Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 13) Part - 2

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

شادی کی تاریخ قریب آتی جارہی تھی۔ ایک ہفتہ یونہی پر لگا کر گزر گیا اور پھر رسمِ حنا سے ایک روز قبل کی رسم کا وقت آگیا۔ آج حویلی میں پھر سے خوب چہل پہل تھی۔ ملازمین کی پُھرتیاں اور بی جان کی ہدایتوں کو دلچسپی سے دیکھتی امل نے آخر میں پُرجوش ہو کر بی جان کو پکارا تھا۔۔

”بی جان۔۔ کتنے بجے تک جانا ہے آج۔۔؟“

”بس ابھی مغرب کے بعد نکلنا ہے ہم نے۔۔ یہ ولی کدھر ہے صبح سے۔۔؟ دیکھو تو سہی ذرا اسے، ذرا جو خیال ہو اسے گھر آنے کا۔۔ اور جو ٹوکرے میں نے مٹھاٸیوں کے منگواۓ تھے وہ اب تک آۓ۔۔۔؟“

تحاٸف کو ایک جانب سلیقے سے رکھتیں مصروف سی بی جان نے چہرہ اُٹھا کر امل کو دیکھا تو وہ سیدھی ہوٸ۔

”میں نے فرید سے کہا تو تھا لیکن پتہ نہیں۔۔؟“

”پتہ نہیں۔۔!!“

بی جان کی بے یقین سی آواز پر وہ ایک دم سے صوفے سے اتری اور کچن کی جانب بھاگی۔ کچن میں ڈھیروں ڈھیر مٹھاٸیاں، ہار پھول اور نہ جانے کیا کیا الّا بلّا رکھا تھا مگر وہاں مٹھاٸ کے ٹوکرے ہرگز بھی نہیں تھے۔ اس نے پریشانی سے آگے آکر دیکھا مگر ٹوکرے ہوتے تو نظر آتے ناں۔ عصر ڈھلنے والی تھی اور مغرب کا وقت قریب تھا۔ ایسے میں شہر سے مٹھاٸ کے ٹوکرے لانے میں بہت وقت لگ جانا تھا اور بی جان نے یہ کام اسے سونپا تھا۔

خدایا۔۔!!

اس نے گھبرا کر اپنے پیچھے راہداری میں جھانک کر دیکھا۔ بی جان مصروف سی لاٶنج میں بیٹھی تحاٸف رکھوارہی تھی۔۔ انگلیاں مروڑ کر اس نے رُخ دوبارہ سے اندر کی جانب موڑا اور پھر ایک فیصلہ کرتی باہر آٸ۔

”کیا ہوا۔۔ مٹھاٸ لے آیا فرید۔۔؟“

ان کے پوچھنے پر اس نے مزے سے اثبات میں سر ہلایا اور باہر کی جانب بھاگی۔ بی جان اب قدرے اطمینان سے باقی کام نپٹا رہی تھیں۔ اس نے یہاں وہاں فرید کو تلاشا کہ اسے جلدی سے شہر بھیجے مگر فرید تو گدھے کے سر سے سِینگ کی طرح غاٸب تھا۔ اسی پل حویلی کے گیٹ سے ولی کی کار اندر داخل ہوٸ۔ ایک پل کو اس نے چمکتی ہیڈ لاٸٹس کو دیکھا اور پھر دوپٹہ شانوں پر درست کرتی اس کی کار کی جانب بھاگی۔۔

وہ جو دروازہ کھول کر اپنے خیالات میں اُلجھا ہوا تھا اسے اس طرح آتے دیکھ کر قدرے چونکا۔۔

”ولی۔۔“

اس نے سانس لیا۔ بھاگنے کی وجہ سے اس کا سانس پھول گیا تھا۔ ولی نے ایک نظر حویلی کے داخلی دروازے پر ڈالی اور پھر اسے دیکھا۔۔

”اندر چل کر بات کرتے ہیں بی بی۔“

اس کا انداز محتاط تھا۔۔ مگر امل نے جلدی جلدی نفی میں سر ہلایا۔

”ہم ابھی اندر نہیں جاسکتے۔ بی جان نے مجھے ایک کام کہا تھا اور میں نے وہ کام فرید سے کرنے کو کہا بھی، مگر وہ کہیں اور مصروف ہوگیا اور وہ کام رہ گیا ولی۔۔ بی جان کو پتہ چل گیا ناں تو وہ وقت سے پہلے میری شامت لے آٸنگی۔۔“

اس نے روہانسی ہوکر کہا تو اس کی پیشانی پر بل پڑے۔۔

”کیسا کام۔۔۔؟ اور فرید کو بولنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟ مجھے کیوں نہیں کہا آپ نے۔۔؟ بولیں کون تنگ کررہا ہے آپ کو۔۔؟“

اس کے برہم سے استفسار پر امل جو کچھ کہنے لگی تھی یکدم رُک گٸ۔۔

”تنگ۔۔ کوٸ کیوں تنگ کرے گا مجھے۔۔؟“

اس نے حیران ہو کر اس سے پوچھا تو ولی جو غصے میں ابھی اور بھی کچھ کہنے لگا تھا ایک دم رُکا۔۔

”کوٸ تنگ نہیں کررہا آپ کو۔۔؟ پھر کیا کسی نے بلیک میل کیا ہے۔۔؟“

افوہ۔۔ امل نے جلدی سے اسے روکا۔۔

”ولی مجھے کوٸ تنگ نہیں کررہا اور نہ کسی نے بلیک میل کیا ہے۔ میں بس آپ سے یہ کہہ رہی ہوں کہ مجھے شہر سے ایک دو ٹوکرے مٹھاٸ کے لادیں۔۔ بہت اچھی سی پیکنگ میں۔۔“

”مٹھاٸ۔۔۔!“

وہ ایک پل کو ٹھہرا۔۔

”جی ہاں۔۔ آپ تو پتہ نہیں کون سی باتیں لے کر بیٹھ گۓ ہیں۔۔ بھلا میں کون سا ساٸبر کراٸم میں انوالو ہوں جو کوٸ مجھے بلیک میل کرے گا۔۔ خدا کیلیۓ جلدی جا کر لے آٸیں مٹھاٸ نہیں تو بی جان سے پڑنے والی ڈانٹ کے ذمّے دار آپ ہونگے۔۔“

اپنا کیا سب اس نے ولی پر ڈالا تو اس نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔

”میں نے کیا کیا ہے۔۔؟“

”کیا مطلب کیا کیا ہے۔۔؟ میں کہہ دونگی بی جان کو کہ میں نے تو ولی سے کہا تھا مٹھاٸ کے ٹوکرے لانے کو مگر وہ تو گۓ ہی نہیں۔ پھر بی جان آپ سے پوچھیں گی کہ جناب کیا مسٸلہ تھا گۓ کیوں نہیں۔۔ اور اس طرح میرے حصے کی ڈانٹ آپ کھاٸنگے۔۔“

اب کے وہ سکون سے کھڑی اسے گویا خبر نامہ سُنا رہی تھی۔ ولی نے اس کی چالاکی پر افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔۔

”غلط کہتے ہیں لوگ آپ کو معصوم۔ کوٸ اگر آپ کی یہ ”را“ والی چالبازیاں دیکھ لے ناں تو اس نے آپ کو معصوم کہنے سے وہیں توبہ کرلینی ہے۔۔“

وہ اب دوبارہ سے ملال کے ساتھ کہتا گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ رہا تھا۔۔ وہ اس کی بات پر بے ساختہ ہنس دی۔ جب وہ گاڑی نکال لے گیا تو اس نےمسکرا کر سر جھٹکا اور اندر کی جانب بڑھی۔۔

بہت سے لوگوں کو بڑی غلط فہمیاں تھی اس کے بارے میں۔ ہاں جی۔۔ آپ لوگوں کو بھی ہیں۔۔ امل معصوم ضرور تھی مگر وہ بیوقوف ہرگز بھی نہیں تھی۔ اسے بھی لوگوں کو باتوں سے گھیرنا آتا تھا۔۔ انہی کے الفاظ ان کے منہ پر لوٹا کر ان کا ذاٸقہ چکھانا بھی آتا تھا اسے۔۔ مگر وہ اس سب کا اظہار کھلم کھلا نہیں کرتی تھی۔۔ کوٸ اس کا ریڈ زون کراس کرتا تو اسے، انہیں ہاتھ سے پکڑ کر داٸرے سے باہر نکالنا آتا تھا۔ وہ امل زمان تھی۔۔ ایک انتہاٸ باریک بین اور زیرک سی لڑکی۔۔ کیونکہ۔۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس جنگل میں ولی نے سرواٸیو کیا تھا امل بھی اسی گہوارے میں بڑی ہوٸ تھی۔ وہ بھی حویلی کی سیاستوں کو بچپن سے جھیلتی آٸ تھی، اسے بھی حویلی والوں کے انداز و اطوار آتے تھے، اسے بھی سب آتا تھا مگر کیا کیا جاتا۔۔

آگے بڑھتی امل نے ایک بار پھر مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔۔ جب لوگ ہی اسے چھوٹی سی لڑکی سمجھ کر آگے بڑھ جاتے تھے تو وہ بھی ان کی غلط فہمیوں کو دور نہیں کیا کرتی تھی۔۔

بھلا اگر کوٸ اس سے متاثر ہورہا تھا تو اس میں اس کا کیا جاتا تھا۔۔۔!!

آخر میں معصومیت سے شانے اچکاۓ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

مغرب کی نماز پڑھی گٸ اور پھر سب تیاریوں میں مشغول ہوگۓ۔۔ بی جان تیزی سے ہدایات دیتیں ملازمین کو دوڑا رہی تھیں۔۔ زمان بھی ایک جانب کو کھڑے اپنی کلف لگی سفید بے داغ قمیض کی آستین کے کف بند کررہے تھے۔ پھر رُک کر زمانی کو دیکھا جو گہرے جامنی سے شنیل کے جوڑے میں ملبوس کانوں میں چمکتے ہیروں کے ٹاپس پہنے بہت باوقار اور خوبصورت لگ رہی تھیں۔

اسی پل امل زینوں سے اتری۔ اس نے آج سنہری سِلک کی فراک پہن رکھی تھی۔

وہ لانگ فراک تھی جس پر جگہ جگہ ستاروں کا باریک کام کیا ہوا تھا۔ فراک کا دامن سادہ تھا۔ البتہ سِلک کے لچک دار ہونے کے باعث اس کا فراک یہاں وہاں جُھول رہا تھا۔ نیچے سِلک ہی کا چوڑی دار پاجامہ تھا، اور دوپٹہ بھی فراک کے کپڑے جیسا ہی تھا۔۔ سِلک کا۔۔ لچکدار۔۔

اس کے کناروں پر باریک سا ستاروں کا کام تھا۔ اور درمیانہ حصہ بالکل سادہ۔ اس تقریب کے لحاظ سے اس کا جوڑا بہترین تھا۔۔

پھر اس نے کُھلے بالوں کو سمیٹ کر ایک جانب کندھے پر ڈالا اور تیزی سے نیچے اُتری۔۔

ایک ہاتھ میں سنہری سی بالی بھی تھی۔ بی جان کے سامنے آکر رُکی تو انہوں نے بے اختیار اس پر ماشااللّہ پڑھا۔ زمان نے بھی اس پر ایک نظر ڈال کر اسے نظرِ بد سے حفاظت کی دعا سے نوازا تھا۔۔

”یہ کان میں نہیں جارہی بی جان۔۔“

بیچارگی سے کہہ کر اس نے بالی ان کے آگے کی تو بی جان نے مسکرا کر اس سے بالی لی اور پھر اس کے سُرخ ہوۓ کان میں پہنانے لگیں۔ ہر دفعہ اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا۔ جب بھی کسی کی شادی پر کان میں کچھ ڈالنے لگتی تو ایک کان با آسانی اسے قبول کر لیتا اور دوسرا کان ہمیشہ اسی طرح سُرخ ہوجاتا۔۔ جب تک بی جان اس کے کان میں جھمکا نہ ڈالتیں تب تک وہ جاتا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے نرمی سے اس کے کان کی لو پکڑی اور پھر بالی اندر ڈال دی۔ ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا تھا۔۔ اس نے سکون کا سانس لے کر اپنے دُکھتے کان کی لو کو ہلکا سا دبایا۔۔

”تم نے مٹھاٸ منگوا لی تھی ناں۔۔ کہاں رکھی ہے نکال کر دو مجھے وہ گاڑی میں رکھوانی ہے۔۔“

ان کے کہنے پر اس نے مسکراہٹ دباٸ اور پھر کچن کی سمت دیکھا۔۔

”کچن میں ہی رکھی ہے بی جان۔۔“

معصومیت سے گھنی پلکوں کو جھپکا کر کہا تو بی جان نے اسے مشکوک سا دیکھا۔۔

”لیکن جب میں نے دیکھا تب تو کچن میں مٹھاٸ کا ٹوکرا ولی رکھ رہا تھا۔۔“

وہ ایک دم گڑبڑاٸ تھی مگر پھر فوراً سنبھلی۔

”پوچھا آپ نے ان سے کہ وہ کیا کررہے تھے اس مٹھاٸ کا۔۔“

”ہاں میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ تھوڑی مٹھاٸ کم ہوگٸ تھی اور فرید کو ذرا کام تھا تو امل بی بی نے مجھے بھیج دیا۔۔“

بی جان نے عام سے انداز میں کہہ کر رُخ دروازے کی سمت پھیرا۔۔ حسن تایا اور ان کا سارا گھرانہ اسی پل داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا تو وہ ان سب کی طرف متوجہ ہوگٸیں۔۔ چونکہ حسین احمد کی حویلی ان دونوں حویلیوں سے فاصلے پر تھی اور جانا دونوں گھروں کو ادھر ہی تھا تو طے یہ پایا کہ سب ساتھ ہی جاٸنگے۔ اس نے ولی کے دیۓ گۓ جواب پر مسکراہٹ دباٸ اور پھر آگے بڑھ کر ناجیہ اور ارجمند تاٸ سے گلے ملی۔ اس واقعے کو ہفتہ ہونے والا تھا اسی لیۓ تاٸ کی سرد مہری اگرچہ تھی، مگر کم تھی۔

گھر میں ایک دم سے افراتفری سی مچ گٸ۔ بہت سے مہمان بھی تھے جو اسی وقت گھر میں داخل ہوۓ تھے۔ اس نے جلدی سے رُخ زینوں کی جانب پھیرا۔ اور پھر فراک کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھاۓ ننگے پیر، یخ زینوں پر رکھتی اوپر بھاگتی گٸ۔ اس کے کھلے سیاہ بال کمر پر جھول رہے تھے اور دوپٹہ ایک جانب سے نیچے کو لٹکتا زینے چھوتا اس کے ساتھ ساتھ اوپر جارہا تھا۔۔

نیچے کھڑے نفیس نے مسکرا کر امل کو اوپر جاتے دیکھا اور پھر ایک کمینی سی مسکراہٹ لیۓ اس کے پیچھے زینے چڑھتا اوپر جا پہنچا۔ ولی جو اسی پل چھت کی سیڑھیوں سے اترتا نیچے آرہا تھا نفیس کے قدم امل کے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ نفیس نے اسے نہیں دیکھا تھا کیونکہ اس کا رُخ مخالف سمت تھا مگر ولی نے اسے بخوبی دیکھ لیا تھا اور اب اس کے چہرے کے تاثرات یکدم ہی اُبل گۓ تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کمرے میں آکر جلدی سے بالوں میں برش پھیرا اور جیسے ہی بال کمر پر ڈالے اس کے ہاتھ سے برش چھوٹ کر گرتے گرتے بچا۔۔ نفیس دروازہ ناک کیۓ بغیر اس کے کمرے میں داخل ہوا اور پھر بڑی سہولت کے ساتھ اس نے دروازہ مُڑ کر بند بھی کردیا۔۔ وہ جو اسے سنگھار آٸینے میں ساکت سی دیکھ رہی تھی یکدم پلٹی۔۔

سفید شلوار قمیض میں ملبوس نفیس کا قد امل سے ذرا سا اونچا تھا۔ نقوش بالکل ناجیہ جیسے تھے۔۔ واجبی سے۔۔ قابلِ قبول۔۔

”تم۔۔ تم میرے کمرے میں کیا کررہے ہو۔۔؟“

اس نے غصے سے کہہ کر اپنا دوپٹہ شانوں پر درست کیا۔ وہ خاصی غیر آرام دہ ہوگٸ تھی۔ نیچے کا شور اوپر اس کے کمرے کے بند دروازے کے پار بھی سُناٸ دے رہا تھا۔ اس کی تو آواز بھی کوٸ نہیں سُنے گا۔۔ اگر جو نفیس نے کوٸ غلط حرکت کی تو۔۔

وہ دھڑکتے دل کے ساتھ دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔ مگر نفیس انتہاٸ لطف اندوز ہوتا آگے بڑھا۔۔ پھر ایک قدم پر رُک گیا۔۔

”آج بہت حسین لگ رہی ہو۔ کچھ خیال کیا کرو، رحم کرو مجھ پر۔ اتنا ہوش رُبا سا حسن لے کر سامنے آٶ گی تو کس کمبخت سے صبر ہوگا بتاٶ۔۔“

اس نے بے ساختہ اس کے سیاہ بال چہرے سے ہٹانے کے لیۓ ہاتھ بڑھایا تو وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔ پھر اس کی جرأت پر اسے بل کھا کر دیکھا۔۔

”آٸندہ اس طرح کی گھٹیا حرکت کی تو میں تمہاری شکایت آغا جان سے کردونگی سمجھے۔۔ ابھی کے ابھی نکل جاٶ میرے کمرے سے۔۔ آٸ سیڈ گیٹ لاسٹ۔۔“

دھاڑ سے کہا مگر نفیس نے تو سُنا ہی نہیں تھا۔۔ ہنستا ہوا دو قدم مزید قریب آیا تو وہ خراب ہوتے دل کے ساتھ پیچھے ہٹی۔۔

”مارو۔۔ چلو اسی بہانے تم مجھے چھوٶگی تو سہی۔۔“

اس نے بے یقینی سے اس کی خباثت سے لبریز نگاہوں کو دیکھا تو اس کا جسم لرز کر رہ گیا۔۔

”میں نے کہا کہ ابھی کے ابھی نکلو میرے کمرے سے۔۔ دفع ہوجاٶ یہاں سے۔۔ نکلو۔۔“

اس نے لرزتی آواز میں بمشکل کہا تھا۔ دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔

”آج نہ آٶ بھلے ان ہاتھوں میں، مگر کل جب میری دُلہن بن کر میرے کمرے میں آٶ گی تب مجھے روکنے والا کوٸ نہیں ہوگا۔۔ “

اس نے ایک انکشاف تھا جو امل پر کیا تھا۔۔ ایک پل کو اس نے ٹھہر کر اسے دیکھا اور پھر غراٸ۔۔

”میں کبھی بھی تم سے شادی نہیں کرونگی۔۔ مر جاٶنگی۔۔ مرنا پسند کرونگی مگر تمہاری دُلہن کبھی نہیں بنونگی میں۔۔ سمجھے۔۔! اب دور ہٹو۔۔ دفع ہوجاٶ یہاں سے۔“

نفیس ابھی اسے کچھ اور بھی کہنے لگا تھا کہ کسی نے اسے گریبان سے پکڑ کر پیچھے کو گھسیٹا۔ ولی کی خوفناک حد تک سپاٹ نسواری آنکھیں دیکھ کر امل کا دل رُکا تھا۔۔ اسے بغیر دیکھے پتہ تھا کہ اس کا رنگ فُق ہوگیا ہے۔۔ نفیس نے بھی پیچھے والے کی جرأت پر بے یقینی سے دیکھا اور ایک پل کو ولی کا چہرہ دیکھ کر اس کا اپنا رنگ بھی نچڑ کر رہ گیا تھا۔ ولی نے جمے دانتوں کو مزید پیسا اور اسے پوری قوت سے پیچھے گھسیٹ کر دیوار کی جانب دھکا دیا۔ سیاہ قمیض کی آستینیں اس نے ہمیشہ کی طرح کہنیوں تک موڑے رکھی تھیں اور ان سے کسرتی بازو نکل رہے تھے۔۔ جن پر نسوں کا جال مٹھی بند ہونے کی وجہ سے نمایاں تھا۔

پھر نفیس کو کوٸ بھی موقع دیۓ بغیر وہ آگے بڑھا اور پشاوری چپل زور سے اس کے گھٹنے پر ماری۔ نازک جگہ پر لگنے کی وجہ سے نفیس بے ساختہ جھکا تو اس نے اس کا گریبان سختی سے پکڑ کر اسے سیدھا کھڑا کیا۔۔

”جب کوٸ لڑکی کہے کہ اس سے دُور ہوجاٶ تو اخلاق کا داٸرہ کار یہی کہتا ہے کہ اس سے دور ہوجانا چاہیۓ مگر پھر اگر ایسے لوگ نہ مانیں تو غیرت کا داٸرہ کار کہتا ہے کہ مار مار کر ان کی شکل بگاڑ دینی چاہیۓ۔۔“

اس نے دوبارہ سے زخمی ہوۓ گھٹنے پر اب کے پوری قوت سے پشاوری چپل کی نوک ماری تو وہ بلبلا کر نیچے جھکا۔۔ اسے لگا اس کے گھٹنے سے خون آگیا ہے۔۔

امل اب تک سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔ دل تھا کہ دھڑکنا بھول گیا تھا اور وہ موم کا مجسمہ بنی اسکے طیش کی حدّت سے پگھلنے لگی تھی۔۔

نفیس ذرا سنبھل کر سیدھا ہوا تو ولی نے پھر سے اسی گھٹنے پر ایک اور لات ماری۔۔ اب کہ وہ پورا بیٹھ گیا تھا۔ اس کے گھٹنے سے خون نکل کر اس کے سفید سے لباس کو داغدار کر گیا تھا۔۔

”آٸندہ اگر میں نے تمہیں بی بی کے آس پاس بھی دیکھا تو تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو۔ ایسی جگہ مار کر لاش پھینک دونگا تمہاری کہ ساری عمر تمہارے گھر والے تمہیں ڈھونڈتے رہیں گے مگر انہیں لاش تو کیا تمہاری ایک ہڈّی بھی نہیں ملے گی۔۔“

وہ بہت سرد لہجے میں بولتا امل کی رگوں میں بہتے لہو تک کو سرد کر گیا تھا۔ اس کی آواز اونچی نہیں تھی۔۔ مگر اس کے لہجے کی پھنکار سے سارا کمرہ سنسان ہوگیا تھا۔۔ نفیس بمشکل کھڑا ہوا تھا۔۔ اس نے رُخ امل کی جانب پھیرا اور پھر پوری قوت سے گھوم کر اسے سخت سا مکا جبڑے پر مارا تو نفیس کے سر پر ساری حویلی پل بھر کو گھوم کر رہ گٸ۔ وہ لڑکھڑا کر دیوار سے جا لگا تھا۔۔ پھر اپنے ہونٹ سے بہتے خون کو ہاتھ سے چھوا اور سر اُٹھا کر بے یقینی سے ولی کو۔۔

”تم نے مجھے مارا۔۔!!“

اس کی آواز میں حد درجہ حیرت تھی۔ ولی ایک قدم چل کر اس کے عین سامنے رُکا تھا۔ پھر اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑیں۔۔

”نہیں۔۔ عورتوں کے سامنے ہاتھ نہیں اُٹھاتا میں، یہ تمہیں مارا نہیں ہے میں نے صرف تمہیں جگایا ہے ابھی۔۔ تم نیچے جاٶگے۔۔ بہت شرافت سے۔۔ اور اگر تمہارے منہ سے اس بات کی بھاپ بھی نکلی تو مجھے پتہ ہے کہ ٹانگوں پر مار مار کر معذور کیسے کیا جاتا ہے۔۔“

اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر اندیکھی سی گرد جھاڑی تو نفیس کھولتا ہوا اس کا ہاتھ جھٹک کر دروازہ وا کر کے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ جاتے جاتے اس نے ایک کاٹ دار نگاہ امل پر ڈالنی چاہی مگر ولی درمیان میں کھڑا تھا۔۔ امل پیچھے کہیں چُھپ گٸ تھی۔۔ دروازہ بند کیا تو ولی اس کی جانب پلٹا۔۔

وہ اب تک دیوار سے لگی ساکت سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔

”آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟“

اس کے پوچھنے پر اس نے بمشکل سر ہلایا مگر آنکھوں سے آنسو بے ساختہ گر پڑے تھے۔ ولی نے ابلتے غصے کو بالوں میں ہاتھ پھیر کر قابو کیا اور پھر گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔۔

”ٹھیک ہیں ناں آپ۔۔؟“

اس نے پھر سے سر ہلایا تھا مگر آنکھوں سے بہتے آنسو اب تیزی کے ساتھ چہرے پر لڑھک رہے تھے۔

”رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔؟“

بے بسی سے پوچھا تو امل نے فوراً ہتھیلیوں سے گال رگڑے۔ ناک اور آنکھیں گلابی ہو کر دہک رہی تھیں۔ ایک تو سنہرے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اوپر سے اس کا یہ رویا رویا سا حسن۔۔! ولی نے گہرا سانس لے کر اس سے رُخ پھیرا۔۔

”کچھ نہیں ہوا اوکے۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔ اگر یہ آٸندہ ایسے کرے تو مجھے بتاٸیے گا میں اس کی ٹانگیں توڑ دونگا۔۔ بس اب روٸیں نہیں۔۔ چلیں آنسو صاف کریں اپنے۔۔“

خوف زدہ ہوٸ امل نے اس کے نرمی سے کہنے پر خود کو سنبھالا۔۔ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا مگر پتہ نہیں کیوں اسے رونا آۓ جارہا تھا۔۔ اگر ولی وقت پر نہ آتا تو۔۔ اور اس کے آگے سوچ کر بھی اس کا دل لرز رہا تھا۔۔

”بی بی۔۔“

وہ کچھ کہتے کہتے رکا تو اس نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔۔ ہاں اسے سر اُٹھا کر ہی دیکھنا پڑتا تھا۔۔ وہ اس سے خاصہ لمبا تھا۔۔

”یہ بال۔۔ انہیں باندھ لیں۔۔ گھر میں ٹھیک ہے مگر باہر جاتے ہوۓ ان کا کُھلا رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔۔ میں لاتا ہوں کسی کو وہ آپ کے بال بنادینگی۔۔“

اس نے کہہ کر رُخ یکدم باہر کی جانب موڑا تو وہ دھم سے بیڈ پر بیٹھی۔ قدموں سے گویا جان ختم ہوگٸ تھی۔ ہاتھ بھی بے جان سے گود میں پڑے تھے اور جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔

کچھ دیر بعد ولی نے کمرے کا دروازہ کھولا تو قانتہ جھجھکتی ہوٸ کمرے میں داخل ہوٸ۔ زین بھی ان کے ساتھ ہی تھا۔ امل نے بی یقینی سے قانتہ کو دیکھا تھا۔۔

”امل بی بی کے بال سنوار دیں قانتہ۔۔ ان کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں نیچے انتظار کررہا ہوں آپ دونوں کا۔۔“

اس نے کہا اور کمرے کا دروازہ بند کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ قانتہ پہلے اس کے قریب آٸ۔۔ پھر اس کا مُرجھایا سا چہرہ دیکھ کر مسکراٸ۔۔

”آپ ایسے بالکل بھی اچھی نہیں لگتی ہو امل، وہ ہنستی مسکراتی، چہکتی ہوٸ امل اچھی لگتی ہے۔۔ چلو۔۔ بیٹھو سنگھار میز کے آگے میں بال بناٶں تمہارے۔۔ اُٹھو شاباش۔۔“

اسے بازو سے پکڑ کر نرمی سے اُٹھایا اور پھر اسے آٸینے کے سامنے رکھی کرسی پر بٹھا دیا۔۔ وہ خالی خالی نظروں سے خود کو آٸینے میں دیکھے گٸ۔ قانتہ اب نرمی سے اس کے ریشمی سیاہ بالوں کو فرانسیسی طرز کی چوٹی میں باندھ رہی تھی۔ اور وہ اسی طرح خالی دل لیۓ سامنے بیٹھی ہوٸ تھی۔۔

پتہ نہیں اس کے اتنے خوش کن سے مواقعوں پر اکثر سب کچھ تلپٹ کیوں ہوجایا کرتا تھا۔۔!

۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *