Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 4)

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

”ولی۔۔ ادھر آ۔۔۔ “ نثار نے تحکم سے اسے پاس بُلایا تھا۔ یہ اُن وقتوں کی بات ہے جب ولی صرف تیرہ سال کا تھا۔ اس سے بڑے نثار، بختیار، نذیر یہاں تک کے گھر کے کچھ ملازم بھی اسکی تذلیل کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ وہ ان سب سے سہما سہما ڈرا ڈرا رہتا تھا۔ کبھی وہ لوگ اسکے پیچھے حویلی کے کتّوں کو لگا دیتے اور وہ بھاگ بھاگ کر اپنی جان بچاتا کبھی کتّے اسکو بُری طرح زخمی کر دیا کرتے تھے اور کبھی محلّے کے بچوں سے اسکو پٹوایا جاتا تھا۔ اسکے اسکول، کالج یہاں تک کے یونیورسٹی میں بھی لوگوں کو اسکے ماضی سے آگاہ کرنے والے اس حویلی کی اولادیں تھیں جو اس سے ہر گزرتے لمحے میں نفرت کیا کرتی تھیں۔ اسے انکی نفرت کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آٸ تھی۔ لوگ اسے مکروہ گردان کر اس سے فرار کیوں چاہتے تھے اسے اس بات کی سمجھ اتنی چھوٹی عُمر میں آ بھی کیسے سکتی تھی مگر اسے اس بات کا اندازہ تھا کہ جو بھی اس سے اسکے باپ کا نام پوچھتا تو پوچھنے والے کے چہرے پر عجیب قسم کی کمینگی پھیلی ہوتی۔ وہ جواب سے زیادہ اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات سے حظ اُٹھایا کرتے تھے اور سب سے زیادہ اذیت اسے یہی ایک چیز دیتی تھی۔۔

نثار کے بُلانے پر وہ سہما سا قریب آکھڑا ہوا تھا۔۔ بختیار، ہاشم، نفیس اور نذیر آپس میں باتیں کررہے تھے۔ اسے آتا دیکھ کر یکدم خاموش ہوۓ۔۔

”ارے ولی۔۔ ذرا اپنے باپ کا نام تو بتا۔۔“

نثار نے سفّاکی سے مسکرا کر اسکے چہرے پر سوال کا طمانچہ مارا تو وہ ضبط سے سُرخ ہو گیا۔ وہ چاروں بھی متوجہ ہوکر اسے دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔

”بتا ناں۔۔“ ہاشم نے حد کردی تھی کمینگی کی۔۔

”مجھے نہیں پتہ۔۔ آپ لوگ مجھ سے ایسے سوالات مت کریں۔۔ میں بی جان کو بتا دونگا۔۔“

اس نے زور سے مٹھی بھینچ کر سُرخ چہرے کے ساتھ کہا۔۔

”اے۔۔ زیادہ بک بک مت کر۔۔ سیدھی طرح سے بتا دے“

اب کے بختیار نے کہا تو اس کا خون کھول اُٹھا۔

”مجھ سے ایسی باتیں مت کریں آپ لوگ۔۔“

اسکی نسواری آنکھیں اب کے بھیگنے لگی تھیں۔۔ غصّے سے۔۔ غم سے۔۔ وہ لوگ اسکی عزت کو تار تار کررہے تھے۔۔ اسے بے لباس کرنے میں کوٸ کسر نہیں اُٹھا رکھتے تھے۔ اسکا وجود بکھرنے لگا تھا۔ اسکا بچپن اذیت بننے لگا تھا۔ اسکی زندگی عذاب کا گڑھا بنتی جارہی تھی۔۔

”حرام زادہ۔۔“

نذیر احمد کی پھنکار نے اسے پل میں بھسم کردیا تھا۔۔

”حرام کی اولاد۔۔ ہمارے گھر میں آکر۔۔ ہمارے سامنے کھڑا ہوکر۔۔ ہمیں ہی جواب دیتا ہے۔۔“

بختیار نے اسکے معصوم رخسار پر رکھ کر زنّاٹے دار چانٹا مارا تو وہ دُور جا گرا۔ اسکے ہونٹ سے خون آنے لگا تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے ہونٹ کو چُھوا۔ رول دیا تھا۔۔ اسکے ماں باپ نے اسے مٹی میں رول دیا تھا۔۔

بختیار اب اسے لاتوں سے ماررہا تھا۔ وہ اسکے باپ کی محبّت میں حصّے دار تھا۔ وہ اسکے حصّے کی محبّت ان سے لے رہا تھا۔ وہ اسے بالکل برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔ہرگز نہیں۔۔

وہ ہذیانی انداز میں لاتیں اسکے منہ پر ماررہا تھا۔ اور ولی نیچے گِرا بلبلا رہا تھا۔ اسکا لباس خاک آلود ہوگیا تھا۔ کھینچا تانی میں جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا۔۔

کسی نے بی جان کو اطلاع کی تو وہ دوڑتی ہوٸیں حویلی کے پیچھے والے دالان میں آٸیں۔ بختیار مستقل اسکے چہرے پر لاتیں ماررہا تھا۔ وہ چاروں بیٹھے دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔

اور ولی۔۔ وہ تڑپ رہا تھا۔۔ ماہی بے آب کی طرح۔۔ انکا کلیجہ منہ کو آیا۔۔

”بختیار چھوڑ ولی کو۔۔ کمبخت میں کہتی ہوں دفع ہو یہاں سے۔“

وہ اندھا دھند دوڑتی ہوٸ آٸیں اور بختیار کو پرے دھکیلا۔۔

ولی بے دم سا ہوا گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ اسکی آنکھیں بند بند ہورہی تھیں۔

”کچھ خدا کا خوف کرو تم لوگ۔ بچے کو اذیت دیتے کونسی تسکین پہنچتی ہے تم سب کو۔۔؟“

وہ اسکو ساتھ لگاۓ ان کو کوس رہی تھیں۔۔ بختیار نے پیشانی پر اُبھرا پسینہ آستین سے رگڑا۔۔

اس واقعے کے بعد ولی کو شدید بخار نے آگھیرا تھا۔ وہ مستقل بیمار رہنے لگا تھا۔ اسکا اندر کھوکھلا ہوگیا تھا۔ اسکا وجود۔۔ اسکی سوچ۔۔ سب خالی ہوگیا تھا۔ اسے لوگوں سے ملنے کے خیال ہی سے خوف آنے گا تھا۔ وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتے تو اسکے وجود پر سانپ لوٹنے لگتے۔ اسکی روح جُھلس کر خاک ہوجایا کرتی تھی۔ وہ خود کو آٸینے میں دیکھتا تو دل کرتا کہ آٸینہ توڑ ڈالے۔ اپنا منہ نوچ لے۔ اسکی ذات پل پل مررہی تھی۔ وہ پل پل زہر دیا جارہا تھا۔ اور اس زہر کی کڑواس نے اسکے خون تک کو زہریلا کردیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”ولی احمد۔۔“

زمان نے اسے محبت سے پُکارا تو اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔

”مت کہیں مجھے ولی احمد۔ نہیں ہوں میں آپکے خاندان کا حصّہ۔ ناجاٸز ہوں میں۔ گند کی پوٹلی ہوں۔ کیوں نٸ زندگی دی آپ نے مجھے سردار بابا۔۔“

اسکی ہچکی اُبھری۔ آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا تھا۔

”کیوں کیا آپ نے میری ذات پر احسان۔۔؟ کیوں مجھے اپنی پاکیزہ زندگیوں میں جگہ دی سردار بابا۔۔؟ میں تو خاک تھا۔۔ خاک ہوں۔۔ آپ نے مجھے کیوں اس عذاب میں ڈال دیا۔۔“

زمان نے تکلیف سے اسکی بکھرتی شخصیت کو دیکھا۔۔ کون بد نصیب تھے جنہوں نے اسے معاشرے کے ظالم بھیڑیوں کے حوالے کردیا تھا۔۔

”بچے میری بات۔۔“

”مت کہیں مجھے بچہ۔۔ نہیں ہوں میں بچہ۔“

اس نے انکی بات کاٹی تھی۔ اسکا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ آواز تک لرز رہی تھی اسکی۔۔

”کیوں اُٹھایا آپ نے مجھے مسجد کے دروازے سے۔۔؟ اُٹھا لیا تھا تو کسی جانور کے آگے ڈال دیتے۔ مجھے اتنی اذیت تو نہ ہوتی سردار بابا۔۔ “

وہ بے اختیار زمین پر بیٹھا تھا۔۔ اسکے قدموں سے جان ختم ہورہی تھی۔ زمان نے آگے بڑھ کر اسے خود میں بھینچا۔ اسکی روشن پیشانی پر بوسہ دیا۔۔

”بس میرا بچہ۔۔“

”کیوں چھوڑ دیا مجھے میرے والدین نے سردار بابا۔۔“ وہ ہچکیوں سے رورہا تھا۔ ”میں کتنا بد نصیب ہوں۔“

”بد نصیب تو نہیں۔۔ بد نصیب وہ ہیں۔۔“

”مجھے مار دیں سرداربابا۔ اس پر یکدم ہذیانی کیفیت طاری ہو گٸ تھی۔۔ ”میرا گلا دبا کر مار دیں۔ یہ احسان میری ذات پر کر دیں میں۔۔ میں آپکو اپنا خون معاف کرتا ہوں۔۔“ اسکی دُہاٸ پر زمان کانپ کر رہ گۓ تھے۔۔

”نہ میرا بچہ۔۔ زندگی خدا کی نعمت ہے۔ اس نے مشکلیں رکھیں ہیں تو آسانی بھی ساتھ ہی رکھی ہے۔۔ یہ مایوسی اچھی نہیں ہے۔۔“

مگر اسے شدید کیفیت کے باعث بخار نے آگھیرا تھا۔ اسے نشہ آور دواٸیں دے کر سُلایا اور زمان کمرے سے نکل آۓ۔۔

”بختیار۔۔۔ نثار۔۔“ انکی چنگھاڑتی آواز نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔

”جی آغا جان۔۔“ وہ دونوں دوڑتے ہوۓ لاٶنج میں آۓ۔۔ وہ لب بھینچے آگے بڑھے اور دونوں کو زنّاٹے دار تھپڑ رسید کیا۔۔

”کسی انسان پر ظلم کرتے شرم نہیں آٸ تم دونوں کو۔ کیا ہو تم دونوں۔۔ خود کیا ہو؟۔۔ کبھی اپنے اس مکروہ وجود کو آٸینے میں نظر بھر کر دیکھا ہے۔۔؟ دیکھا ہے۔۔!“ وہ دھاڑے تھے۔۔ ”خدا کی مخلوق پر ظلم کرکے کونسی برتری ثابت کرنا چاہتے ہو۔۔؟ تم اسی لیۓ افضل ہو کیونکہ اپنی ماں باپ کی آغوش میں رہے ہو بچپن سے۔۔ بس اسی لیۓ اتنی اکڑ ہے۔۔! ارے ڈرو اُسکے قہر سے۔۔ اُسکے عذاب سے۔۔ وہ رب تمہیں ایسی جگہ پیدا کردیتا تو کیا کرلیتے تم لوگ۔۔!! یہ گھمنڈ۔۔ یہ غرور۔۔ یہ خاک ہے سب۔۔ کوٸ اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوا اس دنیا میں۔۔ اسکو کوستے ذرا سوچا ہوتا تو نوبت یہاں تک ہرگز نہیں آتی۔۔“

انکی آنکھیں سُرخ ہورہی تھیں۔۔ بی جان اور ملازم بھی اکھٹے ہوگۓ تھے۔۔

”ہاں تو آپ نے کیوں اسکو اس گھر میں پالا ہوا ہے۔۔؟ حسن تایا اور حُسین تایا نے تو ایسے کسی لے پالک کو گھر میں نہیں گُھسایا۔۔ پھر آپکو کیا پڑی ہے زمانے بھر کا گند خود کے سر لینے کی۔۔؟“

بختیار نے انتہاٸ بد تمیزی سے کہا تو زمان چند پل ضبط سے اسے دیکھتے رہے۔۔

”جانتا ہوں میں کہ تمہارے منہ میں کس کی زبان بول رہی ہے۔ اچھے لوگوں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے تو کبھی اس قسم کی غلاظت تمہارے منہ کے راستے باہر نہیں نکلتی۔۔“

”لیکن بختیار سہی کہہ رہا ہے آغا جان۔۔ اسکا ہمارے گھر میں ہمارے خاندان میں کوٸ حصّہ نہیں ہے۔۔ وہ اس گھر میں کیوں رہ رہا ہے پھر۔۔؟“

نثار بھی بھاٸ کی دیکھا دیکھی شیر ہونے لگا تھا۔۔ زمان کا چہرہ سُرخ ہونے لگا۔۔

”جب خدا کسی چیز کی استطاعت دیتا ہے ناں تو بروزِ حشر وہ اس استطاعت کی بابت استفسار کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ میں خدا کے سامنے اور اپنے پُرکھوں کے سامنے اس بڑے دن میں مجرموں کی طرح گردن جُھکا کر نہیں جانا چاہتا اور رہے تمہارے تایا جان تو وہ اپنے اعمال اپنے فیصلوں کے خود ذمّہ دار ہیں۔ وہ اس روز اللّہ کو خود جواب دینگے میں انکی جگہ جواب نہیں دونگا۔۔ کوٸ کسی کی جگہ جوابداری نہیں کرسکتا۔ یہ بندے اور رب کا معاملہ ہوتا ہے۔۔ میں نے اسکو اس گھر میں لاکر۔۔ اسکی پرورش کرکے اسکی ذمّہ داریاں اُٹھا کر اسکی ذات پر نہیں اپنی ذات پر احسان کیا ہے۔۔ نیکیاں انسان اپنے لیۓ کرتا ہے۔۔ کوٸ دوسرا آکر تمہارے لیۓ کبھی کچھ نہیں کرے گا۔۔“

”آپ کی نیکیاں آپ کو مبارک ہوں آغا جان مگر مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں کہ اسے برداشت کروں۔۔ وہ مجھے بلکہ اس گاٶں کے ہر شخص کو ناگوار گزرتا ہے۔ پتہ نہیں آپ کو کونسی نیکی کمانی ہے۔۔“

بختیار نے اپنے باپ سے انتہاٸ بیزار ہو کر کہا تو زمان زہر خندہ سا مسکراۓ۔۔

”اگر کسی کو اس گھر میں ہوتے کسی بھی کام سے مسٸلہ ہے تو وہ رہا دروازہ۔۔“ انہوں نے داخلی دروازے کی جانب اشارہ کیا۔۔ ”وہ یہاں سے جاسکتا ہے۔ میرے گھر میں صرف وہی ہوگا جو میں چاہونگا۔ آٸندہ مجھے حسن بھاٸ یا پھر بڑے بھاجی کی مثالوں سے قاٸل کرنے کی گستاخی کی تو پھر میں بھول جاٶنگا کہ میری بھی کوٸ اولاد ہے۔۔“

انکے ٹھنڈے لہجے میں جو آگ بول رہی تھی وہ بختیار کو بخوبی محسوس ہوٸ اور اسکے دل میں ولی کے لیۓ لاواہ پکنے لگا۔۔ اسے اس سے اتنی نفرت ہوٸ جتنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں ہوٸ تھی۔ اسکا باپ اسے گھر سے جانے کا کہہ رہا تھا اور وجہ صرف اور صرف ولی تھا۔۔ خون اسکی کنپٹیوں میں ٹھوکریں مارنے لگا تو وہ دندناتا ہوا لاٶنج سے اُٹھ آیا۔۔ زمان نے اپنی اولاد کو افسوس سے جاتے دیکھا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ناشتے کی طویل ٹیبل پر سارے گھر کے افراد براجمان ناشتہ تناول کررہے تھے۔ آج اتوار تھا مگر بختیار اور نثار دونوں رات کو دیر تک گھر سے باہر رہنے کے باعث اب تک سورہےتھے اسی لیۓ ماحول کا تناٶ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زمان احمد نے ناشتے سے ہاتھ روک کر ناشتہ کرتے ولی کے زخموں کو بغور دیکھا۔ بی جان بھی اسکے چہرے کی جانب ہی دیکھ رہی تھیں۔ مگر ولی بہت آرام دہ سا لگ رہا تھا۔ اسکے چہرے پر برسوں بعد زمان نے اطمینان کی لہر دیکھی تھی شاید اسی لیۓ کہ جس کو وہ مار کر آیا تھا اُس نے بہت ظلم کیۓ تھے اسکی ذات پر۔ اور یہ سچ تھا۔ اس ہاتھا پاٸ کے بعد ولی کے جلتے وجود کو قرار آگیا تھا۔

”نورآباد والی زرعی زمین کا کیا بنا ولی۔۔؟“

زمان نے قصداً اسکے زخموں کو نظر انداز کر کے کہا مگر بی جان نے انکے نظر انداز کرنے پر پہلو بدلا تھا۔۔

”میں کررہا ہوں بات نورآباد والوں سے۔آج جاٶنگا انکے بڑوں سے اس معاملے پر گفتگو کرنے۔۔ دیکھیں پھر کیا بنتا ہے۔۔“

اس نے بھی سر اُٹھا کر جواب دیا یہ جانتے ہوۓ بھی کہ سب نامحسوس طریقے سے اسے ہی دیکھ رہے تھے اس نے سب کی نظروں کو یکسر نظرانداز کیا۔۔ مگر امل کی فکرمند سی نگاہیں اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔

”جو بھی کرو سوچ سمجھ کرکرنا۔ نورآباد والے بہت خطرناک لوگ ہیں۔ اور ابھی انکے بڑے الیکشن بھی لڑنے والے ہیں اس سارے عرصے میں کسی بھی قسم کے اسکینڈل کو اواٸڈ کرنے کی بھرپور کوشش کرینگے وہ۔۔ تم دھیان رکھنا۔۔“

”جانتا ہوں آغا جان۔ اس مسٸلے کو بات سے حل کرلیا جاۓ تو ہی بہتر ہے خواہ مخواہ بات بڑھی تو قصّہ عدالت تک جاۓ گا جو انکی سیاسی ساکھ کے لیۓ بالکل مناسب نہیں۔۔“

”مگر ولی مجھے نہیں لگتا کہ یہ مسٸلہ عدالت کے بغیر حل ہوگا۔۔ وہ لوگ اتنی آسانی سے ماننے والے ہیں نہیں۔۔“

زمان کے چہرے پر سوچ کی لکیر اُبھری تو اس نے انہیں سکون سے دیکھا۔

”وہ جو بھی کرینگے دونوں جانب سے نقصان اُنکا ہی ہے سرداربابا۔۔“ اس نے نیپکن سے لب تھپتھپاۓ اور پلیٹ پرے کی۔۔ ”ابھی اُنکے حلقے میں انتخابات کا وقت ہے اور پھر دوسری طرف اس علاقے کے تھانے کا اے ایس پی میرا دوست ہے۔ کوٸ بھی حرکت انکو ہی نقصان پہنچاۓ گی۔۔“

”جب ایک جانب سے ہاتھ بڑھایا جارہا ہو تو دوسری جانب سے ہاتھ آجاتے ہیں۔۔ تمہیں یقین ہے کہ وہ اے ایس پی دوست ہے تمہارا۔۔؟“

انکے سوال پر اسکی سنجیدگی کچھ اور گہری ہو چلی تھی۔۔ جیسے وہ بہت کچھ سوچتا رہا ہو۔۔ جیسے اُسے اندازہ ہو اس سارے معاملے کا۔۔

”اس دور میں کون دوست ہوتا ہے آغا جان۔۔!“

اس نے نسواری آنکھوں سے آغا جان کو دیکھا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگے اور دیکھ تو ناسمجھی سے اسے بی جان بھی رہی تھیں۔۔ فکرمندی سے۔۔ مضطربانہ انداز میں ناشتہ چھوڑے۔۔

”جس طرح کا دوست وہ میرا ہے اور جس وجہ سے ہے آپ بخوبی جانتے ہیں سردار بابا۔۔ یہاں ہر ایک کو قابو کرنے کی ایک خاص تکنیک ہے اور ویسے بھی ان پولیس والوں کی تو اپنی زندگیاں اتنی آلودہ ہوتی ہیں یہ کیا معاملات کو مزیر اُلجھاٸنگے۔۔ آپ بے فکر رہیۓ کام ہوجاۓ گا۔۔“

اس نے بات مکمّل کر کے انکے جواب کا انتظار کیا۔ زمان کے چہرے پر فکر کی لکیروں کی ساتھ ساتھ کمزوری بھی جھلک رہی تھی اُس اٹیک کے بعد وہ آج سب کے ساتھ ناشتہ کررہے تھے۔۔

”ٹھیک ہے۔۔“ انہوں نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ ”لیکن اپنے ساتھ شاہ نواز کو لیتے جانا اور اگر ضرورت محسوس کرو تو گارڈز کو بھی ساتھ لے لینا۔ بعد کے رونے سے احتیاط بہرحال بہتر ہے۔۔“

انہوں نے بہت تاکید سے اسے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

”جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا سردار بابا“۔۔

”اچھا ہاں۔۔“ انہیں بے اختیار کچھ یاد آیا تو ولی نے انہیں دیکھا۔۔ ” علّامہ دین صاحب کی بیٹی کے کیس کا کیا ہوا۔۔؟ پچھلی پیشی پر شاہ نواز کہہ رہا تھا کہ معاملات کچھ خاص آگے نہیں بڑھے۔۔ لگتا ہے جیسے وہ اس معاملے کو لٹکانا چاہتے ہیں۔۔ “

انکے کہنے پر اس نے بھی سر ہلایا تھا۔۔ پھر کہنے لگا۔۔

” میں گیا تھا پچھلی پیشی پر معاملات واقعی اٹکے ہوۓ ہیں سردار بابا۔۔ علّامہ صاحب کی بیٹی کو پیشی کے لیۓ بار بار بُلایا جارہا ہے جسکا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ وہ اس کیس کے ذریعے اُنہیں ذہنی اذیت پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ وہ تنگ آکر کیس ہی واپس لے لیں۔۔ میں دیکھتا ہوں اس مسٸلے کو بھی آپ فکر مت کریں۔۔“

بہت ذمّہ داری سے کہہ کر اس نے زمان کی پریشانی اپنے سر لے لی تھی۔۔ وہ انکا جتنا بھی احترام کرتا۔۔ انکی جتنی بھی خدمت کرتا وہ کم تھی۔۔ انہوں نے اسے عزت دی تھی اور اسکے مقابلے میں یہ کام کچھ بھی نہیں تھے۔۔

”سہی جیسے ہی کوٸ پروگریس ہو مجھے ضرور آگاہ کرنا۔۔ علّامہ صاحب بہت پریشان تھے پہلے ہی اس مسٸلے کی وجہ سے۔۔“

فکرمندی سے کہہ کر انہوں نے بھی ہاتھ نیپکن سے صاف کیۓ اور پھر زمانی بیگم کو چاۓ کا اشارہ کیا۔۔ انکے اشارے پر بی جان نے جھٹ سے گرم گرم چاۓ کپ میں اُنڈیلی۔۔ بُھورا مایہ کپ میں بہنے لگا۔۔

”اب میں اجازت چاہونگا سردار بابا۔۔“

وہ انہیں کچھ پل دیکھتا رہا پھر کوٸ کام نہ ہونے کی وجہ سے اُٹھنے لگا تو بی جان یکدم بو لیں۔۔

”یہ زخم ولی۔۔ یہ کیسے آۓ تمہیں۔۔؟“

وہ اُٹھتے اُٹھتے بیٹھ گیا تھا۔۔ زمان چاۓ پیتے پیتے بی جان کی بے صبری پر مسکراۓ تھے البتہ گردن اُٹھا کر انہوں نے بھی ولی کو دیکھا تھا اور دیکھ تو اسے امل بھی رہی تھی۔۔ سب کا مرکز بننا۔۔ ولی کو کوفت ہونے لگی۔۔

”ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا بی جان۔۔“

کہا تو صرف اتنا ہی مگر بی جان کی تسلّی نہیں ہوٸ تھی۔۔

”کوٸ دوا لی ہے۔۔؟“

وہ اس سے پوچھ رہی تھیں۔۔ دوا۔۔ سب سے بڑی دوا تو یہ لڑاٸ ہی تھی جس کے بعد وہ پُرسکون ہو گیا تھا۔۔ اسکے اندر پکتا غم و غصّہ باہر نکلا تو اس نے خود کو بہت ہلکا محسوس کیا تھا۔۔

”جی بی جان لی ہے دوا۔۔“

سب کو ایک نظر دیکھا۔۔

”اب میں اجازت چاہونگا۔۔“

اور کرسی گھسیٹتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ پلٹنے لگا جب سامنے سے ناجیہ آتی دیکھاٸ دی۔۔ وہ اسے دیکھ کر ہلکا۔۔ بالکل ہلکا سا مسکراٸ تھی مگر ولی نے ایک سپاٹ نظر اس پر ڈالی اور باہرکی جانب بڑھ گیا۔۔ اسکے اس طرح کے ردّعمل سے بھی ناجیہ کو فرق نہیں پڑا تھا۔۔ وہ اسے پسند کرتی تھی۔۔ بچپن سے۔۔ کوٸ اندھا بھی دیکھ کر بتا سکتا تھا۔

”ارے ناجیہ اتنی صبح صبح۔۔“

بی جان اس سے کہہ رہی تھیں مگر وہ ذرا ترچھی ہوٸ اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔ نسواری رنگ کے قمیص شلوار میں اسکا دراز قد نمایاں تھا۔ چوڑی پُشت اور مضبوط سراپے کو پیچھے سے دیکھتے اسکے دل میں کھلبلی مچی تھی اگر جو وہ اسکا ہوجاتا تو۔۔! کاش۔۔

مگر اسی وقت وہ دروازے کے پار غاٸب ہوا تو اس نے بھی چہرہ موڑ کر بی جان کو دیکھا جو امل کے ساتھ ناشتے کے برتن سمیٹ رہی تھیں۔۔

”بس چچی۔۔ امل کے ساتھ پیپرز کی تیاری کرنے آٸ ہوں۔۔ بی ایس سی کے امتحانات ہونے والے ہیں ناں۔۔“ امل اسکی بات پر مسکراٸ تھی۔۔

”جی۔۔ ان محترمہ کو میں نے ہی قاٸل کیا ہے تیاری کرنے پر ورنہ انکا کوٸ ارادہ نہیں تھا۔۔“

وہ دونوں ہم عُمر تھیں مگر ناجیہ امل سے عُمر میں بڑی لگتی تھی شاید اپنے چہرے کے پکّے پن کی وجہ سے جبکہ امل اسکے برعکس بہت معصوم اور سادہ تھی۔۔

وہ کچن سے باہر نکلی تو ناجیہ نے اسے بازو سے پکڑ کرکمرے کی جانب گھسیٹا۔

”تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے میں نے۔۔“

وہ اسے کمرے میں دھکا دے کر خود دروازہ بند کرتی اس تک آٸ۔۔ امل اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔

”یقیناً کوٸ کام ہوگا میڈم کو۔۔ “

اسکی بات پر وہ کھلکھلاتے ہوۓ بیڈ پر لیٹی۔۔

”ہاں جی۔۔ کام تو ہے۔۔ مگر ایسا کام جس میں تمہیں کچھ نہیں کرنا صرف میرے دل کی بات سننی ہے اور بس۔۔ امل میں اس راز کو اب اور نہیں سنبھال سکتی۔۔“ وہ یکدم سیدھی ہو کر بیٹھی تو امل مسکرا کر اسکی جانب مُڑی۔۔

”اور کیا ہے وہ راز۔۔؟“ اسکی ملاٸ سی جلد پر چُٹیا سے نکلی لٹ جھولنے لگی تو اس نے مسکرا کر اسے کان کے پچھے اڑسا۔۔

”اف کیسے بتاٶں۔۔“

ناجیہ نے مضطرب ہوکر ہاتھ آپس میں رگڑے تو اس نے آنکھیں چھوٹی کیں۔۔

”قتل تو نہیں کردیا کسی کو۔۔؟“

اسکے پوچھنے پر وہ ہنسی تھی مگر اسکے گالوں میں گُھلتے گُلال امل کو کوٸ اور داستان سُنانے لگے تھے۔۔

”امل۔۔ میں ولی سے محبت کرتی ہوں۔۔“

بہت امید سے اس نے اسکی جانب دیکھ کر کہا تو امل کو چند پل لگے سمجھنے میں اور جب اسے سمجھ آیا تو اسکا دل اندر ڈوب کر اُبھرا۔۔

”مطلب۔۔؟“

اس نے بمشکل خشک پڑتے گلے کو تر کیا تھا۔۔ دل اب تک کانوں میں دھک دھک کررہا تھا۔۔

”ہاں ہاں ہاں۔۔ امل۔۔ میں اس سے محبت کرتی ہوں۔۔ بہت محبت کرتی ہوں۔۔ ابھی سے نہیں بچپن سے کرتی ہوں۔۔ تب سے کرتی ہوں جب مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ محبت کا مطلب کیا ہوتا ہے “

وہ کمرے میں گول گول چکّر کاٹتی اسے بتا رہی تھی۔۔ اور امل کو لگ رہا تھا کہ وہ کبھی ہل نہیں پاۓ گی۔۔ کیونکہ یہ آخری بات تھی جو اس نے نہیں سوچی تھی۔ پہلی بار اسے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہورہا تھا۔۔ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ ولی سے کوٸ اور بھی محبت کر سکتا ہے اور اب جب اسے پتہ چلا تھا تو اسے اپنے وجود میں خاموشی پھیلتی محسوس ہوٸ تھی۔۔ بھیانک خاموشی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

”شاہ نواز۔۔ گاڑی نکالو۔۔“

وہ نسواری آنکھوں کو سیاہ چشمے سے ڈھکتا آفس میں داخل ہوا تو شاہ نواز بے اختیار اُٹھا۔۔

”ولی سر۔۔ تھوڑی دیر پہلے قانتہ بی بی آٸ تھیں۔۔“ نام سُن کر وہ بے ساختہ مڑا تھا۔۔

”کیوں۔۔؟“

”انکا بچّہ ہاسپٹل میں ہے اسکی طبیعت بہت خراب ہے۔۔ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ اسے شہر لے کر جانا ہوگا۔۔ “

فکر مندی سے پیشانی چُھوتا وہ موباٸل نکال کر اب چند نمبر ڈاٸل کررہا تھا۔ قانتہ اس گاٶں کی جوان بیوہ تھی جسکا شوہر زمینی مسٸلوں میں مارا گیا تھا۔ خاندانی سپورٹ نہ ہونے کے باعث ولی نے اسکی ذمّے داری اپنے سر لی تھی۔۔ وہ اس معاشرے میں اور کسی ولی احمد کو بڑے ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ باپ کا سایہ اس سفّاک معاشرے میں زندہ رہنے کے لیۓ کتنا ضروری تھا اسکا اندازہ اسے بخوبی تھا۔۔

”فیصل۔۔ قانتہ بی بی کے گھر گاڑی لے کر جاٶ اور انہیں شہر کے ہاسپٹل پہنچاٶ میں فارغ ہوکر وہاں آتا ہوں اور کوٸیک۔۔ انکا بیٹا بیمار ہے۔۔“

اس نے فون رکھ کر شاہ نواز کی جانب دیکھا۔۔ وہ دروازے میں ایستادہ اس کا انتظار کررہا تھا۔۔

”نورآباد والوں کو آگاہ کردیا تھا۔۔؟“

اس نے کندھے پر ڈلی سیاہ شال درست کرتے ہوۓ اس سے پوچھا۔۔وہ ساتھ چلتا بتانے لگا۔۔

”جی سر بتا دیا تھا۔۔ وہ آپ کا انتظار کررہےہونگے۔۔ کوشش کیجیۓ گا سر کہ بات، بات ہی کے ذریعے سمٹ جاۓ۔۔“

”ہوں جانتا ہوں۔۔ خیر یہ اتنی بھیڑ کیوں اکھٹی کررکھی ہے تم نے۔۔؟“

اس نے گاڑی میں بیٹھتے باہر کھڑے گارڈز کو دیکھ کر استفسار کیا تو شاہ نواز ایگنیشن میں چابی گھماتا بتانے لگا۔۔

”یہ سردار بابا کا حکم تھا ولی سر۔۔“

اس نے ایک پل کے لیۓ بیک ویو مرر میں اسے دیکھا تو اس نے گہرا سانس لے کر اثبات میں سر ہلایا اور اسے چلنے کا اشارہ کیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

وہ نور آباد میں داخل ہوا تو پورے گاٶں میں ہلچل سی مچ گٸ۔ لوگ اپنے اپنے کچّے گھروں سے باہر نکل کر اس لاٶ لشکر کو دیکھ رہے تھے جو ولی کی گاڑی کے پیچھے سینکڑوں گاڑیوں میں چلا آرہا تھا۔۔ اس نے سپاٹ نظروں سے گاٶں کے مکینوں کو دیکھا اور گاڑی رُکنے پر دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔۔ بڑی سی اونچی حویلی کے باہر اسکے استقبال کو بہت سے ملازم تھے۔ اس نے سر اثبات میں ہلایا اور انکی معیت میں چلتا حویلی کے اندر داخل ہوا۔۔ رتبے اور امارت میں وہ زمان احمد کے خاندان سے کہیں پیچھے تھے مگر شاید اپنی دھاک انہوں نے جانیں لےکر قاٸم کر رکھی تھی۔۔ اسکے پیچھے اسکے سارے گارڈز تھے۔۔ بیٹھک کے باہر سب گارڈز کو اندر جانے سے روکا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے انہیں اجازت دی۔ البتّہ شاہ نواز اسکے ساتھ ہی اندر داخل ہوا تھا۔۔

گاٶں کا وڈیرے ارباز شاہ گھنی مونچھوں کو تاٶ دیتا اسے سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اسکے آس پاس گاٶں کے بہت سے نامور لوگ بھی بیٹھے تھے جو ہر پنچایت میں شاید اہم جانے جاتے تھے۔ انکا یوں ساتھ بیٹھنا صاف ظاہر کرتا تھا کہ انہیں اسکا مطالبہ ہر گز بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔ وہ مسکراتا ہوا انکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا۔ شاہ نواز اسکے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا۔۔

”ہم نے تو سوچا تھا کہ کوٸ بڑا سارا آدمی آۓ گا مگر زمان نے تو بات کرنے کے لیۓ بچّہ بھیج دیا۔۔“ اسکی کم عمری پر چوٹ کرتا وہ سیدھا ہوا تو ولی کی مسکراہٹ گہری ہوٸ۔۔

ّ”شاہ صاحب آپ پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اسی کا خیال کرتے انہوں نے آپکے پاس بچّہ بھیجا ہے۔۔ “

اسکے انداز پر سُلگتا ہوا ارباز ذرا آگے کو ہوا۔۔اور اسکی نسواری آنکھوں کو کاٹ دار نظروں سے دیکھا۔۔ ولی کو اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کو ظالم کیوں کہا جاتا تھا۔۔

”تم شاید یہاں کا قانون نہیں جانتے ہو لڑکے۔۔ جو چیز ہمارے علاقے میں ہوتی ہے وہ ہماری ہوتی ہے۔ کوٸ کاغذ۔۔ کوٸ دعوہ اسے ہمارے تسلّط سے نہیں نکال سکتا۔۔ اور جو۔۔ نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسکا علاج ہم کرنا بہت اچھے سے جانتے ہیں۔۔“

اس نے مسکرا کر کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹکایا اور ہتھیلیاں باہم ملاٸیں۔۔ پھر ارباز شاہ کی آنکھوں میں بے خوفی سے دیکھا۔۔

”جو علاج آپ کرتے ہیں اس علاج سے بخوبی واقف ہیں ہم۔ مگر جو علاج ہم کرتے ہیں کیا اس کو جاننے کی زحمت کی ہے آپ نے۔۔؟“

ماحول میں عجیب سا تناٶ در آیا تھا۔ ہر ایک ٹکٹکی باندھے دونفوس کو دیکھ رہا تھا جو ماحول سے بے نیاز ہو کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہر وار کے لیۓ تیار تھے۔۔

”تو پھر۔۔ اس میں جیتے گا وہ ہی جو وار پہلے کرے گا۔۔“ ارباز شاہ کا دماغ اسکے جواب پر بھنّایا تھا۔۔ ”اور تم تو پھر ذرا جتنے ہو۔۔ کتنی زندگی ہوگی تمہاری زیادہ سے زیادہ۔۔ چوبیس سال۔۔ مجھے دیکھو۔۔ ساٹھ سال کا ہوں میں۔۔ آٹھ قتل کیۓ ہیں میں نے اور آج تک۔۔“

اسکی آواز بلند ہوٸ۔۔ ولی ویسے ہی بیٹھا تھا بے تاثر۔۔ سپاٹ چہرہ لیۓ۔۔ البتّہ اس چہرے پر ٹھنڈی مسکراہٹ تھی۔۔ آگ جیسی برف۔۔

”آج تک کوٸ ماٸ کا لال مجھے سلاخوں کے پیچھے نہیں کرسکا۔ اور یہ بھی جان لو کہ اگر ہم ماردیتے ہیں تو لاش تک گھر والوں کو نہیں لوٹاتے۔۔ چیل کوّوں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔۔“ وہ واقعی بہت ظالم شخص تھا۔۔ اب کے ولی کی مسکراہٹ سمٹی اسکے چہرے پر کاٹ ابھری۔۔

”آپ اپنی بد اعمالیاں مجھے نہ بتاٸیں جناب۔۔ خدا کو کیا جواب دینگے اس کی تیاری کریں۔ ویسے بھی میں اپنی چیز لینے آیا ہوں۔۔ اپنی چیز لے کر جاٶنگا۔۔ سیدھی طرح سے نہیں تو پھر ٹیڑھی طرح سے۔۔ لیکن یہ آپ طے کرینگے کہ آپ معاملہ کیسے چاہتے ہیں۔۔؟ میں آپ کو دو راستے بتا دونگا۔۔ آپ کونسا راستہ اختیار کرینگے یہ فیصلہ آپکا ہے۔۔“

اسنے ابلتے غصے کو قابو کرکے بڑے ٹھنڈے انداز میں آگے والے پر سیسہ اُنڈیلا تھا۔۔ ارباز شاہ کی آنکھیں ہتک پر سُرخ ہوٸیں۔۔

”ہم باتوں کو دُہرانے کے عادی نہیں ہیں لڑکے۔۔“ اسکی گرج پر کمرے میں خاموشی کے باعث سنّاٹا محسوس ہوا تھا مگر ولی ویسے ہی بیٹھا رہا۔ وہ اس سب کے لیۓ ذہنی طور پر تیار تھا۔۔

”میری لاش کے لیۓ کوٸ میرا انتظار نہیں کرے گا شاہ صاحب اتنا میں آپکو بتا دوں۔۔ اور یہ بھی کہ جسکے آگے پیچھے کوٸ نہیں ہوتا وہ اس کاٸنات کا سب سے مشکل شکار ہوتا ہے۔ آپ جو چاہیں کریں۔۔ مگر میں معاملہ بات سے ہی طے کرنا چاہتا ہوں۔۔ کمزوریاں آپکی بھی ہیں اور میری بھی۔۔ دوستیاں آپ بھی رکھتے ہیں اور میں بھی۔۔ لڑنا آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی۔۔ تو۔۔“

وہ سیدھا ہوا۔۔

”بہتر یہی ہے کہ مسٸلے کو بڑھانے کے بجاۓ انصاف کی بات کی جاۓ اور جلد از جلد اس معاملے کو ختم کیا جاۓ۔۔ ورنہ سیاست میں آپکے چڑھتے مقام کو پیر سے کُچلتے مجھے بالکل بھی افسوس نہیں ہوگا۔۔“

آخر میں اسکا انداز وارننگ دینے والا تھا مگر آگے بھی وہ لوگ تھے جنہیں شاید ڈر سے کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا تھا۔۔ اسکی باتوں کو استھزاء ہنس کر ہوا کردیا۔۔

”دیکھو تو۔۔ اب یہ ذرا جتنا لڑکا ہمیں بتانے چلا ہے کہ آگ کی جنگ میں زندہ کیسے رہا جاتا ہے۔۔ لڑکے۔۔“ ہنستے ہنستے وہ یکدم غرّایا تو ولی نے اسے دلچسپی سے دیکھا۔۔

”تم جیسے بہت آۓ اور بہت گۓ ہیں۔۔ تم جیسوں کو تو ہاتھ پر پڑی دُھول کی طرح اڑا دیتے ہیں ہم۔۔ اسی لیۓ جو بھی ارادے لے کر آۓ ہو ابھی کے ابھی پلٹ جاٶ۔۔ ورنہ اپنی ٹانگوں پر واپس جانا تمہیں نصیب نہیں ہوگا۔۔“

شاہ نواز کا ہاتھ ریوالور پر رینگا تو ولی نے اسے تنبیہی نظروں سے اشارہ کیا۔۔ اس نے اشارہ سمجھ کر گردن جھکادی تھی۔۔

”ہمارا ارادہ آپ اچھے سے جانتے ہیں شاہ جی۔۔ اور اگر آپ اس ذلت کا پرچار چاہتے ہیں تو ہم اس میں آپکی بھرپور مدد مرینگے۔۔ مگر پھر یاد رکھیۓ گا کہ حالات کے ذمّے دار آپ خود ہونگے۔۔ میں نے آپکو۔۔ بہت آسانی کی راہ دکھاٸ ہے۔۔ آپ سے بہت سبھاٶ سے بات کی ہے۔۔ کوٸ گالی گلاچ کسی چیز کو آڑے نہیں آنے دیا مگر۔۔“

وہ ٹہرا اور ارباز شاہ کے سارے کارندوں پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی۔۔

”اگر آپ خود اس بات کو حل نہیں کرنا چاہتے تو آپکی مرضی۔۔ آپ سے کورٹ میں ملاقات ہوگی۔۔“

وہ شال کندھے پر ڈالتا اُٹھا تو اسکے ساتھ ہی شاہ نواز باہر نکلا۔۔ گارڈز کے ہمراہ وہ داخلی دروازے تک آیا پھر مُڑ کر اس حویلی کو آخری نظر دیکھا اور تلخ مسکراہٹ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔

سارے راستے شاہ نواز اسے دیکھتا آرہا تھا آخر اس سے رہا نہ گیا تو پوچھ بیٹھا۔۔

”سر آپ جانتے تھے کہ یہ مسٸلہ بات سے حل ہونے والا نہیں۔۔ پھر آپ نے یہاں تک آنے کی زحمت کیوں کی۔۔ سیدھا کیس کیوں نہیں کیا ان پر۔۔؟“ اس نے اسکے سوال پر کھڑکی سے گردن موڑ کر پیچھے جھانکتے شیشے کی جانب دیکھا۔۔

”میں دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لوگ کتنے پانی میں ہیں۔۔ ہمارے جیسے ہیں یا پھر ہم سے ذرا کم۔۔ پیسے میں تو واقعی ہمارے مقابلے پر نہیں مگر تعلقات میں جاندار ہیں یہ لوگ۔۔ میں بس یہی دیکھنا چاہتا تھا۔۔ کہ کتنے مضبوط ہیں۔۔ کیا حساب کتاب ہے۔۔ تاکہ پھر عدالتی حملہ بھی اسی نوعیت کا ہو۔۔“

”آپکو کیا لگتا ہے۔۔ عدالت سے مان جاٸنگے یہ لوگ۔۔ اچھی خاصی اُلٹی کھوپڑی کے ہیں۔۔؟“

اسکی بات پر ولی نے سوچتی نظریں کھڑکی کی جانب پھیریں۔۔ پھر گہرا سانس لے کر گویا ہوا۔۔

”قانون کا ڈنڈا بہت سخت ہوتا ہے شاہ نواز۔۔ یہ سزاٸیں کیوں رکھی گٸیں ہیں۔۔؟ نور آباد جیسے ٹیڑھے لوگوں کے لیۓ۔ نہ مان کر اپنا نقصان ہے میرا کچھ نہیں۔۔ ہمارا کیس ہر لحاظ سے مضبوط ہے۔“

”ہوں۔۔“

شاہ نواز نے سمجھ کر گردن ہلاٸ مگر اسے ابھی بھی ایک بات تنگ کررہی تھی۔۔ جیسے یہ کافی نہیں تھا۔۔ ایک کیس کردینا کچھ بھی نہیں تھا۔۔

”سر اگر انہیں اس کیس سے فرق نہ پڑا تو۔۔؟“

”تو پھر جتنی کمزوریاں اس نے اس سارے عرصے میں قتل کرکے اکھٹی کی ہیں ہم اسے انہیں کمزوریوں سے کھینچ کر کھونٹے سے باندھ دینگے۔ انسان جتنا بااثر ہوتا ہے ناں شاہ نواز۔۔ اندر سے اتنا ہی اپنی غلط کاریوں اور کمزوریوں کے جال میں جکڑا ہوتا ہے۔۔ اگر تمہارے ہاتھ میں کوٸ سیدھی طرح نہ آۓ تو تم اسکی گردن مروڑ کر اسے قابو کرنا اور کچھ پواٸنٹس تو۔۔ ایسے ہوتے ہیں کہ جن پر ہاتھ رکھنے کے بعد انسان سانس بھی نہیں لے سکتا۔۔ ہمیں بس ان حسّاس جگہوں کا علم رکھنا چاہیۓ بندہ اپنے آپ قابو آجاتا ہے۔۔“

وہ ویسے ہی کھڑکی سے باہر دیکھتا بول رہا تھا۔ شاہ نواز نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔

”اور ہاں گاڑی ہاسپٹل کی جانب موڑو مجھے قانتہ بی بی کے بیٹے کو دیکھنا ہے۔۔ “

یاد آنے پر اس نے کہا تو شاہ نواز نے تعمیل کرتے ہوۓ گاڑی ہسپتال کو جاتے راستے پر ڈال دی۔۔

۔۔۔۔۔۔

زندگی کے چند دن یونہی دبے پاٶں گزر گۓ تھے۔ جاتی گرمیوں نے سردیوں کا تحفہ پیش کیا اور اپنا جُھلستا آنچل سمیٹ کر اپنی متعین سمت روانہ ہوٸ۔۔ اواٸل سردیوں میں بھی گاٶں کے کُھلے میدان اور پہاڑی علاقے کے باعث سردی کا زور شدید تھا۔ ٹھٹھرا دینے والی ہوا نے سب کچھ یخ بستہ کر دیا تھا۔ حویلی میں بھی گرم کپڑے اور سردیوں کے لحاظ سے پکوان بدلے تو شامیں معطر رہنے لگیں۔

وہ اپنے گرد لپٹی شال کو مزید درست کرتا حویلی میں داخل ہوا تو گہری ہوتی مغرب کے باعث حویلی کے سارے قمقمے روشن کردیۓ گۓ تھے۔ بی جان لاٶنج میں بیٹھیں نوراں کو ہدایات دیتیں سبزیاں کٹوا رہی تھیں اور سارے لاٶنج میں اک عجیب سا پھیلاوا پھیلا تھا۔۔

اسے اندر آتا دیکھ کر بی جان اسکی جانب متوجہ ہوٸیں۔۔ اسکے زخم کافی حد تک مندمل ہوچکے تھے البتّہ ناک پر لگا زخم اک چھوٹے سے کٹ کی صورت دکھاٸ دیتا تھا۔۔

”ولی۔۔ بیٹا امل اور ناجیہ کو شادی میں لیکر جانا ہے۔ ساتھ والے گاٶں میں شادی ہے ان کی بچپن کی سہیلی کی۔ کچھ دیر پہلے ناجیہ آٸ تھی کہہ کر گٸ ہے کہ ولی کے ساتھ جاٸنگے کیونکہ ڈراٸیور دونوں گھروں کے مصروف ہیں۔۔ تم لے جاٶ گے ناں۔۔؟“

وہ صوفے پر بیٹھیں گردن اسکی جانب پھیرے کہہ رہی تھیں آخر میں اسکے چہرے کو جانچتے سوال کیا تو اس نے سر اثبات میں ہلایا۔۔

”جی بی جان۔۔ لے جاٶنگا۔۔ جانا کب تک ہے اور واپسی کا وقت بھی بتا دیں تاکہ میں شاہ نواز کو سارے کام سمجھا کر جاٶں۔“

اس نے ادب سے کہہ کر انہیں دیکھا تو وہ امل کو آوازیں دینے لگیں۔ اتنے دنوں میں ولی کا سامنہ امل سے آج ہورہا تھا۔ اسکا دل بے اختیار مچلا۔۔

امل شاید تیار ہورہی تھی اسی لیۓ دونوں ہاتھوں سے کان میں جُھمکا ڈالتی دوپٹے سے بے نیاز لاٶنج میں آٸ تو ولی کے کان سُرخ ہوۓ۔۔ اس نے بے ساختہ رُخ موڑا تھا۔ وہ بھی گھبرا کر دوبارہ کمرے میں دوپٹہ لینے دوڑی تو کام کرتی نوراں ہنس پڑی۔ سب کچھ ذرا سے لمحوں میں ہوا تھا بی جان کو کچھ خبر نہیں ہوٸ اور دو نفوس پر بہت سی ساعتیں بیت گٸیں۔۔

”اری کہاں رہ گٸ ہے امل۔۔ کب سے آوازیں دے رہی ہوں۔۔ مجال ہے جو یہ لڑکی سن لے ایک آواز میں۔۔“

بی جان نے بلند آواز سے کہا تو وہ اس بار دوپٹے کو سر تک ڈالے لاٶنج میں آٸ۔۔ اس کا دل کانوں میں دھک دھک کر رہا تھا۔ وہ اس وقت زمین میں سما جانا چاہتی تھی۔

ولی موباٸل پر جُھکا بلاوجہ بٹن دبا رہا تھا۔ کیونکہ ابھی اسے دیکھنے کا مطلب تھا اسے اور کنفیوژ کرنا۔۔

”ارے بتاٶ ولی کو کہ کب تک جانا ہے۔ اور واپسی کب تک ہوگی۔۔“ امل کے چہرے پر ناسمجھی پھیلی۔۔

”ولی کیوں۔۔؟“

بی جان نے کٹی سبزیوں کو الگ کر کے رکھا پھر اسے دیکھا جو دوپٹے سے سارا وجود ڈھکے انہیں نا سمجھی سے دیکھ رہی تھی۔۔

”ناجیہ کہہ گٸ تھی کہ ولی کے ساتھ جاٸنگے گھر کے ڈراٸیور فارغ نہیں ہیں اسی لیۓ۔۔ اس نے تمہیں نہیں بتایا۔۔؟“

انہوں نے اسے ہاتھ روک کر دیکھا تو اسکی آنکھوں نے بے ساختہ ولی تک سفر کیا۔۔ اسکا دل پھر سے ڈوب کر اُبھر رہا تھا۔۔ کیا ولی بھی ناجیہ کو۔۔۔؟ اور اسکے آگے اس سے سوچا بھی نہیں گیا۔۔

”بس ابھی تھوڑی دیر میں نکلنا ہے اور واپسی کا وقت نو بجے تک ہے۔۔“

اس نے بمشکل گلا کھنکھار کر کہا تو ولی سر ہلاتا اُٹھا۔۔

”بی جان میں ذرا شاہ نواز کو سمجھا دوں پھر آتا ہوں۔۔“

وہ باہر کی جانب بڑھا تو امل سفید چہرہ لیۓ بو جھل دل کے ساتھ لاٶنج سے پلٹ آٸ۔۔ اسکا دل کہیں بھی جانے کا نہیں چاہ رہا تھا۔ اسے بس کمرہ بند کرکے ڈھیر سارا رونا تھا۔ مگر مجبوری میں سر سے دوپٹہ اُتار کر وہ آٸینے میں کھوٸ کھوٸ نظروں سے دیکھتی بالوں کو سنوارنے لگی۔ اسکے دل پر بہت سا بوجھ آن گرا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

جب تیار ہو کر وہ دونوں سفید حویلی سے باہر کی سمت بڑھیں تو ولی کو کار سے ٹیک لگاۓ کسی سے فون پر بات کرتا پایا۔۔ وہ سفید قمیص شلوار میں ملبوس کتّھٸ شال کو سردی کے باعث گردن کے گرد لپیٹے مصروف سا دکھتا تھا۔۔ اسکا دراز قد اور وجیہہ نقوش اسے اس حویلی کے سب مردوں میں ممتاز کرتے تھے اور ولی کو اس بات کا علم تھا مگر وہ کبھی بھی اس سے لطف اندوز نہیں ہوا تھا۔

امل نے بوجھل دل کے ساتھ اسے دیکھتے حویلی کا دروازہ پار کیا۔ وہ ڈل گولڈن رنگ کے لانگ فراک زیب تن کیۓ ہوۓ تھی جسکا چوڑی دار پجامہ فراک کی لمباٸ کے باعث بمشکل نظر آرہا تھا۔۔ سنہرے رنگ کے فراک کا عکس اسکے چہرے پر پڑا تو اسکا چہرہ سنہرے پن سے دہک اٹھا۔۔ ہلکے سے میک اپ اور ہم رنگ جھمکوں سے وہ مزید حسین دکھ رہی تھی۔۔ مگر اسکی آنکھیں۔۔ ہاں اسکی آنکھیں اس ساری تیاری کا ساتھ ہر گز نہیں دے رہی تھیں۔۔ اسکے برعکس ناجیہ نے تیز نارنجی رنگ کا لانگ فراک پہن رکھا تھا اور میک اپ بھی اتنا ہی گہرا کر رکھا تھا۔ مگر جو کشش امل کی معصوم خوبصورتی میں تھی وہ ناجیہ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی۔۔

ولی نے امل کو ایک نظر دیکھا اور پھر بالوں میں بے بسی سے ہاتھ پھیرتا فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گیا۔ وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ ولی کو اپنا دل سنبھالنا مشکل لگا۔۔

جب وہ دونوں پچھلی سیٹ پر آبیٹھیں تو اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔ ناجیہ کار کے باٸیں اور امل داٸیں جانب بیٹھی تھی۔ ولی نے خفیف سی نظریں اٹھا کر اسے شیشے میں دیکھا اور اپنی نظریں سامنے کی جانب جما دیں۔۔

”آپ سارا دن کہاں ہوتے ہیں ولی۔۔؟ کبھی آپ ساتھ نہیں بیٹھتے گھر والوں کے بھی۔۔اب ایسے تو نہیں ہوتا ناں۔ ایک گھر میں رہتے ہوۓ انسان کو کچھ تو خیال کرنا ہی چاہیۓ۔۔ “

امل تو امل ولی بھی اسکی بے تکلّفی پر حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکا۔۔ اسکے اتنے ہلکے پھلکے انداز پر ولی کےماتھے پر بے اختیار بل پڑے تھے۔۔

”میں سارا دن مصروف ہوتا ہوں بی بی۔۔“

اسکی آواز بے لچک تھی۔۔ امل کو اسکی آواز سے بھی خوف آیا۔ اگر جو کسی دن ولی نے اس سے ایسے بات کی تو وہ مر ہی جاۓ گی۔۔

”ایک تو آپ یہ بی بی کا دُم چھلّا لگانا مت چھوڑیۓ گا۔۔“

اسکے بیزار ہوکر کہنے پر ولی نے کوٸ جواب نہیں دیا۔ گاڑی میں آکورڈ سی خاموشی پھیل گٸ تھی۔۔

”ویسے اتنے مصروف ہوتے ہیں تو سارا دن کرتے کیا ہیں آپ۔۔؟ کونسی مصروفیت ہے ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے۔۔“

وہ امل کو دیکھ کر شرارت سے مسکراٸ مگر امل مسکرا بھی نہ سکی۔۔ وہ ولی کو جانتی تھی۔ وہ تو کسی مرد سے کبھی بے تکلّف نہیں ہوا کرتا تھا اور مقابل پھر ناجیہ تھی۔۔

”میں یہ بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔۔“

اسکا اب کے چہرہ سپاٹ ہوا تھا۔۔ بے تاثر نظروں سے باہر دیکھتا وہ ڈراٸیو کرتے ہوۓ بالکل لا تعلق سا ہوگیا۔۔

”امل بی بی واپسی کا وقت کیا ہے۔۔؟“ کچھ دیر بعد اس نے ناجیہ کے بجاۓ امل کو مخاطب کیا تو ناجیہ کا چہرہ ہتک سے سُرخ ہوا۔ امل نے گھبرا کر پہلے ناجیہ کو دیکھا اور پھر اسے۔۔

”نو۔۔۔ نو بجے۔۔“

وہ جانتا تھا مگر اس نے شاید ناجیہ پر بہت کچھ جتانے کے لیۓ اسے مخاطب کیا تھا۔ امل کے دل سے بوجھ ہٹنے لگا۔ وہ ناجیہ کو نہیں پسند کرتا تھا۔۔ اسکے دل میں سکون سا اترنے لگا۔۔ مگر ناجیہ دوسری جانب سُلگ کر رہ گٸ تھی۔

کچھ ہی دیر میں دوسرے گاٶں کا داخلی دروازہ پار کیا تو دور سے بجتی شہناٸیاں سناٸ دینے لگیں۔۔ شاید انہوں نے شادی پر سارے گاٶں والوں کو اکھٹا کیا تھا۔ اسی لیۓ گاٶں شروع ہوتے ہی لوگوں کا جمِ غفیر نظروں سے گزرنے لگا۔۔ وہ سب حویلی میں شادی کے لیۓ اکھٹے ہوۓ تھے۔۔

اس نے گاڑی رش سے ذرا ایک طرف لگاٸ اور پھر گاڑی سے اتر کر جاٸزہ لینے لگا۔۔ رش ذرا چھٹا تو اس نےکھڑکی سے اندر جھانک کر انہیں باہر نکلنے کا کہا۔۔ ناجیہ تو اسی وقت دھم دھم کرتی چلی گٸ مگر امل پچھلی سیٹ پر ہی بیٹھی رہی۔۔

”بی بی آپ بھی جاٸیے۔۔“

اس نے اندر بیٹھتے کہا تو امل نے ہاتھ آپس میں رگڑے۔ ٹھنڈ کے باعث اسکے ہاتھ یخ پڑرہے تھے۔۔

”کچھ کہنا ہے بی بی۔۔؟“

اس نے نرمی سے کہا تو امل سے خود کو روکنا مشکل ہوا۔۔

”ولی۔۔ آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس سے محبّت کرتے ہیں۔۔؟ “

اسٹیرنگ پر ہاتھ جماۓ اس نے چونک کر چہرہ اٹھایا۔ وہ شیشے میں اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے گہرا سانس لے کر سامنے لگے شیشے کے پار دیکھا۔۔

”سردار بابا سے۔۔“

”پھر۔۔؟“ اسکا دل دھڑک رہا تھا۔ بہت زور زور سے۔ مگر وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی۔۔

”پھر۔۔“ ولی مسکرایا۔۔ ”بی جان سے۔۔“

امل کولگا اسکا دل باہر آگرے گا۔ ولی ایسے ہی اسٹیرنگ پر ہاتھ جماۓ سامنے دیکھتا رہا۔۔

”پھر۔۔؟“

”پھر۔۔۔“

اس نے گہرا سانس لے کر نظریں اُٹھاٸیں۔۔ اس نظر میں ہر سوال کا جواب تھا۔۔ امل کو لگا کہ وہ کبھی سانس نہیں لے پاۓ گی۔۔ ان آنکھوں میں ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں تھیں۔۔ اسکا دل کانپا۔۔

”پھر محبت کرنا میری اوقات سے باہر ہے بی بی۔۔“

اور یہ تھا وہ جواب جو اس نے اپنی نظروں کے برعکس دیا تھا۔۔ حقیقی جواب۔۔ کڑوا جواب۔۔

”کیا کوٸ اور راستہ نہیں ہے ولی۔۔؟“

اسکی آنکھوں میں پانی چمکنے لگا تو ولی کو لگا وہ خود کو کبھی معاف نہیں کر پاۓ گا۔۔

”کوٸ راستہ نہیں ہے امل بی بی۔ کسی بھی اذیت سے بہتر ہےکہ آپ اپنے دل کو اواٸل دنوں ہی میں قاٸل کرلیں۔ اسے ان شروع دنوں ہی میں قابو کرلیں نہیں تو پھر ایک وقت ایسا آۓ گا کہ یہ آپکو قابوکرنے لگے گا۔۔ اور اس وقت سے خدا کی پناہ طلب کرنی چاہیۓ۔۔“

وہ بہت نرمی سے بول رہا تھا۔۔اسکے ساتھ سخت ہونا اسے شاید آتا ہی نہیں تھا۔۔ مگر نرم لہجے میں ادا کیۓ سخت لفظوں نے امل کو بہت تکلیف دی تھی۔۔ اسکی آنکھ سے آنسو پھسلا۔۔

”میرا دل تو مجھے قابو کرنے لگا ہے ولی۔۔ مجھے لگتا ہے آپ نے مجھے سمجھانے میں دیر کردی۔۔ مجھے لگتا ہے کہ اب میرا دل کبھی نہیں سمجھے گا۔۔“ آنسو روکنے کی وجہ سے اسکا گلا دُکھنے لگا تو وہ خود پر قابو پاتی دروازہ کھول کر باہر نکل آٸ۔۔ اسکے جاتے ہی ولی نے سیٹ کی پشت سے تھک کر سر ٹکایا اور یاسیت سے گاڑی کی چھت کو دیکھے گیا۔۔ اسکا دل اندھیروں میں ڈوب کر اُبھرنے لگا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *