ جو اسکے آناً فاناً آنے سے اب تک نہیں سنبھلا تھا ساکت رہ گیا۔۔
امل تیز ہوتے تنفس کے ساتھ دانت پر دانت جماۓ اسے دیکھ رہی تھی۔۔
”نفرت کرتی ہوں میں آپ سے ولی احمد۔۔“
اس کی آنکھوں میں جما ہوتے آنسو ایک دم ہی اس کے چہرے پر لڑھکے تھے۔۔ گلا مزید آنسو روکنے کی وجہ سے دکھنے لگا تھا اور دل۔۔ دل تو گویا اندر تک کسی نے برچھی سے زخمی کردیا تھا۔۔
ولی نے اپنا چہرہ اس کی جانب گھمایا۔۔ وہ زور سے ایک ہاتھ میں شیشی کو قید کیۓ ہوۓ تھی اور دوسرے ہاتھ کو مٹھی میں بند کر رکھا تھا۔۔ جو ولی کو تھپڑ مارنے کے باعث سرخ پڑ رہا تھا۔۔
”میں آپ سے نفرت کرتی ہوں ولی۔۔ بہت نفرت کرتی ہوں میں آپ سے۔۔ سنا آپ نے۔۔“
آخر میں چلا کر کہا تو ولی نے اس کی شہد رنگ آنکھوں کو بے رحمی سے دیکھا۔۔
”کریں۔۔ شوق سے کریں نفرت۔۔ محبت کرنے کو میں نے آپ سے کبھی کہا بھی نہیں تھا۔۔“
اس کی دھیمی سے آواز بہت سرد تھی۔ امل کی ہڈیوں تک کو جما دینے والی۔۔
”آپ کسی چیز کے قابل ہی نہیں تھے ولی۔۔ آپ کسی چیز کے لاٸق ہی نہیں تھے۔ میں نے غلطی کردی۔۔ میں نے غلطی کی آپ کو سب سے الگ سمجھ کر۔۔ آپ بھی سب جیسے ہی ہیں ولی۔۔ آپ بھی اتنے ہی پتھر اور بے رحم ہیں جیسے اس خاندان کا ہر مرد ہے۔۔ مگر اب بس۔۔“
اس نے بہتے آنسوٶں کو بے دردی سے رگڑا تھا۔۔ ولی ویسے ہی ساکت سا اسے دیکھے گیا۔۔
”اب بہت ہوگیا۔۔ امل نے خود کو بہت گرالیا مگر اب بس۔۔ اب امل کسی کے لیۓ بھی نہیں جھکے گی۔ اب میں کبھی کسی کے لیۓ نہیں روٶنگی۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔“
اس کی آواز آخر میں لرز کر رہ گٸ تھی۔۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اب تک تیزی کے ساتھ گردن میں لڑھک رہے تھے۔۔
”اور اگر آٸندہ آپ میرے لیۓ کبھی بھی فکر مند ہوۓ تو میں آپ کی جان لے لونگی ولی۔۔ آج سے امل زمان آپ کے لیۓ مر گٸ ہے۔۔ مرگٸ ہوں میں آپ کے لیۓ آج سے۔۔“
یہ صرف ایک تحفے کا دکھ نہیں تھا جو اسے اتنا رلارہا تھا۔۔ یہ تو کٸ سالوں کے جمے زخم تھے جو اب ولی کی بے اعتناٸ کی حدت سے پگھل پگھل کر اسکی آنکھوں کے راستے باہر کو گررہے تھے۔۔ مگر دوسری جانب کھڑا ولی۔۔ ویسے ہی کھڑا رہا۔۔ بنا کسی تاثر کے۔۔ بنا کسی شناساٸ کے۔۔ اجنبی سا چہرہ لیۓ۔۔ آج سے اس نے خود کو امل کے لیۓ اجنبی کرلیا تھا۔۔
وہ نفرت سے اسے دیکھتی آنسو رگڑتی باہر کو بھاگی۔۔ شال اب کے پوری ڈھلکی زمین کو چھو رہی تھی۔۔ اس نے باہر نکل کر شیشی کو ڈسٹ بن میں پھینکا اور اوپر بھاگتی گٸ۔۔ نوراں اور شکیلا کچن کے دروازے میں کھڑیں بے یقینی سے اسے اوپر جاتا دیکھ رہی تھیں۔۔
اس نے آرام سے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا اور پھر اسٹڈی ٹیبل تک چلا آیا۔۔ وہ اس سب کے لیۓ پہلے سے تیار تھا۔۔ اسے امل کو خود سے بدظن کرنا تھا اور وہ اس نے کردیا تھا۔۔ گڈ۔۔!
خود کو شاباشی دیتا وہ اب پھر سے اسٹڈی ٹیبل پر رکھی فاٸل کو جھک کر دیکھ رہا تھا۔۔
دوسری جانب امل اب تک دروازے سے لگی رورہی تھی۔۔ اس کا دل جو بہت سی باتوں پر پہلے ہی زخمی تھا اب درد سے پھٹنے لگا۔۔ پھر وہ دروازے سے لگ کر بیٹھتی چلی گٸ۔ آنسو بہت تیزی سے گر رہے تھے اور ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سارے کمرے میں سناٸ دے رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
تین راتیں قبل۔۔
”اس لڑکی کی یہ مجال کے میرے سامنے زبان چلا سکے۔۔ اور وہ بھی اس (گالی) ولی کے لیۓ۔۔ بڑا ناز ہے ناں اسے ولی پر۔۔ دیکھتے ہیں کہ یہ ناز اور کتنے دنوں تک قاٸم رہتا ہے۔۔ اور وہ (گالی) ولی۔۔!“
اس نے سلگتے وجود کو سیاہی میں ڈوبی کھڑکی کی جانب پھیرا۔۔ باہر دور دور تک پھیلے سبزہ زار پر خاموشی چھاٸ ہوٸ تھی۔۔
”اسے تو میں دیکھ لونگا۔۔ ایسی جگہ ضرب لگاٶنگا کہ ساری زندگی اپنے زخم سہلاتا رہے گا مگر سکون۔۔۔ اسے کبھی سکون نہیں آۓ گا۔۔“
ایک سگریٹ سلگا کر اس نے لبوں سے لگاٸ پھر ہوا میں غاٸب ہوتے دھویں کو سوچتی نگاہوں سے دیکھے گیا۔۔
”دیکھ لونگا میں ہر ایک کو۔۔ ذرا سے تعلقات کیا آگۓ ہیں یہ لوگ دشمنی کے مقابلے پر مجھے اپنے برابر سمجھنے لگے ہیں۔۔ ابھی جانتے نہیں ہاشم حسین کو یہ لوگ۔۔ خاک نہ کردیا تو نام ہاشم نہیں۔۔“
اس نے سر جھٹکا تھا۔ پھر دو انگلیوں میں سگریٹ پھنسا کر قمیض کی جیب سے موباٸل فون نکالا۔۔ چند بٹن دباۓ اور فون کو کان سے لگا کر وہ سبزہ زار کی مہیب تاریکی کو دیکھتا رہا۔۔
”حسن شاہ۔۔ تمہاری تاخیر میری سمجھ میں ہر گز نہیں آرہی ہے۔۔ لیکن اب بہت ہوگیا۔۔ اب ہاشم اپنے معاملات خود طے کرے گا۔۔ تمہاری کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔“
کہہ کر اس نے آگے والے کی بات سنے بغیر ٹھک سے فون رکھ دیا۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر اس نے ایک اور نمبر ڈاٸل کیا۔۔
”راجا۔۔ سردار پور والے کباڑ خانے کو تیار رکھو۔۔ کچھ دنوں میں ایک لڑکی کو وہاں لا کر ڈالنا ہے۔۔ اور ہاں۔۔۔ ظفر سے کہو کہ تیار رہے۔۔ مال بالکل اس کے حساب کا ہے۔۔“
آگے والے کی چند پل سننے کے بعد اس نے فون کان سے ہٹایا اور پھر سگریٹ کا ایک بھرپور کش لیتا دھواں فضا میں چھوڑنے لگا۔۔ زہر قطرہ قطرہ اس کے اندر اترتا جارہا تھا۔۔
دوسری جانب اس سارے قصے سے بے خبر ولی ڈیرے پر رات کی تاریکی میں کام کررہا تھا۔۔ جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ ہاشم اس کی کمزوری جانتا ہے تب سے اسے ایک پل کا چین میسر نہیں آیا تھا۔۔ پھر بھی اپنے تمام تر خدشات کو بار بار جھٹکتا وہ بس کام پر توجہ دے رہا تھا۔۔ ہاں بس کام پر۔۔
اپنی اور حویلی والوں کی زندگیاں ہاشم اور حسین جیسے ناسوروں سے پاک کرنے والے کام پر۔ یکایک اس کا فون بجا تو اس نے ٹیبل پر دھری بہت سی فاٸلز کے اوپر ہاتھ مارا۔۔ اس کا فون کسی فاٸل کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔
ایک فاٸل کو ہٹا کر اس نے دیکھا تو جلتی بجھتی اسکرین پر حسن شاہ کا نام وہ بھی رات کے اس پہر دیکھ کر اس کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا۔۔
”کہیں سر۔۔“
بہت آہستگی سے کہہ کر اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگایا۔۔
”ہاشم نے مجھ سے رابطہ منقطع کردیا ہے ولی۔۔“
اگلی بات سننے کے بعد وہ ایک دم سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ ایک ہی تو سکون تھا اسے کہ ہاشم جو بھی کرے گا کم از کم اس کا علم اسے حسن کے ذریعے ہوتا رہے گا مگر جو اس وقت حسن کہہ رہے تھے وہ بہت الارمنگ تھا۔۔
”کیا مطلب۔۔؟؟ کیا اسے شک ہوگیا ہے۔۔؟؟“
”شاید۔۔ کیونکہ میری تاخیر کے باعث ظاہر ہے اس نے کچھ نہ کچھ تو اخذ کیا ہی ہوگا۔۔ مگر خیر۔۔ اب تمہیں بہت بہت محتاط رہنا ہے ولی۔ کیونکہ اب میں درمیان میں نہیں ہوں۔ اب ہاشم پر تم نے براہِ راست چیک رکھنا ہوگا اور اگر۔۔ اگر اسے بھنک بھی پڑ گٸ تمہارے اس چیک کی تو بہت برا ہوگا۔۔“
اسکی پریشانیاں سوا ہوتی جارہی تھیں۔۔
”میں خیال رکھونگا سر۔۔ مگر آپ۔۔ آپ بھی اپنا خیال رکھیں اور اصغر سے بھی کہیں کہ وہ محتاط رہے کیونکہ ہاشم سے کسی بھی چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔“
”میری فکر چھوڑ دو تم۔ بس اپنا اور حویلی والوں کا خیال رکھو۔ اور ہاں وہ جو لڑکا محسن ہے۔۔ جو ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام کررہا ہے۔۔ اسے کہو کہ کچھ ٹاٸم کے لیۓ انڈر گراٶنڈ ہوجاۓ کیونکہ ہاشم ابھی تمہارے آس پاس کام کرتے ہر ہر بندے کا تعلق خود سے جوڑے گا اور غداری کو سونگھنا اس کے لیۓ کبھی مشکل نہیں رہا۔۔“
اس نے چند پل کے لیۓ آنکھیں بند کیں۔۔ سب کچھ الٹا ہوتا جارہا تھا۔۔
”ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں سب کچھ۔۔ لیکن سر۔۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ہاشم نے جس چیز کا ارادہ کیا ہو اسے پا نہ سکا ہو۔۔؟“
اس کا سوال بہت عجیب سا تھا مگر حسن شاہ نے دوسری جانب گہرا سانس بھرا تھا۔۔
”نہیں۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہاشم نے کوٸ منصوبہ بندی کی ہو اور وہ منصوبہ اس پر الٹا پڑ گیا ہو۔ وہ ایک بہت گھاک اور باریک بین سا آدمی ہے۔ کبھی بھی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نظر انداز نہیں کرتا وہ۔۔ اور میری ایک بات کبھی مت بھولنا کہ تم ہاشم کے مقابلے پر ہو۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ اسے ہلکا لینے والوں نے ہمیشہ نقصان اُٹھایا ہے ولی۔۔ “
ان کی آواز میں ایسی سرد مہری تھی کہ اس کی ہڈیوں میں برف سی برف پھیلنے لگی۔۔ تنفس تیز ہوگیا۔۔
”کیا ہاشم کی کوٸ ایسی کمزوری نہیں ہے حسن سر کہ میں اسے دبوچ سکوں۔۔؟“
اس تھک کر ایک بار پھر سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگایا تھا۔۔
”کمزوری ہوتی ہے ولی۔۔ اور ہر ایک کی ہوتی ہے۔۔ جانتے ہو بڑے بڑے خداٸ کا دعوہ کرنے والوں کو کیسے زوال آیا تھا۔۔؟؟“
رات کی سیاہی میں حسن کی آواز گھلنے لگی تھی۔۔
”ان کی اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے۔۔ ان کے اپنے تکبر اور گھمنڈ نے انہیں تخت سے تختے تک پہنچایا تھا۔۔ جو جتنا غلط ہوتا ہے اور جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے ناں ولی۔۔ خدا اسے اتنی ہی حقیر شے سے موت دیا کرتا ہے۔۔ یہ خدا کی زمین ہے اور اس کی نظریں نہ ظالم سے ہٹتی ہیں اور ناں مظلوم سے۔۔ تم اس کہانی کے سب سے مظلوم کردار ہو ولی۔۔ اور ہاشم کے سامنے ایک انتہاٸ کمزور سے دشمن بھی۔۔ مگر اپنی طاقت مت بھولنا۔۔ اگر تم مسجد کے باہر ٹہلتے کتوں سے بچ گۓ تھے۔۔ اگر تم کباڑ خانے میں ساری رات ایک جانور سے مقابلے پر جیت گۓ تھے اور اگر۔۔ اگر تم نے وہ سیاہ سرنگ سرواٸیو کرلی تھی تو تم سے بڑا سخت جان اور تم سے بڑا سرواٸیور اس زمین پر کوٸ نہیں ہو سکتا۔۔ تمہیں ہاشم سے جیتنا ہوگا۔۔ ہر قیمت پر۔۔ ہر حال میں۔۔“
ان کے چند جملوں نے جیسے اس کے اندر پھیلی بے چینی کو یکدم سے سلب کرلیا تھا۔۔ خاموش۔۔ ایک لمحے کو ساری کاٸنات خاموش ہوگٸ۔۔ اس نے آہستہ سے فون کان سے ہٹایا اور پھر سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔
ہاں وہ یہ کیسے بھول گیا کہ وہ اس کہانی کا سب سے بڑا سرواٸیور ہے۔۔!
وہ بچ گیا تھا۔۔
اور اسے یہاں بھی بچنا ہی ہوگا۔۔
رات کی سیاہی میں ایک بار پھر کافور کی بو تحلیل ہونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج
دروازے کے ساتھ لگ کر بے خبری کی نیند سوتی امل ایک جھٹکے سے اُٹھی۔۔ سیدھی ہوٸ تو لگا کمر اکڑ گٸ ہے۔ کرّاہتے ہوۓ اس نے ہاتھ پاٶں سیدھے کیۓ پھر جیسے ہی باہر گرتی شام کی نیلگوں روشنی پر نگاہ پڑی وہ جھٹکا کھا کر اُٹھی۔۔
جلدی سے آگے بڑھ کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھی کلاک میں ٹاٸم دیکھا تو ایک پل کو گڑبڑا سی گٸ۔۔
شام ہوگٸ تھی۔۔
”میں اتنی دیر سوتی رہی۔۔ اوہ خدا۔۔!!“
اس نے کسل مندی سے قدم ڈریسنگ روم کی جانب بڑھاۓ اور پھر اگلے ہی لمحے وہ الماری کا پٹ کھولے کھڑی تھی۔۔ استری شدہ لٹکتے کپڑوں کو دیکھتے ایک پل کو اس کی سوچ بھٹکی تھی۔۔
”تھپڑ وہ بھی ولی کو۔۔ اف ہے امل تم پر۔! کیا ضرورت تھی اتنا جذباتی ہونے کی۔۔ مگر ایک منٹ۔۔ ایسا ہی ہونا چاہیۓ تھا اس کے ساتھ۔۔ جو تحفوں کی بے قدری کریں انہیں تو الٹا لٹکا کر درّے مارنے چاہیٸں۔۔“
اس نے دکھتے سر کو دو انگلیوں سے دبایا۔۔
پہلے شازیہ، امینہ پھر وہ جاہل ہاشم اور اب ولی۔۔ اس کی ہمت جواب دے گٸ تھی اتنا سب کچھ سہنے کے بعد، اسی لیۓ ہمیشہ کا جما ہوا غبار ولی پر نکلا تھا۔
اپنے تحفے کی بے قدری یاد آٸ تو اس کی آنکھیں پھر سے بھر گٸیں۔۔ ولی پر اتنا غصے چڑھا تھا کہ اگر وہ سامنے ہوتا تو وہ ایک گملا اُٹھا کر اس کے سر پر دے مارتی۔۔
”کسی کی ایسے بے قدری کرتے ہیں۔ تم نے ہمیشہ مجھے تکلیف دی ہے ولی مگر اب بس بہت ہوگیا۔۔“
ایک سوٹ نکال کر اس نے زور سے الماری کا پٹ بند کیا۔۔
”آج سے تمہارا تذکرہ امل کی زندگی میں بند ہوگیا۔۔“
اور پھر واش روم کی جانب بڑھ گٸ۔۔ مغرب کی نماز کا وقت تنگ ہورہا تھا اور باہر پھیلتا نیلگوں اندھیرا وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
شاور لے کر کمرے سے باہر نکلی تو اس کی پھیکی سی زندگی کے برعکس حویلی میں خوب رونق لگی تھی۔ اس نے بھنویں سکیڑ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور پھر ریلنگ تک آٸ۔ نیچے جھانک کر دیکھا تو لاٶنج میں سب ہی براجمان تھے۔ سامنے کے صوفوں پر نگار بیگم کے ساتھ ارجمند تاٸ تھیں اور برابر صوفے پر بیٹھیں بی جان سے خوشگوار انداز میں باتیں کررہی تھیں۔۔
اسے اچھنبا ہوا۔۔
یہ نگار تاٸ اور ارجمند تاٸ کو ایک دم کیا ہوا ہے۔۔؟؟
اس کی نظریں پھسل کر ذرا آگے بڑھی تھی۔۔
دوسرے صوفوں پر امینہ، شازیہ، ناجیہ مزے سے باتیں کرنے میں مصروف تھیں۔۔
ان کی تو آپس میں بنتی نہیں تھی۔۔ پھر اب یہ کیا ہورہا ہے۔۔؟
اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یکایک اس کی نظر داخلی دروازے سے اندر آتے مردوں پر پڑی تھی۔۔
حسن تایا کے ساتھ ان کے دونوں بیٹے تھے۔۔
نذیر اور ارشد۔۔ ہاں نفیس ان کے ساتھ نہیں تھا۔۔ انہی کے پیچھے بختیار اور نثار بھی اندر داخل ہوۓ تھے۔۔
اسکی پیشانی شکن آلود ہوٸ۔۔ کچھ تھا جو اسے کھٹک گیا تھا۔۔
جلدی سے ہونٹوں کو آپس میں مس کر کے اس نے اندر جمع ہوتی بے چینی کو دبایا اور پھر دوبارہ کمرے کے اندر آگٸ۔۔ ایک پل کو رک کر سنگھار آٸینے میں دیکھا خود کو۔۔
اس نے وہی سبز لباس زیب تن کر رکھا تھا جس کے شفون کا دوپٹہ اسے ہمیشہ تنگ کیا کرتا تھا۔ اس نے ہاف بندھے بالوں سے پھسل کر گرتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔۔
اس کا دل عجیب سے واہموں کا شکار ہونے لگا تھا۔ اس نے خود کو کمپوز کیا اور پھر سے باہر جانے کے لیۓ بڑھی مگر پھر ٹھہر گٸ۔۔ جانے کیوں اس کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔۔ کچھ تھا جو اسے روک رہا تھا۔۔
اسی پل بی جان نے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تھا۔ پھر وہ مسکرا کر اندر چلی آٸیں۔ قریب آ کر اس کے چہرے پر جھولتی لٹ کو پیار سے کان کے پیچھے اڑسا۔۔ پھر اس کے دمکتے چہرے پر مسکرا کر ہاتھ پھیرا۔۔
”پتہ ہے تمہارا رشتہ آیا ہے نفیس کے لیۓ۔۔“
اس کا دل ایک دم سے دھڑکنا بھول گیا تھا۔ اس نے بے یقینی سے بی جان کا نرم مطمٸن چہرہ دیکھا۔۔
”تم بہت پسند ہو نفیس کو، ارجمند بھابھی کو اور ناجیہ سے تو ویسے بھی بہت دوستی ہے تمہاری۔۔ میں بہت خوش ہوں کہ میری بیٹی مجھ سے دور نہیں جارہی۔۔ یہیں رہے گی میری نظروں کے سامنے۔۔“
اس کے حلق میں کچھ اٹکا تھا۔۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اس سے سانس لینا مشکل ہوا۔۔
”کیا آغا جان راضی ہیں اس رشتے کے لیۓ۔۔؟“
اس کی آواز کسی گہری کھاٸ سے آرہی تھی۔۔ سہمی ہوٸ۔۔ خوفزدہ۔۔
”لو۔۔ وہ کیوں راضی نہیں ہوں گے بھلا اس رشتے پر۔ ان کے تو بھاٸ کا بیٹا ہے۔ ہمیشہ سے عزیز تھا انہیں تمہاری وجہ سے۔۔“
انہوں نے اس کا کندھے پر جھولتا دوپٹہ لے کر سر پر ڈالا تو وہ ایک پل کو رک سی گٸ۔۔
”مطلب۔۔۔؟“
”مطلب یہ کہ تمہارا رشتہ بہت بچپن میں طے کردیا تھا گھر کے بڑوں نے نفیس کے ساتھ۔۔ اب تو بس رسمی سی کاررواٸ ہے بیٹا۔۔ سب اس رشتے کے لیۓ دل و جان سے راضی ہیں۔۔“
اس کی کوٸ سانسیں ضبط کررہا تھا۔ بچپن سے طے رشتہ۔۔!!
اسے پتہ تھا کہ جب تک لڑکے والے خود رشتہ نہ لیں تب تک ان کے یہاں بچپن کے رشتے ختم نہیں ہوا کرتے تھے۔۔ اسے بے ساختہ چکر آۓ تھے۔۔
”مجھے کبھی کیوں نہیں بتایا گیا کہ میرا رشتہ نفیس سے طے ہے۔؟ اتنی بڑی بات آپ لوگ مجھ سے کیسے چھپا سکتے ہیں بی جان۔۔!“
اس کی آواز میں بے پناہ صدمہ تھا۔۔ اسے اتنے سال اندھیرے میں رکھا گیا۔۔ اور اب جب وہ حقیقت کی روشنی میں لاکر کھڑی کی جارہی تھی تو یہ جان لینے کی اذیت۔۔ یہ جان لینے کی اذیت کتنی زیادہ تھی۔۔ !
”ہمارے یہاں پہلے سے لڑکی کو نہیں بتایا جاتا بیٹے۔۔ معیوب سمجھا جاتا ہے۔۔ اچھا اب تم زیادہ باتیں مت کرو۔ سب بڑے نیچے انتظار کررہے ہیں تمہارا۔ انگوٹھی پہنانے آۓ ہیں تمہیں۔ میں تو خود حیران ہوں کہ مجھے کوٸ اطلاع دیۓ بغیر بھابھی والے اپنے طے شدہ وقت کے مطابق ہی آۓ ہیں۔ آٶ چلو۔۔ سب انتظار کررہے ہیں بیٹے۔۔ بڑوں کو انتظار نہیں کروایا کرتے اتنا۔۔“
اس کا ڈھلکتا دوپٹہ دوبارہ سے اس کے سر پر ڈالا اور اسے ہاتھ سے پکڑے باہر لے آٸیں۔۔ امل تو گویا ریت کا مجسمہ بن گٸ تھی۔۔ اسے لگا کوٸ اسے ہاتھ لگاۓ گا تو وہ ڈھے جاۓ گی۔ زینوں سے اترتے اس نے بہت لوگوں کی نظریں خود پر محسوس کی تھیں مگر آج اس کی ہمت نہیں تھی کسی کو بھی نظر اُٹھا کر دیکھنے کی۔۔
وہ خاموشی سے دھیمے دھیمے قدم اُٹھاتی ٹھنڈے زینوں پر چل رہی تھی۔۔ وہ ٹھنڈے زینے نہیں برف کے تودے تھے۔۔ جن کی ٹھنڈک اس کے رگ و پے میں اتر کر اس کی ہڈیوں تک کو جما رہی تھی۔۔
بی جان آگے تھیں اور وہ ان کے پیچھے۔۔ اس کا سفید پڑتا چہرہ اور ہولے ہولے لرزتا دل۔۔ اس کا دل چاہا یہاں سے بھاگ جاۓ۔۔ مگر آغاجان کے مسکراتے چہرے پر اس کی اُٹھی نگاہ گویا ٹک سی گٸ۔۔
وہ کتنے مطمٸن اور خوش تھے۔۔ تو کیا اب کوٸ گنجاٸش رہ گٸ تھی انکار کرنے کی۔۔؟؟
کیا اس کے پاس انکار کرنے کا حق رہ گیا تھا۔۔؟ یہ جو حق ہم لڑکیوں کو جتاۓ نہیں جاتے تو اتنی خاموشی سلب کیوں کرلیۓ جاتے ہیں۔۔؟؟
اس نے لاٶنج میں آکر سب کو سلام کیا اور پھر ارجمند اور نگار تاٸ کے درمیان جا بیٹھی۔۔ وہی مصنوعی سے پیار اور کھوکھلی مسکراہٹیں۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔۔ کوٸ لے جاۓ اسے یہاں سے۔۔ وہ نہیں کرنا چاہتی نفیس سے شادی۔۔
کوٸ تو اسے سن لے۔۔ مگر کوٸ کیسے اسے سن سکتا تھا۔۔ یہ کام تو صرف ایک ہی بندے کو آتا تھا۔۔ یہ تو صرف ایک ولی ہی تھا جو اس کی گرتی اٹھتی پلکوں کی زبان کو سمجھتا تھا۔۔ ہاں یہ وہی تو تھا جو ان لفظوں کو بھی سن لیا کرتا تھا جو وہ کہتی ہی نہیں تھی۔۔ مگر۔۔ وہ تو کہیں تھا ہی نہیں۔
اس نے آس پاس گردن گھما کر اس بے رحم سے انسان کو تلاشا مگر وہ ہوتا تو نظر آتا ناں۔۔!
اس کے اندر پھیلی خاموشی بڑھنے لگی تھی۔ لاٶنج میں سب ایک بار پھر سے اس کی باتیں کررہے تھے مگر عجیب بات تھی کہ اسے کسی کی بھی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھیں۔۔
اب ارجمند تاٸ اسے دونوں گالوں پر پیار کررہی تھیں۔۔ اس نے ایک نظر پھر سے لاٶنج میں بیٹھے ہر شخص پر ڈالی۔۔ مگر اس کے برعکس سب بہت خوش تھے۔
ارجمند تاٸ نے اس کا دودھیا ہاتھ تھاما تو سب ایک ساتھ مسکراۓ سواۓ اس کے۔۔
وہ جیسے بہت بری طرح چونکی تھی۔۔
”آج سے امل ہماری بیٹی ہے زمانی۔ اب یہ ہماری امانت ہے۔ اس کا بہت بہت خیال رکھنا ہاں۔۔“
انہوں نے انگوٹھی اسکی انگلی میں پہنا کر ایک بار پھر اس کے ریشمی بالوں کو چوما تھا۔۔ وہ موم کا مجسمہ بنی خاموشی سے اپنی انگلی میں قید انگوٹھی کو دیکھے گٸ۔۔
”جی بھابھی بے فکر ہوجاٸیے۔۔ یہ آپ کی ہی بیٹی ہے۔۔“
بی جان اور ارجمند گلے مل رہی تھیں۔۔
”آٶ زمان۔۔ ہم بھی اب سے نۓ رشتے میں بندھ گۓ ہیں۔۔“
حسن اٹھ کر زمان کے گلے لگے۔۔ پھر ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس کے بھاٸ حسن کے بیٹوں سے بغلگیر ہونے لگے۔ سارے لاٶنج میں خوش گپیوں کی عجیب سی لہر اُٹھی تھی۔۔ قہقہے، آنے والے دنوں کے خیالات اور نۓ جڑنے والے رشتے نے گویا سب کو ہی ایک نیا موقع دیا تھا خوشی کا۔۔ نوراں اور شکیلا دونوں جلدی جلدی درمیانے ٹیبل پر مٹھاٸیاں سجانے لگیں۔۔ امل خالی خالی نظروں سے ان سوغاتوں کو دیکھے گٸ۔ اسی پل ولی اندر داخل ہوا تھا اور ایک لمحے کو لاٶنج کا خوشگوار سا ماحول دیکھ کر بے ساختہ ٹھہر بھی گیا تھا۔۔ اس کی نسواری نظریں امل پر پھسلی تھیں۔۔ جو سر اُٹھاۓ بے تاثر نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
وہ اس کی نگاہوں سے ساکت ہوا تھا۔۔!
”مجھے یہاں سے لے جاٸیں ولی۔۔ یہاں کسی کو میری پرواہ نہیں۔۔ مجھے یہاں سے لے جاٸیں ولی۔۔“
خاموش کلام تھا جس نے ولی احمد کو ساکت و جامد کردیا تھا۔۔ دل ایک پل کو سکڑ کر پھیلا تھا۔۔
وہ کسی اور کی ہونے جارہی تھی۔۔ ہاں وہ اس کے ہاتھوں سے پھسل رہی تھی۔۔ مگر۔۔ نہیں۔۔ وہ کچھ نہیں کرے گا۔۔ وہ اس کی خوشیوں کے درمیان میں کبھی نہیں آۓ گا۔۔ ہرگز بھی نہیں۔۔
امل کو لگا وہ ابھی آگے آۓ گا۔ ابھی وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر ان سب کے درمیان سے نکال لے جاۓ گا۔ ہاں ٹھیک ہے وہ اس سے ناراض تھی مگر وہ کبھی اسے نفیس کے ساتھ شادی نہیں کرنے دے گا۔۔ بس وہ آگیا تو اب غم کس بات کا۔۔؟
اس کے دل سے بے ساختہ ہی بوجھ سرکنے لگے تھے۔
مگر پھر اگلے ہی لمحے وہ ساکت ہوگٸ۔۔
سامنے کھڑے ولی کی گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸ اور اس نے اپنا رخ کمرے کی جانب پھیر لیا۔۔ امل کی شہد رنگ آنکھیں پھیل گٸیں۔۔
وہ اسے چھوڑ کر جارہا تھا۔۔ نہیں ولی۔۔ رک جاٸیں۔۔
وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر آج وہ نہیں سن رہا تھا۔۔
اس کی نظریں اب تک اس کی پشت پر جمی تھیں۔۔ وہ ان کی حدت بخوبی محسوس کرسکتا تھا مگر وہ اسے پلٹ کر نہیں دیکھے گا۔۔
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اگر اس نے اسے پلٹ کر دیکھا تو کسی کے حق میں بھی بہتر نہیں ہوگا۔۔
اور اتنے عرصے میں پہلی بار امل کی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا۔۔ درد کا آنسو۔۔ اپنی جان سے پیاری محبت کو کھو دینے کا آنسو۔۔
آج دو نفوس کے اندر صرف سانسیں باقی رہ گٸ تھیں اور زندگی۔۔ ہاں زندگی ختم ہوچکی تھی۔۔
زندگی رہ گٸ کہیں پیچھے۔۔
صرف سانسوں کا کارواں ہے یہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
