Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hisaar E Yaar (Episode - 15) Part - 1

Hisaar E Yaar By Rabia Khan

وہ قدم قدم چلتا عین ان کے سامنے آرکا تھا۔ پھر ان کا نرم مسکراتا چہرہ دیکھ کر اس کا اپنا چہرہ بھی انتہاٸ نرم پڑگیا۔

”بیٹھو۔۔“

ہاتھ سے اسے صوفے کی جانب اشارہ کیا اور پھر آگے بڑھ کر سامنے رکھے ٹیبل پر پڑی چاۓ بنانے لگے۔ ولی خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔

”کیسے ہو۔؟ اصغر بتارہا تھا کہ پچھلے کٸ دنوں سے کافی پریشان تھے تم۔۔ خیریت ہے ناں سب۔۔؟“

انہوں نے کپ اس کے آگے رکھا تو اس نے سنجیدگی سے انہیں دیکھا۔۔

”آپ چاۓ بہت اچھی بناتے ہیں سر، بالکل اصغر جیسی۔۔“

اس کی بات پر حسن مسکراۓ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ولی اتنی آسانی سے کچھ بھی یوں بتانے نہیں بیٹھ جاتا تھا۔۔

”جانتا ہوں۔۔ اب جیسا باپ ہوگا بیٹا بھی تو ویسا ہی ہوگا ناں۔۔ خیر تم کہو کیسے ہو۔۔؟ کام۔۔ حویلی۔۔ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟“

وہ بہت ہلکے پھلکے انداز میں پوچھ رہے تھے پھر بھی ان کے انداز کی احتیاط بخوبی محسوس کی جاسکتی تھی۔ اس نے چاۓ سے ایک گھونٹ لیا پھر کپ سامنے ٹیبل پر رکھ کر انہیں دیکھا۔۔

”سب ٹھیک ہے سر، لیکن آپ نے مجھے یہاں کیوں بُلوایا ہے۔۔؟ ہم ایسی جگہوں پر ایسے ہی نہیں ملتے۔ یقیناً کچھ ایسا ہے جو ہلکا پھلکا نہیں ہے۔۔“

حسن کی مسکراتی نظریں جو اس کے چہرے پر جمی تھیں ان میں ہلکی۔۔ بہت ہلکی سی چبھن اتری۔۔

”امل زمان کون ہے ولی۔۔؟؟“

”کیا پوچھا آپ نے۔۔؟؟“

اسے لگا اس نے غلط سن لیا ہے۔ بے یقینی سے آنکھیں کھولے وہ حسن کا اب کے انتہاٸ خوفناک حد تک سنجیدہ چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔

”میں نے پوچھا امل زمان کون ہے۔۔؟“

”آپ کو کس نے بتایا ہے۔۔؟“

اس کی آواز کسی کنویں سے آرہی تھی۔۔ اپنے راز کا کھل جانا۔۔! اسکا وجود پل میں سنسنا اُٹھا تھا۔۔

”ہاشم نے۔۔“

اس کے سر پر گویا دھماکہ ہوا تھا۔۔ پھٹی پھٹی نگاہوں سے حسن کا چہرہ تکتا وہ سفید پڑتا جارہا تھا۔۔

”مجھے ہاشم نے بتایا ہے کہ تم کسی لڑکی سے محبت کرتے ہو اور اس لڑکی کا نام ہے امل زمان۔۔ شیخ زمان نظر کی بیٹی۔۔ اب بولو۔۔ کیا سچ ہے۔۔؟ کیا واقعی وہ لڑکی تمہاری زندگی میں ہے یا پھر یہ بھی کوٸ ٹریپ ہے ہاشم کو پھنسانے کا ۔۔؟؟“

وہ بہت سکون سے بولتے اس کا خوف سے سفید پڑتا چہرہ دیکھ رہے تھے۔ انہیں اب کسی جواب کا انتظار نہیں تھا۔۔

”ٹھیک ہے اگر تم سے ایک غلطی ہوگٸ ہے تو کوٸ بات نہیں۔ اس غلطی کو سُدھارو اور جو تمہارے دشمن کے ہاتھ لگ گیا ہے اسے واپس لو۔۔“

”اسے کیسے۔۔؟؟“

وہ اب تک بے یقینی سے شل سا بیٹھا ہوا تھا۔۔

”میں نے تمہیں بہت پہلے سمجھایا تھا ولی کہ انتقام کے سفر پر جب نکلتے ہیں ناں تو کسی کو اپنی قربت نہیں دیا کرتے۔۔ کسی کو اپنا عادی نہیں بناتے۔۔ کسی کے ساتھ محبت نہیں کرتے۔ کیونکہ پھر موت کی صورت میں صرف آپ نہیں مروگے بلکہ آپ کے ساتھ وہ بھی مرجاۓ گا جسے آپ نے خود کا عادی بنایا ہوگا۔۔ جانتے بھی ہو عادتیں کتنی جان لیوا ہوتی ہے۔۔؟“

آخر میں انہوں نے ترحم سے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔۔

”مگر خیر۔۔ جو ہوگیا سو ہوگیا۔ ہاشم کو میں سنبھال لونگا۔۔ تم اب جاکر اس سارے مسٸلے کو سنبھالو اور ایک بات میری یاد رکھنا۔۔“

وہ رکے تو اس کا سارا وجود بھی ٹھہر گیا۔ ساکت سی نسواری آنکھیں حسن پر جمی تھیں۔۔

”اب اس لڑکی سے کوسوں بلکہ میلوں دور رہوگے تم۔۔ اسے تکلیف دوگے۔۔ اسے جھڑکو گے۔۔ اس کے ساتھ بہت بے رحمی سے پیش آٶگے۔۔ کوٸ نرمی برتنے کی ضرورت نہیں ہے اس معاملے میں۔ کیونکہ ذرا سی نرمی بہت سی زندگیوں کو عذاب کا گڑھا بنا سکتی ہے۔۔ چاہے پھر وہ اس لڑکی کی زندگی ہو یا تمہاری۔۔ سب راکھ کا ڈھیر بن کر ختم ہوجاۓ گا۔۔“

وہ اب بہت آہستہ سی سرد آواز میں اسے سمجھا رہے تھے۔۔ اور ولی۔۔ ریت کی مانند پل پل ختم ہورہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

واپسی کا سارا راستہ اس کا وجود ساکت تھا۔ یوں لگتا تھا گویا اس کا سانس اب تک رکا ہوا ہو۔ چہرہ حد درجہ سفید پڑ رہا تھا اور ماتھے پر پریشانی کی بہت سی لکیریں پھیلی ہوٸ معلوم ہورہی تھیں۔ اب تک سارے کام اس کے طے کردہ تھے۔ زرعی زمین کا مسٸلہ، ہاشم کی حسن شاہ سے دوستی، ہاشم اور حسین کا انجام۔۔! اس نے سب طے کر رکھا تھا۔۔ سب کچھ طے شدہ تھا۔۔ مگر۔۔ پھر اس سے غلطی کہاں ہوٸ۔۔؟ کہاں چُوکا وہ جو ہاشم اس کے حلق تک پہنچ گیا اور اسے اس بات کی خبر تک نہ ہوٸ۔۔

اسے نقصان پہنچانے کے لیۓ تو وہ کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔۔ ہر حد پار کرسکتا تھا وہ۔۔

اس نے عہد کیا تھا کہ اس جنگ میں کسی بھی اپنے کو کبھی حصّے دار نہیں بناۓ گا۔۔ کسی کو بھی اس سب میں نہیں گھسیٹے گا وہ۔۔ کسی کو اس کی وجہ سے بے جا تکلیف نہیں ہوگی۔۔ مگر وہ غلط تھا۔۔ سب غلط ہورہا تھا۔۔ سب بگڑ رہا تھا۔۔

امل۔۔!

یا خدا امل۔۔۔!!

اس کا وجود ایک بار پھر زلزلوں کی زد میں آرہا تھا۔ سٹیرنگ تھامے ہاتھوں کی سختی اور خوف سے سکڑتی سانسیں۔۔ اس کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔

وہ کیا کرے گا اب۔۔!

امل کو کبھی تکلیف نہیں ہونی چاہیۓ۔۔ اس کی وجہ سے تو کبھی بھی نہیں۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔ اگر ایسا ہوا تو وہ کبھی سکون سے نہیں مر سکے گا۔۔ کبھی اپنی آنکھیں اس دنیا سے آسانی کے ساتھ بند نہیں کرسکے گا۔۔ لوگ جینے کا سوچا کرتے تھے مگر اس کی ہر سوچ، ہر خیال اور ہر تخیل میں اگر کوٸ شے مشترکہ تھی تو وہ اس کی موت تھی۔۔

اس کی ہر سوچ موت سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوجایا کرتی تھی۔ وہ مرے گا۔۔ اسے مرنا ہوگا۔۔ یہی اس کا انجام ہے۔۔ یہی اس کا اختتام ہوگا۔۔ اگر وانگ سو تنہا رہ گیا تھا تو ملے گی امل اسے بھی نہیں۔۔

وہ جلد یا بدیر کسی تاریک قبر کا حصہ ہوگا لیکن۔۔ لیکن اس سے پہلے اسے امل کی زندگی کو معمول پر لانا ہوگا۔۔ اس کی زندگی اس کی وجہ سے تکلیف دہ بنی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ اس ساری مصیبت کا حصہ بنی ہے۔۔ کیسے وہ اتنی بڑی غلطی کرسکتا ہے۔۔!!

اس نے زور سے ہاتھ سٹرینگ پر مارا۔۔ پریشانی اب غصے میں بدل ہی تھی۔ فرسٹریشن کا لاوہ اب اندر بہت تیزی کے ساتھ ابلنے لگا تھا۔۔ اس کا دشمن اس کی سب سے بڑی کمزوری سے واقف تھا۔۔ اس کی کمزوری۔۔!

ہاں وہ اس کی کمزوری تھی۔۔ اسے اگر کسی نے اب تک انسان رکھا ہوا تھا تو وہ امل تھی۔۔ نہیں تو۔۔ نہیں تو ہاں۔۔ وہ بھی کب کا جانور بن جاتا۔۔ وہ بھی ہاشم بن جاتا۔۔ کیونکہ وہ دونوں ایک ہی تصویر کے دو رُخ تھے۔۔

ولی اور ہاشم۔۔ ایک ہی کتاب کے دو صفحے تھے۔ اگر وہ جانور تھا تو صرف اسی لیۓ کیونکہ اسے کوٸ ملا ہی نہیں جو اس کے اندر کے انسان کو انسان رکھ سکتا۔۔ مگر اس کے پاس امل تھی۔۔

وہ جو پاکیزہ صبح کی مانند روشن سی تھی۔۔ بہتی ہوا جیسی نرمی سے اس کے وجود کو طمانیت بخشتی تھی۔۔ اس کے اندر جمی برف کو پگھلا دیا کرتی تھی۔۔ ہاں وہ وہی تو تھی۔۔ اس کے علاوہ اور ہو بھی کون سکتا تھا بھلا۔۔؟

اور اس نے اس کی زندگی کو مشکلات میں پھنسا دیا۔۔! اس کو بھڑکتی آگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔۔ ہاشم کی دشمنی سے تو بڑے بڑے ظالم لوگ بھی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔۔ اگر جو اس نے امل کو کوٸ نقصان پہنچایا تو۔۔

اس کی کنپٹیا ابل پڑیں۔۔ دانت سختی سے جم گۓ اور سانس بہت تیز ہوگیا۔۔ گاڑی کی رفتار ہر گزرتے پل کے ساتھ بڑھتی جارہی تھی۔۔

نہیں وہ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دے گا۔۔ وہ کبھی اس کو کوٸ نقصان نہیں ہونے دے گا۔۔ وہ کبھی اس تک کچھ بھی آنے نہیں دے گا۔۔ وہ سب تباہ کردے گا۔۔ تہس نہس کردے گا اگر اس کی امل کو کسی نے چھوا بھی تو۔۔

سارے راستے اس کے اندر ایک شدید جنگ چھڑی رہی تھی۔ تیزی سے دوڑتی گاڑی رات کی سیاہی میں اب ڈیرے کی جانب سفر کررہی تھی۔ ڈیرے کے باہر پہنچ کر اس نے تیز تیز قدموں سے روش کو عبور کیا اور پھر اندر کی جانب بھاگتا گیا۔۔ اسے ابھی کچھ کام کرنے تھے۔۔

اندر پہنچ اس نے جلدی جلدی کچھ نمبرز ڈاٸل کیۓ اور تیزی کے ساتھ ہدایات دینے لگا۔۔ اس کی پیشانی پر چمکتا پسینہ اس سارے عرصے میں کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہا تھا۔۔ چند ایک ہدایات دینے کے بعد اس نے بہت سے فولڈرز اُٹھا کر سامنے ٹیبل پر رکھے۔۔ اسی پہر اس کا موباٸل بجا تو وہ یکدم چونکا۔۔

سکرین پر زمان کا نام جگمگا رہا تھا۔۔ آج ولیمہ تھا اور وہ یقیناً اس کو بلارہے ہونگے مگر اس نے فون آف کر کے ایک طرف کو ڈال دیا۔ ابھی وہ کسی کو بھی کوٸ بھی جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔ ابھی اسے کچھ کام نپٹانے تھے۔۔ کچھ چلتے چکروں کو اُلٹا گھمانا تھا۔۔ ہاں ابھی اسے بہت کچھ کرنا تھا۔۔

رات کی سیاہی میں ڈوبا ڈیرہ عجیب سی وحشت کا شکار لگتا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

امل نے اپنے سیاہ ریشمی بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا اور پھر بے اختیار بی جان کی آواز پر پلٹی۔۔

وہ اس وقت سبزہ زار پر کیۓ گۓ ولیمے کے انتظامات کو دیکھ رہی تھی۔ مہمانوں کی آمد و رفت شروع ہوچکی تھی اور دروازے میں ایستادہ ملازمین مہمانوں کی ضیافت کا سامان کررہے تھے۔۔

”امل تمہیں سامیہ بلارہی تھی اندر۔۔“

”جی بی جان بس جا ہی رہی ہوں۔۔ ویسے بھابھیاں تیار ہوگٸیں۔۔؟“

جاتے جاتے اس نے رک کر پوچھا تو بی جان نے اثبات میں سر ہلایا اور کسی خاتون سے مسکرا کر گلے ملنے لگیں۔ اس نے گہرا سانس لیا اور اندر کی جانب بڑھی۔۔

آج اس نے مکمل آف واٸٹ رنگ کا لباس زیب تن کررکھا تھا۔ ٹخنوں سے ذرا اونچی قمیض کے دامن پر باریک موتیوں کا کام چمک رہا تھا۔ باقی کا کام اس کی گردن تک بند گلے پر جگمگا رہا تھا۔۔ نیچے چوڑی دار سادہ سا پجامہ تھا اور آستینیں ہتھیلیوں تک چوڑیوں کی صورت تک آتی تھیں۔۔ دوپٹہ ایک جانب کندھے پر ڈلا تھا اور سیاہ ریشمی سے بال کمر پر جھول رہے تھے۔ جب کبھی وہ کسی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی تو اس کے کانوں میں لٹکے بھاری سی آویزے ہلکورے لیتے نظر آتے۔۔

بھابھی کے کمرے کی جانب بڑھتے ہوۓ اس نے ایک پل کو رک کر خود کو زینوں کے اس پار لگے بڑے سے آٸینے میں دیکھا تھا۔۔

سیاہ بالوں کے ہالے میں قید اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ شہد رنگ آنکھوں کی پلکیں بہت خوبصورتی کے ساتھ مڑی ہوٸ تھیں اور چہرہ تو موم کا بنا لگتا تھا۔۔

ہاں مگر اس سب کے باوجود بھی وہ خوش نہیں تھی۔ عجیب سی اداسی تھی جس نے اس کا حصار کر رکھا تھا۔ وہ یونہی چند لمحے خود کو شیشے میں دیکھے گٸ۔

کہاں ہے وہ۔۔؟ آیا کیوں نہیں اب تک۔۔؟ کیوں ہمیشہ ایسے کرتا ہے وہ۔۔؟ اتنے برے انسان سے محبت کیوں کی تم نے امل۔۔؟ جسے تمہاری ذرا سی بھی پرواہ نہیں تم نے اس کے لیۓ خود کو کیا بنا لیا ہے۔۔!

اس نے آنسوٶں سے چمکتی آنکھوں کو اداسی سے سامنے نظر آتے عکس میں دیکھا۔۔

یہ اداسی۔۔! یہ بے وجہ کا بوجھ۔۔ یہ کثافت۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔؟ میں تو ایک بہت خوش و خرم سی لڑکی تھی۔ ہر لمحے کو خوش ہو کر گزارنے والی۔ پھر اب۔۔ اب یہ مجھے کیا ہوتا جارہا ہے۔۔؟ کیوں اس کی غیر موجودگی میں دل تڑپنے لگتا ہے۔۔؟ کیوں وہ نظروں سے اوجھل ہو تو سانس تک لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔۔؟

اس کی اداسی سوا ہونے لگی تھی۔ کچھ تھا جو اسے بے پناہ غم زدہ کررہا تھا۔۔ کیا۔۔ اسے خود بھی نہیں پتہ تھا۔۔

”بہت برے ہو تم ولی احمد۔۔ بہت برے۔۔ امل زمان کو تم بالکل نہیں پسند۔۔ “

آٸینے میں خود کو دیکھتے اس نے ولی کو مخاطب کیا اور پھر اس کی ایسی بات پر اس کا کیا جواب ہوتا۔۔؟ اس نے پل بھر کو رک کر سوچا۔۔

مسکرا کر سر جھٹکتا۔۔

درد کی ایک ٹیس سی اُٹھی تھی دل میں اسے یاد کرکے۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے قدم بھابھی کے کمرے کی جانب پھیرے۔۔ اندر بیوٹیشن دونوں کو تیار کررہی تھیں۔ امینہ اور شازیہ کا جوڑا ایک ہی طرز کا تھا البتہ دونوں کے رنگوں میں فرق تھا۔ اس نے سلام کیا اور پھر پاس چلی آٸ۔۔

”تیاری ہوگٸ مکمل۔۔؟“

آٸینے کے سامنے لگی کرسیوں پر وہ دونوں بیٹھی تھیں اور بیوٹیشنز پیچھے کھڑیں بس ان کے سنگھار کو آخری ٹچ دے رہی تھیں۔۔

”جی تیاری ہو چکی ہے تقریباً۔۔ آپ وہ چادر لے آٸیں جو انہیں پہنانی ہے تاکہ ہم دوپٹے کے ساتھ اسے بھی ٹکا دیں۔۔“

اس نے اثبات میں سرہلا کر رخ پھیرا اور پھر کمرے سے باہر چلی آٸ۔ بی جان کے کمرے کی جانب قدم بڑھاۓ۔ وہاں سامنے صوفوں پر ہی دونوں چادریں تھیلی میں پیک ہوٸ پڑی تھیں۔ اس نے جھک کر دونوں کو اٹھایا اور پھر دروازہ بند کرتی باہر نکل آٸ۔ سامیہ قانتہ کے ساتھ زینوں کے پاس تیار سی کھڑی تھی۔

اس نے ایک پل کو رک کر ان دونوں کو دیکھا۔۔

”قانتہ سامیہ پلیز میری ہیلپ کریں مجھے دونوں بھابھیوں کو لے کر لان کے اسٹیج تک جانا ہے۔ ایک تو ان کے ڈریسسز کا اتنا بھاری کام اوپر سے پھر وہ دو دو ہیں۔۔ اکیلے نہیں کر پاٶنگی میں۔۔“

سامیہ اور قانتہ نے مسکرا کر اس کے ساتھ قدم بڑھاۓ تھے۔ پھر وہ دونوں دلہنوں کو لے کر گیندے کے پھولوں سے سجے اسٹیج تک لاۓ۔۔ لڑکی والے بھی آگۓ تھے۔۔ اور اب سبزہ زار خاصہ بھرا بھرا سا لگ رہا تھا۔۔ خاندان والے اب اسٹیج پر گردن اکڑاۓ بیٹھی لڑکیوں کی رسم کررہے تھے۔۔ کچھ ہی دیر بعد بختیار اور نثار کو لا کر بٹھایا گیا تو اسٹیج پر گویا چاندنی اتر آٸ۔ سب دور سے بہت مکمل۔۔ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔

دور کھڑی امل نے ایک پل کو پھر سے اپنی نظریں اسٹیج سے ہٹا کر گیٹ کی جانب پھیریں مگر وہ آتا تو نظر آتا ناں۔۔ وہ تو کہیں تھا ہی نہیں۔۔

کچھ ہی دیر میں اسے ارجمند اور ناجیہ اسٹیج پر چڑھتی نظر آٸیں۔ جب سے ولی نے ناجیہ کی طبیعت صاف کی تھی تب سے ناجیہ نے دوبارہ رخ اس حویلی کی جانب کرنے کی ہمت ہی نہ کی اور نفیس۔۔ وہ تو اسے اس دن کے بعد دکھا ہی نہیں تھا۔۔ نہ جانے ولی نے کیا کیا ہو اس کے ساتھ۔۔؟

سوچ کر اس نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی۔

”کیسی ہو امل۔۔؟“

کوٸ جانی پہچانی سی آواز تھی جس پر اس نے سرعت سے چہرہ گھما کر پیچھے کھڑے شخص کو دیکھا۔۔ اونچا سا ہاشم سیاہ آنکھوں سے مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ تیل لگے کندھوں تک آتے بالوں کو اس نے دونوں طرف سے کانوں کے پیچھے اڑس رکھا تھا اور اپنے مخصوص حلیے کے برعکس وہ آج خاصہ بہتر لگ رہا تھا۔۔ سفید کرتے پر بادامی شال کندھے پر ڈالے۔۔

”میں ٹھیک۔۔ ہاشم بھاٸ آپ کیسے ہیں۔۔؟“

”میں بھی ٹھیک دیکھو سامنے ہوں تمہارے۔ پیپرز ہوگۓ تمہارے بی ایس سی کے۔۔؟“

اس نے بمشکل مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا۔ اس کا ہاشم سے تعلق کبھی بھی بے تکلفی والا نہیں رہا تھا۔ اس کے ساتھ عجیب غیر آرام دہ سا احساس امل کو ہمشہ گھیرتا تھا۔۔ ابھی بھی وہ ان کمفر ٹیبل ہوٸ تھی۔۔

”جی ہاشم بھاٸ۔۔ ہوگۓ۔۔“

”ہوووں۔۔ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے تمہارا۔۔؟“

”آگے تو۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ بابا اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے پڑھنے کی۔۔“

وہ اس کی بات پر مسکرایا تھا۔۔

”میں نے تو سن رکھا ہے کہ تم باتیں منوانے کے فن میں تاک ہو۔۔ پھر منا لو اپنے بابا کو۔۔“

امل نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔

”جی ایسا ہی ہے مگر مجھے آگے پڑھنے کا کوٸ خاص شوق نہیں ہے اسی لیۓ وہ اگر اجازت دیتے بھی تب بھی شاید میں آگے نہیں پڑھتی۔۔“

”ہاں۔۔ اب لگ رہی ہو امل۔۔“

کچھ دیر بعد اس نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوۓ کہا۔۔

”ویسے تمہیں نہیں لگتا کہ تقریب کچھ سنسان سی ہے۔۔ خالی خالی۔۔“

اس نے آس پاس گردن گھما کر جیسے کسی کو تلاشا تو امل بے طرح چونکی۔۔ ہاشم نے اس کا چونکنا محسوس کرلیا تھا اسی لیۓ مسکراتا ہوا ذرا قریب آیا۔۔

”کیوں۔۔! کیا وہ ہمشہ تمہاری خوشیوں کو اسی طرح بے مول نہیں کردیا کرتا۔۔ اسی طرح غیر حاضر رہ کر تمہارے مان کو ٹھیس نہیں پہنچایا کرتا۔۔ ابھی بھی دیکھو۔۔ اپنے کسی کام میں لگا ہوا ہوگا۔۔ تمہیں نہیں لگتا کہ ایسے انسان کے خواب آخر میں تکلیف کے سوا کچھ نہیں لاتے۔۔“

امل جو پتھر ہوٸ اس کی باتیں سن رہی تھی آخر میں گڑبڑاٸ۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرنا چاہیۓ۔ ہاشم کو اس سب کا علم کیسے ہوا۔۔! اسکا ماٶف ذہن کچھ بھی سوچ نہیں پارہا تھا۔۔

”ولی احمد کسی کا نہیں ہے امل۔ تم بھی خیال رکھو اپنا۔ وہ رنگ بدلتا سانپ ہے۔۔! ایک انتہاٸ خوبصورت سانپ۔۔ جو موقع ملتے ہی تمہیں ڈس لے گا۔۔“

ساکت کھڑی امل پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کا چہرہ تک رہی تھی۔۔

”اور ابھی تو وہ تمہیں تکلیف دینے والے بہت سے کام کرے گا۔ ابھی تو تم اس سب کا آغاز سمجھو۔۔ وہ کبھی بھی اپنے مقرر کیۓ اہداف سے پیچھے نہیں ہٹا کرتا۔ اور وہ ابھی بھی ایسا نہیں کرے گا۔۔ وہ ابھی بھی وہ ہی کرے گا جو عرصے سے کرتا آرہا ہے۔۔“

”لیکن آپ یہ سب مجھے کیوں بتارہے ہیں۔۔؟“

اس نے سنبھل کر اپنے ہاتھ سینے پر باندھے تھے۔۔ ہاں اب وہ کچھ کچھ پہلے والی امل لگ رہی تھی۔۔ تنے نقوش لیۓ آگے والے کو سرد نگاہوں سے دیکھتی۔۔

”کیا مطلب۔۔ او کم آن تم ایک سمجھدار لڑکی ہو۔۔ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ میں یہ باتیں کس پسِ منظر میں کررہا ہوں۔۔“

”نہیں مجھے نہیں پتہ کہ آپ یہ سب باتیں کس پسِ منظر میں کررہے ہیں۔۔ ذرا ان ساری ذو معنی باتوں کو درست سیاق و سباق کے ساتھ پیش کریں تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔۔“

ہاشم اس کے براہِ راست سے انداز پر ایک پل کو ٹھہر گیا تھا۔۔ ہاں تو اس نے صرف سن رکھا تھا کہ امل غصے میں آگے والے کو سیدھا کردیا کرتی تھی۔۔آج اس کا عملی انداز بھی دیکھ لیا تھا اس نے۔۔ لوگ سچ کہتے تھے اس کے بارے میں۔۔

”کیا تم اسے پسند نہیں کرتیں۔۔؟“

ہاشم نے بھی بہت واضح لفظوں میں اس سے پوچھا مگر وہ ویسے ہی کھڑی رہی۔۔ ہاتھ باندھ کر۔۔

”کیا میں نے آپ سے کہا کہ میں اسے پسند کرتی ہوں۔۔؟“

”لیکن اس کا مطلب۔۔“

”کیا میں نے آپ سے کہا ایسا۔۔؟“

اس نے درشتی سے اس کی بات کاٹ کر وہی سوال دہرایا تو ہاشم یکدم رکا۔۔

”نہیں۔۔“

”پھر کہاں سے سنا ہے آپ نے یہ سب۔۔؟ لیکن ایک منٹ۔۔“

اس کی سنجیدگی میں کوٸ فرق نہیں آیا تھا۔۔

”یقیناً اس طرح کی خرافات یا تو آپ نے اپنی ماں صاحبہ سے سنی ہونگی یا پھر اپنی بہت عزیز از جان بہنوں سے۔۔ لیکن وہ کیا ہے ناں ہاشم بھاٸ۔۔ کہ آپ اپنے تٸیں بہت زبردست ہیں۔۔ ایک بہت باخبر شخص۔۔ مگر ابھی آپ ہماری خاندانی سیاستوں کو نہیں جانتے۔۔ ابھی آپ ان عورتوں کی چالوں کو نہیں سمجھتے۔۔ کچھ نہیں پتہ ہے آپ کو ہمارے بارے میں۔۔“

ایک لمحے کو مسکرا کر اس کا ہونق چہرہ دیکھا۔۔

”ہم عورتوں کو ناں ایک دوسرے سے جلنے کی بیماری ہوتی ہے ہاشم بھاٸ۔۔ ہم اوپر سے جتنا بھی ایک دوسرے سے گلے مل لیں، ہنس ہنس کر باتیں کر لیں یا پھر ایک دوسرے کے لۓ جان تک چھڑک دیں۔۔ لیکن ہمارے دل۔۔ ہمارے دلوں سے باتیں نہیں نکلتی۔۔ ہم ہزاروں گلے شکوں کو سمیٹ کر اپنے اندر رکھتی ہیں اور جب کبھی موقع ملتا ہے ہم ایک دوسرے کو ڈس لیتی ہیں۔ آپ کی ماں جی یا پھر بہنوں کو بھی مجھ سے کوٸ پرانی خار ہوگی جس کو لے کر انہوں نے میرے کردار کو جیسے چاہا پینٹ کردیا۔۔ مگر اس سے کوٸ فرق نہیں پڑتا ہاشم بھاٸ۔۔“

اس نے گویا ناک سے مکھی اڑاٸ تھی۔۔

”اگر وہ ایسی کوٸ بات میرے بارے میں کررہی ہیں تو یقیناً ان کی بھی کوٸ ایسی کمزوری میرے ہاتھ میں ضرور ہوگی جسے اگر میں چاہوں تو ایک سیکنڈ میں یہاں سے لے کر وہاں تک۔۔“

دور اسٹیج کی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔۔

”پھیلا دوں۔۔ کیونکہ جس خاندان سے وہ ہیں۔۔ امل بھی اسی خاندان کی پیداوار ہے۔۔ کیوں۔۔ کیا ایسا نہیں ہے۔۔؟؟“

آخر میں مزے سے بھنویں اچکا کر پوچھا تو ہاشم نے دانت جما لیۓ۔۔ یہ ذرا جتنی لڑکی۔۔

”مگر وہ کیا ہے ناں کہ مجھے کوٸ شوق نہیں ہے زمین میں فساد پھیلانے کا۔ یہ کام آپ کی گھر کی خواتین کو ہی مبارک ہوں۔۔“

ہاشم کا چہرہ ہتک سے سرخ ہوا تھا۔۔

”تمہیں ابھی اندازہ نہیں ہے لڑکی کہ میں تمہارے ساتھ کیا کیا کرسکتا ہوں۔۔ ابھی جانتی نہیں ہو تم مجھے۔“

”آپ کو کون نہیں جانتا ہاشم بھاٸ۔۔!“

وہ ایک لمحے کو مسکراٸ تھی۔۔

”مگر شاید ابھی آپ ولی کو نہیں جانتے۔۔ اگر بابا کو کسی بھی قسم کی تکلیف آپ نے میرے ذریعے یا پھر کسی کے بھی ذریعے پہنچانے کی کوشش کی تو جو حال ابھی نفیس کا ہے۔۔ کل کو آپکا بھی ہوگا۔۔ یہاں انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے بارے میں سو دفعہ سوچ لیجیۓ گا کیونکہ ولی احمد کا تو پھر آپ کو پتہ ہی ہے۔۔ آٸندہ اگر آپ نے کسی بھی طرح سے مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کی تو میں اتنی نرم سی تنبیہ آگے سے ہر گز بھی نہیں کرونگی سمجھے آپ۔۔“

بہت برہمی سے کہہ کر اس نے اپنا سراپا پھیرا تھا۔۔ ہاشم ساکت سا اس کی پشت کو دیکھے گیا۔۔ اسے آج اندازہ ہوا تھا کہ امل زمان کس شے کا نام تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

کٸ دن کے غیر حاضری کے بعد ولی آج حویلی آیا تھا۔۔ مگر اس کا لباس کہیں سے بھی تھکا تھکایا نہیں لگ رہا تھا۔۔ بہت نکھرا نکھرا سا سفید لباس میں ملبوس وہ لان کی نرم سی دھوپ میں چلتا حویلی کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔ زمان اور بی جان لان میں صبح کی دھوپ سے لطف اندوز ہورہے تھے وہ اپنے قدم پھیر کر ادھر ہی چلا آیا۔۔

”اسلام علیکم۔۔“

اس نے سلام کرتے ہی زمان کے ساتھ والی کرسی سنبھالی تھی۔۔

”وعلیکم سلام۔۔ کام ہوگیا تمہارا۔۔؟“

زمان نے آرام سے پوچھا۔۔ وہ انہیں پہلے ہی مطمٸن کرچکا تھا۔۔ بی جان اس کے لیۓ چاۓ بنانے لگی تھیں۔۔

”جی سردار بابا کام ہوگیا ہے۔ سوری آپ کو پہلے نہیں بتا سکا۔۔ دراصل اتنی اچانک کام آپڑا کہ مجھے موقع ہی نہیں ملا آپ کو آگاہ کرنے کا۔۔“

اس نے مسکرا کر چاۓ کا کپ بی جان کے ہاتھ سے لیا۔۔

”اس لڑکے کو آپ نے بگاڑا ہے زمان۔۔ دیکھیں اسے ذرا۔۔ چوبیس میں سے پچیس گھنٹے کام کرتا رہتا ہے۔ خود کا کوٸ ہوش نہیں ہے اسے۔ نہ میں پوچھتی ہوں کہ ساری زندگی کیا بس اس کام کے سہارے ہی گزارنی ہے تم نے۔۔؟؟“

ان کی نرم سی خفگی پر زمان مسکرا رہے تھے اور ولی ایک بار پھر سے انہیں سمجھانے میں ہلکان ہونے لگا تھا۔۔

”بی جان میں رکھتا ہوں اپنا خیال، دیکھیں بالکل ٹھیک ٹھاک تو لگ رہا ہوں۔۔“

ایک نظر خود کی جانب اشارہ کر کے کہا تو بی جان کہ خفگی ذرا سمٹی۔۔

”میں تمہارے اس خیال کی بات نہیں کررہی ولی، شادی کب کروگے۔۔؟؟ دیکھو بختیار اور نثار خوش ہیں اپنی اپنی زندگیوں میں۔ کل کو ان کی اولادیں ہوجاٸنگی تو کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہوگی۔ سب اپنی زندگیوں میں خوش ہونگے اور تم۔۔ تم تنہا رہ جاٶ گے۔۔ شادی کرلو بچے۔۔ کیوں ظلم کرتے ہو خود کے ساتھ؟“

وہ ایک پل کو خاموش سا ہوگیا۔ بختیار اور نثار کی زندگیوں کا بھلا اس کی زندگی سے کیا مقابلہ تھا۔۔؟ وہ دونوں باعزت طریقے سے اس معاشرے میں پیدا ہوۓ تھے۔ بچپن سے لیکر آج تک جس عزت سے دنیا ان دونوں کو دیکھتی تھی ولی کتنی بھی کوششیں کرلیتا وہ یہ عزت کبھی نہیں پاسکتا تھا۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔

اس نے ہلکا سا مسکرا کر بی جان کو دیکھا۔۔

”کیا فرق پڑتا ہے بی جان۔۔!! وہ دونوں خوش ہیں اپنی زندگیوں میں، خوش ہی رہیں۔۔ لیکن میں شادی نہیں کرسکتا۔ کوٸ مسٸلہ نہیں ہے بی جان لیکن میں کسی اور کی زندگی کو عذاب میں نہیں ڈالنا چاہتا۔۔وہ آۓ گی، میرے ساتھ رہ لے گی مگر میری زندگی میں کھڑے مسٸلوں سے شاید جلد اکتا کر بھاگ جاۓ۔۔ ایسے میں بہتر نہیں ہے کہ میں اس سارے قصے کو شروع ہی نہ کروں۔۔“

اس کی بات پر زمان سنجیدگی سے سیدھے ہو بیٹھے تھے۔۔

”دیکھو ولی۔۔ نہ تو تم وہ ہو اب اور نہ ہی یہاں کے لوگ اب ویسے ہیں۔ تم بھی بدل گۓ ہو اور یہ لوگ بھی۔ اب ویسی سوچ کسی کی بھی نہیں رہی۔ تم کہو۔۔ کسی کو پسند کرتے ہو؟ کوٸ ہے جو تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے ساتھ رہ کر سارے مسٸلوں کوسلجھا لے گی۔۔ تمہیں سنوار دے گی۔۔ کوٸ نہ کوٸ تو ہوگی ولی۔“

نسواری آنکھوں کے کانچ میں ہلکی سی سرخی ابھرنے لگی تھی۔ ایسے سانچے پر تو بس ایک ہی پری یاد آتی تھی۔۔ مگر نہیں۔۔ وہ اس کی زندگی کو عذاب نہیں بناۓ گا۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔

”ایسی کوٸ نہیں ہے سردار بابا۔ مجھے نہیں کرنی شادی۔ آپ دونوں کے ساتھ رہونگا۔۔ آپ دونوں کا خیال رکھونگا میں۔۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیۓ۔۔“

اس نے مسکرا کر کہا اور پھر اُٹھ کھڑا ہوا۔۔

”آپ دونوں کا ساتھ میرے لیۓ ہر ساتھ سے زیادہ عزیز ہے۔ بس اب آپ دونوں پریشان نہیں ہوں۔ میں چلتا ہوں۔۔“

اور پھر آگے بڑھ گیا۔۔

زمان اور بی جان پیچھے تنہا رہ گۓ۔۔

”وہ ایسا کیوں کرتا ہے ہمیشہ زمان۔۔! کیوں اپنے حصے کی خوشیاں لینے کی کوشش نہیں کرتا وہ۔۔؟“

بی جان کی آنکھوں میں پانی چمک رہا تھا۔۔ زمان نے گہرا سانس لیا۔۔

”مجھے نہیں پتہ زمانی۔۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں ولی کو بالکل بھی نہیں جانتا۔ وہ کیا سوچتا ہے۔۔ کیا کرتا رہتا ہے۔۔ معاملات کو کیسے ہینڈل کرتا ہے۔۔ کبھی کبھی وہ مجھے واقعی اجنبی سا لگتا ہے۔۔“

دور جاتے ولی کو دیکھتے زمان نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔ بی جان نے ٹھنڈی سی آہ بھری تھی۔ اب وہ دونوں دور جاتے ولی کو یاسیت سے دیکھ رہے تھے۔۔

وہ حویلی کے اندر داخل ہوا تو چہرہ جو کچھ دیر پہلے بہت نرم گرم سے تاثرات سے سجا تھا یکدم ہی سپاٹ ہوگیا۔۔ پتھر جیسا سخت۔۔

اس نے کمرے میں داخل ہو کر سب سے پہلے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی پرفیوم کی شیشی اُٹھاٸ اور پھر باہر آکر کچن کے باہر پڑے ڈسٹ بن میں پھینک دی۔۔ دوبارہ کمرے میں آکر کی چین کو اس نے ایک پل کے لیۓ ہاتھ میں لے کر دیکھا تھا۔۔ پھر اسے مٹھی میں قید کر کے اپنی جیب میں ڈال لیا۔۔ اس کی کوٸ ایک چیز تو پاس ہونی چاہیۓ۔ نہیں تو وہ سانس کیسے لے گا۔۔؟

خیالات سے بچنے کے لیۓ اس نے قدم واش روم کی جانب بڑھاۓ۔۔ واش بیسن سے ٹھنڈے یخ پانی کے چھینٹے منہ پر مارے۔۔ پھر جھک کر بیسن کے کناروں کو تھاما۔ ایک پل کو چہرہ اُٹھا کر خود کو آٸینے میں دیکھا۔

ہلکے سے گیلے بال ماتھے پر پڑے تھے اور نسواری آنکھیں ہلکی سی سرخی کے زیرِ اثر چمک رہی تھیں۔۔ اس نے چند لمحوں کو آنکھیں موند کر جلتی روح کو سہارا دیا۔۔ پھر اسٹینڈ سے تولیہ کھینچتا باہر کی جانب بڑھ آیا۔۔

امل اسی پل اپنے کمرے سے باہر نکل کر زینے اتر رہی تھی۔۔ اس نے سادہ سی قمیض شلوار پر شال خود کے گرد لپیٹ رکھی تھی۔ ڈھیلے سے بندھے بال کمر پر بکھرے تھے اور انداز ایسا تھا کہ ابھی ابھی سو کر اُٹھی ہو۔۔ کچن کی اُٹھا پٹخ دیکھ کر وہ ادھر ہی چلی آٸ۔۔

نوراں اور شکیلا دونوں کام میں مصروف تھیں۔ اسے دیکھ کر نوراں اس کے پاس چلی آٸ۔۔

”بی بی ناشتہ کرینگی۔۔؟؟“

”ہاں بس چاۓ دے دو ابھی۔ ناشتہ کرنے کا دل نہیں چاہ رہا۔۔“ اس نے کہا اور پھر ایک طرف لگی کرسیوں پر جابیٹھی۔۔

”بی بی جی کو چاۓ میں دے دونگی نوراں تو جا کر باہر رکھا ڈسٹ بن خالی کر آ باہر۔۔ پھر کچرا اُٹھانے والا چلا جاۓ گا اور کل کی طرح کچرا آج بھی یہیں پڑا رہ جاۓ گا۔۔“

”ہاں تم جاٶ نوراں پہلے یہ کام کرلو۔۔“

اس نے سر ہلا کر اجازت دی تو وہ باہر کی جانب بڑھ گٸ۔۔ شکیلا نے جلدی جلدی چاۓ بنا کر اس کے سامنے رکھی تو اس کی سوچتی نظروں نے چاۓ کو دیکھا۔۔

”بی بی۔۔ یہ کسی نے کچرے میں پھینک دی تھی۔۔ شاید غلطی سے“

کچھ دیر بعد نوراں ہاتھ میں کچھ لیۓ اندر آٸ تو اس نے ایسے ہی رخ پھیر کر دیکھ لیا اور۔۔ اور وہ پتھر کی ہوگٸ۔۔ کاسنی رنگ کے سیال سے بھری شیشی۔۔!

کچھ دیر وہ ویسے ہی سکتے میں بیٹھی رہی اور پھر ایک دم اُٹھی۔۔ نوراں کے ہاتھ سے شیشی جھپٹی اور بھاگتی ہوٸ باہر آٸ۔۔ شال ایک جانب سے ڈھلک کر پیچھے کو گر رہی تھی۔۔ بال کمر پر کسی آبشار کی طرح بہتے جارہے تھے ۔۔ اس نے اس کے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولا تھا۔۔ وہ جو اپنے اسٹڈی ٹیبل پر رکھی کسی فاٸل جھک کو کر دیکھ رہا تھا یکدم سیدھا ہوا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *