Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 10)
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
کمرے میں آکر اس نے دروازہ بند کیا اور پھر راٸیٹنگ ٹیبل تک آتے اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے تحفے پر پڑی تو وہ ہلکے سے مسکرادیا۔۔ کمرے میں اب تک پرفیوم کی خوشبو رچی بسی تھی۔۔ دوسری جانب وہ مسکراتی ہوٸ بستر پر لیٹی اس کے جوابات سے محظوظ ہورہی تھی۔۔ تھوڑی دیر پہلے والی تنگی کا شاٸبہ تک آس پاس نہیں تھا۔۔ اسے خود پر غصّہ بھی آیا۔۔ اگر تاٸ نے اسے ایسا بول بھی دیا تھا تو اسے کم از کم یوں رو کر نہیں بھاگنا چاہیۓ تھا۔۔ اسے پوچھنا چاہیۓ تھا کہ وہ اسے ایسے کیوں کہہ رہی تھیں۔۔ کوٸ وجہ تو ہوگی ان کے اس رویے کی۔۔ کچھ تو ہوگا ناں۔۔ آٸندہ وہ کبھی اس طرح سے بھاگ کر نہیں آۓ گی۔۔ اس نے جب کچھ کیا ہی نہیں تھا تو ڈرنا کیسا۔۔ سمجھ کر پرسکون ہوتی وہ اب کروٹ لے کر لیٹی تو ولی چھم سے اس کے سامنے آیا۔۔ ایک مسٸلے سے تو جان بچ گٸ تھی مگر اب وہ اس سے کیسے بچے گی۔۔؟ وہ جو اب اسے ساری رات جگانے والا تھا اس کا وہ کیا کرے گی۔؟ کیا پتہ وہ بھی جاگ رہا ہو۔۔ اور ہو سکتا ہے وہ بھی مجھے یاد ۔۔۔
اس سوچ پر وہ بے کل ہو کر بستر پر اُٹھ بیٹھی۔۔۔ اف۔۔۔ خفت سے آنکھیں زور سے میچیں۔۔ نہیں۔۔ ایسا نہیں سوچتے امل۔۔ بری بات۔۔ مگر اسے اپنا چہرہ کانوں کی لوٶں تک تپتا محسوس ہوا۔۔ اسے پتہ تھا۔۔ بغیر دیکھے پتہ تھا کہ وہ بلش کررہی ہے۔۔ اف۔۔۔ نہیں۔۔ اس نے ہاتھوں سے چہرہ چھپایا اور سر زور زور سے نفی میں ہلایا۔۔
نیچے وہ مسکرا کر سر جھٹکتا راٸٹنگ ٹیبل کے سامنے لگی کرسی کھینچ کر بیٹھا پھر سامنے رکھا ایک سرخ جِلد والا فولڈر کھول لیا۔۔ نورآباد والی زرعی زمین کے کاغذات۔۔! اس نے گہرا سانس لے کر اصغر کو فون کیا اور پھر چند لمحے کچھ سوچتا دوسری جانب جاتی گھنٹی کو سنتا رہا۔۔ قریباً تیسری گھنٹی پر فون اُٹھایا گیا تو اسے اصغر کی مصروف سی آواز سُناٸ دی۔
“کہو ولی۔۔۔؟”
“اصغر۔۔ میں ایک مسٸلے میں پھنس گیا ہوں۔۔”
اس نے ہاتھ میں پکڑا قلم گھماتے ہوۓ کہا تو دوسری جانب اصغر متوجہ ہوا۔۔
“کیسا مسٸلہ۔۔۔؟”
اسکی آواز اٸیر پیس میں اُبھری تو ولی چند پل سوچتا رہا۔۔ پھر بولا۔۔
“آپ کا دشمن آپ سے طاقتور ہو اور تعلقات بھی رکھتا ہو۔ حال فی الحال پاور سِیٹ کا مالک بھی ہو اور اس کے پاس آپ پر حملہ کرنے کا ٹھوس جواز بھی ہو اگر تب بھی وہ خاموش رہے تو ایسی خاموشی کو کیا سمجھنا چاہیۓ۔۔۔؟”
دوسری طرف اصغر نے گہرا سانس لیا تھا۔
“اس کا مطلب ہے کہ آپ کا دُشمن آپ کی کسی ایسی کمزوری کی تلاش میں ہے کہ جس کو جان لینے کے بعد آپ کو اس کے ہاتھ سے کوٸ نہیں بچا پاۓ گا۔۔ وہ انتظار کررہا ہے۔۔ سہی وقت کا۔۔ تمہیں ایسی جگہ ضرب لگانے کا جہاں پر زخم لگنے کے بعد تم کبھی بھی سنبھل نہیں پاٶگے۔۔”
ولی تلخی سے مسکرایا تھا۔۔
“اور اگر مجھے اپنی ایسی کوٸ کمزوری نظر نہ آرہی ہو تو اس کا مطلب کیا ہوگا۔۔۔؟”
“یہ غلط فہمی ہے تمہاری ولی کے تمہاری کمزوری نہیں ہے کوٸ۔۔ تمہاری۔۔۔”
“میں میرے وِیک پواٸنٹس جانتا ہوں اصغر اور جہاں تک مجھے علم ہے وہ بھی ان سب سے واقف ہے تو ۔۔۔”
“کیا کوٸ کھوج رہا ہے تمہیں۔۔۔؟
اصغر نے تیزی سے اسکے بات کاٹی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“ہاں۔۔”
“اور تم آرام سے بیٹھے ہو۔۔”
دوسری جانب وہ جیسے برہم ہوا تھا۔۔ بہت بری طرح۔۔
اس نے کندھے اُچکاۓ۔۔
“ایسے میں پینک کرنا میری عادت نہیں ہے اصغر جانتے ہو تم۔۔ اور میری ایسی کوٸ کمزوری نہیں ۔۔۔”
“کمزوری ہوتی ہے ولی۔۔ اور سب کی ہوتی ہے۔۔”
آگے والے نے پھر سے اسکی بات کاٹی تھی۔۔
“مجھے ایک بات پریشان کررہی ہے کہ وہ کیا ڈھونڈنا چاہ رہا ہے۔۔؟ میرا ماضی اس کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔۔ وہ یہ تک جانتا ہے کہ میں کس کی اولاد ہوں۔۔ اسے سب معلوم ہے اصغر۔۔ سب کچھ۔۔ لیکن وہ خاموش بیٹھا ہوا ہے۔۔ اور مجھے اس کی خاموشی ہرگز بھی ہضم نہیں ہورہی۔۔”
“تمہاری کمزوری ہے ولی۔۔ لیکن تم نہیں جانتے اسے۔۔” اسے اس کا لہجہ بہت عجیب سا لگا تھا۔۔ پل بھر کو وہ سیدھا ہو بیٹھا۔۔
“کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔۔۔؟”
اس کے ابرو سُکڑ گۓ تھے اور پیشانی کے بلوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔۔
“اگر میں یہ بات ایک سیکنڈ میں سمجھ سکتا ہوں ولی تو تم بھی سمجھ سکتے ہو اور وہ بھی جو تمہارے پیچھے ہے۔۔۔”
اس کا سارا وجود ایک پل میں سنسنا اُٹھا تھا۔۔
دوسری جانب اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہاشم کے پیر نگار بیگم کی آواز پر جم سے گۓ تھے۔۔ وہ پورے کا پورا ساکت ہوگیا تھا۔۔
“میں نے اپنی آنکھوں سے امل کو اس کے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا یقین نہیں آتا تو پوچھنا اپنی ارجمند چچی سے۔۔۔”
اپنے کمرے میں بے خبری سے گفتگو کرتیں نگار، شازیہ اور امینہ نے اد کھلے دروازے کے اس پار موجود شخص کو دیکھا ہی نہیں تھا۔۔
“پھر بھی ماں جی بلاوجہ کہتی نہ پھرنا یہ باتیں تم اب۔ بھلا کوٸ اچھی بات ہے یہ ملازم کے کمرے سے گھر کی جوان جہان بیٹی کا نکلنا۔۔”
شازیہ کی آواز خاموش پڑی راہداری میں بہت واضح سناٸ دے رہی تھی۔۔ ہاشم کا وجود گویا پل بھر کو منجمد سا ہوگیا تھا پھر وہ کسی خواب سے جاگا۔۔ اس پر ہوا انکشاف بہت بڑا تھا۔۔ ولی اور امل۔۔۔ اوہ خدا۔۔ اس نے یہ سب پہلے کیوں نہیں سوچا۔۔! اس کے قدم پیچھے کی جانب جارہے تھے۔ اگر یہ سب سچ نکلا تو ولی احمد کی گردن کی سب سے نازگ رگ اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔۔۔ وہ اُلٹے قدموں اپنے کمرے کی جانب مُڑا تھا۔
“انسان کے پاس ہمیشہ کھونے کے لیۓ کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے ولی۔۔ تمہیں لگا تھا کہ کوٸ رشتہ تو ہے نہیں تمہارا پھر کوٸ کیسے تمہاری گردن مروڑ سکتا ہے مگر تم غلط تھے۔۔ تمہارے پاس تمہاری وہ پری ہے کہ جس کو تم نے اپنے ساۓ سے بھی دور رکھا ہوا ہے۔۔”
اس کی نظر جیسے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی شیشی پر ساکت ہوگٸ تھی۔۔ وہ کیوں بھول گیا تھا اسے۔۔۔؟ وہ کیسے فراموش کرسکتا تھا اسے۔۔؟!! اوہ خدایا۔۔۔ اسے اپنے سر پر سارا کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
“یہ بات میں نے کبھی کسی سے نہیں کی ہے۔۔”
اسکی آواز کسی کھاٸ سے آرہی تھی۔۔
“ضروری نہیں ہے کہ تم خاموش ہو تو وہ بھی خاموش رہی ہو۔۔ ہوسکتا ہے اس نے کسی سے اس بات کو ڈسکس کیا ہو اور اگر ایسا ہے ناں ولی تو تم بہت بڑی مصیبت میں پھنسنے والے ہو۔۔”
دوسری جانب وہ جیسے پریشان ہوا تھا۔۔
“اگر وہ اس جنگ کا حصّہ بنی تو اس کے پاس سواۓ دُکھوں کے، بدنامیوں کے اور رُسواٸ کے کچھ بھی نہیں آۓ گا۔۔ اس سے دور رہو ولی۔۔ اسے خود سے دور کردو۔۔ اسے جھڑکو، ڈانٹو، سختی سے پیش آٶ جو کرنا ہے کرو لیکن اسے قریب مت آنے دو۔۔”
وہ تو گویا برف بن گیا تھا۔۔ اس نے غلطی کردی۔۔ اس نے دیر کردی۔۔ اسے لگا تھا کہ وہ اکیلا ہے تو اسے کوٸ پرواہ نہیں لیکن۔۔ وہ غلط تھا۔۔ اس کی بازی اس پر اُلٹ گٸ تھی۔۔ سب غلط ہوگیا تھا۔۔ سب غلط ہورہا تھا۔۔ اس نے فون رکھا اور چابیاں ڈریسنگ ٹیبل سے جھپٹتا باہر کی جانب دوڑا۔۔ سخت سردی میں بھی اس کی پیشانی پر پسینہ چمک رہا تھا۔۔ اس نے دوڑ کر لان عبور کیا اور پھر پتھریلی روش پر کھڑی کار میں بیٹھ کر گاڑی زن سے آگے بڑھا لے گیا۔۔ اس کا تنفّس تیز ہورہا تھا۔۔ آس پاس بھیانک سُرنگ والی رات پھر سے پھیل رہی تھی۔۔ ولی احمد وہیں جا کھڑا ہوا تھا جہاں سے چلا تھا۔۔ وہ ملعون تھا۔۔ کیسے۔۔ کیسے بھول گیا وہ یہ۔۔۔! اس کی گاڑی کی رفتار ہر گزرتے پل بڑھتی جارہی تھی۔۔ ایک قبروستان کے باہر اس نے گاڑی کو بریک لگایا اور پھر قبروستان کے اندر دوڑا۔۔ لکڑی کا چھوٹا گیٹ ہوا سے جھول کر عجیب سی آواز پیدا کررہا تھا۔۔ دور دور تک سیاہی میں ڈُوبی قبرویں ہی قبریں تھیں۔۔ اتنی تاریکی تھی کہ اسے بار بار آنکھیں جھپکا کر دیکھنا پڑا۔۔ کچھ دیر بعد وہ اسے ایک قبر کے پاس اکڑوں بیٹھا نظر آگیا۔۔ ہاں وہ کرم ہی تھا۔ وہ ہی کرم جو اس سے چند روز قبل ملا تھا۔۔ وہی کرم جس میں اس نے اپنا عکس دیکھا تھا۔۔ اس نے آہٹ پر چہرہ گھٹنوں سے اُٹھا کر اسے دیکھا اور پھر تلخی سے مسکرادیا۔۔
“مجھے پتہ تھا آپ آٸنگے ولی سرکار۔۔”
وہ اس اندھیرے میں بھی اسکی سُرخ آنکھوں کو دیکھ سکتا تھا۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
“اس بچے کو۔۔ کیا نام ہے اس کا۔۔ جو بھی ہے۔۔ میں اسے لے کر جانا چاہتا ہوں اپنے ساتھ زمان۔۔ ڈیرے پر بہت سے کام ہوتے ہیں۔۔ اس کا ان کاموں کو سیکھ لینا ضروری ہے۔ ہاشم کے ساتھ مل کر وہ کام سیکھ جاۓ گا اور پھر اب تو خاصہ بڑا ہوگیا ہے وہ۔۔ کوٸ اعتراض تو نہیں تمہیں۔۔؟”
حسین اپنے ازلی دبنگ انداز میں گویا ہوۓ تو زمان نے اچھنبے سے ان کا چہرہ دیکھا۔۔ ولی۔۔ وہ ولی کو کیوں لے جانا چاہتے تھے اپنے ساتھ۔۔؟ ایک وقت تھا جب وہ اسے اس حویلی سے باہر پھینکنے کا کہہ رہے تھے اور اب۔۔
ان کی حیرت بجا تھی۔۔ اور بھاٸ کا احترام بھی لازم تھا مگر ولی کو وہ ان کے حوالے نہیں کرسکتے تھے۔۔ ہرگز بھی نہیں۔۔
“بھاجی۔۔ آپ ۔۔ لیکن آپ کیوں لے جانا چاہتے ہیں اسے اپنے ساتھ۔۔ میں کچھ سمجھا نہیں آپ کی بات کو۔۔”
حسین نے زمان کی ہچکچاہٹ پر تیوری چڑھاٸ۔۔ ذرا آگے ہو کر ان کی آنکھوں میں جھانکا۔۔
“کیا تمہیں کوٸ اعتراض ہے۔۔ اسے میرے ساتھ بھیجنے پر۔۔۔؟”
زمان پل بھر کو گڑبڑاۓ تھے۔۔
“میرا مطلب ہے کہ وہ ابھی اسکول میں ہے اور پھر آپ کے ساتھ ڈیرے پر گیا تو اس کا بہت نقصان ہوگا رہی اس کے کام سیکھنے کی بات تو میرا ڈیرہ ہے ناں۔۔ وہ کس کام آۓ گا۔۔ میں اسے وہاں کام سکھا دونگا۔۔۔”
حسین کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔۔
“میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں زمان۔۔ وہ بچّہ میں نے سنا ہے کہ خاصہ ذہین ہے اور اس کا دماغ بہت اچھا ہے۔۔ میں چند دن اپنے ڈیرے پر رکھ کر اسے جانچنا چاہتا ہوں کہ وہ واقعی ایسا ہے بھی یا نہیں۔۔ یہ اس کے مستقبل کا سوال ہے ذرا سوچو۔۔”
مگر زمان اس وقت کچھ بھی سوچنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔۔ وہ کسی بھی صورت ایسے ولی کو ان کے ساتھ نہیں بھیج سکتے تھے۔۔ سب کچھ ایک طرف مگر وہ اپنے بھاجی پر بھروسہ نہیں کرسکتے تھے۔۔ ولی کے معاملے میں تو بالکل بھی نہیں۔۔
“ٹھیک ہے آپ اتنا اصرار کررہے ہیں تو میں ولی سے پوچھ کر جواب دونگا آپ کو۔ اگر وہ راضی ہوا تو بھلے آپ لے جاٸیے گا اُسے۔۔ مجھے کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔”
ان کی اس شرط پر حسین بیچ و تاب کھا کر چلے تو گۓ مگر جاتے جاتے انہیں لان کے ایک جانب کھڑا چودہ سالہ دبلا پتلا سا ولی نظر آیا۔۔ انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ مگر وہ ایسی مسکراہٹ تھی کہ ولی کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اُٹھی۔۔ اس کی گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸ۔۔
“یہاں آٶ۔۔۔”
ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بُلایا تو ولی میکانکی انداز میں کھنچا چلا آیا۔۔ اس کی نسواری آنکھیں خوفزدہ تھیں سانس بہت تیز چل رہا تھا۔۔
شام میں اسے زمان نے بُلا کر پوچھا تو اس کے جواب پر وہ چند لمحوں کے لیۓ گنگ رہ گۓ۔۔
“میں جانا چاہتا ہوں۔۔”
“مگر کیوں۔۔۔؟!”
زمان شدید حیران تھے۔۔
“بس میں جانا چاہتا ہوں سردار بابا۔ ہوسکتا ہے کہ اس سب کے بعد میری ذات سکون میں آجاۓ۔۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد یہ سب نہ ہو جو چودہ سالوں سے ہوتا آرہا ہے۔۔”
اس کے اندر بہت آس جڑ گٸ تھی۔۔ حسین کے کہے گۓ لفظوں کی بازگشت اسکے ذہن میں اب تک تازہ تھی۔۔
“ٹھیک ہے اگر جانا چاہتے ہو تو جاٶ مگر ولی احمد بہت محتاط رہنا۔۔ ٹھیک۔۔۔؟”
انہوں نے اسے تنبیہ کی تو اس نے کمزور سا سر ہلادیا۔۔ اور تب سے ہی اس سب کا آغاز ہوا جس نے ولی کی ذات کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ اندر تک۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسین کے ڈراٸیور کے ساتھ ان کے ڈیرے کی جانب جارہا تھا۔۔ آگے بیٹھا ڈراٸیور گویا پتّھر کا تھا۔۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کا کوٸ اتار چڑھاٶ نہیں تھا۔۔ سپاٹ بے لچک چہرہ تھا وہ۔۔ اس نے پیچھے جھانکتے شیشے میں اس کا چہرہ دیکھا اور پھر جُھرجُھری لے کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔ ان دنوں اس کی زندگی ویسے بھی عذاب میں کی ہوٸ تھی حویلی کے بچوں نے تو اس سے بہتر تھا کہ وہ کسی ایسی جگہ رہ لیتا جہاں اسے کوٸ پریشان نہ کرتا۔۔۔ کوٸ اس کو طعنے اور دوسرے خرافات کا نشانہ نہ بناتا۔۔ یہی سوچ کر اسے ایک گونہ سکون ملا تھا۔۔ پھر ذہن حسین کی باتوں کی جانب بھٹکا۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اس کے والدین کو جانتے تھے۔۔ اور اگر اسے بھی اس کے والدین مل گۓ تو زندگی۔۔۔ ہاں اس کی زندگی کتنی آسان ہوجاۓ گی۔۔ کوٸ اس کو پھر گالیاں نہیں دے گا۔۔ مٹی میں نہیں رولے گا۔۔ ہاں ایسا ہی ہوگا۔۔ ایسا ہی ہونا چاہیۓ تھا۔۔
ڈراٸیور نے گاڑی ایک سنسان علاقے میں روکی تو وہ چونکا۔۔ پھر دروازہ کھول کر پچھلی سِیٹ سے باہر نکل آیا۔۔ سامنے ڈیرے کا چھوٹا دروازہ کُھلا تھا۔۔ ڈراٸیور نے اسے اندر چلنے کا اشارہ کیا تو اس نے لڑکھڑاتے قدموں کو آگے بڑھادیا۔۔
کہیں غلطی تو نہیں کردی اس نے یہاں آکر۔۔ اس کی پیشانی پر پسینہ آنے لگا تھا اور دل آنے والے لمحات کا سوچ کر ہی رُکا جارہا تھا۔۔
اسے بہت عجیب سے خدشے آرہے تھے۔۔ کہیں کچھ غلط تھا۔۔ اس نے غلطی کردی۔۔ دل کو جکڑتے خوف نے اس کا چہرہ سفید کردیا تھا۔۔ پھر بھی وہ من من ہوتے قدموں کو گھسیٹتا آگے بڑھا۔۔ جیسے ہی لان کے درمیان پہنچا تو ڈراٸیور نے اس کے ہاتھ پیچھے سے جکڑے اور وہ یکدم بری طرح چونکا۔۔
“چھوڑو۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔ حسین سرکار کہاں ہیں۔۔ ؟ بلاٶ انہیں۔۔ چھوڑو مجھے۔۔”
اس نے مزاحمت کی تو اس کرخت چہرے والے نے اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا۔ اس کا رخسار سرخ ہوگیا تھا۔۔
“میں کہہ رہا ہوں چھوڑو مجھے۔۔ مجھے واپس جانا ہے گھر۔۔ مجھے گھر جانا ہے۔۔ چھوڑو مجھے۔۔ سردار بابا۔۔۔ سردار بابا مجھے بچاٸیں۔ مجھے بچاٸیں۔۔۔ یہ مجھے ماردیگا۔”
وہ چلّا رہا تھا مگر ڈیرہ رات کی سیاہی میں خاموش تھا۔۔ اس کی چیخیں پلٹ پلٹ کر واپس آرہی تھیں۔۔ ڈراٸیور نے اسے کباڑ خانے کے اندر پٹخا اور پھر اسے گردن سے دبوچ کر دیوار سے لگایا۔۔ اس کا سانس یکدم بند ہوا تھا۔۔ کباڑ خانے کے اندر عجیب سی انسانی گوشت اور خون کی بُو پھیلی تھی۔ اسکا جی متلایا۔۔
“اگر ایک دفعہ اور آواز نکلی تو یہیں اسی زمین میں گاڑ دونگا اور دوبارہ کسی کو تمہاری ایک ہڈی بھی نہیں ملے گی سمجھے۔۔”
ایک جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑی تو وہ بری طرح کھانستا ہوا زمین پر گرا۔۔ ہاتھوں کو مٹی پر رکھا اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔ بے یقینی اس قدر تھی کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔۔
“حسین۔۔۔ حسین سرکار کو بُلاٶ۔۔”
ہانپتے ہوۓ اس نے کہا تو آگے والے نے اس کے چہرے پر لات ماری۔۔ وہ ایک جانب لڑھکا۔۔ آنکھوں سے گرم گرم آنسو بے اختیار پھسل رہے تھے۔۔
“کوٸ نہیں آۓ گا یہاں۔۔۔ کسی کو یہاں کا نہیں پتہ ہے۔۔ تم مرو گے اور پھر ہی یہاں سے نکلو گے کیونکہ اس جگہ سے۔۔”
وہ اس کے سامنے بیٹھا۔۔ اس نے آنسوٶں سے بھیگا چہرہ اُٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔
“کوٸ بھی آج تک زندہ بچ کر نہیں گیا۔۔ اس کباڑ خانے میں انسانی گوشت کی بُو تمہیں اس لیۓ آرہی ہے کیونکہ یہاں بہت سے انسان قتل ہوچکے ہیں۔۔ یہ کمرہ بہت سی جانوں کو ختم ہوتے دیکھ چکا ہے اور اب۔۔ اب تمہاری باری ہے۔۔”
وہ ایک دم اُٹھا تو اس نے بے اختیار اس کے پاٶں کو تھام لیا۔۔
“خدا کے لیۓ۔۔ مجھے لے کر جاٶ یہاں سے۔۔ مجھے واپس جانا ہے سردار بابا کے پاس۔۔ خدا کے لیۓ۔۔ دیکھو تمہاری بھی تو کوٸ اولاد ہوگی ناں۔ تمہیں اس اولاد کا واسطہ۔۔ مجھے۔۔ مجھے نکالو یہاں سے۔۔”
اس کے پاٶں کو تھامے وہ زمین پر لیٹا رورہا تھا۔۔ اس سے بلک بلک کر درخواست کررہا تھا۔۔ دفعتاً آگے والے نے پاٶں کو جھٹکا تو اس کا ہاتھ دور ہوا۔۔ پھر اس نے اس کے ہاتھ پر اپنا بُوٹ والا پاٶں رکھ کر دبایا۔۔
ایک دلدوز چیخ اس کے منہ سے نکلی تھی۔۔ اس کی انگلیاں۔۔ اسے لگا اس کی انگلیاں ٹوٹ گٸیں۔۔ اس میں رونے کی ہمت بھی باقی نہیں رہی تھی مگر پھر بھی آنسو اس کے چہرے سے لڑھک لڑھک کر کچی مٹی میں جذب ہورہے تھے۔۔ وہ شخص آگے بڑھا تو اس نے اپنا ہاتھ اُٹھا کر دیکھا۔۔ اس کی انگلیاں سرخ ہوگٸ تھیں۔۔ اور بہت بُری طرح کچلی ہوٸ لگتی تھیں۔۔ اسکا پورا ہاتھ تکلیف کی شدید گرفت میں آگیا تھا۔۔ گھٹنوں کے بل بیٹھتے اس نے اپنا کانپتا ہاتھ سیدھا کیا۔۔ درد اس قدر ہورہا تھا کہ اس کی برداشت سے باہر ہونے لگا۔۔۔ اپنی آستین سے اس نے اپنی آنکھوں سے گرتے آنسو خشک کیۓ مگر وہ بھل بھل بہہ رہے تھے۔۔ یکایک دروازہ بند ہونے کی آواز آٸ تو اس نے چونک کر چہرہ اُٹھایا۔۔ وہ دروازہ لاک کر کے آگے بڑھ گیا تھا۔۔ ولی بے اختیار اُٹھ کر دروازے کی جانب بھاگا۔۔ کچلا گیا ہاتھ مستقل کانپ رہا تھا اس نے دوسرے ہاتھ سے ہذیانی انداز میں لاک گھمایا مگر وہ مقفل تھا۔
“کھ۔۔ کھولو دروازہ۔۔ باہر نکالو مجھے۔۔”
اس کے جسم میں خوف کی ایک شدید لہر اتری تھی۔۔ پل بھر ہی میں اس کا وجود پسینے میں نہا گیا تھا۔ پیچھے تاریک کباڑ خانہ ویسے ہی عجب سی بُو کے حصار میں تھا۔۔ اس نے خوف سے پلٹ کر پیچھے دیکھا پھر زور زور سے دروازہ بجانے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ چلّا بھی رہا تھا۔۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے خدا کے لیۓ دروازہ کھولو۔۔ کھولو دروازہ۔۔۔”
آنسو خشک ہوچکے تھے اور اب صرف ایک جما دینے والا خوف تھا جس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ کانپتا ہاتھ درد کی شدت سے گویا پھٹنے لگا تھا۔
“دروازہ کھولو۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں بے گناہ ہوں۔۔۔ میرا اس سب میں۔۔ اس سب میں میرا کوٸ قصور نہیں ہے۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔”
اس نے زور زور سے دروازہ پیٹا۔۔ آنسو اب پھر سے بہہ رہے تھے۔ اسی روانی سے۔۔
“کھولو دروازہ۔۔۔ کوٸ نکالو مجھے یہاں سے۔۔”
اسے لگا اس کے جسم پر کچھ چل رہا ہے۔۔ اس نے بے ساختہ خود پر سے اس مکروہ کیڑے کو ہٹایا۔۔ وہ انگلی جتنا لمبا سیاہ سا کوٸ جانور تھا۔۔ اس نے اپنا ہاتھ زور زور سے جھٹکا تو کیڑا دور جاگرا۔۔
اس نے پھر دروازہ بجایا مگر کوٸ ہوتا تو کھولتا ناں۔۔۔ نہ کوٸ تھا نہ آیا۔۔ اس کا گلا چیخ چیخ کر اب بیٹھنے لگا تھا۔۔
خوف سے کانپتا ولی اسی کباڑ خانے میں بیٹھتا چلا گیا۔۔ شدید خوف۔۔ ہاتھ کے مستقل درد اور عجیب سی بُو سے اس کا سر بے طرح چکرانے لگا تھا۔۔ یکدم کچھ ابل کر اس کے منہ سے باہر نکلا۔۔ جھک کر قے کرتا ولی نڈھال ہوتا جارہا تھا۔۔ اس کے ہاتھ۔۔ اس کا لباس سب کچھ گندا ہوگیا تھا۔۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے اسی تیزی کے ساتھ۔۔ اس نے قمیص سے ہاتھ رگڑ کر صاف کیۓ۔۔ سارے کمرے میں قے کی بہت گندی بو پھیل گٸ تھی۔۔ وہ نڈھال سا دروازے سے لگ کر بیٹھا رہا۔ ساتھ ساتھ بند مٹھی دروازے پر بھی مار لیتا۔۔ گلا بالکل خراب ہوگیا تھا چلّانےکی وجہ سے۔۔ پھر وہ اُٹھ کر دروازے کا سہارہ لیتا کمرے کی مقابل دیوار سے آلگا۔۔ اکڑوں بیٹھ کر اس نے دونوں گھٹنوں کو سینے سے جما لیا اور پھر خوف سے لرزتا وہیں بیٹھا رہا۔۔ اس کا پورا جسم پسینے میں بھرا زلزلوں کی زد میں تھا۔۔ آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے تاریک رات تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسین نے کرّوفر سے قدم کباڑ خانے کی جانب بڑھاۓ اور پھر دروازہ جیسے ہی کھولا۔۔ ایک بدبو کا سیلاب تھا جو اس کےنتھنوں سے ٹکرایا مگر اسے جیسے کوٸ فرق ہی نہیں پڑا تھا۔ اس نے خوف سے لرزتے ولی کو دیکھا۔ ولی بھی چہرہ اُٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اس کی آنکھوں میں اس قدر بے یقینی تھی کہ حسین پل بھر کو مسکرایا۔۔ پھر رال ٹپکاتے تیز دانتوں والے کتّے کو اس کے سامنے کیا تو ولی کی آنکھیں بے یقینی سے گویا پھٹنے لگیں۔۔ اس کی ناسمجھی سے پھیلی آنکھیں اب کے حسین پر جمی تھیں۔۔ یکایک وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔۔ ریڑھ کی ہڈی میں ایک لہر سی گزری تھی۔۔ خوفناک لہر۔۔ سارے جسم کو برف کردینے والی لہر۔۔
“تمہیں یہاں اس لیۓ لایا تھا تاکہ خاموشی۔۔ بالکل خاموشی سے تمہیں اس وفادار کے حوالے کر کے ختم کروا سکوں۔۔ اور دیکھو۔۔ تمہیں دیکھ کر کس قدر خوش ہے میرا جانور۔۔”
اسں نے جُھک کر کتے کی چمکتے بالوں پر ہاتھ پھیرا تو ولی کی نظروں نے اس سے کتے تک سفر کیا۔۔ اس کے دانت بے حد نوکیلے تھے اور آنکھیں۔۔ آنکھیں اس سیاہی میں بھی چمک رہی تھیں۔۔ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔ آنکھوں میں جما ہوتے خوف نے حسین کو جیسے محظوظ کیا تھا۔
“تم نے کہا تھا کہ تم مجھے حقیقت بتاٶگے۔ مجھے میرے والدین کا بتاٶ گے۔۔ وہ سب بتاٶگے جسی سننے کے لیۓ میں چودہ سالوں سے مررہا ہوں۔۔ لیکن تم۔۔۔”
اس نے ایک پل کے لیۓ بھی کتے سے نظریں ہٹاۓ بغیر ساکت سا کہا تو حسین ہنس دیا۔۔ اس کی مکروہ ہنسی سے اس کے پورے جسم پر کیڑیاں چلنے لگی تھیں۔۔۔
“میں تمہیں وہ سب بتاٶنگا مگر اس سے پہلے تم نے اس وفادار سے بچ کر نکلنا ہے۔۔ اگر۔۔ اگر تم زندہ بچ گۓ ولی تو میں تمہیں سب کچھ سچ سچ بتادونگا۔۔ کچھ بھی نہیں چھپاٶنگا تم سے۔۔”
اس نے جھک کر کتے کے گلے سے پٹّا نکالا اور پھر دروازہ بند کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔ اندر سے اب دل دہلادینے والی چیخیں سُناٸ دے رہی تھیں۔۔ کتے کے بھونکنے کی۔۔ حملہ کرنے کی۔۔ چیرنے پھاڑنے کی۔۔
اور اس پوری رات وہ اس جانور سے لڑتا رہا تھا۔۔ اس کے نوکیلے دانتوں نے اس کے جسم کو بے تحاشہ زخم دیٸے تھے۔۔ جو زخم اس پر آج بھی تازہ تھے۔۔۔ جنہیں وہ چاہ کر بھی مٹا نہیں پایا تھا۔۔
اگلی صبح دیوار سے لگ کر بیٹھا ولی گویا برف بنا ہوا تھا۔۔ کتا ایک جانب کو بےسُدھ پڑا تھا اور وہ۔۔ وہ تو جیسے اس کے ساتھ ہی مر گیا تھا۔۔ اسکی آنکھیں خشک تھیں۔۔ سرخ سی خشک۔۔ ہاتھ میں پکڑا ٹُوٹا کانچ اس زور سے پکڑ رکھا تھا کہ اس کے ہاتھ سے خون کی چند بوندیں بہہ کر کچی زمین میں جذب ہونے لگیں۔۔ مگر اسے جیسے کسی درد۔۔ کسی تکلیف کا احساس نہیں ہورہا تھا۔۔ ولی مر گیا تھا۔۔ اسی رات۔۔ اس کتے کے ساتھ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے تین دنوں تک وہ اس کباڑ خانے میں بُھوکا پیاسا بند رہا۔۔ حسین اسے یہاں مارنے لایا تھا مگر وہ زندہ بچ گیا تھا۔۔ وہ واقعی سخت جان واقع ہوا تھا۔۔ نہ کسی انکشاف نے اس کو ہلایا تھا اور نہ کسی جانور کی زد میں آکر اس نے دم دیا تھا۔ وہ سرواٸیو کررہا تھا۔۔ سب کچھ۔۔۔ اسکے اندر اتنا برداشت کہاں سے آیا یہ تو اسے خود بھی نہیں معلوم تھا۔۔
کٸ روز اور وہ اس جگہ پڑا رہا پھر اسے اُٹھا کر ایک تاریک سُرنگ میں لا ڈالا گیا۔۔ کٸ روز کی بے خوابی اور کٸ دن کا بھوکا ہونے کی وجہ سے وہ گویا مردہ ہوگیا تھا۔۔ اس میں کسی چیز کی سکّت باقی نہیں رہی تھی۔ سرنگ کے اوپر ٹرین کا راستہ تھا اور وہ سُرنگ ایک اندھیر حصّے میں بنی تھی۔ جس رات اسے اس سُرنگ میں لا کر ڈالا گیا اس رات بہت تیز بارش ہورہی تھی۔۔ زوروشور سے۔۔ بجلی کی کڑک اور گرج کے ساتھ۔۔ اوپر شور کرتا آسمان تھا اور نیچے سُرنگ میں پڑا بے سُدھ ولی۔۔ اسے پتہ تھا کہ اب وہ مرنے والا ہے۔۔ بس ابھی کچھ ہی وقت میں وہ جان دے دیگا۔۔ اسی لیۓ کوٸ بھی پس و پیش کیۓ وہ خاموشی سے ایک جانب پڑا رہا۔ ان راتوں نے اس کے اندر موجود سب کچھ نگل لیا تھا۔۔ سب کچھ۔۔۔ ولی احمد کھوکھلا ہوگیا تھا۔
یکایک اسے کسی کے قدموں کی چاپ سُناٸ دی۔۔ وہ قدم اس کے قریب آرہے تھے۔۔۔ بہت آہستگی سے۔۔ مگر اس میں چہرہ اُٹھا کر دیکھنے کی ہمّت نہیں تھی۔۔ اس کی جان ختم ہورہی تھی۔
پھر کسی نے اسے سیدھا کیا۔ آسمان بہت زور سے گرجا تھا۔۔ بجلی کی چمک نے ایک پل کو سب کچھ روشن کردیا تھا۔۔
کوٸ اس پر جھکا اس کا گلا دبا رہا تھا۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔ ہاں وہ حسین تھا۔۔ اس کا باپ۔۔ اس کا مجرم۔۔
اس کے اندر آواز نکالنے کی ہمت نہیں تھی۔ پھر بھی اس نے اس کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کی تھی۔۔ وہ مستقل پیر رگڑ رہا تھا مگر بے سود۔۔ اس کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔ اندھیرا ہی اندھیرا۔۔ پھر روشنی۔۔۔ پھر سفید اور سیاہ نکتے۔۔ نکتے ہی نکتے۔۔
اس کا جسم آہستہ آہستہ جھٹکے کھا رہا تھا۔۔
دُھند میں لپٹی فجر اسکے آس پاس بکھرنے لگی۔۔
وہ سرداربابا کا ہاتھ تھامے مسجد کی جانب جارہا تھا۔۔ نیلی روشنی۔۔ گہرا جامنی آسمان۔۔ ہر سُو پھیلا سکون۔۔
حسین نے پورا زور لگا کر اسکا گلا دبایا۔۔ اسکے منہ سے عجیب سی آوازیں نکلنے لگیں۔۔۔۔ جیسے موت کی طرف جاتے انسان کے حلق سے نکلتی ہیں۔۔
حسین کی پیشانی سے ٹپکتا پسینہ اس کے چہرے پر گرا۔۔ وہ خود بھی پسینے میں شرابور ہورہا تھا۔۔
یکایک اس کی آنکھیں بند ہونے لگی۔۔۔ مزاحمت دم توڑنے لگی۔۔ مٹی کو رگڑتے پیر رکنے لگے۔۔ حسین کے ہاتھوں پر جمے اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گۓ۔۔ ولی احمد ختم ہوگیا۔۔
آسمان اب کے اتنا زور سے گرجا کہ سارا گاٶں لرز اُٹھا۔۔ وہ مرگیا تھا۔۔
پھر اس نے وہ آواز سُنی۔۔ خشک پتوں پر چلتے قدموں کی آواز۔۔ کسی کے دور جانے کی آواز۔۔ بارش تھمنے کی آواز۔۔ آسمان کے گرجنے کی آواز۔۔ بلیوں کے رونے کی آواز۔۔
وہ مرگیا تھا۔۔ تو پھر یہ سب کیسے محسوس کررہا تھا وہ۔۔؟ کیا وہ زندہ تھا۔۔؟ شاید وہ زندہ تھا۔۔ شاید مر گیا۔۔ یا شاید۔۔ وہ کوٸ خواب دیکھ رہا تھا۔۔ ایک بھیانک خواب۔۔ اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں۔۔ پلکوں پر بہت سا بوجھ آن گرا تھا۔۔ اس نے پھر آنکھیں بند کیں۔۔ آس پاس ڈاکٹرز کھڑے تھے۔۔ ساتھ اس نے زمان کو بھی دیکھا۔۔ بی جان ایک جانب بیٹھی رورہی تھیں۔۔ اس کے چہرے پر انہوں نے کچھ چڑھا رکھا تھا۔۔ ہاتھوں میں بھی بہت سی سُوٸیاں لگی تھیں۔۔ اس نے آنکھیں موند لیں۔۔ پھر جب کھولیں تو منظر وہی تھا۔۔ وہی اسپتال کی مخصوص بُو۔۔ اونچی مٹیالی دیواریں۔۔ ڈاکٹرز کی آمد و رفت۔۔ اور آخر کار ولی احمد کو ہوش آگیا تھا۔۔ پورے ڈیڑھ ماہ بعد۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آنکھیں کھول کر اجنبی سے انداز میں اپنے آس پاس کھڑے ڈاکٹرز کو دیکھا۔۔ وہ شاید اسی کے متعلق آپس میں بات کررہے تھے۔۔ اس کی آنکھیں کُھولنے پر ایک ڈاکٹر اسے دیکھتا مسکرایا پھر اس پر جھک کر کچھ کہنے لگا۔۔ اسے اس کے لفظ سمجھ نہیں آرہے تھے۔۔ اس نے نقاہت سے یہاں وہاں سردار بابا کو تلاشا۔۔ وہ بھی اس کے پاس ہی کھڑے ڈاکٹر سے بات کررہے تھے۔۔ پھر اسے آہستہ آہستہ اس ڈاکٹر کی بات سمجھ آنے لگی۔۔
“تم ٹھیک ہو ولی۔۔ کیا تم مجھے سن سکتے ہو۔۔؟”
نرم آواز میں اس کے قریب جُھک کر کہتے اس ڈاکٹر نے اس سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“مجھے بتاٶ کیا تم مجھ سے بات کرسکتے ہو۔۔۔؟”
اسکے بیڈ کے اردگرد کھڑے زمان اور ڈاکٹرز نے اس کی جانب دیکھا۔۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر آواز حلق ہی میں اٹک گٸ۔۔ گلے میں تکلیف ہونے لگی۔۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو پھسلے۔۔ نسواری ارتکاز گلابی پڑنے لگا۔۔
اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔ اس سے بات نہیں کی جارہی تھی۔۔ بہت زور لگانے پر اسے تکلیف ہورہی تھی۔۔
“اوکے اوکے۔۔ کوٸ بات نہیں۔۔ ابھی گلا خراب ہے تمہارا بٹ کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجاٶگے تم ہوں۔۔ چلو بہادر بنو اب۔۔”
ڈاکٹر نے مسکرا کر اس کے آنسو صاف کیۓ تو اس نے گردن ایک طرف کو ڈال دی۔ سخت کمزوری محسوس کررہا تھا وہ۔۔ زمان اس کے قریب آۓ اسکا ہاتھ تھاما۔۔ بُری طرح کچلی گٸیں انگلیوں پر پٹی بندھی تھی۔۔
اس کے سر پر ہاتھ پھیرا پھر اسے دیکھ کر مسکراۓ۔۔ اسے ان کی آنکھوں میں کچھ چمکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔ شاید وہ رورہے تھے۔ پھر ان کی آنکھ سے ایک آنسو لڑھک کر اس کے ہاتھ پر گرا۔۔ انہوں نے لب دانتوں تلے دبا کر بہت ضبط کیا مگر آنسو ان کی آنکھوں سے تیزی کے ساتھ بہہ رہے تھے۔۔
وہ انہیں خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔۔ اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔
“مجھے لگا تھا۔۔ مجھے لگا میں نے کھو دیا تمہیں۔۔۔”
کچھ دیر بعد وہ گویا ہوۓ تو آواز آنسوٶں سے لرز رہی تھی۔۔ اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ وہ تو واقعی اس ولی کو کھو چکے تھے۔۔
“مجھے لگا میں نے غلطی کردی تمہیں دور بھیج کر۔۔ میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاٶنگا ولی۔۔ مجھے معاف کردو میرے بچے۔۔”
اس کا ہاتھ اپنے ماتھے سے لگا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑے تھے۔۔ اس کی داٸیں آنکھ سے آنسو پھسل کر تکیۓ میں جذب ہوا۔۔ آنکھوں میں گویا کرچیاں سی بھر گٸیں۔۔ کچھ بولنے کے لیۓ لب وا کیۓ تو آواز نہ نکلی۔۔ ہونٹ لرز کر رہ گۓ۔۔
“میں نہیں چھوڑونگا جس نے بھی کیا ہے یہ۔ تم ٹھیک ہو جاٶ۔ میں ان کی کھال کھینچ لونگا۔ میں ان کو سلاخوں کے پیچھے سڑاٶنگا۔۔ تم جلدی ٹھیک ہوجاٶ۔۔ ہمیں بہت سے کام کرنے ہیں ساتھ۔۔”
آنسو خشک کرکے بولتے وہ جیسے سب کچھ تباہ کردینا چاہتے تھے۔۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔۔ وہ کسی کو بھی کچھ نہیں بتاۓ گا۔۔ یہ اس کی جنگ ہے۔ وہ اس جنگ میں کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں گھسیٹے گا۔۔ اور اپنے قریبی لوگوں کو تو کبھی نہیں۔۔ ہرگز نہیں۔
شام ہوٸ تو بی جان چلی آٸیں۔۔ اس سے لپٹ کر بہت روٸیں۔ مگر وہ نہیں رویا۔۔ اسے کوٸ چیز نہیں رُلا رہی تھی۔۔ اس کا اندر باہر سپاٹ ہوگیا تھا۔۔ بے حد بے حساب۔۔
اس کے ہوش میں آنے کی اگلی شام حسین اس کے کمرے میں داخل ہوا۔۔ سفید لباس زیب تن کیۓ ہاتھوں میں پھولوں کا گُلدستہ لیۓ۔۔ نرم مسکراہٹ کے ساتھ۔۔ اس کی اندر کچھ نہیں اُبھرا۔۔ نہ نفرت نہ غصّہ۔۔ نہ کوٸ انتقامی جذبہ۔۔ جب نظریں اُٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا تو ان میں ٹھنڈے گوشت کا سا تاثر تھا۔۔ ان آنکھوں میں اب کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ ویران۔۔۔ اجاڑ۔۔ تباہ ہوۓ شہر کی سی حالت تھی وہاں۔
“کیسے ہوا یہ سب۔۔۔ ؟”
وہ اب فکرمندی سے زمان سے اس کی بابت استفسار کررہا تھا۔۔ زمان نے کاٹ کھانے والی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا۔۔
“مجھے کسی بھی بے ادبی پر مت اُکساٸیں بھاجی۔۔ اور ابھی کے ابھی اسی وقت میری نظروں کے سامنے سے چلے جاٸیں۔۔ نہیں تو میں کچھ ایسا کر بیٹھونگا جو ہم میں سے کسی کے لیۓ بھی اچھا نہیں ہوگا۔۔ اور اس سے پہلے میں اپنا ضبط کھو دوں گیٹ لاسٹ۔۔۔”
وہ آخر میں دھاڑے تھے۔۔ حسین کے چہرے پر ناسمجھی پھیلی۔۔ ولی کی طرف چہرہ گھمایا۔۔
“کیا تم نے بتایا نہیں کہ وہ میں نہیں تھا۔۔۔؟”
“بھاجی میں نے کہا ابھی کے ابھی یہاں سے جاٸیں۔۔”
اب کے زمان چلاۓ تھے۔۔ اتنی زور سے کہ آواز میں خراش پڑ گٸ۔۔
“آرام سے زمان۔۔ پہلے اس سے تو پوچھ لو۔۔”
زمان نے ایک قہر آلود نظر ان پر ڈال کر چہرہ ولی کی جانب پھیرا ۔۔۔ وہ انہیں سپاٹ نظروں سے حسین کو دیکھ رہا تھا۔۔ پھر اس کی آواز ابھری۔ بیٹھی ہوٸ خراب سی آواز۔۔
“یہ وہ نہیں ہے۔۔” زمان دھک سے رہ گۓ۔۔ چند لمحوں کے لیۓ سارے کمرے میں سنّاٹا چھا گیا تھا۔۔
“ولی۔۔۔”
وہ اس کے قریب آۓ۔
“میں نے کہا سردار بابا یہ وہ نہیں ہے۔۔ “
اس نے ایک پل کے لیۓ بھی اپنی نظر حسین کی نظروں سے ہٹاۓ بغیر کہا۔۔ زمان یکدم پیچھے ہوۓ۔۔ اور پھر بے داغ دامن والا شخص سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ وہ آج بھی اتنا ہی اجلا تھا جیسے ہمیشہ سے سب کی نظروں میں رہا تھا۔۔ ولی نے اس کو میلا کرنے کی کوشش کی بھی نہیں تھی۔۔
زمان نے اس سے دوبارہ اس کے متعلق بات نہیں کی۔۔ وہ اس کو سمجھتے تھے مگر یوں اس کے اس طرح سے پیچھے ہٹنے پر وہ کیا کرسکتے تھے۔۔ اس کے ساتھ زبردستی تو ہرگز بھی نہیں۔۔
رات سر پر کھڑی ہوٸ تو زمان اس کے بیڈ کے ساتھ لگے صوفے پر لیٹ گۓ۔۔ ان کے سوتے ہی وہ دھیرے سے بستر سے نکلا۔۔ ہاتھ میں لگا کینولا نوچ کر اتارا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
واش روم میں لگا شاور چلا کر وہ گھنٹوں اس بہتی پانی کی دھار تلے کھڑا رہا۔۔ بھیگتا رہا۔۔ شاور سے گرتے پانی میں اس کی آنکھوں سے بہتا گرم پانی بھی شامل ہورہا تھا۔۔ اس کے قدم لڑکھڑاۓ تو اس نے دیوار کو تھاما۔۔ بال اسکے ماتھے پر چپک گۓ تھے اور اسپتال کا گاٶن مکمل طور پر گیلا ہوچکا تھا مگر وہ پرواہ کیۓ بغیر اس پانی کے نیچے کھڑا رہا۔۔ پھر وہ آہستہ سے نیچے بیٹھ گیا۔۔ اسے یاد نہیں کہ اس نے اس شاور کے نیچے کتنے گھنٹے گزارے مگر پھر اسے زمان نے وہاں سے اٹھایا۔۔ اس کے ذہن میں مٹی مٹی سی یادیں تھیں۔۔ کچی پکی۔۔
وہ اسے دوسرا گاٶن پہنا کر بستر پر لٹا رہے تھے۔۔ اس کے ہونٹ نیلے پڑنے لگے۔۔ جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔۔ شدید بخار کی وجہ سے اس کا سارا جسم گویا جل رہا تھا۔۔ پھر اگلے پورے مہینے وہ اسپتال میں رہا۔۔
ایک مہینے بعد اس کو ڈسچارج کیا گیا تو وہ دوبارہ حویلی چلا آیا۔۔ اپنے کمرے میں۔۔ زمان اور بی جان اسے بالکل بھی تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔۔ ہمیشہ کوٸ ناں کوٸ اس کے ساتھ ہوتا۔ اس سے باتیں کرنے کی کوشش کرتے مگر وہ ان کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا کرتا تھا۔۔ رات جب وہ اسے سونے کی تاکید کرکے جاتے تو وہ شاور تلے گھنٹوں گھنٹوں بھیگتا رہتا۔۔ کبھی اپنے جسم کو ہذیانی انداز میں صاف کرتا۔۔ وہ خود پر سے اس گندگی کو مٹانا چاہتا تھا جس سے وہ پیدا ہوا تھا۔۔ اسے یوں اس طرح پانی میں بھیگ کر اپنا آپ صاف کرنا شاید واحد حل نظر آتا تھا۔۔
پھر اگلے ڈیڑھ دوسال تک اس نے اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔۔ وہ اس قدر بری طرح ٹُوٹا تھا کہ پڑھاٸ کرنا ناممکن سی بات تھی اس کے لیۓ ۔۔ جب اس کی ذہنی حالت درست ہوٸ تو اس کو دوبارہ سے اسکول میں داخلہ دلوایا گیا۔۔ جب اس نے اسکول چھوڑا تو اس وقت آٹھویں جماعت میں تھا۔ پھر اسے نویں جماعت میں داخلہ دلوایا گیا۔۔ اور وہ اسکول جانے لگا۔۔ اس کا جسم وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط اور ٹھوس ہوتا جارہا تھا۔۔ وہ قد نکال رہا تھا۔۔ بڑا ہورہا تھا۔۔ خوبصورت ہورہا تھا۔۔ مگر خود کو آٸینے میں دیکھ کر اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔ سب خالی خالی تھا۔۔ سب کچھ۔۔ اور پھر ایک دن وہ ہوا جو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
قبروستان کا دروازہ ہوا سے اب تک ویسے ہی جھول کر عجیب سی آواز پیدا کررہا تھا۔۔ وہ آہستگی سے چل کر کرم کے نزدیک آیا اور پھر اس کے برابر میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔ ویران پڑے قبروستان میں گِدھوں کی آواز نے منحوسیت کو کچھ اور سوا کردیا تھا۔۔
“وہ میری سب سے پیاری بہن تھی۔ میری آپا۔۔ آپا شمسہ۔۔ بہت خوبصورت بہت مہربان۔۔ سب میں ممتاز سب میں نمایاں۔۔”
اس نے کہنا شروع کیا تو آواز آنسوٶں سے گیلی تھی۔۔ جیسے وہ برسوں سے روتا رہا ہو۔۔
“انہوں نے میری آپا کو۔۔ میری آپا کو خراب کردیا تھا۔۔”
ولی نے آنکھیں بند کرلیں۔۔ اس کی آنکھیں بری طرح جل رہی تھیں۔۔
“انہوں نے میری آپا کی عزت کو خراب کردیا تھا اور پھر۔۔”
وہ ٹھہرا ۔۔ ولی کا سانس تک رکا ہوا تھا۔۔
“اور پھر انہیں مار کر ایک تاریک سُرنگ میں پھینک گۓ تھے وہ لوگ۔۔”
قبروستان کی ساری قبروں سے مُردوں کے رونے کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔ ولی کے گلے میں درد سا ہونے لگا۔۔ جیسے آنسو روکنے پر ہوتا ہے۔۔ جیسے بہت کچھ اندر اتارنے پر ہوتا ہے۔۔
“میں جب پہنچا تو وہاں خون ہی خون تھا۔۔ آپا کو سات دفعہ چھُرا مارا گیا تھا اس جگہ۔۔”
اس نے اپنے گُردے والی جگہ پر ہاتھ لگایا۔۔
“مجھے لگا کہ وہ مرگٸ ہیں مگر وہ زندہ تھیں۔۔ میں ان کے قریب بیٹھا۔۔ مجھے یاد ہے میری آپا کے ہاتھ خون میں لت پت تھے۔۔ انہوں نے انہی ہاتھوں سے میرے ان ہاتھوں کو۔۔”
اس نے سیاہی میں اپنے ہاتھ سامنے کیۓ۔۔ پھر انہی ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔۔ گیلی آنکھیں مسلیں۔۔
“میرے ان ہاتھوں کو تھاما تھا۔۔ پھر مجھے اپنے نزدیک کر کے کہا کہ۔۔۔”
اس نے جیسے کھینچ کر سانس لیا تھا۔۔ اسے بتانے میں بہت دُشواری ہورہی تھی۔۔
“کہ میں ان کا انتقام ضرور لوں۔۔ میں ان کے لیۓ لڑوں۔۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ہاشم نے ان کے ساتھ کیا ہے یہ سب اور پھر۔۔”
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر قبر کی خشک مٹی پر ہاتھ پھیرا۔۔ جیسے کچھ محسوس کرنا چاہا ہو۔۔
“وہ مرگٸیں۔۔”
شاید کرم کی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا۔۔
“اور میں نے انہیں لحد میں اتارتے یہ قسم کھاٸ کہ میں ان کے دشمن کا سرکاٹ کر رکھ دونگا۔۔ اس کو اس کی تلوار سے ذبح کرونگا اور جانتے ہیں سرکار۔۔”
اس نے پل بھر کو چہرہ پھیر کر اس کی جانب دیکھا تھا۔۔ ولی سامنے دیکھتا رہا۔۔ وہ اس اندھیرے میں بھی کرم کا سامنہ نہیں کرپارہا تھا۔۔
“انتقام کی آگ نے مجھے پچھلے چار سالوں سے سونے نہیں دیا ہے۔۔ میں آج تک اسی طرح روز قبروستان آکر آپا کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرتا رہتا ہوں۔۔ میرے گھر والے میرے لیۓ پریشان ہیں کہ شاید مجھے کوٸ بیماری ہوگٸ ہے یا اثر وغیرہ۔۔ مگر میں انہیں نہیں سمجھا سکتا کہ میں تو آپا کے ساتھ ہی دفن ہوگیا تھا۔۔ اسی قبروستان میں۔۔”
چند پل اسی طرح خاموشی کی نذر ہوگۓ۔۔ کوٸ کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔
“میں جب مرجاٶنگا ناں سرکار۔۔ تو اوپر جا کر اس سے ضرور پوچھونگا کہ وہ اتنے بڑے ظلم پر کیوں خاموش رہا۔۔؟ میں اس سے ایک دفعہ معلوم کرونگا کہ جو لوگ قتل کر لیتے ہیں وہ اتنے چین سے کیسے رہ سکتے ہیں۔۔! وہ اتنی پُرتعیش زندگی کیسے گزار سکتے ہیں۔۔ میں پوچھونگا اس سے۔۔ مجھے اس سے بہت شکوے ہیں۔۔”
اس نے آنکھیں رگڑ کر کہا تو ولی نے سر جھکا لیا۔۔ اسے تو اب ایسی کسی بات پر یقین ہی نہیں آتا تھا۔۔ وہ تھا بھی یا نہیں۔۔ اسکا ایمان ان سب باتوں سے اُٹھتا جارہا تھا۔۔
حویلی کی جانب واپس پلٹتے سارے راستے نیلی روشنی میں نہاۓ ہوۓ تھے۔۔ کچھ باسی اسے مسجد کی جانب بڑھتے نظر آۓ۔۔ فجر بالکل تازہ تھی۔۔
اس نے مسجد کو نظر انداز کیا اور حویلی کی جانب بڑھنے لگا۔۔
آج اس کی فجر قضا ہوگٸ تھی۔۔ زندگی میں پہلی دفعہ۔۔ ہاں ۔۔ اس کی نماز چھوٹ گٸ تھی اس سے۔۔ جو کہ اس نے جان کر چھوڑی تھی۔۔ خدا کے وجود سے اس کا اعتبار اُٹھنے لگا تھا۔۔ اور اب سب کچھ دُھول بنتا جارہا تھا۔۔ سب کچھ۔۔!
۔۔۔۔۔۔
