Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504

Hisaar E Yaar By Rabia Khan NovelR50504 Last updated: 2 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar

Author: Rabia Khan

Novel code: NovelR50504

COMOLETE NOVEL DOWNLOD LINK AVAILABLE 

"تم میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے۔۔ مجھے مارنا ہے ناں۔۔ تو مارو، روکا کس نے ہے تمہیں۔۔۔؟ مگر ظالم انسان اس ننھی جان کا تو خیال کرلو جو چند دن پہلے اس دنیا میں آیا ہے۔ اسے اتنی بڑی سزا کیوں دے رہے ہو تم۔۔ کیوں اپنی نام نہاد عزت کی قربانی ہم سے مانگ رہے ہو۔۔؟" اس نے پلٹ کر دیکھا۔ کباڑ خانے کے دروازے میں ایک بچّہ ڈرا سہما سا کھڑا تھا۔ اسکے آس پاس کا ہر منظر بدل گیا تھا۔ باہر ڈیرے پر روشن سی صبح اُتر رہی تھی مگر سبزہ زار کے اس طرف۔۔ اس حصّے میں رات کا وہی پہر چل رہا تھا۔ جو اس رات قاٸم تھا۔۔ڈرا سہما سا کمرے کے اندر جھانکتا ہاشم اس وقت صرف بارہ سال کا تھا۔۔ "اگر تم نے کسی کو کچھ بتایا یا پھر کوٸ تماشہ کرنے کی کوشش۔۔ مگر ٹھہرو۔۔ تم یہ سب تب کروگی جب میں تمہیں زندہ چھوڑونگا۔۔ میں تو تمہیں آج ہی صفحہء ہستی سے مٹا دونگا۔۔! پھرکبھی کوٸ اس کا ذکر نہیں کرے گا۔۔ کبھی کوٸ اس بچے کو یاد نہیں کرے گا۔۔ اور اب تک تو اس کو گاٶں میں گھومتے کتّے نوچ کر کھا گۓ ہونگے۔۔ میں کچھ باقی نہیں رہنے دونگا۔ میں سب مٹا دونگا۔" عورت پر جُھکا حسین اسے بہت بے دردی سے ماررہا تھا۔ اور وہ مستقل رورہی تھی۔۔ چلّا رہی تھی۔۔ ہاشم کی آنکھوں سے آنسو گرے۔۔ اسکا رواں رواں کانپ رہا تھا۔۔ دروازے سے اندر جھانکتا بارہ سالہ ہاشم لرز رہا تھا۔۔ اسکا باپ کسی ذہنی مریض کی طرح اندر عورت پر تشدد کررہا تھا اور ہاشم۔۔ اس میں اتنی ہمّت نہیں تھی کہ وہ ایک چیخ ہی ماردیتا۔۔ اسکا حلق اندر تک خشک ہوگیا تھا۔ پورا جسم پسینے میں نہا گیا تھا۔۔ جب وہ عورت شدید تشدد کے بعد ہوش کھونے لگی تو حسین نے اسے ایک لات مار کر دور ہٹایا۔۔ اسکا کرّاہتا وجود دوسری جانب لڑھک گیا تھا۔ پیشانی سے بہتا خون اسکی کروٹ کے باعث زمین پر گرنے لگا تھا۔۔ کچّی زمین خون جذب کرنے لگی۔۔ پھر اسکا باپ جیسے ہی باہر کی جانب پیشانی پر آیا پسینہ صاف کر کے مڑنے لگا تو وہ بے اختیار دروازے کی اوٹ میں ہوگیا۔ حسین کف اڑاتا آستین سے اب اپنے چہرے کا پسینہ صاف کررہا تھا۔۔ پھر وہ سبزہ زار کے دروازے کے ساتھ بندھے خونخوار کتّے کو لے کر اس کمرے کی جانب بڑھا۔۔ ہاشم چونکہ دروازے کے داٸیں ہاتھ کھڑا تھا اسی لیۓ حسین نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ کتّا اندر چھوڑ کر وہ دروازہ بند کرکے باہر گیٹ کی جانب بڑھا اور برف سا چہرہ لیۓ آگے ہی آگے چلتا گیا۔۔ اندر سے اب بہت دلخراش چیخوں کی آوازیں آرہی تھی۔ وہ کانوں پر ہاتھ رکھتا وہیں بیٹھ گیا۔ اسکا پورا جسم پسینے میں بھرا تھا۔ آنکھوں سے گرتے آنسو بہت تیزی سے اسکی گردن میں لڑھک رہے تھے۔۔ کچھ دیر بعد اندر سے آتی آوازیں بند ہوگٸیں تھیں۔۔ شاید کتّے نے اس عورت کو چیر پھاڑ دیا تھا۔۔ آخری بار وہ دروازہ کھولنے آٸ تھی۔۔ مگر نہ کھول پاٸ۔۔ تب اس دروازے کا ناب تھا۔۔ مگر آج۔۔۔ ہاشم کی نظروں کے سامنے چلتی فلم رُکی تو وہ جیسے ہوش میں آیا۔۔ اسکی نظر دروازے کے اس گول سے خالی حصّے پر تھی جس پر کبھی لاک لگا تھا۔۔ پھر اس نے چہرہ پھیر کر دیکھا مگر کمرہ صاف ستھرا پڑا تھا۔۔ ویران۔۔ اور کسی مردہ وجود کی طرح یخ۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *