Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Hisaar E Yaar (Episode - 22) Last Episode (Part - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Hisaar E Yaar (Episode - 22) Last Episode (Part - 1)
Hisaar E Yaar By Rabia Khan
قتل کے بعد۔۔
نگار بیگم جو اس کے اس طرح آناً فاناً آنے پر ابھی سنبھلی ہی نہیں تھیں کہ وہ ان کو ہونق بنا چھوڑ کر جا بھی چکا تھا۔ انہوں نے بمشکل حسین کے لاغر وجود کو سیدھا کیا اور پھر دوپٹے سے آنسو پونچتی باہر کو بھاگیں۔ وہ جس حالت میں گیا تھا، انہیں بالکل بھی ٹھیک نہیں لگا تھا۔ اس کی حالت بہت بکھری ہوٸ بہت ٹوٹی ہوٸ تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کوٸ تنو مند سا مرد آگاہی کے ایک ہی جھٹکے سے ڈھے گیا ہو۔ باہر بھاگتے ہوۓ ان کا دل لرز رہا تھا اور جسم پسینے میں شرابور تھا۔۔ ہر ہر مسام سے گویا پسینے کی بوندیں پھوٹ کر بہہ نکلی تھیں۔ وہ ان کا سگا بیٹا نہیں تھا۔۔ لیکن وہ انہیں سگے بیٹوں جیسا ہی عزیز تھا۔ یہ ان دنوں کی بات تھی کہ جب نگار کی گود بالکل خالی تھی۔ اجاڑ اور خاموش۔۔ تب ایک دن حسین نے ان کی آغوش میں ہاشم لا تھمایا تھا اور کہا بھی تھا کہ آج سے وہ ان کا بیٹا ہے۔ لیکن انہوں نے نگار کو ساری زندگی یہ نہیں بتایا کہ وہ انہی کا ناجاٸز بیٹا تھا۔ وہ اکثر حیران ہو کر حسین سے کہتی بھی تھیں کہ ہاشم بالکل ان کا پرتو لگتا تھا۔۔ بالکل ان کی سی شخصیت لیۓ۔۔ انہی کی طرح کا قد کاٹھ لیۓ۔ اونچا لمبا اور سیاہ چمکتی آنکھوں والا زیرک سا ہاشم۔۔ لیکن وہ ان کی بات کو ہر دفعہ کا اتفاق کہہ کر ٹال دیا کرتا تھے۔
باہر بھاگتے ہوۓ نگار بیگم کا پسینے میں شرابور جسم ہولے ہولے کانپ بھی رہا تھا۔ وہ ان کا سگا بیٹا نہیں تھا لیکن وہ ان کے لٸے سگوں سے بڑھ کر تھا۔ انہیں یہ جان لینے کے بعد بھی اس سے گھن نہیں آٸ تھی کہ وہ ناجاٸز تھا۔۔ وہ ایک ایسی اولاد تھا جو حرام کی تسکین سے وجود میں آٸ تھی۔۔ یہ سب جان لینے کے بعد بھی ان کے اندر اس سے نفرت کا کوٸ رنگ نہ جاگا۔۔ کسی تنفر، کسی تضحیک اور کسی کمتری نے ان کا دل ایسے نہیں جکڑا تھا جیسے ہاشم کی ٹوٹی بکھری حالت نے جکڑ لیا تھا۔ اور رہا وہ ولی۔تو اس کا انکشاف بھی ان پر آج ہو ہی گیا تھا کہ وہ بھی ان کے شوہر ہی کا بیٹا تھا۔ حسین کی ایک اور ناجاٸز اولاد۔ ایک ایسی اولاد جس سے نگار نے ہمیشہ اس کی پیداٸش کی وجہ سے نفرت کی تھی۔ اس کے وجود سے ہمیشہ گھن صرف اسی لیۓ کھاٸ تھی کیونکہ وہ ان کے مقابلے پر نہیں تھا۔ وہ ان کے مقابلے پر کبھی آ ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ ایک کمتر اور ذلیل انسان تھا کیونکہ اس کے ماں باپ نے اس کو پیدا ہی ذلت کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن ہاشم۔۔ آج انہی کا ہاشم اس سانچے میں پورا اتر رہا تھا جو سانچہ انہوں نے ولی کے لیۓ تیار کررکھا تھا۔ یہ قدرت کا آخر کیسا انتقام تھا۔۔ یہ اس کہانی کا کونسا ورق تھا کہ جس کے الٹنے پر دل اس قدر کٹ جایا کرتا تھا۔ آخر یہ سب کیا تھا۔
لوگ کہا کرتے ہیں کہ کہانیاں آغاز کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں لیکن کیا میں تمہیں بتاٶں۔۔ کہانیاں انجام کے ساتھ نتھی ہوتی ہیں۔ کہانیوں کا وجود، ان کی بقاء اور ان کا سرواٸیول ہمیشہ انجام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ وہ عورت جس نے برسوں سے ہاشم کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ جس میں انسانیت کا کوٸ شاٸبہ تک نہ تھا، جس میں اپنے حلال اور برتر ہونے کا گھمنڈ اور تکبر کوٹ کوٹ کر بھرتے انہیں اتنا اندازہ نہ تھا کہ ایک دن۔۔ ہاں ایک دن حقیقت کا آٸینہ اس طرح کا عکس بھی دکھاۓ گا۔۔ اس طرح کا رنگ بھی دکھاۓ گا۔
اپنے بے طرح ابلتے آنسو، کانپتے ہاتھوں سے پونچتے ان کا دل ہر آن سمندر کی گہری اور لپٹتی لہروں میں ڈوب ڈوب کر ابھر رہا تھا۔ حویلی کے داخلی دروازے سے قد آور گیٹ کی جانب جنونی سے انداز میں بھاگتے ہوۓ انہیں اتنا اندازہ تھا ہی نہیں کہ ان کا ہاشم۔۔ ہاں ان کا ہاشم ان سے کھو چکا ہے۔۔ ان کے ہاتھوں سے جا چکا ہے۔۔ کسی بہتی نہر کے منہ زور پانی میں اس کی لاش آگے ہی آگے بہتی جارہی ہے۔۔ ایک ایسی لاش۔۔ جو انتہاٸ نجس اور بدبودار ہوتی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ولی اسی وقت سردار بابا اور بی جان کے سوالوں پر انہیں مطمٸن کرتا واپس اپنے کمرے میں آیا تھا مگر لگتا تھا کہ قدموں سے کسی نے جان سلب کر لی ہو۔ دھم سے صوفے پر بیٹھتے وہ اس پری زاد ہی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ جس کی خاموش آنکھیں اس کے اندر کٸ دنوں تک کی باتیں چھوڑ جایا کرتی تھیں۔ اگر جو وہ سردار بابا کو ایک دفعہ بھی اس کے رشتے پر غیر مطمٸن یا پریشان دیکھتا تو وہ ضرور ان کا ہاتھ روکتا یا انہیں اس شادی سے منع کرتا لیکن مسٸلہ تو یہی تھا کہ اس نے زمان کو کبھی اس رشتے پر کوٸ اعتراض کرتے دیکھا ہی نہ تھا۔ آخر وہ خود سے اعتراض کرتا بھی تو کس بات پر۔۔۔!
نفیس اور اس حویلی کے ہر لڑکے کا کردار تو اسے معلوم تھا۔ سردار بابا ان سب باتوں سے بے خبر نہیں تھے لیکن بہر حال، وہ ان سب باتوں سے اتنے باخبر بھی نہیں تھے کہ جن سے ولی نے ہمیشہ ان کے سامنے نگاہ چراٸ تھی۔ اگر جو وہ انہیں بتادیتا کہ نفیس بھی انہی جہنمی راتوں کا مسافر ہے کہ جس کا بختیار اور ہاشم عادی تھا تو کیا وہ اپنی اس شفاف آٸینہ سی نازک بیٹی کا نکاح اس سے ہونے دیتے؟ اس سب میں وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ بختیار اور نثار نفیس کی حقیقت سے واقف ہونے کے بعد بھی اپنی بہن کی شادی ہنسی خوشی اس لفنگے سے کررہے تھے تو یہ مشکل ہی تھا کہ اس کے لاکھ دلاٸل پر بھی یہ شادی رک سکتی۔ اسی لیۓ اس نے بہتی لہروں کے ساتھ بہنے کا فیصلہ کرلیا۔ امل جو اس کی وجہ سے اس سارے عذاب، دکھوں اور ذلت کا شکار ہوٸ تھی بہتر تھا کہ اب وہ اس کی زندگی سے کہیں بہت۔۔ بہت دور چلا جاتا اور اس دن کچن میں اسے بلک بلک کر روتے دیکھ کر اس نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ اب وہ اس کے سامنے کسی صورت بھی نہیں آۓ گا۔ کیونکہ اگر اس سے زیادہ وہ اس کا امتحان لے گا تو شاید اس کا گنہگار ہوجاۓ گا، جو وہ کسی بھی صورت ہونا نہیں چاہتا تھا۔ وہ یہی چاہتا تھا کہ جب یہاں سے جاۓ تو ہلکے کندھے اور ہلکے وجود کے ساتھ جاۓ۔۔ وہ اس کی زندگی کو کسی بھی طرح اپنی موجودگی کے باعث تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا سو اس نے بھی وہ فیصلہ کر ہی لیا جو اسے بہت پہلے کرلینا چاہیۓ تھا۔
یہاں سے جانے کا فیصلہ۔۔
کبھی یہاں نہ لوٹنے کا فیصلہ۔۔
سردار بابا اور بی جان کو اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ آتا جاتا رہے گا، ان سے رابطے میں رہے گا وہ انہیں کبھی نہیں بھولے گا۔۔ لیکن درحقیقت وہ نہ تو ان سے رابطہ رکھنے والا تھا، نہ ہی آنے جانے والا تھا اور نہ ہی وہ سردار بابا، بی جان اور امل کے علاوہ کسی کو یاد رکھنا چاہتا تھا۔ سو بس۔۔ اب یہاں سے چلے جانے ہی میں عافیت تھی۔۔ عزت تھی اور سکون بھی تھا شاید۔۔!
اس نے رات کے چار بجاتی گھڑی کی جانب دیکھ کر سر جھٹکا اور پھر واش روم میں شاور لینے چلا گیا۔ وجود پر چڑھی تھکن اور اعصاب پر جمی برف شاید اسی طرح پگھل سکتی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر رخ ڈریسنگ روم کی جانب پھیرا اور پھر اگلے ہی چند لمحوں میں سر کے بالوں کو رگڑتا وہ باہر نکل رہا تھا۔ سنگھار میز کے آگے کھڑے بالوں کو رگڑتے اس کے ہاتھ پل بھر کو ساکت ہوۓ تھے جب اس نے اپنے واٸبریٹ موڈ پر لگے موباٸل کو زوں زوں کی آواز کے ساتھ بجتے دیکھا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک نظر گھڑی کو دیکھا اور پھر پیشانی پر لکیریں لیۓ موباٸل اٹھا لیا۔ اسے اس سارے عرصے میں صرف اتنا ہی اندازہ تھا کہ کرتار پور والوں کی ہاشم سے کیا دشمنی تھی اور وہ انہیں زندہ سلامت کیوں چاہیۓ تھے۔ لیکن اس کال کے بعد اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ انہیں کیوں چاہیۓ تھا۔
انجان نمبر سے آٸ کال اس نے محتاط سے انداز میں رسیو کر کے کان سے لگاٸ اور پھر خاموشی سے کھڑا رہا۔ یہ احتیاط اسے اس جنگل نے سکھا ہی دی تھی۔ پھر اسے کوٸ انجان سی آواز سناٸ دی۔ وہ اس آواز کو نہیں پہچانتا تھا لیکن جو وہ آواز کہہ رہی تھی اسے سن کر اس کا سارا جسم پل میں جم کر پگھلا تھا۔
اس کے آدمی نے ہاشم کی لاش اگلے سے اگلے گاٶں میں دیکھی تھی۔ وہ نہر کے پانی کے ساتھ بہتا اب گاٶں کے کسی کنارے پر بے یار و مددگار پڑا تھا۔ بغیر کسی جنازے اور بغیر کسی غسل کے۔ اس نے خالی خالی نظروں سے سنگھار آٸینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھا۔۔ اس کا دل لمحوں میں سکڑ کر پھیلا تھا۔ تولیہ بیڈ پر ڈالتے اس نے بے جان ہوتے قدموں کے ساتھ خود کو بمشکل کھڑا رکھا۔ اس کا دل واقعی سکڑ کر پھیل رہا تھا۔ کوٸ آواز سی تھی جو اسے بہت بری طرح جھنجھوڑ رہی تھی۔ اس نے بے تحاشہ بند ہوتے دل پر ہاتھ رکھا اور پھر بیڈ پر آبیٹھا۔۔ سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا۔۔ بار بار سر جھٹکا۔۔ کڑے ضبط کی وجہ سے اس کے دانت جم گۓ تھے اور کنپٹی کو جاتی رگ سختی کے باعث پھول گٸ تھی۔۔ نسواری آنکھوں میں گہری سرخی اترنے لگی۔۔ ولی احمد ٹوٹنے لگا۔۔
نہیں۔۔
اس نے بار بار آنکھوں میں آتی گلابی سی نمی کو مسل کر عنقا کیا لیکن یہ کیا۔۔! اس کی آنکھیں اس کے اختیار سے باہر ہورہی تھیں۔ اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ نہیں۔۔ ہاشم کے مرنے کا اسے دکھ نہیں تھا۔۔ اسے اس کا کوٸ افسوس کوٸ ملال نہیں تھا۔۔ مگر جس چیز، جس احساس اور جس خیال نے اسے جکڑلیا تھا وہ تھا اس کا سب سے بڑا خوف۔۔ اس کا دل کو جکڑ کر بھینچنے والا خوف۔۔
بغیر کسی جنازے اور غسل کے مرجانا۔۔ بغیر کسی قبر کے مرجانا۔۔
چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ سیدھا ہوا۔۔ نفی میں زور زور سے سر ہلا کر اپنے اندر شورکرتی سوچوں کو بھی جھٹکنے کی کوشش کی لیکن وہ اس سب کو نہیں جھٹک پایا۔۔ وہ اس سب کو نہیں جھٹک پارہا تھا۔۔
“نہیں۔۔۔”
اس نے پُر شکوہ آسمان کی جانب أٹھاٸ تھی۔ آسمان والا اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔
“آپ مجھے ابھی یہ سب یاد نہیں دلاسکتے۔ میں۔۔ میں نفرت کرتا ہوں اس انسان سے۔۔ نفرت کرتا تھا، نفرت کرتا ہوں اور میں اس سے نفرت کرتا رہونگا۔”
اس نے آج بہت دنوں بعد آسمان والے کو یوں مخاطب کیا تھا۔ ہاں بہت دنوں بعد آج اس نے اللہ سے بات کی تھی۔۔ بات کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن شاید وہ طے کرچکا تھا۔۔ وہ ہی۔۔ جو ہمیشہ سے سب طے کر رکھتا تھا۔۔
“اس نے میری زندگی برباد کر دی تھی۔ اس نے مجھے جیتے جی مار دیا تھا۔۔ اس نے میری ذات پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے اے اللہ۔! آپ مجھے اس وقت یہ سب یاد نہیں دلا سکتے۔۔ آپ ایسا نہیں کرسکتے۔۔”
لیکن اس آواز کے پار اب سب کچھ دھندلاتا جارہا تھا۔ وہ آواز اس سے کہہ رہی تھی کہ وہ اس جیسا نہیں۔۔ وہ اس جیسا کبھی بھی نہیں تھا۔۔ وہ اس ہاشم جیسا کبھی بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس نے کھینچ کر سانس لیا۔۔ اس کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔ سب کچھ اس کے ہاتھ سے ایک بار پھر پھسل رہا تھا۔ وہی چودہ سالہ خوفزدہ سا بچہ ایک بار پھر سے اس کے اندر سانس لینے لگا تھا۔ ولی احمد جانور نہیں تھا۔۔ ولی احمد انسان تھا۔۔ اسے انسان ہی رہنا تھا۔۔ اور بس۔۔
ایک لمحے کی دیر تھی۔۔ ایک لمحے کا فیصلہ تھا۔ ایک ساعت کا تعین تھا۔۔ ساری دشمنیاں، ساری زخم اور سارے قصے جیسے قصہ پارینہ ہوگۓ۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا۔۔ اور سنگھار میز سے چابیاں اٹھاکر باہر بھاگتے اس نے ایک۔ بس ایک پل کو خود کا عکس آٸینے میں دیکھا تھا۔۔
وہ اس مکروہ سے حسین کا ہی بیٹا تھا۔۔ ہاں وہ اسی کی اولاد تھا لیکن عجیب بات تو یہ تھی کہ وہ اس کے جیسا بالکل بھی نہیں تھا۔ اس کے باریکی سے بنے ہونٹ اور اٹھی ناک، گہرے ابرو اور عجیب پرکشش سی نسواری آنکھیں۔۔
اسکے برعکس حسین اور ہاشم کے نقوش بہت بھدے اور خاصے ایک جیسے تھے لیکن ولی۔۔ اس نے آج۔۔ اس پل خود پر غور کیا تھا۔۔ وہ ان جیسا تھا ہی نہیں۔۔ وہ ان جیسا کبھی بھی نہیں تھا۔۔ وہ ان جیسا کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔ کیونکہ وہ انسان تھا۔۔ عزت کرنے والا اور دل رکھنے والا انسان۔ وہ ان جیسا جانور نہیں تھا۔۔ اسی لیۓ وہ جاۓ گا۔۔ ہاں وہ جاۓ گا۔۔ اسے ہی جانا ہوگا۔۔ وہ ان جیسا نہیں ہے۔۔ وہ انسانیت دکھاۓ گا۔۔ اس کا حساب وہ اللہ پر چھوڑتا ہے۔ وہ اس سب کا حساب اللہ کو دے رہا تھا۔۔ اس نے قبول کرلیا تھا کہ اللہ تھا۔۔ اللہ اس کاٸنات کی سب سے بڑی حقیقت تھا۔۔ وہ خود خدا نہیں تھا۔۔ وہ واقعی خدا نہیں تھا اور یہ احساس۔۔ یہ ایک احساس کے خدا کوٸ اور تھا۔ یہ ایک احساس کے میزان اور عدل کا ترازو رکھنے والا خدا اس کے ساتھ تھا تو اسے کسی بات کی پرواہ نہیں ہونی چاہیۓ۔۔ باہر بھاگتے ہوۓ اس کے کندھے بے حد ہلکے تھے۔۔ اس کا وجود گویا ہوا سے بھی زیادہ ہلکا ہوگیا تھا۔۔ اسے ہاشم سے کوٸ ہمدردی نہیں تھی۔۔ اسے اس سے اب بھی نفرت تھی لیکن اب وہ ان جیسا نہیں تھا۔۔ اب اسے اپنا انجام یاد رکھنا تھا کیونکہ کہانیاں اپنے آغاز نہیں انجام کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
کٸ گھنٹوں کی ڈراٸیو کے بعد اس نے صبح ہوتی فجر میں گاٶں کا دروازہ پار کیا۔۔ نہر گاٶں کی داخلی حدود کے ساتھ ہی بہہ رہی تھی۔۔ بہتی جارہی تھی۔۔ اس نے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر گاڑی ایک طرف کو لگاٸ اور پھر کار سے نکل آیا۔ اس نے دیکھا کہ ہاشم کی پھولی لاش سے کٸ فاصلے پر کھڑے لوگ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے، خدا سے معافی مانگتے ایسے انجام سے پناہ طلب کررہے تھے۔ اس نے انہی کے تعاقب میں دیکھا۔۔ کچی زمین پر بلاشبہ وہ ہاشم ہی تھا۔۔ اس کے گیلے بال چہرے پر چپکے تھے اور چہرہ برف سا سفید ہورہا تھا۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اس کی لاش سے ناقابلِ برداشت بدبو اٹھ رہی تھی۔۔ ایسا تعافن اٹھ رہا تھا کہ جس میں سانس لینا بھی محال ہونے لگا تھا۔۔ اسے حیرت ہوٸ۔ کسی کی لاش کا اس قدر جلدی تعافن زدہ ہوجانا حیران کن بات تھی۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کانپتے ہاتھوں سے اس کے سینے پر زور ڈال کر اندر جما پانی باہر نکالا۔۔ پھر بمشکل اس نے گاٶں میں سے چند نوجوانوں کو راضی کیا اس کی لاش اس کے ساتھ اٹھانے میں۔۔ کوٸ بھی اس کی بدبودار لاش کے قریب نہیں آنا چاہتا تھا۔۔ یوں لگتا تھا گویا اس سے سیاہ اعمال کا تعافن اٹھ رہا ہو۔۔
دوچار لوگوں کے ساتھ مل کر اس نے اسے گاڑی میں ڈالا اور پھر لوگوں سے قبروستان کا راستہ پوچھتا آگے بڑھ گیا۔ قبروستان پہنچ کر اس نے قبر کی کھداٸ کرنے والے کے ساتھ مل کر اس کی قبر تیار کی۔۔ لیکن اسے قبروستان میں دفنانے کے بجاۓ اس نے اسے ایک پہاڑی پر دفنایا تھا۔ اسے لحد میں اتارتے اس نے ایک آخری بار اس کا چہرہ دیکھا اور پھر گہرا سانس لیتا قبر سے باہر نکل آیا۔ وہ اسے جنازہ نہیں دے سکا۔۔ نہ ہی غسل۔۔ لیکن ہاں وہ اسے قبر دے سکتا تھا جو اس نے دے دی تھی۔ اس نے کوٸ بھی بے حرمتی کیۓ بغیر اس کو عزت کے ساتھ قبر میں دفنا دیا تھا۔ واپسی کے سارے راستے اس کا دل بہت شانت تھا۔۔ خوشی نہیں تھی لیکن ایک خاص قسم کا سکون تھا کہ اس نے جو کیا وہ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اسے کرنا ہی چاہیۓ تھا۔ اس نے انتقام کی جنگ کے آخر تک انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔۔ ہاں۔۔ وہ اس سب میں بھیڑیا نہیں بنا تھا۔ وہ انسان ہی رہا تھا۔۔ واپسی پر شاور لینے کے بعد آج بہت دنوں بعد۔۔ ہاں بہت بہت دنوں بعد وہ فجر پڑھنے مسجد جارہا تھا۔۔ اگرچہ فجر قضا ہو چکی تھی۔ اگرچہ اسے نماز کی دیر ہوگٸ تھی لیکن آج وہ نماز پڑھنا چاہتا تھا۔۔ آج وہ واقعی نماز پڑھنا چاہتا تھا۔۔
جھکے سر اور ہر بوجھ سے آزاد دل کے ساتھ مسجد میں داخل ہوتے، ولی احمد نے ایک بار پھر اپنی کھوٸ ہوٸ نماز پا لی تھی۔۔
دوسری جانب تاریکیوں میں ڈوبی حسین احمد کی حویلی میں نگار اب تک دروازے پر جمی تھیں اور حسین۔۔ وہ بے حس و حرکت چھت کو سرخ آنکھوں سے تکتا خون کے آنسو رورہا تھا۔۔ ایسے آنسو جو دکھاٸ نہیں دیتے تھے مگر ان کی اذیت اور تکلیف۔۔ سب تکلیفوں اور اذیتوں سے زیادہ کڑی اور دل چیرنے والی ہوتی تھی۔
اگر جو وہ بھی ہاشم اور ولی کی ماٶں کو مارنے کے بجاۓ ان کے ساتھ طریقے سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرلیتا۔۔ اگر جو وہ کبھی بھی کوٸ ایسا راستہ اختیار نہ کرتا جو اسے اس لاغر مقام تک پہنچاتا۔۔ کاش کے وہ بھی ولی کو ہاشم ہی کی طرح پال لیتا۔۔ کاش کہ وہ لوگوں کے ڈر سے زیادہ اللہ کا ڈر دل میں رکھتا تو آج ایسا نہیں ہوتا۔اس نے ہاشم کو نگار کی گود میں لا کر اس لیۓ ڈال دیا تھا کیونکہ پہلے پہل وہ بہت گھبرا گیا تھا۔۔
وہ اس ناجاٸز بچے سے ڈر گیا تھا لیکن جب ولی پیدا ہوا تو حسین اپنے گناہوں پر بہت شیر ہوچکا تھا۔ اسے اب کسی کا بھی ڈر نہیں تھا اور نہ اسے مزید کسی بچے کو پالنے میں دلچسپی تھی۔ اس کی صحت کے لیۓ ایک ہاشم ہی کافی تھا جو کہ آج۔۔ اس وقت اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔
اس کی سرخ پڑتی آنکھوں سے ایک آنسو پھسل کر اس کی سفید بالوں سے چمکتی کنپٹی میں جذب ہوا تھا۔۔
کاش کہ وہ اٹھ سکتا۔ بس ایک بار وہ اس بستر سے اٹھنا چاہتا تھا۔ بس ایک دفعہ کی مہلت درکار تھی اسے۔ وہ ایک بار ولی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنا چاہتا تھا۔ وہ ایک بار اس سے کہنا چاہتا تھا کہ وہ اسے اس گہرے، ہر پل رگوں میں سرایت کرتے احساسِ گناہ سے نجات دلادے۔۔ وہ بس ایک بار اس کے سامنے اپنے کیۓ کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔۔ اگر جو وہ بس ایک بار اٹھ جاۓ۔۔
اس نے اپنا لاغر پڑا ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی، گردن کے اردگرد بچھی رگیں زور لگانے کے باعث پھول گٸیں، دانت جم گۓ، تکلیف بڑھنے لگی۔ آنکھوں کے آگے موت کا سا اندھیرا چھانے لگا لیکن بے سود۔۔ اس سے ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ایک انگلی بھی ہلاٸ نہیں جارہی تھی۔ تیز تیز سانسیں لیتا وجود پہلے سے بھی زیادہ کمزوری محسوس کرنے لگا تھا۔ اگر جو وہ ایک دفعہ بھی اپنے کیۓ پر غور کرلیتا تو آج یہ سب نہیں ہوتا۔۔ لیکن اب سب ہوگیا تھا۔ اب سب ختم ہوگیا تھا۔۔ اس نے بگڑے زاویے والے چہرے پر بہتے آنسوٶں کو بہنے دیا کیونکہ وہ ان آنسوٶں کو صاف کرنے پر اب قادر نہیں تھا۔ اب وہ ان کو صاف کرنے پر کبھی بھی قادر نہیں ہوسکتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے ہی دن اسے قبر کھودنے والے کی عجیب سی کال موصول ہوٸ تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ہاشم، جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا وہ اب دوبارہ قبر سے باہر پڑا تھا۔۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے اسے قبر سے باہر نکالا ہو۔
اس نے ناسمجھی سے ابرو سکیڑے اور ایک بار پھر اس آدمی سے قبر کھود کر ہاشم کو اس میں دفنانے کے لیۓ کہا اور پھر دوبارہ موصول ہوٸ کال پر اس کا سارا جسم سنسنا اٹھا تھا۔۔
“صاحب جی مجھے لگتا ہے اسے زمین قبول نہیں کررہی۔۔”
اور اس بات پر ولی کی پیشانی کا ہر بل ڈھیلا ہوگیا تھا۔ نگاہیں ساکت ہوگٸ تھیں اور سانس تک رک گیا تھا۔۔
“ہاشم کو زمین قبول نہیں کررہی تھی۔۔”
“ہاشم کی لاش کو زمین نے اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کردیا تھا۔۔”
کیونکہ ایک بار پھر سے دفنانے کے بعد اس کی لاش دوبارہ سے باہر دیکھی گٸ تھی۔ وہ اس سارے دن میں سن رہا تھا۔ اچھا۔۔ تو ایسا ہوتا ہے بددعاٶں کا پلٹ آنا۔۔ یا اللہ۔۔!
اسکا دل جیسے لمحے بھر کو لرز کر رہ گیا تھا۔ یہ احساس کہ مرنے کے بعد زمین بھی آپ کے جسم کو قبولنے سے انکار کردے تو کیسا لگتا ہوگا۔۔! اس کی ریڑھ کی ہڈی سرسرا اٹھی تھی۔ جس کا جسم یہ زمین نہیں قبول رہی تھی تو آسمان کی جانب سفر کرتی اس کی روح کا کیا بنا ہوگا۔۔ کیا اسے بھی زمین پر زور سے پھینکا گیا ہوگا۔۔؟ کیونکہ بدکاروں کی تو آسمانوں پر جگہ ہی نہیں تھی۔
اسے ایک بات اس دن بہت اچھے سے سمجھ آگٸ تھی کہ انسان کو خود سے انتقام اور بدلے کے فیصلے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ تو ظالم انسان کے اعمال ہی طے کردیتے ہیں کہ آگے جا کر اس کا کیا بننے والا ہے۔ ہاں۔۔ اسے کسی بھی قسم کے انتقام کے چکر میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ اس کا کام ہی نہیں تھا۔ اس کا کام تو بس اتنا رہ گیا تھا کہ وہ بس خاموشی سے کھڑا ان کو تباہ ہوتے دیکھتا رہتا۔ کرتارپور والوں نے ہاشم کو گولیوں سے چلنی کردیا تھا اور حسین کو محسن نے ایسی حالت میں پہنچا دیا تھا۔ کیا کہیں اس کے کچھ کرنے کی گنجاٸش باقی رہ گٸ تھی۔
اس کی گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸ تھی۔ پہلی بار۔۔ زندگی میں پہلی بار اسے اوپر والے سے کوٸ شکوہ نہیں رہا تھا۔ جس جس نے اس پر ظلم کیا تھا وہ سب آج اپنے انجام کو پہنچ گۓ تھے۔ اسے کسی کو بھی جہنم واصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ جہنم واصل کرنے کے لیۓ تو ان کے اپنے اعمال ہی کافی تھے۔۔ اور ہاں۔۔ اعمال۔۔ جو بہت سی زندگیوں کی بربادی کے ذمے دار تھے۔۔
حویلی سے اپنا سمیٹ کر نکلتے اس نے ایک دفعہ بھی پلٹ کر اس حویلی کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے اس حویلی کو پلٹ کر دیکھا تو وہ پتھر کا ہوجاۓ گا مگر اپنی جگہ سے ہل نہیں پاۓ گا۔
اس حویلی سے بہت دور جاتے اس نے اپنی محبت کو ایک ہی رات پہلے خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ اسکی چلچلاتی دھوپ جیسی زندگی میں ٹھنڈی پھوار جیسی محبت۔۔ اس کی زندگی کی واحد آسانی۔۔ اس کی آتی جاتی سانسوں کو معطر کردینے والی محبت۔۔ ایک ایسی چاہت جس نے اسے گرم تھپیڑوں جیسی زندگی میں نرم بہتی ہوا کا سا احساس دلایا تھا۔ جس نے اسے یہ بتایا تھا کہ اس سب میں اس کا کوٸ قصور نہیں۔ وہ اسے رلانا نہیں چاہتا تھا۔۔ وہ اسے رلا کر نہیں جانا چاہتا تھا لیکن وہ کیا کرتا۔۔ وہ رونے پر مصر تھی اور ولی۔۔ اس نے اندھیرے میں اس کی جانب بڑھتے اپنے ہاتھ کو مٹھی بھینچ کر ڈانٹا تھا۔۔ وہ اس کے آنسو صاف کرنا چاہتا تھا۔ بس ایک دفعہ وہ اس کے آنسو اپنے پوروں پر سمیٹنا چاہتا تھا۔۔ ہاں بس ایک بار۔۔ لیکن کیا یہ ٹھیک تھا؟ اسے اس طرح سے چھونا۔۔ اگلے ہی لمحے اس کا بڑھتا ہاتھ مٹھی میں بند ہو کر نیچے گر چکا تھا۔۔ پھر اس نے اپنا رومال جیب سے نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔ اسے لگا وہ اس کا رومال اس کے منہ پر مار کر چلی جاۓ گی لیکن اس نے بغیر کسی پس و پیش کے خاموشی سے رومال لے کر آنسو پونچھ لیۓ تھے۔۔ اپنی گاڑی کو پوری رفتار سے دوڑاتے وہ بمشکل اپنی بہتی سانسوں کو زہریلا ہونے سے روکے ہوۓ تھا۔ ضبط سے گلابی پڑتی آنکھیں بے حد سپاٹ ہورہی تھیں اور جسم تو جیسے برف کا کوٸ گلیشیر بن گیا تھا۔ لیکن یہ اس کا ان کچی سڑکوں پر آخری سفر تھا وہ جانتا تھا۔۔ بس کچھ پل کی اذیت۔۔ بس چند لمحوں کا عذاب۔۔ ہاں بس کچھ ذرا اور۔۔
دوسری جانب پہاڑی پر پڑی ہاشم کی لاش اب کے گلنے سڑنے لگی تھی۔ اور اس کی لاش سے اٹھتا تعافن اب پھیل کر سارے گاٶں کی فصلوں کو بدبودار کررہا تھا۔۔
ہاشم۔۔ جس کا آغاز اور انجام۔۔
دونوں ہی بھیانک تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ سال بعد۔۔۔
آج پورے ڈیڑھ سال بعد سفید حویلی کے سامنے اپنی گاڑی سے نکلتے ولی نے ایک نظر اس اونچی شان سے کھڑی نگاہیں چندھیادینے والی حویلی کو دیکھا تھا۔ وہ آج بھی، ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ویسی ہی تھی۔۔ بے داغ، ٹھنڈی اور پرسکون۔۔!
گہرا سانس لے کر اس نے قدم اندر کی جانب بڑھاۓ۔ وہ یہاں نہیں آنا چاہتا تھا۔ اس نے یہاں کبھی نہ پلٹنے کا تہیہ کررکھا تھا۔ لیکن پھر بھی، آج نہ جانے کس احساں کے تحت مجبور ہو کر وہ یہاں چلا آیا تھا۔ بس ایک بار سردار بابا، بی جان اور۔۔
اندر بڑھتے ولی نے دل میں ابلتی خواہش پر سر جھٹکا تھا۔ سفید لباس سے ڈھکا اس کا اونچا سراپا آج بھی اتنا ہی خوبصورت اور سحر انگیز تھا۔ پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور خاموش۔ بڑھتی ٹھنڈ کے پیشِ نظر گردن کے گرد لپٹی شال اب بھی ویسی ہی تھی۔۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ یہاں سے گیا ہی نہ ہو۔ بس ابھی ابھی ڈیرے سے پلٹا ہو۔۔
قد آور سا داخلی دروازہ پار کرتے ہوۓ اس کی نگاہ چوکیدار پر پڑی۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ولی مسکرا کر آگے بڑھا۔
چوکیدار بھاگ کر اس سے لپٹ گیا۔ ساتھ ساتھ وہ شاید رو بھی رہا تھا۔۔
اس نے مسکرا کر اسے خود سے الگ کیا۔ پھر گردن ذرا جھکا کر اس کی بوڑھی نم سی آنکھوں کو دیکھا۔۔
“آپ۔۔ صاحب آپ کہاں چلے گۓ تھے۔۔؟ آپ کے جانے کے بعد اس حویلی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا۔ آپ کو یہاں سے نہیں جانا چاہیۓ تھا صاحب۔۔ آپ نے غلطی کی یہاں سے جا کر۔”
اپنے آنسو لرزتی انگلیوں سے صاف کرتا برسوں پرانا چوکیدار زار و قطار رو پڑا تھا۔ اس کی پیشانی پر یکدم فکر ابھری۔۔ ایک نظر سفید ستونوں پر جمی حویلی کو دیکھا۔ دل جیسے کٸ خدشوں سے گھبرا کر پھڑپھڑایا تھا۔
“آپ کیسے ہیں گل بابا۔۔؟”
“میں تو ٹھیک ہوں صاحب لیکن اس حویلی میں اب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔ خدا کا واسطہ سرکار اب یہاں سے کہیں مت جاٸیے گا۔۔”
اس نے بمشکل مسکرا کر ان کی پیٹھ تھپکی اور پھر تیزی سے آگے بڑھا۔ دل دھڑک رہا تھا اور سانسیں اب شاید کسی بوجھ کی وجہ سے مشکل سے چل رہی تھیں۔ داخلی دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی وہ لمحے بھر کو ساکت سا ہوگیا تھا۔ باہر سے بالکل ٹھیک ٹھاک نظر آتی یہ حویلی اندر سے گہری ویرانیوں میں ڈوبی ہوٸ تھی۔ اس نے چہرہ گھما کر در و دیوار سے ٹپکتی وحشت کو دیکھا اور پھر بند ہوتے دل کے ساتھ آگے بڑھا۔ اتنی خاموشی۔۔ ایسی گہری خاموشی تو اس حویلی کا حصہ کبھی نہیں تھی۔ کوٸ خالی پن سا تھا جس نے حویلی کو اپنے آسیب زدہ سے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔ لاٶنج ویران پڑا تھا۔۔ یوں لگتا تھا جیسے یہاں کبھی کوٸ انسان رہے ہی نہ ہوں۔ وہ ساکت نگاہوں سے ویران پڑے لاٶنج کو دیکھے گیا۔ بہت سے منظر جیسے نگاہوں کے سامنے لہراۓ تھے۔
بی جان کی زندگی سے بھرپور آوازیں۔۔ امل کا ان صوفوں پر پیر چڑھا کر بیٹھنا، سردار بابا کی مسکراہٹ۔۔ سب جیسے گزرتے وقت کی دھول میں دھول بن کر رہ گیا تھا۔ اسی لمحے نوراں کچن سے نکلی تو اسے اس طرح ساکت و جامد کھڑے دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گٸ۔ آنکھوں میں ڈھیروں بے یقینی لیۓ وہ چند پل اسے دیکھے گٸ تھی۔ اس نے بمشکل مسکرا کر سلام کیا۔۔ وہ جو اس کی موجودگی سے مبہوت ہوٸ کھڑی تھی سلام کرنے پر یکدم جاگی۔ پھر مزید اس سے کوٸ بھی بات کیۓ بغیر اس نے رخ سردار بابا کے کمرے کی جانب پھیرا تھا۔ اسے بس اب جلد از جلد بی جان اور سردار بابا کو دیکھنا تھا۔۔
کمرے کے باہر پہنچ کر اس نے جیسے ہی دروازہ بجانے کے لیۓ ہاتھ اٹھایا تو اس کا ہاتھ ہوا ہی میں معلق رہ گیا۔ کوٸ دروازہ کھول کر باہر نکل رہا تھا۔ وہ بے اختیار چند قدم پیچھے ہٹا۔
نقاہت زدہ سے زمان نگاہوں پر لگا چشمہ درست کرتے باہر نکل رہے تھے۔ اسے یوں سامنے دیکھ کر وہ بھی جیسے اپنی جگہ پر ٹھہر سے گۓ تھے۔ انہیں لمحے بھر کو اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ اور یقین تو اسے بھی نہیں آرہا تھا زمان کو ایسے دیکھ کر۔۔ اتنے کم عرصے ہی میں وہ اتنے بوڑھے اور کمزور لگنے لگے تھے کہ ولی کے دماغ میں ان کی پچھلی شخصیت کا اثر دھواں بن کر فضا میں تحلیل ہونے لگا۔۔
“ولی۔!!!”
ان کے لب بے آواز ہلے تھے۔ وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھا اور ان کے گلے لگ گیا۔ سردار بابا اب تک بے یقین تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ اس کی مضبوط پشت پر اپنے کانپتے ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کی آنکھیں بلا اجازت بہنے لگی تھیں۔۔ اور پھر وہ یکدم پھوٹ کر رو دیۓ۔۔ بالکل بچوں کی طرح۔۔!!
وہ بوکھلا کر ان سے الگ ہوا۔ سردار بابا واقعی بوڑھے ہوگۓ تھے۔
“سردار بابا کیا ہوا ہے۔۔؟ یہ سب اتنا بدلا بدلا کیوں ہے۔۔؟ سب۔۔ سب ٹھیک تو ہے ناں اور بی جان۔۔ بی جان تو ٹھیک ہیں ناں بابا۔۔۔؟”
سردار بابا نے چشمہ ہٹا کر اپنے آنسو صاف کیۓ اور پھر چشمہ نگاہوں پر جما کر دوبارہ اسے دیکھا۔ وہ آنکھیں پھیلاۓ انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے اسے ہاتھ سے تھاما اور اندر کمرے کی جانب بڑھ گۓ۔ لیکن پھر وہ دروازے کے پاس ہی رک گۓ تھے۔ صرف ولی تھا جو سن ہوتا وجود لیۓ آگے بڑھ رہا تھا۔ بستر پر کوٸ بہت کمزور سا وجود لیۓ خاتون لیٹی ہوٸ تھیں۔۔ انہوں نے آنکھیں موند رکھی تھیں اور چہرہ کمزوری کے باعث زردی ماٸل ہورہا تھا۔۔ آنکھوں کے نچے گہرے حلقے اور بھیگی بھیگی سی پلکیں۔۔ جیسے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی رو کر سوٸ ہوں۔۔ ہاں بلاشبہ وہ بی جان ہی تھیں۔۔ اس کی چمکتی دمکتی سی بی جان۔۔!
وہ آہستہ سے ان کے برابر میں بیٹھا تھا۔ آہستہ سے ہاتھ آگے بڑھا کر ان کا چہرہ چھونا چاہا تو انہوں نے یکدم اپنی آنکھیں کھولیں۔۔ کسی کے لمس کے احساس نے انہیں جیسے جگا دیا تھا۔ اور اسے دیکھتے ہی وہ بے یقینی کے گہرے سمندر سے ڈوب کر ابھری تھیں۔ اس نے انہیں ہاتھ دے کر اٹھایا اور پھر بی جان کو تو جیسے برسوں بعد کندھا میسر آیا تھا۔ اس سے لپٹ کر وہ اپنا ہر غم رو لینا چاہتی تھیں۔۔
“ولی میرا بچہ۔۔ میں نے تجھے بہت یاد کیا ولی۔ تُو کہاں چلا گیا تھا ہمیں چھوڑ کر۔۔ ہم پر کیا کیا ستم ٹوٹے تُو نہیں جانتا ولی۔ سب ختم ہوگیا ہے۔۔ سب کچھ۔”
وہ اس کے مضبوط حصار میں سمٹ کر روۓ جارہی تھیں اور وہ خاموشی سے انہیں تھپک رہا تھا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کہنا چاہیۓ اور کیا نہیں۔ اس کا ذہن ماٶف ہوتا جارہا تھا۔
“ہم بہت تھک گۓ ہیں یہ دن رات ایسی تنہاٸ میں کاٹتے ولی۔ ہم سب بہت تھک گۓ ہیں۔ اب اگر۔۔ اب اگر تُو آگیا ہے تو بچے ہمیں چھوڑ کر نہ جانا۔ یہاں تیرے جانے کے بعد سب ختم ہوگیا تھا۔ سب کچھ۔۔”
ان کی ہچکیاں بندھی تو اس نے انہیں نرمی کے ساتھ خود سے الگ کیا۔ ان کے بوڑھے سے چہرے پر ہاتھ پھیر کر آنسو صاف کیۓ۔۔
“میں اب آگیا ہوں بی جان۔۔ دیکھیۓ گا میں اب سب ٹھیک کردونگا۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔ کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔۔”
اس کے ہاتھوں پر اپنا چہرہ ٹکا کر وہ بے تحاشہ روٸ تھیں۔۔ زمان اب تک دروازے کے ساتھ ہی کھڑے تھے۔ پھر اس نے بی جان کو آہستہ سے لٹایا۔۔ اٹھ کر ان پر چادر ڈالی۔۔ وہ نگاہیں گھما گھما کر اسے دیکھتی تھیں۔ ان کی نگاہیں جیسے ترس گٸ تھیں اسے دیکھنے کے لیۓ۔۔ وہ ان کے پاس ہی بیٹھا ان سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا رہا۔۔ دواٸیوں کا اثر تھا کہ وہ کچھ ہی لمحوں میں سوگٸ تھیں۔ زمان نے اس کا ہاتھ تھاما اور دروازہ آہستگی سے بند کرتے اسے اپنے ساتھ لاٶنج میں لے آۓ۔ وہ اس سرد سی خاموش حویلی کو دیکھ کر حیران ہوۓ جارہا تھا۔۔ آخر اس کے جاتے ہی ایسا کیا ہوگیا تھا کہ سب کچھ اس قدر ویرانی میں ڈوب گیا تھا۔۔ ڈوب چکا تھا۔۔
لاٶنج میں خاموشی سے بیٹھے اس نے بھاپ اڑاتی چاۓ کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھا اور پھر سردار بابا کی جانب نگاہ اٹھاٸ۔ اس کی نگاہوں میں مچلتے بے شمار سوالات کو دیکھ کر وہ تھکا تھکا سا مسکراۓ تھے۔۔
“بی بی تو۔۔ خوش ہیں ناں اپنے گھر۔۔؟!!”
اس نے چاۓ کا کپ اٹھاتے لہجے کو حتی الامکان سرسری رکھا تھا۔ لیکن پھر زمان کی خاموشی پر چونک کر انہیں دیکھا۔۔
“کیا۔۔ خوش نہیں ہیں۔۔؟؟”
اس کا دل رکا تھا۔
“وہ اس گھر سے کبھی رخصت ہو کر گٸ ہی نہیں تھی ولی۔۔!!”
اور زمان کے جواب پر اسے لگا گویا حویلی کی پوری چھت اس کے سر پر آگری ہو۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی پوری دنیا گویا ایک ہی نکتے پر ساکت ہوگٸ تھی۔!
“ہاں ولی۔۔ وہ کبھی اس گھر سے رخصت ہو کر گٸ ہی نہیں تھی۔ نکاح تو تم جانتے ہو ہمارے یہاں پر دوپہر ہی میں کردیا جاتا ہے، رخصتی تو شام کو کہیں جا کر ہوتی ہے۔ نکاح ہوجانے کے بعد نفیس اور بختیار اپنے دوستوں کی ہمراہی میں شہر گۓ تھے جہاں اس کے دوستوں نے ان دونوں کو زبردستی وہ حرام شے پلاٸ۔۔!”
سردار بابا جیسے بولتے بولتے تھکنے لگے تھے۔ وہ پتھر کا مجسمہ بنا، بِنا پلکیں جھپکاۓ انہیں دیکھ رہا تھا۔۔
“شہر سے واپسی پر شراب کے نشے میں دُھت ہو کر ڈراٸیو کرتے ہوۓ نفیس کا ایکسیڈینٹ ہوا اور وہ وہیں، اسی مقام پر مرگیا لیکن ساتھ بیٹھے بختیار کی ٹانگیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ معذور ہوگٸیں۔ سب کچھ ختم ہوگیا ولی۔ ہماری زندگیوں کو تو پچھلے ڈیڑھ سال سے زنگ لگا ہوا ہے بچے۔”
اس پر جیسے ہر خبر پہاڑ بن کر ٹوٹ رہی تھی۔ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کونسا تاثر درکار ہے اور کونسا نہیں۔ خالی خالی وجود لیۓ وہ جیسے پلکیں تک نہیں جھپک رہا تھا۔
“کیسی بےحس اولاد ملی ہے ناں مجھے ولی کہ وہ نفیس کے کردار اور سرگرمیوں سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود بھی اپنی بہن کو اس سے بیاہ رہے تھے۔ میری بے قصور بچی کو اس عذاب میں پھنسا رہے تھے۔ زمانی نے اپنی اولادوں کا ایسا دل دہلادینے والا دکھ کیا دیکھا چارپاٸ ہی پکڑ لی۔ بختیار کے معذور ہونے کے بعد سے بیمار رہنے لگی ہے۔ تمہیں اکثر یاد کر کے رو پڑتی تھی۔ اور میں۔۔ میری تو زندگی بھر کی ریاضت پر، میری اولاد نے لات ماری ہے ولی۔۔ میں تو اپنے پرکھوں، اپنے اللہ کو منہ تک دکھانے کے قابل نہیں رہا۔۔”
انہوں نے آنکھوں سے عینک ہٹا کر نگاہوں میں چھاتی گلابی سی دھند کو انگلیوں سے مسلا اور عینک دوبارہ سے لگا کر اسے دیکھا جو اب تک مجسمہ بنا انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“اس ایکسیڈینٹ نے نفیس کی جان لے لی اور بختیار کو زندگی بھر کے لیۓ معذور کردیا۔”
وہ خاموش ہوۓ تو ساری حویلی میں سناٹا چھا گیا۔۔ حویلی واقعی سناٹوں میں ڈوب گٸ تھی۔۔
“میری امل۔۔ میری معصوم بچی ولی۔۔ اس حادثے کے بعد اس کا کوٸ رشتہ نہیں آیا۔ لوگ اسے منحوس گردانتے ہیں، کہ وہ نکاح ہوتے ہی اپنے شوہر کی زندگی کو کھا گٸ۔”
نہ جانے لوگ ایک کی سزا دوسرے کو کیوں دیتے تھے؟ ایک کے کیۓ گۓ جرم کی پاداش میں دوسرے کو کیوں تختہ دار پر لٹکا دیتے تھے؟۔۔ پہلے دنیا اس کے ماں باپ کے کیۓ کی سزا اسے دیتی رہی اور اب نفیس کے کیۓ کی سزا امل کو سناٸ جارہی تھی۔ جانے معاشرے کی یہ زہر آلود سوچ کب بدلے گی۔۔؟ کب لوگ ایک کے کیۓ کی سزا دوسرے کو دینا چھوڑیں گے۔۔؟
وہ تاسف سے انہیں دیکھتا سوچ رہا تھا پھر گہرا سانس لے کر اندر کی کثافت کو کم کیا۔۔
“مجھے بختیار سے ملنا ہے سردار بابا۔۔۔”
اور پھر وہ چند لمحوں بعد بختیار کے لاغر وجود کے سامنے بیٹھا تھا۔ بیڈ پر ہڈیوں کا کوٸ ڈھانچہ دراز تھا۔ اس کی ٹانگوں پر ایک چادر ڈلی تھی اور باقی سارا جسم بے حد کمزور اور بے بس تھا۔۔
“تم آگۓ ولی۔۔!”
اس کی تھکی تھکی سی آواز اس کی سماعت سے ٹکراٸ تھی۔
“تم اب کہیں مت جانا ولی۔ اس حویلی کو چھوڑ کر اب تم کہیں مت جانا۔ اس حویلی کو تمہاری ضرورت ہے ولی۔ ہماری۔۔ ہماری بد اعمالیاں اس حویلی کی برکت کو کھا گٸیں۔ ہم اسی زعم میں رہے ساری زندگی کہ ہم حلال ہیں تو ہر حرام کام ہمارے لیۓ حلال کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ولی۔۔”
اس کی آنکھ سے آنسو پھسل کر کنپٹی میں جذب ہوا تھا۔۔
“میں نے اس معذوری کے کڑے وقت میں جان لیا ولی کہ حرام اور حلال سے پیدا ہونا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ حرام اور حلال طریقے سے زندگی گزارنا انسان کے بس میں ہوتا ہے بس۔۔! لیکن میری بد نصیبی دیکھو ولی کہ مجھے یہ بات اس ناکارہ سے وجود کے ساتھ سمجھ آٸ ہے۔۔ بیشک۔۔ بیشک انسان ٹھوکر کھاۓ بغیر نہیں سنبھلتا۔ اور ٹھوکریں کھانے کے بعد سنبھلنے والے تو پہلے ہی اپنا سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔۔ جیسے۔۔ ولی جیسے میں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔۔”
وہ پھوٹ پھوٹ کر اپنی سیاہ کاریوں کو یاد کرتا روپڑا تو ولی نے گہرا سانس لیا۔۔ یہ سب آخر ہو کیا گیا تھا۔۔؟ وقت کے بڑے بڑے فرعون اب اس طرح سے روتے بلکتے اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہے تھے۔ اس کے سامنے اس کی ساری رعونت، سارا تکبر، سارا جاہ و جلال خاک ہوا پڑا تھا۔۔ ولی چپ چاپ گہرے افسوس کے ساتھ اسے دیکھے گیا۔ اس نے جن سے انتقام لینے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا قدرت نے اس کا انتقام ان سے بھی لے لیا تھا۔
بختیار کی چھوٹی بیٹی اور اس کی بیوی کی بے بسی دیکھ کر اسے بہت اذیت ہوٸ تھی۔ تکلیف کے ایک گاڑھے سے احساس نے لمحوں میں اس کے جسم کا احاطہ کیا تھا۔ لمحوں بعد اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹانے کے بعد بختیار نے اس کی جانب اپنا لرزتا ہاتھ بڑھایا تو اس نے بے اختیار اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ زار و قطار رو رہا تھا۔ اسے ساری زندگی اب رونا ہی تھا۔۔ بیڈ کے ساتھ لگ کر کھڑی شازیہ بھی اپنے شوہر کی بے بسی پر آنسو بہانےلگی تھی۔ اور وہ خاموشی سے اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
“میں امل بی بی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں سردار بابا۔۔”
اس کا لہجہ مضبوط تھا۔ جو بدعمل نہیں ہوتے ان کے لہجے اٹل ہی ہوا کرتے ہیں۔ سردار بابا چند لمحے اسے دیکھتے رہے اور پھر انہوں نے اسے بھینچ کر گلے لگا لیا تھا۔۔
“تم میرے بیٹے ہو ولی۔۔”
وہ رورہے تھے۔۔ وہ صرف ولی کے گلے لگ کر رو سکتے تھے۔ ولی نے گلابی پڑتی آنکھیں موند لی تھیں۔ اسے جیسے برسوں بعد قرار آیا تھا۔۔
انہوں نے اسے خود سے الگ کر کے اس کا چہرہ دیکھا۔۔ وہی مبہوت کردینے والا خوبصورت روشن سا چہرہ۔۔
“میں اس کا نکاح تم سے کرنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں کرنا چاہتا ولی۔۔”
ان کی بات پر وہ کھل کر مسکرایا۔۔
“لیکن مجھے چند گھنٹوں کی مہلت چاہیۓ سردار بابا۔ کیونکہ مجھے اپنے کچھ لوگوں کو بلانا ہوگا اس نکاح میں۔۔”
“ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔ جب تک میں زمانی کو جا کر بتاتا ہوں۔۔”
خوشی سے پھولے، بھراۓ ہوۓ لہجے میں کہتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھے تو اس نے ایک نظر اٹھا کر اس کے کمرے کے بند دروازے کی جانب دیکھا اور جیب سے موباٸل نکالتا باہر کی جانب بڑھا۔۔ یکدم ہی جیسے ویران پڑی حویلی سے خوشبو سی آنے لگی تھی۔۔ آنے والے ساعتوں کی خوشبو۔۔! بہت سے وقت بعد اچھے وقت کی خوشبو۔۔ سانسوں تک کو معطر کردینے والی محبت کو پالینے کی خوشبو۔ جو بات اس نے برسوں سے زمان سے نہ کہنے کا تہیہ کررکھا تھا وہ بات اس نے لمحوں میں کہہ کر جیسے ساری زندگی کے انتظار کا حساب چکتا کرلیا تھا اور آج۔۔ آج وہ واقعی بہت خوش تھا۔ کیونکہ امل۔۔ وہ اسی کے لیۓ طے کی گٸ تھی۔ اسے اسی کا ہونا تھا۔۔ وہ کسی اور کی کبھی تھی ہی نہیں۔ باہر کی جانب بڑھتے اس کے قدموں کی دھمک میں اب کے آنے والی ساعتوں کی خوشیاں دھمک رہی تھیں۔۔ کیا وقت ایسے بھی پلٹ جاتا ہے۔۔ ایسے۔۔ یوں لمحوں میں۔۔۔؟
اس سے بھی جلدی پلٹ جاتا ہے۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ولی۔۔”
اصغر کی مصروف سی آواز سناٸ دی تھی اسے۔۔
“اصغر یار میں شادی کررہا ہوں۔۔”
“ہیں۔۔!! شادی کے لیۓ ایک عدد لڑکی کی بھی ضرورت ہوتی ہے محترم۔۔ وہ کہاں سے لاٶ گے۔۔؟”
وہ اسی وقت ورک آٶٹ کر کے فارغ ہوا تھا اور اپنی گردن پر آیا پسینہ تولیۓ سے صاف کرتا پانی کی بوتل منہ کو لگا گیا تھا۔۔
“لڑکی ہے۔ میں امل بی بی سے شادی کررہا ہوں۔۔”
دوسری جانب اصغر کو زور دار کھانسی آٸ تھی۔ اس کے منہ سے سارا پانی کسی فوارے کی صورت ابل کر بہہ نکلا تھا۔
“کیا۔۔ کیا کہا۔۔؟”
اس نے بوتل ٹیبل پر رکھ کر بے یقینی سے فون کان سے ہٹا کر دیکھا تھا۔ اسے لگا جیسے ولی کا دماغ چل گیا ہے۔۔
“سچ میں۔۔ آج شام ہے نکاح۔۔”
دوسری جانب ولی جیسے مسکرایا تھا ۔۔
“ایک منٹ۔۔ مجھے سمجھاٶ کیا کہہ رہے ہو تم۔۔”
“اصغر میں کہہ رہا ہوں کہ میرا نکاح ہے آج شام تم جلدی سے سفید حویلی پہنچو اور ہاں حسن سر کو میں خود بتاٶنگا تم مت بتانا۔۔”
“ابے سالے ٹھہر تو سہی۔۔”
لیکن ولی فون رکھ چکا تھا۔ وہ جلدی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگا۔ اسے ابھی اپنا کرتا بھی استری کرنا تھا۔ دانت پیستا وہ عجلت میں اپنی وارڈراب کھولے اب کُرتا تلاش کررہا تھا۔ اور ایک تو اس کی وارڈراب۔۔ جس میں ہمیشہ زلزلہ ہی آیا رہتا تھا۔۔
دوسری جانب اپنے آفس میں بیٹھے حسن صاحب سامنے براجمان کسی ادھیڑ عمر سے وکیل سے کیس ڈسکس کررہے تھے یکدم فون بجنے پر اس طرف متوجہ ہوۓ۔ ایسے میٹنگ کے درمیان وہ فون نہیں اٹھایا کرتے تھے مگر ولی کی کال کو نظر انداز کرنا انہیں آتا ہی نہیں تھا۔
“ہاں ولی کہو۔۔”
اگلی بات سن کر وہ سیدھے ہو بیٹھے۔
“اچھا۔۔ اوہو۔۔ کب تک ہے نکاح۔۔؟ “
“آج شام۔۔ چلو بس ٹھیک ہے میں پہنچتا ہوں۔”
فون کان سے ہٹا کر مسکراتے ہوۓ اب وہ کوٸ نمبر ڈاٸل کررہے تھے۔ انہیں جیسے یہ بھول گیا تھا کہ کوٸ باقر صاحب بھی ان کے سامنے بیٹھے ہیں۔۔ ان صاحب نے انہیں ناسمجھی سے دیکھا۔۔ حسن نے چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا اور پھر عجلت میں اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔
“باقر ہم اس کیس کو بعد میں ڈسکس کرینگے۔ ابھی مجھے ایک ضروری جگہ پہنچنا ہے۔ میں بعد میں بات کرتا ہوں تم سے۔”
فون کان سے لگاتے وہ جلدی سے باہر کی جانب بڑھے تو ہونق بنے باقر صاحب بھی فاٸلیں سمیٹتے ان کے پیچھے باہر بھاگے۔۔
قانتہ بس ابھی اسٹاف روم سے نکل کر زین کو لینے اس کی کلاس کی جانب بڑھ ہی رہی تھیں کہ ان کے ہاتھ میں پکڑا فون یکدم بج اٹھا۔ دھوپ کے باعث آنکھیں سکیڑ کر انہوں نے فون کی اسکرین پر ہاتھ کا چھجا بنا کر رکھا اور پھر ولی کا جگمگاتا نمبر دیکھ کر جیسے ان کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی۔ انہوں نے کال رسیو کی اور اندر کی جانب بڑھیں۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے ٹھہر بھی گٸیں۔۔ آنکھیں پھیل گٸ تھیں اور لب وا تھے۔
”کب ہے نکاح اور ایسے اچانک۔۔ کہاں پر ہے۔۔؟“
انہیں سمجھ نہیں آیا کہ کیا پوچھنا چاہیۓ۔۔
”امل۔۔ امل زمان۔۔!! “
”اوکے اوکے بس میں نکلتی ہوں کچھ دیر میں۔۔“
فون کان سے ہٹا کر پورے دل سے مسکراتی ہوٸیں وہ زین کو لینے اس کی کلاس کی جانب بھاگی تھیں۔ ولی اور امل کا نکاح۔۔ یا اللہ ان کا نکاح۔۔ اتنی ساری خوشیاں۔۔ ان کا بس نہ چلتا تھا اڑ کر سفید حویلی پہنچ جاٸیں۔ اب وہ زین کو لیۓ تیزی کے ساتھ قدم اٹھا رہی تھیں۔۔ اور زین گردن اٹھاۓ ان سے ایک ہی سوال کررہا تھا۔۔
”ماما ہم کہاں جارہے ہیں۔۔؟“
”بیٹا ولی کی شادی ہے۔۔“
”شادی۔۔ وہ ہی ناں جس میں دُلہن ہوتی ہے۔۔؟“
اسے بس شادی کی یہی ایک نشانی یاد تھی۔ تیزی کے ساتھ قدم اٹھاتیں قانتہ ہنس پڑی تھیں۔۔
محسن جو اپنے کیبن سے بریک ٹاٸم میں کافی پینے نکلا تھا۔۔ بجتا فون جیب سے نکال کر اب چلتے ہوۓ ساتھ ساتھ کافی کے گھونٹ بھی بھر لیتا تھا۔۔
”جی جی ولی سر۔۔“
انداز کی لاپرواہی جیسے پل میں سمٹی تھی۔ کافی اس کی بے وقت کی کال پر ہاتھ سے چھوٹ کر گرتے گرتے بچی۔۔
”شادی۔۔ لیکن یہ کس طرح کا انویٹیشن ہے۔۔؟“
کافی جھک کر ایک ٹیبل پر رکھتے اب وہ پوری طرح سے فون کی جانب متوجہ تھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اسے بھی کافی اٹھا کر بھاگنا پڑا کیونکہ ولی کا نکاح تو دو گھنٹوں بعد ہی تھا۔۔
اس نے مسکرا کر ایک آخری فون کال ملاتے ہوۓ دور سبزہ زار کو دیکھا تھا۔ جاسم جو اسی وقت سرجری روم سے ایک طویل اور تھکا دینے والی سرجری کر کے نکلا تھا، آفس میں بجتا فون دیکھ کر گلوز اتارتا ادھر پلٹا۔۔
”ہاں ولی۔۔ “
اس نے جھک کر ایک فاٸل بھی اٹھا لی تھی۔۔
”کیا۔۔ کب۔۔؟؟ لیکن اتنا جلدی۔۔!! اچھا میری بات۔ میری بات تو۔۔“
مگر ازل کا اکھڑ سا انسان اسے مزے سے دعوت دے کر فون رکھ چکا تھا۔ اس نے غصے سے فون کو گھورا اور اپنا کوٹ اتار کر ہاتھ میں لیتا باہر کی جانب بڑھا۔۔ یہ ولی اور اصغر۔۔ دونوں کسی دن ایسی نا گہانی خبریں دینے پر مار کھاٸیں گے اس سے۔۔!! کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھتے اب وہ گاڑی گھر کی جانب موڑ رہا تھا۔۔
وہ بلاشبہ سب کا ورکنگ ڈے تھا جسے ولی احمد اچھی طرح سے برباد کر چکا تھا لیکن اسے پھر بھی پتہ تھا کہ وہ سب ضرور آٸیں گے۔ اس کی خوشیاں دیکھنے تو ضرور ہی۔۔! مسکرا کر سر جھٹکتے اب وہ اندر بڑھ رہا تھا۔ اس کے انداز کا ازلی سا بیزار پن اور سپاٹ سا تاثر جیسے اس تھوڑے سے عرصے میں سبزہ زار کی فضا میں تحلیل ہو کر گم ہوچکا تھا اور اس بار جو ولی تھا وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ جو مسکرانے والی کسی بات پر بھی نہیں مسکرایا کرتا تھا اب اس طرح مسکرا رہا تھا۔۔ بغیر کسی بات اور ٰبغیر کسی وجہ کے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
